Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان میں مزدوروں کا عالمی دن یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ 1972ء کو کیا گیا تھا کہ اس دن کو منایا جائے اور عام تعطیل کی جائے۔ مختلف ممالک میں یہ دن دوسری تاریخوں میں بھی منایا جاتا ہے۔ مثلاً امریکہ اور کینیڈا میں ستمبر کے پہلے سوموار کو منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت اس تحریک میں ہے جس میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کی پالیسی اپنانے کی استدعا کی گئی تھی۔ پاکستان میں یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے کوئی خاص نشان نہیں ہے بلکہ پوسٹرز اور دیگر جگہوں پر ہتھوڑے اور درانتی کے نشان کو علامت سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان عالمی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کا 1947ء سے ممبر ہے جو انصاف اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتی ہے۔ اس وقت مزدوری کا تعین پندرہ سو روپے یومیہ تک ہے لیکن کام کروانے والے لوگ ہزار، بارہ سو سے اوپر نہیں دیتے۔ ان کی مجبوری اور اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان کا بھی خاندان ہے اور ضروریاتِ زندگی ہیں جن کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے ہنر اور کام کی قدر کی ہے۔ یہ نہیں دیکھا کہ کام کرنے والا کون ہے، کہاں رہتا ہے اور اس کی ذاتی حیثیت اور حالات کیسے ہیں۔ ایک مزدور کو بھی ہر وہ سہولت حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو ہے۔

    طبقے تو ہر ملک اور معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن مواقع فراہم کرنا کہ محنت کرنے والا اور ہنر مند بھی کسی مقام پر پہنچے اور اپنے خاندان کو بنیادی سہولت فراہم کرے، ضروری ہے۔ مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔ اسی سے محنت اور مزدوری کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    پاکستان عالمی ادارہ آئی ایل او کا باقاعدہ ممبر ہے اور ILO کی قراردادوں پر دستخط کرنے کے بعد پابند ہے کہ ملک بھر میں مزدوروں کی فلاح و بہبود، یونین سازی کا حق سمیت مزدوروں کی بہتری کے لیے قانون بنائے جو ILO قوانین کے متصادم نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وزارت محنت، سوشل سیکیورٹی، محکمہ لیبر کے تحت لیبر کورٹس، پیلنٹ لیبر ٹربیونلز، قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC) کے ادارے قائم ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ یہ ادارے بھاری بھر کم مراعات لے کر بھی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ یکم مئی مزدور ڈے ہوتا ہے، ملک بھر کے سرکاری ادارے، عدلیہ، بیوروکریسی چھٹی مناتی ہے مگر مزدور طبقہ یا درجہ چہارم کے سرکاری ملازمین کو حقیر ترین مخلوق سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے لیے انصاف اور حقوق مشکل تو پہلے بھی تھے مگر اب ناممکن بنا دیے گئے ہیں۔

    اس وقت ملک بھر سے 1600 سے زائد صنعتی ادارے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ملک بھر کے مزدور بے روزگار ہو کر بے یار و مددگار، کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کی بنا پر ان کے خاندان فاقوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

    لیبر قوانین آئی آر اے 2010ء کے تحت اگر کوئی صنعتی ادارہ بند کرنے کی معقول وجہ ہو تو پہلے 50 فیصد مزدوروں کو انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ کے تحت حقوق دے کر فارغ کیا جاتا ہے اور کم از کم چھ ماہ کے اندر باقی 50 فیصد مزدوروں کو حقوق دیے جانے کے بعد صنعتی و سرکاری ادارہ بند کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

