Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: نمازِ عیدالاضحی کے 314 مقامات پر اجتماعات، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    ڈیرہ غازی خان: نمازِ عیدالاضحی کے 314 مقامات پر اجتماعات، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) نمازِ عیدالاضحی کے 314 مقامات پر اجتماعات، سیکیورٹی ہائی الرٹ، پولیس کی بھاری نفری تعینات

    ضلع بھر میں عیدالاضحی کے موقع پر 314 مقامات پر نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہوں گے، جن کے لیے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ڈی پی او سید علی کی خصوصی ہدایات پر جامع سیکیورٹی پلان مرتب کر لیا گیا ہے، جس کے تحت شہر بھر میں پکٹ پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں، مشکوک اور شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور بھاری گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او سید علی کا کہنا ہے کہ "عیدالاضحی کی خوشیوں کے موقع پر عوام کو پُرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے فرائض کو جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہو کر انجام دیتے ہوئے دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔”

    ضلع بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے 1000 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے، جن میں ڈی ایس پیز، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، محافظ اسکواڈ، لیڈیز پولیس، QRF اور پولیس موبائلز کے گشتی دستے شامل ہیں۔ یہ فورسز شہر کے بازاروں، شاپنگ سینٹرز، تجارتی مراکز، اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر مسلسل گشت کریں گی۔

    عوامی مقامات پر سماجی کمیٹیوں کے ارکان بھی پولیس کے ساتھ تعاون کریں گے، جب کہ ٹریفک نظام کی روانی کے لیے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو بائی نیم ڈیوٹیز سونپ دی گئی ہیں۔ ان اہلکاروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دیں۔

    ڈی پی او نے تمام مساجد کے منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ نمازِ عید کے مقامات پر پارکنگ کا نظام ایس او پیز کے مطابق بنایا جائے اور داخلی راستوں پر مقامی رضا کاروں کے ذریعے چیکنگ اور شناختی عمل کو یقینی بنایا جائے۔ صرف وہی تنظیمیں اور فلاحی ادارے قربانی کی کھالیں جمع کر سکیں گے جن کے پاس ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت نامہ موجود ہو، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

    سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکوک افراد، گاڑیوں، پارسلز، بیگز اور موٹر سائیکلوں پر کڑی نظر رکھیں، جب کہ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی مشکوک شخص کو رہائش فراہم نہ کریں۔

    عید کے دن ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، غیر نمونہ یا بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں، ہلڑ بازی، اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ریسکیو 15، مقامی تھانے یا ضلعی کنٹرول روم کے نمبر 0649260113 پر دیں تاکہ پرامن عید کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستانی سنیما کی تاریخ میں "یہ امن” (1971) ایک ایسی فلم ہے جو نہ صرف فنکارانہ بصیرت کی حامل تھی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کی بھی عکاس تھی۔ ہدایت کار ریاض شاہد نے اس فلم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کیا۔ ابتدا میں اس فلم کا نام "امن” تھا لیکن سنسر بورڈ کی سخت پابندیوں نے اسے "یہ امن” میں تبدیل کر دیا۔ فلم میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کو جرات مندانہ انداز میں پیش کیا گیا، لیکن سنسر بورڈ کی مداخلت نے اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا۔ اس صدمے کا اثر ہدایت کار ریاض شاہد پر اتنا گہرا پڑا کہ وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ فلم کے نغموں کی شاعری معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے لکھی، جن کے اشعار ظلم کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ ان میں سے گیت "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” جو میڈم نور جہاں کی سحر انگیز آواز میں گایا گیا اور اداکارہ سنگیتا پر فلمایا گیا، نہ صرف فلم کا مرکزی خیال تھا بلکہ آج بھی اس کی معنویت قائم ہے۔ یہ گیت ظلم کے مقابلے میں امن کی خواہش اور اس کی ناممکنات کو بیان کرتا ہے جو نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین، غزہ اور پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل کے تناظر میں ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے۔

