Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: تیز رفتار ٹرالر کی ٹکر، باپ 3 بچوں سمیت جاں بحق

    اوکاڑہ: تیز رفتار ٹرالر کی ٹکر، باپ 3 بچوں سمیت جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ میں جی ٹی روڈ پر افسوسناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جہاں ایک باپ اپنے تین معصوم بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہا تھا کہ تیز رفتار ٹرالر کی ٹکر نے سب کچھ ختم کر دیا۔ حادثے میں باپ سمیت دو بیٹے اور ایک بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، واقعے نے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق چک نمبر 24 ٹو آر کا رہائشی 43 سالہ محمد ندیم اپنے تین بچوں 10 سالہ آریان، 8 سالہ ایان اور 6 سالہ عائزہ فاطمہ کو موٹر سائیکل پر اسکول چھوڑنے جا رہا تھا۔ جب وہ جی ٹی روڈ پر پنجاب کالج اوکاڑہ کے قریب پہنچا تو تیز رفتار اور بے قابو ٹرالر (نمبری EA-7170) نے ان کی موٹر سائیکل کو زور دار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ موٹر سائیکل سوار زمین پر گر گئے اور ٹرالر ان پر چڑھ دوڑا، جس کے نتیجے میں چاروں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے لاشوں کو ضلعی ہسپتال منتقل کیا جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے ٹرالر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ٹرالر ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جس کی تلاش جاری ہے۔

    جاں بحق ہونے والے افراد کی اطلاع ملتے ہی پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ مقتول بچوں کے اسکول میں بھی سوگ کی فضا چھا گئی۔ اہل علاقہ اور عزیز و اقارب کی آنکھیں اشکبار ہیں اور ہر طرف غم و اندوہ کا سماں ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور غفلت کے مرتکب ڈرائیور کو جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

  • گوجرہ: دیور کے ہاتھوں بھابی قتل، مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم گرفتار

    گوجرہ: دیور کے ہاتھوں بھابی قتل، مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم گرفتار

    گوجرہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے میں لرزہ خیز واقعہ، جہاں دیور نے مبینہ طور پر اپنی بھابی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا، جبکہ مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرہ منتقل کر دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، چک نمبر 250 گ ب کے رہائشی ابو سفیان، جو لاہور میں ملازمت کرتا ہے، کی اہلیہ سونیا بی بی کو اس کے دیور کاشف رحمان نے اپنے گاؤں چک نمبر 159 گ ب بلایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، وہاں کاشف نے مبینہ طور پر سونیا بی بی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں چھری کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر گوجرہ کی پولیس موقع پر پہنچی، ملزم کو حراست میں لے کر آلہ قتل برآمد کر لیا اور نعش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔

    ابتدائی تفتیش میں ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ کے پاس اس کی نازیبا تصاویر موجود تھیں، جن کی بنیاد پر وہ اسے بلیک میل کر رہی تھی اور رقم کا مطالبہ کرتی تھی۔ پولیس نے اس دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

    تھانہ صدر گوجرہ کی پولیس نے واقعے کی مکمل تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ مقتولہ کے ورثاء کی جانب سے بھی قانونی چارہ جوئی متوقع ہے۔ واقعہ نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مجرم کو سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے سنگین جرائم کی روک تھام ہو سکے۔

  • ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟

    ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟

    ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا2016 )ڈیجیٹل جرائم جیسے ہیکنگ، ڈیٹا کی چوری، سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز تقریر کی روک تھام کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔جیو فیکٹ چیک کے مطابق ابتدائی طور پر اس قانون نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو سائبر کرائمز کی تفتیش کا مرکزی ادارہ نامزد کیا تھا جبکہ پولیس کا کردار محدود تھا۔ 2023 کی ترامیم نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی، لیکن تفتیش کے لیے مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کیے جاتے تھے، 2025 کی ترامیم نے پولیس کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر کے تمام اختیارات ایک نئے ادارے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، کو منتقل کر دیے ہیں