    اس میں محکمہ محنت، پرائیڈنگ آفیسر اور ادارے کی CBA یونین شامل ہوتے ہیں۔ حیرانگی اور دکھ کی بات ہے کہ اس بارے میں اعلیٰ عدلیہ سمیت حکومتی اداروں نے کوئی اقدام کیا ہے، نہ ہی کوئی آواز سینیٹ، قومی یا صوبائی اسمبلیوں سے اٹھائی گئی ہے۔ جبکہ صدرِ مملکت نے حکومت کو انتخابات کے حوالے سے خط لکھا ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بھی انتخابات کے لیے حکم فرما دیا ہے اور کئی پٹیشنیں بھی دائر ہو چکی ہیں۔ ممکن ہے جب یہ تحریر شائع ہو، حالات یکسر بدل چکے ہوں۔

    جن صنعتی اداروں کو بند کیا گیا ہے، اس بارے میں محکمہ لیبر اور لیبر عدالتیں بھی خاموش ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کو از خود نوٹس لینا چاہئے تھا۔ ملک بھر سے کسی ٹریڈ یونین یا کسی سیاسی جماعت کے لیبر ونگ نے بھی آواز نہیں اٹھائی۔ سب پر اسرار طور پر خاموش ہیں۔

    ٹریڈ یونینز کو ختم کیا جا رہا ہے، حالانکہ مزدوروں کی ویلفیئر اور ٹریڈ یونینز کو تحفظ دینے والے ادارے اور عدالتیں بدستور قائم و دائم ہیں۔ اس کے باوجود مزدوروں کو نہ حقوق ملتے ہیں، نہ ہی مزدوروں اور یونین کے عہدیداروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

    اس بارے میں صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور نہ ہی پی ٹی آئی کی قیادت کروڑوں بے روزگار ہونے والے مزدوروں سے ناانصافی پر آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ مزدوروں کو حقوق سے محروم کرنے والوں کی اکثریت خود اسمبلیوں میں بیٹھی ہے۔

    اور تو اور، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بعض اعلیٰ افسران بھی صرف رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کے خلاف ہی سوچتے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشنز جن کا ہڑتال، جلسے، جلوس، تالہ بندی کا حق ہی نہیں، وہ آئے روز ہڑتالیں، تالہ بندیاں، جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں، انہیں پوچھا تک نہیں جاتا۔

    صنعتی و سرکاری اداروں میں درجہ چہارم کے ملازمین کے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں، افسران اور مالکان کے ستائے مزدور و یونین کے عہدیدار جب مزدوروں کو تحفظ دینے کے لیے قائم اداروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں دھتکارا جاتا ہے اور مزدوروں کو حقیر سمجھتے ہوئے نفرت و حقارت کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔

    جس کا ثبوت یہ ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے قائم اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو 30 دنوں میں 30 مزدوروں کو بھی حقوق نہیں دلائے گئے ہوں گے۔

    حکومت وقت، خصوصاً وزرائے قانون و انسانی حقوق سے پُرزور اپیل ہے کہ مزدوروں کی بہتری کے لیے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC)، لیبر کورٹس، محکمہ لیبر کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال کیا جائے۔

    اس وقت مزدوروں کے خلاف انتقامی کارروائی عروج پر ہے مگر ظالم و جابر کا ہاتھ روکنے والا کوئی مؤثر ادارہ نہیں ہے۔ سروسز ٹربیونلز کے ممبران کو بھی درجہ چہارم کے ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی پر حکمِ امتناعی اور آرڈر معطل کرنے کا اختیار دیا جائے اور ادارے سے اپیل کو ضروری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ادارے کے سینئر آفیسر نے بھی وہی کرنا ہوتا ہے جو نچلے افسر نے کیا ہوتا ہے۔

    اس سے کئی ماہ ملازم انتظار کرنے پر مجبور رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر ہی ناانصافی ہے۔ وزارتِ انصاف، انسانی حقوق اس بار نوٹس لے۔ مزدوروں کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

    جبکہ یوم مئی جو کہ مزدوروں کا دن ہے، بہتر تو یہ ہوتا کہ اس دن پر ان مزدوروں کی بات کی جاتی جو کہ مزدور ہوتے ہوئے بھی مزدور نہیں۔

    حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا کہ غیر رسمی مزدور طبقہ کو حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو حکومتی ریکارڈ میں لائے بغیر قانون سازی اور حقوق کی باتیں کرنا ہوا میں قلعے بنانے جیسا ہے۔

    اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رسمی مزدور طبقہ کے معاملات پر بات نہ کی جائے، ضرور کی جائے مگر غیر رسمی مزدور طبقہ کے مسئلہ کو زیرِ بحث لائے بغیر مزدور حقوق کی بات کرنا ہے تو اس دن کا نام بھی "رسمی یومِ مزدور” رکھ لیا جائے۔

    مزدوروں کا عالمی دن منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا تجدیدِ عہد کیا جائے، انہیں ان کا جائز حق دیا جائے اور انہیں بھی دوسروں کی طرح مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ زندگی میں آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں شامل ہوں۔

  • اوچ شریف:مودی کی آبی و صحافتی جارحیت کے خلاف عوامی طوفان، دشمن کو دوٹوک پیغام

    اوچ شریف:مودی کی آبی و صحافتی جارحیت کے خلاف عوامی طوفان، دشمن کو دوٹوک پیغام

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان)بھارت کی آبی جارحیت اور معروف پاکستانی صحافی مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل بھارت میں بند کیے جانے کے خلاف اوچ شریف میں ایک ولولہ انگیز اور تاریخ ساز احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس نے دشمن کو دوٹوک اور واضح پیغام دے دیا کہ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، صحافتی آزادی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر کسی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کرے گی۔

    یہ عظیم الشان احتجاجی ریلی سوشل سول سوسائٹی اوچ شریف کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس کی قیادت رکن صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ نے کی۔ ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور میونسپل کمیٹی سے الشمس چوک تک مارچ کیا۔ شرکاء کے ہاتھوں میں قومی پرچم، پلے کارڈز اور بینرز تھے جن پر بھارت کی آبی دہشت گردی اور آزادی صحافت پر حملوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ الشمس چوک "انڈیا مردہ باد” اور "پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔

    ریلی کے اختتام پر ایم پی اے مخدوم عامر علی شاہ نے بھارتی پرچم نذر آتش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دشمن کی کسی بھی آبی جارحیت یا معلوماتی جنگ کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا: "ہم اپنی سرزمین، اپنے پانی اور اپنے میڈیا کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر دشمن نے جارحیت کی، تو ایسا منہ توڑ جواب دیں گے جو تاریخ یاد رکھے گی۔”

    اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ بھارتی حکومت نے سینئر صحافی مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل بھارت میں بلاک کر دیا ہے، صرف اس لیے کہ انہوں نے اپنے پروگرام "کھرا سچ” میں بھارت کے زیرِ اثر پہلگام واقعے کو "ڈرامہ” قرار دیا تھا اور مودی سرکار پر تنقید کی تھی۔

    صحافیوں، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے اپنے مشترکہ بیان میں بھارتی حکومت کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو دبانے کی یہ کوشش آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے، جسے پاکستان کا ہر شہری مسترد کرتا ہے۔ مقررین میں سید عادل شاہ، جام آصف جھبیل، راؤ فاروق، اکمل کاکھی، غلام یاسین سومرو، بابر علی صدیقی، حبیب خان، اظہر دانش، ذیشان مستوی اور دیگر نے خطاب کیا۔

    یاد رہے کہ سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ "اگر سچ بولنے کی سزا چینل بند کرنا ہے تو یہ ہمیں قبول ہے، ہم پاکستان کے دفاع اور وقار کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کے جھوٹ اور ڈرامے دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں اور بھارت، کشمیر میں ظلم و ستم سے نظریں ہٹا کر پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔

    ریلی کے آخر میں وطن عزیز کی سلامتی، افواج پاکستان کی کامیابی اور دشمن کی بربادی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ عوام نے اتحاد، نظم اور حب الوطنی سے ثابت کیا کہ پاکستانی قوم آج بھی دشمن کے ہر محاذ پر متحد، بیدار اور پرعزم کھڑی ہے۔

