Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لنڈی کوتل: ہوائی فائرنگ سے صحافی کی بہن شدید زخمی، پشاور منتقل

    لنڈی کوتل: ہوائی فائرنگ سے صحافی کی بہن شدید زخمی، پشاور منتقل

    لنڈی کوتل (مہد شاہ شینواری کی رپورٹ) ہوائی فائرنگ سے صحافی کی بہن شدید زخمی، ہسپتال میں سہولیات کا فقدان، پشاور منتقل

    عید کی رات لنڈی کوتل کے مختلف علاقوں میں شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ کا خطرناک سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں صحافی نصیب شاہ شینواری کی بڑی بہن اور لنڈی کوتل بازار کے معروف ٹرانسفارمر مکینک حاجی ایوب شینواری کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں۔

    ذرائع کے مطابق خاتون کو بھائی خیل کے علاقے میں ہوائی گولی آ لگی، جس کے بعد انھیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈی کوتل منتقل کیا گیا۔ تاہم حاجی ایوب شینواری نے شکایت کی کہ ہسپتال میں ایمرجنسی کے دوران ایکسرے سمیت دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں، جس کی وجہ سے مریضہ کو فوری طور پر پشاور ریفر کیا گیا۔

    حاجی ایوب شینواری کے مطابق ایچ ایم سی حیات آباد کے ایمرجنسی یونٹ میں خاتون کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی گئیں، ایکسرے کیا گیا اور ڈاکٹرز نے چند روز بعد سرجری کے ذریعے گولی نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    واقعے کے بعد صحافی نصیب شاہ شینواری نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لنڈی کوتل اور آس پاس کے علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: عید پر آر پی او اور کمشنر کا ہسپتال، جیل اور چائلڈ بیورو کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان: عید پر آر پی او اور کمشنر کا ہسپتال، جیل اور چائلڈ بیورو کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر)عیدالاضحی کے پرمسرت موقع پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان اور کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے عوامی خدمت کے مختلف اداروں کا خصوصی دورہ کیا۔ ٹیچنگ ہسپتال، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور سنٹرل جیل میں کیے گئے ان دوروں کا مقصد مریضوں، بے سہارا بچوں اور قیدیوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنا اور ان کی خیریت دریافت کرنا تھا۔

    ٹیچنگ ہسپتال میں آر پی او اور کمشنر نے ٹراما سینٹر سمیت مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مٹھائی اور پھول پیش کیے۔ عملے کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے صحت کی سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

    چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے دورے میں بے سہارا بچوں سے ملاقات کی گئی، جہاں انہیں تحائف اور مٹھائی دی گئی۔ آر پی او نے بچوں کو حکومت کی طرف سے مکمل کفالت اور تحفظ کی یقین دہانی کروائی اور ادارے میں موجود سہولیات کا جائزہ لیا۔

    بعد ازاں، سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا گیا۔ ڈی آئی جی جیل اسد جاوید وڑائچ نے استقبال کیا اور جیل عملے نے سلامی پیش کی۔ آر پی او اور کمشنر نے نوعمر وارڈ، خواتین وارڈ، کچن اور دیگر بیرکس کا جائزہ لیا۔ قیدیوں میں مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے انہیں نیکی کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔ جیل کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے آر پی او نے موک ایکسرسائزز اور ہمہ وقت الرٹ رہنے کی ہدایت دی۔

    دورے کے دوران ڈی پی او سید علی، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ افسران کا کہنا تھا کہ عید کی خوشیوں میں ہر طبقے کو شریک کرنا حکومت پنجاب کی ترجیح ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: بری شاہ سے دری میرو روڈ پر تیز رفتار کار درخت سے جا ٹکرائی، چار افراد زخمی

    ڈیرہ غازیخان: بری شاہ سے دری میرو روڈ پر تیز رفتار کار درخت سے جا ٹکرائی، چار افراد زخمی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ) بری شاہ سے دری میرو روڈ پر ساڑھی والا کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار کار بے قابو ہو کر سڑک کنارے درخت سے جا ٹکرائی۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اطلاع شام 6 بج کر 25 منٹ پر کنٹرول روم کو موصول ہوئی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی ٹیم روانہ کی گئی۔ ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر دیکھا کہ کار بری طرح تباہ ہو چکی تھی اور چاروں افراد زخمی حالت میں موجود تھے۔

    زخمیوں میں ایک شخص کی دونوں ٹانگوں کی ہڈی (فیمر) ٹوٹ چکی تھی، جب کہ دوسرے کو سینے پر شدید چوٹیں آئیں۔ باقی دو افراد کو معمولی چوٹیں لگی تھیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام افراد ہوش میں تھے۔