    پنجاب پولیس نے دعوی کیا کہ جنوری 2025 میں پیکا ایکٹ کی ترامیم کے باوجود، انہیں سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرنے اور ان کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے قانون کی دفعہ 50A کا حوالہ دیا، جس کے مطابق جب تک NCCIA مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتی، ترمیم سے پہلے موجود تفتیشی ادارہ اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا۔ اس دعوے کے تحت لاہور پولیس نے 22 اپریل 2025 کو فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ پر "نفرت انگیز تقریر” اور ریاستی عہدیداروں کو بدنام کرنے کے الزامات میں 23 ایف آئی آرز درج کیں۔ تاہم ایک حالیہ جیو فیکٹ چیک رپورٹ اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ ماہرین، ایک سرکاری اہلکاراور عدالتی حکم کے مطابق ترمیم شدہ قانون کے تحت پولیس کے پاس پیکا کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ 18مئی 2025 کونیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود الحسن نے واضح کیا کہ پیکا کی دفعہ 30 کے تحت تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیںاور پولیس سے یہ اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔

    ایک ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ نے کہا کہ 2016 میں ایف آئی اے کو واحد تفتیشی ادارہ نامزد کیا گیا تھا اور 2023 کی ترامیم نے پولیس کو صرف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن 2025 کی ترامیم نے پولیس کا کردار مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے درج کی گئی کوئی بھی ایف آئی آر اب قانونی حیثیت نہیں رکھتی ۔ سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ دفعہ 50A صرف FIA کے تفتیشی اختیارات کو NCCIA کے قیام تک برقرار رکھتا ہے اور پولیس کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے ان کا اختیار خود بخود ختم ہو چکا ہے۔ وکیل اسد جمال نے بھی تصدیق کی کہ صرف NCCIA کو ترمیم شدہ پیکا کے تحت دائرہ اختیار حاصل ہے جبکہ پولیس اور FIA دونوں کو اس سے روک دیا گیا ہے۔

    30 اپریل 2025 کو کراچی کے ضلع ملیر کے سول جج مظہر علی نے ایک مقدمے میں فیصلہ دیا کہ پولیس کو پیکا کے تحت تفتیش کا اختیار نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ایک فیس بک صارف کے خلاف درج کیا گیا تھا، جس پر صدرِ پاکستان کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام تھا۔ جج نے لکھا کہ پیکا کی دفعہ 29 کے تحت صرف NCCIA کو یہ اختیار حاصل ہے اور مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔

    12نومبر2024کی ایکسپریس اردو کے مطابق پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کردار ہمیشہ سے محدود رہا ہے اور ماہرین نے اس پر تنقید کی کہ پولیس کے پاس سائبر کرائمز کی تفتیش کے لیے نہ تو مناسب تربیت تھی اور نہ ہی تکنیکی صلاحیت ۔21جنوری 2022کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے خواتین درخواست گزاروں کو آن لائن ہراسانی کے مقدمات میں انصاف نہیں مل سکا ۔ مزید برآں 3مئی 2024کی بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال بھی رپورٹ ہوا، جیسے کہ سیاسی مخالفین کو ہدف بنانے کے لیے مقدمات درج کرنا شامل ہیں۔

    15دسمبر2024کو ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 4اپریل 2025 کو وفاقی حکومت نے NCCIA کی باضابطہ تشکیل کی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی تعینات کیا۔ اس نئے ادارے کا مقصد سائبر کرائمز کی تفتیش کو زیادہ موثر اور پیشہ ورانہ بنانا ہے۔ NCCIA کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ لیس کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل جرائم، جیسے کہ فشنگ، ڈیپ فیک، اور آن لائن فراڈ، سے نمٹا جا سکے۔ تاہم ڈان نیوز کی ایک اور رپورٹ جو 25جنوری2025کو شائع ہوئی کہ NCCIA کے قیام نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹس کا خیال ہے کہ اس نئے ادارے کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ پیکا ترمیمی بل 2025 ڈیجیٹل منظرنامے پر حکومتی گرفت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    2025 کی ترامیم کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کوئی قانونی کردار باقی نہیں رہا۔ تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز قانونی جواز سے محروم ہیں۔ ماہرین اور عدالتی فیصلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پولیس کو اب نہ تو مقدمات درج کرنے اور نہ ہی تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ تبدیلی عوام کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ سائبر کرائمز کی شکایات کے لیے اب NCCIA سے رجوع کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نئے ادارے کی صلاحیت کو مضبوط کرے اور عوام میں اس کے کردار کے بارے میں آگاہی پیدا کرے تاکہ سائبر کرائمز کے متاثرین کو فوری اور موثر انصاف مل سکے۔

  • سیالکوٹ: عدالت کا بڑا فیصلہ،بھائی کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

