Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام پاک فوج سے یکجہتی ریلی کا انعقاد

    اوکاڑہ: ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام پاک فوج سے یکجہتی ریلی کا انعقاد

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) ضلع اوکاڑہ میں ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ایک شاندار ریلی کا اہتمام کیا۔

    ریلی کا باقاعدہ آغاز ضلع کونسل آفس سے ہوا، جس کی قیادت خود ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کی۔ اس اہم ریلی میں ضلع بھر کے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان، معزز علما کرام، وکلا برادری، تاجر تنظیموں کے نمائندگان، طلبہ اور سول سوسائٹی کے فعال افراد نے جوش و خروش سے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور فضا "پاکستان زندہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔ شرکاء نے اپنے گہرے حب الوطنی کے جذبے کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے واضح الفاظ میں کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطن عزیز کا ہر بچہ ملکی دفاع کے لیے ہمہ وقت پرعزم ہے۔

    انجمن تاجران کے صدر شیخ ریاض انور نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ تاجر برادری ہر مشکل گھڑی میں اپنی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر وطن کو ضرورت پڑی تو وہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے دشمن کو نیست و نابود کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

    یہ عظیم الشان ریلی ضلع کونسل سے شروع ہوئی اور شہر کے مختلف اہم راستوں سے گزرتی ہوئی آخر کار ٹینک چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

  • اوچ شریف: ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات، تمام محکمے الرٹ

    اوچ شریف: ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات، تمام محکمے الرٹ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان)اسسٹنٹ کمشنر نوحید حیدر کی زیر صدارت تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس تحصیل احمد پور شرقیہ میں منعقد ہوا، جس میں ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اور تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا گیا۔

    اجلاس میں ڈینگی وائرس کی روک تھام، عوامی آگاہی، مانیٹرنگ اور انسداد کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اس اہم اجلاس میں محکمہ صحت، تعلیم، میونسپل کمیٹی، سماجی بہبود، پبلک ہیلتھ، آبپاشی، ماحولیات، واپڈا اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد تحصیل بھر میں ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو مؤثر حکمت عملی کے تحت روکنا اور فوری عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نوحید حیدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام اداروں کو ایک مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تحصیل کے تمام تعلیمی اداروں، اسپتالوں، سرکاری دفاتر، قبرستانوں اور زیر تعمیر عمارتوں کی باقاعدگی سے کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نوحید حیدر نے عوامی آگاہی مہم کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر اس خطرناک وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے، فیلڈ وزٹ کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی غفلت برتنے پر سخت قانونی کارروائی کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔

    اجلاس میں شریک تمام محکموں کے افسران نے اسسٹنٹ کمشنر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تحصیل احمد پور شرقیہ کو ڈینگی فری بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لایا جائے گا۔

  • اوچ شریف: 35 سال بعد بھی سائیکل رکشہ والوں کو نواز شریف کے وعدے کا انتظار

    اوچ شریف: 35 سال بعد بھی سائیکل رکشہ والوں کو نواز شریف کے وعدے کا انتظار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) نوے کی دہائی میں پیٹ بھرنے کے لیے کرائے پر سائیکل رکشے چلا کر گزر بسر کرنے والے غریب محنت کش، 35 سال گزر جانے کے باوجود میاں نواز شریف حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ ان میں سے کئی اب قبروں میں جا سوئے ہیں اور جو زندہ بچے ہیں وہ اپنے بڑھاپے میں آسودگی کے خواہشمند ہیں۔ اب ان کی نظریں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر ہیں کہ وہ اپنے والد کے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا اعلان کریں۔

    انجمن تاجران علی پور کے رہنما اور سابق جنرل کونسلر شیخ لیاقت علی صدیقی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 35 سال قبل جنوبی پنجاب کے علاقوں علی پور، احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف سمیت دیگر جگہوں پر سخت معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے غریب محنت کش، روزانہ 20 روپے کرائے پر سائیکل رکشے لے کر لوگوں اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا کر اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے تھے۔ اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے 1992 میں سائیکل رکشہ چلانے والوں کے لیے ایک سکیم کا اعلان کیا جس کے تحت تمام سائیکل رکشے حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے اور ان کے بدلے متبادل روزگار کے طور پر آٹو رکشہ، ٹیکسی، کار یا دیگر چھوٹی ٹرانسپورٹ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ جب تک ان کے لیے متبادل روزگار کا انتظام نہیں ہوتا، ہر فرد کو ماہانہ پندرہ سو روپے پولٹری الاؤنس ادا کیا جائے گا، جس سے غریب محنت کشوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

