Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ :صفائی کے لیے انقلابی قدم، زیرو ویسٹ مشن کا آغاز

    اوکاڑہ :صفائی کے لیے انقلابی قدم، زیرو ویسٹ مشن کا آغاز

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کے ایک اہم مشن کے تحت ساہیوال واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ کمشنر ساہیوال شعیب اقبال سید کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں صفائی و ستھرائی کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کیا گیا۔

    اس افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر احسن ممتاز، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی عمر نسیم، کمپنی کے کنٹریکٹرز اور صفائی کے عملے کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کمشنر ساہیوال شعیب اقبال سید کو کمپنی کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلان، جدید مشینری اور افرادی قوت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کمشنر شعیب اقبال سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ساہیوال واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی، جو شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی۔

    انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس منصوبے پر اعتماد اور فراخدلانہ فنڈنگ کو حکومت پنجاب کی عوام دوست پالیسی کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اربوں روپے کے فنڈز اس لیے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو صحت مند، صاف اور خوشگوار ماحول میسر آسکے۔

    کمپنی کی جانب سے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 7 کمپیکٹرز، 15 ڈمپرز، 80 لوڈر رکشے، 25 ٹرالیاں، 5 ایکسکویٹرز اور ڈرین کلینرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، شہر بھر میں صفائی کے کام کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے 944 ورکرز، جن میں سپروائزرز اور سینیٹری سٹاف شامل ہیں، اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

    کمشنر شعیب اقبال سید نے اس بات پر زور دیا کہ صفائی کا یہ مشن صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دیہی علاقوں میں بھی ویسٹ مینجمنٹ اور صفائی کے جامع اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے صفائی کے محنتی ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔

    انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ صاف ستھرا ماحول برقرار رکھنا صرف ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس میں ہر شہری کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں گی تاکہ صفائی کو ایک اجتماعی ذمہ داری اور معاشرتی شعار بنایا جا سکے۔

    تقریب کے اختتام پر کمشنر ساہیوال شعیب اقبال سید نے دیگر افسران کے ہمراہ "پلانٹ فار پاکستان” مہم کے تحت پودے لگائے اور ماحول دوست اقدامات کا عملی مظاہرہ کیا۔

  • سیالکوٹ:ریسکیو 1122 کی خواجہ صفدر میڈیکل کالج میں فرضی مشق

    سیالکوٹ:ریسکیو 1122 کی خواجہ صفدر میڈیکل کالج میں فرضی مشق

    سیالکوٹ (سٹی رپورٹرمدثر رتو) خواجہ صفدر میڈیکل کالج میں ریسکیو 1122 نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فرضی مشق کا انعقاد کیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی زیر نگرانی یہ مشق کسی بھی ناگہانی صورتحال جیسے آگ لگنے یا زلزلے کی صورت میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔

    مشق کا بنیادی مقصد کالج کے طلباء، اساتذہ اور دیگر عملے کو تربیت دینا تھا تاکہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اپنی جانیں بچا سکیں۔ فرضی مشق کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالنے، بلند عمارت سے لوگوں کو نیچے اتارنے اور فوری طور پر آگ پر قابو پانے کا عملی مظاہرہ کیا۔

    ریسکیو 1122 نے ریسکیو، واٹر ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے جدید آلات کے سٹال بھی لگائے اور ان آلات کو ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کا طریقہ بھی دکھایا۔ اس فرضی مشق کی مجموعی کمانڈ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے سنبھالی، جبکہ آپریشنل کمانڈ تحصیل انچارج سیالکوٹ محمد رضا، انسیڈنٹ کمانڈ کنٹرول روم انچارج عمران سلیمی، فیلڈ ہسپتال انچارج محمد عمران اور فائر سیکٹر کمانڈر ندیم اختر نے اپنے فرائض سرانجام دیے۔ ڈسٹرکٹ وارڈن جمیل جنجوعہ کی قیادت میں ریسکیو محافظین نے بھی اس مشق میں حصہ لیا۔

