Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف:موٹر وے پر افسوسناک حادثہ، ہائی روف ٹریلر سے ٹکرا گئی، نوجوان زخمی

    اوچ شریف:موٹر وے پر افسوسناک حادثہ، ہائی روف ٹریلر سے ٹکرا گئی، نوجوان زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) سیر و تفریح کا خوشگوار خواب اس وقت خوفناک حادثے میں بدل گیا جب سکھر سے اسلام آباد جانے والی ایک فیملی کی ہائی روف وین موٹر وے پر جھانگڑہ انٹرچینج کے قریب ایک کھڑے ٹریلر سے جا ٹکرائی۔ حادثے کا سبب ڈرائیور کو اچانک نیند کا آ جانا بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث گاڑی قابو سے باہر ہو گئی اور ٹریلر سے جا ٹکرائی۔

    اس افسوسناک واقعے میں 28 سالہ نوجوان محمد حامد ولد محمد ماجد شدید زخمی ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں اس کے بائیں پاؤں پر گہرا زخم اور دائیں ران پر شدید خراشیں آئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد زخمی کو رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف منتقل کر دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    حادثے کے بعد موٹر وے پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ کو کلیئر کر کے متاثرہ گاڑی کو ہٹایا اور ٹریفک کو بحال کیا۔ فیملی کے دیگر افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے تاہم حادثے کے باعث شدید ذہنی صدمے کا شکار ہیں۔ پولیس نے ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے جبکہ حادثے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

  • رکنی بارکھان میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    رکنی بارکھان میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    رکنی (باغی ٹی وی رپورٹ) بلوچستان کے ضلع بارکھان کے مرکزی شہر رکنی میں ایک افسوسناک بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور نو افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ شہر کی مرکزی شاہراہ بارکھان روڈ پر اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل میں نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق بم موٹر سائیکل میں نصب تھا جسے غالباً ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں جائے وقوعہ پر موجود دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ سڑک کنارے کھڑی ایک پک اپ گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

    جاں بحق ہونے والوں میں ایک 12 سالہ بچہ لقمان شامل ہے جو سخی سرور کا رہائشی تھا اور اپنے والد سے ملاقات کے لیے بارکھان روڈ پر آیا ہوا تھا۔ دوسرا جاں بحق ہونے والا نوجوان محمد مراد سندھی کے نام سے شناخت ہوا ہے جو رکنی بازار میں آم کی ریڑھی لگاتا تھا اور محنت مزدوری کے لیے شہر میں موجود تھا۔

    زخمیوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے عاطف تنویر ولد عبدالحمید بھٹی، محمد زاہد، علی داد (سکنہ کھر)حنیف ولد کمالان، لعل خان گورچانی، اسماعیل ولد حکیم خان، لعلو ولد دراہی، نور بخش ولد قادر بخش (سکنہ راڑہ شم) اور کریم بخش ولد مراد بخش (سکنہ رکنی) شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور لیویز فورس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی ہو سکتا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔ رکنی اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

  • گھوٹکی: ٹرالر سے ہزاروں گولیاں برآمد، 3 اسلحہ اسمگلر گرفتار

    گھوٹکی: ٹرالر سے ہزاروں گولیاں برآمد، 3 اسلحہ اسمگلر گرفتار

    میر پور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ تھانہ بی سیکشن پولیس نے حساس ادارے کی اطلاع پر نیشنل ہائی وے پر کندھ کوٹ-کشمور روڈ کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 3 خطرناک ملزمان کو اسلحے کے بھاری ذخیرے سمیت گرفتار کر لیا۔

    ڈی ایس پی گھوٹکی زاہد حسین میرانی، ایس ایچ او رفیق احمد سومرو اور ان کی ٹیم نے کارروائی کے دوران ناکہ بندی کر کے میاں والی کے رہائشی تین افراد محمد عمران ولد محمد اسلم نیازی، مزمل حسین ولد محمد حنیف شاہ، اور ظفر اقبال ولد احمد یار کلیار کو ایک ٹرالر (TLV 549) سمیت گرفتار کر لیا۔ ٹرالر سے دو ہزار کلاشنکوف اور جی تھری رائفلز کی گولیاں برآمد ہوئیں، جنہیں ملزمان پنجاب سے کراچی اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    پولیس نے ملزمان کو اسلحہ سمیت تھانے منتقل کر کے ان کے خلاف مقدمہ نمبر 50/2025 بجرم دفعہ 23 سندھ آرمز ایکٹ درج کر لیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اسلحہ اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹس دینے کا اعلان کیا۔ پولیس کی یہ کارروائی گھوٹکی میں اسلحہ کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • گھوٹکی: اوباڑو پولیس کی بڑی کارروائی، ایرانی اسمگل شدہ تیل سے بھرا ٹینکر برآمد، 2 ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: اوباڑو پولیس کی بڑی کارروائی، ایرانی اسمگل شدہ تیل سے بھرا ٹینکر برآمد، 2 ملزمان گرفتار

