Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ

    سرائیکی تصوف: حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہانگشت بخاری رحمتہ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ اور سادات بخاریہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے، جن کا تعلق سرائیکی وسیب کے روحانی مرکز اوچ شریف (تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان) سے تھا۔ ان کی زندگی دین اسلام کی اشاعت، فلسفہ تصوف، اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف رہی۔ ان کا لقب "جہانیاں جہانگشت” ان کی عالمگیر سیاحت اور دین کی تبلیغ کے لیے وسیع سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

    آپ کی ولادت 14 شعبان 707ھ (9 فروری 1308ء) اوچ شریف میں حضرت سید سلطان احمد کبیر بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے گھر ہوئی، اور آپ کا سلسلہ نسب 17 واسطوں سے حضرت امام حسین علیہ السلام تک جاتا ہے۔ آپ کے دادا حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ تھے، جن کے نام پر آپ کا نام رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اوچ شریف میں قاضی بہاؤالدین سے حاصل کی، پھر ملتان شریف میں شیخ موسیٰ اور مولانا مجد الدین سے فیض اٹھایا۔ مزید تعلیم کے لیے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، جہاں قرآنی علوم، حدیث، تفسیر، فقہ، اور تصوف کی تکمیل کی۔

    مکہ میں حضرت شیخ عبداللہ یافعی اور شیخ عبداللہ مطری سے صحاح ستہ اور عوارف المعارف کا مطالعہ کیا۔ آپ سلسلہ سہروردیہ، قادریہ، چشتیہ، اویسیہ، اور نقشبدیہ سے منسلک تھے اور اپنے والد، چچا، اور 14 عظیم روحانی ہستیوں سے خرقہ خلافت حاصل کیا، جن میں حضرت خضر علیہ السلام کا خصوصی خرقہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور حضرت شیخ رکن الدین عالم ملتانی سے بھی اجازت حاصل کی۔

    دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آپ نے مکہ، مدینہ، بیت المقدس، یمن، ایران، عراق، افغانستان، اور برصغیر سمیت دنیا بھر کا سفر کیا اور ہزاروں غیر مسلموں کو کلمہ طیبہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ سرائیکی وسیب میں رجپوت قبیلہ منج کی آپسی لڑائی ختم کروائی اور گجرات و کاٹھیاواڑ کے نوابوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ آپ نے متعدد دینی مدارس، مساجد، اور خانقاہیں تعمیر کروائیں۔ آپ کی کرامات میں ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک ظالم حاکم کو دعا سے دیوانگی میں مبتلا کیا اور معافی مانگنے پر اسے شفا دی۔

    آپ کے ملفوظات میں چند اہم فرمودات شامل ہیں: اللہ کا ولی صرف رب سے ڈرتا ہے؛ جاہل صوفیوں سے دور رہو، وہ دین کے چور ہیں؛ علم لدنی کے لیے تقویٰ شرط ہے؛ اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کو یاد کرو۔ یہ ملفوظات "خزانہ جلالیہ”، "سراج الہدایہ”، اور "جامع العلوم” کے نام سے مشہور ہیں۔

    آپ کا وصال 10 ذوالحجہ 785ھ (2 فروری 1384ء) اوچ شریف میں ہوا، اور آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے، جہاں ہزاروں زائرین فیض حاصل کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اوچ شریف میں آپ کے نام سے عالمی صوفی انسٹی ٹیوٹ، لائبریری، میوزیم، اور پارک قائم کیا جائے تاکہ آپ کا فلسفہ جلال ہر خاص و عام تک پہنچے۔

  • شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ1992 کی بات ہے جب راقم الحروف میٹرک کا طالب علم تھاتو اس وقت ذرائع ابلاغ نہایت محدود تھے۔ ٹیلی ویژن چند گھرانوں تک محدود تھا، لیکن ریڈیو ہر گھر کی چوپال کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ رات آٹھ بجے بی بی سی اردو پر خبریں اور مشہور زمانہ پروگرام سیربین نشر ہواکرتاتھا جس میں رضاعلی عابدی کا پروگرام شیر دریا ایک منفرد اور دلکش اضافہ تھا۔ اس پروگرام نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی کہانیاں سنائیں بلکہ ان سے جڑی تہذیبوں، تمدنوں اور ان میں سانس لیتی زندگیوں کو بھی بیمثال انداز میں اجاگر کیاتھا۔

