Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستان کی سینیٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے تاریخی بیانیے کو زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2011 میں کہا تھا کہ "ایران کے بعد پاکستان ہماری نظر میں ہوگا۔” یہ بیان اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کی جوہری طاقت اسرائیل کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا وہ اقتباس ہے جو اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے دیا تھا جو مبینہ طور پر 1967 میں The Jewish Chronicle (UK) میں شائع ہوا تھاکہ "عرب ہمارے دشمن نہیں ہیں کیونکہ ہم ان کو جانتے ہیں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی ہمارے پاس ہے۔ ہمارا اصل دشمن پاکستان ہے کیونکہ پاکستان اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔” موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی اور پاک بھارت تنازعات میں اسرائیلی کردار نے اس دشمنی کو نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

    1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کے عرب ممالک کے ساتھ تنازعات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کبھی سفارتی سطح پر استوار نہ ہوئے۔ پاکستان نے فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت کی اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں جب اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف فتح حاصل کی تو پاکستان نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا لیکن سفارتی طور پر عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ صدر ایوب خان کی قیادت میں پاکستان نے OIC کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا جو عرب اسرائیل تنازعے کے تناظر میں اسلامی ممالک کے اتحاد کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا۔

    1973 کی عرب اسرائیل جنگ نے اس اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔ OPEC کے رکن ممالک خاص طور پر سعودی عرب نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے خلاف تیل کی پابندی عائد کی جسے "تیل کا ہتھیار” کہا گیا۔ اس اقدام نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان نے اس کی سیاسی حمایت کی، جو اس کے فلسطینی کاز اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کے نظریاتی موقف کا عکاس تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے افسران نے اردن اور شام میں اسرائیلی طیاروں کے خلاف شجاعت سے لڑائی لڑی، جو پاکستان کی عرب کاز سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کی۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد تیزی سے ترقی کرتا چلا گیا، نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا۔ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی را (RAW) کے درمیان تعاون کی خبریں سامنے آئیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ 1984 میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو "خطرہ” قرار دیا اور 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے۔ بھارتی صحافیوں اور مغربی مبصرین نے "Project Blue Star II” نامی ایک مبینہ منصوبے کی تفصیلات شائع کیں، جس کے تحت را اور موساد نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔پاکستان کی چوکس ہونے کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوا، لیکن اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کتناخوفزہ اور مخالف ہے.

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسرائیل کھل کرپاکستان دشمنی میں سامنےآیا۔ مئی 2025 میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے، جن میں لاہور، کراچی اور بہاولپور جیسے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بنایا لیکن اسرائیلی سفیر رووین آزار کی جانب سے بھارت کے "دفاعی حق” کی حمایت نے اس دشمنی کو مزید عیاں کر دیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں را اور موساد ملوث ہیں، جن میں کراچی میں چینی انجینئرز پر حملے اور گوادر میں سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ بھارت 2004 سے اسرائیلی فالکن کنٹرول سسٹم سمیت جدید ہتھیار حاصل کر رہا ہے اور اسرائیلی ٹیکنالوجی اب بھارتی عسکری مشن کا اہم جزو بن چکی ہے۔

    موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک غیر مستحکم خطے میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔اور رواں ہفتے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا.جنگ میں تبدیل ہوتا یہ منظر نامہ ،اس کے علاوہ پاکستان جو جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہے، اس سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران کے بعد پاکستان کو اسرائیلی ایجنڈے کا ہدف بنانا، جیسا کہ اسحاق ڈار نے نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبردار کیا، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے اور اسے ہدف بنانے کی کوئی بھی کوشش خطے میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں نظریاتی اختلافات، فلسطینی کاز کی حمایت اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق اسرائیلی خدشات میں پیوست ہیں۔ بن گوریان کا بیان تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اس دشمنی کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں اسرائیلی ڈرونز اور فوجی تعاون واضح دکھائی دیا، نیز ایران اسرائیل تنازعے کی بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کے لیے نئے چیلنجز پیش کرتی ہے۔