    فرضی مشق کے موقع پر سوشل ورکر روز ویلفیئر کے صدر اشفاق نظر، ڈاکٹر عثمان (کوارڈینیٹر فائر سیفٹی خواجہ محمد صفدر کالج) اور فوکل پرسن سپریڈنٹنٹ ارسل بٹ بھی موجود تھے۔ کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ہما کیانی نے اس فرضی مشق کا جائزہ لیا اور ریسکیو 1122 کی اس کاوش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی فرضی مشقوں کا مقصد ہمیں مستقبل میں پیش آنے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار کرنا ہے اور یہ جاننا ہے کہ ایسی صورت میں ہمارا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کامیاب فرضی مشق کے انعقاد پر ریسکیو ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے اس موقع پر کہا کہ ریسکیو 1122 عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار ہے اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن کے تحت معاشرے کو محفوظ اور صحت مند بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں کمیونٹی ٹریننگ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ہم سب مل کر ہی ایک محفوظ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • تحصیل چیئرمین کا جمرود لائیو سٹاک ہسپتال کادورہ، عملے کی حاضری کا جائزہ

    تحصیل چیئرمین کا جمرود لائیو سٹاک ہسپتال کادورہ، عملے کی حاضری کا جائزہ

    جمرود (باغی ٹی وی) تحصیل چیئرمین جمرود حاجی عظمت آفریدی نے اچانک جمرود لائیو سٹاک اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں موجود عملے کی حاضری چیک کی۔ انہوں نے اسپتال کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

    چیئرمین حاجی عظمت آفریدی نے اسپتال میں غیر حاضر ایک ڈاکٹر کی غیر حاضری کا سخت نوٹس لیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ڈاکٹر کو واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، کیونکہ عوام کی جانب سے بھی یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ لائیو سٹاک اسپتال میں ایک ڈاکٹر طویل عرصے سے غیر حاضر ہے۔

    لائیو سٹاک اسپتال کی انتظامیہ نے تحصیل چیئرمین جمرود حاجی عظمت خان آفریدی کو اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور انہیں اسپتال کے کام کاج کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر چیئرمین ذبیح اللہ بھی حاجی عظمت آفریدی کے ہمراہ موجود تھے۔

  • پشاور: میٹرک امتحانات کا آغاز، نقل کی روک تھام کے لیے سخت انتظامات نافذ

    پشاور: میٹرک امتحانات کا آغاز، نقل کی روک تھام کے لیے سخت انتظامات نافذ

    پشاور (باغی ٹی وی) پشاور تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آج بروز منگل سے باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ان امتحانات میں صوبے بھر سے 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد طلباء حصہ لے رہے ہیں، جن میں نویں جماعت کے 1 لاکھ 1 ہزار 488 اور دسویں جماعت کے 91 ہزار 86 طلباء شامل ہیں۔ پشاور، چارسدہ، خیبر، مہمند اور چترال میں 8 اپریل سے شروع ہونے والے ان امتحانات کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    ان امتحانات کے انعقاد کے لیے مجموعی طور پر 712 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ پشاور میں 359، چارسدہ میں 164، خیبر میں 75 (میل و فیمیل دونوں)، مہمند میں 25 اور چترال میں 84 مراکز شامل ہیں۔ پشاور میں قائم کردہ مراکز میں 204 لڑکوں، 129 لڑکیوں اور 26 مشترکہ امتحانی ہال ہیں۔

    ادھر، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جمرود نصیر عباس نے آج جمرود کے مختلف سرکاری و نجی سکولوں میں قائم امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور وہاں پر کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی ہالوں کے سپرنٹنڈنٹس کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر پشاور و چیئرمین پشاور بورڈ ریاض محسود کی جانب سے سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ ان میٹرک امتحانات میں کسی بھی قسم کی نقل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس امتحانی ہال میں بھی نقل کے حوالے سے شکایات موصول ہوں گی، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نصیر عباس نے مزید بتایا کہ پہلی مرتبہ اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی نقل کی روک تھام کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، امتحانی مراکز کے اطراف میں پاکٹ گائیڈز کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور امتحانی ہالوں کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ نقل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کی جا سکے۔

    میٹرک امتحانات کے پیش نظر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ امتحانی ہالوں کے باہر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

  • ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں
    افغانستان میں اماراتِ اسلامی کی حکومت افغان مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کر کے ہی دنیا میں نام کما سکتی ہے

    نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کی پچھلی چار دہائیوں کی تاریخ جنگ و جدل اور امن و امان کی مخدوش صورتِ حال سے دوچار رہی ہے۔ سال 1979 میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی ٹھان لی تو افغانستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری مہاجرین بن کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 30 لاکھ تھی جبکہ 1980 کے آخر تک یہ تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 1990 کی دہائی میں کچھ افغان مہاجرین روس کے انخلا کے بعد واپس افغانستان چلے گئے لیکن 1995 کے دوران طالبان کی حکومت آنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں ہجرت ہوئی۔ اسی طرح سال 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کے حملے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک اور بڑی ہجرت واقع ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے مہاجرین کو پناہ گزین کیمپوں میں جگہ دی جبکہ کئی شہروں میں بھی افغان برادریاں آباد ہو گئیں خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں۔

    تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پاکستان وہ واحد مسلم ہمسایہ ملک تھا جس نے افغان شہریوں کے لیے پاک افغان بارڈر کھلا رکھا اور افغان مہاجرین بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان مہاجرین کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کیمپوں میں پناہ دی۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک تھا جہاں افغان مہاجرین کو کیمپوں سے باہر کاروبار کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی تھی۔ اسی کاروباری اور تعلیمی آزادی کی وجہ سے آج افغان مہاجرین بڑی بڑی کمپنیوں اور کاروباروں کے مالک ہیں اور وہ اب بھی پاکستان میں آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کی تقریباً ہر وزارت اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب بھی وہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب کبھی پاکستان کی حکومت کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس اپنے ملک بھیجنا چاہتی ہے تو یہی افغان مہاجرین جنہوں نے یہاں پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور کاروبار کیا اسی پاکستان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے نفرت اور تعصب کی بو آتی ہے۔

    اگر دنیا کے دیگر ممالک جیسے امریکا اور یورپی ممالک کی مہاجرین کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو آئے روز امریکا جیسا ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بھی مہاجرین اور تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت پالیسیاں نافذ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک افغان مہاجرین کے حوالے سے وطن واپسی کی پالیسی کا اعلان کرتا ہے تو پھر انگلی صرف پاکستان کی طرف اٹھائی جاتی ہے حالانکہ ہر ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی آزاد ہوتی ہے اور ہر ریاست اپنے ملک و عوام کی بقا کے لیے پالیسیاں وضع کرتا اور ان پالیسیوں کو نافذ بھی کیاجاتا ہے۔

    یہاں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے آبادی یعنی شہری ایک لازمی جزو ہیں اور ریاستوں کا شہریوں کے بغیر وجود ناممکن ہے۔ ایسے میں جب افغان شہری پاکستان سے واپس اپنے ملک جاتے ہیں تو ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرے۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے اور اس کی تعریف کرے کیونکہ انہی افغان شہریوں کی وجہ سے افغانستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ جس ملک میں شہری آباد نہ ہوں وہاں حکومت اور ریاست کا نام بے معنی رہ جاتا ہے۔

    افغانستان کے لیے ایک اہم قدم یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر کے افغان شہریوں کو اپنے ہی ملک میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • چاغی میں سونا اور تانبا دریافت،جدید ڈرلنگ شروع

    چاغی میں سونا اور تانبا دریافت،جدید ڈرلنگ شروع

    اسلام آباد (باغی ٹی وی)نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) نے چاغی بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ این آر ایل کے چیئرمین اور لکی سیمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد علی ٹبہ نے یہ اعلان پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے دوران کیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر بھی موجود تھے۔

    این آر ایل، جو فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز لمیٹڈ اور لکی سیمنٹ کی ذیلی کمپنی ہے، ایک مکمل نجی پاکستانی ادارہ ہے۔ اسے اکتوبر 2023 میں ایکسپلوریشن کا лиценس ملا تھا۔ محمد علی ٹبہ کے مطابق 500 کلومیٹر کے علاقے میں گزشتہ 18 ماہ کے دوران 16 ممکنہ معدنی ذخائر کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے تانگ کور میں جدید ڈرلنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

