Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان:حافظ ڈاکٹرعبدالکریم مرکزی جمعیت اہلحدیث کےبلامقابلہ امیرمنتخب، شہر میں جشن کا سماں

    ڈیرہ غازیخان:حافظ ڈاکٹرعبدالکریم مرکزی جمعیت اہلحدیث کےبلامقابلہ امیرمنتخب، شہر میں جشن کا سماں

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی کی رپورٹ)مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے لیے ایک اہم اور تاریخی لمحہ، جب معروف دینی شخصیت اور عالم دین حافظ عبدالکریم کو تنظیم کا بلا مقابلہ امیر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب تنظیم کے سابق سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال کے بعد عمل میں آیا۔ انتخابی عمل کی نگرانی چیئرمین الیکشن بورڈ ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کی جبکہ مجلس شوریٰ کے ارکان نے مرکز اہلحدیث میں اس عمل میں بھرپور شرکت کی۔

    انتخابی عمل میں حافظ عبدالکریم کے مقابل کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا، جس کے باعث وہ بلا مقابلہ امیر منتخب ہوئے۔ اس موقع پر شرکاء نے انہیں بھرپور اعتماد اور محبت کے ساتھ اس عظیم دینی منصب کے لیے چُنا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم پروفیسر ساجد میر جو طویل عرصے تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ رہے، 3 مئی کو مختصر علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی دینی خدمات اور قیادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اب ان کے بعد یہ بھاری ذمہ داری حافظ عبدالکریم کے کندھوں پر آ گئی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان میں حافظ عبدالکریم کے بلامقابلہ انتخاب پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلحدیث کے کارکنان، علمائے کرام اور عوام نے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان جیسے نسبتاً پسماندہ خطے سے تعلق رکھنے والے ایک جید عالم دین کو ملکی سطح پر اتنی بڑی دینی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ حافظ عبدالکریم کی علمی بصیرت، دینی خدمات، تنظیمی صلاحیت اور اعلیٰ کردار کے باعث امید ہے کہ وہ نہ صرف اہلحدیث مکتبہ فکر کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے بلکہ دین اسلام کی خدمت میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔ ان کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان مزید مضبوط، متحد اور متحرک ہو گی۔

    آخر میں عوام نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حافظ عبدالکریم کو اپنے مشن میں کامیاب فرمائے، انہیں استقامت اور رہنمائی عطا کرے تاکہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر ثابت ہوں۔ ان کے اس اعزاز پر ایک بار پھر ڈیرہ غازی خان کے عوام نے دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

  • سیالکوٹ: عابدی گینگ کے 3 خطرناک ڈاکو گرفتار

    سیالکوٹ: عابدی گینگ کے 3 خطرناک ڈاکو گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) عابدی گینگ کے 3 خطرناک ڈاکو گرفتار، لاکھوں کا مالِ مسروقہ اور ناجائز اسلحہ برآمد

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ پولیس نے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ عابدی گینگ کے سرغنہ سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران صدر سرکل کے ڈی ایس پی کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ کوٹلی سید امیر سب انسپکٹر طیب حسین نے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے یہ کارروائی کی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان شہریوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹتے تھے اور واردات کے بعد فرار ہو جاتے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان ملزمان نے درجنوں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے، جن سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کو توقع ہے کہ تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات اور برآمدگیاں سامنے آئیں گی۔

    گرفتار ملزمان کے قبضے سے کل 8 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا مالِ مسروقہ اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ برآمد شدہ اشیاء میں دو عدد مسروقہ موٹر سائیکلیں، باسٹھ ہزار روپے نقدی، تین عدد قیمتی سمارٹ موبائل فونز، دو عدد الیکٹرک موٹریں، طلائی زیورات اور تین عدد ناجائز پسٹل 30 بور بمعہ متعدد گولیاں شامل ہیں۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت عابد عرف عابدی ولد مقبول حسین سکنہ چپراڑ، سیالکوٹ، محمد وزیر علی عرف بیدی ولد باغ علی سکنہ کل باجوہ حال مقیم پلوڑہ، اور بشارت علی ولد کرامت علی سکنہ صالح پور کے طور پر ہوئی ہے۔ ان تینوں سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے افسران اور جوانوں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • اوچ شریف: CCD پولیس کا بہادری سے بھرپور مقابلہ، خطرناک ڈاکو ہلاک

