Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: سرکاری کتابوں کی فروخت پر ڈپٹی کمشنر کا سخت ایکشن

    اوکاڑہ: سرکاری کتابوں کی فروخت پر ڈپٹی کمشنر کا سخت ایکشن

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر)سرکاری سکولوں کی مفت کتابوں کی دکان پر فروخت کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ سی ای او ایجوکیشن محمد یوسف نے ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے کتابوں کی فروخت میں ملوث دکاندار کے خلاف ایکشن لیا۔

    شوکت بک ڈپو (بلمقابل پوسٹ گریجویٹ کالج) کے مالک کے خلاف ڈپٹی ڈی ایجوکیشن آفیسر وحید کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے 75 سرکاری کتابیں برآمد کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے محکمانہ انکوائری کا حکم بھی جاری کر دیا۔

    احمد عثمان جاوید نے کہا کہ مفت سرکاری کتابوں کی فروخت میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور حکومت پنجاب کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا، اور اگر سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت ثابت ہوئی تو انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: ساہیوال واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی کا افتتاح

    اوکاڑہ: ساہیوال واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی کا افتتاح

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی صفائی مہم کے تحت ضلع کونسل اوکاڑہ میں ساہیوال واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی (SWSSC) کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج اور کمشنر ساہیوال شعیب اقبال سید نے کی۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز حافظ محمد عمر طیب اور چوہدری عبدالجبار گجر، اسسٹنٹ کمشنر احسن ممتاز، پروجیکٹ مینیجر رانا ساجد، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عاصم وٹو، سول ڈیفنس آفیسر وقار اکبر، صدر بار ایسوسی ایشن محمد اصغر خان، صدر انجمن تاجران شیخ ریاض انور، دیگر افسران، میڈیا، سول سوسائٹی، شہری، اور صفائی عملہ شریک ہوا۔

    پروجیکٹ مینیجر نے صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چوہدری ریاض الحق جج نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی "ستھرا پنجاب” مہم صحت مند پنجاب کی عکاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار صاف ماحول کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں، اور عوام کو خوشگوار ماحول دینے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

    کمشنر شعیب اقبال سید نے کہا کہ صاف ماحول صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، لیکن اس کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے بتایا کہ اوکاڑہ پنجاب کا پہلا ضلع ہے جہاں جدید مشینری سے 20 یونین کونسلز کو زیرو ویسٹ بنایا گیا۔ اب پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے ضلع بھر کے شہری و دیہی علاقوں میں صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے امور سرانجام دیے جائیں گے، اور پورے ضلع کو زیرو ویسٹ بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کی حمایت درکار ہے۔

    بعدازاں، ایم این اے، کمشنر، اور ڈپٹی کمشنر نے SWSSC کی مشینری و گاڑیوں کا معائنہ کیا اور شجرکاری مہم کے تحت ضلع کونسل کے لان میں پودے لگائے۔

  • سیالکوٹ: اپریل کے آخر میں فلڈ پروٹیکشن موک ایکسرسائز کا انعقاد ہوگا

    سیالکوٹ: اپریل کے آخر میں فلڈ پروٹیکشن موک ایکسرسائز کا انعقاد ہوگا

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(سٹی مدثر رتو) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے اعلان کیا کہ اپریل کے آخر میں شہری و دیہی علاقوں میں فلڈ پروٹیکشن ماک ایکسرسائز منعقد ہوگی۔ اس کا مقصد محکموں کی سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ اور رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 19 اپریل تک تمام اسسٹنٹ کمشنرز ندیوں اور نالوں کے حفاظتی بندوں کی معائنہ رپورٹ جمع کرائیں۔

    ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اجلاس میں ڈی سی نے کہا کہ متعلقہ ادارے، بشمول سول ڈیفنس، میونسپل کارپوریشن اور ریسکیو 1122، فلڈ فائٹنگ آلات اور تیاریوں کے سرٹیفکیٹس پیش کریں گے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 پر جعلی کالز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وسائل کے ضیاع اور جان و مال کے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے والدین و اساتذہ سے بچوں کو پرینک کالز سے روکنے کی اپیل کی۔

