Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: محکمہ لائیو اسٹاک کی بے عملی، مہلک وبامویشی ہلاک، مویشی پال پریشان

    اوچ شریف: محکمہ لائیو اسٹاک کی بے عملی، مہلک وبامویشی ہلاک، مویشی پال پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور ملحقہ دیہی علاقوں میں گل گھوٹو اور منہ کھر کی مہلک وباؤں نے قیمتی مویشیوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ محکمہ لائیو اسٹاک کی مجرمانہ غفلت، غیر سنجیدگی اور ناکافی سہولیات کے باعث کسانوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رتہڑ نہڑانوالی، رتہڑ لعل خان، دھوڑ کوٹ، سرور آباد، کوٹلہ رحمت شاہ اور اوچ موغلہ سمیت متعدد دیہات میں گائے، بیل اور بھینسیں اس مرض کا شکار ہو رہی ہیں، جبکہ روزانہ جانور ہلاک ہو رہے ہیں۔

    مقامی مویشی پال محمد صفدر، قاری مجیب الرحمن اور محمد اصغر نے بتایا کہ رورل ویٹرنری ہسپتال اوچ شریف میں نہ ویکسین موجود ہے نہ ضروری ادویات۔ ہسپتال عملہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے گریز کرتا ہے اور کسانوں کو بازار سے مہنگی ادویات خریدنے کا مشورہ دیتا ہے۔ غریب کسان نہ تو یہ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں نہ ہی بروقت علاج کروا سکتے ہیں، جس سے ان کے قیمتی جانور مر رہے ہیں۔ محمد صفدر کا لاکھوں روپے کا بچھڑا گزشتہ روز ہلاک ہو گیا، جو ان کے گھر کا واحد ذریعہ معاش تھا۔

    کسانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری مداخلت، شفاف تحقیقات اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ویٹرنری ہسپتالوں کو فعال کرنے، ویکسین و ادویات کی فراہمی اور مالی امداد کی اپیل کی ہے۔ عوامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وبا پھیل کر دیہی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے۔

  • نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ خونی، دھوکے اور بداعتمادی کی داستان ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر آج تک بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگوں، دراندازی اور دہشت گردی کے ذریعے اپنی دشمنی کو بارہا ثابت کیا ہے۔ حالیہ پہلگام حملہ اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نے بھارتی عزائم کا پول ایک بار پھر کھول دیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان بھارتی خطرے کا مقابلہ پوری قوت، جرأت اور عزم کے ساتھ کرے کیونکہ اب خاموشی یا دفاعی پوزیشن کوئی آپشن نہیں!

    1947 کی تقسیم کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف چار بڑی جنگیں لڑیں 1948، 1965، 1971 اور 1999 کی کارگل جنگ۔ کشمیر کا تنازعہ ان جنگوں کا مرکز رہا، سوائے 1971 کے جب بھارت نے مکتی باہنی کو ہتھیار اور تربیت دے کر مشرقی پاکستان کو دولخت کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود اس "فتح” کا ڈھنڈورا پیٹا۔ بھارت نے 1965 میں مغربی پاکستان پر حملہ کیا، جو ناکام رہا اور کارگل میں پاکستانی فوج کی محدود پیش قدمی کو عالمی دباؤ سے روکا لیکن اس تنازعے نے بھارتی فوج کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔

    بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کا ہاتھ ہے۔ 2016 میں گرفتار بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو فنڈز اور ہتھیار دے رہا تھا۔ یہ ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بناتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کو بھارتی سرپرستی کے شواہد بھی عیاں ہیں۔ جعفر ایکسپریس جیسے واقعات بھارتی کردار کی گواہی دیتے ہیں۔

    بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ شرمناک ہے۔ 2007 کے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں میں 68 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ ابتدا میں پاکستان پر الزام لگایاگیا لیکن ثابت ہوا کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے یہ حملہ کیا تاکہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے ہموار ہو اور امن عمل تباہ ہو۔ 2019 کا پلوامہ حملہ بھی ایک ڈرامہ تھا۔ بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا کر بالاکوٹ میں نام نہاد "سرجیکل سٹرائیک” کی۔ جس پرپاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا۔ ارنب گوسوامی کی لیک چیٹ نے ثابت کیا کہ پلوامہ ڈرامہ انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے رچایا گیا۔

