Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں
    قلم و کتاب کی زبان سے ادب کی دعوت
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    تحریر کی نبض پر ہاتھ رکھ کے قلم کے مزاج کا پتا لگانا حقیقی لکھاری و قاری طبیب کا ہی خاصہ ہے جو دل و دماغ کی سواری پہ کتابوں کے جہانوں کے سفر پہ نکلے ہیں اور اپنے احساسات و محسوسات کی الہامی کیفیت سے شفا بخش ادبی بوٹیوں کی کھوج لگاتے ہیں، پھر اسے اپنے قلم کے حمام دستے میں پیس کر عام ذہنوں کے معدے تک پہنچاتے ہیں تو شعور کی بینائی بڑھنے لگتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے ہنر سے لکھی تحریریں قارئین کے ذہنوں کو مسحور کرتی ہیں۔ قدرت کے جس جہان کی لکھاری سیر کرکے اسے اپنی تحریر کے اسلوب سے لطف اندوز بناتا ہے اُسے پڑھنے والے قاری کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اُس دور اور جہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ سحر نگار قلم کی لکھی کسی کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذوق و شوق سے لبریز شغف قارئین ہی قلم کے نئے زاویے میں پوشیدہ منظروں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ علم و شعور کی زمین لکھاری و قاری جیسے پھولوں سے سدا آباد رہتی ہے جس کی مہک نے ان گنت خوش نصیبوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

    ادب کی مٹی میں قلم کا بیج نئی اور تازہ تحریروں کے پھل اُگاتے رہتے ہیں۔ سخن کے وطن میں پل کر پروان چڑھنے والے، اپنے سے پہلے دور میں جینے والے لکھاریوں سے ان کی کتاب و تحریر کے ذریعے ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے لکھاری ذہن تربیت پاتے ہیں تاکہ اُن کی نشاندہی کرتے راستوں پہ سفر کرتے مطالعے کی مدد سے نئی منظر کشی کو تحریری وجود میں لایا جا سکے۔ قدرت کی خوبصورتیاں بیج کی طرح اپنے اندر اتنے وسیع درخت رکھتی ہیں جس کا ہر پتہ، ہر شاخ ان گنت معنی و منظر رکھتا ہے جیسے گنتی سے باہر ہوا کے جھونکے ہوتے ہیں۔ جب منظروں کی بوندیں ذہن کی پیاسی زمین پر ٹپک رہی ہوں تو بہار کی سیاہی سے قلم کو رنگین تذکرہ نگاری میں مدہوش کر دیجیے۔ یہ لطف اندوز لمحے اپنے وجود کی گرفت میں بھر کر محفوظ کر لیں تاکہ آپ کی تنہائی نایاب احساسات و محسوسات سے سجی رہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے آپ میں اک محفل لیے جیتے ہیں۔

    یہ اعزاز لکھاری یا قاری کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جی رہا ہوتا ہے۔ کتابوں کی انگلی پکڑ کر تحریروں کے قدم سے اپنے شعور کے قدم ملا کر چلنے والوں کو ہی ایک انمول ہمسفر کا احساس ملتا ہے۔ آپ ادب کے ساتھ زندہ رہتے ہیں تو مبارک ہو، ادب اپنے زندہ رہنے کے لیے آپ کو چن چکا ہے۔ یہ سچائی و آگاہی کے کوہِ طور کا سرمہ آنکھوں میں لگا کر ہر جانب خدا کو دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں۔ یہ منفرد و نایاب لوگ اپنے چراغوں جیسے ذہنوں میں ادب کی روشنی لیے ویرانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہیں ذہنی تصادم زدہ ہجوم کے اندھیروں میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی قدردانی ہی ان کے جلتے رہنے کا تیل ہے۔ ادب ان کے ذریعے اپنے نت نئے رنگوں کی تبلیغ کرواتا ہے جو شرف والوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جہاں شعور کی کایا پلٹنے والی تحریریں قبولیت کے ہاتھ اُٹھائے بیٹھی ہیں، وہاں ادب کے طالب علم بھی شوق کے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیفیت دل و دماغ کی زمینوں پر بسیرا کرکے اپنے عطر سے انسانیت کے گلشن کو معطر رکھتی ہے۔ قابلِ تعریف ہیں وہ عقلیں جو لفظوں کے چہروں سے پردے ہٹا کر معنی کے اصلی جوہر تک پہنچ جاتی ہیں اور اپنی آنکھوں کو وضاحتوں کا سرمہ لگا کر حقیقتوں کے دلکش نظارے کرواتی ہیں۔ اس نتیجے سے دوچار کرنے والی تحریروں کے لکھاریوں کے دل کی شگفتگی کا سرور انہیں ایسا مدہوش کرتا ہے جس کی ترجمانی وہ خود بھی قلم کی زبان پر نہیں لا پاتے۔ یہ قدرت کی خاموش تحسین کے انعام میں رہتے ہیں۔

