Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:یومِ مزدور پر تقاریب،گورنر پنجاب کا بھارت پر وار، مزدوروں سے یکجہتی

    سیالکوٹ:یومِ مزدور پر تقاریب،گورنر پنجاب کا بھارت پر وار، مزدوروں سے یکجہتی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ میں یومِ مزدور کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام مزدوروں، خصوصاً شکاگو کے ان جانثاروں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    گورنر پنجاب نے اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کی مزدور دوست پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں پاکستان کی پہلی مزدور پالیسی متعارف کروا کر محنت کشوں کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے مسائل کے حل کی کوشش کی اور آئندہ بھی یہ سفر جاری رکھا جائے گا۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ گورنر ہاؤس محنت کشوں کے مسائل اور مطالبات کے حل کے لیے ایک فعال کردار ادا کرے گا تاکہ مزدوروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔

    خطاب کے دوران گورنر پنجاب نے بھارت کے منفی کردار کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کا سرغنہ بن چکا ہے، جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے "را” جیسے اداروں کے ذریعے کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کو بھارتی مداخلت کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج کی موجودگی کے باوجود دہشتگردی کے ڈرامے اس کے خودساختہ بیانیے کا حصہ ہیں۔

    گورنر سلیم حیدر خان نے واضح کیا کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے اور اگر بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بھارت کی مرضی سے نہیں بلکہ پاکستان کے فیصلے کے مطابق ہوگا۔

    تقریب کے اختتام پر وکلاء اور شرکاء نے گورنر پنجاب کے خطاب کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ قرار دیا۔

  • سیالکوٹ: یومِ مزدور پر ورکرز تقریب، منشاءاللہ بٹ کا مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی کا عزم

    سیالکوٹ: یومِ مزدور پر ورکرز تقریب، منشاءاللہ بٹ کا مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی کا عزم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض)یومِ مزدور 2025 کے موقع پر پاکستان ورکرز فیڈریشن پنجاب کے زیرِ اہتمام ایک سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں رکنِ صوبائی اسمبلی محمد منشاءاللہ بٹ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سیالکوٹ کے ہنر مندوں اور محنت کشوں کی مہارت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تیار ہونے والے سرجیکل آلات، چمڑے کی مصنوعات اور کھیلوں کا سامان اپنی اعلیٰ معیار اور پائیداری کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان صنعتوں کے ذریعے نہ صرف پاکستان کا نام روشن ہوا ہے بلکہ اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔

    تقریب میں صدر ورکرز فیڈریشن پنجاب چودھری محمد اشرف، رفیق مغل، یوسف باجوہ اور دیگر مزدور یونینز کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر ورکرز یونین نے منشاءاللہ بٹ کا پرتپاک استقبال کیا اور مزدوروں کے مسائل اور مطالبات بھی پیش کیے۔

    منشاءاللہ بٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نہ صرف کم از کم اجرت میں اضافہ کیا بلکہ اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے سوشل سیکیورٹی اسپتال، قائداعظم ورکرز پبلک اسکول اور ورکرز کالونی جیسے منصوبے مکمل کیے جبکہ سیالکوٹ میں ایک نئی لیبر کالونی کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا راشن کارڈ پروگرام باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت 40 ارب روپے کی سبسڈی، ماہانہ 3,000 روپے ریلیف اور اشیائے خوردونوش پر 20 فیصد رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات محنت کش طبقے کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی عملی شکل ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور کے ورکرز اسپتال میں کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور 200 بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے، تاکہ مزدوروں کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آ سکیں۔

    اس موقع پر چودھری محمد اشرف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سیالکوٹ کے مزدوروں کو 2300 سے زائد رُکے ہوئے گرانٹ چیکس کی تقسیم پر ان کا شکریہ ادا کیا اور باقی تقریباً 300 چیکس کی جلد اجرائی کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر نے یقین دہانی کرائی کہ باقی چیکس بھی جلد اور شفاف انداز میں تقسیم کیے جائیں گے۔

