Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈسکہ: کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کے مسائل کے فوری حل کا حکم دیا

    ڈسکہ: کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کے مسائل کے فوری حل کا حکم دیا

    ڈسکہ: (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن "انصاف آپ کی دہلیز پر” کے تحت ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے سول کلب ڈسکہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ عثمان غنی، تحصیل کے تمام ریونیو افسران اور صحت، تعلیم سمیت دیگر محکموں کے حکام موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی شکایات سن کر موقع پر احکامات جاری کیے اور ہدایت دی کہ ریونیو سے متعلق تمام مسائل فوری حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شکایت پر عملدرآمد کی رپورٹ انہیں ذاتی طور پر پیش کی جائے۔ ریونیو حکام کو کھلی کچہری میں شکایات کے حل تک موجود رہنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس کو باقاعدہ رپورٹنگ کا پابند کیا گیا۔ زبانی شکایات درج کرنے والے شہریوں کے لیے تحریری اندراج کی سہولت فراہم کی گئی، جن پر بھی عملدرآمد کا یقین دلایا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کے مسائل کا فوری حل ہے۔ صحت اور تعلیم سے متعلق شکایات کی روشنی میں ایک مستقل پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔

    دریں اثناء، ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی اور پولیس حکام کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ ڈسکہ اور محرم الحرام کے جلوسوں کے روٹس کا معائنہ کیا اور منتظمین سے ملاقات کر کے انتظامی و سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

  • علی پور: مبینہ پولیس مقابلے میں مطلوب ڈاکو ہلاک، لواحقین کا ماورائے عدالت قتل کا الزام

    علی پور: مبینہ پولیس مقابلے میں مطلوب ڈاکو ہلاک، لواحقین کا ماورائے عدالت قتل کا الزام

    اوچ شریف(باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ صدر علی پور کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران قتل، ڈکیتی اور راہزنی کے مقدمات میں مطلوب ڈاکو کالو عرف کالی ڈاہا ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور ہسپتال منتقل کرتے وقت دم توڑ گیا۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ رات تھانہ سیت پور کی حدود میں ڈاکوؤں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، لیکن تعاقب کے دوران تھانہ صدر علی پور میں دوبارہ مقابلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے جواب میں حفاظتی جوابی کارروائی کی گئی، جس میں کالو زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق کالو سکنہ سلطان پور کے خلاف تھانہ سیت پور اور خیرپور سادات میں درجن سے زائد مقدمات درج تھے۔

    دوسری جانب، ہلاک ہونے والے کے لواحقین نے پولیس پر ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کالو کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور مقابلے کا "ڈرامہ” رچایا گیا۔ مقامی سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مظفرگڑھ: چائلڈ پورنوگرافی کے بڑے کیس میں ملزم گرفتار، متعدد بچوں سے زیادتی کا انکشاف

    مظفرگڑھ: چائلڈ پورنوگرافی کے بڑے کیس میں ملزم گرفتار، متعدد بچوں سے زیادتی کا انکشاف

    مظفرگڑھ: (باغی ٹی وی) مظفرگڑھ میں چائلڈ پورنوگرافی کا ایک سنگین کیس منظر عام پر آیا ہے، جہاں پولیس نے ملزم فرید گبول کو گرفتار کر لیا۔ تھانہ صدر پولیس کے مطابق ملزم نے موضع سردار آباد میں متعدد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کی نازیبا ویڈیوز بنائیں، جنہیں بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا پر پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ایک متاثرہ بچے کی شکایت پر پولیس نے کارروائی شروع کی، جس نے ملزم کے خلاف نازیبا ویڈیوز سمیت دیگر ثبوت فراہم کیے۔ متاثرہ بچے نے انکشاف کیا کہ ملزم نے اسے اور دیگر بچوں کو مسلسل بلیک میل کیا۔ پولیس نے ملزم کے موبائل سے مزید ویڈیوز برآمد کیں، جن سے ایک اور متاثرہ بچے کی شناخت ہوئی، جسے قانونی کارروائی کے لیے تھانے طلب کیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ مقدمہ تعزیرات پاکستان اور پیکا ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ کیس کی نگرانی کے لیے ڈی ایس پی سٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پولیس دیگر متاثرین سے رابطے کر رہی ہے تاکہ مزید انکشافات اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں دائرہ دین پناہ میں بھی چائلڈ پورنوگرافی کا ایک بین الاقوامی گینگ پکڑا گیا تھا، جو بچوں کی نازیبا ویڈیوز بناکر ڈارک ویب پر غیر ملکیوں کو فروخت کرتا تھا۔

