Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: پانچ وارداتوں میں شہریوں سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    سیالکوٹ: پانچ وارداتوں میں شہریوں سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں ڈکیتی اور چوری کی پانچ مختلف وارداتوں میں شہری ہزاروں روپے نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو گئے۔ پولیس نے تمام واقعات پر مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سرانوالی میں محمد عمران کے گھر میں چور داخل ہو کر 22 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون لے اڑے جب کہ اسی علاقے میں ایک اور واردات میں نامعلوم چور آصف نواز کے گھر کی دیوار پھلانگ کر 10 ہزار روپے، تین موبائل فون اور دیگر سامان چرا کر فرار ہو گئے۔

    کوٹلی نوشہرہ کے قریب دو نامعلوم ملزمان نے محمد آشان سے اسلحہ کے زور پر 30 ہزار روپے نقدی اور دو موبائل فون چھین لیے۔ اسی طرح ڈسکہ سے قاسم ذوالفقار جب ستو کے پلی کے قریب پہنچا تو تین مسلح ملزمان نے اس سے 3600 روپے اور موبائل فون چھین لیا۔

    بہاری پور کے قریب بھی دو نامعلوم افراد نے گل افشاں کو اسلحے کے زور پر روک کر 50 ہزار روپے اور موبائل فون چھین لیا۔ پولیس نے تمام وارداتوں پر علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • سیالکوٹ: دودھ کی قلت تشویشناک، کسانوں کی فلاح حکومت کی ترجیح ہے، ارمغان سبحانی

    سیالکوٹ: دودھ کی قلت تشویشناک، کسانوں کی فلاح حکومت کی ترجیح ہے، ارمغان سبحانی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی و ترقی چوہدری ارمغان سبحانی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔ وہ سیالکوٹ میں محکمہ لائیو اسٹاک کے ضلعی پیرا ویٹرنری عملے کو موٹر سائیکلیں دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں خوراک اور گوشت کی ضروریات تو پوری کی جا رہی ہیں لیکن دودھ کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جسے حل کرنے کے لیے مزید محنت اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کو اب بھی بڑی مقدار میں خشک دودھ درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔

    ارمغان سبحانی نے کہا کہ وہ خود کسان کے بیٹے ہیں اور انہیں اس پر فخر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں وفاق اور پنجاب حکومتیں کسانوں کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہیں اور لائیو اسٹاک کے عملے کو دن رات محنت کر کے اس ترقی کا حصہ بننا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کے خلاف ایک گھنٹے میں لڑی گئی کامیاب جنگ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور یہ ہمارے بچوں کو درسی کتابوں میں بھی پڑھائی جائے گی۔

    تقریب کے اختتام پر وزیر مملکت نے 70 ویٹرنری ڈاکٹرز کو موٹر سائیکلوں کی چابیاں دیں جبکہ تحصیل سطح پر جانوروں کی تولیدی صحت جانچنے کے لیے فراہم کردہ الٹرا ساؤنڈ مشین کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر ریجنل و ضلعی افسران، ڈاکٹرز، اور یونین نمائندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

  • تنگوانی: شہری کا بچوں سمیت قرآن پاک اٹھا کر احتجاج، روزگار چھیننے کا الزام

    تنگوانی: شہری کا بچوں سمیت قرآن پاک اٹھا کر احتجاج، روزگار چھیننے کا الزام

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) شہری کا قرآن پاک اٹھا کر بچوں سمیت احتجاج، ٹاؤن کمیٹی پر روزگار چھیننے کا الزام

    تفصیل کے مطابق تنگوانی کے شہری محبت گجرانی نے اپنے بچوں کے ہمراہ قرآن پاک اٹھا کر شہر کے مرکزی بازار میں ٹاؤن کمیٹی افسر کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرہ کرتے ہوئے شہری نے الزام عائد کیا کہ اس نے روزگار کے لیے ایک کیبن لگایا تھا جسے مبینہ سیاسی دباؤ اور مبینہ رشوت نہ دینے پر ہٹا دیا گیا۔

