Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ایئر سیال نے سیالکوٹ سے دبئی کیلئے باقاعدہ پروازیں شروع کر دیں

    ایئر سیال نے سیالکوٹ سے دبئی کیلئے باقاعدہ پروازیں شروع کر دیں

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ کے عوام اور کاروباری طبقے کے لیے خوش آئند خبر ہے کہ ایئر سیال نے سیالکوٹ سے دبئی اور دبئی سے سیالکوٹ کے لیے باقاعدہ پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی سفر کو آسان بنائے گا بلکہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، نارووال، سمبڑیال اور دیگر قریبی شہروں کے مسافروں کے لیے بھی سہولت کا باعث بنے گا۔

    ایئر سیال کی پروازیں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) کے درمیان ہفتے میں کئی بار شیڈول کی گئی ہیں، جو کم خرچ، بہتر سروس اور وقت کی بچت کے لحاظ سے انتہائی مؤثر ہیں۔

    کاروباری حضرات، تجارتی مسافر اور اوورسیز پاکستانی اب براہِ راست، آرام دہ اور معیاری سفر کا فائدہ اٹھا سکیں گے، جو علاقائی ترقی اور عالمی روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

  • سیالکوٹ:ڈی سی کی کھلی کچہری، عوامی شکایات کا موقع پر ازالہ

    سیالکوٹ:ڈی سی کی کھلی کچہری، عوامی شکایات کا موقع پر ازالہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت تحصیل کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں نے مختلف محکموں سے متعلق شکایات پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعدد شکایات پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن "انصاف آپ کی دہلیز پر” کے تحت تحصیل سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی مسائل کا فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔ ریونیو سمیت مقامی سطح کے معاملات وہیں حل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبائی نوعیت کے مسائل کے لیے متعلقہ حکام کو سفارشات ارسال کی جائیں گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جلوسوں کے روٹس کا معائنہ جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔

    شہری کسی بھی مسئلے یا معلومات کے لیے ضلعی کنٹرول روم کی ہیلپ لائن 1718 یا پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
    کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا اور تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے شریک تھے۔

  • سیالکوٹ: شدید حبس، گرمی 53 ڈگری محسوس ہونے لگی

    سیالکوٹ: شدید حبس، گرمی 53 ڈگری محسوس ہونے لگی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) شہر اور مضافاتی علاقوں میں مرطوب ہواؤں کے باعث حبس کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، حالانکہ درجہ حرارت نسبتاً کم ہے۔ معروف ہومیوپیتھک معالج ڈاکٹر قیصر ضمیر نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بڑھتی ہوئی نمی کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس موسم میں پسینے کی زیادتی کے باعث جسم سے نمکیات کا اخراج بڑھ جاتا ہے، جس سے بالخصوص ضعیف اور مریض افراد کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر قیصر نے مشورہ دیا کہ سکنجبین، او آر ایس اور دہی کی لسی جیسے مشروبات کا استعمال کیا جائے، کیونکہ ان میں قدرتی نمکیات موجود ہوتے ہیں۔ صرف پانی پینا کافی نہیں کیونکہ اس سے جسم سے نمکیات کی مزید کمی ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ ہلکے رنگ، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں، دھوپ سے بچیں اور جسمانی مشقت سے گریز کریں۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ اس احتیاطی پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

  • اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام، عوام کا خواب حقیقت بن گیا: ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام، عوام کا خواب حقیقت بن گیا: ملک خالد یعقوب

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) معروف سماجی کارکن ملک خالد یعقوب نے اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کا دیرینہ خواب تھا جو بالآخر حقیقت بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم کامیابی رکنِ قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج کے ویژن، عوامی خدمت اور انتھک جدوجہد کا ثمر ہے۔

    ملک خالد یعقوب کا کہنا تھا کہ چوہدری ریاض الحق جج کی سیاست اقتدار کے بجائے عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور ان کی قیادت عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی کے لیے وقف ہے۔ میڈیکل کالج کی منظوری ان کے خلوص اور جذبے کا عملی ثبوت ہے۔

    انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور چوہدری ریاض الحق جج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اوکاڑہ کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے گا اور انہیں دوسرے شہروں کی طرف ہجرت سے نجات دلائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ میڈیکل کالج اوکاڑہ کو تعلیمی میدان میں ایک نئی شناخت دے گا۔
    آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ چوہدری ریاض الحق جج کو مزید کامیابی عطا فرمائے تاکہ وہ عوامی خدمت کا سفر جاری رکھ سکیں۔

  • سیالکوٹ:جی سی ویمن یونیورسٹی  کا چھٹا کانووکیشن، 1783 طالبات کو ڈگریاں

    سیالکوٹ:جی سی ویمن یونیورسٹی کا چھٹا کانووکیشن، 1783 طالبات کو ڈگریاں

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض) گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں چھٹے سالانہ کانووکیشن کی شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں مجموعی طور پر 1783 طالبات کو مختلف تعلیمی اسناد سے نوازا گیا۔ اس موقع پر جامعہ کی پہلی 8 پی ایچ ڈی اسکالرز کو بھی ڈگریاں دی گئیں جو ادارے کی علمی ترقی کا روشن ثبوت ہیں۔

    تقریب میں 1474 طالبات کو بی ایس، 146 کو ایم اے/ایم ایس سی اور 92 کو ایم فل/ایم ایس کی ڈگریاں عطا کی گئیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے صدارت کی جبکہ مہمان خصوصی رکن صوبائی اسمبلی چوہدری طارق سبحانی تھے۔

    دیگر معزز مہمانان میں ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر فرحت سلیمی، ڈاکٹر عامر اعظم خان، ڈاکٹر سلیمان طاہر، ڈاکٹر شہزاد مرتضی، ڈاکٹر بلال طاہر، ڈاکٹر محمد شاہد رفیق، معروف سائنسدان ڈاکٹر این ایم بٹ، خواجہ مسعود اختر، مس عذرہ سبطین اور مس گل زیب شامل تھیں۔

    وائس چانسلر نے خطاب میں ڈگری حاصل کرنے والی طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دی اور یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کنٹرولر امتحانات ملک گلشان اسکیم اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جن کی بدولت یہ تقریب کامیابی سے منعقد ہوئی۔

  • اوکاڑہ: اختیارات کے ناجائز استعمال، اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج

    اوکاڑہ: اختیارات کے ناجائز استعمال، اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ راشد ہدایت نے محکمانہ احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کی ایک عملی مثال قائم کر دی۔ تھانہ صدر اوکاڑہ میں تعینات اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) عامر شہزاد کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مومن آباد کے ایک شہری نے بیرون ملک جانے کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی درخواست دی، تاہم متعلقہ ریکارڈ میں اسے ایک چھ سال پرانے چوری کے مقدمے میں نامزد پایا گیا۔ شہری کی جانب سے اس معاملے کی نشاندہی اعلیٰ پولیس حکام کو کی گئی، جس پر ڈی ایس پی لیگل نے فوری طور پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کی۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اے ایس آئی عامر شہزاد نے مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نہ صرف جھوٹا مقدمہ درج کیا بلکہ شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی۔ رپورٹ کے مطابق الزام ثابت ہونے پر ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر ریاض احمد کی مدعیت میں اے ایس آئی کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ڈی پی او راشد ہدایت نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس میں کرپشن یا اختیارات کے غلط استعمال کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمانہ احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کے جان و مال، عزت اور وقار کو یقینی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کے اعتماد کو بحال رکھنے اور پولیس کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور کسی بھی اہلکار کی غفلت، زیادتی یا بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • پری مون سون بارشیں،ملک بھر میں گرج چمک، ژالہ باری اور اربن فلڈنگ کا خدشہ،الرٹ جاری

    پری مون سون بارشیں،ملک بھر میں گرج چمک، ژالہ باری اور اربن فلڈنگ کا خدشہ،الرٹ جاری

