Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: اتحاد پریس کلب کے  انتخابات، پاکستان گروپ آف جرنلسٹس کا پینل بھاری اکثریت سے کامیاب

    سیالکوٹ: اتحاد پریس کلب کے انتخابات، پاکستان گروپ آف جرنلسٹس کا پینل بھاری اکثریت سے کامیاب

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) اتحاد پریس کلب کے سالانہ انتخابات، پاکستان گروپ آف جرنلسٹس کا پینل بھاری اکثریت سے کامیاب

    سیالکوٹ میں اتحاد پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں پاکستان گروپ آف جرنلسٹس کے پینل نے بھاری اکثریت سے میدان مار لیا۔ صدر کے عہدے پر محمد شہباز باجوہ اور جنرل سیکرٹری کے طور پر شاہد خلیل گھمن کامیاب ہوئے۔ دیگر کامیاب ہونے والوں میں سینئر نائب صدر شیخ بابر قریشی، نائب صدر سمبڑیال رانا سلیم اختر، نائب صدر ڈسکہ رانا اشفاق راجپوت، نائب صدر پسرور میڈم نازیہ نواز، نائب صدر سیالکوٹ حافظ میاں عدنان، انفارمیشن سیکرٹری عمران قیصر، فنانس سیکرٹری فیصل کھوکھر اور جوائنٹ سیکرٹری عرفان شاہد شامل ہیں۔

    پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہی، جس دوران تمام ممبران نے آزادی سے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انتخابات کا عمل مرکزی و ضلعی الیکشن بورڈ کے تحت مکمل طور پر شفاف اور پُرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ ضلعی سرپرست اعلیٰ چوہدری طارق محمود گھمن نے کامیاب امیدواران کو مبارکباد دی۔

    الیکشن کے دوران کسی بھی قسم کی بدنظمی یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مرکزی چیئرمین مہر عبدالمتین اور ان کی ٹیم نے بھی انتخابی عمل کا جائزہ لیا اور منظم الیکشن کروانے پر الیکشن بورڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پینل کی کامیابی پر متوقع وائس چیئرمین عامر حفیظ بھٹی اور آفس سیکرٹری فیضان بھٹی نے کامیاب امیدواروں کا پرتپاک استقبال کیا، ہار پہنائے گئے، گل پاشی کی گئی اور ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

  • ڈیرہ غازی خان تا ملتان شٹل ٹرین ، سردار اویس لغاری اور حنیف عباسی  نے کیا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان تا ملتان شٹل ٹرین ، سردار اویس لغاری اور حنیف عباسی نے کیا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے درمیان چلنے والی شٹل ٹرین کا افتتاح کر دیا۔بدھ کے روز ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزرا نے کہا کہ شٹل ٹرین چلنے سے ملتان، ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں کے عوام کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔مسلم لیگ ن کی حکومت عوامی مسائل جنگی بنیادوں پر حل کررہی ہے،ملک کی 24 کروڑ پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے،دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے ہماری ترقی کا سفر نہیں روک سکتے۔

    وزیر اعظم نے 7 روپے 41 پیسہ فی یونٹ بجلی سستی کرکے عوام کو تحفہ دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرتوانائی سردار اویس لغاری نے کہاہے کہ آج ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لئے بڑی خوشی کادن ہے کیونکہ یہاں پر کئی برس سے بند ریلوے سٹیشن آج دوبارہ بحال کیاجارہاہے اورریلوے سٹیشن پر موجود عوام کی بڑی تعداد اس بات کی گواہ دے رہی ہے کہ مسلم لیگ ن جب بھی برسراقتدار آئی ہے انہوں نے عوامی فلاحی منصوبوں کو ترجیحی بنیاد پر کام کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک برس قبل جب ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو پاکستان کو بے شمار چیلنجز کا سامناتھا،ہرطرف پریشانی کاعالم تھا عوام مہنگائی بے روز گاری اوریقینی صورتحال سے پریشان تھی ۔

    انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی معاشی صورت حال غیر تسلی بخش تھی اور مہنگی بجلی کی وجہ سے عوام پریشان تھی مگر ایک سال کے اندر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت اورمحمد نواز شریف کی رہنمائی میں پاکستان اب ترقی کاسفر شروع کرچکاہے اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سب سے زیادہ توجہ مہنگائی پرقابو پاناہے ۔