    فلم "یہ امن” نے کشمیر کے مظلوم عوام کی داستان کو اجاگر کیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانا معمول بن چکا ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور فوجی چھاؤنیوں نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اسی طرح فلسطین اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ غزہ پر ناکہ بندی نے 20 لاکھ سے زائد افراد کو بنیادی اشیاء جیسے خوراک، ادویات اور ایندھن سے محروم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں ہزاروں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں خطے ظلم کی ایسی داستانیں ہیں جو عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” آج بھی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    پاکستان میں آج کے دور میں ظلم کی ایک نئی شکل عوام کو ناجائز بجلی کے بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور بے لگام مہنگائی کی صورت میں جھیلنی پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں وزارت توانائی پر الزام ہے کہ وہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بجائے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے ایماندار صارفین کو بھی غیر منصفانہ ڈیٹیکشن بلز اور طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سلیب سسٹم جو بظاہر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا عملاً ایک غیر منصفانہ نظام بن چکا ہے۔ اس کے تحت بجلی کے بلز میں اضافہ اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ خاندان اپنی بچیوں کا جہیز بیچ کر، اپنی جمع پونجی خرچ کر کے اور حتیٰ کہ قرض لے کر یہ بلز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور کئی افراد اس معاشی بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔

    عوام پر ہونے والا یہ وحشیانہ ظلم کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف کو دکھائی نہیں دیتا؟ کیا اویس لغاری اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ وزیراعظم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے؟ جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج گولیوں اور تشدد سے معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے اور غزہ میں اسرائیلی بربریت بمباری سے ہزاروں جانیں لے رہی ہے، وہیں پاکستان میں اویس لغاری کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی پالیسیوں نے عوام کو معاشی موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی شکل گولی اور بمباری ہے لیکن پاکستان میں یہ ظلم ناجائز بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور معاشی دباؤ کی صورت میں ہے۔ عوام اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے رہے ہیں کیونکہ وہ اس معاشی بربریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کی اس بربریت کا حساب کون لے گا؟ کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف اس قابل ہیں کہ وہ عوام پر مسلط کردہ اس واپڈا گردی کے خلاف ایکشن لیں؟ کیا وہ ایک عوامی لیڈر ہونے کا حق ادا کر پائیں گے؟

    حبیب جالب کا شعر "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” آج بھی ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم اس ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے؟ کیا ہم میاں شہباز شریف اور اویس لغاری کی پالیسیوں کو چپ چاپ سہتے رہیں گے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ ظلم صرف دوسرے ممالک میں ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ سلیب گردی اور واپڈا گردی محض ایک "نارمل” عمل ہے؟ فلم "یہ امن” ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنا ایک فنکار، شاعر اور شہری کا فرض ہے۔ اگر میاں شہباز شریف عوام کو اویس لغاری کی معاشی بربریت سے بچا سکتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو عوام کو خود اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    جب تک غیر منصفانہ پالیسیاں، ناجائز بلز اور معاشی دباؤ عوام پر مسلط رہیں گے، امن ایک سراب ہی رہے گا۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی طرح پاکستان کا عام شہری بھی ظلم کا شکار ہے۔ فلم "یہ امن” کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد ہی امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ صرف ایک گیت نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی چیلنج ہے جو ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اس معاشی ظلم اور سلیب گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانی ہوگی کیونکہ خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے۔ آئیے، ہم حبیب جالب کے پیغام کو اپنائیں اور اس معاشی بربریت کے خلاف جدوجہد کریں۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو، یہ ممکن نہیں،یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم خاموش رہیں یا اپنی زبان کو آزاد کریں۔

  • بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے

    بل: کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے
    تحریر: حبیب خان باغی ٹی وی نامہ نگار اوچ شریف
    یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لاکھوں گھروں کی حقیقت ہے جہاں بجلی کا بل اب صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ایک کفن بن چکا ہے جو ہر ماہ غریب کے گلے میں پھندے کی طرح لٹکتا ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری اپنی پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں میں "بجلی سستی ہو گئی” کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ صارفین کے بل ہر ماہ نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ایک گھر جہاں صرف دو پنکھے، ایک بلب اور چند گھنٹوں کا واٹر پمپ چلتا ہو، وہاں 10 سے 20 ہزار روپے کے بل آ رہے ہیں۔ یہ کوئی رعایت نہیں، یہ معاشی قتل ہے، جو ایک ظالمانہ سلیب سسٹم کے ذریعے کیا جا رہا ہے جہاں 199 یونٹ تک رعایت ملتی ہے، لیکن 200 یونٹ پر تمام رعایتیں ختم ہو جاتی ہیں اور صارف پر 500 فیصد زیادہ نرخ لگ جاتے ہیں۔ ایک یونٹ کا یہ فرق ہزاروں روپے کے نقصان میں بدل جاتا ہے، گویا غریب کو سزا دی جا رہی ہو کہ اس نے بجلی استعمال کرنے کی جرات کیسے کی۔

