Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: قانون بے بس، ٹاؤٹ لسٹ میں شامل جعلی صحافی کے ہاتھوں عوام ذلیل

    اوچ شریف: قانون بے بس، ٹاؤٹ لسٹ میں شامل جعلی صحافی کے ہاتھوں عوام ذلیل

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں قانون کی حکمرانی سوالیہ نشان بن گئی ہے، جہاں ان پڑھ بلیک میلر صحافیوں نے تھانہ اوچ شریف میں ٹاؤٹ مافیا کا روپ دھار لیا ہے۔ ان جعلی صحافیوں کی جانب سے نہ صرف شہریوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے بلکہ تھانہ پولیس کے ساتھ مل کر غیر قانونی سرگرمیاں بھی انجام دی جا رہی ہیں۔

    اس صورتحال کا انکشاف اس وقت ہوا جب سابق ڈی پی او بہاولپور فیصل کامران نے ٹاؤٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تھانہ میں آویزاں کی جانے والی لسٹوں میں ان بلیک میلر صحافیوں کے نام شامل کیے تھے۔ ان لسٹوں میں عبدالستار بریرا نامی ایک ان پڑھ بلیک میلر صحافی کا نام بھی شامل تھاجو شہریوں کو بلیک میل کرنے اور تھانہ کے اندر غیر قانونی کاموں میں معاونت فراہم کرنے میں ملوث ہے۔

    سابق ڈی پی او فیصل کامران کی سخت کارروائی کے بعد ان بلیک میلر صحافیوں کو تھانہ میں ان سرگرمیوں سے باز آنا پڑا تھا لیکن ان کے تبادلے کے بعد یہ مافیا ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔

    شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز خان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بلیک میلر صحافیوں کی وجہ سے انہیں تھانہ میں مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی عزت و وقار کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او اسد سرفراز خان فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالیں اور اس مافیا کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ شہریوں کو انصاف مل سکے اور قانون کی حکمرانی قائم ہو۔

    عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور انہیں امید ہے کہ ڈی پی او اسد سرفراز خان جلد اس معاملے پر کارروائی کریں گے اور اوچ شریف میں مافیا کے عناصر کا خاتمہ کر کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔

  • ننکانہ :جمعۃ الوداع، فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم پر عالمی خاموشی افسوسناک،مولانا عتیق الرحمان

    ننکانہ :جمعۃ الوداع، فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم پر عالمی خاموشی افسوسناک،مولانا عتیق الرحمان

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع ننکانہ صاحب کے ضلعی امیر مولانا عتیق الرحمان اظہر نے جمعۃ الوداع کے موقع پر مرکزی جامع مسجد کھیاڑے کلاں میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کا قاتل ہے۔

    مولانا عتیق الرحمان اظہر نے کہا کہ مسلمانوں کا قبلہ اول آج ہماری راہ تک رہا ہے، جہاں اسرائیل ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت امت مسلمہ کے متحد ہونے کا ہے تاکہ فلسطین کی آواز کو یک زبان ہو کر بلند کیا جا سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ وہ یک زبان ہو کر اسرائیل کے خلاف آواز بلند کریں۔

    اس موقع پر مولانا عتیق الرحمان اظہر نے پاکستان کی ترقی و سلامتی، امن و امان اور افواج پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ پاکستان کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے اور ملک میں امن و امان قائم کرے۔

  • سیالکوٹ: ریسکیو 1122 کا عید الفطر کے لیے ہائی الرٹ پلان

    سیالکوٹ: ریسکیو 1122 کا عید الفطر کے لیے ہائی الرٹ پلان

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض) ریسکیو 1122 نے عید الفطر کی تعطیلات کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ایمرجنسی کوریج پلان ترتیب دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے اعلان کیا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران تمام ریسکیورز کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور کسی بھی ریسکیور کی چھٹی منظور نہیں کی جائے گی۔

    اس سلسلے میں سینٹرل ریسکیو اسٹیشن کچہری روڈ پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے کی۔ اجلاس میں ایمرجنسی آفیسر عرفان یعقوب کے علاوہ تمام تحصیل انچارجز اور دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایت پر عید کے دوران اہم مقامات، مساجد اور عید گاہوں پر میڈیکل کوریج فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    چاند رات کے موقع پر بھی ریسکیو 1122 کی گاڑیاں شہر کے اہم اور رش والے مقامات پر موجود رہیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ وارڈن جمیل جنجوعہ کی قیادت میں ریسکیو محافظین بھی ہائی الرٹ رہیں گے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے تمام انچارجز کو ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی گاڑیاں ہر وقت تیار رہیں اور ان میں ادویات کی وافر مقدار موجود ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی مشکل پیش آنے پر فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ دہشت گرد تنظیم ثابت، امریکی کمیشن کی پابندی کی سفارش

    بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ دہشت گرد تنظیم ثابت، امریکی کمیشن کی پابندی کی سفارش

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کر دی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’را‘‘ 2023 میں سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کے قتل کی سازشوں میں براہ راست ملوث رہی، جبکہ بھارتی انٹیلی جنس کے سابق افسر وکاش یادیو سکھ علیحدگی پسندوں پر حملوں میں شامل تھے۔

    رپورٹ میں امریکی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’’را‘‘ اور اس کے ایجنٹوں پر خصوصی پابندیاں عائد کرے۔ اس کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہےاور بھارت کو ’’خصوصی تشویش کے حامل ملک‘‘ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

    2024 کے انتخابات میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بھارت میں امتیازی شہریت، جبری مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلم املاک کی مسماری کو اقلیتوں کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے کے دہشت گرد حملوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے گئے، جبکہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ’’را‘‘ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

  • گوجرانوالہ: ریڈ بک میں درج انسانی سمگلر سمیت دو ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ: ریڈ بک میں درج انسانی سمگلر سمیت دو ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ میں ملوث دو خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں سے ایک کا نام ریڈ بک میں شامل تھا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان گجرات اور گوجرانوالہ میں سرگرم تھے اور سادہ لوح شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے میں ملوث تھے۔ ملزمان دھوکہ دہی سے شہریوں سے بھاری رقم وصول کرکے انہیں جعلی ویزوں کے ذریعے بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دیتے تھے۔

    کارروائی کے دوران انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث ملزم علی اکبر کو چکوال سے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے مطابق ملزم نے ایک شہری کو اسٹڈی ویزا پر امریکا بھجوانے کے نام پر 37 لاکھ روپے ہتھیائے تھے۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں اور ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی ایجنٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • پیوٹن جلد مر جائیں گے،زیلنسکی کی پیشگوئی

    پیوٹن جلد مر جائیں گے،زیلنسکی کی پیشگوئی

    یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جلد وفات پا جائیں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق زیلنسکی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پیوٹن کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا، "یہ حقیقت ہے، یہ سب ختم ہو جائے گا۔”

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ پیوٹن اپنی آخری سانس تک اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اور مغرب کے ساتھ تصادم کے خواہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی پیشگوئی کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

    پیوٹن کی صحت کے حوالے سے کئی برسوں سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد سے۔ ماضی میں بھی دعوے کیے گئے کہ انہیں کینسر یا پارکنسن جیسی بیماری لاحق ہے تاہم کریملن نے ان افواہوں کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے وفود نے سعودی عرب میں مذاکرات کے دوران توانائی تنصیبات پر حملے اور بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

  • قلات اور کلر کہار میں بس حادثات، 11 جاں بحق، درجنوں زخمی

    قلات اور کلر کہار میں بس حادثات، 11 جاں بحق، درجنوں زخمی

    بلوچستان کے ضلع قلات اور موٹروے ایم ٹو کلر کہار کے قریب دو بس حادثات میں مجموعی طور پر 11 افراد جاں بحق اور 37 زخمی ہوگئے۔

    قلات کے قریب کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے کوئٹہ جانے والی دو بسیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ے۔ لیویز حکام کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو قلات اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    دوسری جانب راولپنڈی سے وہاڑی جانے والی بس کلر کہار میں ڈرائیور کے بے قابو ہونے سے الٹ گئی، حادثے میں 5 مسافر جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے، جن میں 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو 1122 اور موٹروے پولیس نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں مکمل کیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں حادثات ڈرائیور کی لاپرواہی کے باعث پیش آئے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

    افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

    افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان چھوڑنے کا حکم
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    اجتماعی طور پر پاکستانی قوم کی مہمان نوازی کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود پاکستانیوں نے گزشتہ 4 دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔ آپس میں سیاسی اور مختلف طرح کے اختلافات کے باوجود کبھی کسی پاکستانی نے اپنے ملک میں افغان مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی پر ناک بھوں نہیں چڑھائی۔ خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب یا بلوچستان ہر جگہ ان کو خندہ پیشانی سے قبول کیا گیا۔ یہ ہیروئن، کلاشنکوف اور لاقانونیت کا مزاج اور کلچر ہمراہ لے کر آئے، جس نے پاکستانی سماج کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس سب کے باوجود پاکستانیوں نے افغان مہاجرین کو نکالنے یا انھیں واپس بھیجنے کا کبھی مطالبہ نہیں کیا تھا حالانکہ افغان مہاجرین نے مہاجر کیمپوں سے نکل کر ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر کا رخ کیا تو اس وقت بھی یہ پاکستانیوں کی دریادلی اور افغان بھائیوں کے لیے دلوں میں موجود ایثار کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے انھیں روکنے کی کوشش نہیں کی گئی جو کہ یقینی طور پر بہت بڑی غلطی تھی۔ اس کے برعکس، ایران میں افغان مہاجرین کے مہاجر کیمپوں سے نکلنے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی۔

    پاکستان میں حکومتوں اور عوام کے جذبہ ایثار کے سبب جب افغان مہاجرین نے ملک کے طول و عرض میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا تو بعض علاقوں میں مقامی تاجروں کے کاروبار پر قبضے کی شکایات بھی سامنے آئیں، جس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صرف اس لیے درگزر کا مظاہرہ کیا کہ ہمارے یہ افغان بھائی جنگ زدہ افغانستان میں اپنا گھر بار اور کاروبار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بڑی مشکل سے جان بچا کر پاکستان آئے ہیں۔ یہی مہربانیاں تھیں جن کی بدولت افغان مہاجرین پاکستان میں مہمان ہونے کے باوجود مقامی آبادی کے مقابلے میں پھیلتے پھولتے چلے گئے۔

    گزشتہ دنوں وفاقی وزارت داخلہ نے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ 2025 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کی واپسی کا پروگرام (آئی ایف آر پی) یکم نومبر 2023 سے نافذ ہے اور اب تمام غیر قانونی غیر ملکی اور اے سی سی ہولڈرز کو 31 مارچ 2025 تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی بھی یکم اپریل 2025 سے ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو باعزت واپسی کے لیے کافی وقت دیا جا چکا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ واپسی کے عمل کے دوران کسی کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی، واپس جانے والے غیر ملکیوں کے لیے خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے وعدوں اور فرائض کو پورا کرتا رہا ہے اور یہاں رہنے والے افراد کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور آئین کی پابندی کرنا ہوگی۔

    افغانستان کے خلاف سابق سوویت یونین کی جارحیت کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین ہجرت کر کے پاکستان آئے اور انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں پناہ لی۔ پاکستانی عوام نے اپنے افغان بھائیوں کا دل کھول کر استقبال کیا، انہیں اپنے گھروں میں پناہ دی اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔ ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین کو صرف افغان کیمپوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں ہر جگہ آنے جانے اور کاروبار کرنے کی بھی مکمل اجازت دی گئی تھی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد سے ملک کی معیشت پر بھی بوجھ بڑھا جبکہ متعدد مہاجرین مختلف جرائم میں ملوث رہے، جس کی وجہ سے امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

    سوویت یونین کے انخلا کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس چلے جاتے لیکن اس کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین اب تک پاکستان میں موجود ہیں۔ گزشتہ سال حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے انخلا کا اعلان کیا، جس کے دوران تقریباً 9 لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ اب بھی ان کی بڑی تعداد یہاں چوری چھپے مقیم ہے۔ اب افغان مہاجرین کو چاہیے کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جائیں اور ملکی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔

    پاکستان نے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے لیے افغان طالبان کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور کابل کو واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ اسلام آباد یکم اپریل سے تمام غیر قانونی اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو ملک بدر کرنے کے منصوبے پر قائم رہے گا۔ افغان حکومت نے حال ہی میں اپنے شہریوں کی جبری ملک بدری اور مبینہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا ہے کہ افغان حکومت اپنے ہم وطنوں کی باوقار واپسی کے لیے ماحول پیدا کرے۔

