Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: سینگ بنانے کا ظالمانہ دھندہ، جانور اذیت کا شکار، محکمہ لائیوسٹاک بے خبر

    اوچ شریف: سینگ بنانے کا ظالمانہ دھندہ، جانور اذیت کا شکار، محکمہ لائیوسٹاک بے خبر

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور گردونواح میں مویشیوں کے سینگ (سنگ) نکلوانے کے لیے غیر تربیت یافتہ کاریگروں کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے جانوروں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لوہے کے گرم راڈ، زنگ آلود چاقو، آری اور ہتھوڑے جیسے غیر معیاری اوزاروں کے استعمال سے جانور شدید زخمی ہو رہے ہیں، بیمار پڑ رہے ہیں، اور کئی تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق مویشی پال حضرات سستی اور فوری سہولت کی تلاش میں ایسے اناڑی کاریگروں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جو جانوروں پر ظلم کا بازار گرم کر رہے ہیں۔ اس غیر سائنسی عمل کے نتیجے میں جانوروں کے زخم گل جاتے ہیں، شدید خون بہتا ہے، انفیکشن پھیلتا ہے اور کئی صورتوں میں جانور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    ویٹرنری ڈاکٹر اجمل نے واضح کیا ہے کہ سینگ نکلوانا ایک جراحی عمل ہے، جس میں جانور کو درد سے بچانے کے لیے اینستھیزیا دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صفائی ستھرائی کے بغیر زخموں کا کھلنا جانوروں کو جان لیوا انفیکشن میں مبتلا کر سکتا ہے۔

    مقامی کسان غلام شبیر نے بتایا کہ غیر تربیت یافتہ کاریگر کے ہاتھوں ان کی گائے زخمی ہو گئی اور اس نے دودھ دینا بند کر دیا۔ اس صورتحال نے انہیں بھاری مالی نقصان سے دوچار کیا ہے۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اب تک نہ تو کوئی آگاہی مہم چلائی گئی ہے اور نہ ہی ایسے غیر تربیت یافتہ کاریگروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ اس عدم توجہی پر عوامی اور ماہرین دونوں حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

    شہری اور ماہرین ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ویٹرنری خدمات کو دیہی علاقوں تک پہنچایا جائے، عوام میں شعور بیدار کیا جائے، اور غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے جانوروں کے سینگ نکالنے پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ معصوم جانوروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • احمد پور شرقیہ: چوک منیر شہید کے قریب نشئی شخص کی لاش برآمد

    احمد پور شرقیہ: چوک منیر شہید کے قریب نشئی شخص کی لاش برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے علاقے چوک منیر شہید کے قریب ایک نشئی شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق متوفی کی شناخت 28 سالہ سلمان ولد محمد سراج کے نام سے ہوئی، جو محلہ اسلام پور، احمد پور شرقیہ کا رہائشی تھا۔

    اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی، تاہم پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص پہلے ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔ ابتدائی مشاہدے میں لاش پر کسی قسم کے زخم یا پرتشدد کارروائی کے آثار نہیں ملے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق جب لاش کو اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو لواحقین نے اسے اسپتال لے جانے سے انکار کر دیا، جس پر تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔

  • گجرات: چناب یونیورسٹی میں موٹر وے پولیس کے زیر اہتمام روڈ سیفٹی سیمینار

    گجرات: چناب یونیورسٹی میں موٹر وے پولیس کے زیر اہتمام روڈ سیفٹی سیمینار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز پولیس کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف چناب گجرات میں روڈ سیفٹی سیمینار منعقد کیا گیا۔ ڈی آئی جی افضال احمد کوثر کی ہدایت پر ایس پی فرخ رضا کی نگرانی میں منعقدہ سیمینار میں مہمان خصوصی ڈی ایس پی اشفاق احمد (کلیر لائنز ہیڈکوارٹر) تھے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی طاہر حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز عمران ارشد، یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    سیمینار کا مقصد نوجوانوں میں روڈ سیفٹی اور ٹریفک قوانین سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔ انسپکٹر عثمان حیدر، انسپکٹر شمریز اقبال، انسپکٹر عابد طور اور انسپکٹر عمرانہ نے شرکا کو سیفٹی ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ کے استعمال، لین ڈسپلن، اوور اسپیڈنگ اور رانگ سائیڈ ڈرائیونگ جیسے اہم موضوعات پر بریفنگ دی۔ ڈرائیونگ لائسنس کی قانونی اہمیت اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

