Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بیساکھی میلے کی خوشی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گوردوارہ جنم استھان میں شاندار آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے آسمان پر رنگ و نور کی دلکش چھاپ چھوڑ دی۔ یہ آتشبازی تقریباً 10 منٹ تک جاری رہی، جسے شہریوں اور سکھ یاتریوں نے خوب سراہا۔

    آتشبازی کی اس خوبصورت تقریب میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل، صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ، صوبائی سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ، ممبران اسمبلی اور دیگر ضلعی افسران سمیت سکھ برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    بیساکھی میلے کی مرکزی تقریب کا باقاعدہ آغاز 14 اپریل کی صبح 9 بجے گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں ہوگا، جس میں وفاقی اور صوبائی وزراء شرکت کریں گے۔ اس موقع پر آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، بھارت اور دیگر ممالک سے ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ چکے ہیں، جو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ رسومات ادا کر رہے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیساکھی میلے کے موقع پر صفائی ستھرائی، فول پروف سیکیورٹی، طبی سہولیات اور قیام و طعام کے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ یاتریوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو۔ مہمان نوازی کے ان انتظامات کو سکھ یاتریوں نے سراہا اور کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی زندگی بھر یاد رہے گی۔

    سکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور محبت کرنے والا ملک ہے، اور وہ یہاں سے امن، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام لے کر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلمان بھائیوں نے ہمیں جو عزت، محبت اور احترام دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ سکھ برادری نے بابا گورونانک کے امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    ضلعی انتظامیہ نے بیساکھی میلے کے تمام انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سکھ یاتریوں کو بھرپور تحفظ، سہولت اور احترام فراہم کیا، جس کے باعث سکھ یاتری پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ): پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی قبائلی علاقوں میں خوارجی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف مقامی قبائل نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ قبائلی عمائدین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

    اس عزم کا اظہار باجھہ کے قبائلی علاقے میں منعقدہ ایک بڑے جرگے کے دوران کیا گیا، جس میں علاقے کے درجنوں معتبر عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مقامی عوام اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کی حفاظت کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک منظم حکمت عملی کے تحت 50 افراد پر مشتمل ایک مقامی لشکر دن کے وقت گشت کرے گا جبکہ مزید 50 افراد رات کے اوقات میں پہرہ دیں گے تاکہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کو فوری طور پر روکا جا سکے۔

    جرگے کے شرکاء نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوارجی دہشت گرد گروہ علاقے میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہو چکے ہیں، جس سے عوام میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ عمائدین نے اعلان کیا کہ یہ لشکر نہ صرف دفاعی کردار ادا کرے گا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف منظم مزاحمت بھی کرے گا۔

    علاقہ باجھہ کو اس کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان ایک اہم سرحدی پٹی پر واقع ہے۔ یہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور سرگرمیاں پورے خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

    وہوا اور بستی باجھہ کے عوام نے ایک بڑے اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دشمنوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنی سرحدی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ عوام نے حلفاً اعلان کیا کہ وہ اپنے علاقے کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے اور کسی بھی دہشت گرد کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    یہ اتحاد اس وقت مزید مضبوط ہوا جب مٹھوان کے نوجوانوں کا ایک بڑا قافلہ اپنے بزرگوں کی قیادت میں مٹھوان سے باجھہ روانہ ہوا۔ اس قافلے نے باجھہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دعائیں کیں اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کچھ دہشت گرد مسلح ہو کر بستی باجھہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جن کا مقصد مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم بستی کے بہادر عوام نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ عوام کے حوصلوں کو مزید بلند کرنے کا باعث بنا ہے اور ان کے عزم کو نئی تقویت ملی ہے۔

    قبائلی عمائدین اور عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مقامی عوام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    یہ عوامی ردعمل اس بات کی واضح علامت ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے سرحدی قبائل دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد، پرعزم اور مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف مقامی امن کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس عوامی جذبے کو کس طرح جواب دیتی ہے اور آیا ریاستی ادارے قبائلی عوام کے اس بے مثال عزم کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔

  • اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں آج دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جس سے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی۔ ایک طرف تیز رفتار کاروں کی ریس نے ایک نوجوان کی قیمتی جان لے لی تو دوسری جانب غفلت کے باعث گندم کا ایک بڑا کھیت آتشزدگی کا شکار ہو گیا۔

    پہلا دلخراش واقعہ اوچ شریف میں پیش آیا جہاں ریش لگاتی دو تیز رفتار کاروں کی زد میں آ کر اوچ موغلہ کا رہائشی نوجوان محمد ذیشان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی جو مرکزی الشمس چوک میں واقع مغل موبائل شاپ پر ملازمت کرتا تھا، شام کے وقت ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پیدل اپنے گھر جا رہا تھا کہ اچانک دو بے قابو کاریں اس سے ٹکرا گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کاریں آپس میں ریس لگا رہی تھیں اور ان کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ محمد ذیشان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں لیکن تب تک محمد ذیشان کی زندگی کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔ موقع پر موجود ہر شخص غمزدہ تھا اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ اوچ موغلہ کے استانہ کافی والا گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، عزیز و اقارب اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہیں۔

    اسی دوران اوچ شریف کے نواحی علاقے اڈا سلطان واہ، اوچ شریف روڈ پر ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گندم کے کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری کھڑی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ایک فائر وہیکل اور ایمبولینس فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقامی افراد نے گندم کی کٹائی کے بعد کھیت میں بچ جانے والی فصل کی باقیات کو آگ لگا دی تھی۔ تیز ہوا کے باعث شعلے بے قابو ہو کر قریبی کھڑی فصل تک پہنچ گئے، جس سے صورتحال خطرناک ہو گئی۔ تاہم ریسکیو ٹیم نے بروقت پہنچ کر پیشہ ورانہ مہارت سے آگ پر قابو پا لیا اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا۔ ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فصل کی باقیات کو آگ لگانے جیسی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے پرہیز کریں، جو نہ صرف خطرناک بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ ان دو المناک واقعات نے اوچ شریف کے علاقے میں گہرے غم اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایک ہولناک واقعے نے انسانیت کو شرما سار کر دیا، جہاں ضلع بہاولپور اور احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے آٹھ غریب محنت کشوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ دلخراش سانحہ ایرانی شہر مہرستان کے نواحی گاؤں "ہیزآباد پایین” میں پیش آیا، جو پاک ایران سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام مزدور ایک چھوٹی سی آٹو ورکشاپ پر اپنی روزی روٹی کے لیے کام کر رہے تھے، جب سفاک حملہ آوروں نے ان پر اچانک دھاوا بول دیا۔ نہتے اور بے گناہ مزدوروں کو پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انتہائی قریب سے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

    اس سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والے بدقسمت افراد کی شناخت درج ذیل ہے:

    1. دلشاد ولد جندوڈا قوم سیال، گلی نمبر 8، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    2. دانش ولد دلشاد قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    3. جعفر ولد محمد رمضان قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    4. ناصر ولد محمد قوم کھیڑا، موضع رنگ پور
    5. نعیم ولد غلام فرید قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    6. عامر ولد محمد لیاقت قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    7. محمد خالد قوم بھٹی، سکنہ مہراب والا، احمد پور شرقیہ
    8. محمد جمشید ولد محمد صادق قوم آرائیں، چکی موڑ، احمد پور شرقیہ

    اس المناک خبر کے بہاولپور، سمہ سٹہ، خانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ پہنچتے ہی ہر طرف کہرام مچ گیا۔ شہداء کے گھروں میں قیامت کا منظر ہے، جہاں بوڑھے والدین، بے سہارا بیوائیں اور معصوم یتیم بچوں کی دلدوز سسکیاں فضا کو سوگوار بنا رہی ہیں۔ غم سے نڈھال رشتہ داروں نے اپنی فریاد میں کہا، "ہمارے جگر گوشے دو وقت کی روٹی کمانے پردیس گئے تھے، مگر اب ان کی بے جان لاشیں واپس آ رہی ہیں. آخر ان کا کیا قصور تھا؟”