    شیخ لیاقت صدیقی نے بتایا کہ اس اعلان کے بعد اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ علی پور پہنچے اور انہوں نے ان سمیت دیگر 20 سائیکل رکشے جمع کیے اور ان کی قیمت کے طور پر موقع پر ہی نیشنل بینک آف پاکستان احمد پور شرقیہ برانچ کے 20 چیک عبدالشکور، محمد افضل، کالو خان، غلام اکبر، مشتاق احمد، ظفر حسین، ذوالفقار، قاسم علی، وزیر احمد، حق نواز، محمد اصغر، غلام عباس، قمر علی، مشیر احمد، محمد خلیل، محمد اجمل، بشیر احمد، غلام عباس ولد شملہ خان، رسول بخش ولد واحد بخش اور عظیم بخش کے نام پر فی چیک پانچ ہزار روپے کے حساب سے کل ایک لاکھ روپے مالیت کے جاری کیے گئے۔ شیخ لیاقت صدیقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 33 سال گزرنے کے باوجود وہ چیک آج بھی کیش ہونے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نیشنل بینک احمد پور شرقیہ برانچ کے کئی چکر لگائے جس پر کرائے کی مد میں اصل رقم سے بھی زیادہ خرچ ہو چکا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت نے آج تک غریب سائیکل رکشہ والوں کو وعدے کے مطابق متبادل روزگار کے طور پر آٹو رکشہ وغیرہ مہیا کیا اور نہ ہی پولٹری الاؤنس کی مد میں ایک دھیلہ دیا۔ الٹا سائیکل رکشے سرکاری تحویل میں لیتے ہوئے ان کی قیمت کی مد میں جاری کیے گئے سرکاری چیک بھی دھوکہ اور فریب نکلے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی حکومت نے سہانے خواب دکھا کر انہیں زندہ درگور کر دیا۔ سائیکل رکشہ چلانا ذلت کا کام سہی لیکن وہ اپنے بچوں کو رزق حلال کما کر کھلا رہے تھے اور ان سے ان کا روزگار چھین لیا گیا۔

    انہوں نے موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے والد کے وعدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور جو لوگ زندہ ہیں انہیں متبادل روزگار کے سلسلے میں چھوٹی ٹرانسپورٹ آٹو رکشہ وغیرہ مہیا کرنے کا حکم دیں۔

  • ڈسکہ: صوبائی وزیر بلدیات کا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

    ڈسکہ: صوبائی وزیر بلدیات کا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

    ڈسکہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک عمران) صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے ڈسکہ سول ہسپتال میں سٹی سکین مشین اور ڈسکہ شہر کی پانچ اہم سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی چوہدری نوید اشرف، سابق ایم پی اے چودھری جمیل اشرف، ایم ایس ڈاکٹر محمد علی بٹ کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما، کارکنان اور معززین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب اور ورلڈ بینک کے باہمی تعاون سے ڈسکہ کی خستہ حال پسرور روڈ، جامکے روڈ، بینک روڈ، کالج روڈ اور سمبڑیال روڈ کی تعمیر نو پر 55 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان سڑکوں کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کے نظام (اسٹرم ڈرینز/نالوں) کی تعمیر اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

    اس سے قبل صوبائی وزیر بلدیات نے سول ہسپتال ڈسکہ میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت نصب کی گئی 16 سلائس سٹی سکین مشین کا افتتاح کیا۔ انہوں نے سول ہسپتال ڈسکہ کو پنجاب کا نمبر ون ٹی ایچ کیو ہسپتال قرار دیتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر محمد علی بٹ اور ان کی ٹیم کی پیشہ ورانہ خدمات اور خلوص نیت سے کام کرنے پر ان کی تعریف کی۔ میاں ذیشان رفیق نے اعلان کیا کہ سول ہسپتال ڈسکہ میں ایمرجنسی کی صورت میں سٹی سکین کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی جبکہ روٹین کے کیسز میں صرف 2500 روپے فیس وصول کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سٹی سکین مشین پی ایم یو سے منسلک ہے جس کی رپورٹ 4 گھنٹوں کے اندر آن لائن دستیاب ہو سکے گی۔

  • بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر پاکستانی صحافیوں کی تشویش

    بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر پاکستانی صحافیوں کی تشویش

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (JAP/UK) نے بھارت کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والے غیر ذمہ دارانہ اعلانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اعلانات میں سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے، واہگہ بارڈر بند کرنے اور پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کے مطالبات شامل ہیں۔

    JAP/UK کے مرکزی صدر میاں عامر علی، مرکزی سیکرٹری محمد آصف قائمی، سیکرٹری فنانس اقبال قائم خانی، صدر JAP UK پاکستان سمیع اللہ عثمانی، سیکرٹری جنرل صائمہ صابر اور سیکرٹری فنانس راشد علی خانزادہ سمیت دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے جس نے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا توازن برقرار رکھا ہے۔ اس معاہدے کا یکطرفہ خاتمہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہوگا بلکہ اس کے انتہائی سنگین نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے دونوں ممالک کی عوام براہ راست متاثر ہوں گے۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی متاثر ہونے سے زرعی پیداوار، پینے کے پانی تک رسائی اور ماحولیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سرحدوں کی بندش اور سفارتی تعلقات میں کشیدگی دونوں ممالک کے طلبہ، مریضوں، تاجروں اور ثقافتی و سماجی روابط کو بری طرح متاثر کرے گی۔

    جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے نے دونوں ممالک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہوش مندی، تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام مسائل کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ تنظیم نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس خطرناک صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔

  • موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ
    ازقلم:ارم سعید
    اردو زبان برصغیر کی ایک مایہ ناز، شیریں، دلکش اور ہمہ گیر زبان ہے۔ اس نے اپنے دامن میں نہ صرف شاعری، نثر، تاریخ، فلسفہ اور سائنس کی دولت سمیٹی ہے، بلکہ تہذیب، ثقافت، شائستگی، اور محبت کی زبان بھی کہلائی ہے۔ اردو نے ہندو مسلم یکجہتی، صوفی ازم، اور عوامی مزاحمت کی آواز بن کر صدیوں تک ایک روشن کردار ادا کیا۔ لیکن آج کے تیز رفتار، ٹیکنالوجی کے غالب، اور عالمی زبانوں کے غلبے والے دور میں اردو زبان کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو زبان آج ایک نفسیاتی، تہذیبی اور سماجی جنگ لڑ رہی ہے—ایک ایسی جنگ جس کا میدان تعلیمی ادارے، سوشل میڈیا، حکومتی پالیسیاں، اور ہماری روزمرہ زندگی ہے۔ یہ مضمون اردو زبان کی اس جنگ کا جائزہ لیتا ہے، اس کے اسباب، اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتا ہے۔

    اردو زبان: ایک تاریخی پس منظر
    اردو زبان کی جڑیں دکن سے دہلی تک اور پنجاب سے لکھنؤ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس نے فارسی، عربی، ترکی، سنسکرت اور مقامی بولیوں سے الفاظ لے کر ایک منفرد اسلوب اختیار کیا۔ مغلیہ دور میں اسے درباری زبان کی حیثیت حاصل ہوئی اور بعد ازاں یہ عوام الناس کی زبان بن کر ابھری۔ اردو نے تحریک آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سرسید، حالی، اقبال اور قائداعظم نے اسے ایک قومی شناخت کی علامت بنایا۔

    1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے محض علامتی طور پر اپنایا گیا، عملی طور پر انگریزی کا غلبہ قائم رہا۔

    موجودہ دور کے تقاضے اور اردو زبان
    موجودہ دور میں دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ انگریزی زبان بین الاقوامی رابطے، تعلیم، تجارت، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زبان بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو زبان جو کبھی علم و تہذیب کی علامت تھی، اب کمزور طبقات، پسماندہ علاقوں یا صرف جذباتی نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    تعلیمی نظام اور اردو کا حاشیہ نشین ہونا
    پاکستان کا تعلیمی نظام طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف انگلش میڈیم، کیمبرج اور آئی بی جیسے ادارے ہیں جو مغربی معیار تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں، دوسری طرف اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں جو وسائل کی کمی، ناقص نصاب اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے باعث پسماندگی کا شکار ہیں۔