    محبت گجرانی احتجاج کے دوران زار و قطار روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ کیبن کے ہٹائے جانے سے اس کا واحد ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے اور وہ اب اپنے بچوں کو کیسے پالے گا۔ اس نے ڈی سی کشمور شبیر علی بجارانی اور دیگر بالا حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کے روزگار کا مسئلہ فوری حل کیا جائے اور ناانصافی کا نوٹس لیا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ڈیرہ غازی خان شہر میں فروخت کے لیے لایا جانے والا مردہ جانور کا چھ من وزنی گوشت ضبط کر لیا گیا۔ کارروائی میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ضبط شدہ گوشت ضلعی انتظامیہ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو اسٹاک کی نگرانی میں دریائے سندھ میں تلف کر دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی کے مطابق اطلاع ملنے پر یارو روڈ پر کارروائی کی گئی، جہاں سے مضر صحت گوشت برآمد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس تھانہ صدر نے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    نذر حسین کورائی نے مزید کہا کہ شہریوں کو صاف، حلال اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق عوام کو صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کارروائی کمشنر اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی۔

  • ننکانہ صاحب: عیدالاضحیٰ انتظامات کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت اجلاس، دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب: عیدالاضحیٰ انتظامات کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت اجلاس، دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ کی زیرصدارت عید الاضحیٰ کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، اور تمام ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں عید کے ایام میں صفائی، سیکیورٹی، اور دیگر ضروری انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ میونسپل کمیٹیز، ضلع کونسل، اور ایل ڈبلیو ایم سی صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنائیں۔ پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو عید کے دنوں میں ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    عید کے موقع پر شہری حدود میں سری پائے جلانے، نہروں میں نہانے اور ون ویلنگ جیسے خطرناک عوامل پر دفعہ 144 نافذ کی جائے گی۔ سیل پوائنٹس کے علاوہ کسی بھی مقام پر جانوروں کی فروخت پر بھی دفعہ 144 لاگو رہے گی۔ ضلع میں چار عارضی مویشی منڈیاں قائم کی جا رہی ہیں، جہاں متعلقہ ادارے صفائی، سیکیورٹی، پانی اور سایہ دار جگہوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

    محکمہ لائیو اسٹاک کی ٹیمیں مویشی منڈیوں کے داخلی راستوں پر جانوروں کی صحت کی جانچ کریں گی، اور صرف صحت مند جانوروں کو منڈی میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ پولیس اور دیگر ادارے منڈیوں کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی کیمپ قائم کریں گے۔ میونسپل کمیٹیز کو ہدایت کی گئی کہ وہ منڈیوں میں پارکنگ کے مناسب انتظامات بھی کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ نماز عید صرف مساجد کے اندر ادا کی جائے گی، سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کے فضلے کے لیے یکم جون سے گھر گھر شاپر بیگز کی تقسیم شروع کی جائے گی۔ عید کے دوران کنٹرول رومز کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنرز خود کریں گے۔

    ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے، اداروں کو شکایات کے حل کے لیے 10 سے 15 منٹ کا وقت دیا جائے گا، بصورت دیگر غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    مزید برآں، تمام پبلک پارکس میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ واپڈا حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ عید کے ایام میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ میونسپل کمیٹیز اور لوکل گورنمنٹ کو قبرستانوں میں صفائی ستھرائی کے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع پر عالمی سمپوزیم

    ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع پر عالمی سمپوزیم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کے شعبہ بوٹنی اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے اشتراک سے عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع کے موقع پر "حیاتیاتی تنوع اور تحفظ میں حالیہ پیش رفت” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ یہ علمی و تحقیقی اجلاس نہ صرف ایک سائنسی مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے بلکہ حیاتیاتی تنوع جیسے حساس موضوع پر آگاہی پھیلانے اور عملی اقدامات کی راہ ہموار کرنے کی ایک بامعنی کوشش بھی ہے۔

    یہ تقریب حیاتیاتی نظام کو لاحق خطرات، ماحولیاتی تبدیلیوں، اور ان کے حل کی جانب جدید سائنسی تحقیق و پائیدار حکمتِ عملیوں پر روشنی ڈالنے کے لیے منعقد کی گئی، جس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین، محققین، اساتذہ کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اہم سمپوزیم کا مقصد نہ صرف تحقیقی اشتراک کو فروغ دینا تھا بلکہ طلبہ کو عالمی سائنسی معیار اور ماحول دوست طرزِ فکر سے روشناس کروانا بھی اس کی ترجیحات میں شامل تھا۔

    تقریب کا آغاز چیئرمین شعبہ بوٹنی اور ڈائریکٹر اکیڈمکس، پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ناگزیر اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نظام میں توازن کے لیے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ نہایت اہم ہے، اور بابا گورو نانک یونیورسٹی اس سلسلے میں اپنا تعلیمی اور تحقیقی کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہی ہے۔

    رجسٹرار بابا گورو نانک یونیورسٹی، جناب مبشر طارق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مہمان مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں طلبہ کے لیے سیکھنے اور تحقیق کے نئے افق کھولتی ہیں۔ انہوں نے ORIC اور شعبہ بوٹنی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔

    سمپوزیم میں مختلف موضوعات پر گراں قدر علمی و تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ مقررین میں محترمہ فوزیہ اکرم (ڈپٹی ڈائریکٹر، ایجنسی برائے ماحولیاتی تحفظ)، محترمہ فریحہ اکرم (سینئر سائنٹسٹ، سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیب، حکومت پنجاب)، ڈاکٹر محمد حمزہ (چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز، چین)، ڈاکٹر عدنان ارشاد (لانژو یونیورسٹی، چین) اور ڈاکٹر محمد عدیل غفار (شعبہ بوٹنی، بی جی این یو) شامل تھے۔ انہوں نے حیاتیاتی تنوع کے عالمی رجحانات، ماحولیاتی عدم توازن کے مقامی چیلنجز، اور پائیدار ماحولیاتی نظام کے قیام کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔

    اس سمپوزیم میں سامعین کو ماحولیاتی توازن کے تحفظ میں جدید تحقیق، ٹیکنالوجی کے استعمال، اور زمینی حقائق پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت سے روشناس کرایا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع نہ صرف قدرتی وسائل کی بقا کا ضامن ہے بلکہ انسانی زندگی کے معیار کو بھی براہ راست متاثر کرتا ہے۔

    اختتام پر مقررین اور شرکاء کو شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں اور طلبہ نے علمی نمائش کے ذریعے اپنے تحقیقی منصوبے پیش کیے، جنہیں ماہرین نے سراہا۔
    یہ تقریب اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بابا گورو نانک یونیورسٹی ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع، اور سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی خدمات جاری رکھے گی اور نوجوان نسل کو ذمہ دار ماحولیاتی شہری بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

  • مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی

    مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی

    مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی ایشیا ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہےاور اس بار قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو اپنی سیاست، پروپیگنڈا اور عسکری عزائم کے امتزاج سے نیتن یاہو کی پرچھائی بن چکا ہے۔ نریندر مودی صرف بھارت کا وزیراعظم نہیں بلکہ اب ایک ایسے حکمران کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں جو اسرائیلی طرز کی ریاستی دہشتگردی، فالس فلیگ آپریشنز اور پراکسی جنگ کو اپنی پالیسی کا مرکزی ہتھیار بنا چکا ہے۔ راجستھان میں کھڑے ہوکرخطے کو تباہ کرنے کی دھکیاں،بلوچستان میں دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے فورمز سے لے کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی تک، مودی حکومت کی ہر چال جنوبی ایشیا میں ایک طویل، خطرناک اور غیر متوقع کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا اس بھارتی جارحیت کو محض انتخابی نعرہ سمجھنے کے بجائے ایک حقیقی خطرہ تصور کرے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نگلنے کے درپے ہے۔

    مودی کی حالیہ دھمکیاں، بلوچستان میں معصوم بچوں پر دہشت گرد حملے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے بھارت نہ صرف پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے بلکہ خطے میں مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز اور ریاستی سطح پر دہشتگردی کی پشت پناہی سے بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ان اقدامات کا سنجیدگی سےسخت نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچانے میں کردار ادا کرے۔

    راجستھان جلسے میں مودی کی تقریر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہاہے۔ "پہلگام حملے کا بدلہ 22 منٹ میں لینے” جیسے دعوے، پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکیاں، اور "سندور جب بارود میں بدلتا ہے” جیسے الفاظ اُن کی جنگی نفسیات اور پاکستان دشمنی کے واضح مظاہر ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کر کے اسے سفارتی تنہائی کا شکار بنایا جائے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    بلوچستان کےضلع خضدار میں سکول بس پر ہونے والا حملہ، جس میں تین طالبات سمیت پانچ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، بھارتی پراکسی نیٹ ورک کی گھناونی سازش کا نتیجہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہوں کے ذریعے کروایا گیا، جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی سرپرستی حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزراء نے کھل کر اجیت دوول کے کردار کی نشاندہی کی، جو بھارت کی جارحانہ خفیہ پالیسیوں کا معمار مانا جاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات بھارت کے پراکسی نیٹ ورکس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

    اسی تسلسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور رنبیر نہر کی توسیع جیسے اقدامات کو دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے خلاف واٹر وار کی باقاعدہ ابتدا ہے۔ "خون اور پانی اکٹھے نہیں بہہ سکتے” جیسے بیانات مودی کے اس جنگی بیانیے کی توسیع ہیں جس کے تحت بھارت پاکستان کے معاشی استحکام پر ضرب لگانا چاہتا ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے میں بھوک، قحط اور غربت کو فروغ ملنے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