    زندگی کو آنکھ بھر کر سب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہاں غیر معیاری حالات و معاملات زندگی کے رنگوں پر اپنی چادر ڈال کر میت کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جہاں مصنوعی دُکھ ایجاد ہو جائیں، وہاں انسان غیر ضروری اُداس رہنے لگتے ہیں۔ پتھر کی عمارتوں میں سکون چاہنے والے جلتے جسموں کو کوئی بتا دے کہ چاندنی رات کے ستاروں کی چھاؤں میں خیمے لگا کر روح کی ٹھنڈک کا مزہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے اپنی مہنگی تخلیق اپنے انسانوں کے لیے مفت میں رکھی ہے۔ انسانی وجود کی بڑی قیمت ہے۔ اس مٹی کے کوزے میں نور کا چراغ جلتا ہے، اُس کوزے کو بے قیمت نہ جانیں جس میں قدرت نے اپنا نور محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانی دل خدا کا تخت ہے، جس کے تختِ دل پر خدا بیٹھا ہو، وہاں زندگی ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہے کہ زندگی سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ہر جینے والے کو ادب اسی مقام پر لانا چاہتا ہے کہ بے مقصد سفروں پر خود کو تھکانے والوں کو درست سمت دی جا سکے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو سمیٹ کر انہیں ہی واپس لوٹا دیا جائے۔ یہ حوصلہ ادب ہی پیدا کر سکتا ہے کہ آپ کسی کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہیں کہ دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ اچھا پڑھنے سننے کی صلاحیت کو اتنا پکائیں کہ آپ کی گفتگو سحر طاری کرنے لگے اور لوگوں کو دنیا کے پیچیدہ راستوں پہ چلنے کا ہنر حاصل ہو جائے۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راہ کے کانٹے ہٹانے کا ذریعہ بن کر آسانیوں، بھلائیوں، بہتریوں کے اسباب چھوڑ کر ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے ٹھہرے رہیں۔

    جب دنیاوی مفاد کی حکمتِ عملی میں لوگ سیاست کی ہتھیلیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے صاحبِ اختیار کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہو جائیں، تب ادب کمزوروں کے ہاتھ پکڑنے والوں کو دلوں کا تخت پیش کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے فیض سیاست کی نوک سے زندگی کے بخیے اُدھیڑنے والے ہر دور میں ادب انسانیت میں محبت کے ٹانکے لگاتا رہتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ وہ کڑواہٹ پی کر مٹھاس کیسے بانٹ سکتے ہیں۔ دراصل قدرت کی تخلیق، احساسات، محسوسات، جذبات کی حسین عکاسی سے انسانی ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جینے کے حقیقی لطف سے ہمکنار کروانے میں قلم کا ہاتھ ہے، اور عزت، محبت، نام اُس کا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ جس طرح خواب بند آنکھوں سے اگلے پچھلے دور کی سیر کرواتے ہیں، اسی طرح کتاب کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ کھلی آنکھوں سے سیر کرواتی ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر اچھا خیال سپردِ قلم کر دو کہ یہ وہ امانت ہے جو بے خبروں تک پہنچانی تمہارا فرض ہے۔

    انگریزی لالٹینوں کی روشنی دماغوں میں بھرنے والوں سے معاشرے کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں مادری و قومی زبان کے سورج کو طلوع کرنے کے لیے ادب کے فروغ کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل بھی ایک ہی جیسے ہیں، اس کے لیے انفرادی طور پر پریشان رہنے کی بجائے اجتماعی طاقت سے خوشحالی لانے کے لیے ادب سے بہتر طاقت اور کہیں سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ فرقہ و جماعت پرستی کے اس تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے اسلام کی بات ادب کی زبان سے کی جائے تو ہر کان خوشی سے قبول کر لے گا۔ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جانی ہے، یہ سلیقہ اگر آ جائے تو ہر بات سنی جاتی ہے۔ اسی سلیقے کو سکھانے کے لیے ادب کی درسگاہوں کا قیام بہت ضروری ہے جہاں کتابوں کے حصار میں نئی سوچیں پروان چڑھیں۔ وہ لوگ جو انقلابِ زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، ان کے اندر اعتماد و حوصلے بھرنے کے لیے سامعین اور اسٹیج کا ماحول مہیا کیا جائے۔

