Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: ایچ بی ایل برانچ بندش کے فیصلے پر عوام اور تاجروں کا احتجاج

    اوچ شریف: ایچ بی ایل برانچ بندش کے فیصلے پر عوام اور تاجروں کا احتجاج

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار،حبیب خان) حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کی اوچ شریف برانچ بند کرکے اسے احمد پور شرقیہ منتقل کرنے کے فیصلے نے علاقے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مقامی تاجروں، سرکاری ملازمین، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور دیہاتیوں نے بینک انتظامیہ کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقے کی معیشت پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اوچ شریف اور مضافاتی دیہات کے سینکڑوں افراد روزمرہ لین دین، تنخواہوں، پنشن، کاروباری امور اور آن لائن بینکنگ کے لیے اسی برانچ پر انحصار کرتے تھے۔ اب احمد پور شرقیہ جانے سے نہ صرف اضافی خرچ برداشت کرنا پڑے گا بلکہ خواتین، بزرگ شہری اور دور دراز سے آنے والے دیہاتی شدید مشکلات سے دوچار ہو جائیں گے۔

    مقامی کاروباری طبقہ اور عوام نے چیئرمین حبیب بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی مشکلات اور علاقائی معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اوچ شریف برانچ بند کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ عوامی نمائندوں نے بھی بینک انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ عوامی ریلیف کو مقدم رکھتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

  • اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف، باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے جلال پور پیر والا روڈ دھور کوٹ موڑ کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹرک نے پھٹہ رکشہ کو ٹکر مار دی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب رکشہ روڈ کراس کر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ٹرک نے رکشہ کو زور دار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں رکشہ سوار 65 سالہ غلام شبیر ولد الہی بخش موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق غلام شبیر ٹرک کے نیچے آ کر بری طرح زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے میں رکشہ میں موجود ایک اور شخص کو معمولی چوٹیں آئیں، جسے مقامی افراد نے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم اور پیٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا موقع پر پہنچ گئیں اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد جاں بحق ہونے والے غلام شبیر کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ ورثاء نے اپنی نجی گاڑی میں میت کو گھر منتقل کر دیا۔

  • میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص/کراچی (رپورٹ: سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی ریسٹورنٹس پر حملے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ، 21 افراد گرفتار

    بین الاقوامی فوڈ چین کے ایف سی کے ریسٹورنٹس سندھ کے دو شہروں میرپورخاص اور کراچی میں مشتعل افراد کے نشانے پر آگئے۔ مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی کوشش کی، جبکہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 21 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے نور CNG چوک پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کر دیا، مرکزی دروازے، شیشوں اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور ریسٹورنٹ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا اور علاقے میں اضافی نفری تعینات کردی۔

    دوسری جانب کراچی میں بھی ڈیفنس تھانے کی حدود خیابان اتحاد پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کیا، مرکزی دروازے اور شیشوں کو توڑ دیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں سے ایک شخص کے قبضے سے ہتھوڑا بھی برآمد ہوا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں کے ایف سی کی تین برانچز پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کراچی پولیس کا بھی کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ (خبرنگارشمائلہ) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے چنیوٹ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسپیکشن کی۔ کارروائی کے دوران 106 فوڈ بزنسز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر خلاف ورزیوں پر 50 فوڈ بزنسز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔

    بھوانہ کے نواحی علاقوں میں ملک کولیکشن سینٹرز پر خصوصی چھاپے مارے گئے، جہاں 500 لیٹر سے زائد ملاوٹی اور مضر صحت دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، ورکرز کے میڈیکل سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ملک کولیکشن سینٹرز مالکان پر 43000 روپے جرمانے عائد کیے گئے۔

    گوشت فروشوں کی دکانوں پر بھی کارروائی کی گئی اور گندی کونز کے استعمال اور صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر 17500 روپے جرمانے وصول کیے گئے۔ مختلف فوڈ پوائنٹس اور کریانہ سٹورز پر ایکسپائرڈ اشیاء کی موجودگی پر 18000 روپے جرمانے کیے گئے، جبکہ ایک کلو سے زائد غیر معیاری اشیاء کو موقع پر تلف کر دیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فوڈ اتھارٹی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ناقص اور غیر معیاری خوراک شہریوں میں مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو صحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ (عبد الرحمن جٹ) زمین کے تنازعہ نے ایک اور جان لے لی، چک نمبر 281 ج ب کے رہائشی 35 سالہ راشد سلیم کو ٹوکے اور کسی تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اطلاعات کے مطابق راشد سلیم اپنے کھیتوں میں مکئی کی فصل کی دیکھ بھال کے لیے گیا تھا جہاں شہباز، بلال اور غفران وغیرہ نے اس پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے راشد سلیم پر ٹوکے اور کسی دوسرے ہتھیار سے پے در پے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس گوجرہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرہ منتقل کیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے اور پولیس نے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزمان مقتول کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جن کے درمیان زمین کا تنازعہ چل رہا تھا۔ آخری اطلاعات تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

  • سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان
    تحریر: محمد سعید گندی
    ڈیرہ غازی خان سرکل میں گزشتہ کچھ ماہ سے چوروں اور ڈاکوؤں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کوئی شہری خواہ وہ مارکیٹ میں ہو، شہر، گاؤں یا روڈ پر ہو حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ڈاکوؤں نے روزانہ کی بنیاد پر چوریوں اور ڈکیتیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر رکے گا۔ خیر، یہ تو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ اسے مکمل طور پر قابو کرنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ہر پولیس افسر کا اپنا پولیسنگ کا انداز ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سے صحافی دوست اسے "دبنگ” لکھتے ہیں۔ خیر، یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی کارروائیاں ہوں یا محض محبت بھرے الفاظ ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں اور ساتھ ہی مزدور بھی۔ بہت کم کسی دفتر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ الحمدللہ، جب کوئی آپ کو پہچان نہیں پاتا تو وہ آپ کے سامنے سچ بول دیتا ہے، ورنہ اگر آپ صحافی کے طور پر تعارف کروائیں گے تو وہ چائے پلائیں گے اور چلتا کریں گے۔

    کچھ دن قبل ایک اعلیٰ پولیس افسر سے اچانک ملاقات ہوئی۔ کچھ صحافی دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔ سوال اٹھا کہ پچھلے چند ماہ یا ایک سال میں (وقت کی تعیین ضروری نہیں) کیا ڈیرہ غازی خان میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ ان کا جواب بالکل درست اور بغیر کسی لگی لپٹی کے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

    اس کی وجہ جاننے کی معقول کوشش بھی کی گئی۔ ان کے مطابق، جب تک تھانوں میں سیاسی اثر و رسوخ بند نہیں ہوگا، جرائم میں کمی نہیں آئے گی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ پولیس افسران اب میرٹ پر تفتیش سے بھی گھبراتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پولیس خود جرائم پیشہ افراد سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں، جو میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں۔

    فیک ریکوریاں بہت زیادہ ہوئی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب چوریاں اور ڈکیتیاں ہوں گی تو صاف ظاہر ہے کہ عوام کو بھی کچھ ریلیف چاہیے۔ پولیس کہیں سے بھی لا کر عوام کو کچھ نہ کچھ دکھاتی ہے، اس لیے اب یہی آپشن رہ جاتا ہے، یعنی فیک ریکوریاں۔ کیونکہ جب پولیس اصلی جرائم پیشہ افراد کو پکڑتی ہے تو مدعی عدالت میں جا کر ان کے حق میں بیان دے دیتا ہے کہ یہ ہمارا چور یا ڈاکو نہیں۔ ایسی صورت میں پولیس کیا کرے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے پولیس کے مسائل ہیں، وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور مدعی بھی اپنا بچاؤ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

    بڑے بڑے گینگز کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ سب سے پہلے عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہوگا۔ عوام کا پولیس پر اور پولیس کا عوام پر اعتماد ہونا لازمی ہے۔ اب ڈیرہ غازی خان میں سیف سٹی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے ہم اصلی مجرم تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی بدولت جو بھی چور یا ڈاکو گینگ پکڑے جائیں گے، ان کے سفارشی یا تو آئیں گے ہی نہیں، اور اگر آئیں گے تو بہت کم۔ کیونکہ پولیس ان شواہد کی بنا پر کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اندازاً 70 فیصد جرائم ان سیف سٹی کیمروں سے کم ہو جائیں گے، باقی پولیس خود بھی قابو کر لے گی۔

    ایک سوال یہ ہے کہ کوٹ مبارک، شاہ صدر دین، کالا، دراہمہ یا دیگر دور دراز کے تھانوں کے علاقوں میں سیف سٹی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ ان تھانوں کے علاقوں میں جرائم تو کم نہیں ہوں گے۔ بہرحال، پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کریں۔