  • گورنر خیبرپختونخوا سے اپووا وفد کی ملاقات، ادبی خدمات کا اعتراف، تعریفی اسناد اور سوینئرز پیش

    گورنر خیبرپختونخوا سے اپووا وفد کی ملاقات، ادبی خدمات کا اعتراف، تعریفی اسناد اور سوینئرز پیش

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے گورنر کو تنظیم کی ادبی، فکری اور سماجی خدمات سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے اپووا کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خدمات نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ دیگر اداروں کے لیے مشعل راہ بھی ہیں۔

    اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے دست مبارک سے اپووا کے وفد کو تعریفی اسناد بھی پیش کیں، جبکہ گورنر ہاؤس کی جانب سے تمام معزز ارکان کو یادگاری سوینئرز بھی دیے گئے۔ وفد نے اس پر مسرت موقع پر گورنر کو اپووا کی اعزازی شیلڈ پیش کی اور ان کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔

    وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب سمیت دیگر نامور ادبی و فکری شخصیات شامل تھیں۔ وفد کی اس ملاقات کو ادبی حلقوں میں انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • میرپور ماتھیلو میں زرعی یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کی تیاریاں شروع

    میرپور ماتھیلو میں زرعی یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کی تیاریاں شروع

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)صوبائی وزیر زراعت، انسداد بدعنوانی، کھیل اور امورِ نوجوانان سردار محمد بخش خان مہر کے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے میرپور ماتھیلو میں زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کا کیمپس قائم کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے اعلیٰ سطحی وفد نے میرپور ماتھیلو کا دورہ کیا اور مجوزہ عمارت کا جائزہ لیا۔

    وفد میں ڈین فیکلٹی آف کراپ پراڈکشن پروفیسر ڈاکٹر عنایت ﷲ راڄپر، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محمد اشرف رستمانی، پراجیکٹ انجینئر محمد احسان چنہ، ڈپٹی ڈائریکٹر نصرت علی چانڈیو اور ریاض شیخ شامل تھے۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ڈاکٹر سید محمد علی سے ملاقات کی اور سرکٹ ہاؤس میرپور ماتھیلو کی عمارت کا معائنہ کیا۔

    ڈاکٹر عنایت ﷲ راڄپر نے کہا کہ سرکٹ ہاؤس کی عمارت ابتدائی طور پر کیمپس کے لیے موزوں ہے اور حکومت سندھ کی ہدایات پر جلد تدریسی عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ مستقبل میں کیمپس کو توسیع دے کر اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سید محمد علی نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کا کیمپس نوجوانوں کے لیے ایک اہم تعلیمی موقع ثابت ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ اس منصوبے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ وفد نے سرکٹ ہاؤس کی عمارت فراہم کرنے پر ضلعی انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گرد و نواح میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ ہائی وے اور لنک روڈز پر مسلح ڈاکو کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کا کوئی وجود نظر نہیں آ رہا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں لوٹ مار کی پانچ وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، لیکن پولیس تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    پہلی واردات تنگوانی-کرمپور لنک روڈ پر دنگلہ ہوٹل کے قریب پیش آئی، جہاں کشمور کے رہائشی محمد سلیم گولو سے نقدی اور سامان لوٹ کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات تھانہ شبیر آباد کی حدود میں علی دیرے کے مقام پر ہوئی جہاں دو سو میرانی کی ڈاٹسن کو روک کر ڈاکوؤں نے ڈرائیور کو یرغمال بنایا اور موبائل، نقد رقم اور قیمتی سامان چھین لیا۔

    تیسری واردات سردار ماڑی پور میں لولئی برادری کے ڈرائیور کو نشانہ بنایا گیا جہاں اس کی پک اپ، موبائل اور نقدی لوٹ لی گئی۔

    چوتھی واردات نئی بائی پاس کے قریب اوگا ہی لاڑو میں ہوئی جہاں ملان جیون گاؤں کے رہائشی صدیق ولد پہلوان گولو سے مال سے بھری ڈاٹسن، نقدی اور سامان چھین کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    پانچویں واردات بروہی موڑ کے پاس ہوئی جہاں عرض محمد جکرانی سے موٹرسائیکل، موبائل اور نقدی چھینی گئی۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ شبیر آباد مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے، کسی واردات پر اب تک نہ کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی ڈاکو گرفتار کیے گئے۔ ڈاکوؤں کے خوف سے دیہاتی اور شہری کاروباری سرگرمیاں ترک کر کے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور علاقے میں پولیس رٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوکاڑہ: چنگ چی اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ: چنگ چی اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے 6 چک غلہ گودام کے قریب ایک بھیانک حادثہ پیش آیا، جہاں چنگ چی رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں رکشہ میں سوار 16 سالہ نوجوان ولید جاں بحق ہو گیا جبکہ 13 سالہ زوالقرنین زخمی ہوا۔ دونوں متاثرین چک نمبر 9 فور ایل کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹریکٹر ٹرالی نمبر ایس ایل ڈی 5208 کے ساتھ تصادم تیز رفتاری اور لاپروا ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو موٹر بائیک سروس اور ایمبولینس فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں، جہاں ریسکیو ٹیموں نے زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    جاں بحق نوجوان کی نعش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