    دل کا درد لفظ و لہجے میں اتار کر کانوں میں انڈیل دیجئے، تحریک جنم لے لے گی۔ اس طرح لکھیں کہ لوگوں کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی زندگیوں کی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور وہ اپنے عیب آپ دیکھ کر خود ہی اصلاح کر لیں۔

    برج بھاشا سے نکلی آٹھ سو سال سے زائد عمر کی یہ اردو زبان کتنے ذہن اور کتنے زمانے دیکھتی آ رہی ہے۔ اس کے پاس کیا کیا داستانیں، حالات و واقعات ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے اسے تذکرہ نگاروں کی ضرورت ہے جو گزرے اور آنے والے وقت کے عکس موجودہ دور میں دکھانے کی خاصیت رکھتے ہوں۔ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے والے ذہنی غربت میں مبتلا معاشرے کے پتھر دلوں کو کھود کر حسنِ سلوک کے ہیرے، موتی، جواہرات نکالنے کے لیے ادب نے آسان طریقے بتا دیے ہیں۔ ادب کی ہر کتاب و تحریر وہ گٹھلی ہے جو روح میں مٹھاس بھرنے والے لذیذ میوے کی خبر دیتی ہے۔

    ادب روح پر پڑے بدبودار غرور و تکبر کے لباس اتروا کر فقیری و درویشی کے خوشبودار ٹاٹ پہناتا ہے۔ جہاں جہالت انسانی ذہن کو اپنی ہی ذات کی قید میں جکڑے رکھتی ہے، وہاں ادب شعور کی رہائی لے کر ضمیر کے جج کے سامنے ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ ادب وہ زبانِ الٰہی ہے جسے بولنے والوں نے انسانیت کی معراج پائی۔ اسی لیے ہر اچھی بات کو صدقے کا مقام حاصل ہے۔ ادب کی پاکیزہ زبان، گفتگو کی مہک سے معاشرے کے ذہنوں کو معطر کرتی ہے۔ اسی لیے ہر انسان کی قیمت کو اس کی زبان تلے رکھ دیا گیا ہے۔ گنہگار سے گنہگار لوگوں نے بھی اپنی باتوں کو ادب کا آبِ حیات پلا کر اپنے بعد بھی اپنے تذکرے چھوڑ دیے۔ کسی کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا غیر معمولی مقام تو نہیں ہے، انبیاء اکرام نے جس طرح آسمانی علوم پر مذہب کے چوکیدار بن کر اپنے عمل کے ذریعے ملاوٹ سے پاک رکھ کر آنے والی نسلوں کو سونپا، اس سے وہ انسانیت کے جہان میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔

    پھر جس طرح فقیری درویشی مزاج کے لکھاریوں نے آسمانی علوم کو زمین پر اس طرح بکھیرا کہ ہر مذہب کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انسانیت کو جوڑنے کے لیے ادب کا یہ کرشمہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ اسی لیے اسلام کے ترجمانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے تاکہ تم حق سے متفق رہنے والوں میں شمار رہو۔ ادب آتش بیانی کی مخالفت کرکے اپنی بات دھیمے اور شیریں لہجے میں دلیل کی پلیٹ میں رکھ کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ سننے والا تمہارا ہو جائے۔ خدا کی قدرت کہوں یا معاشرے کے حسن کی ذمہ داری نہ لینے والوں کی کمزوری، کہ یہاں جو لونڈی ہے وہ رانی بن بیٹھی ہے اور رانی منہ چھپائے کونے میں بیٹھی ہے۔ زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ آپ اپنی زبان میں ہی سہی، علوم ادب کے کتب خانے بڑھائیں، فنون کے کارخانے چلائیں، ایجاد کی ٹہنی پہ ظرافت کے پھول کھلائیں تاکہ نئی نسلیں باوقار انسانیت کا گلشن تشکیل دے سکیں۔

  • اوچ شریف: سورج آگ برسانے لگا، ہیٹ ویو ، درجہ حرارت 47 ڈگری تک جا پہنچا

    اوچ شریف: سورج آگ برسانے لگا، ہیٹ ویو ، درجہ حرارت 47 ڈگری تک جا پہنچا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گرد و نواح میں سورج نے قہر ڈھا دیا، درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس نے بازاروں کی رونقیں چھین لیں، گلیاں سنسان اور دکانیں ویران ہو چکی ہیں جبکہ شہری گھروں میں محصور ہو کر بارانِ رحمت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

    گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی مئی کا مہینہ اوچ شریف میں شدید گرمی کا پیغام لایا ہے۔ گرمی کی شدت نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پرندوں کو بھی بے حال کر دیا ہے۔ پرندے درختوں کے سائے اور پانی کے جوہڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت باہر نکلنا محال ہو چکا ہے۔ مجبوری میں نکلنے والے افراد چھاؤں، ٹھنڈے پانی اور مشروبات کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے، دکانوں میں گاہک آنا بند ہو گئے ہیں، اور گرمی نے نظام زندگی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا ہے۔

    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ شہر میں واٹر کولرز، سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ، اور ہنگامی طبی مراکز کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ ہیٹ اسٹروک اور دیگر خطرات سے بچا جا سکے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اوچ شریف کے ساتھ ساتھ ڈیرہ غازی خان، دادو، تربت، بھکر، بہاولنگر، رحیم یار خان اور نوکنڈی سمیت کئی علاقوں میں بھی درجہ حرارت 46 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 20 مئی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں ہیٹ ویو جاری رہنے کا امکان ہے، اور شہریوں سے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    شدید گرمی سے نجات کی واحد امید بارش بن چکی ہے، اور پورا خطہ بارانِ رحمت کے لیے سراپا دعا ہے۔

  • احمدپور شرقیہ: فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، مضر صحت مشروبات برآمد، پلانٹ سیل، مقدمہ درج

    احمدپور شرقیہ: فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، مضر صحت مشروبات برآمد، پلانٹ سیل، مقدمہ درج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کی خصوصی ہدایت پر احمدپور شرقیہ کے علاقے محراب والا میں خوراک کے معیار پر بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیم نے ایک بیورجز پلانٹ پر چھاپہ مار کر سینکڑوں لیٹر غیر معیاری اور مضر صحت مشروبات برآمد کر لیے۔

    کارروائی کے دوران پلانٹ پر تیار کیے جانے والے مشروبات کے نمونے حاصل کیے گئے جنہیں لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مشروبات کے سیمپل مقررہ فوڈ سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترے، جب کہ ان کی برکس ویلیو (یعنی مٹھاس و مواد کی مقدار) بھی طے شدہ حد سے کم تھی جو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دی گئی۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر نہ صرف پلانٹ کو سیل کر دیا بلکہ پلانٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    اس موقع پر ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے پیش نظر مشروبات کی تیاری، پیکنگ اور ترسیل کے تمام مراحل پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک میں ملاوٹ، جعلسازی اور غیر معیاری اشیاء کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ عوام کو صحت بخش خوراک فراہم کی جا سکے۔

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کہیں بھی غیر معیاری خوراک یا ملاوٹ کے شواہد دیکھیں تو فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں، تاکہ عوام کی صحت کے دشمن عناصر کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کی جا سکے۔

  • بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟

    بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟

    بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    15 مئی 2025 کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سری نگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ انہیں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں جو کہ بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک اور کوشش تھی۔ پاکستان نے اس بیان کی شدید مذمت کی اور اسے غیر ذمہ دارانہ اور بھارت کی ناکام دفاعی حکمت عملی اور عدم تحفظ کا مظہر قرار دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ریمارکس حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موثر دفاع کے بعد نئی دہلی کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ایٹمی مواد کی مسلسل چوری اور سمگلنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت کی ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی پروگراموں پر تنازعات کی طویل تاریخ ہے، لیکن راج ناتھ سنگھ کا تازہ بیان سیاسی مقاصد اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بھارت کا ایٹمی پروگرام بار بار حفاظتی خامیوں کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مئی 2021 میں مہاراشٹر میں 21 کروڑ روپے مالیت کا تابکار یورینیم پکڑا گیا، جس کی تصدیق بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر نے کی۔ 1994 میں رومانیہ میں 4.55 کلوگرام یورینیم ٹیٹرا کلورائد اور 2.5 کلوگرام یلو کیک کے ساتھ ہندوستانی شہری گرفتار ہوئے۔ 1984 سے اب تک یورینیم کی چوری کے 153 کیس رجسٹر ہو چکے ہیں جو عالمی سطح پر ایک تشویشناک ریکارڈ ہے۔ 2021 میں دھرادون میں بھابھا سینٹر سے چوری شدہ ایک تابکار آلہ اور 10 کروڑ ڈالر مالیت کے کیلی فورنیم کی چوری کے تین واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ہندوستان ٹائمز نے نیپال کی سرحد سے یورینیم سمگلنگ کی کوشش کو بے نقاب کیا جسے بھارتی حکام نے چھپانے کی کوشش کی۔

