Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لاہور: اپووا کی شاندارتقریب، آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کا جشن اور نئے قائد کا انتخاب

    لاہور: اپووا کی شاندارتقریب، آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کا جشن اور نئے قائد کا انتخاب

    لاہور (باغی ٹی وی، خصوصی رپورٹ)آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی شاندار تقریب، آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کا جشن اور نئے قائد کا انتخاب

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (APWWA) کے زیر اہتمام 18 مئی 2025 کو لاہور کے ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی عظیم الشان فتح "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایسوسی ایشن کے نئے سنیئر وائس چیئرمین کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔ تقریب میں ادیبوں، شعراء، دانشوروں، کالم نگاروں، صحافیوں اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جس سے محفل حب الوطنی اور ادبی شعور کے حسین امتزاج سے جگمگا اٹھی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد شرکاء نے پرتکلف ناشتے کے دوران خوشگوار ماحول میں آپس میں خیالات کا تبادلہ کیا۔ ہر چہرے پر قومی فتح کی خوشی اور فخر کی چمک نمایاں تھی۔ فضا میں پاک فوج کی لازوال قربانیوں اور شاندار کامیابی کے تذکروں سے حب الوطنی کا جوش و جذبہ عروج پر تھا۔ ناشتے کے بعد پاک فوج کی عظیم فتح کی خوشی میں ایک کیک کاٹا گیا، جس پر شرکاء نے تالیاں بجا کر اور قومی نعرے لگا کر اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔

    تقریب کا ایک اہم حصہ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سنیئر وائس چیئرمین کے لیے نئے قائد کا انتخاب تھا۔ اس عہدے کے لیے ملک کے نامور علمی و ادبی شخصیت جناب ملک یعقوب اعوان کا انتخاب متفقہ طور پر عمل میں آیا۔ اپنے انتخاب کے بعد انہوں نے حاضرین سے پرجوش خطاب کیا۔

    انہوں نے کہا کہ APWWA علم و ادب کے فروغ اور ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے، جسے وہ ایک دریا سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں سے علم و ادب کی مختلف نہریں پھوٹتی ہیں اور سب مل کر ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ادیبوں کے حقوق کے تحفظ، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور تنظیم کے مستقبل کے لائحہ عمل پر جامع روشنی ڈالی۔ ان کے پرعزم الفاظ نے شرکاء کے دلوں میں نئی امید اور ولولہ جگایا۔ شرکاء نے ملک یعقوب اعوان کو ان کے انتخاب پر دلی مبارکباد پیش کی اور تنظیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر APWWA کے بانی و صدر جناب ایم ایم علی نے معروف لکھاریہ محترمہ سلمیٰ کشم کو سنیئر نائب صدر خواتین کے عہدے پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ APWWA نے اب تک سینکڑوں نئے لکھاریوں کو متعارف کروایا ہے اور یہ تنظیم ادب کی دنیا میں ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ APWWA فروغِ ادب کے لیے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔

    تقریب میں معروف ادبی شخصیات، شعراء، کالم نگاروں اور صحافیوں کی شرکت نے محفل کی رونق کو چار چاند لگائے۔ مہمانانِ خصوصی میں معروف شاعر، استاد اور کالم نگار جناب ناصر بشیر اور معروف ادیب جناب اشفاق احمد شامل تھے۔ دیگر مہمانانِ اعزاز میں کالم نگار و شاعر چوہدری غلام غوث، ایگزیکٹو پروڈیوسر "کھرا سچ” نوید شیخ، رائٹر و پروڈیوسر ایک نیوز سید امجد حسین بخاری، پروڈیوسر مارننگ شو 24 ٹی وی ندیم انجم، طارق نوید سندھو (قصور)، صحافی عباس علی (قصور)، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان، سرپرست گلوبل رسالہ نعمان احمد صابری، بچوں کے معروف ادیب عبدالصمد مظفر، صدارتی ایوارڈ یافتہ مصنف حاجی لطیف کھوکھر، لکھاری محمد نادر کھوکھر، محمد قاسم کھوکھر، امجد نذیر، محمد سعید، محمد دانش رانا، بچوں کے معروف ادیب امان اللہ نیر شوکت، صحافی و کالم نگار مہر اشتیاق احمد (سیالکوٹ)، معروف کالم نگار ملک فیصل رمضان، صحافی و کالم نگار سجاد علی بھنڈر، فہد نفیس، خرم شہزاد، محمد ابرار اور دیگر شامل تھے۔

