Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لنڈیکوتل: این ایل سی میں رشوت خوری اور نسلی تعصب کا الزام، متاثرہ سیکیورٹی اہلکار کی پریس کانفرنس

    لنڈیکوتل: این ایل سی میں رشوت خوری اور نسلی تعصب کا الزام، متاثرہ سیکیورٹی اہلکار کی پریس کانفرنس

    لنڈیکوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) این ایل سی میں رشوت خوری اور نسلی تعصب کا الزام، متاثرہ سیکیورٹی اہلکار کی پریس کانفرنس

    لنڈیکوتل پریس کلب رجسٹرڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لنڈیکوتل اشخیل کے رہائشی سدیس ولد شمشاد خان نے این ایل سی میں رشوت خوری اور نسلی تعصب کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے این ایل سی میں سیکیورٹی کی نوکری کر رہے تھے، لیکن ان کے سپروائزرز شکیل، گل بہادر، اور عظمت، جو شلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں، مسلسل شینواری قوم سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔

    سدیس کے مطابق یہ سپروائزرز پائپرس کمپنی کے منیجر علیم خان کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹی شکایات درج کرواتے ہیں۔ جب انہوں نے خود شینواری اہلکاروں کا سپروائزر بننے کی خواہش ظاہر کی تو ان سے 1 لاکھ 20 ہزار روپے مانگے گئے جو انہوں نے مجبوراً ادا کیے۔ انہیں سپروائزر بنایا گیا لیکن صرف تین دن بعد شکیل نے 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی رشوت علیم خان کو دے کر انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔

    انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ سپروائزرز این ایل سی کے ایکسپورٹ اور امپورٹ ٹرمینلز میں کام کرنے والے اہلکاروں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ غیر قانونی طریقے سے گاڑیوں سے پیسے وصول کریں۔ اگر کوئی انکار کرے تو اس کے خلاف شکایات درج کروا دی جاتی ہیں یا اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔

    سدیس نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ حکام ان سپروائزرز اور پائپرس کمپنی کے منیجر کے خلاف فوری تحقیقات کریں اور انہیں ان کا حق دیا جائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوں گے اور پھر گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

  • اوچ شریف: فیملی پارک گدھوں کی چراگاہ بن گیا،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    اوچ شریف: فیملی پارک گدھوں کی چراگاہ بن گیا،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان ) فیملی پارک گدھوں کی چراگاہ بن گیا،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    اوچ شریف کے فیملی پارک کی حالت زار پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ پارک اب تفریح گاہ کے بجائے گدھوں کی چراگاہ بن چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پارک میں صفائی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کے باعث پارک میں گندگی کے ڈھیر اور بدبو پھیل رہی ہے۔

    شہریوں کی شکایات کے مطابق، پارک کے گراسی گراؤنڈ میں قریبی مکینوں نے گدھوں کو باندھ دیا ہے، جو کھلے عام وہاں چرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارک میں گندے پانی کے جوہڑ اور کچرے کے ڈھیر بھی موجود ہیں، جس سے پارک کا ماحول انتہائی غیر صحت بخش ہو چکا ہے۔

    پارک میں فوارے بھی برسوں سے غیر فعال ہیں اور آوارہ کتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو چکا ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد نے میونسپل کمیٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارک کی صفائی اور دیکھ بھال کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ وہ فیملی پارک کی حالت زار کا فوری نوٹس لیں اور اس کی صفائی اور بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارک کی بحالی سے نہ صرف شہریوں کو تفریح کا موقع ملے گا بلکہ علاقے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔

  • سیالکوٹ: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خصوصی بچوں کو عید کا تحفہ

    سیالکوٹ: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خصوصی بچوں کو عید کا تحفہ

    سیالکوٹ ، باغی ٹی وی ( بیورو چیف شاہد ریاض) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عید الفطر کے موقع پر خصوصی بچوں کو ایک بڑا تحفہ دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے ضلع سیالکوٹ میں گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن کے 8 اداروں میں زیر تعلیم 812 بچوں میں عید کے تحائف تقسیم کئے۔