    پاکستان کو اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کی حفاظت شامل ہے بلکہ سفارتی سطح پر OIC اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا اور خطے میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔

    ایران کے بعد پاکستان اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو اور اسحاق ڈار کے بیان سے عیاں ہے۔ یہ کوئی واہمہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عشروں سے جاری جغرافیائی سیاسی چالوں اور بین الاقوامی سازشوں سے جڑی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی جوہری طاقت کو مسلسل خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بھارت اس ایجنڈے کا علاقائی شراکت دار بنا ہوا ہے۔ آج جب مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے تو پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو نئے عالمی تناظر میں ترتیب دینا ہوگا۔ یہ "ایشیا پیسیفک کولڈ وار” کا دور ہے، جہاں دشمن نہ صرف سرحدوں پر ہے بلکہ عالمی سازشوں کے جال میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگابلکہ عالمی برادری میں اپنی آواز کو زیادہ موثر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ وہ اس نظریاتی جنگ میں اپنی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنا سکے۔

  • ہیڈ مرالہ: سیر کے دوران افسوسناک حادثہ، 4 سالہ بچی ڈوب گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    ہیڈ مرالہ: سیر کے دوران افسوسناک حادثہ، 4 سالہ بچی ڈوب گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) نارووال سے فیملی کے ہمراہ ہیڈ مرالہ سیر کے لیے آئی چار سالہ حرم فاطمی دختر بابر دریائے چناب میں ڈوب گئی۔

    تفصیلات کے مطابق فیملی پکنک منانے ہیڈ مرالہ پہنچی جہاں کنارے پر کھڑی ایک کشتی میں بیٹھ کر تصاویر بنائی جا رہی تھیں کہ اسی دوران کمسن بچی اچانک کشتی سے نیچے گر گئی اور پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی نگرانی میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال بچی کا سراغ نہیں مل سکا۔

    اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں جبکہ علاقے کی فضا افسردہ ہو گئی ہے۔

  • قصور: 19 وارداتوں میں ملوث خطرناک اشتہاری ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    قصور: 19 وارداتوں میں ملوث خطرناک اشتہاری ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    قصور (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو) سی سی ڈی ٹیم پتوکی کی کامیاب کارروائی میں 03 مقدمات میں اشتہاری اور 19 وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکو مارا گیا۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت بین الاضلاعی گینگ کے سرغنہ غلام دستگیر عرف دستگیری ولد رانا منگت، سکنہ خانکے موڑ پھولنگر کے طور پر ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملتان روڈ پر 5 سے 6 ڈاکو درخت رکھ کر شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف تھے کہ اسی دوران سی سی ڈی ٹیم پتوکی نے خفیہ اطلاع پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ریڈنگ پارٹی تشکیل دی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی ڈاکوؤں نے مختلف اطراف سے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ باقی ڈاکو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    سی سی ڈی ٹیم نے فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی قصور نے اس موقع پر کہا کہ سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • گھوٹکی:کچے میں گھیراؤ، تاوان کیلئے اغواء خانیوال کا شخص بازیاب

    گھوٹکی:کچے میں گھیراؤ، تاوان کیلئے اغواء خانیوال کا شخص بازیاب

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللّٰہ سومرو کی قیادت میں گھوٹکی پولیس نے کچے کے علاقے میں ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اغواء کاروں کا گھیرا تنگ کیا اور تاوان کے لیے اغواء کیے گئے مغوی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

    پولیس کے مطابق کچھ دن قبل ضلع کشمور کے کچہ ایریا سے خانیوال پنجاب کے رہائشی خورشید احمد ولد مخیار احمد قریشی کو اغواء کیا گیا تھا۔ اغواء کاروں نے اسے تاوان کے لیے قید کر رکھا تھا۔ آج ایس ایچ او تھانہ شہید دین محمد لغاری صفیع اللّٰہ انصاری نے بھاری نفری کے ہمراہ کچہ رونتی میں اغواء کاروں کے خلاف آپریشن کیا، جس میں مغوی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اغواء کار پولیس کا گھیرا تنگ ہوتا دیکھ کر مغوی کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ بازیابی کے بعد مغوی خورشید احمد نے تصدیق کی کہ اسے تاوان کے لیے کشمور سے اغواء کیا گیا تھا۔ پولیس نے مغوی کو بحفاظت تھانے منتقل کر لیا ہے، جہاں قانونی کارروائی کے بعد اسے اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللّٰہ سومرو نے پولیس پارٹی کی کامیاب کارروائی پر ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش، تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی پولیس کی بروقت کارروائی اور مغوی کی بازیابی کو سراہا ہے۔