    غم و اندوہ کی اس گھڑی میں مقامی تاجروں نے از خود اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں اور مساجد میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے اس وحشیانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایرانی حکام سے رابطہ کر کے ان سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    اہل علاقہ اور سوگوار خاندانوں نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہداء کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لائے جا سکیں اور انہیں انصاف مل سکے۔ اس المناک سانحے نے پورے علاقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کا دعویٰ ایک غیر معروف تنظیم کالعدم بی این اے یعنی بلوچ نیشنلسٹ آرمی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    سرکاری سطح پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ایران کے کسی علاقے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے اس تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔

    تاہم بلوچستان میں ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے بعض واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنظیم کے نام سے آخری مرتبہ تشدد کے کسی بڑے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کا جو دعویٰ سامنے آیا تھا وہ پاکستان کے شہر لاہور کے گنجان آباد اور مصروف انارکلی بازار میں جنوری 2022 میں دھماکے کا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے تھے۔

  • ڈیرہ غازی خان: رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹریاں، ماحولیاتی دہشت گردی،حکام کب جاگیں گے؟

    ڈیرہ غازی خان: رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹریاں، ماحولیاتی دہشت گردی،حکام کب جاگیں گے؟

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (خصوصی رپورٹ) کیا ماحولیاتی قوانین صرف کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں؟ ڈیرہ غازی خان میں جس بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ یہاں ماربل اور گرینائٹ کی فیکٹریاں، ماحولیاتی تحفظ کے تمام تر اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، دھڑلے سے رہائشی کالونیوں کے قلب میں قائم ہیں۔ یہ فیکٹریاں صرف غیر قانونی ہی نہیں بلکہ شہریوں کی صحت اور زندگیوں کے لیے ایک واضح اور سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    شہریوں کی چیخیں اب بلند ہو رہی ہیں! ان فیکٹریوں سے اٹھنے والی زہریلی دھول، جو ماربل اور گرینائٹ کی پروسیسنگ کا لازمی نتیجہ ہے، فضا میں گھل کر سانس کی بیماریوں، الرجی اور نہ جانے کتنے موذی امراض کو جنم دے رہی ہے۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب اس خاموش قاتل کی زد میں ہیں۔ کیا کسی کو ان معصوم زندگوں کی پرواہ ہے؟کیا یہ ان فیکٹریوں کی ماحولیاتی دہشت گردی نہیں ہے؟

    قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے! ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کہاں سو رہی ہے؟ کیا ان فیکٹریوں کی نگرانی اور ان پر ماحولیاتی قوانین کا نفاذ اس قدر ناممکن ہو چکا ہے؟ ماربل فیکٹریوں میں پانی کی ری سائیکلنگ اور کیچڑ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے فلٹر پریس ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی ہے، لیکن بیشتر فیکٹریاں ان بنیادی اصولوں کو بھی روند رہی ہیں۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا گدلا اور زہریلا پانی اور کیچڑ براہ راست سیوریج کے نظام میں ڈالا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سیوریج لائنیں بند ہو رہی ہیں بلکہ زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ یہ ماحولیاتی دہشت گردی کب تک جاری رہے گی؟

    محکمہ تحفظ ماحولیات کو اب اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی! شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تمام ماربل فیکٹریوں کا سروے کیا جائے اور جو فیکٹریاں غیر قانونی طور پر رہائشی علاقوں میں قائم ہیں، انہیں فی الفور سیل کیا جائے۔ قانونی فیکٹریوں کو بھی سخت ترین ماحولیاتی قوانین پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے، ورنہ ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں۔