    ریسکیو اہلکاروں نے تمام متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازیخان منتقل کر دیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

  • ننکانہ: ناقص صفائی پر کمپنی کو 10 لاکھ روپے جرمانہ، 2 گھنٹے میں بہتری کے احکامات

    ننکانہ: ناقص صفائی پر کمپنی کو 10 لاکھ روپے جرمانہ، 2 گھنٹے میں بہتری کے احکامات

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ صفائی ستھرائی کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے متحرک ہو گئے۔ انہوں نے تحصیل ننکانہ کے مختلف علاقوں، جن میں ننکانہ سٹی، موڑ کھنڈا، بچیکی اور منڈی فیض آباد شامل ہیں، کا دورہ کیا اور صفائی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    موڑ کھنڈا اور منڈی فیض آباد میں صفائی کے ناقص انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے صفائی کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ ساتھ ہی کمپنی کو ہدایت کی گئی کہ دو گھنٹوں کے اندر اندر صفائی کے معیاری انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

    بچیکی میں صفائی کے مثالی انتظامات پر ڈپٹی کمشنر نے عملے کو شاباش دی اور انہیں نقد انعامات سے بھی نوازا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ صفائی آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے اعلان کیا کہ وہ عید کے موقع پر صفائی کے مثالی انتظامات کو ہر صورت ممکن بنائیں گے اور اس مقصد کے لیے ضلع کے تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کا خود دورہ کریں گے۔

    انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ صفائی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اگر کہیں صفائی نہ ہونے کی شکایت ہو تو فوری طور پر کنٹرول روم کو اطلاع دیں۔

  • سکھر : بھینس چوری کے تنازع پر 3 افراد قتل، ایک بچہ زخمی

    سکھر : بھینس چوری کے تنازع پر 3 افراد قتل، ایک بچہ زخمی

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق لغاری)صوبہ سندھ کے شہر سکھر کے علاقے روہڑی کے قریب جھانگڑو تھانے کی حدود میں بھینس چوری کے تنازع پر جاگیرانی برادری کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں 3 افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ عید کے روز پیش آیا، جس نے علاقے میں کشیدگی کو ایک بار پھر بڑھا دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، تنازع کی ابتدا گزشتہ سال اس وقت ہوئی جب جاگیرانی برادری کے ایک گروپ نے دوسرے گروپ پر بھینس چوری کا الزام عائد کیا تھا۔ اس الزام کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، جو وقتاً فوقتاً پرتشدد جھڑپوں کی شکل اختیار کرتی رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں گزشتہ سال سے اب تک 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    چند ماہ قبل دونوں فریقین کے درمیان مقامی جرگے کے ذریعے صلح کرائی گئی تھی، اور امید کی جا رہی تھی کہ یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔ تاہم، عید کے روز ایک بار پھر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ اس جھڑپ میں فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا۔ زخمی بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    جھانگڑو تھانے کے پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ مزید خونریزی روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

    ایس ایچ او جھانگڑو تھانے نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ پرانے تنازع کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں گروپوں کے اہم افراد سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تصادم کو روکا جا سکے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد روہڑی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جاگیرانی برادری کے درمیان یہ تنازع نہ صرف خاندانوں بلکہ پورے علاقے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ کچھ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اور مقامی عمائدین مل کر اس تنازع کا مستقل حل نکالیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    بھینس چوری کے تنازعات دیہی سندھ میں اکثر خاندانی دشمنیوں کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ مویشی دیہی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح کے تنازعات اکثر جرگوں کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات صلح کے باوجود دشمنی دوبارہ سر اٹھاتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھا گیا۔

    پولیس اور مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • سیالکوٹ میں نماز عید الاضحیٰ کے اوقات کا اعلان

    سیالکوٹ میں نماز عید الاضحیٰ کے اوقات کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ کی مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں عید الاضحیٰ کی نماز کے اوقات جاری کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے اہم مقامات پر نماز کے اوقات درج ذیل ہیں:

    گھوئینکی اور گرد و نواح:
    مرکزی جامع مسجد انوار مدینہ ملک آباد گھوئینکی: صبح 6:45 بجے۔
    جامع مسجد اہلحدیث ڈسکہ روڈ گھوئینکی: صبح 5:25 بجے۔
    جامع مسجد محلہ دھریکانوالہ گھوئینکی:صبح 6:30 بجے۔
    جامع مسجد مدرسہ تدریس القرآن گھوئینکی: صبح 6:00 بجے۔