    خواتین میں پشاور سے معروف ادیبہ نیلوفر سمیع، معروف شاعرہ آصفہ مریم، شاعرہ و مصنفہ نرگس نور، معروف شاعرہ و کالم نگار (نوائے وقت) ثوبیہ خان نیازی، سنیئر صحافی غلام زہرہ، مصنفہ نیر سلطانہ، نادیہ وسیم، یاسمین محمود، صاحبزادی، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول اور دیگر نے شرکت کی۔ APWWA کے عہدیداران میں بانی و صدر ایم ایم علی، سنیئر نائب صدر حافظ محمد زاہد، نائب صدر سفیان فاروقی، نائب صدر میل ونگ محمد اسلم سیال، جوائنٹ سیکرٹری محمد بلال، ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن نادر فہیمی، ڈپٹی جوائنٹ سیکرٹری اویس چوہدری، ڈپٹی سیکرٹری میل ونگ حافظ معاویہ ظفر، جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول، سوشل میڈیا انچارج و معروف شاعرہ ثوبیہ راجپوت، ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈینیشن لاریب اقراء، ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن ایمن سعید، نائب صدر پنجاب قرۃ العین خالد اور سوشل ایکٹیوسٹ سونیا معراج شامل تھے۔

    تقریب کے اختتام پر دو کیک کاٹے گئے۔ ایک کیک آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کی خوشی میں کاٹا گیا جبکہ دوسرا کیک APWWA کی عہدیدار لاریب اقراء کی سالگرہ کے موقع پر کاٹا گیا۔ شرکاء نے پرتکلف ناشتے کی میزبانی پر جناب ملک یعقوب اعوان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب بیک وقت قومی فتح کی خوشی اور علم و ادب کے شیدائیوں کے لیے ایک حسین سنگم ثابت ہوئی، جہاں حب الوطنی اور ادبی شعور نے مل کر ایک یادگار سماں باندھا۔



  • ڈسکہ: یونین آف جرنلسٹس کا اجلاس، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم

    ڈسکہ: یونین آف جرنلسٹس کا اجلاس، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)پروفیشنل صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ڈسکہ یونین آف جرنلسٹس کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ فعال کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت تنظیم کے بانی صدر امین رضا مغل نے کی، جبکہ اس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے تلاوتِ کلام پاک سے ہوئی۔ اجلاس میں شریک صحافیوں نے باہمی مشاورت کے ذریعے صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے اہم فیصلے کیے۔

    اجلاس میں عباس شاہد مغل، رانا محمد افضل، امتیاز احمد مہر، سید شہباز حسین نقوی، محمد اقبال ساہی، محمد بلال، آصف گوشہ، عمران بھٹی اور مرزا عرفان علی سمیت دیگر نمایاں صحافیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ڈسکہ یونین آف جرنلسٹس کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر نئے ممبران کی شمولیت کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایک تین رکنی سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں امین رضا مغل، رانا محمد افضل اور امتیاز احمد مہر شامل ہیں۔ کمیٹی کو نئے ممبران کی درخواستوں کی جانچ پڑتال اور اہلیت کے معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

    اجلاس کے دوران شرکاء نے عزم کا اظہار کیا کہ ڈسکہ یونین آف جرنلسٹس پروفیشنل صحافیوں کی فلاح و بہبود، ان کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ اور درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے بغیر آزاد اور ذمہ دار صحافت ممکن نہیں۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے بہتر مواقع، تحفظ اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا۔

    اجلاس میں صحافیوں نے موجودہ دور میں صحافت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، جیسے کہ مالی مشکلات، پیشہ ورانہ خطرات اور تکنیکی تبدیلیوں کے اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ڈسکہ یونین آف جرنلسٹس نہ صرف مقامی سطح پر صحافیوں کی آواز بنے گی بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔

    اختتام پر شرکاء نے ملکی سلامتی، استحکام اور صحافی برادری کی ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔ اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈسکہ یونین آف جرنلسٹس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متحد رہتے ہوئے صحافیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

  • اوچ شریف: دینی مدرسے پر سیکیورٹی اہلکاروں کا غیر قانونی دھاوا، جے یو آئی کا احتجاج، کارروائی کا مطالبہ

    اوچ شریف: دینی مدرسے پر سیکیورٹی اہلکاروں کا غیر قانونی دھاوا، جے یو آئی کا احتجاج، کارروائی کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)مدرسہ امیر المدارس اوچ شریف میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا غیر قانونی دھاوا، جمعیت علماء اسلام کا شدید ردعمل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

    مدرسہ و مسجد امیر المدارس اوچ شریف میں 17 مئی بروز ہفتہ کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے خلاف جمعیت علماء اسلام تحصیل احمد پور شرقیہ اور حلقہ پی پی 250 اوچ شریف کا مشترکہ و ہنگامی اجلاس مدرسہ امیر المدارس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قاری سیف الرحمن راشدی، امیر جمعیت علماء اسلام ضلع بہاولپور نے بطورِ خاص شرکت کی، جبکہ تحصیل امیر پیر حماد اللہ گنمب کی زیر صدارت اس اہم اجلاس میں جمعیت کے ضلعی و تحصیلی رہنماؤں اور بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