    یہ محض ایک مطالبہ نہیں، ایک التجا ہے! ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ کیا کوئی صاحب اختیار اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے گا؟ کیا ان بے بس شہریوں کو اس زہریلے ماحول سے نجات دلائی جائے گی؟ اگر اب بھی کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا، تو اس غفلت کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بھگتے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کا خمیازہ اٹھائیں گی۔ حکام ہوش کے ناخن لیں اور اس ماحولیاتی اور انسانی المیے کو فوری طور پر روکیں۔

  • سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی

    سندھ میں نہروں کا تنازعہ،ذوالفقار بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی آواز اور سیاسی رسہ کشی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان کا زرعی مستقبل اور معاشی استحکام اس کے پانی کے وسائل سے جڑا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ وسائل نہ صرف تیزی سے کم ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی تنازعات کی نذر بھی ہو رہے ہیں۔ سندھ میں دریائے سندھ سے چھ نہروں کے مجوزہ منصوبے نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو پانی کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور سیاسی بیانیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اور پیپلز پارٹی کی متضاد پوزیشننگ نے اس بحران کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اس کالم میں موجودہ پیچیدہ صورتحال کو ایک نئے زاویے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں ماحولیاتی تحفظ، سیاسی حکمت عملی اور عوامی مفادات کا ٹکراؤ واضح ہوتا ہے۔

    سندھ کی زمینوں کی زرخیزی کا دارومدار دریائے سندھ کے پانی کی مرہون منت ہےجو آج پانی کی قلت اور تقسیم کے مسائل سے دوچار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اس صوبے کے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ نہ صرف آلودگی اور جنگلات کی کٹائی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں بلکہ اب پانی کی تقسیم اور نہروں کے منصوبے کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے جوڑ کر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چھ نہروں کا منصوبہ سندھ کے پانی کے حصے کو کم کر کے زرعی معیشت اور ماحولیاتی توازن کو خطرے میں ڈالے گا۔ ان کی سرگرمیوں نے کسانوں، ماہی گیروں اور دیہی کمیونٹیز کے مسائل کو قومی سطح پر پیش کیا ہے جس سے نہروں کے خلاف بننے والا بیانیہ مضبوط ہوا۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اس تنازع میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پارٹی نے ابتدا میں نہروں کے منصوبے کی موجودگی سے ہی انکار کیا لیکن جب عوامی دباؤ بڑھا تو اس نے موقف بدل کر نہروں کی مخالفت شروع کر دی۔ تاہم اس کوشش کو عوام نے شک کی نگاہ سے دیکھا کیونکہ پارٹی کی قیادت وفاقی اتحاد کا حصہ ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فوائد جیسا کہ بلاول بھٹو کی ممکنہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے سندھ کے پانی کے حقوق پر سمجھوتہ کیا۔ یہ الزامات پارٹی کی ساکھ کے لیے خطرناک ہیں خاص طور پر جب سندھ کے ووٹرز روایتی طور پر وڈیروں اور جاگیرداروں کی وفاداری پر ووٹ دیتے رہے ہیں نہ کہ پارٹی کے نظریے پر۔

    چھ نہروں کا تنازع محض پانی کی تقسیم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ صوبوں کے درمیان اعتماد کی کمی اور سیاسی عزائم کا کھیل بنتا جارہاہے۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نہریں پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی لائیں گی لیکن سندھ کے لوگ اسے اپنے حصے کے پانی پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس بیانیے کو وفاق اور پنجاب کے خلاف موڑنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ عوام یہ سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی وفاق میں سندھ کا کیس مؤثر طریقے سے پیش نہیں کر سکی۔ اس سے پارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے اور خاص طور پر جب تحریک انصاف جیسی جماعتیں اس تنازع کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں نہروں کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی نے اس کی کمزوری کو اجاگر کیا۔ اگر پارٹی تحریک انصاف کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت سے گریز کرتی ہے تو اسے سندھ میں سیاسی طور پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ پارٹی اب بلاول بھٹو تک پہنچتے پہنچتے اپنی تاریخی افادیت کھو چکی ہے۔ ماضی میں سندھ اور پنجاب میں اس کا بیانیہ یکساں تھا لیکن اب وہ اسے اپنے انداز میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