    اردو میڈیم تعلیم کو حقیر، کم درجے کی اور "ناکام لوگوں” کا راستہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی سوچ اردو زبان کی وقعت کو گھٹا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے اردو بولنے سے کتراتے ہیں، اردو لکھنے سے قاصر ہیں اور اردو ادب سے ناواقف ہیں۔

    میڈیا، انٹرنیٹ اور زبان کا استحصال
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زبان کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ "رومن اردو” یعنی انگریزی حروف میں اردو لکھنے کا رجحان عام ہو گیا ہے۔ نوجوان طبقہ "Ap kya kr rhy ho?” جیسے جملے استعمال کر کے زبان کی ساخت اور جمالیات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

    ٹی وی چینلز، ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات میں اردو کی جگہ ایک مخلوط زبان نے لے لی ہے جو نہ مکمل اردو ہے، نہ مکمل انگریزی۔ یہ زبان دراصل "انگریزی زدہ اردو” ہے، جو اردو کی اصل روح کو مجروح کر رہی ہے۔

    اردو زبان کے خلاف سازش یا ہماری بے حسی؟
    کیا اردو زبان کے ساتھ زیادتی دانستہ ہو رہی ہے؟ یا ہم خود اپنی زبان سے بے وفائی کر رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اردو کے خلاف کوئی خارجی سازش نہیں، بلکہ ہماری اپنی نیت، رویہ اور ترجیحات اس کے زوال کے ذمہ دار ہیں۔ ہم نے اسے صرف شاعری، جذبات، تقریروں اور تقریبات تک محدود کر دیا ہے۔

    ہماری جامعات میں تحقیق انگریزی میں ہوتی ہے، دفاتر میں مراسلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ اردو کو صرف ترجمے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جب کہ اسے خود علمی زبان بننے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    اردو زبان کی بقا: روشن مثالیں اور امید کی کرن
    اگرچہ مجموعی صورتحال مایوس کن ہے، لیکن کچھ روشن مثالیں اب بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ نوجوان اردو شاعری، ادب، اور تحریر کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوٹیوب چینلز، اردو بلاگز، پوڈکاسٹس اور آن لائن لٹریچر پلیٹ فارمز اردو کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔

    اردو ادب کی نئی صنف "اردو افسانوی وی لاگنگ” ابھر رہی ہے، جہاں نوجوان اپنی کہانیوں کو ویڈیو کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اردو کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑ سکتی ہے۔

    حکومت، تعلیمی ادارے اور معاشرتی کردار
    اردو زبان کے فروغ کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے:

    قومی نصاب میں اردو زبان کی تدریس کو مضبوط کیا جائے۔
    سائنسی و تکنیکی مواد اردو میں ترجمہ کیا جائے۔
    دفاتر اور عدالتوں میں اردو کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
    اردو ادب اور زبان کے ماہرین کو قومی سطح پر پذیرائی دی جائے۔
    اردو زبان کی ترقی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔

    اسی طرح تعلیمی اداروں کو اردو زبان کی تدریس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا چاہیے۔ اردو کو بوریت یا مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور موثر زبان کے طور پر پیش کیا جائے۔

    ہمارا انفرادی اور اجتماعی فرض
    ہر فرد کا بھی فرض ہے کہ وہ اردو زبان کو صرف جذباتی یا قومی فخر کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اس کے عملی استعمال کو فروغ دے۔ گھر میں اردو بولی جائے، کتابیں اردو میں پڑھی جائیں، اردو اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس کو فروغ دیا جائے۔
    والدین اپنے بچوں کو اردو ادب سے روشناس کرائیں۔ اساتذہ اردو کو صرف نصاب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے تخلیقی پہلو کو اجاگر کریں۔

    اردو زندہ ہے، لیکن خطرے میں ہے
    اردو زبان محض ایک لسانی اظہار نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک تاریخ کا نام ہے۔ موجودہ دور میں اسے مختلف محاذوں پر جنگ لڑنی پڑ رہی ہے تعلیم، میڈیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قومی پالیسی کی سطح پر۔
    اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والے وقت میں اردو صرف کتب خانوں اور ماضی کی یادگاروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے اس زبان کی حفاظت، ترقی اور فروغ کو اپنا مشن بنا لیا تو یہ زبان نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ دنیا میں اپنا مقام بھی واپس حاصل کرے گی۔

    اردو کو بچانا صرف زبان کو بچانا نہیں، بلکہ اپنی شناخت، ثقافت، تاریخ اور تہذیب کو بچانا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کوآپریٹو بینک ملازمین کا بھرتیوں پر احتجاج

