Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بہتری کا دعویٰ، حقیقت یا رسمی کارروائی؟

    ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بہتری کا دعویٰ، حقیقت یا رسمی کارروائی؟

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں حالیہ مہینوں کے دوران صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری کا عمل قابل تعریف ہے، تاہم کئی اہم پہلو اب بھی فوری اصلاح کے منتظر ہیں۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی قیادت میں ہسپتال کے نظم و نسق، ادویات کی دستیابی اور صفائی کے نظام میں مثبت تبدیلیاں واضح طور پر دیکھی گئی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے چارج سنبھالتے ہی پہلا دورہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ صحت عامہ ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی تعیناتی کے بعد انتظامیہ نے بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اس کے باوجود بعض اہم مسائل فوری توجہ کے طالب ہیں، جن میں ایمرجنسی وارڈ میں چاروں ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔ ہنگامی صورتحال میں مریض کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ ہو، اس کے لیے ڈیوٹی پر موجودگی محض کاغذی نہ ہو بلکہ جسمانی اور فعال موجودگی ہونی چاہیے۔

    ہر وارڈ میں میڈیکل آفیسرز کی مستقل اور متحرک تعیناتی لازمی ہے۔ مریض کے ساتھ براہ راست مشاہدہ، وقت پر ادویات اور مسلسل رابطہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ہیڈ نرس کا کردار بھی محض شیڈول سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شفٹ میں حاضری، صفائی، نرسنگ اسٹاف کا اخلاقی و پیشہ ورانہ رویہ، ادویات کی دستیابی اور مریضوں سے براہ راست فیڈبیک لینا اس منصب کی اصل روح ہے۔

    یہ امر تشویش ناک ہے کہ متعدد دوروں کے دوران ہیڈ نرس کی غیر موجودگی رپورٹ ہوئی، جسے آفس ورک کا دباؤ قرار دیا گیا۔ اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ ہیڈ نرس کو ہسپتال کے اندر رہائش فراہم کی جائے تاکہ وہ رات کے اوقات میں بھی وارڈز کی نگرانی کر سکیں اور ایمرجنسی صورتِ حال میں مؤثر کنٹرول برقرار رہے۔

    ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بہتری کے لیے قائم کی گئی ہیلتھ کونسل کا فعال کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ہفتہ وار سرپرائز وزٹ، مریضوں سے براہ راست رائے، وارڈز کی حالت کا جائزہ، عملے کی کارکردگی پر رپورٹنگ، اور ادویات کی فراہمی کا جائزہ کونسل کی مؤثر نگرانی کا مظہر ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ فورم محض رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

    یہ ہسپتال روزانہ سینکڑوں مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ یہاں کے ہر ملازم، ڈاکٹر، نرس اور منتظم پر فرض ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو نوکری نہیں بلکہ انسانی خدمت سمجھ کر انجام دے۔ اگر ایمانداری، احساسِ ذمے داری اور حاضری کو اپنا شعار بنایا جائے تو ننکانہ صاحب کا یہ ادارہ پنجاب کے بہترین طبی مراکز کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

  • واربرٹن: آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    واربرٹن: آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    واربرٹن(باغی ٹی وی،نامہ نگارچوہدری عبدالغفار) آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) شیخوپورہ اطہر اسماعیل نے ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کے ہمراہ تھانہ واربرٹن کا دورہ کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ آر پی او نے موقع پر موجود شہریوں کی شکایات اور درخواستیں سنیں اور فوری احکامات جاری کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔

    دورے کے دوران آر پی او نے تھانے کا مکمل وزٹ کیا، ریکارڈ رجسٹرز کی جانچ پڑتال کی اور اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ ان کی واربرٹن آمد پر پولیس افسران اور مقامی افراد نے ان کا استقبال پھولوں سے کیا۔ آر پی او نے صحافیوں اور تاجر برادری سے بھی ملاقاتیں کیں اور پولیس کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    آر پی او اطہر اسماعیل کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق پولیس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال لایا جا رہا ہے تاکہ شکایات اور مقدمات کی مؤثر نگرانی ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپلین مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ہر درخواست اور مقدمے پر پیش رفت کا ریکارڈ موجود ہے، اور تمام ڈی پی اوز شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے سرگرم عمل ہیں۔

    اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن حنا نیک بخت سمیت دیگر افسران بھی ہمراہ موجود تھے۔ آر پی او نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ عوامی شکایات کا فوری اور شفاف ازالہ ممکن ہو۔

  • گوجرانوالہ: تھانہ کینٹ پولیس کی کارروائی، منشیات فروش اور پتنگ فروش گرفتار، اسلحہ و چرس برآمد

    گوجرانوالہ: تھانہ کینٹ پولیس کی کارروائی، منشیات فروش اور پتنگ فروش گرفتار، اسلحہ و چرس برآمد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)تھانہ کینٹ پولیس نے منشیات فروشوں، ناجائز اسلحہ رکھنے والوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران بدنام زمانہ منشیات فروش اشرف عرف اچھو کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے 3 کلو 580 گرام چرس، ایک رائفل 222 بور، ایک 30 بور پسٹل اور متعدد گولیاں برآمد کر لیں۔

    ایس پی سول لائن محمد عمران خان کی زیر ہدایت، ایس ایچ او تھانہ کینٹ انسپکٹر غازی عدنان اعجاز نے پولیس ٹیم کے ہمراہ گشت و ناکہ بندی کے دوران مخبر کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی۔ گرفتار ملزم اشرف عرف اچھو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بیرونِ اضلاع سے منشیات لا کر گوجرانوالہ میں فروخت کرتا تھا۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    اسی طرح پتنگ بازی اور پتنگ فروشی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک اور ملزم نعیم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضہ سے 27 عدد رنگ برنگی پتنگیں اور 2 عدد ڈور کی گوٹیں برآمد ہوئیں۔

    سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے اس کامیاب کارروائی پر ایس ایچ او تھانہ کینٹ اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں، ناجائز اسلحہ رکھنے والوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ قانون شکن عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ پولیس کا یہ کریک ڈاؤن آئندہ بھی جاری رہے گا۔

  • اوکاڑہ: زکوة کی شفاف تقسیم کیلئے ضلعی زکوة آفیسر کی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں

    اوکاڑہ: زکوة کی شفاف تقسیم کیلئے ضلعی زکوة آفیسر کی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) صوبائی سیکرٹری زکوة و عشر پنجاب و ایڈمنسٹریٹر زکوة محمد اسلم رامے کی ہدایت پر زکوة کی ادائیگی اور عوامی آگاہی مہم کے سلسلے میں ضلعی زکوة آفیسر عدیل اشرف نے صدر محمدی مارکیٹ شیخ لیاقت سمیت دیگر مختلف کاروباری شخصیات اور صاحبِ حیثیت افراد سے ملاقاتیں کیں۔

    اس موقع پر عدیل اشرف نے بتایا کہ محکمہ زکوة و عشر پنجاب کے تحت بیوگان، مساکین، معذور افراد اور مستحقین کو صاف و شفاف طریقے سے گزارہ الاؤنس فراہم کیا جاتا ہے، جو برانچ لیس بینکنگ نظام اور بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی ادا کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ فنی تربیت کے اداروں، سرکاری کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے مستحق طلبہ کو وظائف کی مد میں زکوة فراہم کی جاتی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں کے ذریعے مستحق مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

    ضلعی زکوة آفیسر نے مخیر حضرات اور کاروباری افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی زکوة براہِ راست محکمہ زکوة و عشر پنجاب کے بینک آف پنجاب اکاؤنٹ نمبر PK20BPUN6010046987300013 یا مسلم کمرشل بینک اکاؤنٹ نمبر PK52MUCB0736876331001823 میں جمع کروائیں تاکہ یہ فنڈز مستحقین تک منصفانہ اور بروقت پہنچ سکیں۔

