Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ:مون سون و ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

    ننکانہ:مون سون و ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی زیر صدارت ڈی سی آفس کمیٹی روم میں مون سون کی تیاریوں اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رائے ذوالفقار علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنر عطیہ عنایت، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 محمد اکرم پنوار سمیت تمام ضلعی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔

    اجلاس میں متعلقہ افسران نے ممکنہ سیلابی صورتحال، مون سون انتظامات اور ہیٹ ویو سے تحفظ کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دریا کے قریب قائم غیر قانونی آبادیوں کو فوری نوٹس جاری کیے جائیں، اور ہدایات نہ ماننے والوں کی تعمیرات کو مسمار کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کی شاہراہوں پر آندھی سے گرنے یا جھکنے والے درختوں کو فوراً ہٹایا جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

    گرمی کی شدت کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسل کے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مقامات اور رش والے علاقوں میں فوری طور پر ہیٹ ویو کیمپ قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو شدید گرمی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

    انہوں نے فلٹریشن پلانٹس کی ٹائمنگ ختم کرنے اور ان پلانٹس کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا حکم دیا تاکہ عوام کو ہر وقت صاف پانی کی سہولت میسر ہو۔ ساتھ ہی سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور میونسپل افسران کو ہدایت دی کہ ضلع کے تمام لاری اڈوں پر مسافروں کے لیے صاف اور ٹھنڈے پانی کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام محکمہ جات مون سون کے پیش نظر اپنی تیاریاں مکمل رکھیں، تمام مشینری چالو حالت میں ہو، اور کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    آخر میں واپڈا حکام کو ہدایت کی گئی کہ مون سون کے آغاز سے پہلے تمام لٹکتی اور ننگی تاروں کو ہٹایا جائے اور مکمل ہونے کے بعد حفاظتی سرٹیفکیٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کروایا جائے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر سے صنعتکاروں کی ملاقات، تجاوزات اور نکاسی آب پر تفصیلی گفتگو

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر سے صنعتکاروں کی ملاقات، تجاوزات اور نکاسی آب پر تفصیلی گفتگو

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی سے ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹ شہاب پورہ کے نمائندگان نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ایوان صنعت و تجارت کے صدر اکرام الحق، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین طاہر مجید کپور سمیت مقامی صنعت کار اور تاجر شریک تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے منظم مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ریڑھی بانوں کے لیے مخصوص مقامات مختص کیے گئے ہیں، جن کے علاوہ کسی کو بھی شہر میں ریڑھی لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سیوریج نظام کی بہتری اور نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے تاکہ بارش کے دوران نکاسی آب کا مؤثر انتظام یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی، اور ضلع کونسل سے سرٹیفیکیٹس حاصل کیے جائیں گے تاکہ گٹر اُبلنے کی شکایات کا مستقل سدباب ممکن ہو سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے صنعتکاروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ نالوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے سے اجتناب کریں تاکہ صفائی کا نظام متاثر نہ ہو اور شہر کی خوبصورتی برقرار رہے۔

    ملاقات میں شہر کی ترقی، صفائی، تجاوزات کے خاتمے اور صنعتکاروں کے مسائل کے حل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ انتظامیہ اور صنعتکاروں کے باہمی تعاون سے سیالکوٹ کو بہتر، صاف اور منظم شہر بنایا جا سکتا ہے۔

    اس اجلاس میں چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملک اعجاز احمد اور متعلقہ محکموں کے دیگر مقامی حکام بھی شریک تھے۔

  • میرپور ماتھیلو: منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن، متعدد بدنام زمانہ ملزم فرار

    میرپور ماتھیلو: منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن، متعدد بدنام زمانہ ملزم فرار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)بدنام زمانہ منشیات فروشوں کے خلاف گھیراؤ اور گھر گھر تلاشی، کئی ملزمان فرار