    اوچ شریف: CCD پولیس کا بہادری سے بھرپور مقابلہ، خطرناک ڈاکو ہلاک

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے علاقے بکھری چوک میں CCD پولیس نے ایک جری اور مؤثر کارروائی کے دوران خطرناک مسلح ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک ملزم کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو فرار ہو گئے۔ سرکل آفیسر CCD احمد پور انسپکٹر لطیف جھورڑ کی سربراہی میں پولیس گشت پر مامور تھی جب تین مشتبہ مسلح ملزمان موٹرسائیکل پر سوار ہو کر اچانک فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے لگے۔ پولیس کی جانب سے فوراً جوابی کارروائی کی گئی، جس کے دوران ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

    پولیس نے جائے وقوعہ سے جدید خودکار اسلحہ، متعدد گولیاں، 1150 روپے نقدی اور ایک CD-70 موٹرسائیکل برآمد کر لی ہے۔ ہلاک ملزم کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد RHC اوچ شریف منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے حاصل شدہ شواہد فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر CCD بہاولپور عرفان اکبر خان نے پولیس کی بروقت اور دلیرانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے اور فرار ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا تاکہ بہاولپور ریجن کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔ پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    یہ کارروائی CCD پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت، جرأت اور عوام کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟

    ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟

    ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ملتانی مٹی , ایک ایسا نام جو برصغیر کی دیسی جمالیات، روایتی طب، اور گھریلو بیوٹی ٹوٹکوں میں برسوں سے گونجتا آ رہا ہے۔ اس مٹی کی شہرت صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اسے Fuller’s Earth کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور پاکستانی ملتانی مٹی کو خالص اور مؤثر قدرتی علاج تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس مٹی کو ہم برسوں سے ملتانی مٹی کہتے آ رہے ہیں، وہ دراصل ملتان کی زمین سے ہے بھی یا نہیں؟ کیا یہ نام اس مٹی کی جغرافیائی اور ارضیاتی حقیقت سے میل کھاتا ہے؟ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ مٹی کہاں سے نکلتی ہے، اس کی اصل کیا ہے اور اسے ملتانی کہنے کی بنیاد کس تجارتی روایت میں پیوست ہے۔ اس تحقیق کا حاصل صرف ایک نام کی درستگی نہیں بلکہ اپنے وسائل، زمین اور ثقافتی ورثے سے تعلق کا شعوری احیاء ہے۔

    ملتانی مٹی حسن و زیبائش کے شوقین افراد کے لیے ایک مانوس نام ہے جو صدیوں سےنہ صرف خوبصورتی کا راز رہی بلکہ ایک جذباتی ورثہ بھی ہے۔ یہ مٹی جو چہرے کی صفائی، جلدی بیماریوں کے علاج اور خوبصورتی بڑھانے کے لیے نسل در نسل استعمال ہوتی آ رہی ہے، ایک دلچسپ تضاد رکھتی ہے۔ اسے "ملتانی” کہا جاتا ہے .جیولوجیکل سروے آف پاکستان، 2017–2020کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یہ ملتان کی زمین سے کبھی نکالی ہی نہیں گئی۔ اس کا اصل گھر کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے اور سندھ کے معدنی ذخائر ہیں جو معدنیات سے مالامال ہیں . یہ ایک تاریخی غلط فہمی یا یوں کہیں کہ ایک تجارتی لیبل کا نتیجہ ہے جو آج تک عوامی شعور میں رچ بس گیا ہے۔