    مزید برآں، ڈی سی نے انڈر ایج موٹرسائیکل ڈرائیونگ کی 70 فیصد سے زائد حادثاتی شرح کو قانونی و اخلاقی جرم قرار دیتے ہوئے معاشرے سے اس کے تدارک کا مطالبہ کیا۔

  • ننکانہ صاحب: وساکھی میلے کا رنگارنگ آغاز

    ننکانہ صاحب: وساکھی میلے کا رنگارنگ آغاز

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگار احسان اللہ ایاز) سکھوں کے مذہبی تہوار وساکھی میلے کی تقریبات ننکانہ صاحب میں جوش و خروش سے شروع ہو گئیں۔ دنیا بھر سے سکھ یاتری گوردوارہ جنم استھان پہنچ رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤنے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے گوردوارہ کا دورہ کیا، جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس، ریسکیو سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    ڈی سی نے سیکیورٹی، عارضی ہسپتال، سکینر مشینیں، لنگر خانہ، رہائش اور پارکنگ ایریا کی سہولیات کا بغور معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں یاتریوں کے لیے بنائے گئے خصوصی وارڈز کا بھی جائزہ لیا۔ تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں سیکیورٹی، صحت، رہائش اور لنگر کے فول پروف انتظامات شامل ہیں۔

    وساکھی میلہ 15 اپریل تک جاری رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، اور سکھ یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات یقینی بنائی گئی ہیں۔

  • ننکانہ: ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول

    ننکانہ: ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( احسان اللہ ایاز کی خصوصی رپورٹ)ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول، کسی بھی پرائیویٹ سکول کو فیس بڑھانے سے قبل محکمہ تعلیم سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا

    ضلع ننکانہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے پرائیویٹ سکول مافیا کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کی رجسٹریشن اور من مانی فیسوں کے تعین کے حوالے سے ایک اہم اور فیصلہ کن اجلاس منعقد کیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر اور سی او تعلیم سمیت سکول ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی شرکت نے اس اجلاس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پرائیویٹ سکول اپنی فیسوں میں 05 فیصد سے زائد اضافہ نہیں کر سکیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سکولوں کی فیسوں کا تعین ان کے تعلیمی معیار اور طلباء کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایجوکیشن افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ یکم مئی سے ضلع بھر کے تمام پرائیویٹ سکولوں کی باقاعدگی سے چیکنگ کو یقینی بنائیں۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی پرائیویٹ سکول کو فیس بڑھانے سے قبل محکمہ تعلیم سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کر دی جائے گی اور انہیں بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، یہاں تک کہ سکول کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

    نئے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی سخت قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت بلڈنگز میں تمام ضروری سہولیات کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا اور رجسٹریشن سے قبل تمام متعلقہ سرکاری اداروں سے باقاعدہ سرٹیفکیٹس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    ڈپٹی کمشنر نے پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کی کوالیفیکیشن کے معیار کو بھی طے کرنے پر زور دیا تاکہ طلباء کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے تمام پرائیویٹ سکولوں کو قانون کے مطابق 10 فیصد مستحق طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی بھی سختی سے ہدایت کی اور واضح کیا کہ اس حکم پر کسی قسم کی خانہ پری ناقابل قبول ہوگی۔

    ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے تمام پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت کی کہ وہ پاک فوج اور سول سروس کے شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں۔ رجسٹریشن کے لیے این او سی جاری کرنے والے تمام اداروں کو اس بات کا سرٹیفکیٹ لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگا کہ متعلقہ سکول شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے تیار ہے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے واضح کیا کہ ان احکامات پر ہر صورت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے اس تاریخی اقدام سے ضلع ننکانہ میں پرائیویٹ سکولوں کی من مانیوں کا خاتمہ اور معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

  • ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار

    ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار

    ہندوتوا،آر ایس ایس کی دہشت گردی اور مودی کا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت میں نفرت کی آگ بھڑکانے والے واقعات اب کوئی نئی بات نہیں ہے، حال ہی میں یوگ گرو بابا رام دیو نے ایک بار پھر اپنی زہریلی زبان سے فرقہ واریت کو ہوا دی، جب انہوں نے مقبول شربت ‘روح افزا’ کا نام لیے بغیر اسے ‘شربت جہاد’ قرار دیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں وہ یہ الزام لگاتے نظر آئے کہ ایک مشہور شربت کمپنی اپنا منافع مساجد اور مدارس کے لیے استعمال کرتی ہےاور لوگوں کو پتانجلی کا شربت خریدنے کی ترغیب دی جو مبینہ طور پر ‘حب الوطنی’ کے اداروں کو فائدہ دیتا ہے۔ پتانجلی کے فیس بک پیج پر اس ویڈیو کے ساتھ لگائی گئی کیپشن اور بھی شرمناک تھی، جس میں دیگر مشروبات کو ‘ٹوائلٹ کلینر’ اور ‘زہریلا’ کہہ کر لوگوں کو خوفزدہ کیا گیا۔ یہ صرف ایک شربت کی بات نہیں بلکہ ایک منظم مہم ہے جو مسلم شناخت سے جڑی ہر چیز کو شیطانی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف تمل ناڈو کےپرائیویٹ سکول کی ایک دلت طالبہ کو ماہواری کی وجہ سے امتحان ہال سے باہر زمین پر بٹھا کر پرچہ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا آغاز تو کیالیکن یہ واقعہ بھارت میں ذات پات اور جنسی تعصب کی گہری جڑوں کو عیاں کرتا ہے۔ یہ دونوں واقعات ہندوتوا کے اس زہریلے ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں جو نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرپرستی میں بھارت کے سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    جنوب مشرقی بھارت کی ریاستیں جن میں آسام، منی پور، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، تریپورہ اور اروناچل پردیش شامل ہیں جو اپنی قبائلی اور مذہبی تنوع کی وجہ سے منفرد ہیں اور ہندوتوا کے جارحانہ عزائم کا شکار ہیں۔ آسام میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) نے لاکھوں بنگالی نژاد مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو غیر ملکی قرار دے کر انہیں حراستی کیمپوں میں دھکیلا، جہاں غیر انسانی حالات ہیں۔ منی پور میں نسلی تشدد کو ہوا دی گئی، جہاں عیسائی قبائلیوں کے گاؤں نذر آتش کیے گئے اور انہیں بے گھر کیا گیا۔ مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوتوا کے گروہوں نے گرجا گھروں پر حملے کیے اور پادریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تریپورہ میں بودھ اور عیسائی برادریوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں اس پر خاموش تماشائی بنی رہی ہیں۔ یہ سب ہندوتوا کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جو اقلیتوں کو کچل کر ایک ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔

    مسلم ریاست جموں وکشمیر جو کئی دہائیوں سے بھارت کی بربریت کا شکار تو پہلے ہی ہے اور اب ہندوتوا کے تحت نئے مظالم سے دوچار ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی نے وادی کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا۔ کشمیریوں سے بنیادی حقوق چھین لیے گئے، انٹرنیٹ بندشوں نے ان کی آواز دبا دی اور فوجی آپریشنز کے نام پر نوجوانوں کو گرفتار یا جھوٹے مقابلوں میں مارا جا رہا ہے۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی بڑھ رہی ہے اور آر ایس ایس کے کارکن زمینوں کی خریداری کے ذریعے آبادیاتی تبدیلی کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا بیانیہ فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے جبکہ مقامی مسلمانوں کو مزید دبانا اصل ہدف ہے۔ یہ ایک ایسی دہشت گردی ہے جو کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    سکھ مذہب کے پیروکار جو پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ہندوتوا کے جبر کا شکار ہیں۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے زخم ابھی تازہ ہیں لیکن بی جے پی نے کسان تحریک کے دوران سکھ کسانوں کو “خالصتانی” اور “دہشت گرد” قرار دے کر ان کے وقار کو مجروح کیا۔ دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی کسانوں پر تشدد کیا گیا ان کے خیموں کو جلایا گیا اور انہیں سردی میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔ آر ایس ایس سے وابستہ گروہوں نے گوردواروں کے آس پاس نفرت پھیلائی اور سکھ شناخت کو ہندو ثقافت میں ضم کرنے کی کوشش کی۔ سکھ کارکنوں کو سخت قوانین جیسے UAPA کے تحت جیلوں میں ڈالا جا رہا ہےجو ان کی سیاسی آواز کو کچلنے کی سازش ہے۔ یہ سب ہندوتوا کی اس دہشت گردی کا حصہ ہے جو سکھوں کی تاریخی جدوجہد کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