  • فور۔ایل کی ڈائری: وعدوں کا قبرستان، عوام کو عملی اقدامات کی تلاش

    فور۔ایل کی ڈائری: وعدوں کا قبرستان، عوام کو عملی اقدامات کی تلاش

    فور۔ایل کی ڈائری: وعدوں کا قبرستان، عوام کو عملی اقدامات کی تلاش
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اوکاڑہ کے حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 کا سیاسی مرکز فور۔ایل کئی دیہاتوں پر مشتمل ایک وسیع و عریض علاقہ ہے، جو بظاہر پرسکون دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر مسائل کا ایک انبار چھپا ہوا ہے۔ انصاف، صحت، تعلیم، سڑکیں، زراعت، اور کاروبار جیسے شعبے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    تھانہ شاہ بور اس علاقے کا مرکزی پولیس سٹیشن ہے، جو عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی اور حال میں یہ ادارہ کئی مرتبہ سیاسی مداخلت اور مالی لین دین کا شکار رہا ہے۔ بعض سیاسی ٹاؤٹ اس پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے سیاسی پشت پناہی کی بدولت اپنی مرضی کے فیصلے کروائے۔ اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن اب بھی طاقتور طبقات بعض اوقات مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

    فور۔ایل کے مختلف دیہاتوں میں بنیادی مراکز صحت قائم تو ہیں، لیکن یہاں علاج و معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی پشت پناہی ہے۔ شاہ بور میں قائم بڑا سرکاری ہسپتال کئی سالوں سے بدنامی کا شکار ہے۔ یہاں سیاسی دباؤ اور کرپشن کی بنیاد پر جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس کا اجرا ایک معمول بن چکا ہے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، جس کی بدولت مظلوم عوام کے حقوق پامال ہوتے رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی مداخلت اور من پسند میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور عملے کی تعیناتی ہے۔

    فور۔ایل میں کئی سرکاری اسکول موجود ہیں، لیکن تعلیمی معیار روز بہ روز گرتا جا رہا ہے۔ صرف 34 فور۔ایل ٹھاکرہ کی پرانی تعلیمی درسگاہ ایک روشن مثال ہے، جہاں سے ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر کے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن دیگر تعلیمی ادارے معیار تعلیم بہتر کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ حکومتی عدم توجہی اور تعلیمی بجٹ میں کمی ہے۔

    22 فور۔ایل سے 31 فور۔ایل تک کی سڑک گزشتہ پچیس سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ہر الیکشن میں اس سڑک کی مرمت کے وعدے کیے گئے، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ این اے 136 کے رکن قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جٹ اور پی پی 190 کے رکن صوبائی اسمبلی میاں یاور زمان مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود علاقے کے اس اہم مسئلے کو حل نہ کر سکے۔

    فور۔ایل کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، لیکن یہاں زیر زمین پانی کھارا ہونے کی وجہ سے کاشتکاری میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ خاص طور پر 22 فور۔ایل اور 23 فور۔ایل کے علاقے محکمہ ایریگیشن کی مبینہ ملی بھگت سے نہری پانی کی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان دیہاتوں میں ٹیوب ویلوں کی خصوصی اسکیمیں شروع کرے تاکہ زراعت کے شعبے کو بچایا جا سکے۔

    ملگدھا چوک فور۔ایل کا کاروباری مرکز ہے، جو ساہیوال، پاکپتن، دیپالپور، اور اوکاڑہ کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہاں نیشنل بینک، لڑکیوں کا کالج اور پولیس چوکی تو موجود ہیں، مگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس تجارتی مرکز کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    فور۔ایل کی عوام محنتی، جفاکش اور باشعور ہے، لیکن آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت شہروں کا رخ اختیار کر چکی ہے۔ یہاں کے عوام نے ہر الیکشن میں بھرپور سیاسی حمایت کی، لیکن بدلے میں انہیں ترقیاتی کاموں کی بجائے صرف وعدے اور تسلیاں ملیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور اس علاقے کے دیرینہ مسائل حل کریں۔ امید کی کرن ابھی باقی ہے، لیکن اب صرف نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