    انہوں نے فیصلہ کیاہے کہ سب سے پہلے ملک کے بڑے سیٹھوں کی جیبوں پر ہاتھ ڈالا جائے اوران سے 3400ارب روپے کی وصولی کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز وزیراعظم نے 7روپے 41پیسے فی یونٹ کمی کااعلان کیاہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا، اس وقت 3کروڑ 30لاکھ بجلی کے صارفین ہیں جن میں سے ایک کروڑ 75لاکھ صارفین 200یونٹ سے کم یونٹ استعمال کرنے والے ہیں ان کوبھی بجلی 7روپے 41پیسے سستی ملے گی ۔

    سردار اویس لغاری نے کہاکہ جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار تھی تو ڈیرہ غازیخان کی عوامی کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اورنہ ہی یہاں پرکوئی عوامی فلاحی منصوبے شروع کئے گئے جبکہ موجودہ حکومت نے ڈیرہ غازیخان میں سردار فاروق لغاری انٹر نیشنل ایئرپورٹ کو بحال کیا،اس حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے انڈس ہائی وے کو دورویہ کرنے اورکینسر ہسپتال کے حوالے سے بھی کام کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ غازیخان کاریلوے اسٹیشن گزشتہ کئی برس سے بند پڑاتھاآج اس کو ڈیرہ غازیخان اورملتان کے درمیان شٹل ٹرین چلا کردوبارہ بحال کیاجارہاہے ۔

    اس حوالے سے میں وزیرریلوے حنیف عباسی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے شہر کے ریلوے سٹیشن کی رونقیں بحال کی ہیں ۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہاکہ میرے ڈیرہ غازیخان آنے کامقصد یہاں کے عوام میں خوشخبریاں بانٹناہے۔ آج یہاں سے شٹل ٹرین کاافتتاح کیاجارہاہے جو ڈیرہ غازی خان اورملتان کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر چلے گی اس کے علاوہ 24اپریل کو خوشحال حال خان خٹک ٹرین کو بھی بحال کیاجارہے جوکراچی سے براستہ ڈیرہ غازیخان پشاور تک جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے کی اس سروس کوکامیاب بنانے کے لئے میں جنوبی پنجاب کے عوام سے تعاون کی درخواست کروں گا تاکہ ہم جلد یہاں سے فریٹ ٹرین کابھی آغاز کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے کی ترقی کاپہیہ عوام کی دلچسپی سے جڑا ہے اور توقع رکھتا ہوں وہ اس شٹل ٹرین کامیاب بنائیں گے۔

    انہوں نے کہاکہ سردار اویس خان لغاری نے مجھے حکم دیاتھاکہ ڈیرہ غازیخان کے ریلوے اسٹیشن کی رونقیں دوبارہ بحال کی جائیں تومیں نے اس پر کام شروع کردیا۔انہوں نے کہاکہ ایک شخص نے گزشتہ دور حکومت میں ملک کی نوجوان نسل کوگمراہ کرنے کی پوری کوشش کی مگرآج کانوجوان سمجھ چکاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہی ملک کوبحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھرپورکوشش کرکے ناراض دوست ممالک سعودی عرب ،چین ،متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت دیگر ممالک کو راضی کیا کیونکہ یہ دوست ممالک گزشتہ دور حکومت کے وزیراعظم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم سے ناراض ہوگئے تھے ۔

    حنیف عباسی نے مزیدکہاکہ ہم ریلوے ملازمین اوران کے اہلخانہ کی معیار زندگی کو بہترکرنے کے لئے بھی کام کررہے ہیں اوران ملازمین کے بچوں کو بہتر صحت اورتعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ۔اس شٹل ٹرین کے آغاز سے ڈیرہ غازیخان اورراجن پور کی عوام لاہور ،اسلام آباد اورکراچی کاسفر ملتان ریلوے سٹیشن سے بھی شروع کرسکیں گے ۔وزیرریلوے نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نواز اپنے صوبے کی عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جنگی بنیادوں پرکام کر رہی ہیں آج میں ڈیرہ غازیخان سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں میں جاکر دیکھتاہوں تو مجھے محسوس ہوتاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے صوبے میں صحت ،تعلیم ،شاہرائوں کی بہتری ،ٹرانسپورٹ کے موثر نظام سمیت دیگر منصوبوں پر بھرپورکام کررہی ہیں ۔

    حنیف عباسی نے کہاکہ میں دہشت گردوں کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ آپ کی بزدلانہ کارروائیوں سے جعفر ایکسپریس کاڈرائیور تک نہیں ڈرا تو پاک فوج کیسے آپ سے ڈر سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ دشمن کو پتہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اوروہ اپنی گھٹیا حرکتوں سے پاکستان کو کمزور کرناچاہتاہے مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام اس کے نظریہ کے محافظ ہیں اوردشمن کومنہ توڑ جواب دینے کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دشمن ہماری صفوں میں دراڑتیں پیدا نہیں کرسکتا۔