    پاکستانی قیادت نے ان جارحانہ اقدامات کا بروقت جواب دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد میں اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی دھمکیوں کو مسترد کیا بلکہ 1971 کی شکست کے زخموں کا ازالہ کر دیا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے اور الفتح میزائلوں کے ذریعے بھرپور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے خضدار حملے کو مودی کی پراکسی جنگ کا حصہ قرار دیا اور گجرات سے لے کر بلوچستان تک پھیلے بھارتی دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ چین، امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    یہ سب حقائق تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اب اپنی سفارتی مہم کو مزید فعال کرے اور اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے جنگی جنون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پراکسی حملوں کا ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ پردہ فاش کرے۔ نریندر مودی جس راستے پر چل رہاہے، وہ راستہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تباہ کن پالیسیوں سے مختلف نہیں۔ ریاستی دہشتگردی، مذہبی شدت پسندی اور جارحیت کا امتزاج پورے جنوبی ایشیا کو ایک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    ایسے میں پاکستان کی ریاست، افواج، انٹیلی جنس ادارے اور عوام کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہو گا۔ دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے، بین الاقوامی سطح پر مؤثر مؤقف اپنانے اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اپنے نظریاتی، جغرافیائی اور آبی سرحدوں کے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا ہے۔ مودی سرکار کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے واضح کر دیا ہے کہ اب پاکستان کو صرف زبانی مذمت سے آگے بڑھنا ہو گا۔

    مودی کی فاشسٹ پالیسیوں، پراکسی حملوں اور آبی دہشتگردی نے بھارت کو ایک ذمہ دار جمہوریت کے بجائے عسکریت پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا اعتراف،جعفر ایکسپریس ، خضدار میں معصوم طالبات پر حملے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑیں کہاں پیوست ہیں۔ مودی کا طرزِ حکمرانی اب نیتن یاہو سے مشابہ ہو چکا ہے ، جہاں امن کی کوئی گنجائش نہیں، صرف طاقت کی زبان بولی جاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہ صرف اپنی داخلی صفوں کو مضبوط کرنا ہو گا بلکہ عالمی برادری کے سامنے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ یہ مقدمہ پیش کرنا ہو گا کہ خطے میں اصل خطرہ کہاں سے جنم لے رہا ہے۔ یہ وقت اتحاد، تدبر اور ہم آہنگی کا ہے کیونکہ وطن کی حفاظت اب محض اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • رومانیہ کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر کا دورہ، دو طرفہ تجارت کے فروغ پر زور

    رومانیہ کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر کا دورہ، دو طرفہ تجارت کے فروغ پر زور

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض )رومانیہ کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر کا دورہ، دو طرفہ تجارت کے فروغ پر زور

    پاکستان میں تعینات رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوینسکو نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیمبر کے سینئر نائب صدر وسیم شہباز لودھی اور ایگزیکٹو باڈی ممبران نے معزز مہمانوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبہ جات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ڈاکٹر ڈین اسٹوینسکو نے کہا کہ سیالکوٹ کی تیار کردہ مصنوعات رومانیہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، بالخصوص فٹ بال کے شعبے میں سیالکوٹ کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رومانیہ اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وہ تاجروں کو آپس میں جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

    رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ زراعت، توانائی، آئی ٹی، کاسمیٹکس اور ٹیکسٹائل جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے پھیلائے گئے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش منڈی ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ سیالکوٹ میں رومانیہ کا ایک دفتر جلد قائم کیا جائے گا، جہاں مقامی تاجروں کو تمام تجارتی معلومات اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیاحت کے فروغ اور خواتین کے لیے رومانیہ میں کاسمیٹکس و ٹیکسٹائل کے شعبوں میں ترقی کے امکانات کا بھی ذکر کیا۔

    ڈاکٹر ڈین اسٹوینسکو نے کہا کہ سیالکوٹ کا باسمتی چاول رومانیہ میں انتہائی مقبول ہے اور پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے وہاں وسیع مواقع موجود ہیں۔