    یہ مٹی بنیادی طور پر ڈیرہ غازی خان کے مغرب میں واقع کوہِ سلیمان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ Sindh Mineral Resources Department, 2020 کے مطابق سندھ کے علاقوں جیسے جامشورو، دادو، خیرپور اور تھرپارکر میں بھی اسی قسم کی مٹی کے ذخائر موجود ہیں.کاسمیٹک سائنس جرنل یوکے 2021کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مٹی میں کیلشیم بینٹونائٹ، سلکا، میگنیشیم، آئرن آکسائیڈز اور ایلومینا جیسے عناصر پائے جاتے ہیں جو جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرنے، مہاسوں کو ختم کرنے اور سوزش کم کرنے میں موثر ہیں . اس کی خاکی، زرد یا ہلکی سرخی مائل ساخت، ٹھنڈک اور جاذبیت کی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن 2019 کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ مٹی چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے ذریعے نکالی جاتی ہے اور پھر صاف کر کے ملک بھر کے شہروں، بیوٹی سیلونز، حکیموں اور طب یونانی کے ماہرین کو فراہم کی جاتی ہے ، اسے چہرے کے ماسک، بال دھونے، روایتی ابٹن، اور جلد کو ٹھنڈک دینے والی کریموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مٹی ملتان سے نہیں آتی تو اسے "ملتانی” کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کا جواب برطانوی دور کی تجارت میں ملتا ہے۔پنجاب آرکائیوز1902 کی رپورٹ کے مطابق ملتان اس وقت جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ کوہِ سلیمان اور سندھ سے نکالی گئی مٹی اونٹوں، بیل گاڑیوں اور بعد میں ریل گاڑیوں کے ذریعے ملتان کی منڈیوں تک لائی جاتی تھی۔ وہاں سے یہ پیک ہو کر دہلی، بمبئی، کلکتہ، لکھنؤ اور مدراس جیسے شہروں کو برآمد کی جاتی تھی، چونکہ ملتان اس تجارت کا مرکز تھا، اس مٹی کو "ملتانی مٹی” کا نام مل گیا حالانکہ اس کا ارضیاتی تعلق ملتان سے کبھی نہیں رہا۔کیمبرج ساؤتھ ایشین ہسٹوریکل جرنل 2016 میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسی تاریخی غلط فہمی ہے جو آج بھی زندہ ہے لیکن یہ ہمیں تجارت اور انسانی رابطوں کی طاقت کو بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک نام جغرافیائی حقیقت پر حاوی ہو جاتا ہے .

    پنجاب یونیورسٹی 2021 کے مطابق ملتانی مٹی صرف ایک کاسمیٹک پروڈکٹ نہیں بلکہ یہ ایک جذباتی رشتہ ہے جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کی خواتین اسے نہ صرف خوبصورتی بڑھانے بلکہ خود سے محبت اور اپنی دیکھ بھال کے عمل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ماں اپنی بیٹی کو اس مٹی کا استعمال سکھاتی ہے اور یہ عمل ایک روایت بن جاتا ہے جو گھر کی خواتین کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب یہ مٹی چہرے پر لگائی جاتی ہے تو اس کی ٹھنڈک اور نرمی ایک سکون کا احساس دیتی ہے، جو صرف جلدی فوائد سے کہیں بڑھ کر ہے. نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مٹی روایتی طب یونانی، آیورویدک علاج اور حتیٰ کہ دینی تعلیم میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ برصغیر میں دینی مدارس اور سکولوں میں تختیوں پر لکھنے کے لیے اس مٹی کا لیپ لگایا جاتا تھا، جو تختی کو ہموار اور دوبارہ استعمال کے قابل بناتی تھی۔ یہ روایت آج بھی سندھ اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں موجود ہے جو اس مٹی کو علمی اور ثقافتی ورثے کا حصہ بناتی ہے

    جدید سائنس نے بھی ملتانی مٹی کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔انٹرنیشنل جرنل آف کلے سائنس 2020 بتایا کی اس میں موجود ایلومینا اور سلکا جلد سے زہریلے مادوں کو نکالنے، اضافی چکنائی جذب کرنے اور جلد کو ٹھنڈک دینے میں مدد دیتے ہیں. اسے عرق گلاب، شہد، ایلوویرا، یا لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کی افادیت بڑھے۔ مثال کے طور پر خشک جلد کے لیے اسے کچے دودھ اور زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر لگایا جا سکتا ہے جبکہ چکنی جلد کے لیے ایلوویرا اور لیموں کا رس شامل کیا جا سکتا ہے۔ جھریوں والی جلد کے لیے انڈے کی سفیدی اور پھٹکری کا پاؤڈر ملا کر ماسک بنایا جا سکتا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی پاکستانی ملتانی مٹی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق 2023 میں اس کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جو اس کی بین الاقوامی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے . تاہم مارکیٹ میں کیمیکل ملاوٹ والی مٹی کی موجودگی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جس سے صارفین کو نقصان کا خطرہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس کی اصل کانوں کی حفاظت اور تصدیق شدہ لیبلنگ کو یقینی بنائے۔