    سرائیکی ،بلوچ ،سندھی پختون ،پنجابی اوراقلیتں مل کر ملک کی بہتری کے لئے کام کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کررہی ہے اورہم سب نے مل کر دشمن کے عزائم کوناکام بناناہے ۔قبل ازیں وفاقی وزیر سردار اویس احمد خاں لغاری اوروفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی ڈیرہ غازیخان ریلوے اسٹیشن پہنچے تو عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی اورپاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔

  • جامپور:بااثر زمیندار نے کسان کی فصل لوٹ لی، پولیس پر ملی بھگت کا الزام

    جامپور:بااثر زمیندار نے کسان کی فصل لوٹ لی، پولیس پر ملی بھگت کا الزام

    کوٹ چھٹہ،باغی ٹی وی(تحصیل رپورٹرمریدٹالپور)راجن پور کی تحصیل جامپور میں بااثر زمیندار کی غریب کسان پر زمین تنگ، فصل لوٹ لی، پولیس پر ملی بھگت کا الزام

    تفصیلات کے مطابق راجن پور کی تحصیل جام پور کے نواحی علاقے موضع کوٹ جانو بستی قریشی میں بااثر زمیندار علی ظفر وٹو نے مبینہ طور پر غریب کسان جاوید احمد قریشی کی گندم کی تیار فصل زبردستی کمبائن مشین سے کاٹ کر اٹھا لی۔ متاثرہ کسان کا الزام ہے کہ زمیندار نے سیاسی پشت پناہی اور پولیس کو بھاری رشوت دے کر اشتہاری افراد کے ہمراہ مسلح ہو کر گزشتہ رات اس کے دو قلے رقبے پر قبضہ کیا اور فصل لوٹ لی۔

    جاوید قریشی کا کہنا ہے کہ اس نے علی ظفر وٹو کے رشتہ دار سے قانونی طریقے سے زمین خریدی، جس پر زمیندار رنجش رکھتا ہے۔ 15 پر متعدد کالز کے باوجود پولیس حرکت میں نہ آئی بلکہ الٹا اس کے کزن کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا گیا اور دونوں پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ زمین فروخت کرنے پر مجبور ہوں۔

    متاثرہ کسان نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر، آر پی او اور ڈی پی او راجن پور سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر شنوائی نہ ہوئی تو وہ اپنے اہل خانہ سمیت وزیر ہاؤس کے سامنے خودسوزی پر مجبور ہوگا۔

  • خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلہ گاڑیاں بہا لے گیا، ایف سی اہلکار جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلہ گاڑیاں بہا لے گیا، ایف سی اہلکار جاں بحق

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی )خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں سے تباہی، لنڈی کوتل میں سیلابی ریلہ گاڑیاں بہا لے گیا، ایف سی اہلکار جاں بحق، پنجاب میں دیواریں گرنے سے دو ہلاکتیں

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز طوفانی بارشوں، ژالہ باری اور آندھی نے تباہی مچا دی، کئی مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جبکہ معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو گئے۔ پاک افغان بارڈر پر واقع تحصیل لنڈی کوتل میں موسلا دھار بارش کے باعث افغانستان جانے والی مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں اور واپس جانے والے افغان مہاجرین بری طرح متاثر ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مین بازار لنڈی کوتل میں ایک ویٹز کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ضلع خیبر میں آسمانی بجلی گرنے سے فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا، جبکہ بٹ گرام میں پہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے نے کئی موٹرسائیکلوں کو بہا دیا۔ بارشوں سے باغات، کھڑی فصلیں اور بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ باجوڑ، مالاکنڈ، مردان، لوئر دیر، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں دن کے وقت اندھیرا چھا گیا۔

    جبکہ پنجاب کے اضلاع جہلم، حافظ آباد، گجرات اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش ہوئی، جہاں جہلم میں دیواریں گرنے کے باعث دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

    دوسری جانب سندھ اور بلوچستان کے کئی شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے وارننگ جاری کی ہے کہ آئندہ دنوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا جبکہ بارشیں معمول سے کم ہونے کا امکان ہے۔

  • منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ
    تحریر: محمد سعید گندی
    پاکستانی معاشرہ منشیات کے زہر کے ہاتھوں سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے۔ خاص طور پر دو نمبر سستی آئس غریب سے امیر تک بے دریغ استعمال کی جا رہی ہے۔ پنجاب، یعنی جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ڈیرہ غازی خان ہے، جس کے مغرب میں صوبہ بلوچستان شروع ہو جاتا ہے۔ شہر ڈیرہ غازی خان کے مغربی علاقے میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ ویسے تو صوبہ بلوچستان کے تمام علاقوں سے منشیات پنجاب بآسانی پہنچ جاتی ہے، جن میں گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین اور میختر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ملحقہ علاقوں سے بھی منشیات بلوچستان آرام سے پہنچ جاتی ہے، پھر بلوچستان کے علاقے رکنی سے بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج اور سخی سرور تک تو آرام سے پہنچ جاتی ہے، اور یہاں سے مختلف علاقوں سے منشیات ڈیرہ غازی خان شہر میں بآسانی پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو اور راستے بھی ہیں جہاں سے ان کو آسانی ہوتی ہے۔

    سیکورٹی فورسز امن بحال کرنے والے مختلف ادارے کارروائی کرتے ہیں، بڑی بڑی کھیپ پکڑی جاتی ہے، مگر پھر بھی شہر اور گرد و نواح میں منشیات بآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ گلیوں، محلوں، روڈ کنارے منشیات کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے، آخر ان کو نشہ پہنچ کیسے رہا ہے؟ اگر پہنچ رہا ہے تو کون مہیا کرتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ یہ منشیات اتنی وافر ملتی ہے جیسے کریانہ کی دکان پر چائے کی پتی اور چینی۔ ڈیرہ غازی خان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جن کی بڑی تعداد نوجوان نسل ہے۔

    آئس کا نشہ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو وہ موٹر سائیکل اور کاروں کے بلب نکال کر اس کو توڑ کر اس کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر آپ کے گرد و نواح میں کوئی ایسی واردات نظر آئے تو سمجھ لیں آپ کے قریب ہی کوئی آئس کا نشہ کرنے والا موجود ہے جو کہ آپ کے لیے اور آپ خاندان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    آئس نشہ کیا ہے؟ اس میں مبتلا افراد کیا محسوس کرتے ہیں؟ آئس نشہ کرتے کیوں ہیں؟ اس نشے پر بات کرنے سے پہلے آپ سب کو ایک پرانی کہاوت گوش گزار کرنا چاہتا ہوں گو کہ کہاوت کا اس تحریر سے کوئی ربط تو نہیں بنتا مگر بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہتے ہیں پرانے وقتوں کی بات ہے سچ اور جھوٹ اکٹھے بیٹھے تھے تو جھوٹ نے کہا یہ سامنے کنواں ہے اس کا پانی بھی صاف شفاف ہے ہم دونوں اس میں ننگا ہو کر نہاتے ہیں۔ سچ نے پہلے سوچا پھر کنویں کے پانی کو چیک کیا تو وہ واقعی صاف شفاف تھا۔ پھر دونوں سچ اور جھوٹ اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو کر کنویں میں نہانے لگے، جھوٹ نے موقع پاتے ہی کنویں سے باہر نکل کر سچ کے کپڑے پہن کر بھاگ گیا۔ سچ بے چارہ ننگا کنویں میں رہ گیا۔ اب سچ بے چارہ جہاں بھی جاتا ہے ننگا ہونے کی وجہ سے شرمسار ہوتا ہے، آخر وہ تنگ آ کر کنویں میں بے نامی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جھوٹ کیوں کہ سچ کے کپڑوں میں ملبوس ہے لہذا وہ اب بھی اپنی زندگی دیدہ دلیری سے گزار رہا ہے۔ دو نمبر لوگ اپنا دھندہ دھڑلے سے کر رہے ہیں، نشان دہی کرنے والوں کو اکثر پولیس اور مافیا کے ہاتھوں پریشانی میں مبتلاء ہونا پڑتا ہے ۔ بہرحال چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔۔۔

    ماہرین کے مطابق بعض اوقات ڈپریشن میں مبتلا لوگ نشے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ مزید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ آئس کا نشہ کرنے کے بعد بھوک و پیاس سے مبرا انسان 24 سے 48 گھنٹے بآسانی جاگ سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نسل بالخصوص لڑکیوں میں منشیات کا استعمال وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ منشیات فروشوں کی ہٹ لسٹ پر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ ہیں کیونکہ امیر اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں سے رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کو پہلی بار استعمال کرنے سے انسان کے اندر خوشی کے ہارمونز انتہائی ایکٹیو ہو جاتے ہیں، جاگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ آئس کا نشہ 36 سے 72 گھنٹے تک ہوتا ہے اور وہ انسان 72 گھنٹوں تک جاگتا رہتا ہے۔ پہلی دفعہ انسان کو آئس استعمال کرنے سے جو لذت اور خوشی ملتی ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ انسان آئس کی ڈوز بڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ پہلی والی خوشی محسوس کر سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آئس انسان کی ہڈیوں کو پکڑ لیتا ہے اور پھر وہ انسان اس قبیح عمل کا عادی بن جاتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان کے ہاتھوں سے کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے جب وہ نشے کی حالت میں ہو۔ آئس نشہ نہ استعمال کرنے کی علامت یہ ہے کہ بندہ 24 گھنٹے سویا رہتا ہے۔ اس میں کوکین، چرس، ہیروئن کی طرح بدبو بھی نہیں ہوتی، شفاف شکل اور بے بو خاصیت نے اس نشے کو دنیا بھر میں مقبولیت بخشی ہے۔