    ڈی ایس پی اشفاق احمد نے کہا کہ طلبہ ملک کا سرمایہ ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جانوں کو بھی محفوظ رکھیں۔ عمران ارشد نے کہا کہ اس قسم کے پروگرام وقتاً فوقتاً ہونے چاہییں تاکہ معاشرے میں محفوظ ڈرائیونگ کا شعور پیدا ہو۔

    شرکا نے سیمینار کو مفید قرار دیتے ہوئے موٹر وے پولیس کی اس کوشش کو سراہا اور ایسے مزید پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔

  • حافظ آباد: مسلح افراد کی خاتون سے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی، ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج

    حافظ آباد: مسلح افراد کی خاتون سے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی، ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج

    حافظ آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) مسلح افراد کی خاتون سے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی، ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج

    حافظ آباد میں انسانیت سوز واقعہ منظر عام پر آیا ہے جہاں ایک ماہ قبل مسلح افراد نے ایک خاتون کو اُس کے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں چار نامزد سمیت آٹھ ملزمان کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے مدعی کے مطابق واقعے کے فوری بعد پولیس کو شکایت کی گئی تھی لیکن مقدمہ درج کرنے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ مدعی نے الزام عائد کیا کہ جب وہ ڈی پی او آفس شکایت لے کر جاتے تو وہاں تعینات ایک ملزم کے رشتہ دار انہیں دھمکا کر واپس بھیج دیتے تھے۔

    سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او حافظ آباد نے نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ.تحریر:لاریب اقراء

    سگریٹ ،غریب آدمی اور یہ معاشرہ
    از قلم: لاریب اقراء
    سگریٹ نوشی آج کے دور میں ایک عام عادت نہیں رہی بلکہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلتی ہوئی معاشرتی، طبی اور معاشی بیماری بن چکی ہے۔ یہ بیماری غریب اور امیر دونوں طبقوں کو ایک جیسا نقصان پہنچا رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج معاشرے کے ہر طبقے میں، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، نوجوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، سگریٹ کو نہ صرف پیا جا رہا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں اسے ایک “رواج” اور “ضرورت” سمجھ کر قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ اور اس بات کو نجانے کیوں ہلکا لیا جارہا ہے ۔

    امیر طبقہ سگریٹ کو ایک “اسٹیٹس سمبل” یعنی عیش و آرام کی علامت سمجھ کر استعمال کرتا ہے، جبکہ غریب طبقہ ذہنی دباؤ، غربت، بے روزگاری یا ماحول کے منفی اثرات کے باعث اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ امیر آدمی کے لیے شاید سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت معمولی ہو، لیکن غریب کے لیے یہی سگریٹ روزانہ اس کی جیب سے روٹی، دوا، تعلیم، اور بچوں کی خوشی چھین لیتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب ایک شخص جو دن بھر محنت مزدوری کر کے چند روپے کماتا ہے، وہ انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ میں جھونک دیتا ہے، اور یوں نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے خاندان کا مستقبل بھی برباد کرتا ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مہلک لت کو صرف غریب طبقے سے نہیں، بلکہ پورے پاکستان سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ عادت جہاں غریب کو فاقوں کی طرف لے جاتی ہے، وہیں امیر کو بیماریوں کی طرف دھکیلتی ہے۔ سگریٹ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے جُڑے ہر انسان، ہر خاندان، ہر محلے، ہر ہسپتال، اور ہر ملک کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس زہر کو معاشرے سے ختم کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ حکومت سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگائے تاکہ یہ اتنا مہنگا ہو جائے کہ کوئی بھی اسے خریدنے سے پہلے کئی بار سوچے۔ غریب آدمی کو جب یہ احساس ہو کہ ایک سگریٹ کے بدلے وہ اپنے بچے کے لیے دودھ، کتاب یا دوا خرید سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی لت پر قابو پانے کا فیصلہ کرے۔

    حکومت کو سگریٹ فروشی پر بھی سخت قوانین لاگو کرنے چاہییں۔ دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ نابالغوں کو سگریٹ فروخت نہ کریں اور ایسی دکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے جہاں یہ زہر عام مل رہا ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ دکانوں کے آس پاس اشتہارات، بورڈز یا ایسے پوسٹرز جو سگریٹ کو فروغ دیتے ہوں، انہیں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

    اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ خاص طور پر غریب اور کم تعلیم یافتہ افراد کو سمجھایا جائے کہ سگریٹ کا ہر کش ان کے جسم کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، ان کے پھیپھڑوں، دل، دانت، اور دماغ کو آہستہ آہستہ تباہ کر رہا ہے۔ وہ نادانی میں صرف اپنی ہی صحت کو نہیں بلکہ اپنے بچوں، بیوی، والدین اور آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    اس مقصد کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا، اسکول، مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور فلاحی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایسے پروگرام ہونے چاہییں جن میں عوام کو آسان زبان میں، تصویروں اور مثالوں کے ذریعے بتایا جائے کہ سگریٹ کیسے خاموشی سے زندگی چھین لیتا ہے۔

    حکومت اور فلاحی ادارے اگر نکوٹین چھوڑنے کے پروگرامز جیسے مفت مشاورت، دوا، نکوٹین پیچ اور سپورٹ گروپس فراہم کریں تو بہت سے لوگ اس عادت کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔ اصل ضرورت صرف ایک "سہارے” کی ہے — ایک ہمدرد آواز، ایک خالص نیت والا ہاتھ، جو ان لوگوں کو اس دھوئیں سے نکال کر صاف اور روشن زندگی کی طرف لے جائے۔

    نوجوان طبقہ اس کا سب سے آسان شکار بنتا ہے۔ جب وہ اپنے بڑوں کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں تو وہ اسے "معمول” سمجھ کر اپنانے لگتے ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی لیڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو ابتدا سے ہی اس لت سے دور رکھنے کی تربیت دینا ہوگی۔

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک زہر ہے جو جسم، دماغ، تعلقات، معیشت اور نسلوں کو خاموشی سے نگل رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی فرد ” چاہے وہ غریب ہو یا امیر ” اس زہر سے محفوظ رہے تو ہمیں پورے ملک میں اس کے خلاف ایک مضبوط، مسلسل، اور اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو کل ہمارے بچے بھی اسی دھوئیں میں سانس لیں گے جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک بات جو سوشل میڈیا پر کچھ دنوں پہلے بہت وائرل تھی ۔
    کہ سگریٹ مرد پیے تو پھپھڑے خراب اگر عورت پیے تو کردار خراب ۔۔۔۔ ایسا کیوں
    یہ کہاوت ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظریات کی عکاس ہے جہاں مردوں کی سگریٹ نوشی کو عموماً صحت کے نقصان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کی سگریٹ نوشی کو کردار کی خرابی اور سماجی بدنامی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق درحقیقت ہمارے معاشرے میں صنفی امتیاز اور قدامت پسند سوچ کی عکاسی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ نوشی مرد و زن، ہر انسان کے لیے ایک زہر ہے جو نہ صرف جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ شخصیت، وقار اور زندگی کے ہر پہلو کو دھوئیں میں لپیٹ لیتا ہے۔

  • بہاولپور: سیٹلائٹ ٹاؤن قبرستان تک ٹف ٹائل کی تنصیب مکمل

    بہاولپور: سیٹلائٹ ٹاؤن قبرستان تک ٹف ٹائل کی تنصیب مکمل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق کے حکم پر ٹینکی گیٹ سے سیٹلائٹ ٹاؤن قبرستان کے گیٹ تک ٹف ٹائل بچھانے کا اہم منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری صاحبزادہ محمد گزین خان عباسی ایم پی اے نے گرانٹ مختص کی تھی۔ تاہم، گزشتہ چھ ماہ کے دوران محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے دو مرتبہ ٹھیکیدار کو اس منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا، جس سے علاقے کے باشندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مدیر روزنامہ احمد پور شرقیہ احسان احمد سحر نے سابق کونسلر حاجی فدا حسین جٹھول اور روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ کے نوجوان نمائندے ملک محمد سجاد کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو سیٹلائٹ ٹاؤن اور اس کے نواحی علاقوں کے باشندگان کو قبرستان میں اپنی میتوں کو لے جانے میں درپیش مشکلات اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی بے حسی سے آگاہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر محمد نوید حیدر کو فون کال کر کے اس عوامی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ، اسسٹنٹ کمشنر محمد نوید حیدر کی خصوصی دلچسپی اور مداخلت سے یہ معاملہ بخوبی حل ہو گیا اور ٹف ٹائل کی تنصیب کا کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

