Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:  قائداعظم کا مرے کالج کا دورہ ، 81ویں سالگرہ پر پروقار تقریب

    سیالکوٹ: قائداعظم کا مرے کالج کا دورہ ، 81ویں سالگرہ پر پروقار تقریب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض)بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 30 اپریل 1944ء کے تاریخی دورہ سیالکوٹ کی 81ویں سالگرہ کے موقع پر گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز مرزا نے کی، جبکہ ممتاز ماہر قانون، کالم نگار اور مصنف آصف بھلی ایڈووکیٹ مہمانِ خصوصی تھے۔ نظامت کے فرائض مدینہ ٹرسٹ کے عبدالشکور مرزا نے سرانجام دیے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی آصف بھلی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے مرے کالج کے تاریخی مولوی میر حسن ہال میں 30 اپریل 1944 کو جو تاریخی خطاب کیا، وہ تاریخ کا انمول باب ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ "سیالکوٹ کا یہ اجلاس 23 مارچ 1940 کے سیشن سے کسی صورت کم اہم نہیں”۔ آج اسی ہال میں یہ تقریب منعقد کرکے تاریخ سے جڑنے کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ہے۔

    آصف بھلی نے مفکرِ پاکستان علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے یہ الفاظ "میں قائداعظم کا ایک سپاہی ہوں” آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قائداعظم کی تاریخی تقریر کو لفظ بہ لفظ مولوی میر حسن ہال کی دیوار پر آویزاں کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل اس عظیم قومی ورثے سے واقف ہو سکے۔

    صدرِ تقریب پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہمارے ادارے کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ یہی کالج وہ درسگاہ ہے جہاں علامہ اقبال نے تعلیم حاصل کی اور قائداعظم نے یہاں آکر نوجوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں سیالکوٹ کے عوام اور طلبہ کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔

    ممتاز محقق و مصنف مرزا ارشد طہرانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم نے سیالکوٹ آمد پر فرمایا تھا: "سیالکوٹ والوں نے میرا والہانہ استقبال کرکے میرے بوڑھے جسم کو جوان کر دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ آج 30 اپریل 2025 کو اسی تقریب میں شریک ہو کر دلی سکون محسوس ہو رہا ہے، اور انہوں نے تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

    تقریب سے پروفیسر عظیم مسیح، سینئر صحافی جنید آفتاب، اور ڈاکٹر سیدا نورین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر بانی پاکستان کے دورہ سیالکوٹ کی 81ویں سالگرہ کا خصوصی کیک کاٹا گیا۔

    اسٹیج پر اُن تاریخی شخصیات کے وارثین بھی موجود تھے جنہوں نے 1944 میں قائداعظم کے دورے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں چودھری حسن دین کے صاحبزادے چودھری محمد لطیف، جیل بھرو تحریک کے پہلے گرفتار کارکن ملک محمد اشرف ککے زئی کے صاحبزادے حافظ مبین ملک، اور قائداعظم کو قیام کی جگہ فراہم کرنے والے چودھری عبدالحمید کے پوتے مدثر ریاض شامل تھے۔ ان کے ہمراہ لیبر لیڈر نیاز احمد ناجی اور گورنمنٹ مرے کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر ندیم قیصر بھی موجود تھے۔

    تقریب کے انعقاد میں جن اداروں نے خصوصی تعاون کیا ان میں "دی سیالکوٹ مرے آرٹس”، "مدینہ ٹرسٹ”، "کمیونٹی ڈویلپمنٹ کنسرن”، "سٹی میگ”، "سیالکوٹ آرٹ اینڈ کلچرل سینٹر”، "سیالکوٹ ٹورزم اینڈ کلچرل فورم”، "رحمان فاؤنڈیشن اینڈ فری ڈائلیسز سینٹر”، "یونس چوہدری”، "نڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک” اور "چاند تارا ویلفیئر فاؤنڈیشن” شامل ہیں۔

  • درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں
    تحریر : جلیل احمد رند
    موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، سیلاب اور خشک سالی پہلے ہی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان خطرات سے لڑنے کے لیے ایک طاقتور حل ہماری زمین میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔

    درخت ماحولیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں، اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جنگلات سیلابوں اور طوفانوں کے خلاف قدرتی رکاوٹوں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کثرت سے ہوتے جا رہے ہیں۔

    بدقسمتی سے، پاکستان خطے میں جنگلات کی سب سے کم شرحوں میں سے ایک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ عالمی اوسط سے بہت کم ہے اور ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے زیادہ بے نقاب کرتا ہے۔

    اس پر قابو پانے کے لیے ہمیں پورے پاکستان میں درخت لگانے کی ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے دیہات تک، سب کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکولوں، برادریوں، کاروباروں اور سرکاری تنظیموں کو سبز جگہوں کو بڑھانے اور جنگلات کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ "بلین ٹری سونامی” اور "دس بلین ٹری سونامی” پروگرام جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم اور عوامی شرکت موجود ہو۔

    درخت لگانا صرف ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری بھی ہے۔ ایک سرسبز پاکستان کا مطلب ہے آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور زیادہ خوشحال ملک۔

    آئیے، اپنے آنے والے کل کو بچانے کے لیے آج درخت لگائیں!

  • میرپور خاص: خواتین پر تشدد اور کم عمر شادیوں کی روک تھام کیلئے اعلیٰ سطح اجلاس

    میرپور خاص: خواتین پر تشدد اور کم عمر شادیوں کی روک تھام کیلئے اعلیٰ سطح اجلاس

    میرپور خاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) خواتین پر تشدد، کم عمر بچیوں کی شادی اور بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے ڈپٹی کمشنر میرپور خاص ڈاکٹر رشید مسعود خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام (CSSP)، محکمہ ترقی نسواں کے افسران اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود خان نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ خواتین معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں، اس لیے ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف ضلعی سطح پر قائم کمیٹی کو فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں میرپور خاص دارالامان کی ایس این ای منظور کروانے اور اسے جلد فعال کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے محکمہ ترقی نسواں کو ہدایت دی کہ دارالامان کے لیے فوری طور پر خط ارسال کیا جائے۔

    اجلاس کے دوران سیف ہاؤس، ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر اور چائلڈ پروٹیکشن سینٹر کو ایک ہی عمارت میں قائم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو ایک ہفتے میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

    سیف ہاؤس کی انچارج نصرت میانو ایڈوکیٹ نے اجلاس میں انکشاف کیا کہ کم عمر شادیوں کی روک تھام میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے کے باعث قانونی کارروائی ممکن نہیں ہو پاتی۔ بچوں پر تشدد کے مقدمات میں بھی پولیس کی سستی اور غفلت مسائل کو جنم دے رہی ہے۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو فیصل علی سومرو، CSSP کے پروگرام مینیجر واحد حسین سنگراسی، ضلعی کوآرڈینیٹر محمد بخش کپری، ترقی نسواں کے افسر ندیم احمد کھوڑو، وومین لیڈرشپ فورم کی رضیہ بیگم، امتیاز، افشاں بھٹی (آرٹس فاؤنڈیشن) اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

  • خیبر: بابِ خیبر پر قبائلی عوام کا بھارت مخالف مظاہرہ، افواجِ پاکستان سے یکجہتی کا اظہار

    خیبر: بابِ خیبر پر قبائلی عوام کا بھارت مخالف مظاہرہ، افواجِ پاکستان سے یکجہتی کا اظہار