  • سیالکوٹ: یومِ مزدور پر بھی مزدور مزدوری پر، تقاریب رسمی، استحصال جاری

    سیالکوٹ: یومِ مزدور پر بھی مزدور مزدوری پر، تقاریب رسمی، استحصال جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف، شاہد ریاض) یومِ مزدور پر بھی مزدور مزدوری پر، تقاریب رسمی، استحصال جاری

    "جس نے سبق یاد کیا، اس کو چھٹی نہ ملی”یہ فقرہ آج کے پاکستانی مزدور پر صادق آتا ہے، جو یکم مئی جیسے قومی دن پر بھی معمول کے مطابق مزدوری میں مصروف نظر آتا ہے۔ یومِ مزدور کے موقع پر جہاں ملک بھر میں جلسے اور تقاریب منعقد ہوئیں، وہیں عملی طور پر غریب محنت کش کی زندگی میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

    پاکستان میں ہزاروں مزدور آج بھی 12 سے 14 گھنٹے روزانہ کام کرنے کے باوجود صرف 15,000 سے 20,000 روپے ماہانہ تنخواہ پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ حکومت نے کم از کم اجرت 37,000 روپے مقرر کر رکھی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے تمام سرکاری و نجی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے ملازمین کو کم از کم تنخواہ ادا کریں، لیکن بیشتر ادارے ان احکامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہیں۔

    مزدوروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف اعلانات کیے جاتے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق نہ صرف کم تنخواہ دی جاتی ہے بلکہ اضافی کام بھی لیا جاتا ہے، جس کی کوئی اجرت نہیں دی جاتی۔ مزدوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب تک مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ، عزت اور تحفظ نہیں دیا جاتا، تب تک یومِ مزدور کی تقریبات محض رسمی کارروائیاں ہی رہیں گی، اور مزدور ہر سال کی طرح اس دن بھی اپنی مزدوری پر موجود ہو گا۔

  • عدالت کے حکم پر شیخ حسینہ کی بیٹی کے اثاثے ضبط ،انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم

    عدالت کے حکم پر شیخ حسینہ کی بیٹی کے اثاثے ضبط ،انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم

    ڈھاکہ(باغی ٹی وی رپورٹ)بنگلہ دیش کی ایک اعلیٰ عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی صاحبزادی صائمہ وازِد پُتول کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے پُتول کے ڈھاکہ کے پوش علاقے گلشن میں واقع اپارٹمنٹ کو ضبط کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف بدعنوانی کی جاری تحقیقات کو بنیاد بنایا ہے۔

    انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد منیر الاسلام کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ڈھاکہ میٹروپولیٹن سینئر اسپیشل جج محمد ذاکر حسین غالب نے فیصلہ سنایا کہ چونکہ پُتول کے خلاف غیرقانونی دولت اکٹھا کرنے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے ان کی جائیداد کی فروخت یا منتقلی روکنے کے لیے اسے فوری طور پر ضبط کیا جائے۔

    اس سے قبل 5 مارچ کو اسی عدالت نے پُتول کی قائم کردہ "سوچنا فاؤنڈیشن” کے 14 بینک اکاؤنٹس میں موجود 48 کروڑ 35 لاکھ ٹکہ کی رقم کو بھی منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالتی احکامات یہیں نہیں رکے بلکہ ڈھاکہ کی عدالت نے پرباچل میں پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں پُتول کے خلاف انٹرپول کے ذریعے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی بھی ہدایت دے دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے انٹرپول سے نہ صرف پُتول بلکہ ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سمیت دیگر 11 افراد کے خلاف بھی "ریڈ نوٹس” جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ یونس کی عبوری حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور ملک میں شہری بدامنی بھڑکانے کی سازش میں ملوث ہیں۔