    پانی کا بحران پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے اور اس کا حل سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر تلاش کرنا ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی ماحولیاتی سرگرمیاں اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک نئی سمت دکھاتی ہیں، جہاں پانی کی تقسیم کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور سندھ کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے۔ وفاقی حکومت کو تمام صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے شفاف مذاکرات کرنے ہوں گے۔

    اس کے علاوہ پاکستان کو جدید آبپاشی نظام، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کو سیاسی تنازعات سے بچا کر مکمل کیا جائے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مضبوط نگرانی کا نظام بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر عوام کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کے تحفظ میں کردار ادا کر سکیں۔

    سندھ کا پانی صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہےبلکہ پاکستان کی زرعی اور معاشی بقا کا سوال ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی سرگرمیاں اس بحران کو ماحولیاتی تناظر میں پیش کر کے ایک نئی امید جگاتی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی ناکامیاں اسے پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اگر اس تنازع کو قومی اتفاقِ رائے سے حل نہ کیا گیا تو نہ صرف سندھ بلکہ پورا پاکستان پانی کی قلت کے سنگین نتائج بھگتے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی عزائم کو پس پشت ڈال کر پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ حکمت عملی بنائی جائے۔ پاکستان کا مستقبل اسی میں ہے کہ ہم اپنے وسائل کو سمجھداری سے استعمال کریں اور قومی مفاد کو سیاسی اختلافات پر مقدم رکھیں۔

  • پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

    پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

    پاک افغان مذاکرات میں مثبت پیش رفت
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور

    افغانستان چونکہ ایک لینڈ لاک ملک ہے اور بیرونی دنیا سے تجارت کے لیے وہ اپنے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران پر انحصار کرتا ہے اس لیے اسے اپنی تمام برآمدات اور خاص کر درآمدات کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان کو اپنی اسی مجبوری کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ پہلے 1965 اور بعد ازاں 2010 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا پڑا تھا جن کے تحت پاکستان افغانستان کو زمینی راستوں سے نہ صرف اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا پابند ہے بلکہ ان معاہدوں کی رو سے اسے بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت کئی مراعات بھی حاصل ہیں۔ یاد رہے کہ ان معاہدوں کے تحت افغانستان پاکستان کے ساتھ زیادہ تر تجارت تو طورخم اور چمن کے راستوں سے کرتا ہے لیکن کچھ عرصے سے پاک افغان باہمی تجارت میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں جس کی وجہ سے دونوں جانب کی تجارت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں مگر حالیہ برسوں میں سفارتی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم جو کبھی ڈھائی ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا تھا، اب گھٹ کر ڈیڑھ ارب ڈالرز تک آ چکا ہے۔ خاص طور پر طورخم سرحد کی بندش، جو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری رہی، نے تجارتی سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے اور تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سرحد کی بندش کے باعث پاک افغان شاہراہ پر مال سے لدے سینکڑوں ٹرک مختلف مقامات پر کھڑے رہے، جن میں پڑی اشیاء خراب ہو گئیں۔

