Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرانوالہ: قرآن پاک پڑھانے والے بہترین لوگ ہیں، مفتی ڈاکٹر محمد رمضان سیالوی

    گوجرانوالہ: قرآن پاک پڑھانے والے بہترین لوگ ہیں، مفتی ڈاکٹر محمد رمضان سیالوی

    گوجرانوالہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی): استاذ العلما مفتی ڈاکٹر علامہ محمد رمضان سیالوی نے کہا کہ کتاب کی اہمیت و فضیلت کے مطابق اسے پڑھانے والے کی بھی عزت ہوتی ہے۔ قرآن پاک، جو اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، تمام کتابوں سے افضل ہے، اس لیے اسے پڑھانے والے بھی بہترین ہیں۔

    یہ بات انہوں نے گزشتہ رات جامعہ انوار قمرہہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں علامہ منظور قادر سیالوی، حافظ علی رضا سیالوی، مفتی محمد اشفاق قمر سیالوی، علامہ عدنان سیالوی اور دیگر غلامانِ پیر سیال بھی شریک تھے۔

    مفتی محمد رمضان سیالوی نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا” (بخاری، حدیث 410/3)۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور حدیث کے مطابق "جو شخص اپنے بیٹے کو قرآن سکھائے، اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (مجمع الزوائد، حدیث 11471)۔

    انہوں نے زور دیا کہ قرآن پاک سیکھنے اور سکھانے کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس کا مکمل فائدہ عمل سے ہی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پر عمل کرنا ہی اسے سیکھنے کا اصل مقصد ہے، اور یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ تقریب سے علامہ منظور قادر سیالوی، حافظ علی رضا سیالوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • گوجرانوالہ: دی شائن ویلفیئر فاؤنڈیشن کا ووٹ کی اہمیت پر آگاہی پروگرام

    گوجرانوالہ: دی شائن ویلفیئر فاؤنڈیشن کا ووٹ کی اہمیت پر آگاہی پروگرام

    گوجرانوالہ باغی ٹی وی (نامہ نگار محمدرمضان نوشاہی) – دی شائن ویلفیئر فاؤنڈیشن برائے مخصوص افراد گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے ایک آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد خصوصی افراد کو ووٹ کے حق اور اس کی ذمہ داری سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔

    اس موقع پر دی شائن ویلفیئر فاؤنڈیشن گوجرانوالہ کی صدر مس ہما نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ صرف ایک حق ہی نہیں بلکہ ہر شہری کی اہم ذمہ داری ہے، جو بالواسطہ طور پر ملک و قوم کے روشن مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

    تقریب میں الیکشن کمیشن آفس گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سرفراز حبیب، وقار ادریس اور ارسلان رزاق نے خصوصی شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سرفراز حبیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور انہیں معاشرے کا ایک فعال اور اہم حصہ تصور کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن کمیشن خصوصی افراد کی انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کا ہر وہ شہری جو قومی شناختی کارڈ کا حامل ہے، اپنے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنا سکے۔

    سرفراز حبیب نے مزید کہا کہ ووٹ کا اندراج اور اس کی اہمیت سے متعلق آگاہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور ووٹ کا درست استعمال شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ملک بھر میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف آگاہی پروگرام منعقد کرواتا ہے۔ ضلع گوجرانوالہ میں بھی الیکشن کمیشن نے متعدد اقدامات کیے ہیں جس کے نتیجے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انہوں نے عوام کی سہولت کے پیش نظر متعارف کرائی گئی 8300 کی میسج سروس کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے شہری ایک پیغام بھیج کر اپنے ووٹ کی قومی شناختی کارڈ پر درج درست پتے کے مطابق تصدیق کر سکتے ہیں اور کسی بھی غلطی کی صورت میں فوری طور پر قریبی الیکشن کمیشن کے دفتر سے رجوع کر کے اسے درست کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹ کا درست استعمال کر کے ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

    اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایجوکیشن نجم علی، جوائنٹ سیکرٹری میمونہ بھٹی اور شائن ویلفیئر فاؤنڈیشن کی میمونہ سردار نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

  • اوکاڑہ: ‘دھی رانی’ پروگرام کا شاندار انعقاد، 50 بیٹیاں رشتہ ازدواج میں منسلک

    اوکاڑہ: ‘دھی رانی’ پروگرام کا شاندار انعقاد، 50 بیٹیاں رشتہ ازدواج میں منسلک

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے فلاحی وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ نے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا، جس میں ‘دھی رانی’ پروگرام کے تحت پچاس جوڑے ازدواجی بندھن میں بندھ گئے۔ یہ تقریب اوکاڑہ کے ایک نجی میرج ہال میں منعقد ہوئی، جہاں خوشیوں اور دعاؤں کی ایک دلفریب فضا قائم تھی۔