    سینئر نائب صدر وسیم شہباز لودھی نے اس موقع پر کہا کہ رومانیہ کی مارکیٹ میں سیالکوٹ کی مصنوعات کی کھپت بڑھانے کے لیے بی ٹو بی تعلقات، جوائنٹ وینچرز، تجارتی وفود کے تبادلے، سنگل کنٹری نمائشوں، ویئر ہاؤسز کی تعمیر اور مفاہمتی یادداشتوں پر کام ناگزیر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سیالکوٹ کے تیار کردہ کھیلوں کے سامان، سرجیکل و کاسمیٹک آلات، چمڑے کے ملبوسات، سپورٹس شوز، آلات موسیقی اور دیگر اشیاء معیار اور پائیداری میں بین الاقوامی برانڈز کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یہ دورہ پاکستان اور رومانیہ کے مابین اقتصادی و تجارتی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

  • ڈہرکی: گلاب شاہ کالونی میں زہریلا پانی,شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار

    ڈہرکی: گلاب شاہ کالونی میں زہریلا پانی,شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈہرکی کی گلاب شاہ کالونی میں پینے کا پانی زہریلا ہو گیا ہے، جس سے علاقے میں موزی امراض پھیلنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماڑی پیٹرولیم کمپنی کی جانب سے لگایا گیا آر او پلانٹ کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر سکھر، وزیراعلیٰ سندھ، اور کمپنی کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر آر او پلانٹ کی سہولیات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مقامی رہائشی مفتی گل محمد سمیجو اور دیگر معززین نے بتایا کہ پانی کی لیبارٹری ٹیسٹنگ سے معلوم ہوا کہ اس کا آر ٹی ایس لیول 682,656 ہے، جو انسانوں اور حیوانات کے لیے مضر ہے۔ اس زہریلے پانی کے استعمال سے امراض پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ ماڑی پیٹرولیم کمپنی کی جانب سے نصب آر او پلانٹ کرپشن کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا ہے، جس سے صاف پانی کی فراہمی ناممکن ہو گئی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے خبردار کیا کہ زہریلے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی ذمہ داری ایم پی اے، ایم این اے، سرداروں، وڈیروں، اور ماڑی پیٹرولیم کمپنی کے افسران پر ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس پانی سے کوئی مرض لاحق ہوا یا جانی نقصان ہوا تو ذمہ داروں سے سخت احتساب کیا جائے گا۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سکھر اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آر او پلانٹ کی مرمت یا متبادل سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

  • اوچ شریف: ٹینکی گراؤنڈ پارک مسائل کی آماجگاہ،ڈپٹی کمشنر سے فوری ایکشن کا مطالبہ

    اوچ شریف: ٹینکی گراؤنڈ پارک مسائل کی آماجگاہ،ڈپٹی کمشنر سے فوری ایکشن کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ٹینکی گراؤنڈ پارک شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے۔ نامکمل سہولیات، تباہ حال انفراسٹرکچر، گندگی کے ڈھیر، اور نشئی افراد کی آزادانہ موجودگی نے اسے عوام کے لیے وبالِ جان بنا دیا ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ٹینکی گراؤنڈ پارک کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ جوگنگ ٹریک چند ماہ میں ہی جگہ جگہ سے ٹوٹ گیا ہے۔ بچوں کے جھولے خستہ حال ہو کر خطرناک بن چکے ہیں۔ داخلی راستے پر نصب فوارہ کبھی چالو نہ ہوا اور اب مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی ناکارہ ہے، اور ٹونٹیاں ٹوٹ کر غیر فعال ہیں۔

    شہریوں نے شکایت کی ہے کہ رات ہوتے ہی پارک میں منشیات کے عادی افراد کا ڈیرہ لگ جاتا ہے، جو سرعام نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ اس غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے فیملیز اور بچے پارک آنے سے کتراتے ہیں۔ پارک سے ملحقہ رہائشیوں نے اسے جانوروں کے باڑے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں بھینسیں اور گدھے بندھے رہتے ہیں، جس سے بدبو اور گندگی نے پارک کی فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔

    گراسی پلاٹس میں خودرو جھاڑیاں اور گھاس اگنے سے سانپ، بچھو، اور دیگر موذی حشرات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں، اور پارک میں نصب بلب غائب ہیں، جس کی وجہ سے رات کے وقت مکمل تاریکی چھا جاتی ہے۔ میونسپل کمیٹی کی عدم دلچسپی نے پارک کی حالت کو روز بروز بدتر کر دیا ہے۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ پارک کی تزئین و آرائش، صفائی، سیکیورٹی، اور سہولیات کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ وہ ناقص تعمیرات کے ذمہ دار ٹھیکیداروں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کے عوامی وسائل کا ضیاع ناقابل برداشت ہے، اور حکام کو اسے ترجیحی بنیادوں پر درست کرنا ہوگا۔