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی خصوصی ہدایت پر میرپور ماتھیلو میں منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو محمد یونس کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو بدرالدین برڑو اور دیگر پانچ تھانوں کی پولیس کی بھاری نفری نے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔

    کارروائی کے دوران منشیات مافیا سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ افراد ساگر بوزدار، چاکر بوزدار، سھیل بوزدار، عمران بوزدار، اختر بوزدار، جیوا بوزدار، مسمات حوراں اور مسمات میراں کے گھروں اور ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ تاہم متعدد ملزمان آپریشن سے قبل ہی گھروں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    آپریشن کے دوران پولیس نے چرس، منشیات کی فروخت میں ملوث عناصر کے علاوہ چوری کی وارداتوں میں مطلوب بشیر احمد جلبانی اور منظور احمد جلبانی کے گھروں پر بھی ریڈ کیے، مگر وہ بھی فرار نکلے۔

    ڈی ایس پی محمد یونس کے مطابق منشیات مافیا کے خلاف یہ آپریشن ان کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا اور کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس کی کارروائی سے علاقے میں منشیات فروشوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، جب کہ عوامی حلقوں نے پولیس آپریشن کو سراہا ہے۔

  • تنگوانی: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، ورثاء کا پولیس اور ایم این اے کے خلاف احتجاج

    تنگوانی: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، ورثاء کا پولیس اور ایم این اے کے خلاف احتجاج

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان قتل، دو زخمی، لواحقین کا پولیس اور ایم این اے شبیر بجارانی کے خلاف احتجاج

    انڈس ہائی وے تنگوانی کے قریب ڈاکوؤں کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعہ رات 11:30 بجے پیش آیا جب تنگوانی کے رہائشی، کوئٹہ سے واپس آتے ہوئے سول اسپتال کے قریب ڈاکوؤں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی، مگر کار نہ رکنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے ابرار لاشاری موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد درّ ڈاہانی اور میجر چولیانی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں کہرام مچ گیا، لواحقین اور اہلِ علاقہ کی چیخ و پکار سے فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں کا راج قائم ہے، جو روزانہ شہریوں کو لوٹنے، اغواء کرنے اور فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہیں، جبکہ پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق نوجوان کے ورثاء نے اسپتال میں شدید احتجاج کیا، پولیس اور منتخب ایم این اے شبیر علی بجارانی کے خلاف نعرے بازی کی اور کپڑے پھاڑ کر بددعائیں دیتے رہے۔

    ایک زخمی محمد درّ ڈاہانی نے احتجاجاً علاج کروانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ "جب تک ایس ایچ او تنگوانی خود یہاں نہیں آتا، میں علاج نہیں کرواؤں گا۔” ورثاء اور اسپتال عملہ اسے منتیں کرتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔

    ورثاء کا کہنا ہے کہ "ہمارے محافظ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا، ڈاکوؤں نے سرِعام فائرنگ کی اور پولیس کہیں دکھائی نہ دی۔”

    شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے سکھر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں ڈاکو راج کے باعث شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے، نااہل ایس ایچ او تنگوانی اور ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ کو معطل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    انڈس ہائی وے تنگوانی کے قریب ڈاکوؤں کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعہ رات 11:30 بجے پیش آیا جب تنگوانی کے رہائشی، کوئٹہ سے واپس آتے ہوئے سول اسپتال کے قریب ڈاکوؤں نے گاڑی روکنے کی کوشش کی، مگر کار نہ رکنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے ابرار لاشاری موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد درّ ڈاہانی اور میجر چولیانی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں کہرام مچ گیا، لواحقین اور اہلِ علاقہ کی چیخ و پکار سے فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں کا راج قائم ہے، جو روزانہ شہریوں کو لوٹنے، اغواء کرنے اور فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہیں، جبکہ پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق نوجوان کے ورثاء نے اسپتال میں شدید احتجاج کیا، پولیس اور منتخب ایم این اے شبیر علی بجارانی کے خلاف نعرے بازی کی اور کپڑے پھاڑ کر بددعائیں دیتے رہے۔