    اجلاس میں مدرسہ و مسجد امیر المدارس پر سرکاری وردی میں ملبوس اہلکاروں کے ڈرامائی انداز میں داخل ہونے، چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی، مسجد میں بوٹوں سمیت گھسنے، منتظمین کو زدوکوب کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے جیسے غیر قانونی فعل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ واقعے کو انتہائی تشویشناک اور دینی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے، جمعیت علماء اسلام نے اسے ایک ناقابلِ برداشت عمل قرار دیا۔

    اجلاس کے بعد ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بہاولپور واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائے، اور ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثالی سزائیں دی جائیں۔ جمعیت علماء اسلام نے واضح کیا کہ اگر فوری انصاف نہ کیا گیا تو جماعت راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہو گی۔

    اجلاس میں قاضی عمر فاروق فاروقی (تحصیل جنرل سیکرٹری)، مولانا نذیر احمد وارن، مہر غلام ربانی کاٹھیہ، مولانا اسد اللہ مدنی، مولانا محمد بابر علی صدیقی سمیت متعدد دیگر اکابرین نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے مدرسہ و مسجد کے تقدس کو پامال کرنے والے اقدامات کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز سیکیورٹی اہلکاروں کی یونیفارم ملبوس کچھ اہلکاروں نے مدرسے پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی انداز میں دھاوا بول کر مدرسے کے مدرس اور دیگر لوگوں پر تشدد کیا، طلباء کو ہراساں کیا، حبس بے جا میں رکھا اور پھر مدرس کو اپنی گاڑیوں میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ راستے میں انہیں ہراساں کیا گیا، مدرسے میں مدرس کو تھپڑ مارے گئے اور ان کی تذلیل کی گئی۔ کچھ دور جا کر سیکیورٹی اہلکاروں نے مدرس سے شناختی کارڈ طلب کیا، شناختی کارڈ دیکھنے اور ڈیٹا چیک کرنے کے بعد انہیں راستے میں چھوڑ دیا۔

  • گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا جسے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے نے جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کی ایسی مہم چلائی کہ عالمی اداروں اور فیکٹ چیکرز کو اسے بے نقاب کرنا پڑا۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹس کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ بھارتی میڈیا نے غیر مصدقہ دعوؤں کو قومیت پرستی کے جوش میں نشر کیا، جس سے نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچا بلکہ خطے میں تناؤ بھی بڑھا۔

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فورسز نے پاکستان کے جوہری اڈے پر حملہ کیا، دو پاکستانی جنگی طیاروں کو مار گرایاہے اور کراچی کی بندرگاہ جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے کو تباہ کردیا۔ یہ رپورٹس اتنی تفصیلی تھیں کہ عام ناظرین ان پر یقین کرنے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم دی نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ "ان دعوؤں میں سے کوئی بھی سچ نہیں تھا۔” اسی طرح دی نیوز انٹرنیشنل نے کراچی پر بھارتی بحریہ کے مبینہ حملے کی کہانی کو جھوٹ قرار دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ بھارتی میڈیا کا یہ رویہ کوئی حادثاتی غلطی نہیں بلکہ ایک دانستہ کوشش تھی جو قومیت پرستی کے نام پر جھوٹ کو فروغ دے رہی تھی۔

    یہ جھوٹی خبریں سوشل میڈیا سے شروع ہوکر مین اسٹریم میڈیا تک پہنچیں، جہاں کبھی معتبر سمجھے جانے والے اداروں نے بھی انہیں بغیر تصدیق کے نشر کیا۔ امریکن یونیورسٹی کی پروفیسر سمیترا بدریناتھن نے کہا کہ "اس بار جو بات منفرد تھی وہ یہ کہ معتبر صحافیوں اور بڑے میڈیا ہاؤسز نے کھلم کھلا من گھڑت کہانیاں چلائیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جب قابل اعتماد ذرائع ہی جھوٹ پھیلانے لگیں تو یہ ایک سنگین بحران ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کی بھرمار پہلے بھی دیکھی گئی لیکن مین اسٹریم میڈیا کا اس طرح پروپیگنڈے کا آلہ بننا بھارتی صحافت کے زوال کی واضح علامت ہے۔

    بھارت میں صحافتی آزادی کا گراف 2014 سے مسلسل نیچے جا رہا ہے، جب سے نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق بہت سے میڈیا ہاؤسز پر حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی خبروں کو دبانے کا دباؤ ہے جبکہ بڑے ٹی وی چینلز حکومتی پالیسیوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔ اس ماحول میں جنگ کے دوران قومیت پرستی کو ہوا دینا اور جھوٹی خبروں کو نشر کرنا معمول بن گیا۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل سلورمین نے کہا کہ "غلط معلومات کو جان بوجھ کر پھیلایا جاتا ہے تاکہ جذبات ابھریں اور تنازعہ بڑھے۔” بھارت اور پاکستان کی تاریخی دشمنی نے اس جھوٹ کو پھیلانے کے لیے زرخیز زمین فراہم کی۔

