Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    تحریر:سید ریاض جاذب
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شعلوں کی زد میں ہے۔ اسرائیل کے جارحانہ حملے اور ایران کی براہِ راست جوابی کارروائی نے خطے کو شدید کشیدگی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے کھل کر اسرائیل کو نشانہ بنایا اور شاید یہ بھی پہلی بار ہے کہ جب مسلم دنیا اس قدر بٹی ہوئی ہے کہ مؤثر ردعمل سے قاصر نظر آئی ہے۔

    ایران کی یہ کارروائی محض ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح علامتی پیغام ہے کہ اسرائیل اب ہر جگہ غیرمحفوظ ہے۔ ایران نے پراکسی جنگ کے طویل دور سے نکل کر براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے، جس نے اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی پشت پناہوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    درجنوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسرائیلی فضائی دفاع کو چیلنج کرتے ہوئے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کو ہدف بنایا۔ برسوں سے ایران کو صرف نعرہ باز یا محدود عسکری طاقت سمجھنے والے اب ششدر ہیں۔ ایرانی حملوں نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ یہ احساس دلایا ہے کہ جس آگ کو وہ دوسروں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، وہ اس کے اپنے صحن تک بھی آ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، کئی میزائل اسرائیل کے حساس فوجی مراکز پر لگے، جن سے نہ صرف فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا بلکہ عوامی سطح پر خوف، غیر یقینی اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔ دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق ملا کہ صرف اسلحہ، ٹیکنالوجی یا امریکی حمایت کسی ریاست کو ناقابلِ شکست نہیں بناتی۔

    پاکستان نے اس تمام صورتحال میں جو مؤقف اختیار کیا، وہ عالمی سطح پر محدود سہی، مگر اخلاقی اور اصولی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ اسرائیلی حملے کی کھلے الفاظ میں مذمت اور ایران کے "حقِ دفاع” کی حمایت، کوئی وقتی یا روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اصولی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیرجانب داری کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی کو ترتیب دیتا آیا ہے — اور اس موقع پر بھی یہی روش اختیار کی گئی۔

    ایران سے پاکستان کی ہمدردی صرف سیاسی نہیں بلکہ جغرافیائی، تہذیبی اور معاشرتی قربت پر بھی مبنی ہے۔ افغانستان اور بھارت کے بیچ ایران وہ واحد ہمسایہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نسبتاً مستحکم رہے ہیں، اور یہی رشتہ موجودہ عالمی تناؤ میں ایک متوازن سفارتی حکمت عملی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    تاہم اہم سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا کی اکثریت ایران کے ساتھ کھل کر کیوں نہیں کھڑی؟ خلیجی ممالک، جو کبھی اسرائیل پر سخت مؤقف رکھتے تھے، اب احتیاط، غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وجوہات میں حالیہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، خطے میں امریکی اثرورسوخ، اور ان ممالک کی اندرونی اقتصادی ترجیحات شامل ہیں۔

    ایسے میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود اس نے بغیر کسی دباؤ کے واضح پالیسی اپنائی — اسرائیلی مظالم کی مذمت اور ایران کی عسکری کارروائی کو دفاع قرار دیا۔ آج جب بیشتر ریاستیں مفادات کے دباؤ میں خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں، پاکستان کی اصولی سیاست ایک مثال بن کر ابھرتی ہے۔

    اسرائیل اور ایران کی موجودہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ مشرق وسطیٰ اب ویسا نہیں رہے گا۔ طاقت کے توازن، سیاسی اتحاد اور سفارتی صف بندیاں ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے یہ ایک اصولی مؤقف ہے، دوسری جانب عالمی سفارتی دباؤ۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی میں توازن، حکمت اور استقامت کا مظاہرہ کرے۔

    فلسطین، لبنان، شام اور اب ایران سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کا مقصد محض ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہوئی، تو آئندہ جنگ صرف اسرائیل اور ایران کے بیچ نہیں رہے گی بلکہ ہر وہ ملک لپیٹ میں آئے گا، جو انصاف، آزادی اور خودمختاری کی بات کرتا ہے۔