    بھارت کے ایٹمی ری ایکٹروں کی حالت بھی ناقص ہے۔ 1986 میں مدراس اٹامک پاور سٹیشن میں دراڑیں پڑیں، جنہیں آئی اے ای اے سے چھپایا گیا۔ 1988 میں بھاری پانی کے اخراج اور 1991 میں دھماکے سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ناروڑا پلانٹ میں ناقص مواد کی وجہ سے آگ لگی، کاکڑا پور کا کنکریٹ گنبد گر گیا اور تری پور پلانٹ کے اردگرد 3,000 گاؤں تابکار پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ حیدرآباد کے نیوکلیئر فیول کمپلیکس میں دھماکے کے بعد بھارت نے آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار کیا، جس پر ایجنسی نے بھارت کے ایٹمی بجلی گھروں کو غیر محفوظ قرار دیا۔ بھارت میں انڈر ورلڈ کی مضبوط گرفت ایٹمی مواد کی چوری اور سائنسدانوں کے اغوا میں ملوث ہے۔ 2006 میں ممبئی کے قریب ایک ایٹمی کنٹینر غائب ہو گیا اور 18 ماہ تک 7 سے 8 کلوگرام یورینیم ایک سائنسدان کی تحویل میں رہا بغیر کسی کو خبر ہوئے۔

    اس کے برعکس پاکستان کا ایٹمی پروگرام عالمی معیارات کے مطابق محفوظ ہے۔ 2000 میں قائم نیشنل کمانڈ اتھارٹی، اسٹریٹجک پلان ڈویژن اور پاک فوج ایٹمی اثاثوں کی حفاظت یقینی بناتے ہیں۔ نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس 2020 کے مطابق پاکستان نے ایٹمی مواد کی چوری کے خلاف اقدامات میں 25 پوائنٹس کی بہتری دکھائی جو عالمی سطح پر سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آئی اے ای اے نے پاکستان کے ایٹمی مراکز سے تابکاری کے اخراج کی خبروں کی سختی سےتردید کی۔ پاکستان نے اپنی روایتی دفاعی صلاحیتوں سے بھارت کو روکنے کی صلاحیت ثابت کی ہے اور اسے بھارت کی ایٹمی بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں۔

    راج ناتھ سنگھ کا بیان جموں و کشمیر کے تنازع اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے۔ 7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب پر میزائل حملے کیے، جسے بھارت نے پہلگام حملے کا جواب قرار دیا۔ پاکستان نے ان حملوں کو شہری علاقوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ اس تنازع کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پہلی ڈرون جنگ کہا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارت کی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی لیکن بھارت کی پسپائی نے اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

    بھارت کے ایٹمی پروگرام کی خامیوں سے دہشت گردی کا خطرہ بڑھتا ہے کیونکہ چوری شدہ مواد سے "ڈرٹی بم” بنایا جا سکتا ہے۔ ہندو انتہا پسند گروہوں کی موجودگی اس خطرے کو مزید سنگین بناتی ہے۔ بھارت نے آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، لیکن مغربی ممالک کی خاموشی سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت کے ایٹمی اثاثوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس کی ایٹمی سپلائرز گروپ کی رکنیت معطل کی جائے۔ آئی اے ای اے کو بھارت کی تنصیبات کا معائنہ کرنا چاہیے.

    بھارت کے ایٹمی پروگرام کی مسلسل خامیوں، یورینیم کی چوری، تابکار مواد کی سمگلنگ اور غیر محفوظ ری ایکٹروں سے عالمی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان پر الزامات لگا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں، جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس 2020 اور آئی اے ای اے کی تصدیق کے مطابق محفوظ ہے۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیموں تک حساس مواد کی رسائی اور آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مغربی ممالک کی خاموشی سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے لیکن انسانیت کے تحفظ کے لیے بھارت کے ایٹمی پروگرام پر فوری پابندی ناگزیر ہے۔ آئی اے ای اے کو شفاف تحقیقات اور ایٹمی سپلائرز گروپ کو بھارت کی رکنیت معطل کرنی چاہیے، ورنہ اس کی غیر ذمہ داری عالمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

  • یوم تشکر: ملک بھر میں افواج پاکستان سے اظہارِ یکجہتی، ریلیاں، تقاریب اور شہداء کو خراجِ تحسین