    خیبر (باغی ٹی وی مہد شاہ شینواری) خیبر ضلع کی تحصیل جمرود میں تاریخی بابِ خیبر کے مقام پر قبائلی عوام نے بھارت کے خلاف اور افواجِ پاکستان کے حق میں زبردست یکجہتی ریلی نکالی۔ ریلی میں قومی مشران، بلدیاتی نمائندگان، جمرود پولیس اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے "مودی مردہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور دفاع وطن میں ہر اول دستہ بننے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی پر کسی قسم کی بھارتی جارحیت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مشران اور بلدیاتی نمائندوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مسلسل مرتکب ہو رہا ہے اور پلوامہ جیسے خود ساختہ ڈراموں کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کا جارحانہ اقدام اٹھانے کی کوشش کی تو پاکستانی قوم اور افواج متحد ہو کر منہ توڑ جواب دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا ہر فرد اپنے ملک کی سرحدوں اور وسائل کا محافظ ہے، اور بھارت اگر کوئی مہم جوئی کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے ہزار بار سوچنا ہوگا۔

  • گوجرہ: جامن کے پتوں کو آگ لگانے کے تنازع پر نوجوان قتل، ملزم کزن نکلا

    گوجرہ: جامن کے پتوں کو آگ لگانے کے تنازع پر نوجوان قتل، ملزم کزن نکلا

    گوجرہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) تھانہ صدر گوجرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 90 ج ب میں معمولی تنازع جان لیوا ثابت ہوا، جہاں 35 سالہ نوجوان ڈاکٹر اعجاز علی کو اس کے سگے کزن محسن نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر اعجاز علی ولد احسان الحق قوم جٹ سکنہ چک نمبر 90 ج ب گوجرہ اپنے گھر کے باہر موجود تھا کہ اچانک اس کا کزن محسن ولد ریاض مسلح رپیٹر موٹر سائیکل پر آیا اور آتے ہی فائرنگ کر دی۔ فائر کے نتیجے میں تین چھرے ڈاکٹر اعجاز کے پیٹ کے بائیں جانب لگے جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اہل خانہ نے زخمی کو اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر الائیڈ ہسپتال منتقل کیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    ذرائع کے مطابق چند روز قبل دونوں فریقین کے درمیان جامن کے پتوں کو آگ لگانے کے معاملے پر تلخ کلامی اور گالم گلوچ ہوئی تھی، جس پر محسن نے رنجش رکھتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز علی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور کارروائی جاری ہے جبکہ مقتول کی نعش ضروری قانونی کارروائی کے لیے گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال گوجرہ منتقل کر دی گئی ہے۔

