Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: وریو خاندان کے تین مرحوم وزراء کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

    سیالکوٹ: وریو خاندان کے تین مرحوم وزراء کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) وریو خاندان کے تین مرحوم وزراء کی سالانہ برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ وریو ہاؤس سیالکوٹ کینٹ میں منائی گئی۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر چوہدری عبدالستار وریو، سابق صوبائی وزیر چوہدری اختر علی وریو اور سابق صوبائی وزیر چوہدری خوش اختر سبحانی سمیت دیگر مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیہ محفل کا انعقاد کیا گیا۔ محفل میں تلاوتِ کلامِ پاک اور نعت خوانی کی گئی جبکہ معروف عالمی مبلغ اسلام پیر سید کرامت علی حسین شاہ نے خصوصی خطاب کیا اور حاضرین کو آخرت کی تیاری کی تلقین کی۔

    دعائیہ محفل میں وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی و ترقی چوہدری ارمغان سبحانی اور چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی چوہدری طارق سبحانی نے شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بزرگوں کی عوامی خدمت کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔

    اس موقع پر سابق رکن قومی اسمبلی رانا شمیم احمد خان، رکن صوبائی اسمبلی محمد منشا اللہ بٹ، حنا ارشد وڑائچ، سابق میئر چوہدری توحید اختر، چوہدری نصیر احمد، سابق چیئرمین چوہدری فلک شیر، صوفی محمد اسحاق، حسن طاہر، چوہدری رسالت گجر، چوہدری رضا سبحانی ایڈووکیٹ، بیرسٹر چوہدری جمیل خوش اختر سبحانی، چیئرمین یوسی کوٹلی لوہاراں چوہدری فضل، چیئرمین یوسی مراکیوال ملک ذوالفقار، سابق چیئرمین یوسی وینس چوہدری لطیف وینس، مقصود بٹ، سابق ایم پی اے شاہد بٹ، چوہدری نوید، شجاعت علی پاشا، چوہدری جمیل، عمر عابد بٹ، چوہدری نجم الحق سمیت حلقہ بھر سے بڑی تعداد میں معززین نے شرکت کی۔

    دعائے خیر کے بعد شرکاء کی ضیافت کی گئی اور وریو خاندان کے مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔

  • اوکاڑہ: غیرت کے نام پر خالہ ،بھانجی قتل، مرکزی ملزم گرفتار

    اوکاڑہ: غیرت کے نام پر خالہ ،بھانجی قتل، مرکزی ملزم گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ حجرہ شاہ مقیم کی حدود موضع کھرل کلاں میں غیرت کے نام پر دوہرے قتل کی لرزہ خیز واردات پیش آئی، جس میں خالہ اور بھانجی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقتولین کی شناخت 27 سالہ سدرہ بی بی دختر اظہر اور 28 سالہ شمائلہ بی بی دختر مولا بخش کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین آپس میں خالہ بھانجی تھیں اور گھر میں موجود تھیں کہ شمائلہ کا بھائی محمد احمد بوٹا ایک نامعلوم شخص کے ہمراہ پہنچا اور مبینہ طور پر غیرت کے نام پر دونوں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ حجرہ شاہ مقیم پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم محمد احمد بوٹا کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ اس کے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دوہرے قتل کے اصل محرکات تفتیش اور پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔ واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

  • میرپورخاص: گولی لگنے سے شخص زخمی، حیدرآباد ریفر

    میرپورخاص: گولی لگنے سے شخص زخمی، حیدرآباد ریفر

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میرپورخاص کے علاقے جھلوری کے رہائشی گل خان مری کو گولی لگنے کے باعث سول ہسپتال میرپورخاص منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر حیدرآباد ریفر کر دیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق گل خان مری کو سینے میں گولی لگی تھی۔