    اس افراتفری میں بھارت کے معروف صحافی راجدیپ سردیسائی جو انڈیا ٹوڈے کے اینکر ہیں، کو اپنے چینل پر پاکستانی طیاروں کے مار گرائے جانے کی جھوٹی خبر نشر کرنے پر معافی مانگنی پڑی۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل دونوں نے اسے نمایاں کیا۔ سردیسائی نے اپنے یوٹیوب ویلاگ میں کہا کہ یہ جھوٹ "قومی مفاد کے نام پر دائیں بازو کی پروپیگنڈہ مشینری” کا حصہ تھا۔ ان کی معافی اس بات کی گواہی ہے کہ 24 گھنٹے کے نیوز سائیکل میں کس طرح میڈیا دباؤ کا شکار ہوکر جھوٹ کا آلہ بن جاتا ہے۔

    بھارت کی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز نے اس صورتحال میں روشنی کی کرن ثابت ہوئی۔ اس نے آج تک اور نیوز18 جیسے بڑے چینلز کی جھوٹی خبروں کو بے نقاب کیا، جن میں کراچی پر حملے کی من گھڑت کہانی بھی شامل تھی۔ دی نیویارک ٹائمز کے مطابق آلٹ نیوز کے بانی پراتیک سنہا نے کہا کہ "بھارت کا معلوماتی ماحول تباہ ہوچکا ہے۔” بدقسمتی سے فیکٹ چیکنگ کی یہ کوششیں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ آلٹ نیوز کو ہتک عزت کے مقدمات اور رپورٹرز کو ہراسانی کا سامنا ہے جو سچائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس جھوٹ کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دی نیوز انٹرنیشنل نے بتایا کہ کراچی پر حملے کی جھوٹی خبروں کے ساتھ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر "کراچی” اور "کراچی پورٹ” ٹرینڈ کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر دھماکوں سے سیاہ بادل کی تصاویر گردش کر رہی تھیں جو بعد میں غزہ کی ثابت ہوئیں۔ بھارتی بحریہ نے تصادم کے بعد واضح کیا کہ اس نے کراچی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کا گٹھ جوڑ کس طرح جھوٹ کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے۔

    رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق بھارت میں 200 ملین سے زیادہ گھرانوں کے پاس ٹیلی ویژن ہے اور 450 نجی ٹی وی چینلز خبریں نشر کرتے ہیں۔ اس طاقت کے ساتھ میڈیا کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے لیکن حالیہ واقعات نے اسے نظرانداز کیا۔ دی نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ "بھارتی صحافت جو کبھی اپنی جرات کے لیے جانی جاتی تھی، اب پروپیگنڈے کا آلہ بن رہی ہے۔” یہ زوال نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت نے جہاں بھارت کے اندر سچائی کا گلا گھونٹا وہیں دنیا بھر کے عوام کو بھی جھوٹے بیانیے کے ذریعے گمراہ کیا۔ ایسے حالات میں گودی میڈیا کسی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ اگر یہ جھوٹ بے لگام رہا تو ایک دن یہ غلط معلومات جنگی تباہی کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر عالمی اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ، انٹرنیشنل پریس کونسل اور عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ گودی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے پر باقاعدہ تحقیقات کریں، ذمہ داروں کا تعین کریں اور ان پر بین الاقوامی قوانین کے تحت مقدمات چلائیں۔ کیونکہ اب وقت آ چکا ہے کہ خونی صحافت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دنیا سچائی، صحافتی آزادی اور امن کی طرف واپس لوٹ سکے۔

  • تنگوانی: تیز رفتار کار نے لوٹ مار کی کوشش کرنے والے دو ڈاکو کچل دیے، دو فرار

    تنگوانی: تیز رفتار کار نے لوٹ مار کی کوشش کرنے والے دو ڈاکو کچل دیے، دو فرار

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) تیز رفتار کار نے لوٹ مار کی کوشش کرنے والے دو ڈاکو کچل دیے، دو فرار.جمال تھانہ کی حدود میں ڈاکوؤں کی واردات ناکام، کار سوار اور ڈاکو ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں

    تنگوانی کے قریب جمال تھانے کی حدود میں واقع زور شاخ لنک روڈ پر ڈاکوؤں کی لوٹ مار کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب ایک تیز رفتار کار نے انہیں روند ڈالا۔ واردات کے دوران ڈاکوؤں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، تاہم گاڑی کے بریک فیل ہونے کے باعث وہ ڈاکوؤں پر چڑھ گئی۔