  • اوچ شریف: تیز رفتار کار کی ٹکر سے لوڈر رکشہ ڈرائیور جاں بحق

    اوچ شریف: تیز رفتار کار کی ٹکر سے لوڈر رکشہ ڈرائیور جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ روڈ پر تیز رفتار کار کی ٹکر سے 30 سالہ نوجوان لوڈر رکشہ ڈرائیور محمد عاصم جاں بحق ہو گیا، حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    محمد عاصم جو بستی میجر حق نواز اوچ شریف کا رہائشی تھا معمول کے مطابق اپنے رکشے پر جانوروں کا چارہ لے کر جا رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے آنے والی جی ایل آئی کار (نمبر LEH-1708) نے اسے شدید ٹکر مار دی۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹکر اتنی زور دار تھی کہ رکشہ الٹ گیا اور محمد عاصم نیچے دب کر شدید زخمی ہو گیا۔ موقع پر موجود لوگوں نے فوری طور پر اسے ملبے سے نکالا، مگر سر پر گہری چوٹیں لگنے کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو ٹیم نے جائے حادثہ پر پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کی اور لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ واقعے کے بعد اہلِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کے ذمہ دار کار ڈرائیور کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارتی محل میں ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے توانائی، معدنیات اور آئی ٹی شعبہ میں تعاون پر اتفاق جبکہ انقرہ نے دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے 13 فروری 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ 7 ویں اعلیٰ سطح اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے فیصلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیر جہتی دو طرفہ تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال اور قومی مفاد کے امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صدر اردوان نے فلسطین کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کو سراہا۔ خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ترکیہ میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر طیب اردوان سے ملاقات دو طرفہ تعلقات، پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل، دہشت گردی کے سدِ باب، دفاعی تعاون اور غزہ میں پیدا شدہ انسانی المیے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور مثالی تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت، لسانی رابطے مضبوط بنیاد پر استوار اور دونوں ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے مبرا ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ صدیوں پرانا اور گہرا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تاریخی تعلقات ہیں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ گزشتہ 75 سالوں کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات ہمیشہ ہی خوشگوار رہے ہیں، لیکن اردوان اور شہباز شریف کی ذاتی دوستی نے اس رشتے کو ایک نیا معنی دیا ہے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کی قیادت کی قدر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ملک کے مفادات کے لیے ایک مضبوط حمایت کا نشان ہیں۔ اردوان اور شہباز شریف کے تعلقات میں جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے تجربات اور کامیابیوں کا احترام کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کئی بار اردوان کی قیادت اور ترکیہ کی ترقی کی تعریف کی ہے اور ان کے ساتھ تعاون کے امکانات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ دوسری طرف اردوان نے بھی پاکستان کے معاشی چیلنجز میں اس کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ اپنے ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ جموں و کشمیر اور شمالی قبرص سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو، اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے علاقائی تنازعات میں بھی حمایت کی ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو آرمینیا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔ پاکستان، ترک اتحادی آذربائیجان کی جانب سے ناگورنوکرباخ کے متنازعہ علاقے پر دعوے کی بھی حمایت کرتا ہے۔ جواب میں ترکی کھلم کھلا کشمیر کی اتنی حمایت کرتا ہے کہ وہ بھارت کو برہم کرتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور اردوان کی حمایت کو کھلے عام مداخلت قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کا فلسطین کے تنازعے پر بھی موقف یکساں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے سیاسی تصفیے کی حمایت نہیں کرتے جو فلسطینی عوام کی حمایت نہ کرتا ہو۔

    پاکستان، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھا کر عالمی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کر کے کئی مسائل و مشکلات سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ سابق حکومتیں دوست ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں، ترکیہ کے ساتھ انتہائی گہرے دوستانہ تعلقات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو پوری طرح کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے باہمی فائدہ مند معاشی شعبے سے بھرپور مستفید ہونے کے لیے دفاعی اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اہداف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔

    حکومت پڑوسیوں، علاقائی شراکت داروں اور دوست ممالک پر بھرپور توجہ مبذول کر کے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اسی طرح پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ترکیہ میں کاروبار کر رہی ہے اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس ترقی کے لیے وسائل موجود ہیں۔ اگر وہ تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کریں اور اس پر عمل درآمد کا شفاف نظام بنائیں تو دونوں ملک آنے والے چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت سیاسی استحکام اور سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔ ترکیہ اور عرب ممالک سرمائے کی کمی کو پورا کرنے میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ کے سامنے اس وقت دو مرکزی چیلنج ہیں، ایک تجارت اور دوسرا اقتصادی سرمایہ کاری۔ ان گنت ایسی ترک کمپنیاں ہیں جو پاکستان میں کام کرنا چاہتی ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریک کار ہیں، خصوصاً دفاعی حوالے سے۔ ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکیہ کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی تعاون کی وسیع تر گنجائش موجود ہے۔ ترکیہ اگلے دو تین سالوں میں پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے کر کم از کم پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے کیونکہ تجارت کا موجودہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری طبقے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ترکیہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کے پاس اس ضمن میں سیکھنے اور تعاون کے لیے بہت کچھ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک مل کر بہت سی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان ترکیہ سے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً زراعت اور تعلیم کے شعبے میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز اگر ایک دوسرے سے تیز رفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان معاشی، اقتصادی اور صنعتی لحاظ سے ملک کو مضبوط بنانے کی اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے، جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے۔