    جب اس نشے سے پیدا ہونے والے احساسات ختم ہوتے ہیں تو اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے نشے کا عادی شخص دماغی خلل، چڑچڑے پن، گھبراہٹ، تھکاوٹ، ڈپریشن اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ مایوس کن کیسز وہ ہیں جن میں کم عمر افراد سمجھتے ہیں کہ آئس سے ڈپریشن میں کمی لائی جا سکتی ہے اور امتحانات میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ آئس کے مسلسل استعمال سے گھبراہٹ، غصہ اور شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ طبیعت میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے اور فیصلے کی قوت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا شخص اپنی نظر میں انتہائی خود اعتماد بن جاتا ہے اور اسی لیے کچھ بھی کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ یہی نہیں یہ نشہ پرتشدد طبیعت کو جنم دیتا ہے۔ ویسے تو منشیات کی ساری اقسام ہی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرکے اس کو موت کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں لیکن ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق آئس نشہ دیگر تمام منشیات کی اقسام سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے۔

    حال ہی میں ایک نوجوان نے علی الصبح اپنے ہی گھر میں فائرنگ کر کے اپنے والد سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر ملزم کے بھائی کی مدعیت میں درج کروائی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملزم بھائی آئس کے نشے کا عادی تھا جس کے باعث اس کی ذہنی حالت ناکارہ ہو چکی تھی۔ نشے کا عادی ایک ایسا نوجوان بھی لایا گیا جس کی ذہنی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ اس پر جنوں کا سایہ ہے۔ آئس کے نشے سے انسان کئی گنا زیادہ متحرک اور چست ہو جاتا ہے اور اس کے حواس اتنے متحرک ہوتے ہیں کہ جو چیز اور بات وجود نہیں بھی رکھتی، وہ انھیں نظر آنے لگتی ہے اور وہ اس پر بضد ہوتے ہیں اور بعض اوقات قتل تک کرنے سے نہیں کتراتے۔ آئس کے نشے میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں اور بڑی عمر کے تمام لوگ شامل ہیں۔

    اگر آپ یہ نشہ شروع کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ کو اور کچھ نہیں چاہیے ہوتا۔ بس یہی آئس آپ کی ساتھی ہوتی ہے، محبت کو چھوڑیے باقی تمام تر احساسات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ نشہ چھٹنے کے بعد اس نشے کی طلب پھر بڑھ سکتی ہے کم نہیں۔ پنجاب میں سے خیبرپختونخوا میں نشے کی لت میں مبتلا افراد کی تعداد اس لیے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نشے کے عادی افراد بھی وہاں جاتے ہیں اور اس کی وجہ خیبرپختونخوا میں نشے کی آسانی اور سستے میں دستیابی ہے۔ خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے نشہ پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیروئن کا نشہ کرتے تھے جو اب بہت مہنگی ہو چکی ہے جبکہ ایک گرام تک آئس پشاور میں صرف 400 روپے میں مل جاتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کی 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت نشے کے شکار افراد کی مجموعی طور پر لگ بھگ 67 لاکھ کے قریب ہے جن میں 78 فیصد مرد جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔ بعض دیگر اداروں کی رپورٹس میں یہ تعداد 76 لاکھ تک بتائی گئی ہے۔ آئس نشے کا عادی ماں، بہن، بیٹی، بیوی، دوست میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر وہ جرم کی جانب مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کے اندر سماج کے خلاف نفرت بیدار ہوتی ہے جو اسے جرم کے دوران سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کئی سال تک آئس کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہر نشے کا انجام دردناک موت ہی ہوتا ہے لیکن آئس کے نشے کا عادی پاگل پن کا شکار ہو کر اپنے خاندان و معاشرے کے لیے کسی پاگل کتے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان جو جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ہے، منشیات کی ترسیل کے حوالے سے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔ اس کے مغرب میں بلوچستان شروع ہوتا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر کوہِ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں جیسے لورالائی ،موسی خیل ،گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین، اور میختر سے منشیات کی بڑی مقدار آسانی سے پنجاب پہنچتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے راستے منشیات کی ترسیل کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ رکنی، بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج، اور سخی سرور جیسے علاقے منشیات کی نقل و حمل کے لیے معروف گزرگاہیں ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ان راستوں پر چیکنگ اور کارروائیوں کے باعث اب منشیات کے سمگلروں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع موسی خیل سے تونسہ کے علاقے تک کئی متبادل خفیہ راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں بارتھی روڈ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مزید یہ کہ اطلاعات ہیں کہ بارتھی روڈ اور دیگر راستوں پر بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے بعض اہلکار منشیات فروشوں کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایم پی کے کچھ افسران، جو اہم چیک پوسٹوں کے انچارج ہیں، خود بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک واقعہ میں بی ایم پی کے ایک نائب دفعدار جو اب دفعدار ہے اور ایک اہم تھانہ کا ایس ایچ او بھی ہے ،کے بیٹے کو پنجاب پولیس نے منشیات سمیت گرفتار کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید منظرِ عام پر آیا۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے منشیات صرف ڈیرہ غازی خان شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں تک آسانی سے پہنچائی جا رہی ہے۔جوکہ ارباب اقتدار اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

  • پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات

    پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات

    پاکستان کی معاشی ترقی، امید، چیلنجز اور سوالات
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی معاشی حالت پر حالیہ دنوں میں جو خبریں سامنے آئی ہیں، وہ بظاہر حوصلہ افزا ہیں۔ عالمی ادارہ فچ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ’ٹرپل سی پلس‘ سے ’بی مائنس‘ تک بہتر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ فچ کی رپورٹ میں افراط زر میں کمی، مالیاتی پالیسیوں میں بہتری اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ فچ نے پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں تین فیصد تک کی شرح سے ترقی متوقع ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک بجٹ خسارہ 6فیصد کی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کی سخت اصلاحات و معاشی اقدامات اور آئی ایم ایف کے ساتھ مؤثر اشتراک کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بہتری زمینی حقائق کی بھی عکاسی کرتی ہے یا صرف اعداد و شمار کی جادوگری ہے؟

    وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ بلوچستان میں شاہراہوں اور کچھی کینال جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا، ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ فیصلہ ریاستی ترقی کی ترجیحات کا درست عکاس ہے یا پھر عوامی ریلیف کی قیمت پر سیاسی و علاقائی ترجیحات کو فوقیت دینا؟ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کو معاشی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا مگر جب ایندھن جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں ممکنہ کمی روک دی جائے تو عام شہری کے لیے یہ کامیابیاں کس قدر معنی خیز رہ جاتی ہیں؟ کیا پاکستان کا عام فرد واقعی ان پالیسیوں کا براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہے؟

    اسی دوران ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک چلے گئے جن میں اکثریت ہنر مند اور نیم ہنر مند مزدوروں کی تھی جب کہ ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز اور ٹیچرز بھی بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اگر ملک میں واقعی معاشی استحکام آرہا ہے تو یہ انسانی وسائل کی مسلسل ہجرت کیوں جاری ہے؟ کیا نوجوانوں کے لیے پاکستان اب بھی ایک امید بھرا مستقبل پیش کرنے میں ناکام ہے؟ کیا یہ رجحان ترقی ہے یا ہمارے معاشی نظام سے فرار کا راستہ؟

    ترسیلات زر یقیناً پاکستانی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر وطن بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای، برطانیہ اور امریکہ سے آنے والی ترسیلات نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ترسیلات زر کا یہ انحصار ایک پائیدار معاشی ماڈل فراہم کرتا ہے یا یہ صرف وقتی سہارا ہے؟ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس جیسے اقدامات ضرور قابل ستائش ہیں مگر کیا ریاست اس انسانی سرمایہ کو صرف زرِ مبادلہ تک محدود رکھنا چاہتی ہے یا ان کی صلاحیتوں سے داخلی معیشت میں بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کا کوئی منظم منصوبہ موجود ہے؟

    دوسری جانب بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹیز نہ صرف اقتصادی شعبے میں بلکہ سفارتی اور تعلیمی میدان میں بھی پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو رہی ہیں۔ ان کی میزبان ممالک میں سیاسی و سماجی سرگرمیاں، پاکستان کی عالمی شبیہ بہتر بنانے، تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ مگر کیا ریاست پاکستان اس ممکنہ طاقت کو قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر طور پر شامل کر رہی ہے؟ کیا بیرون ملک پاکستانیوں کو صرف سرمایہ کاری تک محدود رکھنا دانشمندی ہے یا ان کے تجربات، مہارتوں اور عالمی نیٹ ورکس کو بھی قومی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جانا چاہئے؟

