Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برصغیر کی تاریخ کبھی ایک متحدہ سیاسی اکائی کی نہیں رہی۔ مختلف سلطنتوں، ریاستوں اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل یہ خطہ ہمیشہ ثقافتی، لسانی، نسلی اور مذہبی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مرہٹہ کنفڈریسی، سکھ سلطنت، میسور، حیدرآباد اور دیگر چھوٹی بڑی طاقتیں وجود میں آئیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے طاقت کے زور پر برصغیر کو اپنے قبضے میں لے لیا تاہم 565 سے زائد پرنسلی اسٹیٹس کو نیم خودمختاری کے ساتھ باقی رکھا۔ "ہندوستان” محض جغرافیائی شناخت تھی، کبھی ایک حقیقی متحدہ قوم یا ملک نہیں تھا۔

    1947 میں برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی۔ محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے واضح کر دیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جن کی تہذیب، ثقافت، دین اور تاریخ جداگانہ ہے۔ انگریزوں نے تقسیم کے وقت اصول بنایا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو کہ جواہر لال نہرو کی قربت کا فائدہ اٹھا رہے تھے نے بدنیتی سے گورداسپور جیسے علاقے بھارت کے حوالے کر دیے تاکہ کشمیر پر قبضے کی راہ ہموار ہو۔ اس عمل کی نشاندہی برطانوی مؤرخ الیسٹر لیم نے اپنی کتاب "Kashmir: A Disputed Legacy (Alastair Lamb, 1991)” میں بھی کی ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
    "The transfer of Gurdaspur to India was a political decision to enable access to Kashmir, and not an objective boundary demarcation.”

    پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاستوں میں قلات، مکران، خاران، لسبیلہ، دیر، سوات، چترال، ہنزہ اور نگر جیسی اہم ریاستیں شامل تھیں، جو اپنی اسلامی شناخت اور جغرافیائی قربت کی بنیاد پر پاکستان کا حصہ بنیں۔اس کے برعکس بھارت نے جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ جوناگڑھ کے نواب مہابت خان جی نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تو بھارت نے فوجی کارروائی کر کے ریاست پر قبضہ کر لیا اور جعلی ریفرنڈم کرایا جس کی کوئی بین الاقوامی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 39 (1948) اور 47 (1948) کے تحت کشمیر اور دیگر متنازعہ علاقوں میں غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے بھارت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

    بھارت کی اس جارحانہ فطرت نے آج بھی اس کے اندر کئی علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دے رکھا ہے۔ پنجاب میں خالصتان تحریک، مشرقی ہندوستان میں ناگا لینڈ، منی پور، میزورم اور آسام کی تحریکیں، جنوبی ہندوستان میں تامل ناڈو کی علیحدگی کی خواہش اور چھتیس گڑھ و جھاڑکھنڈ میں ماو نواز بغاوتیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ بھارت محض فوجی طاقت سے اپنی مصنوعی وحدت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی رپورٹ "India: Human Rights Challenges” (2022) کے مطابق
    "India faces widespread allegations of human rights abuses in regions like Kashmir, Punjab, and the Northeast, where separatist movements are met with disproportionate force and suppression of dissent.”
    مودی سرکار جو کہ انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی فکری تربیت یافتہ ہے، نے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
    آر ایس ایس، جس کے بارے میں بی بی سی نے اپنی تحقیق ("The Men Who Killed Gandhi”, BBC Documentary, 2017) میں کہا
    "The ideology that led to Gandhi’s assassination continues to influence India’s political mainstream through organizations like the RSS and its political wing, BJP.”
    مودی کے ہاتھ پہلے بھی بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہیں۔ 2002 کے گجرات فسادات جن میں 2000 سے زائد مسلمانوں کا قتل عام ہوا، مودی کی وزارت اعلیٰ میں ہوئے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ "India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims” (Amnesty, 2012) میں لکھا
    "The Gujarat government, under Narendra Modi, failed to protect minority communities and later obstructed justice for victims of the 2002 pogrom.”