    سیالکوٹ: عدالت کا بڑا فیصلہ،بھائی کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض) تھانہ کوتوالی کے علاقے وزیر پورہ میں وراثتی جائیداد کے تنازع پر سگے بھائی کو چھریوں کے وار سے بے رحمی سے قتل کرنے والے مجرم ٹیپو تنویر کو عدالت نے سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد فاروق کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔

    یہ اندوہناک واقعہ ایک سال قبل پیش آیا جب گھریلو جھگڑے کے دوران ملزم نے اپنے بھائی محسن تنویر کو قتل کر دیا جبکہ ان کا بھانجا تیمور پاشا بھی زخمی ہوا۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 693/23 بجرم 302/324/34 ت پ تھانہ کوتوالی میں درج کیا گیا۔

    سب انسپکٹر جہانزیب احمد خان نے پیشہ ورانہ مہارت، قانونی تقاضوں اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں کیس کی مکمل اور مؤثر تفتیش کی۔ عدالت میں مضبوط دلائل کی بدولت ملزم کو سزا سنائی گئی۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کہا ہے کہ مظلوم کو بروقت انصاف کی فراہمی اور جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سیالکوٹ پولیس پرامن اور محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے جرائم کے خلاف بھرپور طریقے سے سرگرم عمل ہے۔

  • ڈائریکٹر کالجز کا گورنمنٹ صادق عباس کالج کا دورہ، نمایاں کارکردگی پر اساتذہ کو خراجِ تحسین

    ڈائریکٹر کالجز کا گورنمنٹ صادق عباس کالج کا دورہ، نمایاں کارکردگی پر اساتذہ کو خراجِ تحسین

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج ڈیرہ نواب صاحب میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت ڈائریکٹر کالجز بہاولپور ڈویژن پروفیسر ڈاکٹر رانا شرافت علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز بہاولپور پروفیسر محمد تسلیم عالم نے کالج کا خصوصی دورہ کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے پرنسپل کالج پروفیسر شاہد حسین مغل کی والدہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت کی اور کالج کے تدریسی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    دورے کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی (صدر شعبہ سرائیکی، انچارج سکیورٹی آفیسر و کنٹرولر امتحانات) کو تدریسی و انتظامی میدان میں نمایاں کارکردگی پر تعریفی سند پیش کی گئی۔

    اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ خالد رشید چشتی، ملک عمران اعوان، اعظم خان قادری، علی عباس، طاہر بھٹہ، شاہد بخاری، فیض درانی، ضیاء اور طاہر گارڈز بھی موجود تھے جنہوں نے نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ مبارکباد پیش کی۔

  • گوجرانوالہ: پولیس شہداء کے بچوں کیلئے مفت تعلیم، ملازمین کیلئے 60٪ رعایت

    گوجرانوالہ: پولیس شہداء کے بچوں کیلئے مفت تعلیم، ملازمین کیلئے 60٪ رعایت

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ریجن پولیس گوجرانوالہ اور اپیکس گروپ آف کالجز کے مابین پولیس ملازمین کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ اور اپیکس گروپ آف کالجز کے ریجنل ڈائریکٹر نے معاہدے پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر آر پی او طیب حفیظ چیمہ نے کہا کہ پولیس ملازمین کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی سہولت دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔ معاہدے کے تحت پولیس شہداء کے بچوں کو اپیکس کالجز میں مکمل مفت تعلیم دی جائے گی، جبکہ حاضر سروس، دوران سروس وفات پانے والے، ریٹائرڈ اور غازی ملازمین کے بچوں کو داخلہ، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات پر 60 فیصد رعایت دی جائے گی۔

    آر پی او نے ہدایت کی کہ ریجن بھر کے تمام پولیس ملازمین کو اس سہولت سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اپیکس کالجز کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے پولیس اہلکاروں کے لیے قابلِ قدر تعاون قرار دیا۔

    اس موقع پر اپیکس گروپ آف کالجز کے پرنسپل نے کہا کہ ریجن پولیس گوجرانوالہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور یہ ادارہ فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ پولیس ملازمین کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

  • گوجرانوالہ: ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ کی جامع مسجد عمر فاروق میں کھلی کچہری

    گوجرانوالہ: ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ کی جامع مسجد عمر فاروق میں کھلی کچہری

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگارمحمد رمضان نوشاہی) انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ نے نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد عمر فاروق سیٹلائٹ ٹاؤن میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جہاں انہوں نے شہریوں کے مسائل سنے اور فوری حل کے احکامات جاری کیے۔