    یہ تمام حقائق مل کر ایک پیچیدہ مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر عالمی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہ رہے ہیں اور قرض دہندگان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے تو یہ ضرور ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ مگر جب تک اس معاشی بہتری کے اثرات براہ راست عام شہری کی زندگی پر مرتب نہیں ہوتے ان کامیابیوں کو مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں کہا جا سکتا۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل گراوٹ جیسے بنیادی مسائل ابھی بھی موجود ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی معاشی پالیسیاں واقعی دیرپا تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں یا یہ سب محض وقتی ریلیف اور بیرونی دباؤ کے تحت لیے گئے اقدامات ہیں؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ معیشت کے اصل مرکز یعنی عوام کو براہِ راست ان پالیسیوں کے فوائد پہنچائے جائیں اور ترقی کا پیمانہ صرف رپورٹوں اور اشاریوں کے بجائے عام آدمی کی حالتِ زار کو بنایا جائے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے واضح اور دیانت دارانہ جوابات ہی پاکستان کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف کی ایک ہونہار اور باصلاحیت بیٹی، امِ ایمن بنت مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) ملتان کیمپس کے زیرِ اہتمام منعقدہ انٹر کالجز آرٹ کمپیٹیشن میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان اور آبائی شہر اوچ شریف بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے لیے باعث فخر لمحہ پیدا کر دیا ہے۔

    15 اپریل 2025 کو منعقد ہونے والے اس قومی سطح کے باوقار مقابلے میں ملک بھر کے نامور تعلیمی اداروں کے ذہین طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ سخت مقابلے اور ججز کے لیے مشکل ترین فیصلہ کن لمحات کے باوجود امِ ایمن کا تخلیقی فن پارہ، رنگوں کے ذریعے اپنی کہانی بیان کرنے کا بے مثال ہنر اور دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لینے والی فنکارانہ مہارت سب پر غالب آ گئی۔ ان کی اس شاندار اور منفرد کارکردگی پر NUML ملتان کیمپس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) اسد رضا نے انہیں خصوصی "سرٹیفیکیٹ آف اپریسی ایشن” پیش کیا اور ان کی بے پناہ قابلیت اور انتھک محنت کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    امِ ایمن جو اس وقت KIPS کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، بچپن ہی سے فنونِ لطیفہ میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کی یہ شاندار کامیابی نہ صرف تعلیمی میدان میں اوچ شریف کے ٹیلنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ شہر کے نوجوانوں اور بالخصوص طالبات کے لیے ایک روشن مثال اور فخرکا باعث بنی ہے۔

    اوچ شریف کے شہریوں، اساتذہ کرام اور مختلف سماجی حلقوں نے امِ ایمن کی اس غیر معمولی کامیابی پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستقبل کا ایک درخشاں ستارہ قرار دیا ہے۔ ان کے والد مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی پیاری بیٹی کی اس شاندار فتح کو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور اساتذہ کی دعاؤں کا ثمر قرار دیا۔

    یہ شاندار کامیابی اس پختہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر دل میں سچا جذبہ، انتھک محنت اور بلند حوصلہ ہو تو چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑے سے بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ امِ ایمن کی یہ کامیابی جنوبی پنجاب کے دیگر باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔

  • سیالکوٹ:جی سی ویمن یونیورسٹی  میں دو روزہ بک فئیر اور ادبی میلے کا شاندار آغاز

    سیالکوٹ:جی سی ویمن یونیورسٹی میں دو روزہ بک فئیر اور ادبی میلے کا شاندار آغاز

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں دو روزہ بک فئیر اینڈ لیٹریری فیسٹیول کا پروقار افتتاح ہوا۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ایم پی اے چوہدری فیصل اکرام، صدر چیمبر آف کامرس اکرام الحق، ایم پی اے و ممبر سینڈیکیٹ شکیلہ آرتھر اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر سمیت دیگر اہم شخصیات نے فیتہ کاٹ کر میلے کا باضابطہ آغاز کیا۔

    بک فئیر میں 20 سے زائد نامور پبلشرز نے اپنے اسٹالز لگائے ہیں، جہاں طالبات کو نصابی کتب پر 30 سے 60 فیصد تک خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ ادبی میلے کے دوران یونیورسٹی کے اساتذہ، سابقہ اور موجودہ طالبات کی تصانیف کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب کا آغاز طالبات کی جانب سے اسماء الحسنی کی تلاوت سے ہوا۔