    اسلام آباد (باغی ٹی وی رپورٹ)پری مون سون بارشوں کی آمد، 20 سے 24 جون کے دوران ملک بھر میں گرج چمک، ژالہ باری اور اربن فلڈنگ کا خدشہ

    ملک میں جاری شدید گرمی کی لہر کے بعد محکمہ موسمیات نے 20 سے 24 جون کے دوران وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں کی پیشگوئی جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جب کہ مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ بھی 20 جون سے ملک کے شمالی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ان موسمی تبدیلیوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں تیز آندھی، گرج چمک، موسلادھار بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 20 سے 23 جون کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال، دیر، سوات، کوہستان، پشاور، مردان، بنوں، کرک، ڈی آئی خان، وزیرستان اور دیگر متعدد علاقوں میں گرج چمک، آندھی اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس دوران چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے، جو فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    مزید برآں 21 سے 23 جون کے دوران جنوبی پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان کے علاقوں، جن میں ژوب، بارکھان، قلات، موسیٰ خیل، ڈیرہ غازی خان، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور ساہیوال شامل ہیں، میں بھی آندھی کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ جبکہ 22 سے 24 جون کے دوران سندھ کے شہر سکھر، لاڑکانہ، دادو اور جیکب آباد میں بھی گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات نے شہریوں، مسافروں اور سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہری مراکز میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو نشیبی علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آندھی اور تیز بارش کے باعث بجلی کے کھمبوں، درختوں، سولر پینلز، گاڑیوں اور دیگر کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمی سلسلے سے موجودہ شدید گرمی میں عارضی کمی آنے کا امکان ہے، جس سے درجہ حرارت میں کچھ حد تک سکون آئے گا۔ کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زرعی سرگرمیوں کو موسمی حالات کے مطابق ترتیب دیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

    محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں نے تمام اضلاع میں ایمرجنسی الرٹ جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔ عوام الناس سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

  • تنگوانی و گردونواح میں ڈاکو راج، پولیس خاموش تماشائی، شہری غیر محفوظ

    تنگوانی و گردونواح میں ڈاکو راج، پولیس خاموش تماشائی، شہری غیر محفوظ

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور اس کے گردونواح میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، پولیس کی خاموشی اور مجرمانہ چشم پوشی سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ڈاکو سرعام پولیس موبائل اور چوکیوں کے سامنے وارداتیں کر رہے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آج بھی خبر کے لکھے جانے تک کئی وارداتیں ہو چکی تھیں۔ پہلی واردات گاؤں علی شیر سرکی میں پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے علاقے میں دہشت پھیلا دی، تاہم پولیس نے حسب روایت کوئی کارروائی نہ کی۔

    دوسری بڑی واردات میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ چنہ کو غوثپور لنک روڈ پر تنگوانی کی طرف آتے ہوئے ڈاکوؤں نے روکا، ان کی جی ایل آئی گاڑی، موبائل فون، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    تیسری واردات میں انڑ پل کے قریب گل ملک سے اس کی آلٹو کار چھین لی گئی، اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

    چوتھی واردات میں فشر فوک فورم کے مرکزی وائس چیئرمین اسحاق میرانی کے بیٹے اکرام اللہ میرانی سے انڈس ہائی وے، مارکھ بھیو کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے ڈاٹسن پک اپ چھین لی۔ واقعہ کی اطلاع تھانہ غوثپور کو دی گئی، مگر کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔

    اسی طرح کی ایک اور واردات میں ہزارو نہر کے قریب محمد شعبان نندوانی کے ڈرائیور سے ڈاکو میسی ٹریکٹر ٹرالی سمیت موبائل، نقدی اور سامان چھین کر فرار ہو گئے۔

    فشر فوک فورم کے رہنما اسحاق میرانی نے اس بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کندھ کوٹ، تنگوانی، غوثپور اور گردونواح میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے، جس کے باعث شہری خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اپنی غفلت ترک نہ کی تو عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