    ڈیرہ غازی خان: کوآپریٹو بینک ملازمین کا بھرتیوں پر احتجاج

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر) پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ ڈیرہ غازی خان کے درجنوں ملازمین نے پرائیویٹ زونل ہیڈ کی بھرتیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ ملازمین نے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کوآپریٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی بھرتیوں کو روکا جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کی طرح پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک ڈیرہ غازی خان کے ملازمین نے بینک انتظامیہ کے مبینہ غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ زونل ہیڈ کی بھرتیاں بینک کے سینئر ترین عملے کی حق تلفی کے مترادف ہیں۔

    مظاہرین نے بورڈ آف ڈائریکٹرز، پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کوآپریٹو سے اپیل کی ہے کہ وہ مستقل اور تجربہ کار سینئر افسران کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پرائیویٹ بھرتیوں کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اندرونی پروموشن کمیٹی کو بحال کیا جائے۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کے عملے نے ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کیا ہے۔

    اس موقع پر ڈپٹی زونل ہیڈ آپریشن جودت کامران، ڈپٹی زونل ہیڈ غضنفر علی، ڈپٹی زونل ہیڈ عطا الرحمن بھٹی اور دیگر افسران جن میں اسامہ شہزاد، محمد خالد فرہاد، خالد، محمد سمیع، اویس عادل، سرمد شہزاد اور ابوبکر محسن بھی احتجاج میں شریک تھے۔

  • ڈی جی خان :ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ، سب اچھا کی رپورٹ پیش

    ڈی جی خان :ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ، سب اچھا کی رپورٹ پیش

    ڈی جی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ہسپتال اور پرنسپل آفس کی سب اچھا کی رپورٹ

    تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان کی بدانتظامی اور سہولتوں کے فقدان نے پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن ہسپتال انتظامیہ اور پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج نے اس سنگین صورتحال کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی آؤٹ باؤنڈ کالز کی روشنی میں جاری کردہ نوٹس (مراسلہ نمبر SO(AMI-I)5-785/2023) میں ہسپتال کی بدانتظامی اور مریضوں کی بدحالی کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے تھے۔ تاہم ہسپتال اور غازی میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسی جواب رپورٹ پیش کی ہے جس میں سب کچھ "اچھا” دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ الزامات کو بے بنیاد اور مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    سرکاری مراسلے کے مطابق ہسپتال میں مریض بنیادی علاج کے لیے ترس رہے ہیں تشخیصی مشینیں خراب ہیں او پی ڈی اور فارمیسی پر ناقابل برداشت رش ہے اور دوائیں تک پوری نہیں ملتیں۔ سیکیورٹی گارڈز اور عملے کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے جبکہ نچلے درجے کے عملے میں رشوت ستانی عام ہے۔ سینئر ڈاکٹرز کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے اور ہسپتال کا احاطہ گندگی اور طبی فضلے سے اٹا پڑا ہے۔ ٹراما سینٹر کے داخلی راستے پر کھلے مین ہولز کسی بڑے حادثے کی دعوت دے رہے ہیں اور آوارہ کتوں کی بھرمار ہے، سب سے سنگین الزام یہ تھا کہ ڈاکٹرز مفت علاج کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریضوں کو نجی کلینکس پر ریفر کر کے غیر قانونی رقوم وصول کر رہے ہیں۔ ان انکشافات نے غریب مریضوں کے ساتھ صریح ناانصافی کو عیاں کیا تھا جن کے لیے یہ سرکاری ہسپتال واحد سہارا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے ان ہوشربا انکشافات پر فوری ایکشن کا حکم دیتے ہوئے پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج سے 24 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ اور ذمہ داران کے خلاف اقدامات کی وضاحت طلب کی تھی۔ لیکن ہسپتال غازی میڈکل کالج کی انتظامیہ کا جواب حیرت انگیز ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ نوٹس میں اٹھائے گئے سوالات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور رپورٹ میں حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ جواب اس وقت اور بھی سوالات اٹھاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 25 اپریل 2025 کو جب مریض ہسپتال میں سسک رہے تھے، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں کیک کاٹا اور فیس بک پر اپنی "کامیابیوں” کا ڈھنڈورا پیٹا جو مریضوں کی چیخوں اور سرکاری نوٹس کی کھلی تضحیک ہے۔