  • علی پور: پولیس چوکی پر بوسن گینگ کا حملہ، بدنام ڈکیت اختر علوڑ زخمی حالت میں گرفتار

    علی پور: پولیس چوکی پر بوسن گینگ کا حملہ، بدنام ڈکیت اختر علوڑ زخمی حالت میں گرفتار

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) تحصیل علی پور میں پولیس کو دو مختلف محاذوں پر سنگین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جانب پولیس چوکی شاہ پور پر بوسن گینگ کے درجنوں مسلح افراد نے تعمیرات کے دوران حملہ کر دیا، جبکہ دوسری جانب علی پور سٹی میں بدنام زمانہ ڈکیت اختر علوڑ کو چھڑانے کی کوشش میں پولیس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم زخمی حالت میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں واقعات میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور دو گاڑیوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ خیرپور سادات کی حدود میں دریائی علاقے میں قائم کی جا رہی نئی پولیس چوکی شاہ پور پر اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب بوسن گینگ کے تقریباً بیس سے زائد مسلح افراد، جن میں فیاض، ریاض، امتیاز، رفیق، غضنفر، جنید، محبوب، شہباز عرف صوبہ، ظفر عرف جھبیل، سکندر، یاسر، ناظم، ارشاد، صدام و دیگر شامل تھے، نے انچارج چوکی اے ایس آئی مصطفی منظور اور پولیس نفری پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے پولیس چوکی پر سیدھی فائرنگ کی، دو سرکاری گاڑیاں تباہ کر دیں جبکہ اہلکار عمارت کی آڑ لے کر جانیں بچاتے رہے۔

    واقعے کی اطلاع پر سرکل علی پور تھانہ خیرپور سادات، سیت پور اور صدر تھانہ کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ بالآخر ڈاکو اندھیرے اور دریائی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے انچارج چوکی کی مدعیت میں بوسن گینگ کے خلاف دہشت گردی، حملہ، املاک کی تباہی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایچ او خیرپور سادات نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا تاہم حملے اور مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب تھانہ سٹی علی پور کی پولیس نے بدنام ڈکیت اختر علوڑ کو، جو کہ سنگین ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھا، گرفتار کر کے برآمدگی و نشاندہی کے لیے فتح پور روڈ پر لے جا رہی تھی کہ جنگلی کے مقام پر اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دی۔ پولیس نے فوری طور پر مورچہ زن ہو کر جوابی فائرنگ کی جو وقفے وقفے سے آدھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تاہم اختر علوڑ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے بائیں گھٹنے میں زخمی ہو گیا جسے دوبارہ گرفتار کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق اختر علوڑ کا تعلق سنانواں سے ہے اور اس پر ڈکیتی، اقدام قتل اور دیگر سنگین نوعیت کے سولہ مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد بھی نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    پے در پے ان دونوں واقعات نے علی پور سرکل میں پولیس کی سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دریائی علاقوں میں فعال جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن فوری شروع کیا جائے۔

  • احمد پور شرقیہ: THQ ہسپتال میں ڈینگی آگاہی مہم، شہریوں کی بھرپور شرکت

    احمد پور شرقیہ: THQ ہسپتال میں ڈینگی آگاہی مہم، شہریوں کی بھرپور شرکت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) ورلڈ ڈینگی ڈے کے عالمی دن کے موقع پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال (THQ) احمد پور شرقیہ میں ڈینگی بخار سے بچاؤ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک بیداری واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔ آگاہی واک کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ نوید حیدر نے کی، جبکہ فوکل پرسن برائے ڈینگی اور انسپکٹر عمران حیدر سیال، اسپتال کے ایم ایس، محکمہ صحت کے اہلکار، بلدیاتی اداروں کے نمائندے، اسکولوں کے طلبا، ٹیچرز اور شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