    بنگلہ دیش پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (میڈیا) انعام الحق ساگر نے انٹرپول کو دی گئی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جاری عدالتی کارروائی اور تحقیقات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور سابق حکمران جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

  • سیالکوٹ: ہارویسٹر مشین کی مرمت کے دوران جیک ٹوٹ گیا، شخص جاں بحق

    سیالکوٹ: ہارویسٹر مشین کی مرمت کے دوران جیک ٹوٹ گیا، شخص جاں بحق

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) پسرور کے نواحی گاؤں چونڈہ کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص ہارویسٹر مشین کے نیچے آ کر جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ پسرورچونڈہ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب 45 سالہ شبیر نامی شخص مشین کی مرمت میں مصروف تھا۔

    تفصیلات کے مطابق شبیر ہارویسٹر مشین کے نیچے جیک لگا کر مرمت کر رہا تھا کہ اچانک جیک ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں بھاری مشین اس پر آن گری اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی، ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد متوفی کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ شبیر کی ناگہانی موت پر علاقے میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    شبیر کی موت نہ صرف اہل خانہ بلکہ اہل علاقہ کے لیے بھی ایک صدمہ ہے، جنہوں نے حکومت سے مزدوروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مودی حکومت نے سکھ گلوکارہ کا ’اسی مردہ باد نئیں کہہ سکدے بُھل کے وی پاکستان نوں‘ گانا بند کرا دیا

    مودی حکومت نے سکھ گلوکارہ کا ’اسی مردہ باد نئیں کہہ سکدے بُھل کے وی پاکستان نوں‘ گانا بند کرا دیا

    نئی دہلی(باغی ٹی وی رپورٹ) بھارتی حکومت نے سکھ گلوکارہ زارا گل کے پاکستان سے محبت پر مبنی گانے "اسیں مُردہ باد نئیں کہہ سکدے بُھل کے وی پاکستان نوں” پر پابندی عائد کر دی ہے، جس نے یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے۔

    یہ گانا جو بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کا پیغام لیے ہوئے ہے، حالیہ پہلگام حملے کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے سینسرشپ کا نشانہ بنایا گیا۔ گانے میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی تعلیمات کو بنیاد بناتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس سرزمین پر گرو نانک نے زندگی گزاری، اسے "مردہ باد” کہنا نہ صرف تاریخ سے انکار بلکہ روحانی ورثے کی توہین ہے۔

    گلوکارہ زارا گل کے اس گانے نے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر زبردست پذیرائی حاصل کی اور خاص طور پر سکھ برادری اور امن پسند حلقوں میں اسے بہت سراہا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے گانے کو سچائی، محبت اور رواداری کا پیغام قرار دیا ہے۔

    تاہم بھارتی حکام نے اسے "قومی سلامتی کے منافی” قرار دے کر مشرقی پنجاب سمیت کئی علاقوں میں اس گانے کی اشاعت، نشر و اشاعت اور آن لائن موجودگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سماجی تنظیموں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت اظہارِ رائے، ثقافتی آزادی اور مذہبی ہم آہنگی کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی حکومت ایک منظم بیانیہ کے ذریعے فالس فلیگ آپریشنز، میڈیا کنٹرول اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو فروغ دے رہی ہے مگر عوامی سطح پر ایسے اقدامات کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارتی حکومت نے نہ صرف پاکستان کے 16 یوٹیوب چینلز پر پابندی لگائی بلکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ "بھارت مخالف بیانیہ” سے گریز کریں۔

    تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ زارا گل کا گانا صرف موسیقی کا فن پارہ نہیں بلکہ ایک تاریخی سچائی کی گواہی بھی ہے جسے کسی حکومتی حکم سے دبایا نہیں جا سکتا۔ بھارتی سوشل میڈیا پر جاری بحث نے ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے کہ کیا بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے یا محض اکثریتی حکومت کی سنسرشپ کی تجربہ گاہ؟

