Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • حافظ آباد: زہریلی مٹھائی نے دو معصوم جانیں نگل لیں، متعدد کی حالت نازک

    حافظ آباد: زہریلی مٹھائی نے دو معصوم جانیں نگل لیں، متعدد کی حالت نازک

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی (خبر نگارشمائلہ) حافظ آباد کے علاقے محلہ قلعہ صاحب سنگھ میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے دی گئی مٹھائی کھانے کے بعد سات سے آٹھ بچے شدید بیمار ہو گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں سے دو بچے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ دیگر کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابقایک نامعلوم گاڑی سوار شخص نے محلہ قلعہ صاحب سنگھ میں بچوں کو مٹھائی تقسیم کی تھی۔ مٹھائی کھانے کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی حالت اچانک بگڑنا شروع ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے باوجود دو کمسن بچے دم توڑ گئے۔ باقی متاثرہ بچوں کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹرز ان کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    اس المناک واقعے کے بعد علاقے میں گہرے خوف و ہراس کی فضا طاری ہو گئی ہے۔ مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد غمزدہ ہو کر ہسپتال اور جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے فوری طور پر واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور مٹھائی دینے والے نامعلوم شخص کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کریں اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ اس واقعے نے علاقے میں ایک سوگ کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • ڈیرہ غازیخان: موت بانٹتی ماربل انڈسٹری، ای پی اے بے حس، کب ہو گا ماحولیاتی قتل عام کا نوٹس؟

    ڈیرہ غازیخان: موت بانٹتی ماربل انڈسٹری، ای پی اے بے حس، کب ہو گا ماحولیاتی قتل عام کا نوٹس؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان میں ماربل اور گرینائٹ کی فیکٹریاں ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) اس صورتحال پر مجرمانہ حد تک غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ای پی اے ایکٹ 1997 واضح طور پر ای پی اے کو تمام صنعتی یونٹس کی باقاعدہ جانچ پڑتال، انہیں لائسنس جاری کرنے اور ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اختیار دیتا ہے لیکن ڈیرہ غازی خان میں یہ قوانین محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں۔

    حیران کن طور پر ڈیرہ غازی خان میں درجنوں ماربل فیکٹریاں ای پی اے کے رجسٹر میں سرے سے درج ہی نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ان فیکٹریوں کی کوئی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور نہ ہی انہیں ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ یہ فیکٹریاں کھلے عام ماربل کاٹنے اور پالش کرنے کے بعد خارج ہونے والے زہریلے گدلے پانی (Slurry) کو سیوریج سسٹم میں ڈال کر زیر زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہی ہیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان فیکٹریوں سے خارج ہونے والی خطرناک دھول اور کیمیکلز علاقے کی فضا کو زہر آلود بنا رہے ہیں جس سے شہریوں کی صحت براہ راست خطرے میں ہے۔

    اس سنگین صورتحال پر مستزاد یہ کہ ای پی اے کی جانب سے علاقے میں انسپکشن کا مکمل فقدان پایا گیا ہے۔ ای پی اے کے فیلڈ آفس نے ان فیکٹریوں کی کوئی فہرست تک تیار نہیں کی، جس سے ان کی نگرانی اور قانون کے نفاذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ای پی اے کے فیلڈ آفس کے فیلڈ آفیسر اشفاق احمد کی موجودگی میں ماحولیاتی انسپکٹر عدنان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب محض یہ تھا کہ جب کوئی شہری شکایات درج کراتا ہے تو ان کی نشاندہی پر کارروائی کی جاتی ہے۔ کیا ای پی اے صرف شکایات کا انتظار کرے گی جب تک کہ ماحولیاتی نظام مکمل طور پر تباہ نہ ہو جائے اور شہریوں کی زندگیاں اجیرن نہ بن جائیں؟

    شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ای پی اے فوری طور پر ضلع بھر میں تمام ماربل یونٹس کا ایک جامع سروے کرے اور انہیں فوری طور پر آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے۔ ہر فیکٹری کی باقاعدگی سے انسپکشن کی جائے اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ماحول دوست قوانین کی پاسداری کا بھی پابند بنایا جائے۔

    شہری تنظیم کے کارکنان نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماربل انڈسٹری بلاشبہ مقامی معیشت کا ایک اہم ستون ہے لیکن اس کی ترقی کسی بھی صورت میں ماحول اور عوامی صحت کی قربانی پر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پنجاب ای پی اے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھاتے ہوئے صنعتکاروں اور ماحول کے درمیان ایک پائیدار توازن قائم کرے ورنہ ڈیرہ غازی خان میں آلودگی کی صورتحال ناقابل تلافی حد تک خراب ہو سکتی ہے۔ کیا ای پی اے اس خاموش طوفان کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کرے گی یا یونہی خواب خرگوش کے مزے لیتی رہے گی؟ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اس غفلت کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