    حادثے میں دو ڈاکو، سبزل نندوانی اور علی حسن نندوانی شدید زخمی ہو گئے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کار بھی نندوانی قبیلے کے افراد کی تھی، جو رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے الٹ گئی۔ کار میں سوار دو افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ تصادم کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

    واقعے کی مزید تحقیقات پولیس کی جانب سے جاری ہیں جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکو اور کار سوار دونوں کا تعلق نندوانی قبیلے سے بتایا جا رہا ہے، جس پر مزید پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے۔

  • اوچ شریف: عباسیہ نہر میں 2معصوم بھائی ڈوب کرجاں بحق

    اوچ شریف: عباسیہ نہر میں 2معصوم بھائی ڈوب کرجاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی گاؤں محمود ماتم بستی چوہدری ہدایت علی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو معصوم بھائی عباسیہ لنک کینال میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق بچوں کی شناخت 6 سالہ محمد جنید عثمان اور 4 سالہ محمد جمشید عثمان کے طور پر ہوئی ہے، جو چوہدری ارشد علی سندھو کے بھتیجے اور ڈاکٹر محمد عثمان کے جگر گوشے تھے۔

    دونوں بھائی نہر کے کنارے کھیلتے ہوئے اچانک پانی میں جا گرے، جس کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔ اہل علاقہ نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کی، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ بالآخر جاگیر والی پل کے قریب دونوں بچوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ لاشوں کی برآمدگی کے وقت ہر آنکھ اشکبار اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    نماز جنازہ میں علاقے بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کے دوران سسکیاں گونجتی رہیں اور ہر شخص غم سے نڈھال دکھائی دیا۔ پورا گاؤں اس المیے پر گہرے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ دو پھول جیسے بچوں کا یوں اچانک مرجھا جانا نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔

    یہ المناک سانحہ ایک لمحہ فکریہ ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نہروں، نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکے۔

  • بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ایک خبر کے مطابق بھارتی نیوی نے روہنگیا مہاجرین کو بحیرہ انڈمان میں پھینک دیا ہے، جس پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کمیشن نے اسے "غیر انسانی”، "ناقابلِ قبول” اور بین الاقوامی قوانین کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے فوری وضاحت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی تاریخ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک اور سیاہ باب ہے جو عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑرہا ہے۔ اب آئیے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کا تاریخی طور پر جائزہ لیتے ہیں جو ایک ایسی داستان ہے جو منظم تشدد، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے بھری پڑی ہے۔

    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے ایک ایسی سیاہ تاریخ کا حامل ملک ہے جو خونریزی اور ظلم کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ روہنگیا مہاجرین کے ساتھ حالیہ واقعہ کوئی ایک مثال نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں بھارت کی طویل تاریخ میں جُڑی ہوئی ہیں، جہاں مختلف مذہبی، نسلی اور علاقائی گروہوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر ٹام اینڈریوز نے روہنگیا واقعے کو ناقابلِ معافی قرار دیا اور ایکس (سابقہ ٹویٹر)پر پوسٹس کے مطابق اس میں عورتیں، بچے اور کمزور افراد شامل تھے۔ یہ الزامات اگرچہ ابھی تفتیش کے مراحل میں ہیں لیکن بھارت کے مظالم کی تاریخ گواہ ہے ۔

    بھارت کی انسانیت کے خلاف جرائم کی تاریخ 1947 کی تقسیم سے بھی پہلے کی ہے لیکن جدید بھارت میں یہ سلسلہ کئی اہم واقعات سے واضح ہوتا ہے۔ 1984 کا آپریشن بلیو سٹار اس کی ایک خوفناک مثال ہے۔ اس آپریشن کے تحت بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل جو سکھوں کا مقدس ترین مقام ہے پر حملہ کیا تاکہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور دیگر سکھ عسکریت پسندوں کو ہٹایا جا سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 493 شہری ہلاک ہوئے لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں کے مطابق 4,000 سے 8,000 سکھ زائرین جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے، مارے گئے۔ فوج نے ٹینک، ہیلی کاپٹر اور بھاری ہتھیار استعمال کیے، جس سے گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا۔ سکھ ریفرنس لائبریری جس میں نایاب مخطوطات اور تاریخی نوادرات تھے، نذر آتش کردی گئی ۔ اس واقعے نے سکھ برادری میں گہری دراڑ ڈالی اور اسے "سکھ نسل کشی” کا نام دیا گیا۔ اکال تخت نے اسے جینوسائیڈ تسلیم کیا لیکن بھارتی عدالتیں ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہیں۔