  • مودی سرکار کا یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم ہوا میں اڑا، عوام نے VPN سے سب چینلز کھول لیے

    مودی سرکار کا یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم ہوا میں اڑا، عوام نے VPN سے سب چینلز کھول لیے

    نئی دہلی(باغی ٹی وی رپورٹ)بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے 16 یوٹیوب چینلز پر عائد کردہ پابندی غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ بھارتی عوام نے وی پی این (VPN) کا استعمال کرتے ہوئے ان چینلز تک رسائی حاصل کر کے مودی سرکار کے فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے حالیہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان سے چلنے والے 16 یوٹیوب چینلز پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے پابندی لگائی کہ وہ بھارت مخالف بیانیہ اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔ ان پابندیوں کے زد میں آنے والے چینلز میں پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی مبشر لقمان اور منصور علی خان کے آفیشل یوٹیوب چینلز بھی شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بھارت میں بلاک کیے گئے دیگر نمایاں پاکستانی یوٹیوب اور نیوز چینلز میں جیو نیوز، ڈان نیوز، اے آر وائی نیوز، سما، بول، اور سنو نیوز شامل ہیں۔ ان تمام چینلز کے مجموعی سبسکرائبرز کی تعداد چھ کروڑ تیس لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔

    صحافی مبشر لقمان نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اس پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یوٹیوب چینل بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ بھی جلد ہی بند کر دیا جائے گا۔

    تاہم بھارتی عوام نے اس سرکاری اقدام کا توڑ وی پی این کے ذریعے نکال لیا ہے۔ لاکھوں صارفین وی پی این کے ذریعے جغرافیائی رکاوٹیں عبور کر کے ان یوٹیوب چینلز کی تازہ ترین خبریں اور تجزیے دیکھ رہے ہیں۔ یوں یہ تکنیکی حل مودی حکومت کی سنسرشپ پر کاری ضرب ثابت ہوا۔

    اس پیش رفت نے بھارت میں آزادی اظہار اور صحافت کی آزادی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ میڈیا ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پابندی کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بھارتی عوام کو آزاد اور متوازن اطلاعات تک رسائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا اداروں، جیسے بی بی سی، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی بھارت مخالف مواد نشر کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ سنسرشپ اور معلومات پر قدغنیں بھارت جیسے جمہوری ملک کے امیج کو عالمی سطح پر متاثر کر سکتی ہیں۔ عوامی ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں مکمل سنسرشپ ممکن نہیں اور عوام سچائی تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن راستہ نکال لیتے ہیں۔

  • سیالکوٹ: بیگو والا میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ: بیگو والا میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)بیگو والا میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ، 200 سے زائد مریضوں کا مفت معائنہ

    تفصیل کے مطابق شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کی زیرنگرانی فلاحی تنظیم الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت موضع بیگو والا میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔

    کیمپ میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹرز نے شرکت کی، جن میں چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر غلام عباس باجوہ، شوگر و بلڈ پریشر اسپیشلسٹ ڈاکٹر مقصود، اور فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر عمران شامل تھے۔ انہوں نے 200 سے زائد مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا اور ادویات بھی فراہم کیں۔

    اس موقع پر علاقہ کی سیاسی و سماجی شخصیات اور معززین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے الفلاح فاؤنڈیشن کے اس انسان دوست اقدام کو سراہا۔ مریضوں اور اہل علاقہ نے ادارے کا شکریہ ادا کیا اور شیخ سلسلہ عالیہ کو دعاؤں سے نوازا۔

    الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد کا مقصد عوام کو ان کے دروازے پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ماہر ڈاکٹروں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    یاد رہے کہ الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے ملک بھر میں فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے اور اس کا دائرہ کار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تنظیم نے عزم ظاہر کیا کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

  • یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور
    تحریر:ملک ظفر اقبال
    "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام کا مزدور کے بارے میں تصور اور اس کے متعلق احکامات آج سے تقریباً 1450 سال قبل دیے گئے۔ مغربی دنیا آج ان اصولوں کی بات کر رہی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اسلامی اصولوں کو نہ صرف فراموش کر چکے ہیں بلکہ دوسروں کے اصول اپنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ آج ہم یکم مئی کی تاریخی حیثیت اور پاکستان کے مزدور پر بات کریں گے۔

    محنت انسانی تہذیب کا ستون ہے۔ ہر ترقی یافتہ معاشرہ اپنے محنت کشوں کے خون پسینے کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔
    یکم مئی کو دنیا بھر میں "یومِ مزدور” یا "لیبر ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ محنت کش طبقے کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا عہد دہرایا جا سکے۔

    یکم مئی کیوں منایا جاتا ہے؟
    یومِ مزدور کی تاریخ 1886ء سے جڑی ہوئی ہے۔ انیسویں صدی میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے کام کے اوقات کم کروانے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ اس وقت مزدوروں سے روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور اس کے بدلے میں اجرت نہایت کم دی جاتی تھی۔

    یکم مئی 1886ء کو ہزاروں مزدور سڑکوں پر نکلے اور "آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام، آٹھ گھنٹے ذاتی وقت” کا نعرہ لگایا۔
    یہ پرامن مظاہرہ جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گیا۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی مزدور شہید اور متعدد گرفتار ہوئے۔ بعد ازاں کئی مزدور رہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی۔

    یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ 1889ء میں پیرس میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانگریس نے اعلان کیا کہ یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جائے گا۔

    محنت ایک ایسی خوشبو ہے جو انسان کی پیشانی سے پسینے کی صورت میں پھوٹتی ہے اور دنیا کو سنوارتی ہے۔
    یومِ مزدور، یکم مئی کا دن، اسی مقدس خوشبو کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔

    آج دنیا بھر میں، اور پاکستان میں بھی، یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں اور وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنے محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دے رہے ہیں؟

    مزدور وہ ہے جو اینٹ سے اینٹ جوڑ کر شہر بساتا ہے مگر خود کچے جھونپڑوں میں رہتا ہے۔ وہ کارخانوں کا پہیہ چلاتا ہے، مگر اپنی زندگی کے پہیے کو بمشکل گھسیٹتا ہے۔

    یومِ مزدور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی عمارت محنت کشوں کے کندھوں پر کھڑی ہے۔ اگر ہم ان کے حقوق، تحفظ اور عزت کو یقینی نہیں بناتے تو ہم اپنے ہی مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں محنت کش طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو دن رات محنت کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی محنت کا درست معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
    مزدور کی زندگی میں چھائی غربت، محنت کے باوجود پستی، اور حکومتی اداروں کی خاموشی اس بات کی غمازی ہے کہ ریاست، جس کا فرض تھا کہ وہ اپنے مزدوروں کو تحفظ دے، خود ان کے استحصال کا حصہ بن چکی ہے۔

    مزدوروں کا استحصال ایک حقیقت بن چکا ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ آج بھی پاکستانی فیکٹریوں، کھیتوں، تعمیراتی سائٹس اور دیگر صنعتوں میں مزدور انتہائی کم اجرت پر طویل گھنٹوں تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
    پاکستان میں کم از کم اجرت ہر سال حکومت کی جانب سے بڑھا دی جاتی ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی عملی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ سرکاری فائلوں میں سب اچھا ہونے کی رپورٹ شامل ہوتی ہے۔

    آج بھی بہت سی فیکٹریاں، کارخانے اور کاروبار بارہ گھنٹے کام کے بدلے صرف 20,000 سے 30,000 روپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں، جو کہ ایک فرد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ تنخواہیں لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، مگر سرکاری اداروں کی رضا مندی سے سب کچھ جاری ہے، کیونکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔

    یہ مزدور اس معمولی رقم کو اپنی زندگی کے دباؤ کو کم کرنے میں صرف کرتا ہے، اور بدلے میں نہ صرف اضافی گھنٹے بلکہ سخت شرائط میں کام کرتا ہے، مگر اسے کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا۔

    پاکستان کے قوانین کے مطابق، مزدور کو روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دفاتر میں مزدوروں سے 12، 14، حتیٰ کہ 16 گھنٹے تک کام لیا جا رہا ہے۔

    یہ قوانین صرف کتابوں کی حد تک محدود ہیں، جب کہ ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

    کام کے دوران حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی صورت میں مزدوروں کے جانی نقصان کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر تعمیراتی اور فیکٹری کے شعبوں میں، جہاں حفاظتی سامان کی شدید کمی دیکھی جاتی ہے۔اس طرح لاکھوں مزدور زخمی یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن کا سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔

    پاکستان میں خواتین مزدوروں کا استحصال مزید سنگین ہے۔
    انہیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ جنسی ہراسانی، غیر محفوظ ماحول اور مختلف قسم کی زیادتیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    چائلڈ لیبر بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں اسکول جانے کی عمر کے بچے فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور معاشی بدحالی ہے۔
    حقائق سے آگاہی کے باوجود حکومتی خاموشی ایک المیہ ہے۔

    پاکستان میں وہ ادارے جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، خود مزدوروں کے استحصال میں برابر کے شریک ہیں۔
    لیبر ڈیپارٹمنٹ، ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی جیسے ادارے جو مزدوروں کی فلاح کے لیے بنائے گئے تھے، بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔

    لیبر انسپکٹرز، سوشل سیکیورٹی افسران اور دیگر سرکاری اہلکار اکثر رشوت لے کر قانون شکنی پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
    اس کے نتیجے میں فیکٹری مالکان اور ٹھیکیدار قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور جب مزدور آواز بلند کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگرچہ متعدد لیبر قوانین موجود ہیں، جیسے کہ کم از کم اجرت، کام کے اوقات اور کام کی جگہ پر تحفظ، مگر ان قوانین کا نفاذ نہایت سست اور غیر مؤثر ہے۔

    مزدوروں کی اکثریت ان قوانین سے ناواقف ہے، اور جب ان کا استحصال ہوتا ہے تو وہ خوف یا مایوسی کی وجہ سے شکایت درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

    سیاسی مداخلت نے ریاستی اداروں کو کمزور اور بدعنوان بنا دیا ہے۔
    مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے اکثر کارکنوں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی شکایات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    مزدور کا حق ہے کہ اسے مناسب اجرت، محفوظ کام کا ماحول، اور سوشل سیکیورٹی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
    یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    مزدوروں کو اپنی یونینز بنانے کا مکمل حق دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔
    لیبر قوانین کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزدوروں کا استحصال روکا جا سکے۔

    حکومتی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے تاکہ مزدوروں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ان کے حقوق محفوظ ہوں۔

    پاکستان کا مزدور طبقہ، اگرچہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کا استحصال اتنی شدت سے ہو رہا ہے کہ اس کے حقوق و فلاح کے لیے بنائے گئے قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔

    حکومت کی خاموشی اور اداروں کی کرپشن نے مزدوروں کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دیے ہیں۔
    مزدور کا استحصال تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت اور ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کر کے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔

    اگر یومِ مزدور کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں یومِ مئی کے دن "مزدور کام پر، اور افسر چھٹی پر” ہوتا ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔

    پاکستان کے اکثر کارخانوں اور فیکٹریوں میں آج بھی مزدور 12 گھنٹے ڈیوٹی کے بدلے صرف 25,000 روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہے، جب کہ سرکاری سطح پر 8 گھنٹے کے عوض 37,000 روپے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔

    زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو لیبر قوانین کا جنازہ خود لیبر ڈیپارٹمنٹ بڑی دھوم سے نکال رہا ہے اور مزدور کی آواز دبانے کے بدلے "لفافہ ازم” کو ترجیح دیتا ہے۔