  • میرپورخاص: نیشنل پریس کلب میں اقبال سولنگی کی سالگرہ کی تقریب، صحافیوں کی بھرپور شرکت

    میرپورخاص: نیشنل پریس کلب میں اقبال سولنگی کی سالگرہ کی تقریب، صحافیوں کی بھرپور شرکت

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) نیشنل پریس کلب میرپورخاص میں جنرل سیکریٹری اقبال سولنگی کی سالگرہ کی تقریب جوش و خروش اور خوشیوں کی فضا میں منائی گئی۔ تقریب میں صحافی برادری کی بڑی تعداد میں شرکت نے محفل کو یادگار بنا دیا۔ کلب سالگرہ کے نغموں، تالیوں اور مبارکبادوں سے گونجتا رہا۔

    اس موقع پر تقریب کی صدارت نیشنل پریس کلب میرپورخاص کے صدر حیات قریشی نے کی، جبکہ جوائنٹ سیکریٹری مبین چانہیوں، سینئر صحافی شہزاد لاشاری، اشفاق قریشی، محمد علی بھرگڑی، اختر ملک، ممتاز شر، غلام رسول بھٹی، بہادر علی مری، امام الدین شاہ سمیت دیگر معزز صحافی اور اراکین نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز خوش کن سالگرہ کے نغموں اور تالیوں کے ساتھ ہوا، جس کے بعد اقبال سولنگی نے تمام معزز مہمانوں کے ہمراہ سالگرہ کا کیک کاٹا۔ شرکاء نے انہیں پھولوں کے ہار اور گلدستے پیش کیے، نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور محبت بھرے الفاظ سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    اقبال سولنگی نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام صحافی دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع پر کیک، مٹھائی اور دیگر لوازمات پیش کیے۔ تقریب میں موجود صحافیوں نے نیشنل پریس کلب کی ترقی اور اتحاد کے لیے اجتماعی دعا بھی کی اور اس بات کا عزم کیا کہ وہ ادارے کو صحافت کا باوقار اور مضبوط پلیٹ فارم بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    پروگرام کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کے سرپرست آفاق احمد خان نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ صدر حیات قریشی اور جنرل سیکریٹری اقبال سولنگی نے شرکاء کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

  • لنڈی کوتل: عوام اور افسران آمنے سامنے، مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی

    لنڈی کوتل: عوام اور افسران آمنے سامنے، مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)تحصیل لنڈی کوتل کے جرگہ ہال میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع خیبر کے اعلیٰ حکام، بشمول کمانڈنٹ خیبر رائفلز، ڈپٹی کمشنر خیبر، ڈی پی او خیبر اور تمام سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقہ عمائدین، مشران، بلدیاتی نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

    کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل براہِ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرنا تھا۔ شہریوں نے بجلی، پانی، صحت، تعلیم، سڑکوں، منشیات، سرکاری دفاتر میں مسائل اور دیگر معاملات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ ہر فرد کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے علاقے کے مسائل سے متعلقہ افسران کے سامنے براہِ راست شکایات اور تجاویز پیش کرے۔

    ڈپٹی کمشنر خیبر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "کھلی کچہری کا مقصد صرف سننا نہیں بلکہ مسائل کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔” انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام شکایات کو متعلقہ محکموں کو بھیجا جائے گا اور ان پر باقاعدہ کارروائی ہو گی۔