    ملتانی مٹی کی کہانی صرف اس کی معدنی ساخت یا خوبصورتی کے فوائد تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں ہماری زمین، تاریخ اور ثقافت سے جوڑتی ہے۔ اس کا نام "ملتانی” ہونا ایک تاریخی مفروضہ ہے لیکن یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کس طرح تجارت اور انسانی رابطوں نے ہماری شناخت کو تشکیل دیا۔ یہ مٹی ہر اس عورت کے لیے ایک جذباتی تحفہ ہے جو اسے اپنے چہرے پر لگاتی ہے، ہر اس ماں کے لیے جو اپنی بیٹی کو یہ روایت سکھاتی ہے اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنی زمین سے لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف ایک قدرتی عنصر نہیں بلکہ ہماری ارضیاتی، ثقافتی، تجارتی اور علمی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی اصل جغرافیائی شناخت کو بحال کرنا ایک علمی فریضہ ہے اور اس کے لیے ہمیں اسے ایک نیا نام دینا چاہیے۔ "سلیمانی مٹی” اس کا بہترین متبادل ہے جو اس کی اصلیت ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان اور سندھ کے معدنی ذخائر کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

    یہ مٹی صرف جلد صاف کرنے والی خاک نہیں بلکہ ہماری زمین کی وہ معدنی گواہی ہے جو پہاڑوں کے دامن سے اُٹھ کر بازاروں کے جھمیلوں میں اپنی اصل کھو بیٹھی تھی۔ ملتانی مٹی کو سلیمانی مٹی کہنا صرف ایک جغرافیائی اصلاح نہیں بلکہ ایک تہذیبی فخر کی بازیابی ہے۔ اس نام کی درستی ایک تاریخی غلط فہمی کو ختم کر کے ہمیں اپنے اصل ورثے سے جوڑتی ہے، اس سچ سے جو کوہِ سلیمان کے دل میں پوشیدہ ہے اور سندھ کے پہاڑوں کی گواہی دیتا ہے۔ ملتان کا کردار اس میں محض ایک تجارتی مرکز کا تھا اور وقت آ چکا ہے کہ ہم مٹی کو اس کی اصل شناخت لوٹائیں۔ سلیمانی مٹی کا نام اپنانا نہ صرف اس خطے کے وسائل کا اعتراف ہے بلکہ ان پہاڑی باسیوں کی محنت اور شناخت کا احترام بھی ہے جنہوں نے صدیوں سے اس معدنی خزانے کو دنیا تک پہنچایا۔ یہ مٹی ہماری زمین کی خاموش صدا ہے، جو کہتی ہے کہ میرا نام وہی ہو جو کوہِ سلیمان کی چھاتی سے نکلے، نہ کہ وہ جو کسی منڈی کی تجارتی چالاکی نے گھڑ لیا ہو۔

  • میرپورخاص: پبلک سکول کی بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، اہم فیصلے

    میرپورخاص: پبلک سکول کی بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، اہم فیصلے

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میر شیر محمد خان تالپور پبلک اسکول میرپورخاص میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز و ڈویژنل کمشنر فیصل احمد عقیلی اور چیئرمین ضلع کونسل میر انور تالپور کی صدارت میں بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا جس میں اسکول کی بہتری اور تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لیے 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

    اجلاس میں پرنسپل کی مدت ملازمت میں توسیع، سینیئر اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ، ہفتہ وار ڈاکٹر معائنہ، پی پی ایچ آئی کی ڈسپنسری کا قیام، سولر سسٹم اور واٹر پلانٹ نصب کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے مالی سال میں بڑھائی گئی گرانٹ اور نئے تعمیری اسکیموں کی منظوری بھی دی گئی۔ اسکول کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

    اجلاس میں ایم این اے پیر افتاب حسین شاہ جیلانی، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود، دیگر حکام اور تعلیمی نمائندگان نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری ایجوکیشن سندھ ڈاکٹر فوزیہ خان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئیں۔