    اس پروقار تقریب کے مہمانانِ اعزاز میں کمشنر ساہیوال ریجن شعیب سید، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ رب نواز اور ممبر قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج شامل تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج فضاؤں میں ایک خاص قسم کی خوشبو رچی ہوئی ہے، جو خوشیوں، والدین کے سکون اور بیٹیوں کے خوابوں کی تعبیر کی علامت ہے۔ ‘دھی رانی’ پروگرام کا انعقاد درحقیقت ایک ایسا نیک عمل ہے جس کے ذریعے پچاس بیٹیوں کو ان کا حق، ان کا اپنا گھر اور ان کا جیون ساتھی میسر آیا ہے۔ اس موقع پر حکومت پنجاب کی جانب سے ہر بیٹی کو ایک لاکھ روپے کی نقدی بطور سلامی پیش کی گئی۔

    کمشنر ساہیوال ریجن شعیب سید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دھی رانی’ صرف ایک شادیوں کا پروگرام نہیں، بلکہ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ بیٹیاں کبھی بھی بوجھ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تو گھروں کی روشنی اور رحمت ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پچاس شادیاں ہو رہی ہیں، یہ دراصل پچاس نئی کہانیاں ہیں، پچاس ایسے خواب ہیں جو اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہے ہیں۔ ان بیٹیوں کے چہروں پر جو خوشی اور شکرگزاری نمایاں ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

    مقررین نے اس دن کو نہ صرف دلہنوں کے لیے یادگار قرار دیا بلکہ اسے تمام شرکاء کے لیے ایک سبق آموز لمحہ بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو اور جذبے سچے ہوں تو معاشرہ خود بخود مثبت تبدیلی کی طرف گامزن ہونے لگتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ان تمام نئی زندگی شروع کرنے والی بیٹیوں کے لیے لاکھوں دعائیں کی گئیں اور شریک والدین و دیگر مہمانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس قابل تحسین وژن کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

  • سیالکوٹ: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی چوہدری ارشد وڑائچ مرحوم کے گھر آمد، تعزیت و فاتحہ خوانی

    سیالکوٹ: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی چوہدری ارشد وڑائچ مرحوم کے گھر آمد، تعزیت و فاتحہ خوانی

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( سٹی رپورٹر مدثر رتو) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کینال سٹی سیالکوٹ میں حلقہ پی پی 52 سمبڑیال کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری ارشد جاوید وڑائچ مرحوم کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔

    مریم نواز شریف نے مرحوم کی بیٹیوں حنا ارشد وڑائچ اور زینا مصطفیٰ وڑائچ سے تعزیت کی اور چوہدری ارشد وڑائچ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ مریم نواز نے کہا کہ چوہدری ارشد وڑائچ شرافت کی سیاست کا پیکر تھے، اور ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

    اس موقع پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب، دیگر صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران، اور چیف سیکرٹری بھی موجود تھے۔ دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ننکانہ : گندم کے کھیتوں میں آگ کے واقعات، ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی میٹنگ

    ننکانہ : گندم کے کھیتوں میں آگ کے واقعات، ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی میٹنگ

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلعی ہیڈ کوارٹرز پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب نے گندم کے کھیتوں میں بڑھتے ہوئے آگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک ایمرجنسی میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ میں تمام ریسکیو افسران نے شرکت کی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں گندم کی فصل کو آگ لگنے کے 41 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آگ سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات یقینی بنائیں:

    کھیتوں سے گزرنے والی HT/LT الیکٹرک لائنوں کی کم اونچائی کی صورت میں ہارویسٹر نہ چلائیں۔
    ٹرانسفارمر کے قریب گندم اور جڑی بوٹیاں مکمل ہٹا کر جگہ صاف رکھیں۔
    گندم کی باقیات، ناڑ، یا بھوسہ جلانے سے گریز کریں، کیونکہ یہ جرم ہے۔
    فصلوں والے علاقوں میں سلگتی سگریٹ یا کھانا گرم کرنے کے لیے آگ نہ لگائیں۔
    بچوں کو پرالی کے قریب ماچس یا لائٹر نہ دیں۔

    ریسکیو 1122 نے کسانوں سے تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ ان واقعات کو کم کیا جا سکے۔

  • تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی ترک کرنے کا فیصلہ زندگی بدل دینے والا قدم ہے، جو آپ کو ایک صحت مند مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ بلاشبہ اس عادت سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے کے سفر میں نکوٹین کی طلب، اس کی کمی کی علامات اور رویے میں تبدیلی جیسے کئی چیلنجز حائل ہیں۔ اگرچہ یہ مشکلات ترکِ تمباکو کو کٹھن بناتی ہیں، لیکن صحیح حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے ان پر قابو پانا ممکن ہے۔ ایک پختہ ارادے والا شخص ان ابتدائی رکاوٹوں کو عبور کر کے تمباکو سے پاک زندگی گزار سکتا ہے۔

    سب سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صحت کی بہتری، مالی بچت یا اپنے عزیز و اقارب کو سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ اس وجہ کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جب ترکِ تمباکو کا عزم کمزور پڑنے لگے، تو یہ یاد دہانی ایک مضبوط سہارا ثابت ہو۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کو اپنی اولین ترجیح بنانے سے ایک سگریٹ نوش کا مقصد واضح رہتا ہے، ورنہ ایک معمولی سا کش بھی اسے دوبارہ اس عادت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

    جب ایک تمباکو نوش اس عادت کو چھوڑنے یا یوں کہیے کہ نکوٹین سے چھٹکارا پانے کا عزم کرتا ہے تو اس کے جسم پر تین طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جسمانی اثرات، رویے میں تبدیلیاں اور نکوٹین کی طلب۔ نکوٹین کی عدم موجودگی کے باعث سگریٹ نوش کو بنیادی طور پر سر درد، تھکاوٹ اور متلی جیسے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چڑچڑاپن اور اضطراب جیسے رویے میں بدلاؤ جذباتی اثرات ہیں۔ یہ عارضی ضرور ہیں لیکن ان پر مناسب طریقے سے قابو پانا ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ایک تمباکو نوش کے دوبارہ تمباکو نوشی شروع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    ان علامات کا سامنا کرنے پر روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی لیکن اہم تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے، زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں۔ زیادہ مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، صحت بخش غذا کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ پھلوں، سبزیوں اور پروٹین سے بھرپور متوازن غذا خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑاپن اور طلب میں بھی کمی لاتی ہے۔روزمرہ کے معمولات میں ایک اور مثبت تبدیلی باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ جسمانی سرگرمی اینڈورفنز (Endorphins) نامی کیمیکل خارج کرتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتی ہے اور بے چینی کو دور کرتی ہے۔

    کامیابی کے ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے محتاط، ہوشیار اور پرسکون رہنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گہری سانسیں لینا، توجہ مرکوز کرنا، یا یوگا کرنا تناؤ اور اضطراب سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ، دوستوں اور خاندان کی مدد بھی تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس طرح دوست تمباکو نوشی شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں، اسی طرح وہ اس عادت کو دوبارہ شروع کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ لہٰذا، دوست، خاندان اور معاون گروپس ترکِ تمباکو کی اس جدوجہد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ تمباکو کا استعمال نہ کریں۔

    ایک تمباکو نوش کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف رکھے۔ مطالعہ کرے، نئی چیزوں یا مشاغل میں دلچسپی لے اور خود کو ان میں مشغول رکھے۔ جب تمباکو کی طلب محسوس ہو گی، تو نئی دلچسپیوں کی تلاش اس کی توجہ کو تمباکو کے استعمال سے ہٹانے میں معاون ثابت ہو گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر گزارے گئے ہر دن یا ہفتے کو یاد رکھیں، کیونکہ یہ آپ کی کامیابی ہے۔ اپنی ان چھوٹی بڑی کامیابیوں کا جشن منائیں اور اپنے آپ کو کسی بامعنی چیز سے نوازیں۔

    اگر ان اقدامات کے باوجود بھی ترکِ تمباکو کے اثرات پر قابو پانا مشکل ہو جائے تو کسی ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ مشاورت، تھراپی اور ویرینکلن (Varenicline) جیسی ادویات اضافی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے حیران کن فوائد ہیں۔ تمباکو کا استعمال چھوڑنے کے بعد ہفتوں میں سانس لینے میں بہتری آتی ہے، مہینوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور سالوں میں زندگی کی متوقع مدت میں اضافہ ہوتا ہے۔بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کا مطلب صرف تمباکو کا استعمال ترک کرنا نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرنا بھی ہے۔

  • پنجاب میں کرائے کے لائسنس پر میڈکل سٹورزکا وسیع نیٹ ورک، اتائیوں کی موجیں، عوام پریشان