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو نکالنے کی وفاقی پالیسی سے ان کا اختلاف ہے اور اگر افغانی پاکستان کی شہریت لینا چاہتے ہیں تو انہیں دے دینی چاہیے۔ پاکستان نے افغانستان پر سوویت جارحیت کے دور سے لے کر اب تک تقریباً 50 لاکھ افغانوں کی میزبانی کی ہے۔ دنیا کے کسی ملک نے کسی بھی مہاجر کو وہ آزادی نہیں دی جو پاکستان میں افغانوں کو دستیاب رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بعض افغان مہاجرین اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں بدامنی یہاں تک کہ دہشت گردی میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں دس سے زیادہ افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر افغان مہاجرین پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہوئے افغانستان کی تعمیر و ترقی کے گن گاتے ہیں، افغان حکومت کا بھی یہی دعویٰ ہے۔ لہٰذا ان مہاجرین کو چاہیے کہ وہ نصف صدی کی میزبانی کے بعد اپنے وطن واپس جائیں۔ افغان حکومت کو بھی اپنے شہریوں کے حوالے سے کشادہ ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انہیں قبول کرنا چاہیے۔

    یہی وہ عوامل ہیں جن کے سبب وزارت داخلہ نے تمام غیر قانونی تارکین وطن اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ 2025 تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس میں ان کی عزتِ نفس اور خیریت کو یقینی بنایا جائے گا۔ افغان مہاجرین کی پاکستان سے رخصتی کے حوالے سے حکومت کے اعلان پر پاکستانی عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے قومی سلامتی اور معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بجا طور پر یہ اقدام اٹھایا ہے۔ افغان مہاجرین کو بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سے ان کی میزبانی کا فریضہ ادا کر رہا ہے۔

  • ننکانہ : قبلہ اول کی آزادی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف بعد نمازجمعہ احتجاج ہوگا

    ننکانہ : قبلہ اول کی آزادی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف بعد نمازجمعہ احتجاج ہوگا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اسرائیلی دہشت گردی اور قبلہ اول کی آزادی کے حق میں بعد از نماز جمعہ ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ جس کی قیادت جنرل سیکریٹری ثاقب مجید کریں گے اور یہ احتجاج ہاؤسنگ کالونی چوک میں بعد از نماز جمعہ کیا جائے گا۔ جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

    ثاقب مجید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ایک بار پھر اپنے معاہدوں سے منحرف ہو کر وحشیانہ بمباری اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں اضافہ کر دیا ہے۔ مسجد اقصیٰ پر حملے، معصوم بچوں اور خواتین کا قتل عام اور غزہ میں جاری تباہی انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کر رہی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام پر مظالم کے باوجود عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلم امہ متحد ہو کر قبلہ اول کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف سخت سفارتی اقدامات کیے جائیں اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے موثر آواز بلند کی جائے۔

    ثاقب مجید نے تمام اہلِ اسلام، انسانی حقوق کے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں تاکہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط پیغام دیا جا سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں عوام کی بڑی تعداد فلسطینی بھائیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل رہی ہے۔

  • پاک افغان یوتھ فارم کے زیر اہتمام ویبینار کا انعقاد،افغان بحران کےجامع حل کی ضرورت پر زور

    پاک افغان یوتھ فارم کے زیر اہتمام ویبینار کا انعقاد،افغان بحران کےجامع حل کی ضرورت پر زور

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)پاک افغان یوتھ فورم کے زیر اہتمام ایک ویبینار میں افغانستان کو درپیش پیچیدہ مسائل، بشمول طرزِ حکمرانی، نقل مکانی اور مہاجروں کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ویبینار کی میزبانی منیبہ راسخ نے کی، جبکہ ممتاز ماہرین بشمول انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے وائس چیئرمین سابق سفیر سید ابرار حسین، نمل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ساجد اقبال خٹک اور افغان سماجی کارکن ڈاکٹر ضیاء الرحمن نے اس میں شرکت کی۔

    ماہرین نے افغانستان میں جاری بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے جن میں 80 فیصد کلینکس اور اسپتالوں کو درپیش وسائل کی کمی، 10 لاکھ ثانوی درجے کی طالبات کی تعلیم سے محرومی اور 67 فیصد گھروں میں صاف پانی تک رسائی کا نہ ہونا شامل تھا۔ انہوں نے اس بحران کے حل کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ویبینار میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مہاجرین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی، جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے مابین فرق کو سمجھنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی مسئلے کے مستقل حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    اس ویبینار میں طلبہ، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنان اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ ماہرین نے اپنی قیمتی آرا پیش کیں جبکہ شرکاء نے سوال و جواب کے سیشن میں بھی حصہ لیا۔

    پاک افغان یوتھ فورم، پاکستان اور افغانستان کے مابین افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے اور یہ ویبینار اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