  • میرپور خاص: دیہی خواتین کے ہنر کیلئے فیسٹیول، آن لائن فروخت کا اعلان

    میرپور خاص: دیہی خواتین کے ہنر کیلئے فیسٹیول، آن لائن فروخت کا اعلان

    میرپور خاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میرپور خاص کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ وومین ہینڈی کرافٹس فیسٹیول میں چیئرمین ضلع کونسل میر انور علی خان تالپور، کمشنر فیصل احمد عقیلی، ڈپٹی کمشنر رشید مسعود اور دیگر افسران نے شرکت کرتے ہوئے دیہی خواتین کے ہنر کو قومی سطح پر روشناس کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب کا عنوان تھا: "ہنر بھی اس کا، منافع بھی اس کا”، جس میں تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپور خاص سے تعلق رکھنے والی 100 خواتین نے 50 سے زائد اسٹالز پر 3 ہزار سے زائد دستکاری اشیاء پیش کیں۔

    چیئرمین ضلع کونسل میر انور تالپور نے خطاب میں کہا کہ حکومت سندھ اور ڈویژنل انتظامیہ دیہی خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اور حکومت سے سفارش کی کہ محکمہ سماجی بہبود کے تعاون سے خواتین کو بلا سود قرضے دیے جائیں تاکہ وہ اپنا ہنر مزید بہتر بنا سکیں۔

    ڈویژنل کمشنر فیصل احمد عقیلی نے کہا کہ خواتین کو مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے بڑے سپر اسٹورز میں ان کے ہنر کے ڈسپلے کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یہ عمل دہرایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیہی خواتین کی مصنوعات کی آن لائن فروخت کیلئے ای کامرس پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا جائے گا۔

    نمائش میں کشیدہ کاری، چادریں، ثقافتی رلی، شالیں، مٹی کے برتن، ہاتھ سے تیار جوتے، پرس، بیگز، چوڑیاں اور دیگر ثقافتی مصنوعات شامل تھیں، جنہیں عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ کمشنر نے عوامی دلچسپی کے پیش نظر نمائش کو اتوار تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود نے اسے خواتین کو خود کفالت کی طرف گامزن کرنے کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر سماجی تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ فیسٹیول میں محکمہ سماجی بہبود، روینیو، ہیلتھ، اسٹیوٹا، صحافیوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • گوجرانوالہ: پولیس اور ریسکیو اداروں کی تعلیمی اداروں میں موک ایکسرسائز

    گوجرانوالہ: پولیس اور ریسکیو اداروں کی تعلیمی اداروں میں موک ایکسرسائز

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم کی ہدایت پر گوجرانوالہ پولیس کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موک ایکسرسائز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ناگہانی اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے دوران فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

    موک ایکسرسائز میں ضلع پولیس، ریسکیو 1122، اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس دوران ایک فرضی ایمرجنسی صورتحال تخلیق کی گئی، جس میں پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے فوری اور مشترکہ ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کو بھی اس مشق میں شامل کیا گیا تاکہ وہ عملی تربیت کے ذریعے ہنگامی حالات میں درست اقدامات سیکھ سکیں۔

    سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور تمام اداروں کو ایک صفحے پر لا کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    گوجرانوالہ پولیس کا یہ اقدام نہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کا مظہر ہے بلکہ عوامی تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جسے آئندہ بھی تسلسل سے جاری رکھا جائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کا پاک فوج کے اعزاز میں "یوم تشکر” کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کا پاک فوج کے اعزاز میں "یوم تشکر” کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ملک بھر میں پاک فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد جہاں عوام نے انفرادی و اجتماعی سطح پر یومِ تشکر منایا، وہیں پاکستان صحافی اتحاد نے بھی اپنے مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر کی زیر صدارت ایک مقامی ہوٹل میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ "یومِ تشکر” کا اہتمام کیا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے افراد اور صحافی برادری نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈیرہ غازی خان کے سابق ایم پی اے سید محمد عبدالعلیم شاہ تھے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد سردار محمد اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ نے اپنی پُرجوش تقریر میں کہا کہ پورا پاکستان اپنی عظیم افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اور دشمن کی کسی بھی میلی آنکھ کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    اس موقع پر محترمہ ساجدہ خان، محمد فاروق خان، میاں عبدالرحمن بودلہ، خالد شہزاد اور محمد سعید قادری نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاک فوج سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور "یومِ تشکر” منانے پر پاکستان صحافی اتحاد کو خراج تحسین پیش کیا۔