    واک کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈینگی کے خلاف احتیاطی تدابیر، صفائی ستھرائی کی اہمیت، اور اجتماعی ذمہ داریوں سے متعلق مؤثر پیغامات درج تھے۔ "صاف ماحول، محفوظ زندگی”، "پانی کھڑا نہ ہونے دیں”، "ڈینگی سے بچاؤ آپ کے ہاتھ میں ہے” جیسے نعرے فضا میں گونجتے رہے۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ایک خطرناک مگر مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے، جس کے خلاف احتیاط ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو گھروں اور دفاتر میں پانی کھڑا نہ ہونے دینا چاہیے، گملوں، کولروں، پرانے ٹائروں، اور کھلی جگہوں پر موجود پانی کے ذخائر کو صاف رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی ڈینگی مچھر کی افزائش گاہیں بنتی ہیں۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی لیڈرز سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو اس حوالے سے تربیت دیں اور گھروں کے ساتھ ساتھ محلوں میں بھی صفائی کا عمل یقینی بنائیں۔

    فوکل پرسن ڈینگی عمران حیدر سیال نے واک کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں سرگرمِ عمل ہیں، ہر مشتبہ علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے، اور جہاں بھی ڈینگی لاروا کی موجودگی کا شبہ ہو وہاں فوری طور پر اسپرے اور انسدادی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم درد، آنکھوں کے پیچھے درد، اور تھکن شامل ہیں، لہٰذا ان علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے۔

    اس آگاہی واک کا مقصد عوام میں خوف کی بجائے شعور پیدا کرنا، احتیاطی تدابیر کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا، اور محکمہ صحت کی کوششوں کو عوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ واک کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے گھروں اور محلوں کو صاف رکھیں گے، دوسروں کو بھی صفائی کی تلقین کریں گے، اور ڈینگی کے خلاف اس مہم کو بھرپور انداز میں جاری رکھیں گے۔

  • بہاولپور: ایس ایچ او کی مبینہ غنڈہ گردی، خاتون اور بچوں پر تشدد، مکان پر قبضے کی کوشش

    بہاولپور: ایس ایچ او کی مبینہ غنڈہ گردی، خاتون اور بچوں پر تشدد، مکان پر قبضے کی کوشش

    بہاولپور (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) تھانہ مسافر خانہ کے ایس ایچ او محمد آصف پر انور کالونی کی ایک بے سہارا خاتون اور اس کے بچوں پر مبینہ تشدد، زبردستی مکان پر قبضے کی کوشش اور موبائل فون چھیننے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ متاثرہ خاتون ناہید بی بی نے صحافیوں سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ گزشتہ شب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ گھر کے صحن میں سو رہی تھیں کہ اچانک ایس ایچ او محمد آصف پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا، کمروں کے تالے توڑے اور زبردستی مکان پر قبضے کی کوشش کی۔

    ناہید بی بی کے مطابق جب انہوں نے مزاحمت کی تو پولیس اہلکاروں نے ان پر اور ان کے کمسن بچوں پر تشدد کیا، بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا گیا اور ان کی چیخ و پکار پر کوئی رحم نہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بہن نے جب اس ظلم کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ایس ایچ او نے اسے بھی مارا پیٹا اور موبائل فون چھین لیا، ساتھ ہی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر موقع سے چلا گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد متاثرہ خاندان کے گھر کے باہر جمع ہوگئی اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او محمد آصف کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او محمد آصف کے خلاف پہلے بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات سامنے آ چکی ہیں، مگر پولیس افسران نے ہمیشہ چشم پوشی سے کام لیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ خاتون کو انصاف نہ ملا اور ایس ایچ او کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے ضلعی اور صوبائی سطح پر عوامی تحریک شروع کریں گے۔

    ناہید بی بی نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے اور ان کے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، ورنہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی۔

  • تنگوانی: ڈی آئی جی ناصر آفتاب کی امن و امان پر ہنگامی میٹنگ، ابرار لاشاری کے قاتلوں کی گرفتاری کا عزم

    تنگوانی: ڈی آئی جی ناصر آفتاب کی امن و امان پر ہنگامی میٹنگ، ابرار لاشاری کے قاتلوں کی گرفتاری کا عزم

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)ابرار لاشاری قتل کیس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لیے ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب پٹھان نے ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ اور ڈی سی کشمور آغا شیر زمان کے ہمراہ تنگوانی کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران مقتول کے ورثاء، اسپتال انتظامیہ، اور پولیس افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے انکشاف کیا کہ اس وقت ضلع کشمور میں صرف دو مغوی ڈاکوؤں کی قید میں ہیں جن کے بارے میں اب تک کسی قسم کی کوئی کال یا مطالبہ موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے وہ خود تنگوانی آئے ہیں اور اس مسئلے پر جلد کنٹرول کر لیا جائے گا۔