    یوم تشکر: ملک بھر میں افواج پاکستان سے اظہارِ یکجہتی، ریلیاں، تقاریب اور شہداء کو خراجِ تحسین

    (باغی ٹی وی رپورٹس)آج 16 مئی کو ملک بھر کی طرح گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور ننکانہ صاحب میں بھی "یوم تشکر” قومی جذبے اور فخر کے ساتھ منایا گیا، جس میں ضلعی، صوبائی و قومی سطح کی سیاسی، انتظامی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس دن کو افواجِ پاکستان کی جرات و قربانیوں پر اظہارِ تشکر کے طور پر منایا گیا۔

    گوجرانوالہ میں کمشنر آفس میں مرکزی تقریب کا انعقاد ہوا، جہاں کمشنر، آر پی او، ڈپٹی کمشنر، اراکینِ اسمبلی، علما کرام، مسیحی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوئے۔ پرچم کشائی اور سلامی کی تقریب میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس کے چاک و چوبند دستے شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر کمشنر آفس میں کیک کاٹا گیا اور ریلی نکالی گئی جس میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیرِ صدارت ڈی سی آفس کمپلیکس میں قومی پرچم لہرایا گیا، جس میں ممبرانِ اسمبلی، ضلعی افسران، ریسکیو، پولیس و دیگر محکموں نے شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم افواج پاکستان کی شکر گزار ہے جنہوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ سکولز، کالجز میں تقاریب ہوئیں اور اہم عمارات پر چراغاں کا بھی اہتمام کیا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان میں یوم تشکر کی تقریبات پولیس لائنز اور ضلع کونسل ہال میں ہوئیں۔ آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن، کمشنر اشفاق چوہدری، ایم پی اے حنیف پتافی و دیگر نے شہداء کی فیملیز کے ساتھ شرکت کی۔ پولیس، جیل پولیس، بارڈر ملٹری پولیس اور ریسکیو کے دستوں نے سلامی دی، پھول پیش کیے گئے اور قومی ترانے گائے گئے۔ طلباء نے ملی نغمے اور خاکے پیش کیے۔ مقررین نے کہا کہ پاک فوج کی جرات نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، دشمن کو تاریخی شکست دی گئی، اور اب پوری دنیا پاکستان کی عسکری صلاحیت کی معترف ہے۔

    ننکانہ صاحب میں ضلع کونسل ہال میں پرچم کشائی کے بعد ریلی نکالی گئی جو گوردوارہ جنم استھان تک پہنچی۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر، ڈی پی او ندیم عباس، سیاسی و سماجی شخصیات، اقلیتوں، تاجروں اور طلباء نے شرکت کی۔ ریلی میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ مقررین نے 10 مئی کے دن کو جرات و ہمت کی مثال قرار دیا اور "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔

    ملک گیر تقریبات کا مقصد شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا۔ یوم تشکر کے ذریعے قوم نے یہ پیغام دیا کہ وطن عزیز کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے، اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  • اوچ شریف: بھوت بنگلہ بن گیا ڈاک خانہ، ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف ایک پوسٹ مین

    اوچ شریف: بھوت بنگلہ بن گیا ڈاک خانہ، ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف ایک پوسٹ مین

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) سب تحصیل اوچ شریف کا واحد ڈاک خانہ بدانتظامی، بدعنوانی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہو کر ایک بھوت بنگلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ نصف صدی پرانی شکستہ عمارت رات کے اوقات میں منشیات کے عادی افراد کی پناہ گاہ بن چکی ہے جبکہ دن میں یہاں ڈاک کی ترسیل کا نظام مکمل درہم برہم نظر آتا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل اس تحصیل میں صرف ایک پوسٹ مین تعینات ہے، جو ازخود شہریوں کو فون کر کے ڈاک خانہ آ کر اپنی ڈاک وصول کرنے کا کہتا ہے، جس سے نہ صرف عوام کو شدید زحمت کا سامنا ہے بلکہ اہم خطوط و دستاویزات کی بروقت ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ماضی میں جب آبادی چند ہزار تھی تو چار ڈاکیے خدمات انجام دے رہے تھے، مگر اب آبادی میں کئی گنا اضافے کے باوجود ڈاکیے کی تعداد کم کر کے ایک کر دی گئی ہے۔ عملے کی جانب سے عوامی رقوم، منی آرڈرز اور پارسلز میں بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے کئی واقعات بھی منظرعام پر آ چکے ہیں، جن میں ایک سابق پوسٹ ماسٹر اور حالیہ پوسٹ مین کا نام شامل ہے۔