    آر پی او طیب حفیظ چیمہ نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور پولیس کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کی آنکھ اور کان بنیں اور منشیات فروشی، ناجائز اسلحہ اور دیگر جرائم کے خاتمے میں پولیس کا بھرپور ساتھ دیں۔

    آر پی او نے کہا کہ ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شکایات درج کروانے کے لیے کسی بھی وقت پولیس دفاتر کا رخ کر سکتا ہے کیونکہ عوام کے لیے دفاتر کے دروازے دن رات کھلے ہیں۔ انہوں نے گوجرانوالہ کو امن پسند شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے تمام مکاتب فکر کے لوگ رواداری اور محبت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

    ریجنل پولیس آفیسر نے زور دیا کہ عوام اور پولیس کے درمیان فاصلوں کو کم کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور امن قائم رکھا جائے۔

  • گوجرانوالہ: سی پی او نے مختلف تھانوں میں کھلی کچہریاں لگا کر شہریوں کی شکایات سنی

    گوجرانوالہ: سی پی او نے مختلف تھانوں میں کھلی کچہریاں لگا کر شہریوں کی شکایات سنی

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، محمد رمضان نوشاہی)سی پی او گوجرانوالہ محمد ایاز سلیم نے عوامی رابطہ مہم کے تحت ایس پی سٹی آفس، سرکل آفس ماڈل ٹاؤن، کوتوالی اور پانچ دیگر تھانوں میں کھلی کچہریاں لگائیں جہاں شہریوں کی شکایات سنی گئیں اور ان کے فوری ازالہ کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئیں۔ اس موقع پر ایس پی سٹی شاہد رشید، ایس ڈی پی او ماڈل ٹاؤن انصرفاروق مان، ایس ڈی پی او کوتوالی حافظ امتیاز اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔

    سی پی او نے کہا کہ کمیونٹی کے تعاون کے بغیر پولیس کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے، اور شہریوں کا فرض ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کر کے امن و امان قائم کرنے میں پولیس کی مدد کریں۔ انہوں نے پولیس افسروں پر زور دیا کہ وہ اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور ایمانداری و دیانتداری سے عوام کی خدمت کے لیے خود کو وقف کریں تاکہ امن و امان کی فضا قائم کی جا سکے۔

  • گوجرانوالہ: تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    گوجرانوالہ: تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش فیاض احمد کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 1 کلو 260 گرام ہیروئن برآمد کر لی ہے۔ گرفتار ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ وہ دوسرے اضلاع سے منشیات لا کر ضلع بھر میں نوجوانوں کو بیچتا تھا۔

    اس اہم کامیابی پر سماجی و سیاسی تنظیموں اور علاقے کے مکینوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔ سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں سخت کی جائیں گی۔

    ایس پی سٹی شاہد رشید کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ لدھیوالہ وڑائچ سب انسپکٹر حسن ورک اور ان کی ٹیم نے دن رات محنت سے یہ کارکردگی دکھائی، جس پر انہیں سی پی او نے بھی شاباش دی ہے۔

  • سیالکوٹ: پی ٹی آئی تنظیمی امور بہتر بنانے کے لیے ڈار برادران کو ذمہ داریاں تفویض، ریحانہ ڈار

    سیالکوٹ: پی ٹی آئی تنظیمی امور بہتر بنانے کے لیے ڈار برادران کو ذمہ داریاں تفویض، ریحانہ ڈار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور ٹکٹ ہولڈر ریحانہ امتیاز ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے چاہنے والوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہمارا لیڈر سرخرو ہو چکا ہے۔ انہوں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی ناانصافی کی قید نے انہیں فولاد کی طرح مضبوط بنا دیا ہے اور اب سیاسی مخالفین ان کے سامنے بونے لگتے ہیں۔

    ریحانہ امتیاز ڈار نے بتایا کہ عمران خان نے سیالکوٹ میں پارٹی کے تنظیمی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ڈار برادران کو ذمہ داریاں دی ہیں۔ عثمان ڈار کو تنظیمی امور کی نگرانی سمیت مزید فعال بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے شبلی فراز کو بھی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ خالد خورشید خان اور عثمان ڈار کے ساتھ مل کر سیالکوٹ کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کریں۔

    ریحانہ امتیاز نے عمران خان کو ان کی ناانصافی کے باوجود حق و سچ پر ڈٹے رہنے پر خراج تحسین پیش کیا اور انہیں پی ٹی آئی کے رنگوں والی خصوصی تسبیح بطور تحفہ دی، جسے عمران خان نے خوشی سے قبول کیا۔