    حالیہ پہلگام حملہ جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے۔ تھانے کی ایف آئی آر نے اس ڈرامے کا پردہ چاک کر دیا۔ بھارت نے اسے جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا جو بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا اور اس کی معطلی کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی درکار ہے۔ بھارت کا یہ اقدام پاکستان کی زراعت اور معیشت کے خلاف آبی جارحیت ہے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔

    پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے اور پاکستانی سفارتی عملے کو "ناپسندیدہ” قرار دے کر واپس جانے کا حکم دیا۔ واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش اور سارک ویزوں کا خاتمہ بھارتی دشمنی کا عروج ہے۔ یہ سفارتی اصولوں کی توہین اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے۔

    اب وقت ہے کہ پاکستان بھارت کے اس جارحانہ رویے کا مقابلہ پوری طاقت سے کرے۔ پاکستان نے حال ہی میں فضائی حدود بند کیں، میزائل تجربہ کیا اور بھارتی دہشت گردی کا سخت جواب دیا۔ یہ اقدامات درست ہیں لیکن کافی نہیں۔ پاکستان کو عالمی فورمز پر بھارت کی غیر قانونی معطلی اور آبی جارحیت کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ فوج کو ہائی الرٹ پر رکھ کر ایل او سی، انٹرنیشنل بارڈر پر کسی بھی قسم کی بھارتی حرکت کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ بھارتی ہائی کمیشن کو بند کیا جائے اور بھارتی شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگائی جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر معطل ہو اور سارک جیسے فورمز میں اس کی شرکت روکی جائے۔ چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سفارتی اور اسٹریٹجک اتحاد مضبوط کیا جائے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بھارت فریب کاری، ریاستی دہشت گردی اور علاقائی جارحیت سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہا۔ پہلگام میں نہتے کشمیریوں پر بزدلانہ حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی، اسی مذموم سلسلے کی ناقابل تردید کڑیاں ہیں۔ یہ واقعات خطے میں بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    اب یہ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ سفارتی، عسکری اور اقتصادی محاذوں پر انتہائی سنجیدگی اور دوراندیشی کے ساتھ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔ یہ لمحہ کسی بھی قسم کی تذبذب یا کمزوری دکھانے کا نہیں، بلکہ قومی یکجہتی، بے مثال اتحاد اورغیر متزلزل عزم کا متقاضی ہے۔ بھارتی خطرے کا مؤثر اور دائمی سدباب صرف اور صرف ناقابل تسخیر قوت کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

    پاکستان کا استحکام اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اب نہ کسی مصلحت آمیز سمجھوتے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی قسم کی پسپائی اختیار کی جا سکتی ہے۔ وقت کاتقاضا ا ہے کہ ہم ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیں کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب صرف سخت اور مؤثر جوابی کارروائی سے دیا جائے گا۔ یہ ہماری بقا، ہماری خودمختاری اور ہمارے قومی وقار کا معاملہ ہے۔ اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی، صرف سخت جوابی کارروائی!

  • سیالکوٹ: جماعت اسلامی خواتین کا "فری غزہ یوتھ گالا”، فلسطین سے یکجہتی ریلی کا انعقاد

    سیالکوٹ: جماعت اسلامی خواتین کا "فری غزہ یوتھ گالا”، فلسطین سے یکجہتی ریلی کا انعقاد

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر مدثر رتو) جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے سیالکوٹ بھر کے اسکولز اور کالجز کی طالبات کے لیے "فری غزہ یوتھ گالا” کا انعقاد کیا گیا۔ اس پُراثر تقریب میں قیمہ پاکستان جماعت اسلامی حلقہ خواتین محترمہ حمیرا طارق مہمانِ خصوصی تھیں، جن کے ہمراہ ان کی ٹیم اور موٹیویشنل اسپیکر ڈاکٹر جاوید اقبال اور ٹرینر زیر منصوری بھی موجود تھے۔ مختلف سیشنز میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی نے ان کی رہنمائی کی۔