  • ڈیرہ غازیخان: تعلیمی نظام مفلوج، نئی کلاسیں شروع، کتابیں غائب، حکام مد ہوش

    ڈیرہ غازیخان: تعلیمی نظام مفلوج، نئی کلاسیں شروع، کتابیں غائب، حکام مد ہوش

    ڈیرہ غازی خان ،باغی ٹی وی(خصوصی رپورٹ)سرکاری سکولوں میں پرائمری سے مڈل کلاسوں کے امتحانات کے نتائج کے اعلان اور نئی کلاسوں کے آغاز کو کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود طلباء نصابی کتب سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال تعلیمی نظام کی بدانتظامی کی بدترین مثال ہے جو بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم نے سکولوں کو کتابیں فراہم کر دی ہیں لیکن متعدد سکولوں کی انتظامیہ یا تو کتابیں تقسیم کرنے میں تاخیر کر رہی ہے یا تقسیم کرنے سے صاف انکار کر رہی ہے۔

    والدین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ سے مہنگی کتابیں خرید لیں جو کہ غریب خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب والدین پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں یہ اضافی خرچہ ان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ کئی والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں کو اساتذہ کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ "کتابیں ابھی تقسیم نہیں ہو رہیں اگر خرید سکتے ہیں تو بازار سے خرید لیں۔” اس صورتحال کے باعث بہت سے بچے بغیر کتابوں کے سکول جانے پر مجبور ہیں جس سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    متحرک شہریوں کی تنظیم کے کارکن مظہر آفتاب خان ایڈووکیٹ اور سید محمد آصف نقوی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کی غفلت ناقابل معافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر کتابوں کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرے اور ان سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو کتابیں روک رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی والدین اور سکول انتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا جہاں تحریری طور پر کتابوں کی فوری تقسیم کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔

    مظہر آفتاب خان نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی اور تجویز دی کہ ہر سکول میں کتابوں کی وصولی اور تقسیم کی تفصیلات ایک پبلک نوٹس بورڈ پر آویزاں کی جائیں تاکہ والدین کو شفافیت کے ساتھ معلومات مل سکیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ والدین کے لیے ایک مفت ہیلپ لائن نمبر جاری کی جائے جہاں وہ کتابوں کی عدم تقسیم کی شکایات درج کرا سکیں۔

    یہ بات ناقابل فہم ہے کہ آخر سکول انتظامیہ کتابیں تقسیم کرنے میں کیوں ہچکچا رہی ہے؟ کیا اس کے پیچھے کوئی بدعنوانی یا ناقص منصوبہ بندی کارفرما ہے؟ محکمہ تعلیم کو اس کی فوری تحقیقات کرنی چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ بچوں کی تعلیم کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتی ہے اور اسے یوں غفلت کا شکار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو طلباء کا تعلیمی نقصان ناقابل تلافی ہوگا اور اس کی ذمہ داری براہ راست حکام پر عائد ہوگی۔

    شہریوں اور والدین نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں ورنہ والدین اور شہری تنظیمیں احتجاج پر مجبور ہو جائیں گی۔

  • لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل (باغی ٹی وی) لنڈیکوتل پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد کر لی، جس کے نتیجے میں تین ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر رائے مظہر اقبال کی ہدایات پر جاری کریک ڈاؤن کے تحت، ایس ایچ او لنڈیکوتل عدنان آفریدی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے زیڑے کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار کو روکا۔ تلاشی کے دوران گاڑی کے خفیہ خانوں سے 5 کلوگرام آئس اور 3 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔

    پولیس نے موقع پر ہی ملوث ملزمان امداد، فہد اور خدایار کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حوالات منتقل کر دیا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ضلع خیبر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

  • خیبر:ابرار آفریدی بھاری اکثریت سے صدر اور سجاد حسین جنرل سیکرٹری منتخب

    خیبر:ابرار آفریدی بھاری اکثریت سے صدر اور سجاد حسین جنرل سیکرٹری منتخب

    خیبر (باغی ٹی وی) خیبر بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مکمل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ابرار آفریدی بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے ہیں، جبکہ سجاد حسین نے جنرل سیکرٹری کا عہدہ اپنے نام کیا ہے۔ دیگر منتخب کابینہ ممبران میں گل جہان جوائنٹ سیکرٹری، محمد آفاق آفریدی فنانس سیکرٹری، ارم برہان پریس سیکرٹری اور قدیر خان و زوہیب ایگزیکٹو ممبران شامل ہیں۔