    عیسائی برادری جو جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں میں نمایاں ہے وہ ہندوتوا کے تشدد سے بری طرح متاثر ہے۔ کرناٹک، کیرالہ، اور تمل ناڈو میں گرجا گھروں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ پادریوں کو مارا پیٹا جاتا ہےاور عیسائیوں کو “مذہبی تبدیلی” کے جھوٹے الزامات میں پھنسایا جاتا ہے۔ اڑیسہ میں 2008 کے عیسائی مخالف فسادات جن میں درجنوں گرجا گھر جلائے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے، ہندوتوا کی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔ چھتیس گڑھ میں عیسائی قبائلیوں کے گاؤں تباہ کیے گئے اور بی جے پی کی ریاستی حکومتیں مذہبی تبدیلی کے سخت قوانین لا کر عیسائیوں کی آزادی سلب کر رہی ہیں۔ شمال مشرق میں جہاں عیسائی اکثریت میں ہیں وہاں ہندوتوا کے گماشتےمقامی ثقافت کو ہندو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے نسلی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ سب ایک ایسی دہشت گردی ہے جو عیسائی شناخت کو مٹانے کے لیے جاری ہے۔

    دلت جو ہندو ذات پات کے نظام میں سب سے زیادہ محروم طبقہ ہیں جنہیں نیچ کہا جاتا ہے وہ ہندوتوا کے دوہرے جبر کا شکار ہیں۔ اتر پردیش، بہار، گجرات، اور مہاراشٹر میں دلتوں کو گئو رکشا کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ مردہ جانوروں کی کھال اتارنے جیسے کام کرتے ہیں۔ گجرات کے اونا میں 2016 میں دلت نوجوانوں پر گئو رکشکوں کے حملوں نے قومی احتجاج کو جنم دیا، لیکن انصاف کسی کو نہ ملا۔ دلت خواتین جنسی تشدد کا شکار ہیں اور ان کے گھروں کو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے جلایا۔ تمل ناڈو کا حالیہ واقعہ جہاں ایک دلت طالبہ کو ماہواری کی وجہ سے امتحان ہال سے باہر بٹھایا گیا اس بات کی گواہی ہے کہ ہندوتوا کی سرپرستی میں ذات پات کا تعصب کس قدر گہرا ہے۔ بی جے پی نے دلتوں کے لیے ریزرویشن اور فلاح و بہبود کے پروگراموں کو کمزور کیا جبکہ آر ایس ایس دلتوں کو ہندو راشٹر کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ان کی تاریخی جدوجہد کے منافی ہے۔ دلت کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے، جیسے کہ بھیما کورے گاؤں کے واقعے میں جہاں ان کے پرامن اجتماع پر حملہ کیا گیا۔

    یہ سب ہندوتوا کی وہ دہشت گردی ہے جس کی سرپرستی مودی اور آر ایس ایس کر رہے ہیں۔ بابا رام دیو جیسے ہندوتوا کے پرچارک اس دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں، جو مسلم شناخت سے جڑی ہر چیز شہروں کے مسلم نام ہوں یاچاہے وہ شربت ہو یا کاروبار،اسے یہ شیطانی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مودی کی حکومت نے قانونی راستوں، جیسے CAA، وقف ترمیمی بل اور یکساں سول کوڈ کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کو کچلا۔ غیر قانونی طور پر بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسے گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ موب لنچنگ، تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے اکثریتی ثقافت مسلط کریں۔ مودی خود اپنی تقاریر میں اقلیتوں کے خلاف طنز و کنایوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ انتخابی جلسوں میں انہیں “گھس بیٹھیے” کہنا۔ آر ایس ایس جو ایک صدی سے ہندو راشٹر کے لیے کام کر رہی ہے اس دہشت گردی کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے کارکن گلی محلے میں نفرت پھیلاتے ہیں جبکہ اس کی قیادت بی جے پی کو سیاسی طاقت دیتی ہے۔