    کمپنی نے اب تک 13 ڈائمنڈ ڈرل ہولز (3517 میٹر) مکمل کیے، جن میں ہر ہول سے معدنیات کے آثار ملے ہیں۔ ابتدائی 6 ڈرل ہولز (1500 میٹر) کے تجزیاتی نتائج سے زمین کے قریب مضبوط معدنی زونز کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان نتائج کے مطابق تانبے کی مقدار 0.23 سے 0.48 فیصد، سونے کی 0.09 سے 0.14 گرام فی ٹن اور چاندی کی 1.30 سے 6.21 گرام فی ٹن ہے جو مجموعی طور پر تانبے کے 0.28 سے 0.56 فیصد ذخائر کے برابر ہے۔

    تانگ کور میں جدید ڈرلنگ مئی 2025 میں شیڈول ہے، جس کے بعد سال کے آخر تک بین الاقوامی کنسلٹنٹس NI 43-101 تکنیکی رپورٹ پیش کریں گے۔ اس کے بعد 3 سے 4 سال تک تفصیلی ایکسپلوریشن اور فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہوں گی جبکہ دیگر مقامات پر بھی تلاش کا عمل جاری رہے گا۔

    اس کے علاوہ این آر ایل نے ایک معروف معدنی کان سے ملحق لیڈ-زنک ایکسپلوریشن کا لائسنس بھی حاصل کرلیا ہے جہاں ایک بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہوچکی ہے۔ کمپنی ایک جامع میٹل ویلیو چین اسٹڈی پر بھی کام کرہی ہے تاکہ ڈاون اسٹریم پراسیسنگ کے امکانات کا مکمل جائزہ لیا جاسکے۔این آر ایل مقامی آبادی کو ترجیح دیتے ہوئے صاف پانی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ فی الحال مقامی ملازمتوں کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے۔

    حکومتِ بلوچستان اور اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے این آر ایل چاغی میں 100 ملین ڈالر کے ایکسپلوریشن فنڈ کے ساتھ 2 اضافی کاپر گولڈ ایکسپلوریشن لائسنس حاصل کرنے کیلئے سرگرمِ عمل ہے۔ اس سلسلے میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (OGDC) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔

    این آر ایل نے حکومتِ بلوچستان اور SIFC کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان میں معدنی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اس تعاون سے مزید ملکی کمپنیاں کان کنی کے شعبے میں شامل ہوں گی جو پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

  •  پاکستان نے بیساکھی کے لیے ہزاروں سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دئے

     پاکستان نے بیساکھی کے لیے ہزاروں سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دئے

    نئی دہلی (باغی ٹی وی)پاکستان نے رواں سال بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے بھارت سے تعلق رکھنے والے 6500 سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں۔

    پاکستان ہائی کمیشن کے مطابق، یہ یاتری 10 اپریل سے 19 اپریل 2025 تک پاکستان میں منعقد ہونے والی سالانہ مذہبی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ اس دوران یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب، گوردوارہ ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کریں گے۔

    اس موقع پر پاکستان ہائی کمیشن کے ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں ویزوں کا اجرا مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے مقدس اور مذہبی مقامات کے دوروں میں سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

  • ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ

    ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ

    ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے نہ صرف دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خود امریکہ کے اندر خوف، نفرت اور تقسیم کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے جو جمہوری روایات اور انسانی حقوق کے لیے مسلسل خطرہ بن چکی ہے۔ بین الاقوامی طلبا کے ویزے منسوخ ہوں یا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی معیشت ہو یا داخلی سیاست، ٹرمپ کا ہر قدم دنیا کے امن، استحکام اور انسانیت کے خلاف ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں کے تقریباً 450 بین الاقوامی طلبا کے ویزے غیر متوقع طور پر اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان طلبہ میں پاکستانی اور دیگر مسلم ممالک کے طلبا بھی شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان طلبا کے ویزے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے منسوخ کیے گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور تعلیمی حلقے اس عمل پر سخت تشویش کا شکار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت خاموشی سے یہ اقدامات کر رہی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویزا منسوخی کی ایک بڑی وجہ ان طلبا کا فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت بتائی جا رہی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ایسے طلبا کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے ہیں جنہوں نے کسی مظاہرے میں شرکت ہی نہیں کی۔ ان اقدامات کا دائرہ ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف مشیگن جیسے بڑے تعلیمی اداروں تک پھیل چکا ہے۔

    ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف مشیگن جیسے عالمی شہرت یافتہ اداروں کے طلبا کو اس غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے نئے رخ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کی امیگریشن اور بین الاقوامی پالیسی کے اس رخ کی علامت ہے جس نے نہ صرف غیر ملکی طلبا بلکہ پوری دنیا کے امریکہ سے وابستہ خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت اپنی پہلی مدت ہی کی طرح سخت گیر، متنازعہ اور دنیا بھر کے لیے خدشات سے بھرپور نظر آتی ہے۔ ان کی’امریکہ فرسٹ؛ پالیسی نے بین الاقوامی تعاون، عالمی اداروں کے احترام اور انسانیت کے مشترکہ مفادات کو بار بار نقصان پہنچایا ہے۔

    گارڈین جیسے معتبر اداروں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پیرس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری اور عالمی ادارہ صحت (WHO) پر بے جا تنقید نے موسمیاتی تبدیلی اور صحت عامہ جیسے عالمی مسائل کے حل کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس روش نے نہ صرف امریکہ کے عالمی کردار کو کمزور کیا بلکہ چین اور روس جیسے ممالک کو دنیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ٹرمپ کی معاشی پالیسی بھی دنیا کے لیے مسائل کا باعث بنی۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی، امریکی صارفین کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ امریکہ کے اتحادی بھی اس معاشی جارحیت کی لپیٹ میں آچکے ہیں ،جس سے امریکہ عالمی تجارتی نظام میں تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے،جس کا براہ راست اثر امریکی عوام پر پڑے گا

    مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی پالیسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کو منتقل کرنے اور علاقے کا کنٹرول سنبھالنے جیسے منصوبے پیش کیے گئے جنہیں عالمی سطح پر نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیا گیا۔ دی گارڈین جیسے معتبر ادارے ان پالیسیوں کو انتہا پسندی کو بڑھاوا دینے اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب قرار دے چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے باوجود ٹرمپ کی دھمکی آمیز زبان نے امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطہ ایک اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔

    امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ نے جو سخت اقدامات کئے ہیں ان کے اثرات نہ صرف تارکین وطن بلکہ بین الاقوامی طلبا پر بھی براہ راست مرتب ہوئے ہیں۔ تازہ ترین ویزا منسوخی کا واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ امریکہ اب تعلیم، تحقیق اور اظہار رائے کی آزادی جیسے عالمی اصولوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کی عالمی تعلیمی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکہ ہے، جس پر دنیا بھر کی یونیورسٹیز اور تعلیمی حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    داخلی طور پر ٹرمپ کے اقدامات نے امریکہ کے اپنے معاشرتی اور جمہوری ڈھانچے کو بھی کمزور کیا۔ مزدور یونینز کے خلاف مہم، ثقافتی اداروں پر پابندیاں اور صحافیوں کے خلاف زبانی حملے، امریکی اقدار کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔ حیران کن طور پر ٹرمپ نے 1798 کے قدیم ‘ایلین انیمیز ایکٹ’ کو استعمال کرتے ہوئے بعض غیر ملکیوں کو بغیر قانونی کارروائی کے ملک بدر کرنے جیسے سخت اقدامات کیے ہیں جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں اور یکطرفہ پالیسی تبدیلیاں امریکی بیوروکریسی کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے یہ تمام پہلو دنیا کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ وہ امریکہ جسے کبھی جمہوریت، آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج انہی اصولوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ عالمی برادری اور خود امریکی عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے ممکنہ خطرناک نتائج کا ادراک کریں اور اپنی آواز بلند کریں کیونکہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے یہ سائے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور انسانی اقدار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    آج جب امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں کے معصوم طلبا اپنے تعلیمی مستقبل سے محروم ہو رہے ہیں، جب کہ مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے تو یہ سوال اب ایک حقیقت بن چکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صرف امریکہ کی تاریخ کا متنازعہ صدر نہیں بلکہ دنیا کے امن، انسانی حقوق، معاشی استحکام اور جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ دنیا کو امریکی عوام کو اور عالمی اداروں کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس خطرے کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

  • علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور (نامہ نگار) علی پور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک اوباش نے 12 سالہ لڑکے کو اپنی حیوانی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹیچر کالونی کے رہائشی افضل کورائی کا 12 سالہ بھتیجا جمشید گھر سے فلٹر شدہ پانی لینے کے لیے اپنے محلے دار بشیر چوہان کے پاس گیا۔ جب تین گھنٹے گزرنے کے باوجود جمشید واپس نہ لوٹا تو اس کے اہل خانہ پریشان ہو گئے اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اس کی تلاش شروع کر دی۔

    تلاش کے دوران جب وہ فتح پور روڈ پر پہنچے تو انہوں نے کھیت کی جانب سے جمشید کے چیخنے کی آواز سنی۔ جب وہ قریب پہنچے تو انہوں نے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ اوباش بشیر چوہان فصل کے اندر جمشید کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔

    لڑکے کے چچا اور دیگر رشتہ داروں نے جب بشیر چوہان کو للکارا تو وہ جمشید کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ فوری طور پر 15 پر کال کی گئی جس کے بعد تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    متاثرہ لڑکے کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکے کے چچا کی مدعیت میں ملزم بشیر چوہان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے گرفتار کر کے علاقہ مجسٹریٹ علی پور سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس اس گھناؤنے جرم کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

  • جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔قاتل کی گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ اور تجزیہ: ریاض جاذب
    محمد عربی کے قتل کے دلخراش واقعہ نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قدر محفوظ ماحول فراہم کر پا رہے ہیں۔

    محمد عربی کا دل دہلا دینے والا قتل ایک ناقابل تصور المیہ ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

    گزشتہ روز جتوئی میں ایک 6 سالہ معصوم بچے محمد عربی کی لاش سورج مکھی کے کھیتوں سے ملی تھی۔یہ ایک ناقابل تصور حد تک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے کہ جس میں ایک چھ سالہ کلی کو بے دردی سے مسل دیا گیا۔ اس معصوم جان کا سفاکانہ قتل پورے معاشرے کے لیے ایک المناک صدمہ ہے۔

    دل چیر کر رکھ دینے والی اس خبر کی تفصیلات ہیں کہ تھانہ جتوئی ضلع مظفر گڑھ پولیس کو 6 اپریل کو اطلاع موصول ہوئی کہ نزدیکی گاؤں میں ایک سورج مکھی کے کھیت میں ایک بچے کی خون آلود لاش پڑی ہوئی ہے۔

    پولیس نے اس اطلاع پر فوری رسپانس کیا اور متعلقہ تھانہ کی پولیس پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور کرائم سین انویسٹی گیشن یونٹ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

    فوری طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس ملزمان کو ٹریس کرنے میں مصروف عمل ہو گئی۔ پولیس نے علاقے کے تمام کریمنلز جن کا ریکارڈ تھانے میں درج ہے، ایسے افراد کو چیک کیا۔ مشکوک افراد میں شامل ایک نوجوان کی علاقے میں عدم موجودگی پر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے اس کی لوکیشن ٹریس کی اور نشان زد لوکیشن سے اس شخص کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کی حراست میں دوران تفتیش اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا۔ قتل کے وقوعہ اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کی جس کی تصدیق کی گئی۔ تفتیش اور میڈیکل رپورٹ میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف نہیں ہوا۔ سفاک قاتل سے تفتیش جاری ہے اور آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    سفاک قاتل کی گرفتاری پر والدین سمیت علاقے کے عوام نے آر پی او سجاد حسن خان اور ڈی پی او مظفر گڑھ سمیت مقامی پولیس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امید ظاہر کی ہے کہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے جلد از جلد باقی کارروائی کو مکمل کرے گی۔ ملزم کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے جو آئندہ ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک معاشرے کے طور پر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مجرموں کے خلاف متحد ہوں۔

    اس گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور جلد انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ تفتیش کار ابھی تک آلہ قتل کی تلاش میں ہیں اور طبی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔

    اس المناک واقعے نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، نقصان دہ ثقافتی روایات کی اصلاح اور مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ کمیونٹی کی بیداری اور شمولیت بھی اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور افراد مل کر ایک ایسا محفوظ معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کو تحفظ اور امن کا ماحول میسر ہو۔