    اس سے بھی بڑھ کر، ڈیٹیکشن بلز کا عذاب ہے، جو بغیر کسی ثبوت یا تفتیش کے صارف کو "چور” قرار دے کر لاکھوں روپے کے بل تھوپ دیتا ہے۔ اگر صارف اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہے تو اسے تھانوں، عدالتوں اور نیپرا کے چکر لگانے پڑتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ذلت اور وہی بل ہوتا ہے۔ ریاستی بجلی کمپنیوں نے صارفین کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ایک گھر میں چاہے کتنی ہی فیملیاں رہتی ہوں، دوسرا میٹر لگانے پر پابندی ہے، اور اگر میٹر خراب ہو جائے تو نیا میٹر لگوانے کے لیے صارف کو دفتروں کے چکر لگوانے پڑتے ہیں، جہاں اسے کہا جاتا ہے کہ پہلے تھانے جا کر اپنی بے گناہی ثابت کرو۔ یہ کون سا انصاف ہے جو شہری کو بغیر جرم کے مجرم بناتا ہے؟

    عید کے موقع پر کئی شہروں سے دل دہلا دینے والی خبریں آئیں، جہاں ایک باپ نے بجلی کا بل دیکھ کر زہر کھا لیا اور ایک ماں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے پیسے بل ادا کرنے میں خرچ کر دیے۔ یہ سب اس "ریلیف” کے دعوؤں کے باوجود ہو رہا ہے جو اویس لغاری ہر روز دہراتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نہ اس بحران پر قوم سے خطاب کیا، نہ کسی وزیر کو ہٹایا، نہ ہی ڈیٹیکشن بلز کی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ ایک منظم معاشی استحصال ہے، جہاں صارف کو پہلے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور پھر اس سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں شہریوں نے ان ناجائز بلوں اور ڈیٹیکشن چارجز کو آئین کے آرٹیکل 9 یعنی زندگی کے حق کے خلاف قرار دیا ہے، اور نیپرا نے بھی اعتراف کیا کہ کئی کیسز میں کمپنیوں نے بغیر جائز طریقہ کار کے ڈیٹیکشن بلز عائد کیے۔ لیکن اس کے باوجود نہ کوئی سی ای او معطل ہوا، نہ کوئی پالیسی بدلی، نہ ہی کوئی وزیر جواب دہ ٹھہرا۔

    یہ قوم عجیب ہے۔ وہ سسکتی ہے، روتی ہے، چیختی ہے، لیکن پھر بھی ووٹ ڈالنے قطاروں میں کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ زنجیر ٹوٹنے کے قریب ہے۔ دیہاتوں سے خواتین بجلی کے بل لے کر تھانوں کے باہر احتجاج کر رہی ہیں، بوڑھے بزرگ بل اور دوائیاں ہاتھ میں لے کر میڈیا کے سامنے اپنی داستان سنا رہے ہیں۔ یہ زنجیر اب خاموشی سے رقص نہیں کرنا چاہتی، یہ ٹوٹنا چاہتی ہے۔ اویس لغاری صاحب! اگر بجلی واقعی سستی ہوئی ہے تو بل ہر ماہ مہنگے کیوں آ رہے ہیں؟ اگر رعایت دی جا رہی ہے تو ڈیٹیکشن بلز کیوں بھیجے جا رہے ہیں؟ اگر عوام کو ریلیف مل رہا ہے تو خودکشیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ آپ کی کرسی سے اتر کر کسی غریب کے گھر کا بل ہاتھ میں لیں، اس کی کہانی سنیں، شاید آپ کا ضمیر جاگ جائے۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ 2025 میں ایک وزیر توانائی تھا جو عوام کا خون نچوڑتا رہا اور مسکرا کر کہتا رہا کہ ہم نے تو ریلیف دے دیا۔