    ایک زخمی محمد درّ ڈاہانی نے احتجاجاً علاج کروانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ "جب تک ایس ایچ او تنگوانی خود یہاں نہیں آتا، میں علاج نہیں کرواؤں گا۔” ورثاء اور اسپتال عملہ اسے منتیں کرتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔

    ورثاء کا کہنا ہے کہ "ہمارے محافظ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا، ڈاکوؤں نے سرِعام فائرنگ کی اور پولیس کہیں دکھائی نہ دی۔”

    شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے سکھر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں ڈاکو راج کے باعث شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے، نااہل ایس ایچ او تنگوانی اور ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ کو معطل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ: رانا جاوید اقبال کے چچا کی وفات، دعائے مغفرت کا اہتمام

    سیالکوٹ: رانا جاوید اقبال کے چچا کی وفات، دعائے مغفرت کا اہتمام

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) سیالکوٹ کے سیکرٹری جنرل رانا جاوید اقبال کے چچا جان گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ ان کے ایصالِ ثواب کے لیے مرکزی دفتر چوک اڈہ پسروریاں میں دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا۔

    دعائیہ تقریب میں مرکزی چیئرمین خرم میر، مرکزی وائس چیئرمین شاہد ریاض، نائب صدر مہر ندیم، آفس سیکرٹری میڈم مسرت، محمد علی، طفیل بٹ اور نائب صدر عیسو جمیل نے شرکت کی۔ مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر جمیل کے لیے دعا کی گئی۔

  • ڈسکہ: قاضی ٹی اسٹال پر عید ملن، میاں زیشان رفیق کی خدمات کو سراہا گیا

    ڈسکہ: قاضی ٹی اسٹال پر عید ملن، میاں زیشان رفیق کی خدمات کو سراہا گیا

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی, بیورو چیف شاہد ریاض) قاضی ٹی اسٹال پر عید کی خوشیاں، معزز مہمانوں کی آمد، وزیر بلدیات کی خدمات کو سراہا گیا
    عید کی تعطیلات کے اختتام پر سیالکوٹ کے معروف قاضی ٹی اسٹال پر ایک خوبصورت نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ مہمانوں میں ممتاز مذہبی اسکالر قاری ذوالفقار سیالوی، ڈسکہ کی ہر دلعزیز شخصیت ظفر اقبال، سابق چیئرمین بلدیہ ڈسکہ عاطف رضا خواجہ پاشی، معروف کاروباری شخصیت حسن بٹ المعروف گوگا پراپرٹی ڈیلر، محمد جمیل بٹ (سنی آٹوز)، محمد عظیم، چوہدری رسالت گجر، سینئر سیاسی راہنما قاضی شبیر (بابائے سیاست ڈسکہ) اور سجاد بٹ شامل تھے۔

    مہمانوں کی تواضع تازہ پھلوں، مشروبات اور گرم گرم جلیبیوں سے کی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے عید کے دنوں میں ڈسکہ میں صفائی کے مثالی انتظامات پر ایم پی اے و وزیر بلدیات پنجاب میاں زیشان رفیق کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شرکاء نے کہا کہ جس انداز سے عید کے دنوں میں صفائی کی گئی، وہ ڈسکہ کی تاریخ میں ایک مثال بن گئی ہے۔

    نشست کے اختتام پر تمام معززین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میاں زیشان رفیق کو مزید ہمت اور استقامت عطا فرمائے تاکہ وہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ آمین۔

  • دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان میں سالانہ بجٹ عام طور پر ترقیاتی اہداف، عوامی ریلیف اور خزانے کے توازن کا آئینہ ہوتا ہے مگر حالیہ بجٹ جسے ’ترقی کا بجٹ‘ قرار دیا گیا ہے، متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مشکلات کا نیا در وا کر رہا ہے۔ اس بجٹ میں جہاں دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹیکسوں کا ہدف ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 12.9 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک اضافے کی پیشگوئی کی جا چکی ہے جبکہ عوام کی قوت خرید پہلے ہی کم ترین سطح پر ہے۔