    جب رضا علی عابدی نے بی بی سی اردو سروس کے لیے ایک دستاویزی پروگرام ترتیب دیا تو اس کا مقصد دریائے سندھ کے منبع سے لے کر بحیرہ عرب تک اس کے سفر کو ایک زندہ جاوید داستان میں ڈھالنا تھا۔ یہ عظیم دریا ہمالیہ کی بلند گھاٹیوں اور تنگ گزرگاہوں سے ہوتا ہوا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں اترتا ہے۔ اس کے کناروں پر آباد لوگوں کی معاشرت، سماجی تغیرات اور تہذیبی رنگوں کو رضا علی عابدی نے اپنی مسحور کن آواز اور بے مثال اسلوب میں نہایت مہارت سے پیش کیا۔

    انہوں نے اس پروگرام کا نام دریائے سندھ کے قدیم تبتی نام سنگھے کھا بب سے مستعار لیتے ہوئے شیر دریا رکھا۔ یہ دریا واقعی شیر کی مانند ہے، جو صدیوں سے ہمالیہ کی برفانی بلندیوں سے جھاگ اُڑاتا، غُراتا اور گرجتا ہوا میدانی علاقوں کی طرف بہتا چلا آتا ہے۔ انڈس ویلی سویلائزیشن ہو یا اپر انڈس ویلی، اس دریا کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کا رنگ جداگانہ ضرور ہے مگر ان کی باہمی ہم آہنگی قابل دید ہے۔

    اس پروگرام میں رضا علی عابدی نے لداخ کے بالائی گاؤں اپشی میں پشمینہ بکریوں کے چرواہے محمد علی خان سے لے کر بحیرہ عرب کے قریب شاہ بندر گاؤں کے گل محمد تک 1500 میل کے سفر کو عام انسانوں کے مکالموں، روزمرہ تجربات اور ذاتی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا۔ یہ سفرنامہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اس ڈیلٹا تک پہنچتا ہے جہاں یہ دریا سمندر سے بغلگیر ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران سندھ کے کناروں پر آباد نئی اور پرانی بستیوں کی سیاحت ہوتی ہے اور قدیم و جدید تمدن کے کئی راز وا ہوتے ہیں۔

    اردو ریڈیائی سفرناموں کا سہرا بلاشبہ رضا علی عابدی کے سر جاتا ہے۔ بی بی سی اردو سروس میں ان کی مسحور کن اور پراثر آواز نے برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں سامعین کو اپنا گرویدہ بنایا۔ شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں تک ان کی آواز گونجتی تھی اور سامعین ان کے لفظوں سے بندھی تصویروں میں کھو جایا کرتے تھے۔

    رضا علی عابدی نے اپنے اسی پروگرام میں پاکستان کے سرائیکی خطہ کے اہم شہر ڈیرہ غازی خان کی ایک منفرد روایت ہماچا کو متعارف کرایا، جو ایک ایسی بڑی چارپائی ہے جس پر ایک وقت میں دو سو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے ہماچا اسمبلی کا نام دیا گیا۔ پاکستانی چوک کے قریب ایک رہائشی بلاک میں رکھی یہ چارپائی محلے داروں کے لیے ایک سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں روزانہ رات کو چھوٹے بڑے، بوڑھے اور نوجوان جمع ہوتے۔ مذہب، سیاست، محلے کے دکھ سکھ، شادی بیاہ، خوشی و غم کی خبریں سب یہیں شیئر ہوتیں۔ یہ ہماچا نہ صرف ایک چارپائی تھی بلکہ ایک مضبوط سماجی بندھن کی علامت تھی جو لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔

    اسی پروگرام کے ذریعے رضا علی عابدی نے ڈیرہ غازی خان کی ایک عظیم شخصیت حاجی غلام حیدر عرف پتھر حلوائی کو بھی متعارف کرایا۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں پتھر کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل جب تحریک آزادی زوروں پر تھی، وہ اس تحریک کا ایک سرگرم کارکن تھے۔ پاکستانی چوک پر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ ایک دن ایک جلوس کے دوران ہندوؤں نے حملہ کیا، ان پر تشدد کیا، ان کی چادر اتر گئی، قمیض پھٹ گئی لیکن انہوں نے پاکستان کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ وہ بے ہوش ہوگئے مگر پرچم زمین پر نہ گرنے دیا۔ اس بے مثال جرات اور استقامت پر انہیں پتھر کا لقب ملا۔