    مرکزی صدر پاکستان صحافی اتحاد، ظفر اقبال کھوکھر نے اپنے خطاب میں پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعروں سے ماحول کو گرماتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ہاتھوں میں آج قلم ہے، لیکن اگر وقت آیا تو یہی ہاتھ تلوار تھام کر سرحدوں پر اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر بچہ فوج کے ساتھ ہے، اور یہ یومِ تشکر ہماری قومی وحدت کی علامت ہے۔

    تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی سید محمد عبدالعلیم شاہ نے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے کردار کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سراہا اور کہا کہ دشمن نہ صرف مکار ہے بلکہ بزدل بھی ہے، اور ہماری فوج ہر لمحہ چوکنا ہے۔ اگر دشمن نے کوئی نئی مہم جوئی کی تو پہلے سے بڑھ کر جواب ملے گا، کیونکہ اس بار صرف فوج نہیں، پوری قوم بھی جاگ چکی ہے۔

    یہ تقریب عامر حسین (صدر مجلس عاملہ) اور ساجدہ خان (صدر سوشل فورم) کے تعاون سے اور محمد سعید قادری (چیئرمین سوشل فورم) کی زیرِ سرپرستی منعقد ہوئی۔ آخر میں تمام شرکاء نے ملکی سلامتی، پاک فوج کی کامیابی اور اتحاد و یگانگت کے لیے دعائیں کیں۔

  • اوکاڑہ: قومی شاہراہ پر حادثہ، کار کی ٹکر سے ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ: قومی شاہراہ پر حادثہ، کار کی ٹکر سے ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) قومی شاہراہ پر اڈہ کسان کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک نامعلوم تیز رفتار کار نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی اور موٹرسائیکل سواروں کو کچلتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل نمبری AYA-8328 پر سوار 32 سالہ محمد شہزاد اور 33 سالہ محمد وسیم قومی شاہراہ پر سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک بے قابو کار نے اڈہ کسان کے قریب ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ تصادم کے نتیجے میں محمد شہزاد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ محمد وسیم شدید زخمی ہو گیا۔

    دونوں افراد کا تعلق دبئی ٹاؤن لاہور سے بتایا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق نوجوان کی لاش اور زخمی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جبکہ پولیس نے نامعلوم کار اور ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے حادثے کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • سیالکوٹ: "اپنی چھت اپنا گھر” کے تحت 445 گھر زیر تعمیر، 42 مکمل

    سیالکوٹ: "اپنی چھت اپنا گھر” کے تحت 445 گھر زیر تعمیر، 42 مکمل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) حکومت پنجاب کے فلاحی منصوبے "اپنی چھت اپنا گھر” کے تحت سیالکوٹ میں گھروں کی تعمیر کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے۔ صوبائی وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین نے سیالکوٹ کا دورہ کیا اور پروگرام کے تحت زیر تعمیر و مکمل شدہ گھروں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مستفید ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کی آراء سنی۔

    شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس عوامی خدمت کے اقدام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دعائیں دیں۔ متعدد خاندانوں کا کہنا تھا کہ وہ کرایہ داری کی زنجیروں سے آزاد ہو کر ذاتی مکان کے مالک بن چکے ہیں، جس کا سہرا موجودہ حکومت کے سر ہے۔

    وزیر ہاؤسنگ نے اخوت دفتر میں بھی حاضری دی جہاں انہوں نے درخواست گزاروں اور مستفید شہریوں سے گفتگو کی۔ شہریوں نے بلاسود قرضوں کو حکومت پنجاب کا مثالی قدم قرار دیا۔

    میڈیا سے گفتگو میں بلال یاسین نے بتایا کہ ہر سال ایک لاکھ خاندانوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے، جب کہ اس سال مستحق افراد میں مفت رہائشی پلاٹس کی تقسیم بھی عمل میں لائی جائے گی۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک پنجاب بھر میں 34 ہزار خاندانوں کو قرضے دیے جا چکے ہیں اور کرپشن کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ سیالکوٹ میں اب تک 463 قرضے منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 445 گھروں کی تعمیر جاری ہے اور 42 گھر مکمل ہو چکے ہیں۔

    دورے کے دوران صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی سے بھی ملاقات کی اور ضلعی سطح پر منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ لی۔