    پنجاب میں کرائے کے لائسنس پر میڈکل سٹورزکا وسیع نیٹ ورک، اتائیوں کی موجیں، عوام پریشان

    لاہور،باغی ٹی وی( خصوصی رپورٹ) صوبہ پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ڈرگ سیل لائسنس کے اجراء اور طبی کاروبار کے ضوابط واضح ہونے کے باوجود ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ یہاں وسیع پیمانے پر غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور ڈرگ سیلرز کا نیٹ ورک سرگرم ہے جو مبینہ طور پر کرائے کے ڈرگ سیل لائسنس کی آڑ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پنجاب ڈرگ رولز 2007 کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

    پنجاب ڈرگ رولز 2007 کے تحت کسی بھی میڈیکل سٹور یا فارمیسی کے قیام کے لیے باقاعدہ لائسنس کا حصول لازمی ہے۔ اس عمل میں ڈرگ انسپکٹر کی ابتدائی معائنہ رپورٹ اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر (ہیلتھ) یا سیکرٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ (DQCB) کی منظوری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ لائسنس کی مختلف اقسام ہیں، جن میں فارم-5 (صرف او ٹی سی ادویات کے لیے میڈیکل سٹور) اور فارم-6 (تمام ادویات بشمول کنٹرولڈ ڈرگز کے لیے فارمیسی) شامل ہیں۔ فارم-6 کے لیے ایک رجسٹرڈ فارماسسٹ کی موجودگی قانوناً لازمی ہے۔

    تاہم پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس واضح قانونی فریم ورک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک منظم طریقے سے غیر قانونی کاروبار پروان چڑھ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق "ففٹی ففٹی چیئرپرسن” کہلانے والے افراد مبینہ طور پر ڈرگ کنٹرولر اور سی ای او ہیلتھ پنجاب کے مختلف اضلاع کی جانب سے جاری کردہ لائسنس کی اسناد کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔ یہ کرائے کے لائسنس جن کی قانونی حیثیت مشکوک ہے شہروں اور گردونواح میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز کے کاروبار کی بنیاد بن رہے ہیں۔

    اس غیر قانونی صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان کرائے کے لائسنس والے میڈیکل سٹوروں کے مالکان جو درحقیقت اتائی ڈاکٹرز ہیں سرعام اپنی غیر قانونی پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ افراد ان پڑھ اور سادہ لوح دیہاتیوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ انہوں نے باقاعدہ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اپنے دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کے لیے یہ اتائی اپنے میڈیکل سٹوروں میں کرائے کے لائسنس کو فریم کر کے آویزاں کرتے ہیں اور سادہ شہریوں کو بتاتے ہیں کہ یہ لائسنس حکومت کی جانب سے جاری کردہ سند ہے۔

    ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ان لائسنسوں کے ساتھ ایک پارٹنرشپ معاہدہ بھی نمایاں طور پر لگایا جاتا ہے جس پر کرایہ دار (اتائی ڈاکٹر) اور ڈگری ہولڈر (جس کی ڈگری کرائے پر حاصل کی گئی ہے) کی تصاویر موجود ہوتی ہیں۔ اس جعلی شراکت داری کی آڑ میں یہ اتائی سرعام انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اور غیر قانونی طبی مشورے اور علاج فراہم کر رہے ہیں جس سے مریضوں کی صحت اور زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    تشویشناک امر یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں 70 فیصد سے زائد میڈیکل سٹورز اور فارمیسیاں نہ صرف بغیر کسی مستند لائسنس کے چلائی جا رہی ہیں بلکہ ان میں کوالیفائیڈ عملے کی بھی کمی ہے۔ پنجاب ڈرگ رولز 2007 کی اہم شرائط جن میں لائسنس یافتہ جگہ، مناسب اسٹوریج اور ایک رجسٹرڈ فارماسسٹ کی موجودگی شامل ہیں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    اس غیر قانونی دھندے میں مبینہ طور پر کمیشن ایجنٹوں کا ایک فعال کردار بھی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے ڈرگ انسپکٹر اور ڈرگ سیلز برانچ کا کلیریکل عملہ اس سنگین صورتحال سے مبینہ طور پر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

    قانون کے مطابق کسی بھی غیر مجاز شخص کو میڈیکل سٹور چلانے کی اجازت نہیں ہے اور جعلی، غیر رجسٹرڈ یا زائد المیعاد ادویات کی فروخت ایک قابل سزا جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس کی معطلی یا منسوخی، بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں بھی موجود ہیں۔ تاہم پنجاب کے مختلف شہروں میں ان قوانین کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے جس سے شہریوں کی صحت اور جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

    مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ میڈیکل سٹور یا فارمیسی کھولنے کے لیے فارمیسی کونسل سے رجسٹرڈ کیٹیگری بی یا سی فارماسسٹ کی سند لازمی ہے۔ اس سند کے حصول کے لیے فارغ التحصیل افراد اپنی ڈگریاں ملازمت تک سالانہ بنیادوں پر متعلقہ ادارے کو فراہم کرتے ہیں۔ لیکن پنجاب کے مختلف شہروں میں مبینہ طور پر یہ ڈگریاں بھی کرائے پر حاصل کی جا رہی ہیں جس سے غیر کوالیفائیڈ افراد طبی کاروبار چلا رہے ہیں۔

    شہریوں نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف غیر قانونی اور غیر معیاری ادویات کی فروخت کو روکنا اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے بلکہ ان اتائی ڈاکٹروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جو کرائے کے لائسنس کی آڑ میں عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں جو اس غیر قانونی دھندے کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہوگا کہ صوبائی انتظامیہ اس سنگین صورتحال کا کس طرح نوٹس لیتی ہے اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔ غیر قانونی طبی کاروبار کا یہ نیٹ ورک نہ صرف قانون کی حکمرانی کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حق یعنی صحت مند زندگی گزارنے کے حق کو بھی سلب کر رہا ہے۔

  • اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) موٹر وے ایم 5 پر تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں پل 82 ہزار کے قریب ڈاکوؤں نے دہشت پھیلا دی۔ موٹر وے پولیس نے ڈکیتی کی ایک گاڑی کو ٹریس کر کے روکا تو ملزمان نے بغیر کسی خوف کے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

    موٹر وے پولیس نے بہادری سے تعاقب جاری رکھا، جس پر ڈاکو گاڑی چھوڑ کر قریبی بستی میں بھاگ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقامی عوام نے بھی ڈاکوؤں کا پیچھا کیا لیکن ملزمان نے عوام پر بھی فائرنگ کر دی۔ تاہم بہادر شہریوں نے ایک ملزم کو دبوچ کر موٹر وے پولیس اور چنی گوٹھ پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام کاحکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موٹر وے جیسے حساس مقام پر اس قسم کی دہشت گردی ناقابلِ برداشت ہے۔عوامی وسماجی حلقوں نے سوال کیا ہے کہ کیا حکام اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے؟ عوام اپنی حفاظت کے لیے حکام کی طرف دیکھ رہے ہیں

  • ننکانہ:مرکزی مسلم لیگ کا بھارتی آبی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    ننکانہ:مرکزی مسلم لیگ کا بھارتی آبی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام بھارتی آبی جارحیت اور شرانگیزی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    مظاہرہ ننکانہ صاحب پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا، جس میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے عہدیداران، سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلاء، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتی آبی جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ غیر قانونی منسوخی، اور پاکستان پر جھوٹے الزامات کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے "بھارت مردہ باد”، "پاکستان زندہ باد”، اور "پاک فوج زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے۔

    اس موقع پر عطاء اللہ غلزئی (صدر مسلم ٹیچرز فورم پاکستان)، ثاقب مجید (جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ، ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب)، میاں عابد (ضلع صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ، ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب) سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی غیر قانونی ہے، اور اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ماضی میں بھی کئی بار جھوٹے الزامات لگا کر اس معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔

    مقررین نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ایک بار پھر ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بلوچستان سمیت پاکستان کے حالات خراب کرنے میں براہ راست ملوث ہے، اور اس کے ناقابلِ تردید ثبوت کئی بار سامنے آ چکے ہیں۔

    مظاہرین اور مقررین نے قومی سلامتی کونسل کی جانب سے بھارت کو بروقت اور بھرپور ردعمل دینے پر حکومت اور عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم آزمائش کی ہر گھڑی میں اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

  • اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں ریسٹ ہاؤس کے سامنے علی گیلانی والی گلی کے قریب ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل سوار مبینہ طور پر نشے کی حالت میں اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور سڑک پر بری طرح گر گیا۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کے چہرے پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کی شناخت حاجی مشتاق ولد محمد اقبال کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 38 سال ہے اور وہ محلہ گیلانی اوچ شریف کے رہائشی ہیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر موجود باشعور شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو طلب کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمی حاجی مشتاق کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر انہیں فوری طور پر آر ایچ سی اوچ شریف ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے سنگین نتائج کی ایک بار پھر نشاندہی کی ہے۔