Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میرپورخاص: غیرقانونی مویشی منڈیاں، انتظامیہ خاموش، شہر مفلوج

    میرپورخاص: غیرقانونی مویشی منڈیاں، انتظامیہ خاموش، شہر مفلوج

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) انتظامیہ کی غفلت یا ملی بھگت؟ غیرقانونی مویشی منڈیوں نے شہر کو چراگاہ میں بدل دیا

    عید قرباں کی آمد سے قبل میرپورخاص شہر بدترین شہری مسائل کا شکار ہو چکا ہے، جہاں غیرقانونی اور خودساختہ مویشی منڈیوں نے نہ صرف ٹریفک نظام کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی نے عوامی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔

    کھپرو ناکہ، سندھڑی روڈ، چاندنی چوک، کے ایف سی چوک سمیت شہر کے اہم تجارتی اور رہائشی علاقوں میں سڑکیں جانوروں، بیوپاریوں اور خریداروں سے بھری پڑی ہیں۔ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جبکہ شہریوں کو دفتر، اسکول، اسپتال اور بازار جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن ضلعی و شہری انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور بلدیاتی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں مویشی منڈیوں کا یہ غیرقانونی پھیلاؤ انتظامیہ کی ناکامی ہی نہیں بلکہ ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ بیوپاریوں کے مطابق شہر سے باہر قائم سرکاری مویشی منڈیوں میں بھتہ مافیا راج کرتا ہے جہاں ہر جانور پر الگ الگ ٹیکس، فیس اور رشوت وصول کی جاتی ہے۔ اس مالی استحصال سے تنگ آ کر بیوپاریوں نے شہر کے اندر خودساختہ منڈیاں لگا لیں، جس سے پورا شہر متاثر ہو رہا ہے۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کو بارہا شکایات کے باوجود نہ کوئی کاروائی کی گئی، نہ کوئی منصوبہ بندی سامنے آئی۔ یہ صورتحال انتظامیہ کی نااہلی کے ساتھ ساتھ شہر میں بڑھتی ہوئی انارکی اور بدانتظامی کی کھلی عکاسی کرتی ہے۔ نہ صفائی کا نظام ہے، نہ سینیٹیشن، نہ سیکیورٹی، اور نہ ہی ٹریفک کنٹرول۔

    سڑکوں پر بدبو، جانوروں کی گندگی، اور خریداروں کا ہجوم شہر کو کسی مویشی چراگاہ کا منظر دے رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وبائی امراض کے پھیلنے اور کسی بڑے حادثے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:

    1. شہر کے تمام غیرقانونی مویشی منڈیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
    2. شہر سے باہر شفاف اور منظم مویشی منڈیوں کے قیام کو یقینی بنایا جائے جہاں بھتہ خوری نہ ہو۔
    3. بھتہ مافیا اور غیرقانونی منڈیوں کے پشت پناہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    4. ٹریفک پولیس، میونسپل کمیٹی اور دیگر ادارے فوری حرکت میں آئیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

    اگر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ عید کے بعد جاگے گی یا کسی بڑے سانحے کا انتظار کرے گی؟

  • ڈیرہ غازی خان: یومِ تکبیر یومِ تشکر کے طور پر منایا گیا

    ڈیرہ غازی خان: یومِ تکبیر یومِ تشکر کے طور پر منایا گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ضلع ڈیرہ غازی خان میں 28 مئی کو یومِ تکبیر کو یومِ تشکر کے طور پر بھرپور ملی جذبے سے منایا گیا۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور سماجی تنظیموں کی جانب سے تقریبات، سیمینارز اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ضلع کی سب سے بڑی اور مرکزی ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے کچہری چوک تک نکالی گئی، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور رکن پنجاب اسمبلی محمد حنیف پتافی نے کی۔ ریلی میں سول سوسائٹی، سرکاری افسران، سیاسی و سماجی شخصیات، مختلف مکاتبِ فکر کے افراد اور نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔

    ایم پی اے محمد حنیف پتافی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 مئی کو پاک فوج نے حالیہ آپریشن میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر کے یومِ تکبیر کے پیغام کو عملی طور پر دہرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا ہر فرد پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دفاع وطن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ تکبیر کو یومِ تشکر کے طور پر منانا ہماری قومی غیرت اور تشخص کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی قوت بن کر دنیا کو باور کرایا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر خودمختار ہیں۔ 28 مئی ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جس نے امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

    ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے ہوئے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ جیسے فلک شگاف نعرے لگائے۔ ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یومِ تکبیر کی طرح ہر موقع پر قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن کے دفاع کے لیے متحد رہیں گے۔

  • دیپالپور: یومِ تکبیر پر شاندار ریلی، وطن سے محبت کا بھرپور اظہار

    دیپالپور: یومِ تکبیر پر شاندار ریلی، وطن سے محبت کا بھرپور اظہار

    دیپالپور (باغی ٹی وی،نامہ نگارامتیاز شاہین چوہدری) یومِ تکبیر کے موقع پر میونسپل کمیٹی اور سول سوسائٹی کے زیراہتمام پرچم کشائی کی پروقار تقریب اور وطن سے محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے شاندار ریلی نکالی گئی۔ ریلی میونسپل کمیٹی دفتر سے مدینہ چوک تک نکالی گئی، جس میں سی او بلدیہ فاروق ارشاد کلاسن، افسران، سول سوسائٹی، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    شرکائے ریلی نے "نعرہ تکبیر”، "پاک فوج زندہ باد” اور "پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ قومی پرچموں اور بینرز سے سجی اس ریلی نے شہر میں حب الوطنی کا جذبہ تازہ کر دیا۔

    اس موقع پر سی او بلدیہ فاروق ارشاد کلاسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28 مئی 1998 کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ ناقابلِ فراموش لمحہ ہے جب وطنِ عزیز نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں جوہری طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑوں میں ہونے والے ان سات کامیاب ایٹمی دھماکوں سے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور وطن عزیز کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا گیا۔

    فاروق ارشاد کلاسن نے کہا کہ یومِ تکبیر ہماری قومی حمیت، سائنسی ترقی، عسکری طاقت اور سیاسی قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کا دن ہے، جسے پاکستانی قوم ہر سال بھرپور جوش و خروش اور قومی یکجہتی کے ساتھ مناتی ہے۔

    ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی رہنما حافظ حسان صدیقی نے کہا کہ 28 مئی 1998 کو عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے جوہری دھماکے کیے اور بھارت کو بھرپور جواب دیا۔ یہ کارنامہ اس وقت کی سیاسی قیادت، سائنس دانوں اور مسلح افواج کی قومی خدمت کا عملی ثبوت تھا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہوکر ہم ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں پاک فوج نے "آپریشن بنیانِ مرصوص” کے ذریعے دشمن کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

    ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطن عزیز کے دفاع اور سالمیت کے لیے ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  • تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ) کرم پور کے نزدیک ڈاکوؤں نے ایک پٹرول فروش سے لوٹ مار کی، جبکہ تنگوانی کے قریب کاروکاری کے پرانے تنازع پر ہونے والے جھگڑے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔

    تنگوانی کے قریب پولیس تھانے کی حدود میں ہائی وے روڈ، شکارپور کندہ کوٹ روڈ پر واقع بیگاری پل پر ایک لوکل پٹرول بیچنے والے نوجوان رمضان بجارانی سے ڈاکوؤں نے چار بھری ہوئی پٹرول کی بوتلیں اور 1500 روپے نقدی چھین لی اور باآسانی فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی لوٹ مار کی وارداتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

    دوسری جانب تنگوانی کے قریب نظر واہ گاؤں ساجد خان بنگلانی میں بنگلانی قبیلے کے دو فریقین کے درمیان کاروکاری کے پرانے تنازع پر جھگڑا ہو گیا۔ جھگڑے میں لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلانی برادری کے دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں خاندانی تنازعات کے دیرینہ مسائل اور ان کے پرتشدد نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔

  • تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ)بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    : تنگوانی کے قریب گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ گاؤں والوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    خبر کے مطابق گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر نے اچانک بستی کے رہائشی عبدالجبار ڈاہانی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ گاؤں کے افراد نے فوری طور پر جمع ہو کر زخمی شخص کو بچانے کی کوشش کی اور مشترکہ طور پر حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    یہ واقعہ علاقے میں جنگلی جانوروں کے انسانی آبادی میں داخل ہونے اور حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔

  • تنگوانی: ہائی وے پر دن دہاڑے ڈکیتی، پولیس ‘تماشہ دیکھتی رہی،عوام کا شدید احتجاج