    گورنمنٹ سیکنڈری سکول آف اسپیشل ایجوکیشن نیکا پورہ سیالکوٹ میں عید گفٹ تقسیم کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا کہ جسمانی معذوری کا شکار خصوصی بچوں کی نگہداشت پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عید الفطر پر ان کے لیے خصوصی تحائف بھیجے ہیں جس سے ان کی اور ان کے گھر والوں کی عید کی خوشیاں دوگنی ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کے لیے ضلع سیالکوٹ میں سرکاری سطح پر 8 ادارے کام کر رہے ہیں جہاں بچوں کو مفت تعلیم، مفت ٹرانسپورٹ اور ماہانہ وظائف بھی دیئے جاتے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ان اداروں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے جس کا مقصد ان سکولوں میں معیار تعلیم اور ڈسپلن کو بہتر بنانا اور ان بچوں کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر سی ای او ایجوکیشن مجاہد حسین علوی، ڈی ای او ایلیمنٹری ایجوکیشن محمد احمد ججہ، اور ڈپٹی ڈی ای اوز محمد آصف اور افتخار احمد ساہی بھی موجود تھے۔

  • قصور: لیسکو کی نااہلی، ایک سال میں 37 ارب کی بجلی چوری

    قصور: لیسکو کی نااہلی، ایک سال میں 37 ارب کی بجلی چوری

    قصور ( ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو سے ) لیسکو حکام قصور کے بجلی چوروں کے آگے بے بس ہوگئے، ایک سال میں 37 ارب 20 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری کرلی گئی، مقدمات درج ہونے کے باوجود اربوں روپے کی ریکوری نہ ہوسکی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لیسکو کے لیے قصور بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ لیسکو کے 7 سرکلز میں سب سے زیادہ بجلی چوری قصور سرکل میں رپورٹ ہوئی ہے۔

    سیاسی مداخلت اور بااثر افراد کی پشت پناہی کے باعث لیسکو افسران بجلی چوروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے، اگر کوئی افسر جرات کا مظاہرہ کرے تو اسے مقامی اراکین اسمبلی کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کئی افسران اور اہلکاروں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔

    لیسکو دستاویزات کے مطابق بجلی چوری کی وجہ سے قصور سرکل میں پوری کمپنی کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ ایک سال میں 37 ارب، 20 کروڑ، 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری ہوئی، مگر لیسکو افسران کو بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں تو چوروں کو پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    لیسکو ذرائع کے مطابق اگر قصور میں بجلی چوروں کو سیاسی پشت پناہی نہ ملے تو قومی خزانے کو سالانہ 40 ارب روپے کے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔ قصور کے مختلف ڈویژنز میں بجلی چوری کے اعداد و شمار کے مطابق قصور رورل ڈویژن میں8 ارب 64 کروڑ 80 لاکھ روپے،پھول نگر ڈویژن میں 9 ارب 62 کروڑ 90 لاکھ روپے،چونیاں ڈویژن میں 9 ارب 38 کروڑ 70 لاکھ روپے،قصور سٹی ڈویژن میں 5 ارب 66 کروڑ 70 لاکھ روپے اورکوٹ رادھا کشن ڈویژن میں 2 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری کی گئی

    ایک سال کے دوران بجلی چوروں کے خلاف 26 ہزار 9 سو 87 مقدمات درج کیے گئے، تاہم بجلی چوروں کو 84 کروڑ 89 لاکھ 63 ہزار روپے کے ڈی بل چارج کیے گئے، مگر صرف 33 کروڑ 68 لاکھ 67 ہزار 911 روپے کی وصولی ممکن ہوسکی۔ اس طرح قصور سرکل میں ریکوری کی شرح محض 40 فیصد رہی۔

    لیسکو ذرائع کے مطابق بجلی چوری میں ملوث عناصر کو بااثر سیاسی خاندانوں کی سرپرستی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کارروائی سے گریزاں ہے، اور لیسکو حکام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

  • امریکہ میں سکھوں کا خالصتان ریفرنڈم، بھارت سے علیحدگی کا فیصلہ

    امریکہ میں سکھوں کا خالصتان ریفرنڈم، بھارت سے علیحدگی کا فیصلہ

    لاس اینجلس: خالصتان کے قیام کے لیے امریکا میں ہونے والے ریفرنڈم میں لاکھوں سکھوں نے اپنا فیصلہ سنادیا، علیحدہ ریاست کے قیام کے حق میں ووٹنگ مکمل ہوگئی۔

    کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں منعقدہ اس ریفرنڈم میں امریکا بھر سے سکھ کمیونٹی کے افراد شریک ہوئے۔ صبح نو بجے شروع ہونے والی ووٹنگ میں سکھ مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ ریفرنڈم کے دوران "خالصتان زندہ باد” کے نعرے گونجتے رہے اور شرکاء نے بھارت کے مظالم کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا۔

    سکھ رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں بھارتی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے، مگر ان ہتھکنڈوں سے خالصتان کی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔

    ریفرنڈم میں شرکت کرنے والے سکھوں نے بھارت کے پنجاب کو آزاد خالصتان ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ منتظمین کے مطابق اس ووٹنگ میں 35 ہزار سے زائد سکھوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو اس تحریک کی طاقت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    ووٹنگ کے اختتام پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے خطاب میں اعلان کیا کہ اگلا خالصتان ریفرنڈم 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا۔ انہوں نے اس عمل کی حمایت کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سکھ عوام اب بھارت کی گولیوں کا جواب ووٹوں سے دے رہے ہیں۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ سکھ قوم بھارت کے تسلط میں مزید نہیں رہنا چاہتی، اور خالصتان کے قیام کے لیے یہ جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

  • ننکانہ:ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے گرینڈ جرگے کی ضرورت ہے، خالد مسعود

    ننکانہ:ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے گرینڈ جرگے کی ضرورت ہے، خالد مسعود

    ننکانہ صاحب، باغی ٹی وی(نامہ نگار ، احسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو ایڈووکیٹ نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور مسائل کے حل کیلئے گرینڈ جرگے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قیادت اور سٹیک ہولڈرز کو اس جرگے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

    خالد مسعود سندھو نے کہا کہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں ہے، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے تدارک اور ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے ناکام حکومتی پالیسیوں کو ملکی حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر نے کہا کہ ان کی جماعت اقتدار میں آئے بغیر خدمت کی سیاست کر رہی ہے اور ننکانہ صاحب سمیت ملک بھر میں متعدد فلاحی منصوبے چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں میں لوگوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ انہیں باعزت روزگار کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔

    خالد مسعود سندھو نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ قوم کے اتحاد کیلئے کوشاں ہے اور انہوں نے گرینڈ جرگے کیلئے صدر مملکت کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جرگے میں تمام سیاسی قیادت اور سٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے حکمت عملی بنائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ اس جرگے میں نہیں آئیں گے، قوم ان کا احتساب کرے گی۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر نے جعفر ایکسپریس پر حملے کو قومی سانحہ قرار دیا اور اس واقعے پر سیاست کرنے والوں کی مذمت کی۔ انہوں نے خیبر پختونخواہ میں بارہ سال حکومت کرنے والوں پر امن قائم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔

    خالد مسعود سندھو نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت قوم کو اکٹھا کرنے کیلئے عید کے بعد مہم شروع کرے گی۔

  • بابا گورو نانک یونیورسٹی میں یوم پاکستان جوش و جذبے سے منایا گیا

    بابا گورو نانک یونیورسٹی میں یوم پاکستان جوش و جذبے سے منایا گیا

    ننکانہ صاحب، باغی ٹی وی(نامہ نگار، احسان اللہ ایاز) بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں یومِ پاکستان قومی جذبے اور ولولے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقررین نے پاکستان کی تاریخ، قراردادِ پاکستان 1940 کی اہمیت، اور مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی پر روشنی ڈالی۔ سیمینار کا مقصد طلبہ میں قومی شعور بیدار کرنا اور انہیں قیام پاکستان کی جدوجہد سے روشناس کرانا تھا۔

    طلبہ نے اس سیمینار میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی اور آزادی کی جدوجہد پر مبنی تقاریر پیش کیں۔ مقررین نے ان مشکلات اور قربانیوں پر روشنی ڈالی جو مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے حصول کے لیے دیں۔ سیمینار کا مقصد نوجوان نسل کو قومی تاریخ اور ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔

    ڈاکٹر سمیرا نعیم، انچارج ڈیپارٹمنٹ آف کیمسٹری، نے اپنی تقریر میں قیام پاکستان کے دوران خواتین پر ہونے والے ظلم اور تشدد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو تعلیم کے حصول اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی، اور اس تناظر میں قائداعظم محمد علی جناح کے اس مؤقف کو اجاگر کیا کہ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرکے سیاست میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آج کے دور میں سیاست کو منفی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اپنی اختتامی گفتگو میں، انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔

    ڈاکٹر شاہد مبین، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف میتھمیٹکس اور ڈائریکٹر کوالٹی انحانسمنٹ سیل، نے برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مسلم حکمرانی، 1857 کی جنگ آزادی اور قیام پاکستان تک کی تفصیلی تاریخ بیان کی۔ انہوں نے قراردادِ پاکستان 1940 کے پس منظر اور اس کے تاریخی و قومی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔

    ڈاکٹر یاسر سعید، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز، نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کی اور 23 مارچ کو تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کے قومی پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپنی اختتامی گفتگو میں، انہوں نے اس پیغام پر زور دیا کہ ہمیں ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔

    پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی اور ڈائریکٹر اکیڈمکس، نے پاکستان اور دیگر ممالک کی ترقی کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ان چیلنجز اور خامیوں کو اجاگر کیا جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنی اختتامی گفتگو میں، انہوں نے ملک کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

    یہ سیمینار ملی جذبے اور حب الوطنی کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے عہد کی تجدید کی۔ اس موقع پر مقررین نے پاکستان کے قیام کے لیے دی گئی قربانیوں کو یاد دلاتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں اپنے وطن کے استحکام اور خوشحالی کے لیے بھرپور محنت کرنی چاہیے۔

  • اوچ شریف:ننگا پل’ کی بدحالی، عوام کی زندگیوں کو خطرہ، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف:ننگا پل’ کی بدحالی، عوام کی زندگیوں کو خطرہ، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف (نامہ نگار باغی ٹی وی، حبیب خان): اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول پور میں واقع "ننگا پل” کی خستہ حالی نے مقامی عوام کی زندگیوں کو شدید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی افراد نے اس پل کو "ننگا پل” کا لقب دے دیا ہے کیونکہ اس کی تباہی نے شہریوں کو نہ صرف روزانہ کی آمد و رفت میں مشکلات کا شکار کر دیا ہے، بلکہ اس کی بدتر حالت نے ایک بڑے حادثے کا خدشہ بھی بڑھا دیا ہے۔

    یہ پل کئی دیہاتوں کو قومی شاہراہِ کے ایل پی روڈ اور سی پیک سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، جس پر روزانہ ہزاروں افراد کا گزر ہوتا ہے۔ تاہم، پل کے پشتے کمزور ہو چکے ہیں اور حفاظتی جنگلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے یہاں اکثر حادثات پیش آ رہے ہیں۔ اس پل کو استعمال کرنے والے کسان، طلباء اور عام شہری ہر وقت خطرے میں مبتلا رہتے ہیں۔ سکول کے اوقات میں بچوں کا گزرنا اور خواتین کا اس پل سے گزرنا مزید خطرناک ہو چکا ہے۔

    مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ پل ان کے زرعی اجناس کی منڈیوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے، اور اس کی خراب حالت نے ان کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وہ اپنی اجناس بروقت منڈیوں تک پہنچانے میں ناکام ہو رہے ہیں، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    اس پل کی ناقص حالت کے باعث روزانہ کی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس پل کی مرمت کی جائے اور اس کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پل کی مرمت اور توسیع نہ کی گئی تو یہ "ننگا پل” ایک سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

    مقامی عوام نے کمشنر بہاول پور، ڈپٹی کمشنر بہاول، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے تاکہ اس پل کی حالت بہتر ہو سکے اور عوام کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • چنیوٹ: یوم پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا گیا