    اسی پس منظر میں امریکہ نے 2005 میں مودی کا ویزہ منسوخ کر دیا تھا، جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا
    "Modi was denied entry to the United States under a provision of the Immigration and Nationality Act which bars entry to foreign officials responsible for severe violations of religious freedom.”

    پلوامہ حملہ 2019 میں بھی مودی سرکار کی سازش کی ایک کڑی تھی۔ دی گارڈین (The Guardian, 2020) نے اپنی رپورٹ میں اشارہ دیا کہ
    "Pulwama attack was exploited by the ruling party to stir nationalist fervor and distract from domestic economic issues.”

    اب ایک بار پھر پہلگام میں فالس فلیگ حملہ کرایا گیا جس کا مقصد بہار سمیت دیگر ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینا ہے۔ اس حملے کے بعد مودی سرکار نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور ساتھ ہی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے،سندھ طاس معاہدہ جو 1960 میں صدر ایوب خان اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے درمیان ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حق دیتا ہے۔

    ورلڈ بینک کی رپورٹ "Indus Waters Treaty: A History” (2015) میں وضاحت کی گئی ہے کہ
    "The Indus Waters Treaty is regarded as one of the most successful water-sharing endeavors in the world, surviving wars and hostilities.”
    اگر بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی آبی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق”Weaponization of water resources during conflicts is considered a violation of international humanitarian law and may amount to a war crime.”

    پاکستان نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی بینک کو باضابطہ شکایات جمع کرائی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ پانی روکنے کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور پاکستان نے اپنی مسلح افواج کو الرٹ کردیا ہے ،محکمہ سول ڈیفنس کو بھی ایکٹیو کردیا گیا ہے ،پاکستانی عوام کی مثالی یکجہتی اور جذبہ جوان ہے اگربھارت نے پاکستان کاپانی بند کرنے یاحملہ کرنے کی حماقت تو اسے ایسا جواب دیاجائے گا جس کے بارے میں مودی سرکار نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا.

    بھارت کی تاریخ زبردستی، جارحیت اور بدنیتی پر مبنی پالیسیوں سے بھری پڑی ہے۔ تقسیم کے وقت جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور کشمیر پر قبضے سے لے کر پہلگام فالس فلیگ حملے اور سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی دھمکیوں تک، بھارت اپنے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان دشمنی کو ہتھیار بناتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکا یا جنگ مسلط کی تو جنوبی ایشیا ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ پاکستان ایک قدرتی، مستحکم ریاست ہے جو اپنے پانی، اپنے وقار اور اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ عالمی برادری کو بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

    حوالہ جات (References):
    Alastair Lamb, Kashmir: A Disputed Legacy (1991)
    United Nations Security Council Resolutions 39 and 47 (1948)
    Human Rights Watch, India: Human Rights Challenges (2022)
    BBC Documentary, The Men Who Killed Gandhi (2017)
    Amnesty International, India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims (2012)
    U.S. Department of State, Statement on Modi’s Visa Denial (2005)
    The Guardian, Pulwama Attack and BJP Strategy (2020)
    World Bank, Indus Waters Treaty: A History (2015)
    United Nations Environment Programme (UNEP), Water and Armed Conflicts Report (2017)

  • ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی خصوصی رپورٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں طبی سہولیات کی سنگین زبوں حالی نے پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ سخت نوٹس، سرکاری مراسلہ نمبر SO(AMI-I)5-785/2023 کے مطابق جہاں مریض بنیادی علاج کے لیے بھی ترس رہے ہیں، وہیں ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن کیک کاٹ کر منا رہے تھے۔ اس صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری ایکشن کا حکم دے دیا ہے لیکن کیا اب ان بے بس مریضوں کا حساب ہو پائے گا جنہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا؟

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے مریضوں سے کی گئی آؤٹ باؤنڈ کالز نے ہسپتال میں بدانتظامی کی خوفناک داستانیں کھول کر رکھ دیں۔ سرکاری مراسلے نمبر SO(AMI-I)5-785/2023 میں درج سنگین انکشافات کے مطابق مریض طبی ٹیسٹوں کے لیے نجی لیبارٹریوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہسپتال کا رابطہ نمبر غیر فعال ہے او پی ڈی اور فارمیسی پر ناقابل برداشت رش ہے اور مریضوں کو پوری دوائیں تک میسر نہیں۔