  • پشاور: کسٹمز  سپرنٹنڈنٹ اجمل خان شیر پاؤ ریٹائر، 30 سالہ خدمات پر خراج تحسین

    پشاور: کسٹمز سپرنٹنڈنٹ اجمل خان شیر پاؤ ریٹائر، 30 سالہ خدمات پر خراج تحسین

    پشاور(باغی ٹی وی) پاکستان کسٹمز پشاور ماڈل کسٹم کلکٹریٹ (MCC) کے سپرنٹنڈنٹ کسٹم ڈرائی پورٹ اجمل خان شیر پاؤ نے گزشتہ روز کسٹمز میں 30 سالہ شاندار ملازمت مکمل کرنے کے بعد باوقار انداز میں سبکدوشی اختیار کر لی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں فرنٹیئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) خیبر پختونخوا کے صدر اور پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی سمیت کسٹم عملے اور تاجر برادری نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

    یہ اظہار خیال گزشتہ روز ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب کے دوران کیا گیا، جس کا اہتمام محکمہ کسٹمز کے اسٹاف نے اجمل خان شیر پاؤ کے اعزاز میں کیا تھا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی سابق کسٹم کلکٹر پشاور و ممبر ایف بی آر قربان علی خان، سابق کسٹم کلکٹر پشاور و ممبر ایف بی آر ڈاکٹر محمد سعید خان جدون، سابق کسٹم کلکٹر حافظ مطیع اللہ، ایڈیشنل کلکٹرز کسٹمز محمد شاکر اور طاہر اقبال خٹک، اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز مجاہد خان، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ فیاض خان، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کے صدر ضیاء الحق سرحدی، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، امپورٹرز، ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری شخصیات کے علاوہ کسٹم کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب میں سابق کسٹم کلکٹرز قربان علی خان، ڈاکٹر محمد سعید خان جدون اور حافظ مطیع اللہ کی شرکت نے محفل کو مزید رونق بخشی۔ سبکدوش ہونے والے سپریٹنڈنٹ کسٹم اجمل خان شیر پاؤ کو ان کے ساتھیوں کی جانب سے عقیدت و محبت کے اظہار کے طور پر بیش بہا گلدستے اور تحائف پیش کیے گئے جبکہ انہیں روایتی پگڑی پہنا کر ان کی خدمات کو سراہا گیا۔

    مہمان خصوصی قربان علی خان نے اجمل خان شیر پاؤ کے 30 سالہ شاندار کیریئر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک افسر تھے، جن کی مدد سے افسران کو مشکل کاموں میں بھی آسانی ہوتی تھی۔ انہوں نے ڈرائی پورٹ کے ریونیو میں اضافے میں بھی ان کے اہم کردار کو سراہا۔

    سابق کسٹم کلکٹر ڈاکٹر محمد سعید خان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقریب میں مہمانوں کی اتنی بڑی تعداد اجمل خان کے لیے لوگوں کی بے پناہ محبت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خان نہ صرف بے پناہ صلاحیتوں کے حامل تھے بلکہ ایک ماہر افسر بھی سمجھے جاتے تھے اور ان کی ریٹائرمنٹ سے پیدا ہونے والا خلا پر کرنا مشکل ہوگا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کلکٹر مجاہد خان نے بھی اجمل خان کو اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

    فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ضیاء الحق سرحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ ایک طویل رفاقت کے بعد اجمل خان کی جدائی کا دکھ محسوس ہو رہا ہے، لیکن یہ اطمینان بخش ہے کہ ایک محنتی اور ایماندار سرکاری ملازم نے اپنی ذمہ داریاں عزت کے ساتھ مکمل کی ہیں۔ انہوں نے اجمل خان کے ساتھ اپنے طویل اور قریبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ لگن اور ایمانداری کو سراہا۔

    آخر میں سبکدوش ہونے والے کسٹم سپرنٹنڈنٹ اجمل خان نے اس الوداعی محفل کے انعقاد پر اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنے سینئر افسران کی رہنمائی اور ساتھیوں کی بے لوث خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کسٹمز کے تمام افسران اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس برادری کا بھی شکریہ ادا کیا اور اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