    میر پور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں جرائم کی روک تھام کے لیے گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ حساس ادارے کی نشاندہی پر تھانہ اوباڑو پولیس نے نیشنل ہائی وے پر رینی کینال پل کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی ایرانی تیل سے بھرا ٹینکر قبضے میں لے لیا اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پنجاب سے سندھ آنے والے آئل ٹینکر نمبر 3145 MNS کو تحویل میں لیا گیا، جس میں 5000 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی تیل موجود تھا۔ اس غیر قانونی تیل کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے، جسے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت غازی خان ولد حاجی خان سرکی (سکنہ سنجرپور، تحصیل صادق آباد، ضلع رحیم یار خان) اور صُفیان ولد محمد یاسین آرائیں (سکنہ صادق آباد، ضلع رحیم یار خان) کے طور پر ہوئی ہے۔ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 97/2025 بجرم دفعہ 279، 285، 286 ت پ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب کارروائی پر پولیس پارٹی کو شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔ پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں اسمگلنگ کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر عوام سراپا احتجاج، مہنگائی کا بم ناقابلِ برداشت قرار

    اوچ شریف: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر عوام سراپا احتجاج، مہنگائی کا بم ناقابلِ برداشت قرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا، جس نے اوچ شریف کے شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں نے اس اقدام کو غربت کی چکی میں پسے عوام پر ایک اور معاشی بم قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔

    نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 262 روپے 59 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

    اوچ شریف کے شہریوں محمد علی، معاذ خالد، محمود الحسن، محمد عمران، محمد شاہد نذیر، ملک یعقوب اور محمد ساجد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور زہریلا وار کیا ہے۔ پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور مہنگائی نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے، اب ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے روزمرہ زندگی مزید ناقابلِ برداشت ہو جائے گی۔

    شہریوں نے حکمرانوں کی شاہانہ زندگی اور پروٹوکول پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومتی اخراجات میں کٹوتی نہیں کی جاتی اور صرف عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہے گا، تب تک یہ بحران سنگین ہوتا جائے گا۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری ریلیف نہ دیا تو عوامی ردعمل حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں اور مہنگائی کے خلاف عملی اقدامات کرتے ہوئے پٹرولیم قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیں تاکہ عوام کچھ سکھ کا سانس لے سکیں۔

  • اوچ شریف: موت کی سواری، کھٹارا ویگنیں بےقابو، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: موت کی سواری، کھٹارا ویگنیں بےقابو، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف سے احمد پور شرقیہ، چنی گوٹھ، علی پور اور جلال پور پیر والا تک چلنے والی پرانی، خستہ حال اور غیر فٹ پبلک ویگنیں شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ یہ کھٹارا گاڑیاں نہ کھڑکیوں سے لیس ہیں، نہ شیشوں سے، اور نہ ہی ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ موجود ہیں۔ حیران کن طور پر یہ گاڑیاں ایل پی جی سلنڈروں پر چلائی جا رہی ہیں، جن کا استعمال پبلک ٹرانسپورٹ میں اوگرا کی جانب سے سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

    مسافروں کے مطابق یہ ویگنیں حد سے زیادہ اوورلوڈ ہوتی ہیں اور اندر نصب سلنڈر کسی بھی وقت دھماکہ کر سکتے ہیں، مگر ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، سول ڈیفنس، ٹریفک پولیس اور پٹرولنگ فورس سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے بعض افسران اور ٹرانسپورٹ مافیا کے درمیان مبینہ "ماہانہ ڈیل” طے ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیاں بلاخوف رواں دواں ہیں۔ پولیس ناکوں پر روکنے کے باوجود بھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، صرف چند رسمی چالان کرکے افسران کی "اطمینان رپورٹ” تیار کر لی جاتی ہے۔