    تشخیصی مشینوں کی خرابی ایک معمول بن چکی ہے جبکہ سیکیورٹی گارڈز اور دیگرعملے کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور بدتمیزی پر مبنی ہے۔ نچلے درجے کے عملے میں رشوت ستانی عام ہے اور سینئر ڈاکٹرز کی غیر حاضری پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہسپتال کا احاطہ گندگی سے اٹا پڑا ہے، طبی فضلہ وارڈز کے قریب پھینکا جا رہا ہے اور ٹراما سینٹر کے داخلی راستے پر کھلے مین ہولز کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مفت علاج کی پالیسی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مریضوں کو اپنے نجی کلینکس پر ریفر کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرتے ہیں۔ یہ ان غریب مریضوں کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہے جن کیلئے یہ سرکاری ہسپتال واحد سہارا ہے۔

    ان ہوشربا انکشافات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف حرکت میں آئی ہیں اور پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج کو 24 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، جس میں سرکاری مراسلے کے مطابق ذمہ داران کے خلاف کیے گئے اقدامات کی وضاحت مانگی گئی ہے۔

    دوسری جانب 25 اپریل 2025 کو جب ہسپتال میں مریض سسک رہے تھے، ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں کیک کاٹا اور اپنی "کامیابیوں” کا ڈھنڈورا فیس بک پر پیٹا۔ ان کے دعوے مریضوں کی چیخوں اور حکومت پنجاب کے جاری کردہ سخت نوٹس (نمبر SO(AMI-I)5-785/2023) کی کھلی تضحیک ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ کا یہ ایکشن محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوگا یا واقعی ان سنگین جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جائے گا؟ کیا علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے تڑپتے مریضوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات ملے گی؟ کیا اس غفلت اور بے حسی کا حساب ہو پائے گا جس نے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں مریضوں کوموت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے؟ جواب کا انتظار ہے۔

  • اوچ شریف: فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑی احتجاجی ریلی

    اوچ شریف: فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑی احتجاجی ریلی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی بربریت کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت انجمن تاجران کے صدر عمر خورشید سہمن اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کی۔

    یہ ریلی گیلانی امام بارگاہ سے شروع ہو کر الشمس چوک تک پہنچی، جس میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے فلسطینی عوام کے حق میں نعرے لگائے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمر خورشید سہمن نے کہا کہ پاکستان ہر دور میں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اب بھی ہمارا فرض ہے کہ ان کی حمایت میں ہر ممکن طریقے سے آواز بلند کریں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں پر جاری مظالم بند کروانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

    مقررین مولانا محمد شاہ جرار اور مولانا عبدالرؤف نے اپنے خطابات میں کہا کہ فلسطین پر اسرائیلی ظلم ناقابلِ برداشت ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں عملی اقدامات کریں۔

    ریلی میں شہر کی نمایاں سماجی اور سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں حاجی غلام یٰسین سومرو، چوہدری طارق، حافظ جمیل احمد لنگاہ، میاں محمد عامر صدیقی، شفیق شہزاد، شفیق انجم، اظہر اقبال مغل، چوہدری محمد فیاض، چوہدری عمران طارق بھٹو، چوہدری عرفان اصغر، وسیم شہزاد مدنی اور اکرم شامل تھے۔

    ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر "فلسطین کا حقِ آزادی”، "اسرائیل کی جارحیت بند کرو” اور "فلسطینیوں کا ساتھ دو” جیسے نعرے درج تھے۔

    اختتامی تقریب میں عمر خورشید سہمن نے کہا کہ آج کی ریلی نے ثابت کر دیا کہ اوچ شریف کے عوام عالمی مظالم کے خلاف بیدار ہیں اور ظلم و جبر کے ہر مظہر کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ریلی کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ فلسطین کی آزادی تک اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔

  • اوچ شریف: فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ڈینگی لاروا کی افزائش، قانونی نوٹس جاری

    اوچ شریف: فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ڈینگی لاروا کی افزائش، قانونی نوٹس جاری