    یہ صرف بجلی کا بل نہیں، یہ اس قوم کی بے بسی کی داستان ہے۔ یہ زنجیر بجلی کی ہے، گیس کی ہے، آٹے کی ہے، دوائی کی ہے۔ لیکن اب یہ قوم خاموش نہیں رہے گی۔ یہ زنجیر اب ٹوٹے گی کیونکہ بل اب کفن اور زنجیر پہن کر بھی دیا جاتا ہے، لیکن اب یہ قوم اس کفن کو اتار پھینکنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے وزراء سے گزارش ہے کہ عوام کی آواز سنیں، ان کے بل دیکھیں، ان کی چیخیں سنیں۔ ورنہ یہ زنجیر آپ کے ایوانوں تک پہنچے گی اور پھر نہ کوئی رعایت کام آئے گی، نہ کوئی پریس کانفرنس۔

  • اوچ شریف: بنگلہ مستوئی کے قریب مزدا گاڑی الٹنے سے 7 زخمی، 4 ہسپتال منتقل

    اوچ شریف: بنگلہ مستوئی کے قریب مزدا گاڑی الٹنے سے 7 زخمی، 4 ہسپتال منتقل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف موٹروے روڈ پر بنگلہ مستوئی کے قریب ایک مزدا گاڑی (منی ٹرک نمبر KE-5263) الٹنے کا حادثہ پیش آیا جس میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی جانوروں کو لاہور چھوڑ کر واپس رحیم یار خان جا رہی تھی اور ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث گاڑی بے قابو ہو گئی۔ گاڑی میں کل 20 افراد سوار تھے۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ تین زخمیوں کو موقع پر فرسٹ ایڈ دی گئی جبکہ 4 کو مزید علاج کے لیے آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    زخمیوں میں ظہور احمد، صادق حسین، ملازم حسین اور فرمان حسین شامل ہیں جو اسپتال منتقل کیے گئے، جبکہ عبد الستار، اکبر اور محمد آصف کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کی وجہ ڈرائیور کی نیند اور غفلت تھی۔ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا لیکن ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی سے حالات قابو میں آ گئے۔

  • اوکاڑہ: عیدالاضحیٰ پر صفائی مہم، اسسٹنٹ کمشنر کا کیمپ و ڈمپنگ سائٹس کا دورہ

    اوکاڑہ: عیدالاضحیٰ پر صفائی مہم، اسسٹنٹ کمشنر کا کیمپ و ڈمپنگ سائٹس کا دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اسسٹنٹ کمشنر رب نواز نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ کیمپ کا دورہ کیا، جہاں شہریوں میں جانوروں کی آلائشیں اکٹھی کرنے کے لیے شاپرز تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر انہوں نے کلیکشن پوائنٹس کا معائنہ بھی کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے دیے گئے شاپرز میں ڈال کر مقررہ پوائنٹس پر جمع کروائیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے 6/4 ایل میں قائم ڈمپنگ سائٹس کا بھی معائنہ کیا اور صفائی عملے کو ہدایت دی کہ تمام ایس او پیز کے مطابق فوری طور پر ڈمپنگ پوائنٹس کی تیاری مکمل کی جائے تاکہ عید کے ایام میں تعفن اور گندگی سے پاک ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابل برداشت،عاشق حسین کرمانی

    اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابل برداشت،عاشق حسین کرمانی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ترقیاتی منصوبوں اور عیدالاضحیٰ صفائی پلان پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایکسین ہائی وے، ایکسین پی ایچ ای، ایکسین لوکل گورنمنٹ، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سیف اللہ وڑائچ، سی ای او ایجوکیشن محمد یوسف، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ محمد رضوان وارث سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں اے ڈی پی اور ایس ڈی جیز 2024-25 کے تحت سڑکوں کی تعمیر و مرمت، سیوریج، ڈرینج، ٹف ٹائل، واٹر فلٹریشن پلانٹس، سپورٹس سٹیڈیمز اور مراکز صحت کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے حجرہ شاہ مقیم تا حویلی لکھا روڈ اور اختر آباد تا شیرگڑھ روڈ پر ترقیاتی کام کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر کو ان سڑکوں کی انسپکشن کروانے کی ہدایت بھی کی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جدید تقاضوں کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہیں اور ان منصوبوں پر بھاری فنڈز کے ساتھ ساتھ سخت مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی سکیمیں عوام کی سہولت کا ذریعہ ہیں، اس لیے ان میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام محکمے کام کی رفتار تیز کریں اور جلد از جلد منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔

  • احمد پور شرقیہ: ذاتی دشمنی پر فائرنگ، ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت دو افراد جاں بحق

    احمد پور شرقیہ: ذاتی دشمنی پر فائرنگ، ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت دو افراد جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) تحصیل یزمان کے نواحی علاقے اڈا 42 ہزار پر لشاری برادری کے دو گروپوں کے درمیان پرانی دشمنی ایک بار پھر خونریز تصادم کی صورت اختیار کر گئی، جس میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر شیراز ندیم اور محمد وسیم اجمل فائرنگ سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

    جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں چک 43/DNB میں ادا کی گئی، جس میں رکن قومی اسمبلی چوہدری طارق بشیر چیمہ، رکن صوبائی اسمبلی حسن عسکری شیخ، متعدد سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور ہزاروں کی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔ واقعے نے سیاسی، سماجی اور طبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

    مقتول ڈاکٹر شیراز کے والد اور مدعی مقدمہ محمد ندیم خان لشاری — جو خود ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں — نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے قریبی رشتہ دار کلیم اللہ، انعام اللہ، اختر ثانی، محمد احمد سلامت اور عطا اللہ نے پرانی دشمنی کی بنیاد پر گھات لگا کر مسلح حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے بیٹے ڈاکٹر شیراز ندیم اور وسیم اجمل موقع پر دم توڑ گئے جبکہ اسد اجمل کو سینے میں دو گولیاں لگیں اور شہزاد لشاری بھی زخمی ہوا۔

    پولیس تھانہ ڈیرہ نواب صاحب اطلاع ملنے پر فوری موقع پر پہنچی اور لاشوں و زخمیوں کو سول ہسپتال احمد پور منتقل کیا۔ مدعی کی درخواست پر مقدمہ نمبر 261/25 بجرم 302، 324 درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

    واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مقتولین کے اہل خانہ اور قریبی عزیز غم اور انصاف کے حصول کی جدوجہد میں مبتلا ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ماحولیاتی ریلی، پلاسٹک کے خلاف آگاہی، کپڑے کے بیگز تقسیم

    ڈیرہ غازی خان: ماحولیاتی ریلی، پلاسٹک کے خلاف آگاہی، کپڑے کے بیگز تقسیم

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں ایک بھرپور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت رکن پنجاب اسمبلی محمد حنیف پتافی، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور ڈی پی او سید علی نے کی۔ واک میں شہریوں، دکانداروں، تاجر تنظیموں، وکلاء، سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی، اور مختلف محکموں کے افسران و ملازمین نے شرکت کی۔

    اس موقع پر شہریوں میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پمفلٹس اور کپڑے سے تیار ماحول دوست بیگز تقسیم کیے گئے۔ رکن اسمبلی محمد حنیف پتافی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پلاسٹک بیگز کا استعمال ترک کرنا ہوگا کیونکہ یہ سیوریج کی بندش اور ماحولیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آلودگی کا باعث بننے والی دیگر سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ عالمی یوم ماحولیات منانے کا مقصد نئی نسل کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی اداروں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

    ڈی پی او سید علی نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی جاری ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئر اشفاق احمد کے مطابق محکمہ ماحولیات کی جانب سے شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کپڑے کے تھیلے اور آگاہی مواد تقسیم کیا جا رہا ہے۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر محمد صادق نے بتایا کہ لیبر منسٹر فیصل ایوب کھوکھر کی ہدایت پر صنعتی اداروں میں ہیلتھ اور سیفٹی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آئندہ ہفتے سے ہر فیکٹری میں سیفٹی آلات کی موجودگی اور ان کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    آگاہی واک نے شہریوں میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور پیغام دیا کہ محفوظ اور صاف ماحول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • اوچ شریف:جائیداد تنازع، 85 سالہ میر خاں کو قتل کی دھمکیاں، وزیر اعلیٰ سے تحفظ کی اپیل