    حکومتِ وقت کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا:
    کیا مزدور کی پنشن دس ہزار روپے کافی ہے؟
    کیا مزدور کو لیبر قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں؟
    کیا آئی ایل او (ILO) کے تحت مزدور اپنا حق حاصل کر رہا ہے؟
    کیا لیبر ڈیپارٹمنٹ بغیر رشوت مزدوروں کو حقوق فراہم کر رہا ہے؟
    کیا ای او بی آئی کے تمام حقوق واقعی سب کو مل رہے ہیں؟

    زمینی حقائق یہی ہیں کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کا خون چوس رہا ہے، اور اس کی مثالیں اربوں روپے کی کرپشن سے جڑی کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں۔

    آئیں، آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم مزدور کو وہ بنیادی حقوق دیں گے جو پاکستانی آئین اور قوانین کے مطابق اس کا حق ہیں۔
    مگر یاد رکھیں، ہر حکومت اور اپوزیشن پارٹی لفظ "کریں گے” کے نام پر مزدور کو دہائیوں سے دھوکہ دیتی آئی ہے۔
    اور یہی ہے آج کا یومِ مئی۔

  • سیالکوٹ: لوکل گورننس اجلاس، ٹیکس نظام کی اصلاح اور آمدن بڑھانے پر زور

    سیالکوٹ: لوکل گورننس اجلاس، ٹیکس نظام کی اصلاح اور آمدن بڑھانے پر زور

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) میونسپل اداروں کی آمدن بڑھانے کیلئے گورننس اجلاس، ٹیکس نظام کی کمپیوٹرائزیشن پر زور

    سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کی زیر صدارت سب نیشنل گورننس پروگرام کا اہم اجلاس کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں برٹش ہائی کمیشن کی نمائندہ ایما ونڈ، اکنامک ایڈوائزر طفیل یوسفزئی، ڈسٹرکٹ ٹیم لیڈر کامران خان، پی ایف ایم ایڈوائزر انعم حسین، اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر سمیت میونسپل کارپوریشنز اور کمیٹیوں کے چیف و فنانس افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب میں زور دیا کہ لوکل گورنمنٹ اداروں کو اپنی آمدن میں اضافے کیلئے خدمات کا معیار بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، آسان اور کمپیوٹرائزڈ بنانا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ وسائل کے زیاں کو روکا جا سکے۔ واٹر سپلائی کے نظام میں صارفین کو ان کے استعمال کے مطابق چارج کرنے کیلئے میٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    انہوں نے چاروں تحصیلوں کی میونسپل کمیٹیوں کے چیف اور فنانس افسران کو ہدایت کی کہ آمدن بڑھانے کے حوالے سے فوری طور پر عملی تجاویز پر مبنی پلانز تیار کیے جائیں۔

    برٹش ہائی کمیشن کی ایما ونڈ نے کہا کہ سب نیشنل گورننس پروگرام کے تحت اداروں کی استعداد کار بڑھانے، ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے اور آمدن بڑھانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

    اکنامک ایڈوائزر طفیل یوسفزئی، کامران خان اور انعم حسین نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ چاروں تحصیلوں میں میونسپل آمدن اور کارکردگی کی بنیاد پر مالیاتی تجزیاتی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں صحت و تعلیم کے شعبوں میں کامیاب ماڈل کے بعد ضلع سیالکوٹ کیلئے تیار کردہ Own Source Revenue (OSR) حکمت عملی سے مقامی اداروں کی آمدن میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔

    ماہرین نے کہا کہ پانی کے نرخ، دکانوں کے کرایے، نقشہ جات کی منظوری، بس اڈوں، اشتہارات اور زمین کے استعمال کی تبدیلی کی مد میں آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔ ٹیکس کلیکشن میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل کیلئے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

    یہ اجلاس بلدیاتی سطح پر گورننس کو مؤثر بنانے اور خود انحصاری کے سفر کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