    آپریشن بلیو سٹار کے بعد اندرا گاندھی کے قتل نے دہلی اور دیگر شہروں میں سکھوں کے خلاف منظم فسادات کو جنم دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں 2,800 اور پورے بھارت میں 3,350 سکھ قتل کر دئے گئے جبکہ غیر سرکاری ذرائع 8,000 سے 17,000 ہلاکتوں کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان فسادات کو "ریاست کی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا کیونکہ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر ہجوم کو ہتھیار، کیروسین (مٹی کاتیل)اور سکھوں کے گھروں کی فہرستیں فراہم کیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ان فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، جو انصاف کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے مظالم بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک واضح مثال ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے غیر آئینی قوانین جیسے ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) کے ذریعے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔ 2011 میں بھارتی حکومت نے خود اعتراف کیا کہ کشمیر میں 2,000 افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا، جن پر فوج اور پولیس پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ پیلٹ گنوں کااندھادھند استعمال کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد نابینا ہوئے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) نے سیکیورٹی فورسز کولامتناہی اختیارات دیے کہ وہ جومظالم وقتل گری کریں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ اقوام متحدہ کے کمشنر وولکر ترک نے عالمی توجہ دلائی، لیکن بھارت نے اسے "اندرونی معاملہ” قرار دے کر بین الاقوامی تفتیش سے انکار کیا۔

    بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے (آسام، منی پور، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، اروناچل پردیش، تریپورہ) میں آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ میزورم میں 1966 میں بھارتی فضائیہ نے اپنی سرزمین پر بمباری کی جو بھارت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے اور "گروپنگ آف ولیجز” پالیسی کے تحت ہزاروں میزو باشندوں کو جبری نقل مکانی کروائی گئی، جس سے ان کی ثقافت اور معاشرے کو نقصان پہنچا۔ ناگالینڈ اور منی پور میں AFSPA کے تحت سیکیورٹی فورسز پر عصمت دری، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے الزامات ہیں۔ آسام میں 1990 کی دہائی میں "خفیہ قتل” کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کو ہلاک کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے AFSPA کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب قرار دیا لیکن بھارت نے اسے برقرار رکھاہوا ہے۔

    وسطی اور مشرقی بھارت میں نکسلائٹس کے خلاف آپریشنز جیسے آپریشن گرین ہنٹ (2009-2010)نے آدی واسی (قبائلی) آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ میں سیکیورٹی فورسز نے آدی واسی خواتین کے خلاف عصمت دری اور تشدد کے واقعات کو چھپایا اور ہزاروں قبائلی باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 2013 میں بھارت سے آدی واسیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا لیکن دہشت گرد بھارت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں ہزاروں مسلمان ہلاک اور زخمی ہوئے، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے "ریاستی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا۔ سیٹزن شپ ایمنڈمنٹ ایکٹ (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) جیسے قوانین نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا دیا۔ اقوام متحدہ کی 2022 کی رپورٹ نے اسے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیالیکن بھارت کے خلاف کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا۔

    سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (LTTE) کے خلاف بھارت کی انڈین پیس کیپنگ فورس (IPKF) کی کارروائیاں (1987-1990) بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنیں۔ IPKF پر تامل شہریوں کے خلاف تشدد، عصمت دری اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2011 کی رپورٹ نے سری لنکا میں تامل شہریوں کے خلاف مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا لیکن بھارت کو اس کے سیاسی اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی وجہ سے کلین چٹ دے دی گئی۔ سری لنکا ایک چھوٹا اور کمزور ملک ہونے کی وجہ سے، اس کے جرائم عالمی برادری کی نظروں میں زیادہ نمایاں ہوئے جبکہ بھارت کے مظالم پر پردہ ڈال دیا گیا۔

    ان تمام واقعات کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم پر عالمی طاقتوں کی خاموشی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے بھارت کو چین کے مقابلے میں ایشیاءمیں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک بھارت کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری وجہ بھارت کی معاشی طاقت ہے جو مغربی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ انسانی حقوق کے مسائل اٹھانے سے اقتصادی تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ تیسرا مغربی میڈیا بھارت کو "جمہوری ملک” کے طور پر پیش کرتا ہے جو اس کے مظالم کو پردے میں رکھتا ہے۔ آخر میں اقوام متحدہ کے پاس بھارت جیسے طاقتور ممالک کے خلاف سخت ایکشن لینے کی صلاحیت محدود ہے کیونکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ویٹو طاقت اور سیاسی دباؤبھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیتے ،جس سے بھارت نے بلاروک ٹوک انسانیت کاقتل عام جاری رکھا ہوا ہے ۔

    یہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے نتائج سنگین ہیں کہ بھارت کے مظالم نہ صرف متاثرین کے لیے تباہی کا باعث ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کوبھی پامال کرتے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی آواز نہ اٹھائی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گی کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچ سکتے ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کا حالیہ واقعہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑرہاہے۔

    بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے سوئے ہوئے ضمیرکو جگائے اور انصاف کے لیے آواز بلند کرے۔ اقوام متحدہ کو روہنگیا واقعے کی آزادانہ اور شفاف تفتیش کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کو سزا دینی چاہیے۔ بھارت کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) جیسے جابرانہ قوانین ختم کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کیلئے پابندکیاجائے اگربھارت نہ مانے تو اس اقتصادی ،تجارتی ،فوجی اور سفارتی پابندیاں لگائی جائیں۔ AFSPA ایک متنازع قانون ہے جو سیکیورٹی فورسز کو شورش زدہ علاقوں(جیسے کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں)میں وسیع اختیارات دیتا ہے بشمول بغیر وارنٹ گرفتاری، گولی مارنے کی اجازت اور قانونی استثنی، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، تشدد اور جبری گمشدگیوں کی شکایات عام ہیں۔ اسی طرح UAPA ایک انسداد دہشت گردی قانون ہے جو مبہم تعریفات اور سخت سزائوں کے ذریعے صحافیوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو "دہشت گرد” قرار دے کر ان کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے جیسے کہ طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنا شامل ہے۔

    اب وقت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے مظالم کو عالمی عدالت انصاف (ICC) میں لے جائیں تاکہ انسانیت کے خلاف جرائم کی قانونی کارروائی ہو۔ اگر آج بھی اقسام عالم اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ،روہنگیا، سکھ، کشمیری یا دیگر اقلیتوںکے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموشی رہیں تو کل کوئی اور نسلی گروہ یااقلیت ان کے ظلم کا شکار ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے انسانیت کے قتل عام پر اپنی خاموشی توڑے اور انصاف کا تقاضہ پورا کرے اور بھارت کا کڑامحاسبہ کیا جائے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیا جائے۔

  • ڈی جی خان: پرانی دشمنی پر فائرنگ کے دو واقعات، چار افراد زخمی

    ڈی جی خان: پرانی دشمنی پر فائرنگ کے دو واقعات، چار افراد زخمی

    ڈیرہ غازیخان ،پیرعادل،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر،نامہ نگارباسط علی)ڈی جی خان کے مختلف علاقوں میں پرانی دشمنیوں کی بنا پر پیش آنے والے دو فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے، جن میں سے دو افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ دو نے ابتدائی طبی امداد لینے سے انکار کر دیا۔

    پہلا واقعہ پائیگاں چوک موضع منگھیر میں پیش آیا، جہاں دو گروپوں کے درمیان پرانی دشمنی کی بنیاد پر تصادم ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں منصور ولد غلام شبیر، فخرالدین ولد مشتاق احمد اور کلیم ولد اسماعیل زخمی ہو گئے۔ منصور کو دائیں بازو، فخرالدین کو منہ اور کلیم کو بائیں بازو پر گولی لگی۔ دو زخمیوں نے قانونی کارروائی کے مؤقف کے تحت فوری طبی امداد لینے سے انکار کر دیا اور بعدازاں اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال منتقل ہو گئے جبکہ تیسرے زخمی کلیم کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے ابتدائی طبی امداد کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا۔

    واقعے کے دوران ایک گروپ نے مخالف پارٹی کی موٹر سائیکل کو آگ لگا دی، جس پر قابو پا لیا گیا۔ ریسکیو نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین گاڑیاں جائے وقوعہ پر روانہ کیں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔

    دوسرا واقعہ بستی رحیم والا، پیر عادل میں پیش آیا، جہاں پرانی دشمنی کے نتیجے میں عبدالمجید ولد غلام شبیر کو دائیں ٹانگ میں گولی مار دی گئی۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے دو منٹ کے اندر موقع پر پہنچ کر زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور اسے فوری طور پر علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا۔

    دونوں واقعات میں پولیس کو بروقت اطلاع دے دی گئی اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • ملک بھر میں شدید گرمی، سبی 50 ڈگری کے ساتھ سب سے گرم شہر

    ملک بھر میں شدید گرمی، سبی 50 ڈگری کے ساتھ سب سے گرم شہر

    باغی ٹی وی (نمائندگان )سبی میں درجہ حرارت 50 ڈگری، لاڑکانہ، نواب شاہ، ڈیرہ غازی خان، اور کندھ کوٹ میں 49 ڈگری ریکارڈ۔ کراچی میں گرمی کی شدت 38 ڈگری محسوس کی گئی۔ ملک بھر میں ہیٹ ویو جاری، گرمی سے بیماریاں بڑھ گئیں۔ کندھ کوٹ میں گرم ہواؤں کے باعث شہری بے حال