    حکومتی دستاویزات کے مطابق درآمدی دالوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.85 فیصد کر دی گئی ہے۔ دال جو ہر غریب پاکستانی کے دسترخوان کی واحد عزت ہوا کرتی تھی، اب وہ بھی آسودہ حال لوگوں کی چیز بنتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب دال چنا 250–280 روپے میں دستیاب تھی مگر اب اس کی قیمت 360 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دیگر اقسام، جیسے مسور، ماش اور مونگ بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیکٹ دودھ، چینی، گھی، چاول، آٹا سب پر بلاواسطہ سیلز ٹیکس کا نفاذ غریبوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔

    مہنگائی صرف خوراک تک محدود نہیں رہی بجلی، گیس اور متبادل توانائی جیسے شعبے بھی اب عوام کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کا خواب بھی مہنگائی کے کچرے دان میں پھینک دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے بحران میں اضافہ کرے گا بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی دھچکا ہے جو بلوں سے بچنے کے لیے سولر نظام کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور پنشن میں 7 فیصد کا اعلان کیا گیا ہے، وہیں نجی شعبے، مزدور طبقے، دیہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے نہ کوئی مراعات دی گئیں نہ کسی ریلیف کی کوئی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت کے ترقیاتی دعوے اُس وقت کھوکھلے لگتے ہیں جب عام آدمی اپنی تنخواہ سے مہینہ مکمل نہیں کر پاتا اور بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔

    بجٹ میں محصولات بڑھانے کی حکمتِ عملی غیرپیداواری طبقات پر بوجھ ڈال کر کی گئی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے یا بے نامی جائیدادوں اور آف شور اثاثوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ دال اور دودھ پر ٹیکس لگا کر عوام سے قربانی مانگنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست نے سہولت کے بجائے آسان شکار کو چنا ہے ، وہ طبقہ جو سڑک پر آ کر احتجاج بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالت سے رجوع کی سکت رکھتا ہے کیونکہ عدالتوں سے عام آدمی کو کبھی ریلیف نہیں مل سکتا کیونکہ عدلیہ بھی مراعات یافتہ طبقہ پر مشتمل ہے ۔

    اس سب کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بجٹ معیشت کو استحکام دے گا، معاشی اصلاحات کو فروغ دے گا اور قرضوں پر انحصار کم کرے گا۔ مگر جب بنیادی اشیاء ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں، جب بجلی، گیس، دال، دودھ اور چینی پر ٹیکس لگ جائے تو استحکام کے خواب عام آدمی کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

    یہ بجٹ خزانے کے لیے تو ممکن ہے کہ مثبت ہومگر عوام کے لیے یہ ایک زخم ہے جو ہر دن تازہ ہوتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف ریونیو کا حصول نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔ جب دال بھی مہنگی ہو جائے تو اس کا مطلب صرف خوراک کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی رسوائی ہے، ایک پوری قوم کی بنیادی ضرورتوں کی توہین ہے۔

    ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ کیا کھائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ آخر جیئیں گے کیسے؟ دال وہ آخری چیز تھی جو غریب کے چولہے کو جلائے رکھتی تھی، اب وہ بھی چھن گئی ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ جب چولہا بجھ جائے تو صرف گھر نہیں، ریاستیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ دال کی مہنگائی محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے جنازے کی پہلی گھنٹی ہے۔ اگر ریاست کو اب بھی ہوش نہ آیا تو آنے والا وقت صرف احتجاج کا نہیں، خدانخواستہ بغاوت کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بغاوت دال کے پیالے سے شروع ہوگی اور سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