    ابتدائی تحقیقات میں واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ ہسپتال میں موجود قریبی رشتہ دار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گل خان مری نے خود کو گولی مار کر زخمی کیا۔ سول ہسپتال میرپورخاص میں ضروری سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مریض کو فوری طور پر دوسرے شہر منتقل کرنا پڑا، جس پر شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ادھر پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گولی چلنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

  • معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر دورِ حکومت اپنے ماضی کو بھول کر جانے والی حکومت پر سارا ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوامی شعور میں کمی اور زبان بندی کے ساتھ انصاف کرنے والے اداروں کی خاموشی ہے۔ عوام الناس کے مسائل پر آئیں، آج بات کرتے ہیں بجٹ کے حوالے سے، جو عوام پچھلے 76 سالوں سے ایک ہی سرکاری سطح کے قصیدہ کی صورت سنتی آ رہی ہے۔

    ہر سال کی طرح جب حکومتیں بجٹ پیش کرتی ہیں، تو ایک بار پھر عوام کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، وسائل محدود ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں، اور "قوم کو قربانی دینی ہو گی”۔ لیکن قوم کب تک قربانی دیتی رہے گی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربانی واقعی قوم دے رہی ہے یا صرف غریب اور متوسط طبقہ؟ کیا اشرافیہ، وزرا، بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کسی قربانی میں شریک ہیں؟ جی ہاں، ہماری موجودہ آبادی کے ساتھ ساتھ وہ بھی قصور وار ہیں جو ابھی اس دنیا میں نہیں آئے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا وہ بھی بڑھتے ہوئے ٹیکس، مہنگائی اور بیروزگاری کی بھٹی میں جل رہے ہیں؟ جواب نہایت تلخ اور سادہ ہے: "نہیں”۔

    پاکستان کی معیشت آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومتی دور کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی، اقربا پروری، کرپشن اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ سب کو سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، مگر کب تک؟ جو بھی حکومت آئی، اس نے اپنے مفادات کے گرد پالیسی گھمائی۔ ہر حکومت کا نعرہ "معاشی بہتری” تھا، لیکن نتیجہ "مزید قرض، کمزور روپیہ، بڑھتی مہنگائی” نکلا۔

    ملکی سیاست میں ہم اکثر سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی اصل اقتدار کی روح رواں تھی اور رہے گی، جب تک انصاف کا نظام پاکستان میں رائج نہیں ہوتا۔ فائل کو روکنا، منصوبے کو دبانا، منظورِ نظر ٹھیکیدار کو نوازنا، اور قانون کی تشریح اپنے فائدے کے مطابق کرنا — یہ سب اُس بدعنوان نظام کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے عوام کی امیدوں کو نگل رہا ہے، اور دور تک اس کے بارے میں کوئی واضح تبدیلی آتی نظر نہیں آ رہی۔

    اربوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں استعمال ہوتے ہیں، حقیقت میں سڑکیں، سکول، ہسپتال، ڈرینج، ٹیکنالوجی، سب کچھ خالی خول رہ جاتا ہے۔

    2024 کے سروے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 7 سے 10 ارب ڈالر کرپشن کی نذر کر دیتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ذمّہ دار کون ہے؟ شاید اس کا جواب آپ کو بھی معلوم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر سال اپنی معیشت کو اتنا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے پہنچاتے ہیں، جتنا کوئی بیرونی دشمن بھی نہ دے سکے۔

    کرپشن صرف نوٹ کھانے کا نام نہیں، یہ نااہل افراد کو بھرتی کرنا، یہ پاکستان کے تمام اداروں میں ہے۔ کوئی بھی سرکاری بلکہ نیم سرکاری ادارے بھی اس ترقی میں شامل ہیں۔ غیر شفاف ٹینڈرز، سیاسی وفاداری پر تقرریاں اور اپنے لوگوں کو نوازنے کا مجموعہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ ایک معمول بن چکا ہے۔

    جب عوام کو آٹا، چینی، دوائی اور روزگار کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے اور ان کے "خادمِ اعلیٰ” بیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں گزر رہے ہوں، تو یہ صرف معاشی عدم توازن نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن بھی ہے۔

