Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • انجمن خدمت خلق ڈسکہ کا 752 واں اجلاس، سماجی اور رفاہی امور پر تبادلہ خیال

    انجمن خدمت خلق ڈسکہ کا 752 واں اجلاس، سماجی اور رفاہی امور پر تبادلہ خیال

    ڈسکہ (نامہ نگار باغی ٹی وی، ملک عمران)انجمن خدمت خلق رجسٹرڈ ڈسکہ کا 752 واں ماہانہ اجلاس گزشتہ روز زچہ بچہ ہسپتال پسرور روڈ ڈسکہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت انجمن کے صدر میاں سعید احمد صراف نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ عبدالغفار نے حاصل کی۔ نعت رسول مقبول ﷺ انوار احمد سیال نے پیش کی۔

    اجلاس میں جائنٹ سیکرٹری ضرار احمد خاں نے گزشتہ ماہ جنوری 2025 کی کارروائی پیش کی، جس کی متفقہ طور پر توثیق کی گئی۔ جنرل سیکرٹری محمد انور مغل نے اجلاس کے دوران اپنے فرائض انجام دیئے۔ فنانس سیکرٹری انوار احمد سیال نے ماہ جنوری 2025 کی آمدن و اخراجات کی رپورٹ پیش کی، جسے بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ سیکرٹری نشرو اشاعت سہیل سلمان ٹھروہی نے گزشتہ اجلاس کی شائع شدہ خبریں پڑھ کر سنائیں۔

    اجلاس میں رمضان المبارک کے پیش نظر فنڈ ریزنگ اور رفاہی سرگرمیوں پر زور دیا گیا۔ جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے لیے نئے آلات خریدے گئے ہیں، جس پر ممبران نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سہیل سلمان ٹھروہی نے ہسپتال کے ملازمین کی حاضری کو بہتر بنانے کے لیے بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب سے آگاہ کیا۔

    اجلاس میں شہر کی انتظامیہ سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کو جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ دکاندار اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔ رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس کے آخر میں جنرل سیکرٹری محمد انور مغل کے بھائی محمد یونس مغل کی وفات پر ان کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ حافظ عبدالغفار کی دعائے خیر اور میزبان چوہدری محمد افضل کی تواضع کے بعد اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

  • 25 دن کے تعطل کے بعد طورخم بارڈر کھلنے کے لیے تیار، تجارتی سرگرمیاں بحال

    25 دن کے تعطل کے بعد طورخم بارڈر کھلنے کے لیے تیار، تجارتی سرگرمیاں بحال

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)25 دن کی بندش کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد آج دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ قبائلی جرگہ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں متنازعہ تعمیرات کو ختم کرنے اور تجارتی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    کارگو گاڑیوں کی آمدورفت آج سہ پہر 4 بجے تک دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے فلیگ میٹنگ کے کامیاب اختتام اور مشترکہ جرگہ کے فیصلوں کی توثیق کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

    امیگریشن سسٹم کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے پیدل آمدورفت کو 2-3 دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق طورخم امیگریشن سسٹم کو افغان فورسز کی فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے، امیگریشن سسٹم کی مرمت تک افغانستان پیدل آمدورفت معطل ہوگی، صرف افغان مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان امد ورفت کی اجازت دی گئی۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور تجارتی تعلقات کو بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ پاکستانی جرگہ کے سربراہ نے طورخم سرحد پر متنازعہ تعمیرات کے خاتمے پر افغان حکام کی رضامندی کو سراہا۔ دونوں ممالک کے حکام نے مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچنے اور سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔

    بارڈر کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کو روزانہ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا، جس سے سالانہ تجارتی حجم میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ تجارتی گزرگاہ کے کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

    افغان قونصل جنرل نے سرحد کو جلد کھولنے کی اہمیت پر زور دیا اور افغان باشندوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی۔ فلیگ میٹنگ کے بعد تجارتی گزرگاہ کھول دی جائے گی، جے سی سی اجلاس تک فائربندی رہے گی۔ سیکورٹی حکام کی جانب سے بھی افغان حکام کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • خبردار! ٹپال تیز دم چائے،انٹرنیٹ کا جھانسہ،دھوکے کا جال،پتی کم پیسے زیادہ

    خبردار! ٹپال تیز دم چائے،انٹرنیٹ کا جھانسہ،دھوکے کا جال،پتی کم پیسے زیادہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) چائے کے شوقین افراد ہوشیار ہو جائیں! "ٹپال تیز دم” چائے کے مالکان نے منافع خوری کا ایک نیا اور مکروہ طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ وہ چائے کی پتی کی مقدار کم کر کے اور انٹرنیٹ پیکیجز کا جھانسہ دے کر عوام کی صحت اور جیب دونوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق چائے کے بڑے برانڈز نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تو کیا ہے، لیکن پتی کی مقدار میں واضح کمی کر دی ہے۔ 20 روپے کے پیکٹ میں اب پہلے سے آدھی پتی ہوتی ہے، جس سے صارفین کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے اور چائے کا معیار بھی گر رہا ہے۔

    دوسری جانب چائے مالکان نے ایک نیا "گیم” شروع کیا ہے۔ وہ 20 روپے کی چائے کی پتی خریدنے پر 100MB مفت انٹرنیٹ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ محض ایک چال ہے تاکہ لوگ زیادہ چائے خریدیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیکیجز عوام کی جیب اور صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انٹرنیٹ کا جھانسہ دے کر چائے کی زیادہ مقدار خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    چائے کے زیادہ استعمال سے نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور ہاضمے کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی لالچ میں لوگ مزید چائے پی رہے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اس کے علاوہ، وہ انٹرنیٹ پیکیجز کے چکر میں زیادہ چائے خرید کر اپنا مالی نقصان بھی کر رہے ہیں۔ پتی کم اور پیسے زیادہ، یہ ہے "ٹپال تیز دم” چائے کا اصل کاروبار۔