  • لنڈی کوتل: شہید صحافی خلیل جبران آفریدی کی پہلی برسی، جوڈیشل انکوائری اور شہید پیکج کا مطالبہ

    لنڈی کوتل: شہید صحافی خلیل جبران آفریدی کی پہلی برسی، جوڈیشل انکوائری اور شہید پیکج کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) صحافت کے ایک توانا اور نڈر کردار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لنڈی کوتل جرگہ ہال میں سینئر صحافی اور لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر خلیل جبران افریدی کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ یہ تقریب شہید خلیل افریدی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں مقامی مشران، صحافی، سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    خلیل افریدی کو گزشتہ سال 17 جون 2023 کو عید کے دوسرے دن رات کے وقت اپنے گاؤں سلطان خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا جب وہ ایک مقامی حجرے میں تقریب کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔
    مرحوم گزشتہ 15 برسوں سے صحافت کے میدان میں متحرک رہے اور خیبر نیوز کے لیے رپورٹنگ کے فرائض انجام دیتے رہے۔

    برسی کی تقریب میں ملک دریا خان افریدی، جماعت اسلامی کے رہنما مراد حسین افریدی، سینئر قبائلی صحافی قاضی فضل اللہ، کسٹمز ایجنٹ یونین کے صدر مجیب شینواری، پی ٹی آئی رہنما عبدالرزاق شینواری، فاؤنڈیشن کے صدر حاجی اقبال افریدی، تحصیل چئیرمین شاہ خالد شینواری اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی غفار شینواری سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور تقاریر کیں۔

    مقررین نے کہا کہ خلیل افریدی صرف ایک صحافی نہیں بلکہ ایک باشعور استاد، درد دل رکھنے والے سوشل ورکر اور قبائلی عوام کی آواز تھے۔ ان کی شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ صحافت، سماجی شعور اور قبائلی تشخص پر ایک حملہ ہے۔ انہوں نے خلیل افریدی کو صحافت کے محاذ پر ایک توانا آواز قرار دیا جو ہمیشہ امن، ترقی اور قبائلی عوام کے حقوق کے لیے سرگرم رہے۔

    تقریب کے مقررین نے زور دیا کہ خلیل جبران افریدی کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی جائے تاکہ قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
    ساتھ ہی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرحوم کے لیے شہید پیکج کا اعلان کیا جائے اور ان کے بچوں کو تعلیمی و مالی معاونت فراہم کی جائے۔

    یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 2000 سے 2024 تک قبائلی اضلاع میں 18 صحافیوں کو نامعلوم افراد نے قتل کیا، جبکہ صحافتی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں اب تک 71 صحافی شہید ہو چکے ہیں، جو ایک تشویشناک قومی المیہ ہے۔

    مقررین نے عہد کیا کہ خلیل جبران افریدی کا مشن جاری رکھا جائے گا اور ان کی آواز کو کبھی خاموش نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • بلاسود قرض کے نام پر آن لائن لوٹ مار، شہریوں کی زندگیاں تباہ، ریاستی ادارے محض تماشائی

    بلاسود قرض کے نام پر آن لائن لوٹ مار، شہریوں کی زندگیاں تباہ، ریاستی ادارے محض تماشائی

    بلاسود قرض کے نام پر آن لائن لوٹ مار، شہریوں کی زندگیاں تباہ، ریاستی ادارے محض تماشائی

    (اوچ شریف سے باغی ٹی وی کےنامہ نگار حبیب خان کی خصوصی رپورٹ)پاکستان میں بلاسود اور فوری قرض کی سہولت کے نام پر جاری آن لائن جعلسازی کی وارداتیں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے غریب، ضرورت مند اور پریشان حال شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ یہ معاملہ اب خودکشیوں تک جا پہنچا ہے۔ ایف آئی اے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تحقیقات اور انتباہ کے باوجود عملی اقدامات اب تک خواب ہی ہیں۔