  • سیالکوٹ: پسرور میں انتظامیہ کا بڑا آپریشن، ناجائز تجاوزات کا صفایا

    سیالکوٹ: پسرور میں انتظامیہ کا بڑا آپریشن، ناجائز تجاوزات کا صفایا

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض): اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار کی قیادت میں کوٹلی باوا فقیر چند کے علاقے میں ناجائز تجاوزات کے خلاف ایک وسیع اور فیصلہ کن گرینڈ آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی میں ایڈمن آفیسر شاہد محمود، تحصیل منیجر شہزیب ملک، انضمام اور ایف ایم او حافظ نوید سمیت دیگر اہم افسران نے حصہ لیا۔

    آپریشن کے دوران، متعدد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں اور دیگر تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری زمین کا ایک بڑا حصہ واگزار کروا لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سدرہ ستار نے واضح پیغام دیا کہ ناجائز قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا، اور کسی بھی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ کی اس جرات مندانہ کارروائی کو عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور سرکاری املاک کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

  • سرگودھا: پنجاب ثقافت دیہاڑ کا رنگا رنگ میلہ، کمشنر اور ڈی سی سمیت شہریوں کی بھرپور شرکت

    سرگودھا: پنجاب ثقافت دیہاڑ کا رنگا رنگ میلہ، کمشنر اور ڈی سی سمیت شہریوں کی بھرپور شرکت

    سرگودھا (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک شاہنواز جالپ) سرگودھا ڈویژن میں بھی صوبے کے دیگر حصوں کی طرح "پنجاب ثقافت دیہاڑ” روایتی جوش و خروش اور بھرپور انداز میں منایا گیا۔ اس سلسلے میں آرٹس کونسل کمپلیکس میں ایک شاندار اور رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کمشنر سرگودھا ڈویژن جہانزیب اعوان اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد وسیم کے علاوہ دیگر اعلیٰ انتظامی افسران، طلباء و طالبات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب میں شریک تمام افسران نے پنجابی ثقافتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور سروں پر روایتی پگڑیاں سجائے ہوئے تھے، جو پنجاب سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان پنجاب کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے پینٹنگز کے دلچسپ مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ سکولوں کے ہونہار طلباء و طالبات نے دلکش ٹیبلوز پیش کیے، جن میں پنجاب کی بھرپور ثقافت، پنڈ کی پنچائت کا منظر، ہیر رانجھا کی لازوال داستان، پنجاب کے لوک گیت اور مختلف علاقائی رقص شامل تھے، جنہیں حاضرین نے دل کھول کر داد و تحسین سے نوازا۔

    تقریب کا ایک اہم حصہ پنجابی مشاعرے کا انعقاد بھی تھا، جس میں نامور شعراء کرام نے "پنجاب ثقافت دیہاڑ” کی مناسبت سے اپنے خوبصورت اور فکر انگیز کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

    کمشنر سرگودھا ڈویژن جہانزیب اعوان نے اپنے خطاب میں تمام اہل پنجاب کو یوم ثقافت کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ نوجوان نسل پنجاب کی انمول روایات کو فراموش کرتی جا رہی تھی، اور اس یوم ثقافت کو منانے کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو اپنی بھرپور ثقافت سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ثقافت ایک ارتقائی عمل ہے، اور ہمیں اپنی ثقافت کی خوبصورت اقدار کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ دوسری صوبائی اکائیوں کی ثقافت کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے یوم ثقافت کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی روایات اور اپنی باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور انہیں زندہ رکھیں۔

    ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد وسیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی شاندار ثقافت کو نئی نسل تک بہترین طریقے سے پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب جتنی خوبصورت دھرتی ہے، اتنی ہی خوبصورت اس کی ثقافت بھی ہے۔ آج کا دن پنجاب کی زرخیز ثقافت کا دن ہے، اور یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر ثقافت سلامت رہے تو قومیں مضبوط و مستحکم رہتی ہیں۔

    اس پروقار تقریب میں اے ڈی سی جی عمر فاروق، ڈائریکٹر آرٹس کونسل اسد ربانی اور پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی شریک تھے۔

    قبل ازیں، کمشنر جہانزیب اعوان اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد وسیم نے آرٹس کونسل گیلری میں پنجاب کی ثقافت کے حوالے سے منعقدہ پینٹنگ مقابلوں کا باضابطہ افتتاح کیا۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات کے پاس فرداً فرداً جا کر ان کے فن پاروں کے تھیم کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن رائے محمد یاسر بھٹی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

  • پیکا ایکٹ: آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں کیخلاف ناجائز استعمال بند کیا جائے، سمیع اللہ عثمانی

    پیکا ایکٹ: آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں کیخلاف ناجائز استعمال بند کیا جائے، سمیع اللہ عثمانی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) نے پاکستان میں پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف جاری مقدمات، گرفتاریوں اور اظہار رائے پر عائد پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے آزاد کشمیر میں روزنامہ جموں کشمیر پر مقدمہ درج کرنے کے عمل کو بھی آزادی صحافت پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔

    صدر جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے سمیع اللہ عثمانی نے اپنے ایک بیان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے شروع کی گئی تین روزہ "آزادی صحافت مہم” کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم 15 اپریل کو یوم سیاہ، 16 اپریل کو پریس فریڈم مارچ اور 17 اپریل کو ہونے والے احتجاجی جلسے میں بھرپور انداز میں اپنی یکجہتی کا اظہار کرے گی۔

    نائب صدر محمد سفیر، ڈپٹی ایڈیشنل سیکرٹری حنا محبوب اور ایگزیکٹو کونسل ممبر علیشاہ عندلیب نے مشترکہ طور پر اپنے بیان میں کہا کہ پیکا ایکٹ کو اظہار رائے کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف پاکستان کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان متنازعہ قوانین پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے اور میڈیا پر بے جا قدغنیں لگانے کی بجائے ایک مثبت اور تعمیری مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

    جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے نے دنیا بھر کی تمام صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کا فوری نوٹس لیں اور آزادی اظہار کے حق میں اپنی مضبوط آواز بلند کریں۔ تنظیم نے کہا کہ صحافیوں کو ان کے جائز پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

  • گھوٹکی: پنجاب سے شادی کا جھانسہ دے کر خواتین کو اغوا اور فروخت کرنے والا گرفتار، خاتون بازیاب

    گھوٹکی: پنجاب سے شادی کا جھانسہ دے کر خواتین کو اغوا اور فروخت کرنے والا گرفتار، خاتون بازیاب

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر گھوٹکی پولیس نے ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے سلسلے میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ اے سیکشن گھوٹکی پولیس نے بہترین اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسی عورت کو بازیاب کرایا جسے شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کیا گیا تھا اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث ایک ملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات فیصل آباد پنجاب کی رہائشی مسمات روبینہ بنت امیر احمد آرائیں نے تھانہ اے سیکشن گھوٹکی میں اطلاع درج کرائی کہ نور احمد ولد شیخ احمد حسین جو محلہ عثمان آباد فیصل آباد پنجاب کا ہی رہائشی ہے نے اسے شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کیا اور اسے کسی اور جگہ فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ خاتون نے اپنی جان بچا کر تھانے پہنچنے کے بعد بتایا کہ ملزم شیلٹن بائے پاس پر موجود ہے۔

    اس اطلاع پر فوری عمل کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن گھوٹکی رفیق احمد سیلرو بھاری نفری کے ہمراہ فوراً شیلٹن بائے پاس گھوٹکی پہنچے۔ خاتون کی نشاندہی پر ملزم نور احمد ولد شیخ احمد حسین کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس نے گرفتار ملزم کو تھانہ اے سیکشن منتقل کر دیا اور اس کے خلاف کرائم نمبر 109/2025 بجرم دفعہ 365B کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    دوران تفتیش ملزم نے پولیس کو انکشاف کیا کہ وہ روبینہ بنت امیر احمد آرائیں کو شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کر کے کسی اور جگہ فروخت کرنے جا رہا تھا۔ مزید تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گرفتار ملزم اس طرح خواتین کو شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کرتا اور انہیں مختلف شہروں میں فروخت کر دیتا تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف پنجاب میں بھی اغوا کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

    مسمات روبینہ آرائیں کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد عدالت کے حکم کے مطابق مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس کے دیگر جرائم اور ساتھیوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن اور ان کی پوری ٹیم کی اس بہترین اور بروقت کارروائی پر انہیں خصوصی شاباشی کا پیغام بھیجا ہے۔

  • ننکانہ :غفلت کی انتہا،ڈی ایچ کیو ہسپتال، ایکسرے فلم غائب،مریض خوار،کس کا ہوگااحتساب؟

    ننکانہ :غفلت کی انتہا،ڈی ایچ کیو ہسپتال، ایکسرے فلم غائب،مریض خوار،کس کا ہوگااحتساب؟

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ننکانہ صاحب میں طبی سہولیات کا سنگین بحران سامنے آیا ہے، جہاں دانتوں کے شعبے میں ایکسرے فلم کی مسلسل عدم دستیابی نے مریضوں کو شدید اذیت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔

    باوثوق ذرائع کے مطابق ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ میں کافی دنوں سے ایکسرے فلم موجود نہیں ہے، جس کے باعث دور دراز سے علاج کی غرض سے آنے والے سینکڑوں مریضوں کا نہ تو مکمل معائنہ ممکن ہو پا رہا ہے اور نہ ہی ان کا بروقت علاج شروع کیا جا سکا ہے۔ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی سنجیدہ اور فوری اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی بے حسی اور ہٹ دھرمی اب معمول کا حصہ بن چکی ہے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ میں بہترین اور قابل ڈاکٹرز کے ساتھ تربیت یافتہ عملہ بھی موجود ہے، جو مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ روزانہ تقریباً 100 کے قریب مریض دونوں شفٹوں میں اس شعبے سے امیدیں وابستہ کر کے رجوع کرتے ہیں لیکن بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں مایوس اور خوار ہو کر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ کیا یہ انسانیت سوز سلوک کسی بھی صورت میں قابل قبول ہے؟

    مجبور اور پریشان حال مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سنگین صورتحال کی فوری اصلاح کی جائے اور مریضوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

    عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اس بدترین صورتحال کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ ایم ایس کی نااہلی ہے یا پروکیورمنٹ آفیسر کی مجرمانہ غفلت؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس کا فوری تعین کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں صحت جیسے حساس شعبے میں ایسی سنگین غفلت کا اعادہ نہ ہو۔

    شہریوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صحت جیسا انتہائی اہم اور حساس شعبہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اعلیٰ ترین حکام کو اس معاملے پر فوری اور فیصلہ کن ایکشن لینا ہو گا اور ان بے بس مریضوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہو گا جو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو ان کی فریاد سنے اور اس نظام کی نااہلی کا محاسبہ کرے؟

  • سیالکوٹ: کرنٹ لگنے سے خاتون کی موت، پسرور روڈ پر حادثہ 4زخمی

    سیالکوٹ: کرنٹ لگنے سے خاتون کی موت، پسرور روڈ پر حادثہ 4زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ میں آج دو مختلف افسوسناک واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جبکہ ایک کار اور رکشہ کے تصادم میں چار افراد زخمی ہو گئے۔

    پہلا واقعہ تھانہ قلعہ کالروالہ کے علاقہ نور پور سائیفن کے قریب پیش آیا، جہاں 30 سالہ حنا اپنے گھر کے باہر گلی میں جھاڑو دے رہی تھیں۔ اس دوران گلی میں گری ہوئی بجلی کی ایک ننگی تار پر ان کا پاؤں آ گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے ضروری قانونی کارروائی کے بعد متوفیہ کی نعش ورثاء کے حوالے کر دی۔

    دوسرا حادثہ پسرور سے چونڈہ روڈ پر پنج پیر کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کار اور رکشہ آپس میں ٹکرا گئے۔ اطلاعات کے مطابق کار پسرور سے چونڈہ کی جانب جا رہی تھی جبکہ رکشہ مخالف سمت سے آ رہا تھا۔ تیز رفتاری کے باعث کار کا ڈرائیور نامعلوم گاڑی کو اوورٹیک کرتے ہوئے اپنے قابو سے باہر ہو گیا اور رکشہ سے جا ٹکرایا۔

    اس تصادم کے نتیجے میں رکشہ میں سوار 46 سالہ شبانہ اور 50 سالہ امتیاز شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں پسرور کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا۔ جبکہ کار میں سوار 30 سالہ یسین اور ایک 50 سالہ نامعلوم شخص بھی زخمی ہوئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر علاج کے لیے علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

  • سیالکوٹ: اغوا کار خاتون سمیت 2 اشتہاری کویت سے گرفتار، 4 سالہ بچی بازیاب

    سیالکوٹ: اغوا کار خاتون سمیت 2 اشتہاری کویت سے گرفتار، 4 سالہ بچی بازیاب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ پولیس نے انٹرپول کی مدد سے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کمسن بچی کے اغوا میں مطلوب خاتون سمیت دو اشتہاری ملزمان کو بیرون ملک کویت سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مغویہ 4 سالہ بچی کو بھی بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ کینٹ میں درج مقدمہ کے تحت 4 سالہ بچی زونیرہ فاطمہ کو سال 2023 میں سیالکوٹ سے اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کے بعد ملزمان بچی کو لے کر بیرون ملک کویت فرار ہو گئے تھے۔

    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اور انٹرپول سے رابطہ کر کے اغوا اور جعلسازی کے سنگین مقدمات میں مطلوب خاتون صدف انور سمیت دو ملزمان انوار اقبال کو کویت میں ٹریس کر کے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مغویہ کمسن بچی زونیرہ فاطمہ کو بھی ملزمان کے قبضے سے بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان کو اب پاکستان منتقل کرنے کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔ پولیس حکام نے اس اہم کامیابی پر اپنی ٹیم اور انٹرپول کے تعاون کو سراہا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بچی کی بازیابی پر اس کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے پولیس کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