    جب مریض نجی لیبارٹریوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہسپتال کا رابطہ نمبر غیر فعال ہے اور بنیادی سہولتیں غائب ہیں تو انتظامیہ کا "سب اچھا” کا دعویٰ ناقابل یقین ہے۔ ہسپتال کی اس رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بدانتظامی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ مریضوں کی بدحالی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جب پرنسپل غازی میڈیکل کالج سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لیٹر میں لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ بھجوا دی ہے۔ دوسری جانب اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ لاہور سے ان کے لینڈ لائن نمبر پر مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کال وصول نہیں کی۔

    شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں ہونے والی ان ہوشربا بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا جائے اور ہسپتال میں موجود ایم ایس سمیت تمام انتظامی عہدوں پر براجمان افسران کو فی الفور تبدیل کیا جائے تاکہ وہ ہونے والی شفاف تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔

  • تونسہ: اے ایس آئی اور کانسٹیبل کوشہید کرنیوالے، 3 ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک، 2 فرار

    تونسہ: اے ایس آئی اور کانسٹیبل کوشہید کرنیوالے، 3 ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک، 2 فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی) تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں سپر بند 2 کے مقام پر دوران گشت پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کی اطلاع پر ناکہ بندی کی۔ اسی دوران پانچ مسلح ملزمان دریا کی جانب سے آتے ہوئے سپر بند 2 کی طرف بڑھے اور پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس نے حفاظت خود اختیاری کے تحت پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی فائرنگ کی۔ تقریباً 15 سے 16 منٹ تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں تین خطرناک ڈاکو ہلاک ہو گئے۔

    ہلاک ملزمان کی شناخت رحمت اللہ عرف رانجھا سنجرانی، فہد عرف فہدی اور آصف عرف حاجی سنجرانی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تینوں تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کو شہید کرنے میں ملوث تھے۔

    دو ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے۔ پولیس موبائل پر بھی فائرنگ کے نشانات ملے تاہم خوش قسمتی سے کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے کہا کہ اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید نے امن و امان کے قیام کے لیے مثالی خدمات انجام دیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  • ننکانہ: ڈاکٹر رانا افتخار کی قیادت میں بڑا طبی معرکہ، عوام کا ستارہ امتیاز کا مطالبہ

    ننکانہ: ڈاکٹر رانا افتخار کی قیادت میں بڑا طبی معرکہ، عوام کا ستارہ امتیاز کا مطالبہ

    ننکانہ صاحب,باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب کے ارتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے طبی تاریخ میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ معروف آرتھوپیڈک سرجن اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین کی قیادت میں ارتھوپیڈک ٹیم نے جدید طبی سہولیات کے تحت ایک مریضہ کے کولہے (Hip Joint) کی کامیاب ٹوٹل ہِپ ریپلیسمنٹ (THR) سرجری انجام دی۔ مریضہ کی کولہے کی ہڈی میں خون کی روانی متاثر ہو جانے کے باعث جوڑ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا تھا جسے جدید طریقہ علاج کے ذریعے کامیابی سے بحال کیا گیا۔

    یہ شاندار کارنامہ ایسے ہسپتال میں سرانجام دیا گیا جہاں سہولیات ملک کے بڑے اور جدید ہسپتالوں کے معیار کی نسبت محدود ہیں، تاہم ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین اور ان کی ٹیم کی مہارت نے ان کمیوں کو آڑے نہیں آنے دیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین اس سے قبل بھی درجنوں پیچیدہ آرتھوپیڈک آپریشنز، جن میں مختلف اقسام کے فریکچرز، جوڑوں کی تبدیلی اور ہڈیوں کی پیچیدہ بیماریوں کا کامیاب علاج شامل ہے، بخوبی انجام دے چکے ہیں۔

    ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین اور ان کی ٹیم کی اس شاندار کامیابی پر ننکانہ صاحب کے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین کی دکھی انسانیت کے لیے بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں "ستارہ امتیاز” جیسے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازے۔ شہریوں نے انہیں خدمت خلق کا درخشندہ پیکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین اپنی شبانہ روز محنت اور جذبہ خدمت کے ذریعے قوم کے ان عظیم سپوتوں میں شامل ہو چکے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔

    عوام نے ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین کی خدمات کو قومی سطح پر سراہا جائے گا۔