    پورن نگر اور محمد پورہ:
    جامع مسجد دارالسلام پورن نگر گلی نمبر 4: صبح 7:30 بجے۔
    جامع مسجد حنفیہ قادریہ محلہ چاہ سپال پورن نگر: صبح 7:00 بجے۔
    جامع مسجد مکی محمد پورہ: صبح 6:30 بجے۔

    دعوت اسلامی اور امام بارگاہیں:
    مدنی مرکز دعوت اسلامی فیضان مدینہ: صبح 5:45 بجے۔
    مسجد زینبیہ امام بارگاہ مستری محمد عبداللہ: صبح 8:00 بجے۔
    امام بارگاہ در بتول اڈہ پسروریاں: صبح 8:00 بجے۔

    کینٹ اور قریبی علاقے:
    جامع مسجد عثمانیہ کینٹ: صبح 6:00 بجے۔
    جامع مسجد عسکری کالونی نمبر 2: صبح 6:15 بجے۔
    جناح ایفیشنسی گراؤنڈ کینٹ:صبح 5:45 بجے۔
    جامع مسجد غوثیہ وارڈ نمبر 6 کینٹ: صبح 6:15 بجے۔

    ماڈل ٹاؤن اور دیگر مقامات:
    مرکزی جامع مسجد ماڈل ٹاؤن اگوکی: صبح 7:00 بجے۔
    جامع مسجد بلال ماڈل ٹاؤن سیالکوٹ: صبح 5:45 بجے۔
    جامع مسجد عمر کشمیری محلہ: صبح 7:00 بجے۔
    جامع مسجد بلال ڈالووالی:صبح 7:00 بجے۔
    سٹی ہاؤسنگ ایکسپورٹ گراؤنڈ:صبح 5:15 بجے۔
    بریگیڈیئر کالونی خواجہ صفدر روڈ: صبح 6:30 بجے۔

    شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ عید کی نماز کے لیے بروقت پہنچیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

  • مانہ احمدانی: انتظامیہ کی نااہلی کا نیا باب،عیدالاضحیٰ پر صفائی کا فقدان،عوام میں شاپر بھی تقسیم نہ ہوئے

    مانہ احمدانی: انتظامیہ کی نااہلی کا نیا باب،عیدالاضحیٰ پر صفائی کا فقدان،عوام میں شاپر بھی تقسیم نہ ہوئے

    ڈی جی خان عید الاضحیٰ سر پر ہے اور جہاں ملک کے دیگر شہروں میں قربانی کی آلائشوں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے شاپر بیگز کی تقسیم مکمل ہو چکی ہے، وہیں ڈی جی خان میں انتظامیہ کی نااہلی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ شہریوں کی جانب سے شدید شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ شہر میں صفائی کے انتظامات کا فقدان ہے اور قربانی کی آلائشیں جمع کرنے کے لیے ضروری شاپر بیگز بھی تقسیم نہیں کیے گئے۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ کے ذمہ دار افسران کی غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عید جیسے اہم موقع پر صفائی کے انتظامات کا فقدان نہ صرف شہریوں کے لیے اذیت کا باعث ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

    شہریوں کا سوال ہے کہ کیا ضلعی انتظامیہ اس صورتحال کا نوٹس لے گی اور بروقت اقدامات کرے گی، یا پھر ڈی جی خان کے باسیوں کو اس عید پر بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا؟

  • اوچ شریف: نہر میں ڈوبی بچی جاں بحق، کار حادثے میں دو زخمی

    اوچ شریف: نہر میں ڈوبی بچی جاں بحق، کار حادثے میں دو زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے نواحی علاقے آج دو دل دہلا دینے والے واقعات کی لپیٹ میں رہے جنہوں نے مقامی آبادی کو سوگوار کر دیا۔ ایک جانب تین سالہ معصوم بچی اقرا عباسیہ لنک کینال میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی، تو دوسری طرف موٹروے انٹرچینج کے قریب کار حادثے میں ایک مرد اور بچہ زخمی ہو گئے۔