    اوچ شریف:جائیداد تنازع، 85 سالہ میر خاں کو قتل کی دھمکیاں، وزیر اعلیٰ سے تحفظ کی اپیل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع کوٹلہ سلطان احمد کے 85 سالہ بزرگ شہری میر خاں نے میڈیا سے گفتگو میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر افراد ان پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور جائیداد کے تنازع پر انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

    میر خاں نے اپنی فریاد میں کہا کہ ان کی بہن زینب الہیٰ کی شادی 1952 میں نہال خان سے ہوئی تھی، جنہوں نے اپنی زندگی میں انہیں طلاق نہیں دی۔ تاہم، اب مخالفین اسلم، اکرم، بشیر، اللہ بچایا اور دیگر افراد جعلی طلاق نامہ تیار کر کے میر خاں کی بہن کی ملکیت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جون 2007 کو انہوں نے یونین کونسل کوٹلہ موسیٰ خان سے باقاعدہ تحریری طور پر استفسار کیا تھا کہ کیا زینب الہیٰ کے متعلق کوئی طلاق نامہ جمع ہے؟ جواب میں یونین کونسل نے تصدیق کی کہ ایسی کوئی دستاویز ریکارڈ میں موجود نہیں۔

    میر خاں نے مزید بتایا کہ ان کے بہنوئی نہال خان 2005 میں اور بہن زینب الہیٰ 2014 میں انتقال کر گئیں۔ نہال خان نے اپنی زندگی میں زینب الہیٰ کو شرعی حصہ یعنی سولہواں (1/16) حصہ دیا تھا۔ بعدازاں، زینب الہیٰ نے چار کنال چھ مرلے کا رقبہ اپنی مرضی سے میر خاں کو فروخت کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب اس جائیداد کو بنیاد بنا کر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر وہ شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ میر خاں نے اپیل کی کہ انہیں انصاف دیا جائے، جعلسازی کی تحقیقات کرائی جائیں اور جانی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزار سکیں۔

  • اوچ شریف:سروس اسٹیشنز پر کریک ڈاؤن، ڈینگی مہم میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی, عمران سیال

    اوچ شریف:سروس اسٹیشنز پر کریک ڈاؤن، ڈینگی مہم میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی, عمران سیال

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) ڈینگی مہم کے فوکل پرسن اور ہیلتھ انسپکٹر عمران حیدر سیال کی جانب سے ڈینگی لاروا کی افزائش روکنے کے لیے سروس اسٹیشنز پر بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران بسم اللہ سروس اسٹیشن سمیت متعدد مقامات پر اچانک چھاپے مارے گئے، جہاں کھڑے پانی، ناقص صفائی اور انتظامی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔

    ہیلتھ انسپکٹر نے موقع پر موجود عملے کو واضح ہدایت دی کہ فوری طور پر کھڑے پانی کا خاتمہ کیا جائے اور تمام متاثرہ جگہوں پر موبائل آئل کا اسپرے یقینی بنایا جائے تاکہ ڈینگی لاروا کی افزائش کا ہر ممکنہ خطرہ ختم کیا جا سکے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران حیدر سیال نے کہا کہ ڈینگی ایک سنجیدہ اور جان لیوا مسئلہ ہے، جس پر کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ اگر صفائی کے انتظامات میں کوتاہی پائی گئی تو متعلقہ افراد کو نہ صرف بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے، اور اس مشن میں عوام، اداروں اور تمام متعلقہ فریقین کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا ہوں گی۔

    عمران حیدر سیال کا کہنا تھا کہ یہ جنگ صرف محکمہ صحت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کی یہ بھرپور کارروائی شہریوں میں ایک مثبت پیغام کا باعث بنی ہے کہ اب غفلت اور لاپرواہی کے دن گزر چکے ہیں، اور صحتِ عامہ سے کھیلنے والے عناصر کے گرد قانون کا شکنجہ مزید سخت کر دیا جائے گا۔