    تفصیل کے مطابق ملک کے بیشتر حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں، سبی میں پارہ 50 ڈگری تک جا پہنچا، کندھ کوٹ میں گرم ہواؤں نے صورتحال مزید سنگین بنا دی.
    ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر نے زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں ہیٹ ویو کی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب کہ شہریوں کو صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

    بلوچستان کا شہر سبی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ ملک کا سب سے گرم مقام رہا، جب کہ تربت میں درجہ حرارت 45 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم گرمی کی شدت 49 ڈگری محسوس کی گئی۔ اسی طرح ڈیرہ غازیخان میں 49، لاڑکانہ اور نواب شاہ میں 49، سکھر، دادو اور جیکب آباد میں 48، اور کوئٹہ میں 40 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور حیدرآباد میں درجہ حرارت 42 ڈگری رہا لیکن محسوس ہونے والی گرمی 47 ڈگری تک پہنچ گئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 45 ڈگری کی گرمی 48 جبکہ کراچی میں 34 ڈگری کی گرمی 38 ڈگری محسوس کی گئی۔

    گرمی کی اس لہر کے باعث ٹھنڈے مشروبات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ گرمی سے لاحق بیماریوں مثلاً ہیٹ اسٹروک، لو لگنے اور پانی کی کمی جیسے مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    کندھ کوٹ میں صبح 9 بجے سے گرم ہواؤں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے باعث سورج نے گویا آگ برسانا شروع کر دی۔ پورے شہر میں گرم ہواؤں کا راج ہے اور درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر علاقوں میں 24 مئی تک ہیٹ ویو جاری رہنے کا امکان ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع انتظامیہ فوری طور پر شہر کے اہم چوکوں، چوراہوں اور مزدوروں کے مراکز پر ٹھنڈے پانی کے اسٹال قائم کرے تاکہ گرمی سے بے حال شہریوں، مسافروں اور مزدور طبقے کو ریلیف مل سکے۔

  • بسنت میں بھی ایسے پتنگ نہیں کٹتی جیسے بھارتی جہاز کٹے، خواجہ آصف

    بسنت میں بھی ایسے پتنگ نہیں کٹتی جیسے بھارتی جہاز کٹے، خواجہ آصف

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ،بیورورپورٹ)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارت کی حالیہ فضائی جارحیت کو پاکستان کی افواج کے ہاتھوں عبرتناک شکست قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ "بسنت میں بھی ایسے پتنگ نہیں کٹتیں جیسے بھارتی جہاز کٹے ہیں”۔ ان کا یہ بیان عوامی جذبات کی مکمل عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پاک فضائیہ نے دشمن کے جنگی عزائم کو چند لمحوں میں مٹی میں ملا دیا۔

    وزیر دفاع نے یہ بات سیالکوٹ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جہاں طالبات کا ایک نمائندہ وفد اظہارِ یکجہتی کے لیے ان سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ خواجہ آصف نے اس موقع پر جذباتی انداز میں کہا کہ یہ بچے اور بچیاں جس انداز میں اپنی افواج اور وطن سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں، وہ ثابت کرتا ہے کہ قوم یکجان اور متحد ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ 10 مئی کی رات پاکستان کی عسکری تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا، جب پاکستان کی تینوں افواج نے مکمل ہم آہنگی، مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے جدید ترین جنگی جہازوں، ڈرونز اور میزائل سسٹمز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ قیادت اور بروقت حکمت عملی نے دشمن کے خواب چکناچور کر دیے۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تمام عرصے کے دوران قوم کی قیادت کی اور ہر لمحہ افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی، عسکری اور عوامی اتحاد نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت مشرقی سرحد پر جو جنگی غرور لے کر آیا تھا، وہ پاک افواج نے چند منٹوں میں "بسنت کے پتنگوں” کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔

    انہوں نے کہا کہ:
    "جو قومیں اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں، تاریخ بھی انہیں یاد رکھتی ہے۔ لیکن جو قومیں اپنی قربانیوں کو بھول جاتی ہیں، تاریخ بھی انہیں فراموش کر دیتی ہے۔”

    خواجہ آصف نے دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام اس سے بھی عبرتناک ہوگا۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "اس وقت مودی اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔”

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ قوم کو اب دراڑوں کے بجائے اتحاد کے شفاف آئینے میں دیکھنا ہوگا۔ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو بھی اب سوچ لینا چاہیے کہ جب قوم ایک ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔

    خواجہ آصف نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ مشرقی سرحد پر فتح پاکستان کی طاقت کا محض ایک مظاہرہ ہے، اصل امتحان مغربی محاذ پر ہوگا، اور وہاں بھی پاکستان سرخرو ہوگا۔