    اس موقع پر عوامی نمائندوں نے کمانڈنٹ خیبر رائفلز اور ڈپٹی کمشنر خیبر کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تمام اداروں کے افسران کو ایک ہی جگہ پر لا کر عوام کو اپنے مسائل براہِ راست بیان کرنے کا موقع دیا۔ شرکاء نے اس اقدام کو "قابلِ قدر اور مثبت پیش رفت” قرار دیا۔

    کھلی کچہری کے اختتام پر عوام کی بڑی تعداد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے عوامی رابطہ اجلاس تسلسل سے منعقد کیے جائیں تاکہ سرکاری ادارے عوام کی دہلیز پر جوابدہ ہوں اور حقیقی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔

  • لنڈی کوتل: KITE کے 3 ہنر مند نوجوان HONDA میں سلیکٹ، پسماندہ علاقے کی بڑی کامیابی

    لنڈی کوتل: KITE کے 3 ہنر مند نوجوان HONDA میں سلیکٹ، پسماندہ علاقے کی بڑی کامیابی

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن (KITE) لنڈی کوتل کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ اُس وقت آیا جب موٹر سائیکل مکینک کورس کے تین ہونہار طلبا محمد آصف، حضرت عمر اور بلال خان کو پاکستان کی مشہور کمپنی HONDA پاکستان لمیٹڈ میں منتخب کر لیا گیا۔ یہ کامیابی نہ صرف KITE بلکہ پورے لنڈی کوتل کے لیے ایک بڑا اعزاز تصور کی جا رہی ہے۔

    طلبا کی سلیکشن پر کمانڈنٹ خیبر رائفلز بریگیڈیئر عاصم عزیز کیانی، آفیسر انچارج/پرنسپل واجد علی خان (CSP)، ایڈمن میجر دانیال الطاف گوندل اور ادارے کے تمام اسٹاف نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی مبارکباد پیش کی۔

    منتحب ہونے والے طلبا نے اپنی کامیابی کا سہرا KITE کی بہترین تربیت، محنتی انتظامیہ، اور اعلیٰ تدریسی معیار کو دیا اور کہا کہ یہ ادارہ لنڈی کوتل کی نوجوان نسل کے لیے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دیگر نوجوانوں کو بھی KITE سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ علاقے میں معاشی ترقی، ہنر مندی، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

    KITE کی اس کامیابی کو علاقائی سطح پر ایک بڑی پیش رفت اور ہنر کی بنیاد پر ترقی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو فاٹا انضمام کے بعد سرحدی علاقوں میں تعلیم و تربیت کی نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام حساس قرار، سکیورٹی و انتظامی پلان سخت کرنے کی ہدایات

    ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام حساس قرار، سکیورٹی و انتظامی پلان سخت کرنے کی ہدایات

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ملکی اور بین الاقوامی سکیورٹی حالات کے تناظر میں ضلع ڈیرہ غازی خان میں محرم الحرام کو حساس قرار دے دیا گیا ہے، جس کے پیش نظر سکیورٹی، انتظامی امور اور دیگر متعلقہ محکموں کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی زیر صدارت محرم الحرام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز، اے سی ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی سمیت وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں سے محرم کے لیے جامع کنٹی جنسی پلان طلب کیے گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ
    * مساجد، امام بارگاہوں، عبادت گاہوں اور دیگر حساس مقامات کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے گی۔
    * ہوٹلز، سرائے، اور ویران عمارتوں کی نگرانی سخت کی جائے گی، خاص طور پر جلوس روٹس کے اطراف۔
    * فرقہ وارانہ وال چاکنگ، بینرز، اور نعرہ بازی والے پینا فلیکس فوری ہٹانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
    * تجاوزات کے خلاف فوری آپریشن ہوگا تاکہ جلوسوں کے راستے کلیئر رہیں۔
    * مجالس اور جلوسوں کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ لازم قرار دی گئی ہے۔
    * غیرقانونی مجالس اور جلوسوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
    * بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ ساتھ جنریٹرز اور متبادل ذرائع کے انتظامات بھی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
    * سٹریٹ لائٹس اور جلوس روٹس پر روشنی کے تمام انتظامات کو فعال رکھنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ تمام ادارے باہمی رابطے کے ساتھ مؤثر حکمت عملی اختیار کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہے۔ محرم الحرام کے دوران ہر قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    ٹھٹھہ: صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور ضلعی صدر ٹھٹھہ صادق علی میمن نے ٹھٹھہ سمیت سندھ کے سنگین مسائل پر توجہ دلائی اور وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے خاص طور پر ٹھٹھہ میں پائے جانے والے ملک کے سب سے بڑے ونڈ کاریڈور کے باوجود ضلع کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    صادق علی میمن کا کہنا تھا کہ ٹھٹھہ میں ونڈ انرجی کے بڑے منصوبے ہونے کے باوجود یہاں کی عوام بجلی کی شدید قلت، بدترین لوڈشیڈنگ اور ترقیاتی پسماندگی کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی ونڈ انرجی کمپنیاں مقامی لوگوں کو روزگار نہیں دے رہیں، نہ ہی ضلع میں کسی قسم کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کمپنیوں کی جانب سے CSR فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ایک کھلی ناانصافی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ضرور ہے، مگر سندھ کے عوام کا مینڈیٹ بھی رکھتی ہے۔ اس سال کے وفاقی بجٹ میں سندھ کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا آئینی حق ہے۔