  • ڈی جی خان:بغیر وکیل و سفارش انصاف، وفاقی محتسب غریبوں کی عدالت ہے. اعجاز قریشی

    ڈی جی خان:بغیر وکیل و سفارش انصاف، وفاقی محتسب غریبوں کی عدالت ہے. اعجاز قریشی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) وفاقی محتسب پاکستان اعجاز احمد قریشی نے خیابان سرور، ڈیرہ غازی خان میں ادارے کے نئے علاقائی دفتر کا افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کو فوری اور مفت انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس دفتر کے قیام سے وفاقی محتسب کے دفاتر کی مجموعی تعداد 26 ہو گئی ہے جن میں حالیہ مہینوں کے دوران قائم ہونے والے مظفرآباد، گلگت بلتستان، میرپور خاص اور ساہیوال کے دفاتر بھی شامل ہیں۔

    وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ ہمارا ادارہ "غریبوں کی عدالت” ہے، جہاں نہ وکیل درکار ہوتا ہے، نہ سفارش بلکہ فیصلے صرف سچائی اور انصاف کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کی بڑھتی ہوئی رسائی، کھلی کچہریوں اور انسپکشن ٹیموں کی فعالیت کے سبب عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024 کے دوران عوامی شکایات کی تعداد 2,26,372 رہی، جن میں سے 2,23,198 پر فیصلے دیے گئے اور ان میں سے 93.21 فیصد فیصلوں پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 126 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں، جہاں انویسٹی گیشن افسران خود عوام کے درمیان جا کر شکایات سن کر موقع پر انصاف فراہم کرتے ہیں۔ او سی آر (OCR) پروگرام کے تحت 171 دورے کیے گئے جبکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 79 اداروں کا معائنہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ وفاقی محتسب کو ازخود نوٹس کا اختیار بھی حاصل ہے، جس کے تحت اب تک 60 اہم معاملات کو پالیسی ساز اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے، جن میں سے 15 پر سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کی ہے۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور بچوں کے لیے علیحدہ شکایات کمشنرز مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ان طبقات کے مسائل بھی موثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔ عوامی سہولت کے لیے آن لائن شکایات کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کا آغاز کرونا وبا کے دوران ہوا اور اب اسے مستقل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ لوگ گھر بیٹھے اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی درخواست دہندہ دی گئی تاریخ پر نہیں آسکتا تو اسے وٹس ایپ کال کے ذریعے آن لائن لیکر کیس کی سماعت کیلئے اس کامؤقف یا کیس کی پیروی کیلئے شامل کیا جاتاہے.

    اس موقع پر کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد، ریجنل ہیڈ وفاقی محتسب ڈاکٹر محمد زاہد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمود خان مہے، اور کنسلٹنٹ ملک ارباب بھی موجود تھے۔ تقریب میں وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    افتتاح کے بعد اعجاز احمد قریشی نے ای خدمت مرکز ڈیرہ غازی خان کا بھی دورہ کیا، جہاں منیجر مدثر سہرانی نے انہیں ون ونڈو آپریشن کے تحت مختلف محکموں کی سروسز سے متعلق بریفنگ دی۔ بعدازاں وفاقی محتسب کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ریجنل محتسب سیکریٹریٹ کے افسران اور مختلف وفاقی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں عوامی خدمات کو مزید بہتر بنانے اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعجاز قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ 212 وفاقی ایجنسیوں سے متعلق عوامی شکایات سنتا ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کیس کا فیصلہ دو ماہ میں اور اس پر عملدرآمد تین ماہ کے اندر مکمل کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "وفاقی محتسب کا ادارہ ان غریب اور نادار لوگوں کی امید ہے جنہیں کہیں اور سے انصاف نہیں ملتا۔ ہم ان کے لیے موجود ہیں اور ان کی خدمت ہمارا مشن ہے۔

  • دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    25 اپریل 2025 کو بھارت کے معروف سابق بیوروکریٹ، سابق رکنِ راجیہ سبھا اور آل انڈیا ریڈیو و دوردرشن کے سابق سی ای او جوہر سرکار نے ایک ایسی ٹویٹ کی جو محض ایک بیان نہیں بلکہ بھارتی سماج کے بگڑتے ہوئے مزاج پر ایک گہرا سوال بن کر ابھری۔ یہ ٹویٹ وادیٔ کشمیر کے خوبصورت مقام پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے پس منظر میں کی گئی، جہاں کچھ غیر مسلم سیاح دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ حملے کے دوران جن لوگوں نے ان سیاحوں کو بچایا، حملے کے دوران سب سے پہلے جان دینے والا ایک مسلمان تھا،زخمیوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر محفوظ مقام تک پہنچایا، ابتدائی طبی امداد دی، ایمبولینسیں چلائیں، ہسپتالوں میں علاج کروایا اور پھر سری نگر تک ان کی بحفاظت روانگی کو یقینی بنایا، وہ سب مسلمان تھے۔ جوہر سرکار نے نہایت درد مندی سے لکھا کہ ان سیاحوں کو پہلگام لانے والے ڈرائیور مسلمان تھے، جن ہوٹلوں میں وہ رکے وہ مسلمان چلا رہے تھے، ان کے کھانے کا بندوبست مسلمانوں نے کیا، ان کی سیر کا اہتمام مسلمانوں نے کیا، اور جب خطرہ آیا تو وہی مسلمان آگے بڑھے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ان سیاحوں کو بچایا۔ اس تمام واقعے کے باوجود بھارت کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہی فقرہ گردش کرتا رہا کہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔”

    یہ فقرہ صرف بھارتی مسلمانوں کی توہین نہیں بلکہ بھارت کے اس سیکولر اور جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے جسے دنیا کبھی گاندھی، نہرو اور امبیڈکر جیسے رہنماؤں کے نظریات کی روشنی میں دیکھتی تھی۔ مگر آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نفرت اور فرقہ واریت کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پورے سماج میں زہر گھول دیا ہے۔ آر ایس ایس جو بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کا خواب دیکھتی ہے، برسوں سے مسلمانوں کو ایک "اندرونی دشمن” کے طور پر پیش کرتی آئی ہے۔ ان کے نظریہ ساز ایم ایس گوالوالکر نے اپنی کتاب "Bunch of Thoughts” میں واضح طور پر کہا تھا کہ مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹ بھارت کے لیے خطرہ ہیں اور یہی فکر اب بی جے پی کی حکومتی پالیسیوں میں جھلکتی ہے۔

    مودی سرکار کے قیام کے بعد اس بیانیے کو ادارہ جاتی تحفظ ملا۔ گائے کے گوشت کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات، "لو جہاد” کا جھوٹا پروپیگنڈا، تبلیغی جماعت کو کووڈ-19 کا ذمہ دار ٹھہرانا، شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی جیسے اقدامات اور دہلی فسادات میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ بی جے پی حکومت نے آر ایس ایس کے نظریے کو ریاستی پالیسی کی صورت دے دی ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کا کردار آج بھی عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتا ہے مگر بھارت کے اندر انہیں ایک "فیصلہ کن رہنما” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، چاہے اس کی قیمت کروڑوں بھارتی مسلمانوں کے حقوق اور سلامتی سے کیوں نہ چکائی گئی ہو۔

    میڈیا جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ریاست کا احتساب کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے، بھارت میں نفرت کا سب سے بڑا سہولت کار بن چکا ہے۔ معروف نیوز اینکرز حب الوطنی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ 2020 میں تبلیغی جماعت کے خلاف جھوٹا بیانیہ تیار کر کے انہیں "وائرس بم” قرار دیا گیا اور ایک منظم مہم کے ذریعے پورے ملک میں مسلمانوں کو کورونا پھیلانے والا قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا مگر تب تک جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ 2023 میں بین الاقوامی اداروں اور صحافتی تنظیموں نے بھارتی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو فروغ دے رہا ہے اور کئی اداروں نے بھارتی نیوز چینلز کا بائیکاٹ کیا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں پہلگام کے مسلمانوں کا کردار اس اندھیرے میں امید کی ایک کرن ہے۔ اگر مسلمان واقعی دہشت گرد ہوتے تو وہ غیر مسلم سیاحوں کو بچانے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے مگر انہوں نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت، ہمدردی اور قربانی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ وہ اقدار ہیں جو کسی بھی باشعور فرد کے ضمیر سے پھوٹتی ہیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ بھارت کو ایک پیغام دیا کہ سچائی کیا ہے اور کون اصل محب وطن ہے۔ ان کی قربانیاں صرف انسان دوستی کی نہیں بلکہ بھارت کی اجتماعی بیداری کی ایک کوشش تھیں۔

    مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کے اکثریتی معاشرے نے ان مسلمانوں کی قربانیوں کو سراہنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر وہی پرانا راگ الاپنا شروع کیاکہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔” یہ جملہ دراصل بھارت کے بکھرتے ہوئے ضمیر کی عکاسی ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر بحران میں بھارت کا ساتھ دیا، چاہے وہ 2008 کے ممبئی حملے ہوں یا کووڈ-19 کی وبا، مگر پھر بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں نے خوراک، طبی امداد اور بنیادی ضروریات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ انہیں روکا گیا، دھمکایا گیا اور نشانہ بنایا گیا۔

    جوہر سرکار کی ٹویٹ صرف ایک سوال نہیں بلکہ بھارت کے ضمیر کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا بھارت میں کوئی سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا بھارتی یہ ماننے کو تیار ہیں کہ دہشت گردی کسی مذہب کی شناخت نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے؟

    یہ لمحہ بھارت کے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر اب بھی سچائی، انسانیت اور عدل کو نہ اپنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بھارت کے زخم صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک ان کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ جوہر سرکار جیسے لوگوں کی آواز کو آگے بڑھانا ہوگاکیونکہ سچ بولنے کی ہمت وہی کرتے ہیں جن میں انسانیت اورانسانی اقدار زندہ ہوتی ہے اور عالمی اداروں کو بھارتی سرکار کی مکاریوں ،ظلم وبربریت کا نوٹس لینا ہوگا ورنہ آرایس ایس کے ہندوتواکے زیراثر مودی اینڈ کمپنی دنیا کا امن تباہ برباد کردےگی.

  • تنگوانی : نامعلوم شرپسندوں کی لگائی گئی آگ سے 8 گھر خاکستر،فائر بریگیڈ غائب

    تنگوانی : نامعلوم شرپسندوں کی لگائی گئی آگ سے 8 گھر خاکستر،فائر بریگیڈ غائب

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے قریب جمال تھانے کی حدود میں واقع گاؤں سعید خان بجارانی میں نامعلوم مسلح شرپسندوں نے پٹرول چھڑک کر متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔

    اطلاع کے مطابق مسلح افراد نے گھروں کو آگ لگانے کے بعد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ آگ کے نتیجے میں 8 گھر مکمل طور پر جل گئے، جس میں گھروں میں رکھا ہوا قیمتی سامان، اناج، دو ٹریکٹر، ایک موٹر سائیکل، ایک رکشہ اور متعدد مویشی جل کر راکھ ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گھروں کو آگ لگنے کی اطلاع فوری طور پر دی گئی تاہم فائر بریگیڈ عملہ بروقت نہ پہنچ سکا، جس کے باعث لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن تب تک سب کچھ جل چکا تھا۔

    جلنے والے گھروں میں کانڈیرو سولنگی، اصغر سولنگی، اکبر سولنگی، نیاز احمد، عمران اور عباس سولنگی سمیت دیگر افراد کے گھر شامل ہیں۔

    متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ نامعلوم شرپسندوں نے ان کے گھروں کو جان بوجھ کر آگ لگائی ہے اور مقامی پولیس نے تاحال کوئی موثر کارروائی نہیں کی ہے۔ متاثرین نے سندھ حکومت سے فوری نوٹس لینے، مالی امداد فراہم کرنے اور انصاف دلانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