    تنگوانی: ہائی وے پر دن دہاڑے ڈکیتی، پولیس ‘تماشہ دیکھتی رہی،عوام کا شدید احتجاج

    تنگوانی، (نامہ نگار منصور بلوچ): کراچی سے تنگوانی آنے والی ایک مسافر کوچ کو تنگوانی نہر کے قریب ہائی وے روڈ پر ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت قریبی گشتی پولیس موبائل موجود تھی لیکن انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے۔ اس واقعے پر مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ لوٹا ہوا سامان واپس دلوانے کا مطالبہ کیا۔

    تنگوانی نہر کے پاس ہائی وے روڈ پر ڈاکوؤں نے مسافر کوچ کو روکا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ ڈاکوؤں نے مسافروں، جن میں مرد، عورتیں، بزرگ اور بچے شامل تھے، سے زیورات، نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔ لوٹا ہوا سامان انہوں نے اپنی ریڑھی پر رکھا اور بلا کسی مزاحمت کے فرار ہو گئے۔

    اس واقعے کے بعد پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی گشتی موبائل جائے وقوعہ کے قریب ہی موجود تھی لیکن ڈاکوؤں کو روکنے یا ان کا پیچھا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پولیس کی جانب سے مکمل خاموشی دیکھنے میں آئی، جس پر مسافروں اور مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    ڈکیتی کا شکار ہونے والے مسافروں نے روڈ بلاک کر کے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے پولیس کی غیر ذمہ داری کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کا لوٹا ہوا سامان فوری طور پر واپس دلوایا جائے اور ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جائے۔ یہ واقعہ تنگوانی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی کو نمایاں کرتا ہے۔

  • حافظ آباد :یوم تکبیر کی مرکزی تقریب، پاکستان کے ایٹمی دفاع کو خراج تحسین

    حافظ آباد :یوم تکبیر کی مرکزی تقریب، پاکستان کے ایٹمی دفاع کو خراج تحسین

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبرنگارشمائلہ) حافظ آباد میں یوم تکبیر کی مرکزی تقریب آج ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے پرچم کشائی کی، جس کے بعد پولیس دستوں نے سلامی پیش کی۔

    تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری تہوّر حسین تارڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اینڈ فنانس حامد ناصر گورائیہ، اسسٹنٹ کمشنر سلمان اکبر، سی ای او ایجوکیشن محمد اکرم اشرف، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر محکموں کے افسران، ملازمین کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری تہوّر حسین تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں پہلی مسلمان ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہے، جو نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ایٹمی طاقت کی بدولت دشمن کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والے ملک پاکستان کے دفاع کے لیے پوری قوم متحد ہے اور اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    مقررین نے مزید کہا کہ 1998 میں حکومتی اور افواج پاکستان کی قیادت اور ہمارے قابل فخر سائنسدانوں نے ایٹمی دھماکہ کر کے پوری دنیا کو یہ ثابت کیا کہ ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ ہم ایک پرامن، بہادر اور جرات مند قوم ہونے کے ساتھ ساتھ ایٹمی قوت بھی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دشمن نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش بھی کی تو ہم نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ دشمن کے ہر ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔

    اس موقع پر ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی، استحکام، سربلندی اور تحفظ کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ یوم تکبیر کی مناسبت سے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق کی قیادت میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں شرکاء نے قومی پرچم اور فلیکسز اٹھا کر "پاکستان زندہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے۔

    یوم تکبیر کی مناسبت سے محکمہ تعلیم کی جانب سے مختلف سکولوں میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقریبات میں طلباء و طالبات نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے اور افواج پاکستان سے مکمل یکجہتی کے حوالے سے ملی نغمے اور ٹیبلوز بھی پیش کیے۔

  • حافظ آباد: اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد: اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد(باغی ٹی وی،خبرنگارشمائلہ) اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد میں وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حافظ آباد ٹریفک پولیس نے اوور اسپیڈنگ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیمروں کے ذریعے بھرپور اور مؤثر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدامات شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ، حادثات کی روک تھام اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد، عاطف نذیر کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ہائی ویز سمیت تمام اہم شاہراہوں پر اوور اسپیڈنگ کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ ٹریفک پولیس جدید کیمروں کے ذریعے گاڑیوں کی رفتار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مقررہ حد سے تجاوز کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف فوری چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف قانون شکنی کی روک تھام ہے بلکہ شہریوں میں ٹریفک قوانین کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور سڑکوں کو محفوظ بنانا بھی ہے۔

    ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر نے اپنے بیان میں کہا کہ "اوور اسپیڈنگ ایک سنگین جرم ہے جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے رفتار کی حد کا احترام کریں، ٹریفک قوانین پر عمل کریں، اور اپنے ساتھ دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

  • تنگوانی: پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کا حملہ، ایک اہلکار اور ایک ڈاکو زخمی

    تنگوانی: پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کا حملہ، ایک اہلکار اور ایک ڈاکو زخمی

    تنگوانی،(باغی ٹی وی،نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے قریب پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کے حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار نورخان جکرانی زخمی ہو گیا جبکہ جوابی کارروائی میں ایک بدنام زمانہ ڈاکو منظور بھلکانی عرف منو بھلکانی زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے قریب پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ جمال تھانے کی حدود میں ڈکیتی کی نیت سے کھڑے ڈاکوؤں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار نورخان جکرانی شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو ڈاکو زخمی ہوئے جن میں سے بدنام زمانہ ڈاکو منظور بھلکانی عرف منو بھلکانی کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ اس کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    زخمی پولیس اہلکار اور زخمی ڈاکو کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور رہائش گاہوں کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

  • سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے.انعم بابر

    سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے.انعم بابر

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ، بیورو چیف شاہدریاض) اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کی مردم خیز سرزمین نے علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، ظہیر عباس اور شہناز شیخ جیسے قابل فخر سپوت پیدا کیے ہیں، جو اس شہر کی فکری، ادبی، کھیلوں اور ثقافتی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ نہ صرف تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ پاکستان کی فی کس آمدن میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ شہر ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کما کر قومی معیشت کا اہم ستون بن چکا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی ایس پی ٹریننگ پروگرام (CTP) کے 52ویں بیچ کے زیر تربیت افسران سے خطاب کے دوران کیا۔ انعم بابر نے کہا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے اپنی محنت، وژن اور لگن سے پاکستان کا پہلا نجی شعبے کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، انٹرنیشنل ایئر لائن اور ڈرائی پورٹ قائم کی، جو ملک بھر کے دیگر شہروں کے لیے رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیالکوٹ کے کامیاب ماڈل کو فالو کرتے ہوئے دیگر شہروں میں کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دیا جائے تو پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سیالکوٹ میں اس وقت تقریباً 8 ہزار سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (SMEs) سرگرم عمل ہیں جو جراحی آلات، چمڑے کی اشیاء، ٹیکسٹائل، میوزیکل انسٹرومنٹس، کٹلری، سٹیل اور زرعی اوزار تیار کر رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر مصنوعات عالمی مارکیٹ میں برآمد کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف زرمبادلہ کما رہی ہیں بلکہ ملکی ساکھ کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں۔

    انعم بابر نے کہا کہ سیالکوٹ بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر کے قیام کے بعد اب تک پانچ ہزار سے زائد کاروباری افراد کو ایک چھت تلے سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جس سے بزنس کمیونٹی کو حکومتی معاملات میں آسانی اور شفافیت میسر آئی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ پنجاب حکومت اور ایوان صنعت و تجارت کے اشتراک سے سیالکوٹ ٹینری زون قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی ٹینریوں کی باقاعدہ منتقلی جاری ہے تاکہ عالمی ماحولیاتی معیار کے مطابق فضلہ جات کے اخراج کو کنٹرول کیا جا سکے اور ایک صاف ستھرا صنعتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

    مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی ہدایات پر "کلینک آن وہیلز”، کسان کارڈ، ہمت کارڈ، سکولز و ہیلتھ کونسلز کی فعالیت، اور اشیاء خورونوش کی قیمتوں کے نظام کی مانیٹرنگ کیلئے آٹومیشن پراجیکٹ جیسے متعدد ترقیاتی اقدامات پر بھی عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

    آخر میں انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ شہر میں 16 ارب روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی، سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بحالی و اپ گریڈیشن کا بڑا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں بنیادی شہری سہولیات کی بہتری آئے گی اور عوام کو صاف پانی و بہتر نکاسی آب کی سہولت میسر ہو گی۔

    انعم بابر کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے ہر مشکل وقت میں ملک کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہے۔