    پوسٹ ماسٹر کی غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث نہ صرف دفتری امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پوسٹ آفس اور اس سے ملحقہ رہائشی کوارٹرز گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہریوں نے اب سرکاری ڈاک سروس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے نجی کوریئر کمپنیوں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔

    عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر مواصلات، ڈی جی پاکستان پوسٹ اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ڈاک خانہ اوچ شریف کی بحالی، عملے میں اضافہ اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف: مخدوم افتخار گیلانی کا پاک فوج کو خراجِ تحسین، جنرل عاصم منیر کو مبارکباد

    اوچ شریف: مخدوم افتخار گیلانی کا پاک فوج کو خراجِ تحسین، جنرل عاصم منیر کو مبارکباد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اُوچ شریف میں دربار حضرت محبوب سبحانیؒ کے شہزادہ نشین، ممتاز روحانی و قومی رہنما مخدوم سید افتخار حسن گیلانی نے پاک فوج کی حالیہ کامیابیوں پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کو زبردست الفاظ میں مبارکباد پیش کی ہے۔ اُنہوں نے آپریشن "بنیان مرصوص” کی شاندار فتح کو پاکستان کی دفاعی تاریخ کا سنہرا باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن پر کاری ضرب لگا کر اُسے عبرتناک شکست سے دوچار کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔

    مخدوم افتخار حسن گیلانی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے لیکن دشمن کو ہر بار واضح پیغام دیا گیا کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاک فوج نے بھارتی بالادستی کے خواب کو نہ صرف چکنا چور کیا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور ایمانی جذبے سے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی پاک فوج کی قومی یکجہتی، قربانی اور قرب الٰہی کی دلیل ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پوری قوم کی متحدہ دعائیں اور افواج پاکستان کی جرأت و شجاعت کارفرما رہی۔ عوام نے ہر محاذ پر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یکجہتی کا غیر متزلزل مظاہرہ کیا، جو قوموں کی اصل طاقت ہوتا ہے۔

    مخدوم افتخار گیلانی نے مزید کہا کہ "ہم افواجِ پاکستان کو اس عظیم الشان فتح پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ وطنِ عزیز کے دفاع پر جب بھی ضرورت پڑی، ہم ہر اول دستے کی طرح پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پوری قوم آج افواجِ پاکستان کے گرد سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے، جس کا ثمر اللہ رب العزت نے ہمیں تاریخی کامیابی کی صورت میں عطا کیا ہے۔”

    انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس عسکری کامیابی کے ثمرات کو دیرپا بنانے کے لیے معاشی، سفارتی اور قومی سلامتی کے محاذ پر ٹھوس اور دور رس حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ ہر میدان میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے اور پاکستان مزید مضبوط و مستحکم ہو۔

  • اوچ شریف: آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی پر عظیم الشان ریلی کا انعقاد

    اوچ شریف: آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی پر عظیم الشان ریلی کا انعقاد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں معروف دینی و روحانی شخصیت مولانا پیر سید شاہ جرار کی قیادت میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کی عظیم کامیابی کے جشن میں ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس تاریخی ریلی کا آغاز جامعہ قاسمیہ بھٹہ ککس سے ہوا، جو قومی شاہراہ سے ہوتی ہوئی الشمس چوک میں ایک بھرپور اجتماع میں تبدیل ہو گئی۔

    ریلی میں شریک افراد نے قومی پرچموں، پاک فوج سے محبت کے بینرز اور پُرعزم نعروں سے فضا کو گونجا دیا۔ "پاک فوج زندہ باد”، "شہداء کو سلام”، اور "پاکستان پائندہ باد” کے نعرے ریلی کی فضا کو گرما رہے تھے۔ ریلی میں مذہبی جوش و ولولہ اور قومی یکجہتی کا بے مثال منظر دیکھنے کو ملا۔

    ریلی سے خطاب کرنے والوں میں ممتاز علماء اور مشائخ شامل تھے، جن میں مولانا پیر سید محمد شاہ جرار، مفتی محمد قاسم، مولانا اسداللہ مدنی، مولانا جلیل احمد عباسی، مولانا راشد فاروقی، مولانا بابر علی صدیقی، مولانا شاکر قاسمی، مولانا ریاض احمد، مولانا عتیق الرحمن ککر، قاری سعد مدنی، مہرغلام ربانی کاٹھیہ، شیخ محمد اکمل، عمر خورشید سہمن اور چوہدری محمد طارق نمایاں رہے۔