    پاکستان بننے کے بعدغلام حیدرپتھر ایک عام حلوائی بن کر رہ گئے، مگر ان کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں ان کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔بقول ان کے ایک دن اچانک پولیس نے ان کی دکان کو گھیر لیا اور انہیں گرفتار کرکے اسلام آباد کے صدر ہاؤس لے جایا گیا، جہاں صدر جنرل ضیا الحق نے ان سے خصوصی ملاقات کی، ان کی خدمات کو سراہا اور بطور اعزاز انہیں حج پر سعودی عرب بھیجا۔ واپسی پر انہوں نے اہلِ محلہ کو بتایا کہ صدر پاکستان نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔

    شیر دریا جیسے پروگراموں نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی داستانیں عام کیں بلکہ ایسے گمنام ہیروز کو بھی منظرِ عام پر لایا جنہیں تاریخ نے نظر انداز کیا تھا۔ اگر رضا علی عابدی ڈیرہ غازی خان نہ آتے اور بی بی سی پر یہ پروگرام نشر نہ ہوتا تو شاید ہم پتھر حلوائی جیسے مجاہدوں سے ناواقف ہی رہتے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ہر ضلع اور تحصیل میں تحریک پاکستان کے ان گمنام ہیروز کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام شروع کرے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے آگاہ ہو سکے اور ان کی جدوجہد سے سبق لے کر اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکے۔

  • ڈیرہ:سخی سرور روڈ پر خوفناک حادثہ، پانچ موٹرسائیکلیں ٹکرائیں، ایک جاں بحق،7 زخمی

    ڈیرہ:سخی سرور روڈ پر خوفناک حادثہ، پانچ موٹرسائیکلیں ٹکرائیں، ایک جاں بحق،7 زخمی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی سٹی رپورٹرجواد اکبر) سخی سرور روڈ پر المناک حادثہ، ایک نوجوان جاں بحق، 7 شدید زخمی

    ڈیرہ غازی خان کی مصروف اور بین الصوبائی شاہراہ سخی سرور روڈ پر آج ایک دل دہلا دینے والا ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں پانچ موٹرسائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ سات افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب دو مخالف سمتوں سے تیز رفتاری کے ساتھ آنے والی موٹرسائیکلیں بے قابو ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ تصادم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پیچھے آنے والی تین مزید موٹرسائیکلیں بھی ان سے آ ٹکرائیں، جس کے باعث مجموعی طور پر پانچ موٹرسائیکلیں اس حادثے کی زد میں آئیں۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 19 سالہ سلمان کے نام سے ہوئی ہے جو نزدیکی علاقے کا رہائشی تھا اور اپنے دوستوں کے ساتھ تفریحی مقام کی جانب جا رہا تھا۔ زخمیوں میں علی حسن، حمزہ، فہد، عثمان، عدنان، ساجد اور واحد شامل ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ٹیچنگ اسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کیا گیا۔ پولیس نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    مقامی افراد اور حادثے کے چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ سخی سرور روڈ پر تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس روڈ پر نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور تیز رفتاری کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی جانوں کو ضیاع سے بچایا جا سکے۔

  • سانگھڑ: چوٹیاری ڈیم میں چار نوجوان ڈوب کر جاں بحق

    سانگھڑ: چوٹیاری ڈیم میں چار نوجوان ڈوب کر جاں بحق

    سانگھڑ( باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق لغاری) چوٹیاری ڈیم میں چار نوجوان ڈوب کر جاں بحق، لاشیں ہسپتال منتقل

    تفصیل کے سانگھڑ کے قریب چوٹیاری ڈیم میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پکنک منانے کے لیے آئے چار نوجوان نہاتے ہوئے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی سانگھڑ غلام نبی کیریو نے ایس ایچ او چوٹیاریو کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔

    ایس ایچ او نبی بخش لاشاری نے فوری طور پر مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے امدادی کارروائی شروع کی۔ چند گھنٹوں کی کوششوں کے بعد چاروں نوجوانوں احتشام، عمر، امان اللہ اور شاہزیب کی لاشیں نکال لی گئیں اور فوری طور پر سول ہسپتال سانگھڑ منتقل کر دی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 12 سے 24 سال کے درمیان تھیں۔

    پولیس نے متوفیوں کے ورثا سے بھی رابطہ کیا، تاہم اہل خانہ نے کسی قانونی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔

  • تنگوانی: پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں کا وار، ڈاکٹر کو بچی سمیت اغوا کر کے گاڑی چھین لی

    تنگوانی: پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں کا وار، ڈاکٹر کو بچی سمیت اغوا کر کے گاڑی چھین لی

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے نواحی علاقے گھنا نہر کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے ڈاکٹر عبدالعزیز ولد شیر خان کھوسہ کو ان کی کمسن بچی سمیت اغوا کیا اور ان کی نجی گاڑی آلٹو کار چھین کر فرار ہو گئے۔

    واقعہ رات تقریباً نو بجے اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر عبدالعزیز اپنے گاؤں سے تنگوانی شہر کی طرف آ رہے تھے کہ گھنا نہر کے مقام پر چار مسلح افراد نے جو پولیس یونیفارم میں ملبوس تھے، انہیں روک لیا۔ ڈاکو ڈاکٹر اور ان کی بچی کو گاڑی سمیت اغوا کر کے کچھ فاصلے پر لے گئے جہاں دو ڈاکو گاڑی لے کر فرار ہو گئے جبکہ باقی دو ڈاکوؤں نے ڈاکٹر اور ان کی بیٹی کو آدھے گھنٹے تک یرغمال بنا کر رکھا، جس کے بعد ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    ڈاکٹر عبدالعزیز کے مطابق وہ اپنی بچی سمیت تقریباً 40 منٹ تک پیدل چلتے ہوئے شہر کی طرف بڑھے اور راستے میں ایک بستی کے قریب مقامی فرد سے فون لے کر اپنے خاندان کو اطلاع دی۔ ڈاکو ان کا موبائل فون، نقدی اور گاڑی بھی ساتھ لے گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر کے ورثا ہتھیاروں سے لیس ہو کر جائے وقوعہ پر پہنچے اور ڈاکوؤں کا تعاقب کیا مگر وہ فرار ہو چکے تھے۔ متاثرہ خاندان نے پولیس پر سنگین غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنگوانی پولیس حدود میں ہونے والے واقعے کے باوجود پولیس نے کسی قسم کی مدد نہیں کی اور تماشائی بنی رہی۔

    علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ شہری حلقوں نے پولیس وردی میں واردات کرنے والے ڈاکوؤں کی گرفتاری اور پولیس کی مبینہ غفلت پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف: گٹر میں دم گھٹنے سے مزدور جاں بحق، دو ٹریفک حادثات میں خاتون سمیت تین افراد زخمی

    اوچ شریف: گٹر میں دم گھٹنے سے مزدور جاں بحق، دو ٹریفک حادثات میں خاتون سمیت تین افراد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) احمد پور شرقیہ اور اس کے نواحی علاقوں میں پیش آنے والے تین مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔

    پہلا واقعہ اڈا فیض واہ کے قریب پیش آیا جہاں موٹر رکشہ اچانک ہینڈل جام ہونے سے بے قابو ہو کر الٹ گیا، جس کے نتیجے میں ڈرائیور مہتاب احمد شدید زخمی ہو گیا۔ اسے پیشانی، ہونٹ، بازو، پیٹ اور پاؤں پر چوٹیں آئیں۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔ زخمی کا تعلق امیر عالم کالونی سے ہے۔

    دوسرا واقعہ نبی پور، احمد پور روڈ پر پیش آیا، جہاں تیز رفتاری کے باعث موٹر سائیکل موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کنارے رکھے لکڑی کے پٹھوں سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں فوزیہ بی بی اور ان کے بیٹے عبدالہادی زخمی ہوئے۔ فوزیہ بی بی کو سر پر شدید چوٹ آئی اور وہ نیم بیہوشی کی حالت میں ہیں جبکہ عبدالہادی کی ٹھوڑی پر گہرا زخم آیا۔ دونوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    تیسرا اور افسوسناک واقعہ الحسن ٹاؤن میں گٹر کی صفائی کے دوران پیش آیا، جہاں زہریلی گیس کے باعث مزدور فیاض احمد بے ہوش ہو کر گٹر میں گر گیا۔ ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے نکال کر طبی امداد دی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ متوفی کی عمر 40 سال اور رہائش محلہ فٹانی میں تھی۔