    اوچ شریف تا احمد پور شرقیہ اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر دوڑتی یہ غیرقانونی گاڑیاں انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ شہریوں اور مسافروں نے کمشنر بہاول پور، ڈپٹی کمشنر، اور ڈی پی او بہاول پور سے فوری نوٹس لینے، غیرقانونی ٹرانسپورٹ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے، اور ملوث افسران و ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے ترنڈ بشارت میں واقع ضلع کونسل ہیلتھ ڈسپنسری کے قریب نصب بجلی کا خستہ حال کھمبا اہلِ علاقہ کے لیے ایک مستقل جان لیوا خطرہ بن چکا ہے۔ سیمنٹ اور بجری سے بنا یہ کھمبا بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہے، جس کے اندر سے آہنی سریے ظاہر ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق کھمبا طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر محکمہ واپڈا اور متعلقہ اداروں نے تاحال کوئی مرمتی کارروائی نہیں کی۔ درجنوں خواتین، بچے اور بزرگ روزانہ اس خطرناک کھمبے کے قریب سے گزرتے ہیں، اور کسی بھی لمحے بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس خستہ حال کھمبے کو تبدیل کیا جائے یا مرمت کی جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

  • ڈسکہ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الاخوان کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع، کثیر تعداد میں سالکین کی شرکت

    ڈسکہ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الاخوان کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع، کثیر تعداد میں سالکین کی شرکت

    ڈسکہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک عمران)سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الااخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں روحانی جذب و شوق کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں خواتین سمیت ضلع بھر سے وابستگان اور سالکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اجتماع سے تنظیم الااخوان پاکستان کے سربراہ اور شیخِ سلسلہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے ذکر قلبی کی اہمیت، روحانی تربیت اور باطن کی پاکیزگی پر زور دیا۔

    اس موقع پر صاحب مجاز عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے نئے آنے والے سالکین کو ذکر قلبی کا طریقہ سکھایا اور رہنمائی فراہم کی۔ ضلعی جنرل سیکرٹری عارف رفیق نے انتظامی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے دارالعرفان منارہ میں منعقد ہونے والے سالانہ اجتماع کے حوالے سے ابتدائی لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

    اجتماع کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور حاضرین کی لنگر سے تواضع کی گئی۔ اجتماع ایک روحانی ماحول میں عقیدت و اخلاص کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

  • سیالکوٹ، بہاولپور: سوئمنگ پول اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 بچے جاں بحق

    سیالکوٹ، بہاولپور: سوئمنگ پول اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 بچے جاں بحق

    سیالکوٹ، بہاولپور (بیوروچیف شاہدریاض+نامہ نگارحبیب خان ) بچوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے والدین اور عوام کو شدید دکھ اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

    سیالکوٹ میں سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے دو کمسن بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ واقعہ محلہ حیات پورہ، بلو مہر والی گلی میں پیش آیا، جہاں ایک ہی گھر کے 9 سالہ محمد حسین اور 10 سالہ محمد حنان ایمن آباد روڈ فروٹ منڈی کے قریب واقع ایک سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ صدر کے ایس ایچ او میاں رزاق فوری موقع پر پہنچے اور انکوائری شروع کی، جبکہ سوئمنگ پول کا مالک موقع سے فرار ہو گیا۔

    ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ بچوں کے والدین اور علاقہ مکینوں نے ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی سوئمنگ پولز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ بچوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

    دوسری جانب بہاولپور کی تحصیل اوچ شریف کے علاقے خانقاہ شریف میں 6 سالہ معصوم بچہ محمد عمر کھیلتے ہوئے پیڈسٹل فین سے کرنٹ لگنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق، واقعہ کے وقت بچہ گھر میں کھیل رہا تھا جب وہ پنکھے کی زد میں آ گیا۔ ریسکیو ٹیم ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن شکیل حسن کی قیادت میں موقع پر پہنچی، تاہم بچہ موقع پر ہی دم توڑ چکا تھا۔ غمزدہ اہل خانہ نے لاش کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان دل دہلا دینے والے واقعات نے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

  • ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تنازعات اور جارحیت کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی نے خطے کو عسکری، سفارتی اور جغرافیائی سیاسی لحاظ سے ایک نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران میں موجود بھارتی دہشت گرد نیٹ ورکس کے الزامات نے اس تنازع کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔

    ایران.اسرائیل تنازع کا آغاز اسرائیلی حملوں سے ہوا جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، سابق سربراہ محمد باقری، ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں۔ ساتھ ہی ساتھ جوہری سائنسدانوں جیسے احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی، عبدالحمید مینوچھر اور امیر حسین فقہی کی ہلاکت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید دھچکا پہنچایا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد ایران کے جوہری عزائم کو روکنا تھا جو ان کے بقول حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اسرائیل کی یہ پوزیشن کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کر رہا ہے، عالمی سطح پر شدید تنازع کا باعث بنی کیونکہ ایران ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔

    ان حملوں میں 86 افراد کی شہادت اور 341 کے زخمی ہونے کے بعد ایران نے پراکسی جنگ کے بجائے براہِ راست عسکری ردِعمل کا فیصلہ کیا۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کے حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کے فضائی دفاع کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعویٰ زمین بوس ہوگیا ۔ یہ حملے نہ صرف عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے بلکہ اسرائیلی عوام کو خوف میں مبتلا کردیا جو ایک واضح پیغام تھا کہ اسرائیل اب خطے میں خود کو غیر محفوظ تصور کرے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی واضح مذمت کی اور ایران کے "حقِ دفاع” کی کھل کر حمایت کی جو پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ شدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اصولی اور مستقل موقف اختیار کیا جو مسلم دنیا کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے پس منظر میں ایک جراتمندانہ مثال کے طور پر سامنے آیا۔

    پاکستان اور ایران کے تعلقات جغرافیائی قربت، تہذیبی رشتہ داری اور تاریخی رفاقت پر مبنی رہے ہیں اور افغانستان و بھارت جیسے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ایران سے پاکستان کے روابط نسبتاً مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ عوامل ان تعلقات میں رکاوٹ بنے ہیں، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے ایران کو بھارتی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کرنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان تناؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔

    پاکستان نے متعدد بار ایران کو بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے تخریبی نیٹ ورکس کے ثبوت فراہم کیے، جن میں بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سرفہرست ہے۔ کلبھوشن جو ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا، نے اپنے اعترافی بیان میں "را” کی پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں شمولیت کا اعتراف کیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران کی سرزمین کو بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف استعمال کیا ،ایران میں پاکستانی مزدوروں کا قتل اور اس کے علاوہ ایران نے ان کے خلاف بروقت اقدام نہ کرکے بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری شہید ہوئے۔

    پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر ایران نے وقت پر اقدامات کیے ہوتے تو نہ صرف یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کمزور ہوتے بلکہ ایران خود بھی اسرائیلی جاسوسی و دہشت گردی سے محفوظ رہ سکتا تھا۔ برطانوی اخبار "گارڈین” کی ایک رپورٹ میں بھی بھارت کے ان نیٹ ورکس کی عالمی سرگرمیوں کا انکشاف کیا گیا، جس میں پاکستان، کینیڈا اور دیگر ممالک میں "را” کی ٹارگٹ کلنگ کی حکمت عملی سامنے لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد اپنے مخالفین کو بیرون ملک ختم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی اور اس کے لیے "را” نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” اور روسی "کے جی بی” سے تربیت حاصل کی۔

    ایران میں حالیہ گرفتاریوں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے 73 بھارتیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ علاوہ ازیں یزد شہر میں پانچ ایرانی شہریوں کو حساس تنصیبات کی تصاویر اسرائیل کو بھیجنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان واقعات نے پاکستان کے اس دعوے کو تقویت دی کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کے اندر بھی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

    پاکستان کا یہ واضح موقف ہے کہ بھارت نے ایران کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا۔ اگر ایران نے پاکستان کے پیش کردہ ثبوتوں پر بروقت توجہ دی ہوتی تو شاید اسرائیلی حملے اور ایرانی کمانڈرز کی شہادت جیسے سانحات روکے جا سکتے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے مسلم دنیا کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خلیجی ریاستیں جو کبھی اسرائیل کے خلاف صف آراء تھیں، اب غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس کی وجوہات میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی، امریکی دباؤ اور اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے اصولی موقف اپناتے ہوئے ایران کی حمایت جاری رکھی اور عالمی فورمز پر اس کے حق میں آواز بلند کی، جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    تاہم پاکستان کو عالمی دباؤ اور خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں کا ادراک بھی رکھنا ہوگا۔ ایران.اسرائیل جنگ اور بھارتی دہشت گردیاور جاسوسی کے نیٹ ورکس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے کی گئی براہِ راست عسکری کارروائی نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو ملیامیٹ کردیاہے جبکہ پاکستان کے فراہم کردہ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں نے عالمی برادری کو خطے کی حساس سیاسی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں اسے اپنی سفارتی حکمت عملی کو نہ صرف مزید مستحکم کرنا ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی اور اسرائیلی خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر مہم بھی جاری رکھنا ہوگی۔ ایران کے ساتھ تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، اس خطے کی سیاسی، عسکری اور سفارتی نوعیت اب ویسی نہیں رہے گی جیسی ماضی میں تھی۔ طاقت کا توازن، اتحادوں کی سمت اور قوموں کی ترجیحات ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہو سکی تو آئندہ تصادم صرف ایران و اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ ہر اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گا جو آزادی، خودمختاری اور انصاف کی بات کرے گا۔