    گزشتہ دنوں افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق کے دورہ کابل کے حوالے سے نتیجہ خیز ملاقاتوں اور اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام سے حالیہ ملاقاتوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ افغان حکام کے سامنے رکھا گیا ہے۔ جے سی سی اجلاس اپریل کے وسط میں کابل میں ہوگا۔ عید کے فوری بعد افغان وزیر تجارت اسلام آباد آئیں گے۔ مصدقہ ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اور کابل کے رابطوں کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے جس کی تفصیلات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے، پہلی بار افغان طالبان میں ٹی ٹی پی پر کچھ لچک نظر آئی، پاک افغان مشترکہ کو آرڈی نیشن کمیٹی اجلاس 15 اپریل سے پہلے کابل میں ہوگا۔ نمائندہ خصوصی سول عسکری حکام کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ تجارت و معاشی تعاون کے فروغ کا لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا، پاک افغان وزرائے تجارت کی مشاورت پہلے ہوگی، عید کے بعد افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان حکام کے ساتھ سفارتی رابطے کے لیے محمد صادق 3 روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان وزیر خارجہ امیر متقی سے ملاقات کی اور پاک افغان تعلقات پر گفتگو کی، ملاقات میں تعلقات بہتر کرنے کے لیے ہائی لیول روابط پر اتفاق کیا گیا۔

    افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے پر لچک دکھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و معاشی تعاون کے فروغ کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا، پاکستان اور افغانستان ترجیحی تجارت کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ افغان حکام کے سامنے رکھا اور پہلی بار افغان طالبان میں ٹی ٹی پی پر کچھ لچک نظر آئی ہے جبکہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔

    تاہم اس موقع پر ہمیں دشمن کی چالاکیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سبوتاژ کرنے اور پاکستان کے امن و ترقی کے سفر کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کا ہمیشہ سے ہی موقف رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر، بالخصوص ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات کرے تا کہ پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔ طالبان حکومت کے حالیہ بیانات میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی تشویش کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ وعدے حقیقت میں بدلتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کو نہ صرف داخلی دہشت گردی بلکہ بیرونی خطرات اور ففتھ جنریشن وار کا بھی سامنا ہے۔ بھارت ایک طویل عرصے سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خفیہ اور سفارتی سطح پر سازشیں کرتا آیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد گروہوں کو مالی و لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتی رہی ہے تا کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کو بھی یہ بات سمجھنا ہو گا کہ بھارت کبھی ان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ سوویت یونین سے لے کر امریکہ تک جس نے بھی افغانستان کے خلاف جارحیت کی بھارت ہمیشہ اس کا دست راست رہا۔ اب بھی اسے موقع ملنے کی دیر ہے وہ کابل کے حکمرانوں کو ڈسنے سے گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام سے تعاون کیا ہے ان کی مدد کی ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان 50 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، اب بھی 24 لاکھ کے قریب افغان مہاجر پاکستان میں موجود ہیں۔

    پڑوسی ممالک کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ سفارت کاری، امن اور ترقی پر زور دیا ہے اور حالیہ مذاکرات اس پالیسی کے عکاس ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ سفارتی روابط مزید مستحکم کرے تا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کیے جانے والے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی داخلی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا دہشت گردانہ کارروائیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ پاک افغان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ایک خوش آئند قدم ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں استحکام لا سکتی ہے۔ تاہم ہمیں دشمن کی سازشوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے اتحاد، قومی یکجہتی اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تا کہ دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔ اگر ہم ان چیلنجز کا دانشمندی، حکمت عملی اور قومی یکجہتی سے سامنا کریں تو ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہمارا مقدر ہوگا۔ پاکستان افغانستان میں امن و ترقی کا خواہاں ہے لیکن اس کے برعکس افغانستان بھارت کی زبان بولتا ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ رہتے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عمل متاثر نہ ہو اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔

  • ننکانہ: بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    ننکانہ: بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    تفصیلات کے مطابق بھارتی سکھ یاتریوں کا پہلا بڑا جتھہ، جس کی قیادت جنگ بہار سنگھ کر رہے تھے ننکانہ صاحب پہنچ گیا ہے۔ ان یاتریوں کی آمد بیساکھی میلے کی تقریبات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