    عوامی حلقوں نے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اور حفاظتی انتظامات پر زور دیا ہے۔

  • ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی

    ماروی: صحرائے تھر کی بہادر بیٹی
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    صحرائے تھر کی سنہری ریتوں میں بسی ایک ایسی کہانی گونجتی ہے جو صدیوں سے سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ داستان ہے ماروی کی، تھرپارکر کے گاؤں بھالوا کی ایک سادہ، باوقار اور نڈر لڑکی کی، جس نے جبر، طاقت اور لالچ کے سامنے نہ جھکتے ہوئے اپنی مٹی سے محبت، عزتِ نفس اور وفاداری کی لازوال مثال قائم کی۔ ماروی کی یہ لوک داستان صرف ایک روایت نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، مزاحمت اور ثقافتی شناخت کا آئینہ ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتی ہے۔

    ماروی کی کہانی تھرپارکر کے صحرائی خطے سے جڑی ہے، جو اپنی سادگی، روایات اور مزاحمتی جذبے کے لیے مشہور ہے۔ تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں بھالوا میں پیدا ہونے والی ماروی اس خطے کی ثقافتی روح کی عکاس ہے۔ بھالوا ایک ایسی دیہاتی بستی ہے جہاں زندگی ریت کے ذروں، روایات کے رنگوں اور معاشرتی اقدار کے سائے میں سانس لیتی ہے۔ یہ خطہ جو قدرتی وسائل کی کمی کے باوجود اپنی ثقافتی دولت سے مالا مال ہے، ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز بنا۔ آج بھی بھالوا کا وہ کنواں، جہاں سے یہ داستان شروع ہوئی، ایک زیارت گاہ کی مانند ہے، جہاں لوگ ماروی کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے آتے ہیں۔

    ماروی کے والد، پالنو پنہوار، ایک معزز دیہاتی تھے جنہوں نے روایات کے مطابق اپنی بیٹی کی منگنی ایک دیانت دار اور سادہ نوجوان کھیت سین سے طے کی۔ یہ فیصلہ علاقے کے ایک بااثر شخص پھوگ کو ناگوار گزرا، جو ماروی سے شادی کا خواہشمند تھا۔ اپنی ناکامی سے بھڑک کر پھوگ نے انتقام کی آگ سلگائی اور عمرکوٹ جا پہنچا۔ وہاں اس نے سومرو خاندان کے حکمران عمر سومرو کے سامنے ماروی کے حسن، سادگی اور دلکش شخصیت کی ایسی داستانیں بیان کیں کہ عمر اسے دیکھنے اور حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ پھوگ کا یہ عمل نہ صرف ذاتی حسد کا نتیجہ تھا بلکہ اس نے ایک ایسی زنجیر کو حرکت دی جس نے ماروی کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

    ایک دن، جب ماروی اپنی سہلیوں کے ساتھ گاؤں کے کنویں پر پانی بھر رہی تھی، عمر سومرو نے موقع پاکر اسے زبردستی اغوا کر لیا اور اپنے شاہی محل میں لے آیا۔ محل کی چمک دمک، ریشمی لباس، قیمتی زیورات اور اقتدار کی پیشکش ماروی کے قدموں میں رکھ دی گئی۔ عمر سومرو نے اسے شہزادی بنانے کا خواب دکھایا، مگر ماروی کے دل میں اپنی مٹی کی خوشبو، اپنی جھونپڑی کی چھاؤں اور اپنے منگیتر کھیت سین کی محبت کی حرارت تھی، جو کسی بھی شاہی جاہ و جلال سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