  • اوچ شریف: زہریلے سانپ کے ڈسنے سے کسان کی ساڑھے تین لاکھ روپے مالیت کی گائے ہلاک، کسان غم سے نڈھال

    اوچ شریف: زہریلے سانپ کے ڈسنے سے کسان کی ساڑھے تین لاکھ روپے مالیت کی گائے ہلاک، کسان غم سے نڈھال

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے رتہر نہڑراں والی بستی عبد اللہ خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک زہریلے سانپ کے کاٹنے سے مویشی پال کسان عبدالطیف کی قیمتی گائے موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔ گائے کی مالیت تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

    متاثرہ کسان کے مطابق، گائے حسب معمول گھر کے صحن میں بندھی ہوئی تھی کہ اچانک جھاڑیوں سے ایک زہریلا سانپ نمودار ہوا اور گائے کو کاٹ لیا۔ سانپ کا زہر اتنا تیز تھا کہ چند لمحوں میں ہی گائے کی حالت بگڑ گئی، اور وہ تڑپتے ہوئے زمین پر گر کر دم توڑ گئی۔

    واقعے کے بعد کسان عبدالطیف شدید صدمے سے دوچار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ نقصان اس کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر گیا۔ مقامی افراد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ بھر میں جھاڑیوں کی صفائی اور زہریلے جانوروں کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، جعلی ویزے پر آنے والا مسافر گرفتار

    سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، جعلی ویزے پر آنے والا مسافر گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)ایف آئی اے امیگریشن نے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والے ایک مسافر کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار مسافر کی شناخت عبدالحمید کے نام سے ہوئی ہے جو فلائٹ نمبر G9552 کے ذریعے کینیا سے پاکستان پہنچا تھا۔

    ایف آئی اے ترجمان کے مطابق عبدالحمید کے پاسپورٹ پر کینیڈا کا جعلی ویزا چسپاں تھا۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص گزشتہ ماہ کینیا گیا تھا اور وہاں سے ایک مقامی ایجنٹ کے ذریعے جعلی ویزا حاصل کیا۔ مسافر کی نیت پاکستان سے کینیڈا روانگی کی تھی جو جعلی ویزے کی بنیاد پر ممکن نہ ہو سکی۔

    حکام نے بتایا کہ ملزم کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل گجرات کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف مزید قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب خوشیوں کی نوید بننے والی عید، عام شہری کے لیے یوں بوجھ، خوف اور کرب کی علامت بن گئی ہو۔ عیدالاضحیٰ جو کبھی بھائی چارے، ایثار اور قربانی کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج بجلی کے بلوں، ہوشربا مہنگائی اور معاشی جبر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ اس بار لاکھوں پاکستانی اس دلی کرب سے گزرے کہ وہ قربانی جیسے دینی فریضے سے بھی محروم رہ گئے اور ان کی محرومی کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نظام کو عوام دشمن بنا ڈالا ہے۔

    عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ نئے عالمی معیار کے مطابق روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور کیا جاتا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تعداد پہلے 39.8 فیصد تھی اور موجودہ معاشی دباؤ کے تحت یہ تناسب بڑھ کر 9 کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 3 ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ 88 فیصد سے زائد عوام 8.50 ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خالی دسترخوان، ادھوری خوشیاں اور خون کے آنسو روتی کہانیاں ہیں۔

    اسی تناظر میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی رپورٹ مزید افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق رواں برس عیدالاضحیٰ پر کھالوں کے حصول میں 30 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور قربانی میں واضح کمی ہے۔ جہاں پہلے ہر گلی میں اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگتے تھے، اب وہ یا تو خالی نظر آئے یا صرف نام کی سرگرمیوں تک محدود رہے۔ یہ صرف ایک مذہبی روایت کا زوال نہیں بلکہ ایک معاشرتی بحران کی عکاسی ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بل، نیپرا کی ناقابل فہم پالیسیاں اور وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں جاری سلیبز سسٹم نے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ صرف 199 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو 3 ہزار کا بل، اور 200 یونٹس ہوتے ہی 10 ہزار سے زائد کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسے بلز جو نہ صرف آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ جعلی ڈیٹیکشن چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، آج لاکھوں پاکستانیوں کی خودکشیوں، بیماریوں اور ذہنی اذیتوں کا بنیادی سبب بن چکے ہیں۔