    اربوں روپے ہر سال وزیروں، مشیروں، سفیروں، کمشنروں، سیکریٹریز اور اعلیٰ عہدے داران کے پروٹوکول، گاڑیوں، دفاتر، غیر ملکی دوروں اور تقریبات پر خرچ کیے جاتے ہیں ، یہ وہ پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور عوامی فلاح پر لگنا چاہیے۔

    ہر بار معاشی بحران آئے تو پہلا ہدف عوام بنتی ہے:

    بجلی مہنگی، ماہرِ اقتصادیات ایسا فارمولا بنا دیتے ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، جیسے 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا فارمولا شاید دنیا میں پہلی بار استعمال کیا گیا ہو۔گیس پر سبسڈی ختم،پیٹرول پر لیوی،اشیائے خور و نوش پر ٹیکس،ادویات مہنگی،تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ، مگر تنخواہیں معمول کے مطابق جبکہ مہنگائی کا تناسب عوام کی سوچ سمجھ سے بالاتر۔

    عوام کو بتایا جاتا ہے کہ "یہ سب ملکی بقاء کے لیے ہے” لیکن اشرافیہ کے لیے بقاء کا کوئی بحران نہیں، ان کے لیے تو یہ سارا نظام ایک محفوظ جنت ہے۔
    یہ سب باتیں تنقید نہیں بلکہ زمینی حقیقتیں ہیں۔ حل بھی موجود ہیں، اس پر آنے والے کالم میں بات کریں گے۔

  • گوجرانوالہ: محمد طاہر طویل علالت کے بعد کینیڈا میں انتقال کر گئے، سپرد خاک

    گوجرانوالہ: محمد طاہر طویل علالت کے بعد کینیڈا میں انتقال کر گئے، سپرد خاک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)جمعیت اہلحدیث پاکستان، تحریک دفاع اسلام و پاکستان کے صوبائی و ڈویژنل ناظم اطلاعات و نشریات، صوبائی چیئرمین ملت پریس کلب مرکز ملت اسلامیہ انٹرنیشنل، معروف صحافتی، سماجی، مذہبی و روحانی شخصیت محمد عدنان اولیاء سلفی شہزاد امین اولیاء اور خاور امین اولیاء کے بہنوئی اور محمد آمین اولیاء مرحوم کے داماد محمد بابر کے بھائی محمد طاہر قضائے الٰہی سے کینیڈا میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

    مرحوم کی نماز جنازہ کینیڈا میں ادا کی گئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ بعد ازاں محمد طاہر کو کینیڈا کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

  • سکھر: محرم سیکیورٹی پلان، ڈی آئی جی کی علماء سے مشاورت

    سکھر: محرم سیکیورٹی پلان، ڈی آئی جی کی علماء سے مشاورت

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت محرم الحرام 1446ھ کے سلسلے میں اہلِ تشیع علماء، اکابرین اور رہنماؤں کے ساتھ ڈی آئی جی آفس کانفرنس ہال میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکھر، خیرپور اور گھوٹکی کے اضلاع سے نمائندگان نے شرکت کی۔

    اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد محرم کے دوران منعقدہ مجالس و جلوسوں کی سیکیورٹی، امن و امان، اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تفصیلی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی آئی جی فیصل چاچڑ نے سابقہ تجربات کی روشنی میں سیکیورٹی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا اور شرکاء سے انفرادی طور پر مسائل دریافت کیے۔