    ادبی نشست میں معروف مصنفہ اور ادیبہ پروفیسر ڈاکٹر امبرین صلاح الدین نے "خواتین کی اردو شاعری اور ادب” کے موضوع پر ایک جامع گفتگو کی، جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔ اس موقع پر ایم پی اے چوہدری فیصل اکرام نے کتاب دوستی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیمک لکڑی کو کھاتی ہے، اسی طرح موبائل فون ہمارے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، جس سے بچنے کا واحد ذریعہ کتابوں سے لگاؤ ہے۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے فیسٹیول کے منتظم پروفیسر ڈاکٹر طارق، لائبریری انچارج نصرت علی اور تمام انتظامی کمیٹی کے ممبران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میلے کا بنیادی مقصد طالبات میں مطالعہ اور علم کی محبت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ کی خواتین اور خاندانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ بک فئیر کا ضرور دورہ کریں۔

    اس موقع پر طالبات نے مختلف ذائقہ دار فوڈ اسٹالز بھی لگائے تھے، جس سے تقریب کا ماحول مزید خوشگوار ہو گیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواز منج، ڈین فیکلٹی آف بزنس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز پروفیسر ڈاکٹر الیاس، رجسٹرار اعجاز احمد، کنٹرولر امتحانات ملک گلشان اسلم، ٹریژر پروفیسر ڈاکٹر عدنان عادل اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ، طالبات اور معزز مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

  • سیالکوٹ: ٹیکس بار ایسوسی ایشن ، انتخابات مکمل، نئے عہدیداران منتخب

    سیالکوٹ: ٹیکس بار ایسوسی ایشن ، انتخابات مکمل، نئے عہدیداران منتخب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سال 2025-26 کے انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ الیکشن بورڈ کے چیئرمین حاجی عبدالقیوم کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، درج ذیل عہدیداران کامیاب قرار پائے ہیں:

    * صدر: حامد حسن*سینئر نائب صدر: امجد علی*نائب صدر: علی سلیمان ارشد*جنرل سیکرٹری:شیراز اسلم چودھری*جوائنٹ سیکرٹری: محمد صغیر*سیکرٹری اطلاعات: چودھری محمد صبیح عباس سلہری*فنانس سیکرٹری:سیم یونس

    ٹیکس بار کے صدر محمد عاطف ملک اور جنرل سیکرٹری عثمان رضا نے ممبران کے ہمراہ ایک منعقدہ اجلاس میں نئے منتخب عہدیداران کا پرجوش استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔ اس موقع پر سابق عہدیداران نے نئے منتخب باڈی کو چارج بھی سونپ دیا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب ناگرہ، ارشد نواز مان، مسٹر انیس، فراز راجہ (ممبر)، محمد عاطف (ممبر)، رانا عمران علی، شکیل خان، ملک اسد رضا، اعجاز تفہیم خان، شاہد محمود، جواد بٹ اور دیگر سینئر ممبران نے سابق ٹیکس بار کے عہدیداران کی کامیابیوں کو سراہا اور نئے منتخب صدر حامد حسن، جنرل سیکرٹری شیراز اسلم چودھری، محمد وسیم، محمد ندیم اور دیگر کامیاب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔

  • ننکانہ:جنم خالصہ تقریبات، ریسکیو عملہ الرٹ، 75 یاتریوں کو طبی امداد دی گئی

    ننکانہ:جنم خالصہ تقریبات، ریسکیو عملہ الرٹ، 75 یاتریوں کو طبی امداد دی گئی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں 326 ویں بیساکھی میلے کی جنم خالصہ تقریبات کے دوران کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 250 ریسکیو افسران اور ریسکیورز مرکزی گردوارہ جنم استھان میں ہمہ وقت تیار تھے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ تین روزہ تقریبات کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کو ریسکیو کور فراہم کیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے عملے نے اس دوران 56 یاتریوں کو موقع پر ہی فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی جبکہ مزید 19 یاتریوں کو بہتر علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اہم مقامات پر ریسکیو موبائل ٹیمیں، میڈیکل ریسکیو پوسٹیں، فائر سیفٹی پوسٹیں، دریائے راوی پر واٹر ریسکیو پوسٹ اور ریپڈ ریسپانس ٹیمیں مکمل طور پر ہائی الرٹ رہیں اور انھوں نے مکمل ریسکیو کور فراہم کیا۔

    دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے ریسکیورز کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہمہ وقت اور بروقت بھرپور معاونت کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے اس بین الاقوامی میگا ایونٹ کے کامیاب اختتام پر ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں فرائض سرانجام دینے والے تمام ریسکیورز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں سنٹرل اسٹیشن پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں انھیں تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