    خیبر بار ایسوسی ایشن کے ان انتخابات کے لیے ریاض خان نے الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دیے، جبکہ نیک رحمان اور جنید خان دیگر ممبران تھے۔ انتخابات میں کل 78 ووٹرز تھے، جن میں سے 77 نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    انتخابات میں کامیابی کے بعد نو منتخب صدر ابرار آفریدی نے وکلاء برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے، اس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ وکلاء برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور خاص طور پر اپنے علاقے کے عوام کو آسان اور سستی انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    خیبر بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب جنرل سیکرٹری سجاد حسین نے کہا کہ وکلاء برادری متحد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات ایک آئینی اور قانونی عمل ہے اور ملک بھر کی طرح خیبر بار میں بھی سالانہ انتخابات برائے 2025 پرامن طریقے سے منعقد ہوئے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

    خیبر بار ایسوسی ایشن کی تاریخ میں پہلی بار خواتین نے بھی انتخابات میں حصہ لیا، جس میں ارم برہان نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے پریس سیکرٹری کا عہدہ جیتا۔ اس موقع پر ارم برہان نے وکلاء برادری کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خیبر بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں پہلی بار حصہ لینے والی خاتون کو ووٹ دے کر کامیاب کیا۔

  • کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا
    تحریر: میاں محسن اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
    فلسطین کی زمین لہو سے تر ہے، غزہ کی گلیاں معصوم لاشوں سے بھری پڑی ہیں،
    ننھے وجود خاک تلے دبے ہیں،
    اور انسانیت، غیرت، ایمان… سب ماتم کناں ہیں۔

    یہ کیسا دور ہے کہ بچوں کے چیتھڑے اُڑ جائیں، ماں کی گود اجڑ جائے، باپ کی لاش مسجد کے دروازے پر پڑی ہو اور امتِ محمدیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو۔

    یہ 57 اسلامی ممالک کس مرض کی دوا ہیں؟
    جن کی فوجیں کروڑوں میں ہیں،
    جن کے پاس جدید اسلحہ، ایٹمی طاقتیں اور وسائل کے انبار ہیں… مگر ایک معصوم فلسطینی بچے کے لیے ان کی بندوق نہیں چلتی!
    ان کے جنگی طیارے صرف یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے لیے ہیں؟
    کیا ان کی توپوں کا رُخ صرف اپنے عوام کی طرف ہوتا ہے؟
    کیا ان کا ضمیر صرف تب جاگتا ہے جب اقتدار کو خطرہ لاحق ہو؟

    اور اسلامی دنیا کے سپہ سالارو!
    کس نیند میں ہو تم؟ کس دشمن کے انتظار میں ہو جو تمہیں جگائے؟
    یا تمہاری تلواریں صرف عزت کے نازک پردوں پر چلنے کے لیے بنی ہیں؟

    تمہاری خاموشی… تمہارا بزدل سکوت…
    یہ صرف امت کی نہیں، محمدِ عربیؐ کے دین کی توہین ہے۔

    اور مدارس کے علما!
    جنہوں نے منبر و محراب کو سنبھالا،
    جن کی زبانوں میں فصاحت تھی،
    جن کی تقریروں سے لوگ روتے تھے،
    آج وہ کہاں ہیں؟

    کیوں ان کے خطبوں میں غزہ کا ذکر نہیں؟
    کیوں منبر سے وہ چیخ سنائی نہیں دیتی جو باطل کے ایوانوں کو ہلا دے؟
    کیا ان کے ایمان کی حرارت ختم ہو چکی ہے؟
    کیا آج دین کے محافظ صرف خاموشی کے پیکر بن چکے ہیں؟

    یہ وہ ننھا فلسطینی کر رہا ہے جس کا آدھا جسم بمباری میں ختم ہو چکا ہے،
    وہ ماں کر رہی ہے جو اپنے بیٹے کی کٹی ہوئی ٹانگیں اُٹھا کر دوپٹے میں لپیٹ رہی ہے،
    وہ باپ کر رہا ہے جس نے اپنے چار بچوں کو کفن کے بغیر دفن کیا۔

    امتِ مسلمہ!
    یاد رکھو!
    تمہاری بندوقیں خاموش رہیں، تمہارے علما خاموش رہے، تمہارے بادشاہ، صدر، وزیرِاعظم، جنرل… سب چپ رہے، تو کوئی کرے نہ کرے… ضمیر تو کرے گا!

    سوال کرے گا… پکارے گا… اور تمہاری بے حسی کو بے نقاب کرے گا۔