    ڈی آئی جی سکھر نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تمام امام بارگاہوں پر سینئر پولیس افسران کی نگرانی میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ جلوسوں کی روٹس پر سویپنگ، سرچنگ، اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت سخت نگرانی کی جائے گی۔ مرد و خواتین رضا کاروں کو تربیت دے کر پولیس کے ساتھ سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا، جبکہ خواتین کی مجالس میں لیڈی پولیس اہلکاروں کی خصوصی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریپڈ رسپانس فورس کی خصوصی ٹیمیں ہر وقت موجود ہوں گی، اور شرپسند عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شکایات اور معلومات کے بروقت تبادلے کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے ڈی آئی جی پر مکمل اعتماد اور تعاون کا اظہار کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے دعا کی۔ بعد ازاں ڈی آئی جی سکھر نے سکھر رینج کے تینوں اضلاع کے ڈی آئی بی انچارجز کو سیکیورٹی پلان پر سختی سے عملدرآمد اور کسی بھی قسم کی کوتاہی پر سخت محکمانہ کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔

  • سیالکوٹ: غیر قانونی تعمیرات پر زیرو ٹالرنس، سالڈ ویسٹ کیخلاف سخت اقدامات

    سیالکوٹ: غیر قانونی تعمیرات پر زیرو ٹالرنس، سالڈ ویسٹ کیخلاف سخت اقدامات

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ میونسپل کمیٹیوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں غیر قانونی تعمیرات اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سی ای او ضلع کونسل فیصل شہزاد، سی ای او میونسپل کارپوریشن ملک اعجاز احمد، ڈسٹرکٹ آفیسر پلاننگ عمر فاروق، انفورسمنٹ اور بلڈنگ انسپکٹرز سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منظور شدہ بلڈنگ پلانز کو کیو آر کوڈز جاری کیے جائیں تاکہ دورانِ انسپکشن فوری تصدیق ممکن ہو سکے۔

    سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دکانداروں اور ریسٹورنٹ مالکان کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنا کوڑا کرکٹ منظم طریقے سے خود تلف کریں، بصورت دیگر فوری جرمانے عائد کیے جائیں۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی اعلان کیا کہ جرمانوں کے عمل کو شفاف اور قابلِ نگرانی بنانے کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کی جائے گی جس کے ذریعے تمام کارروائی کو ایک مربوط پورٹل پر مانیٹر کیا جا سکے گا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ نالہ بھیڈ کی صفائی کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے ڈی سلٹنگ کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر نالوں اور سیور لائنوں کی صفائی بھی طے شدہ پلان کے تحت جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شہر کو صاف ستھرا، منظم اور غیر قانونی تجاوزات سے پاک بنانا ہے۔

  • سیالکوٹ ایکسپریس 12 سال بعد بحال، وزیر مملکت ارمغان سبحانی نےکیا افتتاح

    سیالکوٹ ایکسپریس 12 سال بعد بحال، وزیر مملکت ارمغان سبحانی نےکیا افتتاح

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)پاکستان ریلوے نے 12 سال بعد سیالکوٹ اور لاہور کے درمیان چلنے والی سیالکوٹ ایکسپریس ٹرین سروس کو بحال کر دیا ہے، جس کا افتتاح وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی نے فیتہ کاٹ کر کیا۔ ٹرین لاہور سے صبح 5 بجے روانہ ہوئی اور 9 بج کر 45 منٹ پر سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن پہنچی، جہاں ریلوے حکام، شہریوں اور مقامی شخصیات نے والہانہ استقبال کیا۔

    ٹرین کی آمد پر وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی بھی موجود تھے جنہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی کرائے کی وجہ سے مزدور طبقہ بھی آرام دہ انداز میں سفر کر سکے گا، جبکہ ٹرین وقت کی بچت کا مؤثر ذریعہ بھی بنے گی۔

    سیالکوٹ ایکسپریس 148 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے چار گھنٹوں میں طے کرے گی۔ یہ ٹرین شاہدرہ، نارنگ منڈی، بدو ملہی، نارووال اور پسرور جیسے اہم اسٹیشنوں سے گزرتی ہوئی سیالکوٹ پہنچے گی۔ ٹرین میں مجموعی طور پر سات بوگیاں ہوں گی جن میں تقریباً 700 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔

    ٹرین کی بحالی پر شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا، جبکہ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیالکوٹ اسٹیشن پر ٹرین 15 منٹ رکی اور پھر وزیرآباد کے لیے روانہ ہو گئی۔ اس اقدام کو سیالکوٹ، نارووال اور گردونواح کے شہریوں کے لیے ایک اہم سفری سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • گوجرانوالہ: اسلامیہ کالج گراؤنڈ میں ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    گوجرانوالہ: اسلامیہ کالج گراؤنڈ میں ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)اسلامیہ گریجوایٹ کالج گوجرانوالہ کا گراؤنڈ، جہاں کبھی طلبہ کی صحت و سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، اب بدامنی اور ہوائی فائرنگ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ واقعے میں ایک فٹبال میچ کے دوران آزادانہ طور پر آتشی اسلحہ استعمال کیا گیا، جس سے نہ صرف شور و غل میں اضافہ ہوا بلکہ ہوائی فائرنگ کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس تھانہ باغبان پورہ نے واقعے کا مقدمہ نمبر 1365/25 درج کر لیا ہے۔

    مقامی افراد اور عینی شاہدین کے مطابق گراؤنڈ کو فٹبال میچز کے نام پر کرائے پر دیا جا رہا ہے، جس میں بیرونی افراد سے بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ ان میچز کے دوران ہنگامہ آرائی، غیر اخلاقی حرکات اور قانون شکنی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ مقامی آبادی نے الزام عائد کیا ہے کہ کالج پرنسپل اکرم ورک کی مبینہ سرپرستی میں یہ تمام معاملات انجام پا رہے ہیں، جس سے تعلیم و تربیت کا یہ ادارہ ایک تجارتی سرگرمی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

    اہل علاقہ نے شکوہ کیا ہے کہ گراؤنڈ کا اصل حق دار، یعنی بزرگ شہری، مریض، خواتین اور بچے جو صحت مند سرگرمیوں اور چہل قدمی کے خواہاں ہیں، انہیں اس سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت کی ہدایات کے مطابق عوامی سہولیات تک رسائی ان کا قانونی حق ہے۔

    علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامیہ کالج گراؤنڈ میں بدامنی، اسلحے کے استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بزرگوں و شہریوں کے لیے گراؤنڈ کا سیر و تفریح کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ یہ مقام دوبارہ امن و سکون کا مظہر بن سکے۔

  • ٹھٹھہ: ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، ضیاء لنجار

    ٹھٹھہ: ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، ضیاء لنجار

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ پولیس میں ڈاکوؤں، جرائم پیشہ افراد اور امن دشمنوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس نہ صرف جدید اسلحے سے لیس ہے بلکہ مہارت کے لحاظ سے بھی سندھ پولیس نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وہ ٹھٹھہ میں جدید طرز پر قائم کیے گئے ماڈل تھانے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزیر اوقاف و زکواۃ سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، چیئرمین ضلع کونسل عبدالحمید پنہور، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان، سی آئی اے انچارج ممتاز بروہی سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

    وزیر داخلہ نے ماڈل تھانے کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تھانے میں عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام جدید سہولیات میسر کی گئی ہیں، جن میں انتظار گاہ، قانونی مشاورت، ابتدائی شکایت درج کرنے کے لیے مختلف ڈیسک، خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص ڈیسک، تفتیشی کمرے اور لاک اپ شامل ہیں۔

    ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ اب ماضی کی نسبت زیادہ پرامن ہے تاہم پولیس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصاً شمالی سندھ کے اضلاع کندھ کوٹ، شکارپور اور لاڑکانہ میں ڈاکوؤں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور ڈکیت کلچر کے خاتمے کے لیے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آرمی چیف کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جن کی مدد سے سندھ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کی کمی نہیں، تاہم پولیس میں قابل اور ذہین نوجوانوں کو شامل کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ مغویوں کی بازیابی سمیت دیگر جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔

    آخر میں وزیر داخلہ نے ماڈل تھانے کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بہتر کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور قانون کی عملداری کو تقویت ملے گی۔