    12 جولائی 2023 کو ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کراچی نے شہریوں کی شکایات پر 8 جعلی قرض دہندہ ایپس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جن میں ایزی لون، آسان قرضہ، ضرورت کیش، منی باکس، ادھار پیسہ، بروقت، لون کلب اور اسمارٹ قرضہ شامل تھیں۔ ان کا طریقہ واردات نہایت سفاک تھا، موبائل ایپس پر اشتہارات دے کر لوگوں کو قرض کی پیشکش کی جاتی، ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہی خودبخود رقم اکاؤنٹ میں ڈال دی جاتی اور پھر اصل رقم سے کئی گنا زیادہ واپس مانگنے کا عمل دھونس، گالیاں اور بلیک میلنگ کے ساتھ شروع ہو جاتا۔

    ایف آئی اے کے مطابق یہ ایپس صارف کے موبائل ڈیٹا، سوشل میڈیا اور گیلری تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں اور پھر متاثرہ افراد کے دوست احباب کو فحش پیغامات بھیج کر دباؤ بڑھاتی ہیں۔ کئی افراد نے قرض کی رقم واپس نہ کرنے پر سماجی بدنامی، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا سامنا کیا اور راولپنڈی کے رہائشی محمود مسعود جیسے کئی افراد ذہنی اذیت کے باعث خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے۔

    مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 مئی 2025 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایس ای سی پی نے 141 جعلی قرض ایپس کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے باوجود خبردار کیا ہے کہ جعلساز اب فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھوکہ دہی کے نئے طریقے اپنا چکے ہیں۔ جھوٹے اشتہارات میں معروف اداروں کے نام استعمال کر کے عوام کو جھانسہ دیا جا رہا ہے، جن میں ’بغیر سود فوری قرض‘ جیسے نعرے شامل ہیں۔ متاثرہ شہریوں سے رجسٹریشن، انشورنس یا اکاؤنٹ ویریفکیشن کے نام پر ایڈوانس رقم یا ذاتی معلومات لے کر جعلساز غائب ہو جاتے ہیں۔

    ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ صرف لائسنس یافتہ اور منظوری شدہ قرض فراہم کرنے والی کمپنیوں کی فہرست اس کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور عوام کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ ذرائع سے کسی بھی قسم کا قرض نہ لیں اور اپنی ذاتی معلومات کسی ایپ یا اشتہار کو نہ دیں۔

    لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ اعلانات اور انتباہات کافی سمجھے جائیں گے؟ جب ریاستی ادارے تحقیقات اور فہرستوں سے آگے بڑھ کر مؤثر اور تیزرفتار قانونی اقدامات نہیں کریں گے، تب تک یہ سودی اور بلیک میلنگ پر مبنی آن لائن قرض مافیا ہر روز کسی نہ کسی شہری کی زندگی کو برباد کرتا رہے گا۔

    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو جعلی ایپس، ان کے طریقہ واردات اور ملوث افراد کا علم ہے تو پھر اب تک عملی طور پر کتنے مجرم گرفتار اور کتنی ایپس بلاک ہو چکی ہیں؟ ریاستی خاموشی اور سست روی کا یہ عالم نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

    آخر کب تک ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ ان غیرقانونی قرض ایپس کی آڑ میں عوام کو رسوا، ذلیل و خوار کرنے اور بلیک میلنگ کے ذریعے خودکشیاں کروانے کا سلسلہ کب تھمے گا؟ جب تک متعلقہ حکومتی ادارے خاص طور پر ایف آئی اے، پی ٹی اے اور اسٹیٹ بینک اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے، تب تک یہ ایپس معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی رہیں گی۔

    اگر اب بھی کارروائی نہ ہوئی تو ہر نئی خودکشی کا الزام صرف ان بلیک میلرز پر نہیں بلکہ اُن اداروں پر بھی ہوگا جنہوں نے مجرمانہ چشم پوشی سے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس المیے کا نوٹس لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور ان خونی کاروبار کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے، ورنہ کل کوئی اور مجبور انسان اسی خاموشی کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