    سوشل میڈیا اس دہشت گردی کا ایک بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔کبھی لوجہاد،کبھی لینڈ جہادتو کبھی ریڑھی جہاد اور کورونا کے دوران مسلمانوں کو “کورونا جہاد” کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جس سے ملک بھر میں تشدد بڑھا۔ سکھوں کو “خالصتانی” اور عیسائیوں کو “مذہبی تبدیلی کے ایجنٹ” کہہ کر ان کی جدوجہد کو بدنام کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ظلم کو فروغ دیتی ہیں جیسے کہ اتر پردیش میں مسلم گھروں کو بلڈوزر سے گرایا جانا یا دلتوں کے احتجاج کو کچلنا۔ مودی بظاہر اپنے آپ کو دنیا میں ایک اصلاح پسند اور روشن خیال رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ان کی پالیسیاں بھارت کو ایک ایسی ریاست بنا رہی ہیں جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق محض خواب ہیں۔

    عالمی برادری کی خاموشی بھارت کی اس دہشت گردی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارت کی معاشی طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث مغرب دانستہ طور پر چشم پوشی کر رہا ہے۔ جبکہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ ہندوتوا کی یہ دہشت گردی نہ صرف اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن اور انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی توجہ نہ دی تو یہ مظالم ایک ایسی تباہی کو جنم دیں گے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

  • خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز
    تحریر:سیدریاض جاذب
    ڈیرہ غازی خان: کووڈ 19 کی عالمی وبا اور بڑے سیلابوں کے باعث تقریباً تین سال سے معطل خوشحال خان خٹک ایکسپریس 25 اپریل کو دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرے گی، اس تناظر میں ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بحال ہونے کی تیاریاں مکمل کی جارہی ہیں۔ تاہم ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ اور ملتان آفس کے بعض افسران ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے کام میں ڈنڈی مار رہے ہیں ۔ ان کے انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے دونوں ٹرینیں شاید مستقل نہیں عارضی آزمائشی سفر پر آرہی ہوں۔ ریلوے اسٹیشن کے معاملات پہلے ہی خراب ہیں ، کرپشن کی بازگشت ماضی میں بھی رہی اور اب بھی سنائی دے رہی ہے جس میں ریلوے کے اثاثوں میں گڑ بڑ اور دیگر فراڈ کی بھی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ بہرحال یہ ایک اور موضوع ہے اس پر بھی قلم اٹھائیں گے ابھی اس نئی ڈویلپمنٹ پر یہ تحریر نظر قارئین ہے
    خوشحال خان خٹک ٹرین پشاور سے کراچی تک کے طویل راستے میں واقع اس تاریخی اسٹیشن کو ملک کے بڑے معاشی مراکز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    تاریخی اہمیت اور بحالی کے اقدامات
    1969 میں قائم ہونے والا ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن ماضی میں ملک کے چاروں صوبوں کو ملاتا تھا اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا مصروف جنکشن تھا۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ٹرین سروس کی مسلسل بندش نے اسے غیر فعال بنا دیا تھا۔ اب پاکستان ریلوے کے زیرِ اہتمام اسٹیشن کی بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد یہ نہ صرف خوشحال خان خٹک ایکسپریس بلکہ لاہور سے آنے والی "موسیٰ پاک ڈیرہ غازی خان، ملتان شٹل ٹرین” (15 اپریل سے بحال) کا بھی مرکز بنے گا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرین سروسز کی بحالی سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ خطے کی معیشت کو بھی جِلا ملے گی۔ خصوصاً کراچی کی بندرگاہ اور پشاور کے تجارتی مراکز سے رابطہ بڑھانے سے مقامی تجارت، روزگار اور کارگو کی نقل و حمل میں اضافے کی توقعات ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل سستے اور محفوظ ہوگی، جس سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔

    مستقبل کے منصوبے کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” کی جانب حکومت کے "سٹرکچر پلان 2043” کے تحت ڈیرہ غازی خان کو "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” (CDC) قرار دیا جائے گا، جہاں ریلوے اسٹیشن نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم محور ہوگا۔ اس منصوبے کے ساتھ ہی چلتن ایکسپریس اور اباسین ایکسپریس جیسی سروس کی بحالی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    شہریوں نے ٹرین سروسز کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف روزمرہ کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ایک طالب علم زاہد علی نے کہا، لاہور اور کراچی جانے کے لیے اب ہمیں بس کے ساتھ ساتھ سفر ریلوے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

    15 اپریل موسیٰ پاک ٹرین کا آغاز اور 25 اپریل خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی تاریخی فیصلے ہیں۔