    ماروی نے نہایت سادگی لیکن پرعزم لہجے میں عمر کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس نے کہا، "میں اپنی دھرتی، اپنے لوگوں اور اپنی عزت کو کسی تخت یا دولت سے نہیں بدل سکتی۔” اس کے اس انکار نے نہ صرف عمر سومرو کی طاقت کو للکارا بلکہ وہ جبر، ظلم اور لالچ کے خلاف ایک عظیم مزاحمت کی علامت بن گئی۔ ماروی کی یہ ثابت قدمی اس بات کی گواہ ہے کہ اصل طاقت دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے اور اپنی شناخت کی حفاظت میں ہے۔

    ماروی کی یہ بہادری سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دل تک جا پہنچی۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "شاہ جو رسالو” میں "سر ماروی” کے ذریعے اس کردار کو امر کر دیا۔ بھٹائی نے ماروی کی اپنی دھرتی سے محبت، غیرت اور وفاداری کو اپنے اشعار میں سمو دیا:

    ماروی نہ وٹھی محل، نہ مانی سومر سنگ،
    سونھن ساندھی سچ میں، مٹ نہ ویئی منگ!

    یہ اشعار صرف شاعری نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہیں جو سچائی، عزت اور ثقافتی شناخت کی حفاظت کا درس دیتے ہیں۔ بھٹائی نے ماروی کے کردار کو ایک عالمگیر پیغام بنا دیا، جو نہ صرف سندھ کی خواتین بلکہ ہر اس فرد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو جبر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ "سر ماروی” میں بھٹائی نے ماروی کی جدوجہد کو ایک روحانی سفر کے طور پر پیش کیا، جہاں وہ اپنی ذات سے بالاتر ہوکر اپنی قوم اور ثقافت کی آواز بن گئی۔

    روایت کے مطابق ماروی کی ثابت قدمی اور سچائی نے بالآخر عمر سومرو کے دل کو موم کر دیا۔ اس کی بہادری اور وفاداری سے متاثر ہوکر عمر نے اسے عزت کے ساتھ رہا کیا اور اسے اپنے گاؤں واپس جانے کی اجازت دی۔ ماروی اپنے منگیتر کھیت سین اور اپنی دھرتی پر واپس آئی، جہاں اس کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔ اس کی کہانی نے نہ صرف اس کے گاؤں بلکہ پورے سندھ میں ایک عظیم مثال قائم کی کہ محبت اور عزت کی حفاظت ہر شے سے مقدم ہے۔

    ماروی کی کہانی صرف ایک لوک داستان نہیں بلکہ سندھ کی خواتین کی خودمختاری، ثقافتی شناخت اور مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک نظریہ اور فلسفہ ہے، جو انہیں اپنی مٹی، زبان اور روایات سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ماروی کا کردار ایک ایسی عورت کا ہے جو اپنی مرضی، اپنی عزت اور اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے ایک بادشاہ کی طاقت کو چیلنج کرتی ہے۔ اس کی کہانی صنفی برابری، عزت نفس اور سماجی انصاف کے موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو آج کے دور میں بھی انتہائی متعلقہ ہیں۔

    بھالوا کا وہ کنواں، جہاں ماروی اغوا ہوئی، آج بھی موجود ہے اور ایک تاریخی و ثقافتی مقام کے طور پر سیاحوں، ادیبوں، محققین اور طلبہ کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ کنواں نہ صرف ماروی کی کہانی کا نقطہ آغاز ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کی مزاحمتی تاریخ کا ایک نشان بھی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ اس مقام پر جاتے ہیں، ماروی کی کہانی سنتے ہیں اور اس کی وفاداری و بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    آج کے دور میں، جب مادیت پرستی، مفاد پرستی اور جبر ہر سطح پر غالب ہیں، ماروی کی کہانی ایک روشن مینار کی طرح ہے۔ یہ ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے

    عزت نفس کی حفاظت کیلئے ماروی نے ہر لالچ کو ٹھکرا کر ثابت کیا کہ عزت اور خودداری کسی بھی مادی دولت سے بڑھ کر ہیں۔ اپنی مٹی اور روایات سے محبت وہ سرمایہ ہے جو کسی تخت یا سلطنت سے زیادہ قیمتی ہے۔سچائی اور وفاداری کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ عزت اور احترام کی شکل میں پھل لاتا ہے۔
    ماروی کی محبت نہ صرف اپنی کی طرف سے تھی بلکہ اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنی کے لوگوں سے بھی تھی جو محبت کی ایک عظیم اور جامع شکل ہے۔