  • اوچ شریف: جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف: جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان ) جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف میں ایک شرمناک اور خطرناک صورتِ حال روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، جہاں خالص دودھ کے نام پر شہریوں کو کیمیکلز سے بھرپور زہریلا مشروب پلایا جا رہا ہے۔ زم زم ڈیری سمیت شہر کی متعدد دودھ فروش دکانیں غلیظ پانی، سنگاڑھا پاؤڈر، یوریا، سرف اور دیگر جان لیوا کیمیکلز سے تیار کردہ جعلی دودھ اور دہی سینکڑوں گھرانوں تک سپلائی کر رہی ہیں۔ سادہ لوح عوام خالص دودھ کی تلاش میں اپنی جیب خالی کر رہے ہیں اور اپنی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ اس زہریلے دودھ کے استعمال سے ہیپاٹائٹس، معدے کے امراض، دل کی بیماریاں، بچوں کی قوتِ مدافعت میں کمی اور فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، لیکن فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ اس سنگین مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    فوڈ اتھارٹی جو عوام کی صحت کی نگہبان ہونی چاہیے، اس گھناؤنے کھیل میں مبینہ طور پر مافیا کی سرپرست بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی کے کچھ اہلکار دودھ فروش مافیا سے ماہانہ نذرانے وصول کر کے اس غیر قانونی دھندے کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے شہریوں میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ خالص دودھ کی دوگنی قیمت پر یہ زہریلا مشروب فروخت کیا جا رہا ہے، بےضابطہ کہ نہ کوئی ریٹ لسٹ ہے، نہ معیار کی جانچ اور نہ ہی لیبارٹری رپورٹس۔ یہ سب کچھ انتظامیہ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے، جو عوام کی جیب اور صحت پر ڈاکا ڈال رہا ہے۔

    شہری، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز اور سماجی حلقوں نے اس خطرناک صورتِ حال پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ زم زم ڈیری سمیت تمام جعلی دودھ فروشوں کے خلاف مقدمات درج کرنے، فوڈ اتھارٹی کے کرپٹ اہلکاروں کو معطل کر کے انکوائری شروع کرنے، شہر بھر میں دودھ اور دہی کے لیبارٹری ٹیسٹ کر کے رپورٹس عوام کے سامنے پیش کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ وہ صاف دودھ اور صحت مند زندگی کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور اس زہریلے کھیل کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    تفصیلات کے پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی گرمی کی شدید لہر کے باوجود درجنوں پرائیویٹ اور پیف سکولز حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آج بھی کلاسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کی جانب سے 20 مئی 2025 کو صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں 28 مئی سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا مگر متعدد نجی سکول مالکان نے اس نوٹیفکیشن کو نظرانداز کر کے تدریسی عمل جاری رکھا ہے۔

    شدید گرمی کے دوران ان سکولوں میں صبح 6:30 سے 10:00 بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں والدین نے "تندور جیسے کلاس رومز” قرار دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نہ پنکھے چل رہے ہیں، نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ ایسے میں بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    صوبہ پنجاب خاص طور ڈرہ غازیخان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہےجو کہ 50 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ جاری ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر وزیر تعلیم پنجاب نے 28 مئی سے سکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بیشتر نجی سکولز مالکان نے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بچوں کو سکول بلانے کا مقصد صرف فیسیں وصول کرنا اور بزنس کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

    والدین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں والدین نے سکولز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک والد حبیب خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مجبوراً بچوں کو بھیجنا پڑ رہا ہے کیونکہ فیسیں لی جا رہی ہیں اور غیر حاضری پر جرمانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے ہے؟”

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کالجز جن میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں 15 اگست تک بند کیے جا چکے ہیں تو پھر نازک عمر کے بچوں کے سکولز کھلے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی خاموشی اور اداروں کی بے حسی نے والدین کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولز (سرکاری و نجی) 28 مئی سے بند ہوں گے اور 15 اگست 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو سکولز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سکولز کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور بچوں کی صحت سے کھیلنے والے اداروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

    والدین کا سوال واضح ہےکہ کیا حکومت اپنی رٹ بحال کر پائے گی یا یہ خاموشی پرائیویٹ سکولز مافیا کے لیے کھلی چھوٹ ثابت ہو گی؟