    ڈیرہ غازی تاریخی اسٹیشن ہے جس کا افتتاح 1969میں ہوا طویل غیر فعالیت کے بعد اس کی بحالی ایک بار پھر رابطے کا مرکز بنے گا ، تجارت، روزگار، اور کارگو میں اضافہ ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ مستقبل کے وژن کے طور پر یہ اور بھی زیادہ اہم ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ترقیاتی زون بنانے کی منصوبہ بندی کی جانب ایک قدم ہے ۔

    پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق "یہ اقدامات عوامی خدمت اور معاشی تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔” وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینوں کی بحالی خطے کی پرانی شان واپس لا پائے گی۔ خوشحال خان خٹک اور موسی پاک شٹل ملتان ٹو ڈیرہ غازی خان کی بحالی میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور مقامی ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی بھی بھرپور کوششیں شامل ہیں جوکہ ڈیرہ غازی خان کے ریلوے اسٹیشن کی بحالی کے لیے عوام کی آواز بنے ۔

  • میرپور خاص:  تعلیم، آرٹس اور ماحول کے تحفظ کیلئے انڈومنٹ فنڈ کا قیام

    میرپور خاص: تعلیم، آرٹس اور ماحول کے تحفظ کیلئے انڈومنٹ فنڈ کا قیام

    میرپور خاص ( نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ)میرپور خاص ڈویژن میں تعلیم، آرٹس، سائنس، اسپورٹس، ثقافت اور ماحول کے تحفظ کے فروغ کے لیے ایک انڈومینٹ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل کمشنر ٹو سید ابرار علی شاہ نے کمشنر کمیٹی ہال میں نجی بینک کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس انڈومینٹ فنڈ کے آغاز سے ڈویژن بھر میں تعلیم، آرٹس، سائنس، اسپورٹس، کلچر اور ماحول کے تحفظ کے شعبوں میں مدد ملے گی اور ان شعبہ جات کی ترقی کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔ سید ابرار علی شاہ نے بتایا کہ یہ انڈومینٹ فنڈ نجی بینک اور کمشنر آفس کے باہمی اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی عہدہ سنبھال لیا

    پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی عہدہ سنبھال لیا

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ کو بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کے وائس چانسلر کا اضافی چارج چھ ماہ کے لیے سونپ دیا گیا ہے۔ اپنے نئے چارج سنبھالنے کے موقع پر، پروفیسر سجاد مبین نے یونیورسٹی کی ترقی اور مسائل کے حل کے حوالے سے اپنے ویژن کا اظہار کیا۔

    پروفیسر مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران سے ملاقات میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں کی جانے والی اہم اصلاحات کا ذکر کیا، جن سے تعلیمی معیار میں بہتری آئی۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ اسی جذبے اور ویژن کے ساتھ بابا گورو نانک یونیورسٹی کو بھی ترقی دیں گے۔

    انہوں نے فیکلٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایم فل پروگرامز کے آغاز اور ایلائیڈ سائنسز میں نئے ڈگری پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ، پروفیسر مبین نے کلاس رومز کا دورہ کیا اور طلباء کے مسائل سنے۔

    ڈاکٹر سجاد مبین نے عوامی و نجی شراکت داری کے تحت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور حال ہی میں نصب ہونے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پروفیسر مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے زیر تکمیل کیمپس کا دورہ کیا اور کیمپس کی تیز تکمیل کے لیے ہدایات دیں۔

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے ترجمان کے مطابق، پروفیسر مبین نے اپنی تقرری کے بعد اوکاڑہ یونیورسٹی کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں ویک اینڈ پروگرامز، سکل ڈویلپمنٹ کورسز، اور صنعتی شراکت داری شامل ہیں۔ وہ یہی اقدامات بابا گورو نانک یونیورسٹی میں بھی لاگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل حل ہو سکیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر)سٹی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    تفصیل کے مطابق شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اور بالخصوص منشیات فروشی کے ناسور کے خلاف ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تھانہ سٹی پولیس نے اہم کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بہاری چوک کے قریب سے ایک منشیات فروش خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار شدہ خاتون کے قبضے سے 1080 گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔ ملزمہ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہر کو منشیات کے لعنت سے پاک کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