    چیف ایڈیٹر احسان احمد سحر اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے باشندگان نے قبرستان سیٹلائٹ ٹاؤن کے گیٹ تک ٹف ٹائل بچھانے کا صاحبزادہ محمد گزین خان عباسی ایم پی اے کا منصوبہ بطریق احسن مکمل کرانے پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق اور اسسٹنٹ کمشنر محمد نوید حیدر سے دلی اظہار تشکر کیا ہے۔

  • سیالکوٹ: واپڈا اہلکار کی صحافی سے بدکلامی و دھمکیاں، میڈیا سراپا احتجاج

    سیالکوٹ: واپڈا اہلکار کی صحافی سے بدکلامی و دھمکیاں، میڈیا سراپا احتجاج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ میں واپڈا کے کینٹ سب ڈویژن پلی توپخانہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں واپڈا اہلکار کی مبینہ بدزبانی، بدکلامی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب معروف سینئر صحافی شکیل سیھٹی نے اپنے جائز کام کے حصول کے لیے مبینہ طور پر پیسوں کی ڈیمانڈ پوری نہ کی۔ اس واقعے نے نہ صرف میڈیا حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے بلکہ سائلین نے بھی مذکورہ اہلکار کے متکبرانہ رویے کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، کینٹ سب ڈویژن پلی توپخانہ میں تعینات اسسٹنٹ لائن مین زوہیب نے سینئر صحافی شکیل سیھٹی کو اس بات پر شدید طیش میں آ کر گالم گلوچ اور بدزبانی شروع کر دی کہ ان کی درخواست پر عملدرآمد کرنا واپڈا اہلکار کی ڈیوٹی میں شامل ہے۔ زوہیب نے بدزبانی کے بعد ہاتھا پائی کی کوشش کی اور سینئر صحافی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

    موقع پر موجود سائلین کے بیچ بچاؤ کے بعد سینئر صحافی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ سائلین نے بھی زوہیب نامی اہلکار کے متکبرانہ رویے کی شکایات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ناروا سلوک کرتا ہے۔

    اس واقعے کے بعد معروف سینئر صحافی شکیل سیھٹی نے ایس سی واپڈا اور ایس ایچ او کینٹ سے داد رسی کی درخواست کی ہے اور قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا نمائندگان اور میڈیا یونینوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور حکام بالا سے ایسی "کالی بھیڑوں” کو محکمہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا برادری نے اپنے صحافی بھائی شکیل سیھٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

  • مریم نواز کا انقلابی اقدام: بچوں کو گھر پر مفت انسولین فراہمی کا آغاز

    مریم نواز کا انقلابی اقدام: بچوں کو گھر پر مفت انسولین فراہمی کا آغاز

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انسانی ہمدردی اور فلاح عامہ کی شاندار روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے صحت عامہ کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ "وزیراعلیٰ انسولین کارڈ پروگرام” کے تحت اب ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کو نہ صرف مفت انسولین فراہم کی جا رہی ہے بلکہ یہ زندگی بچانے والی دوا اور اس سے منسلک ضروری طبی سامان براہ راست ان کے گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس عظیم الشان اقدام کا مقصد ان معصوم جانوں کو تکلیف دہ سفر، قطاروں، دھوپ اور انتظار کی اذیت سے بچا کر باعزت، باوقار اور بروقت علاج مہیا کرنا ہے۔

    یہ صرف ایک منصوبہ نہیں، بلکہ ماں جیسے احساس سے جڑا وہ عمل ہے جو ریاستی سطح پر بچوں کی صحت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع ننکانہ صاحب میں بھی یہ مہم زور و شور سے جاری ہے، جہاں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم آختر راؤ کی ہدایات پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر طلحہ شیروانی نے ضلع بھر میں گھر گھر انسولین پہنچانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ان ٹیموں کی نگرانی انچارج این سی ڈی اے ڈاکٹر راؤ سکندر اور فوکل پرسن نواز دیرتھ کر رہے ہیں، تاکہ کسی بھی بچے کا علاج کسی بھی لمحے متاثر نہ ہو اور وہ ایک محفوظ، خوشحال اور صحت مند زندگی کی طرف گامزن ہو سکے۔