    عدیل اشرف نے محکمہ کے فیلڈ اور دفتری عملے کو بھی ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں کے معززین و تاجران سے رابطہ کر کے زکوة کی اہمیت اور محکمانہ شفاف نظام سے متعلق آگاہی کو یقینی بنائیں۔

  • اوکاڑہ: احتشام جمیل شامی انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے ضلعی صدر مقرر

    اوکاڑہ: احتشام جمیل شامی انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے ضلعی صدر مقرر

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کہنہ مشق صحافی، کالم نگار، شاعر، ادیب اور اینکر پرسن احتشام جمیل شامی کو انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے ضلع اوکاڑہ کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ ان کی اس تقرری پر ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔

    یونین کے بانی و چیئرمین زبیر احمد انصاری، مرکزی صدر ثمینہ طاہر بٹ، جنرل سیکرٹری طاہر درانی، نائب صدور سعدیہ ہما شیخ، نمرہ ملک، امین رضا مغل، صدر لاہور میل ونگ زوہیب رمضان بھٹی، صدر لاہور ویمن ونگ نبیلہ اکبر سمیت دیگر مرکزی و علاقائی عہدیداران نے احتشام جمیل شامی کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ضلع اوکاڑہ میں ادبی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔

    رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتشام جمیل شامی ایک باصلاحیت، مخلص اور نڈر صحافی ہیں جن کی صحافتی خدمات کا دائرہ کار دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ ان کی شمولیت سے نہ صرف یونین کی فعالیت میں اضافہ ہوگا بلکہ نئے لکھاریوں اور نوجوان صحافیوں کو ان سے رہنمائی کا موقع بھی میسر آئے گا۔

    اوکاڑہ میں ادبی اور صحافتی ترقی کے اس نئے باب کے آغاز پر یونین کے ممبران نے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دعا کی کہ احتشام جمیل شامی کو اللہ تعالیٰ مزید کامیابیوں اور عزت سے نوازے۔

  • اوکاڑہ: خانہ بدوشوں میں رشتے کا تنازع، سالا اور بہنوئی قتل

    اوکاڑہ: خانہ بدوشوں میں رشتے کا تنازع، سالا اور بہنوئی قتل

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر) تھانہ گوگیرہ کے نواحی گاؤں چک خان محمد میں رشتے کے تنازع پر خانہ بدوش قبیلے کے دو افراد قتل ہو گئے۔ مقتولین شاہد اور فرمائش آپس میں سالا اور بہنوئی تھے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق شاہد نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ بہنوئی فرمائش کی جھگی میں جا کر دستی اسلحہ سے فائرنگ کی اور اسے قتل کر دیا۔ فائرنگ کے بعد شاہد کے ساتھی موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ مقتول کے عزیز و اقارب نے قاتل شاہد کو موقع پر ہی پکڑ لیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

    واقعے کی اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ گوگیرہ پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔ مقتول فرمائش کی لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا جبکہ قاتل شاہد کو زخمی حالت میں پولیس حراست میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    ڈی پی او کے نوٹس پر پولیس نے مقتول فرمائش کی والدہ کی درخواست پر شاہد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ نمبر 723/25 درج کر لیا۔ دوسری جانب شاہد کی موت کے بعد اس کے ورثاء کی درخواست پر کراس ورژن بھی درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس تھانہ گوگیرہ نے دوہرے قتل کے اس پیچیدہ کیس کی میرٹ اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے لیے اعلیٰ افسران پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق دونوں فریقین کے بیانات، شواہد اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام کیلئے ریسکیو 1122 کا جامع پلان، اہم اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ

    اوکاڑہ: محرم الحرام کیلئے ریسکیو 1122 کا جامع پلان، اہم اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر) سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارۂ امتیاز) کی خصوصی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیر صدارت سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں محرم الحرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کی مجلس عاملہ کے سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔

    صدر مجلس عاملہ سید کوثر رضوی نے اجلاس کے دوران ضلع بھر میں محرم الحرام کے سلسلے میں منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں کی تفصیلات سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر انجینئر احتشام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے محرم کے دوران ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جامع پلان تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اے کیٹیگری کی مجالس و جلوسوں کیلئے ریسکیو پوسٹس، موٹر بائیک سروسز اور میڈیکل کیمپ قائم کیے جائیں گے۔

    یومِ عاشورہ کے موقع پر خصوصی طور پر جلوسوں کے راستوں پر ریسکیو اسٹاف تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ریسکیو رضاکاروں کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ وہ ہنگامی حالات میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    اجلاس کے اختتام پر صدر مجلس عاملہ اور دیگر شرکاء نے ریسکیو 1122 کی جانب سے کیے گئے مثالی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

  • ڈی جی خان: خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی سیمینار، قانونی تحفظ اور معاونت پر زور

    ڈی جی خان: خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی سیمینار، قانونی تحفظ اور معاونت پر زور

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) خواتین کے حقوق کے تحفظ اور قانونی معاونت کے حوالے سے ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال کے زیر اہتمام ڈپٹی کمشنر آفس میں کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، ایف ڈی او اور دیگر اداروں کے اشتراک سے منعقدہ اس سیمینار میں مختلف محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی، جن میں ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ، غازی یونیورسٹی، پراسیکیوشن، پنجاب پولیس، بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر ادارے شامل تھے۔

    سیکرٹری ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن کمیٹی ثریا مجید رانا نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری اداروں کو بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے متعلقہ قوانین سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ پالیسی سازی سے لے کر عملی اقدامات تک ہر سطح پر مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

    افتتاحی خطاب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز نے حکومت پنجاب کی جانب سے خواتین کے تحفظ کیلئے کیے گئے اقدامات اور قانون سازی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ جاتی سطح پر سنجیدہ کوششیں ہی خواتین کو محفوظ اور بااختیار بنانے میں کامیابی لا سکتی ہیں۔

    سیمینار کے اہم مقرر، ممبر ڈسٹرکٹ بار شیخ امجد حسین ایڈووکیٹ نے تفصیل سے خواتین کے قانونی حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے لیے بنائے گئے متعدد قوانین جیسے کہ:

    تحفظ خواتین برائے ہراسمنٹ ایکٹ 2010،ایسڈ کرائم کنٹرول ایکٹ 2011،پنجاب گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ ایکٹ 2016.اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021.دی مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961

    ان تمام قوانین کی موجودگی اور مؤثر عملدرآمد سے خواتین کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ مزید یہ کہ خواتین ہیلپ لائن 1043 اور پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر فوری رابطہ کر کے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ذکاء الدین بزدار، غازی یونیورسٹی کی نمائندہ سمیرا بانو اور دیگر شرکاء نے بھی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ اور مساوی مواقع کی اہمیت پر زور دیا۔

    آخر میں شرکاء کو سرٹیفکیٹس بھی دیے گئے، اور اس اقدام کو خواتین کی فلاح، شعور اور خودمختاری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔

  • ننکانہ صاحب: سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی شادی کا اندراج

    ننکانہ صاحب: سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی شادی کا اندراج

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) سکھ برادری کے لیے ایک تاریخی پیش رفت میں، ضلع ننکانہ صاحب میں سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی مرتبہ ایک سکھ جوڑے کی شادی کا باقاعدہ اندراج کیا گیا ہے۔ بلوندر سنگھ اور دل جیت کور سنگھ وہ پہلے خوش نصیب جوڑے ہیں جن کی شادی کی رجسٹریشن "انند کارج” رسم کے تحت مقامی رجسٹرار کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔

    یہ اقدام پنجاب حکومت کے محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد ممکن ہوا، جس کے تحت ضلع ننکانہ صاحب میں پہلی بار انند کارج رجسٹریشن کے لیے رجسٹرار کو باقاعدہ طور پر نامزد کیا گیا۔

    سکھ کمیونٹی نے اس پیش رفت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکھ میرج ایکٹ 2017 جسے پنجاب انند کارج میرج ایکٹ بھی کہا جاتا ہے کے عملی نفاذ سے نہ صرف ان کی مذہبی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ ان کے آئینی حقوق کو بھی مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے۔

    قبل ازیں سکھ برادری کو اپنی شادیوں کے اندراج کے دوران قانونی پیچیدگیوں کا سامنا رہتا تھا، تاہم اب اس اقدام سے سکھ برادری کو اپنی رسوم کے مطابق شادی رجسٹر کروانے میں سہولت میسر آ گئی ہے۔

    سکھ رہنماؤں نے حکومت پنجاب اور محکمہ بلدیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح سکھ میرج ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو خوب سراہا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ ننکانہ صاحب سکھ مت کا نہایت مقدس مقام ہے، اور یہاں اس قانون پر عملدرآمد عالمی سکھ برادری کے لیے ایک مثبت اور واضح پیغام ہے۔

  • سیالکوٹ: خواتین کی معاشی خودمختاری پر سیمینار، بااختیار معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہے،انعم بابر

    سیالکوٹ: خواتین کی معاشی خودمختاری پر سیمینار، بااختیار معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہے،انعم بابر

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر کی زیر صدارت خواتین کی معاشی خودمختاری سے متعلق ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد سوشل ویلفیئر کمپلیکس سیالکوٹ میں کیا گیا۔ سیمینار کا اہتمام بیداری سیالکوٹ، ساؤتھ ایشین پارٹنرشپ پاکستان (SAP-PK) اور جی آئی زیڈ (جرمن انٹرنیشنل کوآپریشن) کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور ترقی کے بغیر معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز وقت کی اہم ضرورت ہیں جو خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان کی آواز کو اجاگر کریں۔

    سیمینار میں بیداری کی نائب صدر حنا نورین، SAP-PK کی پروگرام مینیجر رشم عدنان اور سدھار کی پروجیکٹ مینیجر ارم نے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال سیالکوٹ محمد شریف گھمن نے خواتین کی معاشی شمولیت کو ترقی کا ضامن قرار دیا اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایسی سرگرمیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    جی آئی زیڈ کے نمائندے صدیق اکبر نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کی شمولیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت مقامی خواتین کو باعزت روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔

    ویمن ایمپاورمنٹ کمیٹی کی اراکین روبی طارق اور آصفہ تبسم نے اپنی زندگی کی جدوجہد اور کامیابی کی داستانیں سنائیں، جنہوں نے حاضرین کو خاصا متاثر کیا۔ انزہ شہباز اور مہرین ملک نے خواتین کے حق میں جذباتی اور پراثر شاعری پیش کی۔

    ایچ آر بلیگل اسپورٹس سیالکوٹ کی نمائندہ مومنہ جمیل نے صنعتی شعبے میں خواتین اور معذور افراد کو روزگار کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا ذکر کیا۔ اقرا رزاق اور ان کی ٹیم نے خواتین کی معاشی بااختیاری پر مبنی تھیٹر پرفارمنس پیش کی، جبکہ بچوں کے گروپ نے عائشہ خالد کی رہنمائی میں ایک سبق آموز کردار نگاری کے ذریعے سامعین کی توجہ حاصل کی۔

    تقریب کا اختتام ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیداری، ارشد محمود مرزا کے کلماتِ تشکر پر ہوا، جنہوں نے تمام مہمانوں، شراکت دار اداروں، فنکاروں اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایسے پروگرامز کے تسلسل پر زور دیا۔