    فیصل آباد کا حمزہ، بہاولنگر کا ساجد، ٹیکسلا کا طاہر، گوجرانوالہ کی رضیہ بی بی، اور جہانیاں کی ایک ماں،یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بجلی کے بل صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ظلم کی مہر ثبت کیے ہوئے وہ فرمان ہیں جو زندگی چھین لیتے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ واپڈا؟ نیپرا؟ وزیر توانائی؟ یا اس پورے نظام پر جو بجائے عوام کو ریلیف دینے کے، ان کے گلے میں قرض، مہنگائی اور مایوسی کا طوق ڈال دیتا ہے؟

    اور جب کوئی مظلوم آواز بلند کرتا ہے تو ریاستی ردِعمل صرف لاٹھی، آنسو گیس اور جھوٹے مقدمات کی صورت میں آتا ہے۔ گوجرہ، دیپالپور، کمالیہ، سرگودھاجیسے شہروں میں بجلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کی روشنی اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی جسارت کی۔

    ان سب کہانیوں کے بیچ سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ عدالتوں، تھانوں اور انتظامیہ کے رویے بتاتے ہیں کہ اس ملک کا غریب صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہے،اسے سننے والا، بچانے والا یا سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انصاف کے نام پر صرف فیسیں، تاریخیں اور ذلت کی راہیں ہیں۔

    اس بار عیدالاضحیٰ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے بہت مشکل حالات میں گزری۔ کئی گھرانوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ جو لوگ گزشتہ سالوں میں دو سے تین قربانیاں کیا کرتے تھے، وہ اس بار قربانی سے قاصر رہے۔ ایک جاننے والے سے پوچھا کہ آپ نے قربانی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مہنگائی نے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے بل نے کچومر نکال دیا۔ سوچا تھا کہ اس بار اجتماعی قربانی میں شامل ہو جاؤں گا لیکن واپڈا نے 45 ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ قربانی کے پیسے بھی بجلی کے بل کی نذر ہو گئے، اس لیے قربانی نہ کر سکا۔‘‘ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانی اسی طرح قربانی سے محروم رہے۔

    اس عید پر لاکھوں گھروں میں موت کا سناٹا چھایا رہا۔ نہ نئے کپڑوں کی چمک دکھائی دی، نہ گوشت کی خوشبو، نہ بچوں کی ہنسی۔ بس بجلی کے بل، نوٹس اور دھمکیاں ہیں۔ عید، جو کبھی خوشیوں کی علامت تھی، اب غریب کی زندگی، عزت اور خوابوں کی قربانی بن چکی ہے۔

    یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔ یہ کرب قلم سے نکل کر قانون بننا چاہیے۔ اگر بجلی کا بل کسی کی قربانی، کسی کی تعلیم، کسی کی دوا یا کسی کی زندگی چھین لے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران ہے۔ جب 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہوں اور ریاست انہیں نہ تحفظ دے، نہ ریلیف تو وہ ریاست کس کام کی؟ وہ پالیسی ساز جو صرف قرضے، مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا ان کے دل میں کبھی ایک عید نہ منا سکنے والے پاکستانی کا درد جاگا ہے؟

    غریب کی عید کون کھا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ جب عید بھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، جب قربانی بھی بجلی کے بل کھا جائیں، جب کھالیں بھی جمع نہ ہو سکیں، جب گوشت سے زیادہ آنکھوں میں آنسو ہوں، تو پھر عید کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غریب کی عید کون کھا گیا؟ وہ نظام، وہ وزیر، یا وہ پوری ریاست جو خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