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگار حبیب خان)پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور فوکل پرسن ہیلتھ برائے ڈینگی سرویلنس، عمران حیدر سیال نے احمد پور شرقیہ میں غلام مرتضیٰ کے فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر اچانک دورہ کیا۔دورے کا مقصد ڈینگی وائرس کی روک تھام کے حوالے سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔

    معائنے کے دوران فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر تازہ پانی جمع پایا گیا، جو ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھروں کی افزائش کا باعث بن سکتا تھا۔ اس غفلت پر موقع پر ہی متعلقہ مالکان کو قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    اس موقع پر عمران حیدر سیال نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام تجارتی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ ڈینگی جیسے خطرناک مرض سے بچاؤ کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اقدامات جاری ہیں، لیکن عوام اور تاجر برادری کا مکمل تعاون بھی ضروری ہے تاکہ بیماری پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔

    عمران حیدر سیال نے مزید کہا کہ فاسٹ فوڈز سمیت دیگر عوامی مقامات پر ڈینگی سرویلنس کا عمل مسلسل جاری رہے گا اور آئندہ بھی کسی قسم کی غفلت پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • وفاقی محتسب اعجاز قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے

    وفاقی محتسب اعجاز قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)وفاقی محتسب پاکستان اعجاز احمد قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے۔ریجنل ہیڈ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ڈیرہ غازی خان ڈاکٹر محمد زاہد کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی اپنے دورے کے دوران کئی اہم سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔

    دورے کے دوران وہ ریجنل سیکرٹریٹ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ڈیرہ غازی خان کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر افتتاحی تقریب میں مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران، سول سوسائٹی کے نمائندے، وکلاء، میڈیا نمائندگان اور عوامی شخصیات شریک ہوں گی۔
    افتتاح کے بعد اعجاز احمد قریشی ای-خدمت مرکز کا بھی دورہ کریں گے جہاں انہیں شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، سروسز کی فراہمی کے معیار اور مختلف محکموں کے ساتھ عوام کی شکایات کے ازالے کے عمل کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

    وفاقی محتسب اپنے دورے کے دوران ڈیرہ غازی خان کے مختلف محکموں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ اجلاس میں وفاقی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی شکایات کے فوری ازالے، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    اس موقع پر وفاقی محتسب پاکستان اعجاز احمد قریشی میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی ملاقات اور گفتگو بھی کریں گے، جس میں وہ وفاقی محتسب کے ادارے کی کارکردگی، شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالیں گے۔

    ڈیرہ غازی خان میں وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے قیام اور اس کی توسیع سے شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے آسان رسائی حاصل ہو گی اور بغیر کسی قانونی پیچیدگی کے فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

    عوامی حلقوں نے وفاقی محتسب پاکستان کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ اس دورے سے شہریوں کے مسائل کے حل میں مزید تیزی آئے گی اور ادارہ جاتی بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

  • گوجرہ:فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی، مکمل شٹر ڈاؤن، احتجاج  اورریلیاں

    گوجرہ:فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی، مکمل شٹر ڈاؤن، احتجاج اورریلیاں

    گوجرہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ، عبد الرحمن جٹ)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر گوجرہ میں فلسطینی مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔مختلف تنظیموں کے قائدین ریلیوں کی صورت میں چوک ملکانوالہ پہنچے، جہاں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین میں ضلعی صدر ڈاکٹر عطا اللہ حمید، ضلعی نائب امیر مولانا رحمت اللہ ارشد، مرکزی جمعیت اہلحدیث تحصیل گوجرہ کے سرپرستِ اعلیٰ مولانا عبدالقادر عثمان، مفتی افتخار الحسن، مرکزی انجمن تاجران کے صدر چوہدری منصور احمد بھنگو، جنرل سیکریٹری ملک امجد ضیاء، ٹریڈرز یونین کے سرپرست ڈاکٹر محمد ناصر چوہدری، انجمن کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر میاں عثمان زاہد، صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد اشرف محسن، حیدر علی چوہدری، محمود عزمی، اور مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مولانا تاج محمد گجر اور ہمایوں منظور سمیت دیگر شامل تھے۔

    مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہود و نصاریٰ ہمیشہ سے مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور انبیاء کی سرزمین فلسطین، بالخصوص غزہ کے شہریوں پر اسرائیلی ریاست کے بدترین مظالم جاری ہیں، جس پر تمام مسلم حکمرانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے اور انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
    انہوں نے کہا کہ پوری امتِ مسلمہ کا دینی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ متحد ہو کر فلسطینی مسلمانوں کا ہر ممکن تعاون کرے۔

    مقررین نے مزید کہا کہ گوجرہ کے شہریوں نے مکمل ہڑتال کرکے یہ ثابت کر دیا کہ ہم سب متحد ہیں اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور پوری پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    آخر میں فلسطینی مسلمانوں، ملک کی سلامتی اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان
    تحریر: منصور بلوچ، پریس کلب تنگوانی
    ضلع کشمور میں اس وقت امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں عام زندگی مفلوج اور عذاب بن گئی ہے اور علاقے کا امن و امان تباہ ہو گیا ہے۔
    ضلع کشمور میں کئی طاقتور ڈاکو گینگز موجود ہیں لیکن یہاں ہم تحصیل تنگوانی کے ڈاکو گینگز کی بات کریں گے۔

    طاقتور ڈاکو گینگز کے ہاتھوں علاقے کی عوام یرغمال بنی ہوئی ہے، جن میں خاص طور پر بھلکانی گینگ، بھیہ گینگ، کوکاری گینگ، جعفری گینگ، بنگلانی گینگ اور بہت سارے چھوٹے بڑے گروہ شامل ہیں۔ ان گروہوں نے خاص طور پر تحصیل تنگوانی کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔
    یہ ڈاکو گینگز بغیر کسی خوف کے دن دہاڑے اور رات کو سڑکوں، دیہاتوں اور بستیوں پر چوری، رہزنی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں اور کئی وارداتوں میں مفرور ہیں۔

    یہ ڈاکو ہائی ویز اور لنک روڈز پر روزانہ سرعام پولیس کے سامنے ڈاکہ ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ان گینگز کی دہشت گردی اور ظلم کی وجہ سے مقامی لوگ مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں، اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کاروباری طبقہ کاروبار کرنے سے ڈر رہا ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ ان سب کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

    سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصاً پولیس اور رینجرز، کہیں نظر نہیں آتے۔پولیس کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس ان طاقتور گینگز کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے یا اس کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔نتیجتاً گینگز کے ملزم ڈاکو بہت خوفناک ہو چکے ہیں اور پولیس نے عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔

    کیا کشمور کے عوام پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان لوگوں کو پرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں ہے؟

    اس وقت تنگوانی کے کتنے ہی گھر اُجڑ چکے ہیں، کتنے ہی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ کتنے ہی افراد اغوا ہو چکے ہیں جن کی بازیابی کے لیے ریاست کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔

    ہم سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا کشمور ضلع کی عوام پر رحم کریں اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جائے۔ ڈاکو گینگز کا خاتمہ کیا جائے۔پولیس فورس کو مزید مضبوط اور بااختیار بنایا جائے، پولیس کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ پولیس اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کرے۔

    کشمور کی عوام اس عذاب سے نجات چاہتی ہے، امن و امان چاہتی ہے پر سکون زندگی گزارنا چاہتی ہے اور ڈاکو گینگز اور دہشت گردی کے عذاب سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے۔کوئی ہے جو عوام کو ڈاکوؤں سے آزادی اور تحفظ دلائے؟؟؟

  • اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میدان جنگ بن گیا، ڈنڈے، سوٹے اور فائرنگ، 5 زخمی، 2 کی حالت نازک

    اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میدان جنگ بن گیا، ڈنڈے، سوٹے اور فائرنگ، 5 زخمی، 2 کی حالت نازک