    ماروی کی کہانی ہر اس فرد کے لیے ایک سبق ہے جو اپنی شناخت، اپنی عزت اور اپنی اقدار کی حفاظت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ خاص طور پر آج کی خواتین کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جو سماجی، معاشی اور ثقافتی چیلنجوں کا سامنا کرتی ہیں۔

    ماروی، صحرائے تھر کی بیٹی، آج سندھ کی تاریخ، ادب اور عوامی شعور کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ وہ ایک کردار سے بڑھ کر ایک نظریہ، ایک فلسفہ اور ایک ثقافتی اثاثہ بن چکی ہے۔ اس کا نام صحرائے تھر کی ریت میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، جو ہر نسل کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور سچائی کے لیے ڈٹ جانے کی ترغیب دیتا ہے۔

    ماروی کی لوک داستان سندھ کے لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو حق کے لیے ڈٹتا ہے، جبر کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے، اور اپنی دھرتی، ثقافت اور عزتِ نفس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ماروی صدیوں تک زندہ رہے گی ، وہ سندھ کی بہادر بیٹی، سچ کی علامت اور وفا کا استعارہ تھی۔

  • بہاولپور: ڈی ایچ اے میں تین موٹرسائیکلیں ٹکرا گئیں، ایک جاں بحق،3زخمی

    بہاولپور: ڈی ایچ اے میں تین موٹرسائیکلیں ٹکرا گئیں، ایک جاں بحق،3زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) بہاولپور کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں تیز رفتاری کا ایک اور المناک واقعہ پیش آیا، جہاں تین موٹر سائیکلوں کے تصادم کے نتیجے میں ایک 17 سالہ نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب تین موٹر سائیکلوں پر سوار چار نوجوان خطرناک حد تک تیز رفتاری سے ایک دوسرے کے قریب پہنچے اور بےقابو ہو کر آپس میں ٹکرا گئے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایچ اے کی ایمبولینس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور تین زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ اس دوران ریسکیو 1122 بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ بدقسمتی سے محمد فیضان ولد محمد اسلم جو محلہ 08/BC، پٹھانوں والی بہاولپور کا رہائشی تھا، شدید دماغی چوٹ کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ متوفی کی عمر 17 سال تھی۔

    پولیس کی موجودگی میں ریسکیو عملے نے جائے وقوعہ پر قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد نوجوان کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ حادثے نے علاقے میں افسوس اور سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے

  • فیصل آباد: قادیانی، قربانی کرنے پر 298-C کے تحت گرفتار

    فیصل آباد: قادیانی، قربانی کرنے پر 298-C کے تحت گرفتار

    فیصل آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) قادیانی شہری کی عید قرباں پر قربانی، توہین رسالت کی دفعہ 298-C کے تحت مقدمہ درج،ملزم گرفتار

    تھانہ ترکھانی پولیس نے فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک نمبر 215 گ ب میں ایک قادیانی شہری کے خلاف عید الاضحی کے روز قربانی کرنے پر توہین رسالت کی دفعہ 298-C کے تحت مقدمہ درج کر کے اُسے گرفتار کر لیا ہے۔ مقدمے کے اندراج کی بنیاد مقامی شخص ڈاکٹر محمد طاہر جمیل کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریری درخواست بنی۔