    گوردوارہ جنم استھان پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاکستانی حکام نے مہمان یاتریوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور انہیں گلدستے اور ہار پہنائے۔ پہلے دو جتھوں میں تقریباً تین ہزار بھارتی سکھ یاتری شامل تھے جبکہ توقع ہے کہ مجموعی طور پر آج رات 5790 سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ جائیں گے۔

    بیساکھی میلے کے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سکھ قوم اپنی مذہبی رسومات کا آغاز اکھنڈ پاٹھ صاحب سے کرے گی۔

    بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں انہیں بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ضلعی اداروں کے افسران ان کی خدمت میں ہر وقت پیش پیش ہیں۔ سکھ یاتریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان سے محبتیں سمیٹ کر واپس جائیں گے۔

    یاتریوں نے فول پروف انتظامات کرنے پر حکومت پاکستان اور ضلعی انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دل کھول کر ویزے جاری کیے جس پر وہ تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔ بھارتی سکھ یاتریوں نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بابا نانک کی دھرتی پر کیے گئے شاندار انتظامات کو سراہا۔

    بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستانی عوام کی جانب سے ملنے والی بے پناہ محبت کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام سکھ قوم سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ایک یاتری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مہمان نہیں، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے۔ ہمیں اتنی عزت بھارت میں بھی نہیں ملتی جتنی پاکستان نے دی ہے۔

  • پنڈی گھیب:ظلم کی انتہا،استاد کاطالب علم پر بہیمانہ تشدد،بےہوشی کی حالت میں چوڑکرچلاگیا

    پنڈی گھیب:ظلم کی انتہا،استاد کاطالب علم پر بہیمانہ تشدد،بےہوشی کی حالت میں چوڑکرچلاگیا

    پنڈی گھیب (باغی ٹی وی رپورٹ) عسکری پبلک سکینڈری سکول احمدال کے ایک ٹیچر حافظ منیر احمد مبینہ طور پر ساتویں جماعت کے ایک طالب علم محمد علی پر شدید تشدد کرنے کے بعد اسے بے ہوش چھوڑ کر چلے گئے۔ محمد علی ولد سعادت اقبال نوتھین ملکان کا رہائشی ہے۔

    بچے کو بے ہوش حالت میں اس کے والدین کے حوالے کیا گیا۔ والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب اور وزیر تعلیم رانا تنویر حسین سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عسکری پبلک سکینڈری سکول احمدال کی انتظامیہ اور خاص طور پر تشدد کرنے والے ٹیچر حافظ منیر احمد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • میرپورخاص: نیشنل پریس کلب کی ٹیم کا امتحانی مرکز کا دورہ

    میرپورخاص: نیشنل پریس کلب کی ٹیم کا امتحانی مرکز کا دورہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، سید شاہزیب شاہ) نیشنل پریس کلب میرپورخاص کی میڈیا ٹیم نے گورنمنٹ رابعہ بصری گرلز ہائی اسکول کے امتحانی مرکز کا دورہ کیا، جہاں نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات جاری تھے۔ طالبات پرامن انداز میں پیپر حل کرتی دکھائی دیں۔

    میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام دسویں جماعت کا پانچواں پیپر پرسکون ماحول میں ہوا۔ امتحانی مراکز میں موبائل فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز پر سخت پابندی عائد تھی، اور طالبات نگران عملے کی نگرانی میں امتحان دیتی رہیں۔ میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی ٹیم نے بھی مرکز کا معائنہ کیا۔

    ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر علی خان ناریجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات پرامن انداز میں جاری ہیں، کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، اور طالبات بغیر نقل کے پیپر حل کر رہی ہیں۔ اسکول کی پرنسپل میڈم رضوانہ پروین نے بتایا کہ مرکز میں 226 طالبات امتحان دے رہی ہیں، جن میں سے 3 غیر حاضر اور 223 شریک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شناخت کی تصدیق کے لیے سلپ چیک کی جاتی ہے، اور کسی بھی مشکوک طالبہ کو فوری گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ امتحانی مرکز میں موبائل فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز پر مکمل پابندی ہے۔