    حمیرا طارق نے اپنے خطاب میں نوجوان لڑکیوں کو صحابیات اور امہات المومنین کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی یوتھ ہی کل کی قیادت ہے، اور ضروری ہے کہ ہماری بیٹیاں ام عمارہ، ام سلمہ، حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہن جیسی عظیم خواتین کے نقش قدم پر چلیں، اور مغرب کے چکا چوند ایجنڈوں سے ہوشیار رہیں۔

    موٹیویشنل اسپیکر ڈاکٹر جاوید اقبال نے طالبات کو ایک کامیاب، بااعتماد اور باعلم زندگی گزارنے کے حوالے سے مفید نکات بتائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی، جسمانی اور روحانی صحت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت اور تاریخِ اسلام و موجودہ حالات کا علم حاصل کرنا موجودہ فتنوں سے بچاؤ اور اُمت کی فلاح کے لیے نہایت اہم ہے۔

    پروگرام کے اختتام پر فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ایک پُرامن ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت امیرِ ضلع جماعت اسلامی چوہدری امتیاز احمد بریار نے کی۔ اس ریلی میں شہر سیالکوٹ کی بڑی تعداد میں طالبات اور خواتین نے بھرپور شرکت کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ محبت و حمایت کا اظہار کیا۔

    یہ یوتھ گالا نہ صرف طالبات کے لیے سیکھنے اور شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ امتِ مسلمہ کے اہم مسائل پر آواز بلند کرنے کا مؤثر پلیٹ فارم بھی ثابت ہوا۔

  • اوکاڑہ: ‘ستھرا پنجاب’ کے کارکن فاقہ کشی پر مجبور، خودسوزی کی دھمکی

    اوکاڑہ: ‘ستھرا پنجاب’ کے کارکن فاقہ کشی پر مجبور، خودسوزی کی دھمکی

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اہم وژن ‘ستھرا پنجاب’ مہم میں دن رات محنت سے کام کرنے والے صفائی کے کارکن گزشتہ دو ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

    متاثرہ ورکرز نے الزام عائد کیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے عملے کی ٹھیکیدار ملک زین کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے باعث انہیں دو ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔ اپنی مشکلات اور حکام کی بے حسی پر احتجاج کرتے ہوئے ان کارکنوں نے نول پلاٹ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے بتایا کہ ان سے دن رات شہر کی صفائی کا کام لیا جاتا ہے، لیکن جب وہ اپنی جائز تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوکاڑہ شہر کو صاف رکھنے والے یہ محنت کش خود ظلم کا شکار ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

    مایوس اور دلبرداشتہ کارکنوں نے انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بھوک اور گھروں میں چولہے نہ جلنے کے باعث وہ خودسوزی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ساہیوال اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ سے فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینے اور ان کے مسائل حل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

  • بہاولپور: سابق شوہر کی سفاکیت، فائرنگ کر کے خاتون کو شدید زخمی کر دیا گیا

    بہاولپور: سابق شوہر کی سفاکیت، فائرنگ کر کے خاتون کو شدید زخمی کر دیا گیا

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) بہاولپور کے علاقے اختر کالونی، بغداد اسٹیشن کے قریب ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک بے رحم سابق شوہر نے اپنی 25 سالہ سابقہ اہلیہ پر فائرنگ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق رمضان کی دختر کرن کو اس کے سابق شوہر نے سینے پر گولی ماری اور موقع سے فرار ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے کے شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری کارروائی عمل میں لائی اور ون یونٹ چوک کے قریب لواحقین کی گاڑی سے زخمی خاتون کو ریسکیو کیا۔ ریسکیو عملہ نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے زخمی کرن کو بہاول وکٹوریہ ہسپتال (بی وی ایچ) منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز اسے زندگی بچانے کے لیے انتہائی نگہداشت فراہم کر رہے ہیں۔

    زخمی خاتون کی شناخت 25 سالہ کرن دختر رمضان کے نام سے ہوئی ہے جو اختر کالونی بہاولپور کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

  • گوجرانوالہ: 20 پولیس ملازمین کی ریٹائرمنٹ، سی پی او کی جانب سے الوداعی تقریب

    گوجرانوالہ: 20 پولیس ملازمین کی ریٹائرمنٹ، سی پی او کی جانب سے الوداعی تقریب

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی(نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) رواں سال گوجرانوالہ پولیس کے 20 افسران و ملازمین ریٹائر ہوئے۔ ان کے اعزاز میں سی پی او آفس میں ایک پروقار الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔

    سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائر ہونے والے افسران و ملازمین فرض شناس اور محنتی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال محکمے کے لیے وقف کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، اور میرے دروازے ان کے لیے دن رات کھلے ہیں۔ انہوں نے ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آنے والی زندگی میں کامیابی عطا فرمائے۔

    تقریب میں ایس ایس پی آپریشن رضوان طارق سمیت دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ ریٹائر ہونے والے ملازمین نے کہا کہ محکمے سے ملنے والی عزت و محبت ان کا قیمتی اثاثہ ہے، اور وہ اپنے افسران و ساتھیوں کے شکر گزار ہیں۔ تقریب کے آخر میں سی پی او محمد ایاز سلیم نے ریٹائرڈ ملازمین کو پھولوں کے گلدستے اور یادگاری شیلڈز پیش کیں۔

  • خیرپور ڈاہا میں فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے جمعیت علماء اسلام کی احتجاجی ریلی

    خیرپور ڈاہا میں فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے جمعیت علماء اسلام کی احتجاجی ریلی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان) خیرپور ڈاہا میں جمعیت علماء اسلام کے زیرِ اہتمام فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    ریلی کی قیادت مولانا نذیر احمد وارن اور مولانا حفیظ الرحمن ساقی نے کی۔ کاظمی چوک سے شروع ہونے والی ریلی خالد بن ولید چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ انہوں نے "فلسطین زندہ باد”، "اسرائیل مردہ باد”، اور "ہم سب فلسطینی ہیں” کے نعرے لگائے۔

    علما، تاجر، طلبہ، بزرگ، خواتین سمیت ہر طبقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا واضح پیغام تھا۔ اختتام پر قائدین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اسلامی ممالک، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لینے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ سے متحد ہو کر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔

    ریلی پرامن طور پر ختم ہوئی، اور شرکاء نے فلسطین کی آزادی تک حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا۔

  • سیالکوٹ: ریسکیو 1122 اور عمران ادریس ہسپتال کے مابین باہمی تعاون کی یادداشت پر دستخط

    سیالکوٹ: ریسکیو 1122 اور عمران ادریس ہسپتال کے مابین باہمی تعاون کی یادداشت پر دستخط

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( سٹی رپورٹر مدثر رتو) ریسکیو 1122 سیالکوٹ اور عمران ادریس ٹیچنگ ہسپتال کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر دستخط کی تقریب ڈسکہ روڈ پر واقع ہسپتال میں منعقد ہوئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن "سیفر کمیونٹی” کے تحت، ریجنل ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر فواد شہزاد مرزا کی نگرانی میں معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں عمران ادریس گروپ کے چئیرمین ڈاکٹر عمران ادریس، سی ای او ڈاکٹر جاوید، ایم ایس ڈاکٹر منیم، ڈائریکٹر لائف سیونگ ونگ ڈاکٹر محمد ادریس، ایمرجنسی آفیسر عرفان یعقوب، تحصیل انچارج سیالکوٹ محمد رضا، کمیونٹی ونگ انچارج محمد وسیم، ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل انجم، DDMC سیالکوٹ کیوان حسن، اور ریسکیو سکاؤٹس ہنزلہ شریک ہوئے۔

    انجینئر نوید اقبال نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ریسکیو 1122 اور عمران ادریس ہسپتال مل کر سکولز، کالجز کے طلبہ و طالبات اور کمیونٹی کو زندگی بچانے کی تربیت دیں گے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں قیمتی جانیں بچا سکیں۔ ہسپتال انتظامیہ ریسکیو 1122 کو AED پیڈ فراہم کرے گی اور ریسکیورز کو American Heart Association کے تحت CPR کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    ڈاکٹر عمران ادریس نے کہا کہ ریسکیو 1122 ایک قابلِ تحسین ادارہ ہے جو دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے اسے فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ادارے مل کر معاشرے میں جان بچانے کی تربیت کو فروغ دیں گے، جو ہر شہری کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • چولستان، نہری پانی بند، روہیلے دردناک زندگی گزارنے پر مجبور