    مقررین نے اپنے جذباتی خطابات میں کہا کہ آپریشن "بنیان مرصوص” پاکستان کی بقاء، سالمیت اور خودمختاری کے لیے ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں ہمارے بہادر سپاہیوں نے دشمنوں کو ان کی کمین گاہوں میں جا کر عبرتناک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، اور ان کے خون کے صدقے آج وطن محفوظ ہے۔

    ریلی میں اوچ شریف کے علاوہ بیٹ احمد، کوٹلہ شیخاں، زندہ لعل، جھانگڑہ غربی اور دیگر قریبی علاقوں سے عوامی قافلے شریک ہوئے۔ شرکاء کی بڑی تعداد اور قومی جذبہ اس بات کا غماز تھا کہ پاکستانی قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    ریلی کا مقصد واضح تھا — دشمنوں کو پیغام دینا کہ پاکستانی قوم اور اس کی افواج ایک جسم کی مانند ہیں، اور وطن عزیز کے خلاف کسی بھی سازش کو وہ متحد ہو کر کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

  • دھوڑ کوٹ پولیس کا منشیات فروشوں پر کریک ڈاؤن، 100 لیٹر شراب برآمد، 2 گرفتار

    دھوڑ کوٹ پولیس کا منشیات فروشوں پر کریک ڈاؤن، 100 لیٹر شراب برآمد، 2 گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) ضلع بہاولپور میں تھانہ دھوڑ کوٹ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کرتے ہوئے دو مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران 100 لیٹر دیسی شراب برآمد کر لی، جب کہ دو منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں آئیں، جن سے شراب کی ترسیل کی بڑی کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔

    سب انسپکٹر خدا بخش کی قیادت میں پولیس ٹیم نے گشت کے دوران موضع خیرپور ڈاہا کے قریب مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع پر فوری ایکشن لیتے ہوئے محمد اسماعیل ولد غلام رسول ساکن موچی پنواں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے قبضے سے دو نیلے جیری کینز برآمد کیے گئے جن میں 50 لیٹر دیسی شراب موجود تھی۔ کارروائی میں کانسٹیبل شاہنواز اور سجاد خان نے حصہ لیا۔

    اسی روز اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالمجید کی سربراہی میں ٹیم نے بیٹ لنگاہ، پتن دریا کے مقام پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملزم اعجاز بلوچ ولد غلام علی، ساکن عمر کوٹ، کو دھر لیا۔ پولیس ٹیم میں عامر اصغر، فیض اللہ، وقار حسین اور ڈرائیور محمد ارشد شامل تھے۔ ملزم کے قبضے سے بھی 50 لیٹر دیسی شراب برآمد ہوئی۔

    دونوں مقدمات میں پولیس نے شراب کے 10،10 اونس نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو بھجوا دیے ہیں، جب کہ باقی مقدار ثبوت کے طور پر محفوظ کر لی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف امتناعِ منشیات ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

    ایس ایچ او سجاد حسین لغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس علاقے کو منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ سماج دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • اوچ شریف میں ڈاکو راج: ماں پر تشدد، 12 سالہ بچی اغوا، پولیس بے خبر

    اوچ شریف میں ڈاکو راج: ماں پر تشدد، 12 سالہ بچی اغوا، پولیس بے خبر

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں محلہ شمیم آباد میں دن دہاڑے مسلح ڈاکو گھر میں گھس آئے، اہلِ خانہ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا، زیورات لوٹے، خاتون کو زخمی کیا اور 12 سالہ بچی کو اغوا کرکے فرار ہو گئے۔ واقعے نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جب کہ پولیس حسبِ روایت تاخیر سے پہنچی اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

    متاثرہ خاتون سلمیٰ زوجہ غلام شبیر عمر تقریباً 33 سال اپنی بچی کو بچانے کی کوشش میں زخمی ہو گئیں۔ ڈاکو ان کے کانوں سے بالیاں نوچ کر لے گئے جس سے بائیں کان کی لو شدید زخمی ہو گئی۔ اہلِ محلہ کے مطابق خاتون کی چیخ و پکار سن کر علاقہ لرز اٹھا لیکن پولیس اور ایس ایچ او موقع پر تاخیر سے پہنچے اور ڈاکو بچی سمیت فرار ہو چکے تھے۔

    زخمی خاتون کو ریسکیو اہلکاروں نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی، تاہم اغوا شدہ بچی کا کوئی سراغ نہ لگایا جا سکا۔ شہریوں نے بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور بچی کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ اوچ شریف میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے اور پولیس جرائم کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی کارکردگی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