    ایم این اے صادق میمن نے وفاق پر یہ اعتراضات بھی اٹھائے:
    * سندھ کی سرکاری جامعات کو وعدے کے مطابق گرانٹس نہیں دی جا رہیں۔
    * K-IV منصوبے کی فنڈنگ انتہائی محدود ہے حالانکہ یہ کراچی اور سندھ کے لیے اہم منصوبہ ہے۔
    * سکھر موٹر وے جیسے اہم منصوبے کو بھی بجٹ میں محض کاغذی اہمیت دی گئی۔
    * زرعی شعبے کے لیے بھی کوئی مؤثر سہولت یا پیکج شامل نہیں کیا گیا۔
    * سولر پینلز پر سے ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عام آدمی بجلی کے متبادل ذرائع سے مستفید ہو سکے۔
    * کم از کم تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا غریب طبقات کے ساتھ کھلی زیادتی ہے، اسے پچاس ہزار روپے مقرر کیا جائے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اگر سندھ کے مسائل اور ان کے تحفظات کو نظرانداز کرتی رہی تو پیپلز پارٹی بجٹ کی منظوری میں اس کا ساتھ نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ طرزعمل سندھ دشمنی کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ ضلع ٹھٹھہ نہ صرف ملک کا سب سے بڑا ونڈ انرجی زون ہے بلکہ جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے بھی ایک اہم علاقہ ہے، اس کے باوجود یہاں کے عوام بجلی، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقی سے محروم ہیں، جس پر مقامی نمائندے بارہا احتجاج کر چکے ہیں لیکن شنوائی اب تک نہیں ہوئی۔

  • ننکانہ: وقف املاک بورڈ کا بڑا آپریشن، 55 غیر قانونی دکانیں سیل

    ننکانہ: وقف املاک بورڈ کا بڑا آپریشن، 55 غیر قانونی دکانیں سیل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)متروکہ وقف املاک بورڈ نے ننکانہ صاحب میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 55 غیر قانونی دکانوں کو سیل کر دیا۔ یہ آپریشن چیئرمین ڈاکٹر ساجد محمود چوہان اور سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا، جس کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو قانونی کرایہ داری نظام کے تحت لانا ہے۔

    ایڈمنسٹریٹر زون رشید احمد تنیو کی نگرانی میں، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر چوہدری اعجاز احمد گجر، متروکہ املاک کے عملے اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ بچیکی روڈ، مانگٹانوالہ روڈ اور واربرٹن روڈ پر یہ کارروائی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق، بورڈ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ ایڈمنسٹریٹر رشید احمد تنیو نے کہا کہ بورڈ کی املاک کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور تمام قابضین کو کرایہ داری نظام کے تحت لایا جائے گا تاکہ آمدنی میں اضافہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