  • اوچ شریف: پیٹرولنگ پولیس کی بروقت کارروائی، مشکوک شخص سے ناجائز اسلحہ برآمد

    اوچ شریف: پیٹرولنگ پولیس کی بروقت کارروائی، مشکوک شخص سے ناجائز اسلحہ برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پیٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا نے سب انسپکٹر وحید کی قیادت میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا، جس کے قبضے سے ناجائز اسلحہ، گولیاں، نقدی اور موبائل فون برآمد ہوا۔ گرفتار ملزم جنید محمود ولد جندوڈہ، سکنہ بکھری، کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مشتبہ حرکات کر رہا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق سب انسپکٹر وحید بمعہ پولیس ٹیم معمول کے گشت پر تھا کہ دورانِ نگرانی ایک شخص کو مشکوک انداز میں گھومتے پایا گیا۔ مشتبہ شخص کو روک کر تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے 30 بور پستول، پانچ زندہ گولیاں، ایک موبائل فون اور نقدی برآمد ہوئی۔ ملزم اسلحے کا کوئی قانونی لائسنس پیش نہ کر سکا، جس پر اسے موقع پر گرفتار کر کے تھانہ دھوڑکوٹ منتقل کر دیا گیا۔

    ملزم کے خلاف آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ علاقے کے عوام نے پیٹرولنگ پولیس کی مستعدی اور بروقت کارروائی کو سراہا اور اسے علاقے میں امن و امان کے قیام کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

  • اوچ شریف: بخت واہ نہر پر تیز رفتاری کے باعث خوفناک حادثہ، ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ

    اوچ شریف: بخت واہ نہر پر تیز رفتاری کے باعث خوفناک حادثہ، ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے بخت واہ نہر، بستی جندو خان بلوچ کے مقام پر آج ایک ہولناک ٹریفک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار لوڈر منی ٹرک پل پر چڑھتے ہوئے اچانک موڑ کاٹتے وقت بے قابو ہو کر پل سے نیچے جا گرا۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ دیکھنے والوں کے دل دہل گئے، تاہم خوش قسمتی سے ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

    عینی شاہدین کے مطابق لوڈر منی ٹرک جیسے ہی نہر کے پل پر پہنچا، تو تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور نے کنٹرول کھو دیا اور ٹرک نیچے نہر کے کنارے جا گرا۔ حادثہ ہوتے ہی قریبی علاقے کے رہائشی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ مقامی افراد نے ڈرائیور کو گاڑی سے بحفاظت نکال لیا، جسے صرف معمولی چوٹیں آئیں۔

    علاقہ مکینوں نے واقعے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حادثہ خطرناک نوعیت کا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا، جو کہ ایک بڑا معجزہ ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر سڑکوں پر تیز رفتاری کے سنگین نتائج کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔

    مقامی انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے مقامات پر احتیاطی سائن بورڈز نصب کیے جائیں اور ٹریفک قوانین کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: پل موہانہ پر دن دیہاڑے ڈکیتی، مسلح ڈاکو نقدی و موبائل لوٹ کر فرار

    اوچ شریف: پل موہانہ پر دن دیہاڑے ڈکیتی، مسلح ڈاکو نقدی و موبائل لوٹ کر فرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تھانہ اوچ شریف کی حدود میں واقع پل موہانہ کے قریب گزشتہ روز دن دیہاڑے ایک سنگین ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جس میں تین موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے کریانہ سٹور سے نقدی اور قیمتی موبائل فون لوٹ لیے۔ واردات کے بعد ڈاکو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق تینوں ملزمان سرخ رنگ کی ہنڈا 125 موٹر سائیکل پر سوار ہو کر دکان پر پہنچے۔ اسلحہ کے زور پر دکاندار کو یرغمال بنایا گیا اور دکان میں موجود کیش اور موبائل فون چھین لیے گئے۔ ڈاکو واردات کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ اوچ شریف حرکت میں آ گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں، جنہیں شناخت کے لیے عوام سے شیئر کیا گیا ہے۔

    پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ان ملزمان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو فوری طور پر تھانہ اوچ شریف سے رابطہ کریں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    ضلعی پولیس نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں تاکہ شہر میں امن و امان کی فضا کو قائم رکھا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: تجاوزات کے خاتمے کیلئے اہم اجلاس، جامع آپریشن پلان تیار

    ڈیرہ غازی خان: تجاوزات کے خاتمے کیلئے اہم اجلاس، جامع آپریشن پلان تیار

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر، جواد اکبر)ڈیرہ غازی خان کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل و ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تجاوزات کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی گئی۔

    اجلاس کی صدارت چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل نے کی۔ اجلاس میں شہر میں بڑھتی ہوئی تجاوزات، ان کے منفی اثرات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ ایک مربوط اور منظم آپریشن پلان کے تحت شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    یہ اجلاس حکومتِ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں منعقد ہوا، جس میں ٹیم ایم این ایس کی معاونت بھی شامل رہی۔ حکام کے مطابق اس پلان کا مقصد نہ صرف شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا ہے بلکہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک نظام کو بھی بہتر بنانا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • دربار حضرت پیر عادل سرکار کی مرمت جلد شروع، محکمہ اوقاف کی یقین دہانی

    دربار حضرت پیر عادل سرکار کی مرمت جلد شروع، محکمہ اوقاف کی یقین دہانی

    پیر عادل ،باغی ٹی وی( نامہ نگار باسط علی)علاقہ پیر عادل اور دربارِ عالیہ حضرت سلطان سید غیاث الدین عرف "پیر عادل سرکار” کے عقیدت مندوں کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔ دربار کی مرمت کا دیرینہ اور اہم مسئلہ بالآخر حل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ سجادہ نشین دربار سید نادر امام کاظمی اور سید شہریار عباس کاظمی کی مسلسل کوششیں رنگ لے آئیں، جن کی جانب سے بار بار توجہ دلانے پر محکمہ اوقاف نے پیش رفت کرتے ہوئے اپنا افسر بھیج دیا، جس نے مرمتی کام جلد شروع کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دربار کی مرمت کے حوالے سے تمام محکمانہ اور کاغذی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب جلد ہی عملی کام کا آغاز متوقع ہے۔ اس موقع پر کاظمی سادات برادری نے قومی اسمبلی کے رکن ایم این اے سردار عبدالقادر خان کھوسہ اور صوبائی اسمبلی کے رکن ایم پی اے سردار صلاح الدین خان کھوسہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دربار کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے چیئرمین یونین کونسل پیرعادل کی درخواست پر نہ صرف دربار کا دورہ کیا بلکہ محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام پر دباؤ ڈالا کہ دربار کی مرمت کو اولین ترجیح دی جائے۔

    سید نادر امام کاظمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دربار نہ صرف اہلِ علاقہ کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ خطے کا قیمتی ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ دربار کاسرکار کے سالانہ عرس و میلہ سے قبل تمام مرمتی کام مکمل کر لیا جائے گا تاکہ زائرین کو سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کا امتحانی مرکز کا دورہ، شفاف امتحانات پر زور

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کا امتحانی مرکز کا دورہ، شفاف امتحانات پر زور

    سیالکوٹ (بیوروچیف باغی ٹی وی، شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر علی نے گوجرانوالہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر اہتمام سیکنڈ ایئر کے امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا۔ یہ دورہ گورنمنٹ خواجہ صفدر گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سیالکوٹ میں قائم امتحانی مرکز پر کیا گیا، جہاں اس وقت انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات جاری ہیں۔

    دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے امتحانی عملے کی حاضری، امتحانی نظم و ضبط اور طلبہ کو فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی عملے کو ہدایت کی کہ تمام نگران و عملہ صبح 8 بجے سے قبل لازماً امتحانی مرکز پر موجود ہو، بصورت دیگر تاخیر کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    صباء اصغر علی نے واضح الفاظ میں کہا کہ شفاف، منظم اور پر امن امتحانات کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس عمل میں کسی قسم کی غفلت، لاپروائی یا بدانتظامی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے امتحانی ماحول کو پرسکون اور نقل سے پاک رکھنے کی بھی ہدایت دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام امتحانی مراکز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو صاف اور منصفانہ امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: پانچ روز قبل اغوا ہونے والا دو سالہ بچہ بحفاظت بازیاب، خاتون اغوا کار گرفتار

    سیالکوٹ: پانچ روز قبل اغوا ہونے والا دو سالہ بچہ بحفاظت بازیاب، خاتون اغوا کار گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف ، شاہد ریاض)سیالکوٹ میں پانچ روز قبل اغوا ہونے والا دو سالہ معصوم بچہ بالآخر پولیس کی انتھک کوششوں کے بعد بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔ واقعے میں ملوث خاتون اغوا کار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جو پتوکی کی رہائشی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ اولاد نہ ہونے کے باعث بچے کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

    بچے کے اغوا کی اطلاع ملنے کے بعد سیالکوٹ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں نصب 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تفتیشی ٹیموں نے شب و روز محنت کر کے ملزمہ کا سراغ لگایا، جو مختلف علاقوں میں بچے کو لے کر گھومتی رہی تاکہ شک سے بچ سکے۔

    پولیس نے ٹیکنیکل اور روایتی طریقہ تفتیش کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمہ کا پتہ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق خاتون نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ کئی سالوں سے اولاد کے لیے تڑپ رہی تھی، اور ماں بننے کی خواہش نے اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

    بچے کو بحفاظت والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں خاندان نے پولیس کی بروقت کارروائی اور محنت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے سیالکوٹ پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس قسم کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

    سیالکوٹ پولیس نے اس کامیاب کارروائی کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید تفتیشی نظام کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ڈسکہ: ولیمے کی رات خون، پسند کی شادی نہ ہونے پر دلہن کے عاشق نے دولہا کو قتل کر دیا

    ڈسکہ: ولیمے کی رات خون، پسند کی شادی نہ ہونے پر دلہن کے عاشق نے دولہا کو قتل کر دیا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک عمران) ڈسکہ کے علاقے میں پسند کی شادی نہ ہونے پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ولیمے کی رات دلہن کے مبینہ عاشق نے فائرنگ کر کے دولہا کو قتل کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دھیدووالی کے رہائشی محمد جاوید عرف عدنان کی شادی تھانہ ستراہ کے موضع منڈ میں انجام پائی تھی۔ گزشتہ رات جب وہ اپنی دعوت ولیمہ کے بعد سسرال پہنچا تو وہاں پر دلہن کے مبینہ عاشق محمد بوٹا نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ تشویشناک حالت کے پیش نظر جاوید کو فوری طور پر سول ہسپتال ڈسکہ سے گوجرانوالہ ریفر کیا جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔

    مقتول دولہا کے والد محمد ناصر کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق دلہن الفا سویرا اپنے مبینہ عاشق محمد بوٹا سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن گھر والوں نے اس کی زبردستی شادی محمد جاوید سے کر دی تھی۔ ایف آئی آر میں دلہن الفا سویرا اور اس کے عاشق محمد بوٹا دونوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

    مقتول کے والد نے الزام لگایا ہے کہ دلہن نے مقتول دولہا کی جیب سے سلامیوں والی رقم، طلائی انگوٹھی، پرس اور موبائل فون بھی نکال لیا تھا۔ ستراہ پولیس نے مقتول کی میت کو سول ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر کے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