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل حاصل کرنے کے لیے آنے والے دو گروپوں کے درمیان دوبارہ تصادم ہو گیا، جس میں اینٹوں، ڈنڈوں، سوٹوں اور فائرنگ کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ جھگڑے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 39 تھری آر کے رہائشی دو گروپوں کے درمیان پہلے جھگڑا ہوا، جو میڈیکل رپورٹ کے حصول کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ پہنچے۔ وہاں ایک بار پھر تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال کا ماحول میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ فریقین نے ایک دوسرے پر اینٹوں، ڈنڈوں اور سوٹوں سے حملہ کر دیا، جبکہ فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے غلام دستگیر اور علی رضا کو ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں ساہیوال ریفر کر دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان اللہ دتہ، غلام حیدر اور حنیف کو گرفتار کر لیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • گوجرانوالہ: ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس، 2 ارب روپے سے زائد مالیت کی 8 سکیمیں منظور

    گوجرانوالہ: ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس، 2 ارب روپے سے زائد مالیت کی 8 سکیمیں منظور

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی( نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی کی زیر صدارت ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوجرانوالہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2 ارب ایک کروڑ 45 لاکھ 21 ہزار روپے کی لاگت سے 8 سکیموں کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے نئے تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 42 کروڑ روپے کی سکیم کی منظوری دی گئی جبکہ سیالکوٹ میں ہائی وے کی 2 سکیموں پر 58 کروڑ 8 لاکھ 18 ہزار روپے خرچ کیے جائیں گے۔ گورنمنٹ بوائز کالج ڈسکہ کی تعمیر کے لیے 23 کروڑ 53 لاکھ 28 ہزار روپے کی منظوری دی گئی۔

    اسی طرح ضلع منڈی بہاؤالدین میں ایک کالج کی تعمیر کے لیے 17 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار روپے جبکہ روڈز کی دو سکیموں کے لیے 46 کروڑ 43 لاکھ 2 ہزار روپے مختص کیے گئے۔ ضلع گجرات میں ایک روڈ سکیم کے لیے 14 کروڑ 20 لاکھ 34 ہزار روپے کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ محمد عبدالرؤف، ہائی ویز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، جبکہ ضلع نارووال، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور گجرات کے ڈپٹی کمشنرز حسن رضا، صفدر حسین ورک اور دیگر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

    کمشنر سید نوید حیدر شیرازی نے اجلاس کے دوران ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ترقیاتی محکموں کے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ عوامی فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کاموں میں معیاری میٹریل کا استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • ڈسکہ: آٹے کے کنستر میں دم گھٹنے سے دو معصوم بہن بھائی جاں بحق

    ڈسکہ: آٹے کے کنستر میں دم گھٹنے سے دو معصوم بہن بھائی جاں بحق

    ڈسکہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک عمران) ڈسکہ کے قصبہ منڈیکی گورائیہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں معمولی غفلت اور لاپرواہی کے باعث دو کمسن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پانچ سالہ عبیداللہ اور چھ سالہ ارحم گھر کی چھت پر رکھی ہوئی آٹے والی ایک ناکارہ پیٹی (کنستر) میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔ اس المناک خبر نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا اور گھر میں کہرام مچ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گھر والوں نے آٹے والی ایک خالی پیٹی کو ناکارہ سمجھ کر چھت پر رکھا ہوا تھا۔ کھیلتے ہوئے دونوں معصوم بھائی اس پیٹی میں داخل ہو گئے اور اتفاقاً پیٹی کا ڈھکن بند ہو گیا۔ اندر بند ہونے کے باعث دونوں کمسن بھائی دم گھٹنے کے سبب موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    بچوں کے لاپتہ ہونے پر گھر والے پریشان ہو گئے اور انہیں ہر جگہ تلاش کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مساجد میں بھی ان کی گمشدگی کے اعلانات کروائے گئے لیکن ان کی تلاش بے سود ثابت ہوئی۔ بالآخر جب بچوں کی نعشیں اس آٹے والی پیٹی سے ملیں تو گھر میں کہرام برپا ہو گیا۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ صدر ڈسکہ کی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور دونوں بچوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر سول ہسپتال ڈسکہ منتقل کیا۔ بعد ازاں غم و اندوہ کی فضا میں دونوں کمسن بھائیوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس دلخراش واقعہ نے پورے علاقے کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