    ابرار لاشاری کے قتل کو پولیس پر ڈاکوؤں کا حملہ قرار دیتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ڈاکو خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہے تو پولیس اس کا خیرمقدم کرے گی۔ خودسپردگی ان کے لیے بہتر راستہ ہے تاکہ وہ جرم کی زندگی چھوڑ کر ایک نئی اور بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں۔

    ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے واضح کیا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور پولیس مکمل عزم و سنجیدگی کے ساتھ مجرموں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

  • سیالکوٹ: پولیس تشدد کا واقعہ، ڈی پی او کا نوٹس، دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ: پولیس تشدد کا واقعہ، ڈی پی او کا نوٹس، دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے تھانہ سٹی پسرور میں شہری پر مبینہ پولیس تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔

    محلہ رحمان پورہ پسرور کے رہائشی شہری شاہد عمران نے الزام عائد کیا کہ کانسٹیبل محمد آصف مصطفیٰ اور حامد نے اُسے ناجائز طور پر تھانہ سٹی پسرور لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈی پی او کے فوری احکامات پر دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ نمبر 480/25 تھانہ سٹی پسرور میں درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی جانب سے شہریوں پر تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون سب کے لیے یکساں ہے، اور جو اہلکار قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی پی او نے بتایا کہ ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام کیلئے ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس، اتحاد و سیکیورٹی پر زور

    اوکاڑہ: محرم الحرام کیلئے ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس، اتحاد و سیکیورٹی پر زور

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور ڈی پی او راشد ہدایت کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر، ضلعی انتظامیہ، پولیس افسران، مختلف محکموں کے نمائندے، علماء کرام اور امن کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام قربانی، ایثار اور رواداری کا درس دیتا ہے، لہٰذا اس مقدس ماہ میں باہمی یگانگت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور مجالس و جلوسوں کے بروقت انعقاد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے عالمی حالات، خصوصاً ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں باہمی اتحاد اور ذمہ داری کے جذبے کو مزید مضبوط کرنے پر بھی زور دیا۔

    ڈی پی او راشد ہدایت نے کہا کہ ضلع بھر میں قیام امن کیلئے تمام طبقات کا کردار قابلِ تحسین رہا ہے۔ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے اجتناب برتا جائے۔ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔

    اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور اہل تشیع نمائندوں نے محرم الحرام کے انتظامات سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ اور پولیس، تمام تر وسائل بروئے کار لا کر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • سیالکوٹ: محرم الحرام کیلئے امن کمیٹی کا اجلاس، بین المسالک ہم آہنگی پر زور

    سیالکوٹ: محرم الحرام کیلئے امن کمیٹی کا اجلاس، بین المسالک ہم آہنگی پر زور

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈسٹرکٹ امن کمیٹی سیالکوٹ کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل شہزاد کی زیر صدارت ڈی سی آفس کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی اور انتظامی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران پائیدار امن کا قیام صرف پولیس یا انتظامیہ کا فریضہ نہیں بلکہ علماء کرام، سماجی راہنماؤں اور امن کمیٹی کے اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کمیٹی کے ممبران جو خالصتاً رضاکارانہ جذبے سے بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہیں۔

    شرکاء سے خطاب میں زور دیا گیا کہ امت مسلمہ اس وقت جس نازک صورتحال سے دوچار ہے، اس تناظر میں بین المسالک ہم آہنگی، اتحاد اور رواداری نہایت ضروری ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام مکاتب فکر کے قائدین ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امن و بھائی چارے کیلئے متحرک کردار ادا کریں۔

    اجلاس سے ضلع امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ اصغر علی چیمہ، مفتی کفایت اللہ شاکر، علامہ ایوب خان، قاری اقبال گھمن، ظفر عباس، ایوب اوپل، نجم گیلانی اور حافظ نیاز احمد نے بھی اظہار خیال کیا۔

    اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر، اے سی ڈسکہ عثمان غنی، اے سی پسرور سدرہ ستار، انچارج سیکیورٹی برانچ حافظ سعید، سی او میونسپل کارپوریشن ملک اعجاز اور سی ایس ڈبلیو ایم سی کاشف نواز رندھاوا سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے بھی شرکت کی۔

  • سیالکوٹ: خواجہ عمران نذیر کا ٹی ایچ کیو سمبڑیال اور کلینک آن ویلز کیمپ کا دورہ

    سیالکوٹ: خواجہ عمران نذیر کا ٹی ایچ کیو سمبڑیال اور کلینک آن ویلز کیمپ کا دورہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض)صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے سیالکوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال (ٹی ایچ کیو) سمبڑیال اور یونین کونسل ہڑر میں قائم کلینک آن ویلز کیمپ کا معائنہ کیا۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر نے بتایا کہ ضلع سیالکوٹ "کلینک آن ویلز پروگرام” میں 37 اضلاع میں سرفہرست ہے، تاہم اس معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل محنت درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 2 لاکھ 59 ہزار 654 مریض اس موبائل ہیلتھ سروس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ 39 ہزار 134 خواتین کا گائنی چیک اپ اور 23 ہزار 325 الٹراساؤنڈ کلینک آن ویلز کے ذریعے کیے جا چکے ہیں۔

    ٹی ایچ کیو سمبڑیال کے دورے کے دوران خواجہ عمران نذیر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا جن میں ایمرجنسی، سرجیکل یونٹ، او پی ڈی، ڈینٹل کلینک اور الٹراساؤنڈ روم شامل تھے۔ انہوں نے الٹراساؤنڈ مشین کو مکمل فعال پایا اور مریضوں کی عیادت بھی کی۔

    وزیر صحت نے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف کی حاضری چیک کی اور مریضوں کے لواحقین سے طبی سہولیات کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے فراہم کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب عوام کو معیاری بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔

  • اوکاڑہ: گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    اوکاڑہ: گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پیٹرولنگ پولیس کی انسانیت نواز کارروائی، گھریلو ناچاکی کے باعث گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    دکھی، بے سہارا اور لاپتہ انسانیت کی مدد کا جذبہ لیے پیٹرولنگ پولیس ضلع اوکاڑہ نے ایک اور قابلِ فخر کارنامہ سرانجام دے دیا۔ گھریلو ناچاکی کے باعث گھر سے بھاگ کر ساہیوال جانے والی 15 سالہ جواں سال لڑکی کو بازیاب کر کے عزت و احترام کے ساتھ والدین کے سپرد کر دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق پیٹرولنگ چوکی چک نمبر 48 تھری-آر کے اے ایس آئی محمد نوید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ LBDC پل کے مقام پر دورانِ سنیپ چیکنگ ایک مشکوک رکشہ کو روکا۔ رکشے میں موجود 15 سالہ لڑکی (ص) کو حفاظتی تحویل میں لے کر تحقیقات کی گئیں۔ انکوائری کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی میٹرک کی طالبہ اور لاہور کی رہائشی ہے، جس کا والد کچھ عرصہ قبل قتل ہو چکا ہے۔ لڑکی اپنی والدہ کے مبینہ ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر ساہیوال میں مقیم رشتہ داروں کے ہاں جا رہی تھی۔

    پیٹرولنگ پولیس نے فوری طور پر لڑکی کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹی گزشتہ صبح سے لاپتہ ہے۔ بعدازاں لڑکی کی والدہ، بھائی اور علاقہ معززین کی موجودگی میں صلح کروائی گئی اور لڑکی کو عزت و احترام کے ساتھ حقیقی ورثاء کے سپرد کر دیا گیا۔

    اس کامیاب، انسانیت دوست اور عزت بچانے والی کارروائی پر ریجنل آفیسر پیٹرولنگ پولیس فتح احمد اور ڈسٹرکٹ آفیسر اصغر علی نے پیٹرولنگ ٹیم کو بھرپور شاباش اور حوصلہ افزائی سے نوازا۔ عوامی حلقوں نے بھی پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