    اس انسان دوست پروگرام کا باقاعدہ افتتاح سٹی ننکانہ کے تین بچوں، ابو ہریرہ، عائشہ اور فاطمہ کے گھروں سے کیا گیا، جہاں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی نے خود ان کے دروازے پر انسولین پہنچا کر اس مشن کا عملی مظاہرہ کیا۔ یہ مناظر صرف دوا کی فراہمی نہیں تھے بلکہ ایک ریاستی عزم کا مظہر تھے جو ثابت کر رہے ہیں کہ پنجاب میں اب علاج عزت سے، بغیر سفارش اور گھر کی دہلیز پر دستیاب ہے۔ یہ وہ قدم ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی جب پنجاب کی بیٹی نے پنجاب کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھا اور ان کی صحت کا ذمہ اٹھایا۔

  • ڈائریکٹر کالجز بہاولپور کا ڈیرہ نواب صاحب کالج کا سرپرائز وزٹ

    ڈائریکٹر کالجز بہاولپور کا ڈیرہ نواب صاحب کالج کا سرپرائز وزٹ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور/ملتان کی ہدایات کی روشنی میں ڈائریکٹر کالجز بہاولپور ڈویژن، پروفیسر ڈاکٹر رانا شرافت علی نے گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج ڈیرہ نواب صاحب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد کالج میں جاری تعمیری و تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لینا تھا۔

    دورے کے دوران، کالج کے پرنسپل پروفیسر شاہد حسین مغل، وائس پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سیف اللہ جامعی، پروفیسر ظفر اقبال، اور کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے معزز مہمان کو کالج کے مختلف بلاکس کا تفصیلی دورہ کرایا۔

    ڈائریکٹر کالجز نے کالج کی پرانی عمارت میں جاری تعمیراتی کاموں، کلاس رومز، کمپیوٹر لیبز اور فرنیچر کی دستیابی کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے خیرپور ڈاہا کیمپس کے لیے فراہم کردہ کمپیوٹرز اور دیگر سہولیات کو بھی حکومتی معیار کے مطابق پایا۔ طلباء و طالبات کے لیے بنیادی سہولیات، خصوصاً ٹھنڈے پانی کے کولرز کی دستیابی کو بھی جانچا گیا۔

    اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر رانا شرافت علی نے کالج کے تدریسی اور انتظامی نظام کو سراہا اور اسٹاف کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے انٹرمیڈیٹ بورڈ بہاولپور کے تحت قائم امتحانی مراکز کا بھی معائنہ کیا اور امتحانی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔

    ڈائریکٹر کالجز نے کالج کی بہتری کے لیے پرنسپل پروفیسر شاہد حسین مغل، کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر الطاف ڈاھر جلالوی اور دیگر فیکلٹی ممبران کی شب و روز کی کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ اس موقع پر ہیڈ کلرک فرخ نوید، سپرنٹنڈنٹ خالد رشید چشتی اور دیگر کالج اسٹاف بھی موجود تھے۔

  • تنگوانی: بدامنی کیخلاف شہریوں کا احتجاج، پولیس کیخلاف نعرے، دھرنا جاری

    تنگوانی: بدامنی کیخلاف شہریوں کا احتجاج، پولیس کیخلاف نعرے، دھرنا جاری

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی شہر اور گردونواح میں بدامنی کے بڑھتے واقعات کے خلاف شہری اتحاد کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    ریلی نادرا چوک سے شروع ہو کر وین اسٹاپ پہنچی جہاں مظاہرین نے دھرنا دے دیا۔ مظاہرین نے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    ریلی سے قاری کفایت اللہ کوسو، رحدل لاشاری، عبدالفتاح کنرانی، سھرب ملک، مولانا محمد صلاح ملک، ھوران بھلکانی، غلام حسین باجکانی، وقار احمد ملک، محمد سچل ملک اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تنگوانی اور اس کے گرد و نواح میں چوری، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی نے شہریوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

    شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تنگوانی میں فوری طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے اور مقامی پولیس کی غفلت اور ملی بھگت کی تحقیقات کی جائیں۔

    دھرنا تاحال جاری ہے اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