    درخواست گزار کے مطابق، وہ عید کی نماز کے بعد مسجد سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ مجاہد علی نامی ایک شخص، جو کہ قادیانی عقیدے سے تعلق رکھتا ہے اور عید کے موقع پر اپنے آبائی گاؤں آیا ہوا تھا، اپنے گھر کے باہر قربانی کا جانور ذبح کر رہا تھا۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق یہ عمل اسلام کے شعائر کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ قربانی صرف مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے، اور قادیانی نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انہیں ایسے افعال کی اجازت ہے جن سے وہ خود کو مسلمان ظاہر کریں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب طاہر جمیل نے مجاہد علی کو قربانی سے باز رکھنے کی کوشش کی تو وہ باز نہ آیا اور بکرے کو ذبح کر دیا۔ شور و غل پر گاؤں کے متعدد افراد، جن میں مزمل سعید اور شعیب اعجاز بطور گواہ نامزد ہیں، موقع پر جمع ہو گئے اور وقوعے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ درخواست گزار کے مطابق، اس عمل سے نہ صرف مقامی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی بلکہ مجاہد علی نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر SI خرم سجاد بمعہ پولیس اہلکاران موقع پر پہنچے اور موقع سے مجاہد علی کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں زیر دفعہ 298-C تعزیرات پاکستان مقدمہ نمبر 307/25 درج کر لیا گیا ہے۔ تھانہ ترکھانی کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ مجاہد علی کے خلاف جرم کی نوعیت "توہین رسالت” کے زمرے میں آتی ہے اور مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ دفعہ 298-C کے تحت کسی قادیانی کو اسلام کے مخصوص شعائر اختیار کرنے یا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کی اجازت نہیں، بصورت دیگر اس پر فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

  • بہاولپور اور اوچ شریف میں ٹریفک حادثات: ایک بچہ جاں بحق، چار افراد زخمی

    بہاولپور اور اوچ شریف میں ٹریفک حادثات: ایک بچہ جاں بحق، چار افراد زخمی

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب‌خان)بہاولپور اور اوچ شریف میں تیز رفتاری اور لاپروائی کے باعث پیش آنے والے تین الگ الگ ٹریفک حادثات میں ایک 13 سالہ بچہ جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ ان واقعات نے علاقے میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

    پہلا افسوسناک واقعہ بہاولپور کے حاصل پور روڈ، 7-بی سی کے قریب پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ہنڈا سٹی کار نے 13 سالہ محمد رضوان ولد فیض احمد کو ٹکر مار دی۔ محمد رضوان، جو 7-بی سی چک کا رہائشی تھا، برف لینے کے بعد سڑک پار کر رہا تھا کہ ڈیرہ بکھا سے بہاولپور کی طرف آنے والی کار کی زد میں آ گیا۔ شدید سر کی چوٹ کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائی مکمل کی اور بچے کی لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا۔

    دوسرا حادثہ اوچ شریف میں سمیع گیلانی کی رہائش گاہ کے قریب پیش آیا، جہاں تیز رفتار موٹر سائیکل بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔ اس حادثے میں دو نوجوان، 19 سالہ سلمان ولد عبد الحمید اور 18 سالہ اظہر ولد کرم حسین، شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں لاری اڈا احمد پور شرقیہ کے رہائشی ہیں۔ سلمان کو سر پر گہری چوٹیں آئیں اور وہ مسلسل متلی کی شکایت میں مبتلا رہا، جبکہ اظہر کے اوپری اور نچلے ہونٹوں پر گہرے زخم آئے۔ ریسکیو ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں تشویشناک حالت میں رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کر دیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ موٹر سائیکل کی انتہائی تیز رفتاری اور لاپروائی اس حادثے کی بنیادی وجہ تھی۔

    تیسرا حادثہ اوچ شریف کے علی پور روڈ پر للو والی پل کے قریب پیش آیا، جہاں دو موٹر سائیکلیں تیز رفتاری کے باعث آپس میں ٹکرا گئیں۔ اس واقعے میں 35 سالہ محمد فیاض ولد محمد امین اور ان کا 12 سالہ بیٹا محمد معاذ زخمی ہو گئے۔ محمد فیاض، جو اکبر ٹاؤن اوچ شریف کے رہائشی ہیں، کی بائیں ہاتھ کی انگلی میں فریکچر ہوا، جبکہ محمد معاذ کے دائیں گھٹنے پر گہرا زخم آیا۔ ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر دونوں کو ابتدائی طبی امداد دی اور بعد میں انہیں RHC اوچ شریف منتقل کیا۔ عینی شاہدین نے اس حادثے کی وجہ بھی موٹر سائیکل سواروں کی غیر محتاط ڈرائیونگ اور تیز رفتاری کو قرار دیا۔

    ریسکیو ذرائع نے تمام واقعات میں فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور جاں بحق بچے کی لاش کو لواحقین کے حوالے کیا۔ ان حادثات نے علاقے میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تیز رفتاری اور لاپروائی سے بچنے کے لیے سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور ڈرائیوروں میں شعور اجاگر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