    پہلا واقعہ اوچ شریف روڈ پر واقع عباسیہ لنک (ابو ظہبی) کینال کے کنارے پیش آیا، جہاں تین سالہ بچی اقرا کھیلتے ہوئے نہر میں جا گری۔ نہر کی گہرائی 16 فٹ جبکہ چوڑائی 200 فٹ بتائی گئی ہےاور حادثہ بچی کے گھر سے محض 50 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ ریسکیو 1122 کو صبح 5 بج کر 10 منٹ پر اطلاع دی گئی، جس پر واٹر ریسکیو وین، اسکیوبا ڈائیورز اور سات ریسکیورز پر مشتمل ٹیم 16 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی۔ کئی گھنٹوں کے ریسکیو آپریشن کے بعد بچی کی لاش قاسم والا بنگلہ (لیاقت پور) کے مقام سے نکال کر لواحقین کے حوالے کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    دوسرا واقعہ موٹروے ایم فائیو انٹرچینج کے قریب پیش آیا، جہاں لاہور سے رحیم یار خان جانے والی فیملی کی الٹو کار کو ایک تیز رفتار نامعلوم ٹرالر نے ٹکر مار دی۔ حادثے میں کار سوار ایک مرد کے سر پر شدید چوٹ آئی جبکہ ایک بچہ معمولی زخمی ہوا۔ ٹرالر ٹکر مارنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی طبی امداد دی اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور مفرور ٹرالر ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے دونوں واقعات میں بروقت کارروائی کی گئی، تاہم معصوم اقرا کی جان نہ بچائی جا سکی، جس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔

  • عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج

    عید الاضحی اور ہمارے رسم و رواج
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    عید الاضحی کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے "خوشی”—اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی، سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سرِفہرست ہے۔ اسی لیے اس دن ایک ناقابلِ بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔

    اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں۔ اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں حاصل کی جا سکتی۔

    ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ ڈاکیا موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ چاہے بچے ہوں، بوڑھے یا عورتیں، سب کارڈ کو چھو کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرا رہا ہوتا تھا، یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوں کو لگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔

    بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے۔ عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی۔ مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔ کارڈ تو رہا ایک طرف، کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ البتہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی کہ جو کارڈ 20 روپے میں مل جاتا تھا، وہ 10 پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔

    اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔ بچوں کو عید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی "عیدی” کا بھی ہوتا ہے۔ نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

    عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی، پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے، جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔

    لیکن اب ان کی قدر (ویلیو) اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے۔ اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

    ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے چارے اور آرائشی اشیاء کے اسٹال سج گئے ہیں۔ مویشی منڈیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد اپنے من پسند جانور کی تلاش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

    پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد، لاہور، ملتان، گجرات، سرگودھا، حیدرآباد، نوابشاہ، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام شہروں میں لگنے والی منڈیوں میں مویشیوں کی آمد اور خرید و فروخت کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔ بیوپاری اپنے مویشی ٹرکوں میں بھر کر مویشی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

    مویشی منڈیوں میں موجود اعلیٰ نسل کے بیل، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مویشی منڈی میں نئے قوانین نے بیوپاریوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث مویشیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث شہریوں کے لیے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے اور اجتماعی قربانی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔

    پاکستان میں عید الاضحی پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیادہ کے مویشیوں کا کاروبار ہوتا ہے، تقریباً 24 ارب روپے قصائی مزدوری کے طور پر کماتے ہیں۔ 4 ارب روپے سے زیادہ چارے کے کاروبار والے کماتے ہیں۔

    پاکستان میں عید الاضحی ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جس کے باعث پاکستان کو اور خاص طور پر حکومت کو بھی ڈھیر سارا فائدہ سمیٹنے کا موقع ملتا ہے۔ ویسے تو بیرون ملک سے ہونے والی ترسیلاتِ زر کے باعث حکومت کو ہر وقت فائدہ ملتا ہی رہتا ہے، تاہم عین عید الاضحی سے ایک ڈیڑھ یا دو ماہ قبل جو ترسیلات زر ہوتی ہیں، اس کا فائدہ سال بھر کے سیزن میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر صورت اس عید کے موقع پر جانور کی قربانی کے لیے پاکستان اپنے گھرانوں میں پیسہ بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ زرمبادلہ پاکستان بھیجیں گے، بے شک اس کا استعمال پاکستانی کرنسی میں آپ کا گھرانہ ہی کرے گا، تاہم بینکنگ اصطلاح میں اس کا فائدہ ملک کے خزانے کو ہی پہنچے گا۔

    اسی طرح وہ لوگ جو خاص طور پر عید الاضحی کے لیے مہینوں پہلے سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان کو بھی اس کا خوب فائدہ پہنچتا ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد جانوروں کی قربانی کی گئی، جس میں 35 لاکھ گائے، بیل، 55 لاکھ دنبے و بکرے، اور 80 ہزار کے قریب اونٹ قربان کیے گئے۔