    چنیوٹ: یوم پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا گیا

    چنیوٹ (نامہ نگار) ضلع چنیوٹ میں یوم پاکستان 23 مارچ 2025 کو ملی جوش و جذبے اور شایانِ شان طریقے سے منایا گیا، اس موقع پر مختلف سرکاری و نجی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

    پرچم کشائی کی مرکزی تقریب میونسپل کمیٹی کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی جہاں ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل طلحہ سعید، اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ اشفاق رسول، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی مظفر بیگ، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن محمد ظفر اور دیگر افسران کے ہمراہ قومی پرچم لہرایا۔ پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جبکہ بینڈ کی دھنوں پر قومی ترانہ گایا گیا۔ اس موقع پر ملک کی ترقی و خوشحالی، قومی یکجہتی، امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور تحریک پاکستان کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اہلِ وطن کو یوم پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ کا دن تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی روز قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی، جس نے قیام پاکستان کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں تعمیرِ پاکستان کے عزم کی تجدید کا پیغام دیتا ہے اور ہمیں بحیثیت قوم ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے دفاع اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا جا سکے۔ دیگر افسران نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، باہمی محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دے کر ہی وطن عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنایا جا سکتا ہے۔

    قبل ازیں دن کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں سے کیا گیا، جبکہ تحریک پاکستان کے شہداء کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اسی طرح مختلف تعلیمی اداروں میں یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد ہوئیں جن میں ملی نغمے، تقاریر اور دیگر ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے۔ سماجی، مذہبی اور کاروباری تنظیموں نے بھی یوم پاکستان کی مناسبت سے خصوصی پروگرامز ترتیب دیے۔

    ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل نے گورنمنٹ ہائی اسکول مندر روڈ میں یوم پاکستان سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جہاں طالب علموں نے ملی نغمے پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ 23 مارچ کا دن پاکستان کی شناخت کے سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم پاکستان منانے کا مقصد نئی نسل کو تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ ملک کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    یوم پاکستان کے موقع پر ضلع بھر کی تمام تحصیلوں میں بھی اسی نوعیت کی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

  • رمضان کا تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا پیغام، اعتکاف اور لیلۃ القدر اللہ کی عظیم عطا: امیر عبدالقدیر اعوان

    رمضان کا تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا پیغام، اعتکاف اور لیلۃ القدر اللہ کی عظیم عطا: امیر عبدالقدیر اعوان

    ڈسکہ (نامہ نگار باغی ٹی وی، ملک عمران): شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان، امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر اپنے خطاب میں رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اعتکاف اور لیلۃ القدر اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے۔ یہ عشرہ جہنم سے برات کا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے عشرے میں مغفرت اور بخشش نصیب ہوئی ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ جسے مغفرت نصیب ہو اس کے اعمال کیسے ہو سکتے ہیں؟ تیسرے عشرے میں جس کو جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ ملے گا اس کی زندگی کے شب و روز کیسے ہونے چاہیئں؟ جسے اعتکاف نصیب ہو، جسے لیلۃ القدر نصیب ہو اس کا کردار معاشرے میں کیسا ہونا چاہیے؟ ان باتوں کی تب سمجھ آتی ہے جب تعلق مع اللہ نصیب ہو، نبی کریم ﷺ سے اتباع کا رشتہ نصیب ہو۔

    امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ اگر یہ بات سمجھ آجائے کہ سب کچھ اللہ کا ہے، رزق کی تنگی اور رزق کی فراخی سب اسی قادر مطلق کے دست قدرت میں ہے، تو زندگی آسان ہو جائے۔ رزق صرف دولت نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جو ہمارے پاس ہے، اللہ کی عطا ہے۔

    یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں ہر سال کی طرح امثال بھی اجتماعی سنت اعتکاف کے لیے ملک بھر سے اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لا رہے ہیں۔ مرکز دارالعرفان منارہ میں معتکفین کو تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے خصوصی تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ذکر اذکار کرائے جاتے ہیں اور ضروریات دین سکھایا جاتا ہے، جس کے امتحانات ہوتے ہیں جو پاس کرنے والوں میں شیخ المکرم مد ظلہ العالی اپنے دست مبارک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں۔

    آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