    چولستان، نہری پانی بند، روہیلے دردناک زندگی گزارنے پر مجبور

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) چولستان میں زندگی ایک المناک رقص پیش کر رہی ہے جہاں گزشتہ چھ ماہ سے نہروں میں پانی بند ہونے کے باعث مقامی روہیلے باشندے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پیاس سے بلکتے چولستانی عوام کی آہ و بکا کسی ایوان اقتدار تک نہیں پہنچ رہی اور ان کی فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔

    چولستان کے مقامی باشندوں نے اپنی درد بھری کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے نہریں بند ہیں اور ان کی پینے کے پانی کی التجا کسی نے نہیں سنی۔ انہوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ ان کے بچے اور جانور پیاس سے مر رہے ہیں اور انہیں زندگی بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    اس سنگین صورتحال پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مقامی باشندوں نے کہا کہ سابق ریاست بہاولپور نے اسلام اور پاکستان کے نام پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی، اور وہ (چولستانی) بھی پاکستانی ہیں۔ لیکن انہیں اس ملک کا حصہ ہونے کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے کہ انہیں پیاسا مارا جا رہا ہے۔ ان کے پانی کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔

    مقامی باشندوں نے بتایا کہ چولستان کی اہم ترین نہریں جن میں کھٹڑی نہر، ڈراور نہر، سالاری نہر، سیون آر نہر، فرید ون ایل نہر اور ون آر نہر شامل ہیں، گزشتہ چھ ماہ سے جان بوجھ کر بند کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب عباسیہ لنک کینال میں پانی کی فراوانی ہے لیکن اس نہر سے نکلنے والی چولستانیوں کی زندگی کی رگوں کو تختے لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ ان کی صدیوں پرانی نہروں کو بند کر کے آباد کاری کے لیے چولستان کینال کے نام پر ایک نیا نہری منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

    مقامی افراد نے پرزور مطالبہ کیا کہ زندہ انسانوں اور بے زبان جانوروں کی پیاس بجھانے کے لیے فوری طور پر بند کی گئی نہروں کو کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چولستان میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے اور ان کے درد اور کرب کو محسوس کیا جائے۔

  • لنڈی کوتل: کمانڈنٹ خیبر رائفل کا شہید کے یتیم بچوں کے لیے مالی و تعلیمی امداد کا اعلان

    لنڈی کوتل: کمانڈنٹ خیبر رائفل کا شہید کے یتیم بچوں کے لیے مالی و تعلیمی امداد کا اعلان

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) پاک افغان سرحدی کشیدگی کے دوران 4 مارچ کو افغان فورسز کی فائرنگ سے باچا مینہ کے مقامی شہری حیات شیر شہید ہو گئے تھے۔ شہید کے پسماندگان میں بیوہ اور 4 بیٹیاں شامل ہیں جو پہلے سے غربت کا شکار تھے۔ کمانڈنٹ خیبر رائفل کرنل عاصم عزیز کیانی نے شہید کے خاندان کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے اہم اقدامات اٹھائے۔

    کمانڈنٹ نے یتیم بچوں کو خیبر رائفل مس میں ظہرانے پر مدعو کیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا، ایک گھنٹہ گپ شپ کی، اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے خاندان کو تسلی دیتے ہوئے ایک لاکھ روپے نقد مالی امداد دی۔ شہید کی دو بیٹیوں کو خیبر رائفل کے تعلیمی و تربیتی مرکز (KITE) میں ہنر سکھانے کے لیے داخل کیا گیا، جبکہ ایک بیٹی کو ایف سی پبلک سکول لنڈیکوتل میں مفت تعلیم کے لیے داخلہ دیا گیا۔ بچیوں کے لیے لنڈیکوتل سے باچا مینہ تک آمدورفت کے لیے گاڑی کا بندوبست بھی کیا گیا۔

    کمانڈنٹ نے شہید پیکج کے لیے سفارشات ڈی سی خیبر بلال شاہد راو کو ارسال کیں اور شہید کے ماسٹر ڈگری ہولڈر بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا عزم کیا۔ انہوں نے یتیم خاندان کو یقین دلایا کہ خیبر رائفل ان کی مکمل سرپرستی کرے گی اور انہیں محرومی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    شہید کے یتیم بچوں نے کمانڈنٹ خیبر رائفل کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ ان کی مشکلات کا ازالہ کیا گیا، جو وہ تاحیات یاد رکھیں گے۔