    قربان کیے گئے جانوروں کی اوسط قیمت کے اعتبار سے پاکستان میں عید الاضحی کی معیشت اربوں روپے بنتی ہے۔ یہ محض جانوروں کے خرید و فروخت کے اعداد و شمار کا ایک اندازہ ہے، جبکہ چارے کا کاروبار، جانوروں کی نقل و حرکت، کھالوں کی خرید و فروخت اور دیگر کئی چھوٹی بڑی سرگرمیاں بھی اس عید سے منسلک ہیں۔

    اس کے نتیجہ میں ہونے والے کاروبار کا اندازہ لگانا بہت دشوار ہے۔ یہ بھی تو دیکھئے کہ بڑی عید پر غیر ہنر مند افراد کی ایک بڑی تعداد کو بھی روزگار ملتا ہے۔ ان میں مویشی پالنے والے، فروخت کرنے والے، ٹرانسپورٹرز، لوڈنگ کرنے والے اور قصاب بھی شامل ہیں جن کے لیے یہ تہوار روزگار کے مواقع لے کر آتا ہے۔

    پاکستانی کاروبار کی دنیا میں سب سے بڑا کاروبار عید پر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریبوں کو مزدوری ملتی ہے، کسانوں کا چارہ فروخت ہوتا ہے، دیہاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملتی ہے۔ اربوں روپے گاڑیوں اور ٹرکوں میں جانور لانے لے جانے والے کماتے ہیں۔

    بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیے مہنگا گوشت مفت میں ملتا ہے۔ کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت ہوتی ہیں، چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملتا ہے۔ یہ سب پیسہ جس جس نے کمایا ہے وہ اپنی ضروریات پر جب خرچ کرتے ہیں تو نہ جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوبارہ ہوتا ہے۔

    یہ قربانی غریب کو صرف گوشت نہیں کھلاتی، بلکہ آئندہ سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست ہوتا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں آن لائن مویشیوں کی خریداری کے رجحان میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے قربانی کے جانور کی فروخت اور آن لائن قربانی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    روایتی طریقے میں مویشی منڈی کا رخ کر کے اپنی پسند کی گائے، بچھیا، بکرے، دنبے اور اونٹ کا انتخاب ایک مشکل عمل ہے، تاہم انٹرنیٹ نے اب یہ مشکل بھی آسان بنا دی ہے اور قربانی کا فریضہ ادا کرنے والے گھر بیٹھے ہی جانور خرید سکتے ہیں۔

    شہری اپنے جانوروں کو خوبصورت بنانے کے لئے دیدہ زیب مورے، گلے کے پٹے، گھنگھرو، گھنٹیاں، ہار، مصنوعی پھول، چمڑے کی نکیل اور چارے کے لئے ہری گھاس، سوکھی گھاس، کٹی، لوسن، بھوسا، بھوسی، جنتر، چوکر دانہ، کھل، چنا اور دیگر اشیاء خرید رہے ہیں جن کی قیمتوں میں بھی پچھلے سال کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس مہنگائی میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن جانوروں کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔

  • گھوٹکی پولیس نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی کو کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے سے بچا لیا

    گھوٹکی پولیس نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی کو کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے سے بچا لیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق لغاری) گھوٹکی پولیس نے کچے کے علاقے میں ممکنہ اغواء کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی شہری کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ پولیس نے نیشنل ہائی وے پر بروقت ناکہ بندی اور موثر گشت کے ذریعے اغواء کاروں کے منصوبے کو ناکام بنایا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ تھانہ سرحد پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نیشنل ہائی وے کے قریب ٹنڈو ہوٹل کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے غلام حسن خان ولد قالو خان کھوسہ سکنہ راجپوت کالونی ڈیرہ غازی خان کو اغواء ہونے سے بچا لیا۔

    غلام حسن کھوسہ نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بیٹا ایک لڑکی سے فون پر رابطے میں تھا، جو اسے شادی کے لیے بلوا رہی تھی۔ آج وہ اپنے بیٹے کا رشتہ طے کرنے کے لیے کچے کے علاقے جا رہا تھا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے اغواء ہونے سے بچا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم اغواء کا جال تھا جسے لڑکی کے ذریعے پھنسایا گیا تھا۔

    بازیاب ہونے والے شہری نے ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس بروقت مداخلت نہ کرتی تو وہ ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ چکا ہوتا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    گھوٹکی پولیس کے ترجمان کے مطابق، اغواء کی اس ممکنہ کوشش کے پیچھے سرگرم گروہوں کی تلاش کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