    ماہرین نے اس مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس طرح کے اشتہارات پر پابندی لگائی جائے۔ عوام کی صحت اور مالی حالت کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • قصور: ممانی کو بھگا نے والا بھانجا اپنے ماموں کے ہاتھوں قتل

    قصور: ممانی کو بھگا نے والا بھانجا اپنے ماموں کے ہاتھوں قتل

    قصور (ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)منڈی عثمان والہ کے علاقے تتاراکامل میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ماموں نے اپنی بیوی کو بھگا کر لے جانے والے بھانجے کو قتل کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق 30 سالہ مقصود احمد حجرہ شاہ سے اپنی ممانی شکیلہ بی بی کو اپنے ساتھ بھگا کر لے گیا تھا۔ بیوی کو بھگانے کی رنجش پر ماموں امانت علی نے بھانجے کو قتل کرکے وہیں دفنا دیا۔

    مقتول کے بھائی پرویز نے پولیس کو بتایا کہ مقصود احمد اور شکیلہ بی بی کے درمیان تعلقات تھے جس کی وجہ سے مقصود احمد اپنی ممانی کو بھگا کر لے گیا۔ امانت علی کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہوگیا اور اپنے بھانجے کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

    پولیس کے مطابق امانت علی نے مقصود احمد کو تتاراکامل میں بھانجے کو قتل کردیا اور قتل کے بعد ملزم نے لاش کو وہیں دفنا دیا۔

    تھانہ منڈی عثمان والہ پولیس نے مقتول کے بھائی پرویز کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔

  • حافظ آباد،سکھیکی منڈی،ایک شخص کو گندم کے کھیت میں گلا دبا کر قتل کردیا گیا

    حافظ آباد،سکھیکی منڈی،ایک شخص کو گندم کے کھیت میں گلا دبا کر قتل کردیا گیا

    حافظ آباد (خبرنگارشمائلہ) سکھیکی منڈی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں محلہ نور پورہ کے رہائشی منیر ممبرا کو گندم کے کھیتوں میں گلا دبا کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس تحقیقات میں مصروف ہے۔

    تفصیلات کے مطابق منیر ممبرا صبح تقریباً 8 بجے اپنے مال مویشیوں کے لیے چارہ کاٹنے گیا تھا۔ وہ قریبی گاؤں پنڈی بلگن بخشا سے آیا اور کھیت میں چارہ کاٹ رہاتھاکہ دو نامعلوم افراد وہاں پہنچے۔ ملزمان نے انہیں زبردستی گندم کے کھیتوں میں لے جا کر گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    مقامی افراد کو جب واقعے کی اطلاع ملی تو خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقتول کے اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور مقتول کی لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

  • سیالکوٹ: جھوٹی واردات کی اطلاع دینے والا خود گرفتار

    سیالکوٹ: جھوٹی واردات کی اطلاع دینے والا خود گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقے موضع میانی کے رہائشی راشد نامی شہری نے 15 پر اطلاع دی کہ دو مسلح ملزمان نے اس سے 1 لاکھ 70 ہزار روپے چھین لیے ہیں۔

    اطلاع ملنے پر ایس ایچ او صدر سیالکوٹ انسپکٹر غازی میاں عبدالرزاق موقع پر پہنچے۔ پولیس کے سوالات سے گھبرا کر راشد نے سچ اگل دیا۔ اس کی جیب سے ہی 1 لاکھ 70 ہزار روپے برآمد ہوئے۔ پولیس نے راشد کے خلاف جھوٹی اطلاع دینے کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا۔

    دوسری جانب موضع پڑتانوالی میں سمیر اور حسن جاوید پر فائرنگ کر کے انہیں قتل کرنے کی کوشش میں ملوث ملزمان سلمان اور ظفر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم سلمان سے رائفل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • حافظ آباد: یوم شہادت حضرت علیؓ پر مرکزی جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    حافظ آباد: یوم شہادت حضرت علیؓ پر مرکزی جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    حافظ آباد(خبر نگارشمائلہ) ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر نے 21 رمضان المبارک یوم شہادت حضرت علیؓ کی مناسبت سے نکالے جانے والے مرکزی جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈی ایس پی صدر سرکل اور ایس ایچ او سٹی حافظ آباد کو فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔

    مرکزی جلوس کا آغاز مسعود علی شاہ المعروف چن شاہ کی رہائش گاہ نزد تارڑ ٹریولز سے ہوگا اور اپنے مقررہ راستوں بشمول ریلوے پھاٹک اور فوارہ چوک سے گزرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے دوران سیکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی شامل ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    ڈی پی او حافظ آباد نے ڈی ایس پی ٹریفک کو ہدایت دی کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا انتظام کیا جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

  • حافظ آباد: پولیس کی شاندار کارکردگی، اندھا قتل 8 گھنٹے میں ٹریس، ملزم گرفتار

    حافظ آباد: پولیس کی شاندار کارکردگی، اندھا قتل 8 گھنٹے میں ٹریس، ملزم گرفتار

    حافظ آباد (خبرنگارشمائلہ) تھانہ صدر حافظ آباد پولیس نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اندھے قتل کا سراغ صرف 8 گھنٹوں میں لگا لیا۔

    گزشتہ روز تھانہ صدر کی حدود میں ایک نوجوان کی لاش ملی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا۔ نامعلوم ملزمان نے 24 سالہ نوجوان محمد اویس ولد محمد اسلم قوم موچی سکنہ جیلانی پورہ مدھریانوالہ حافظ آباد کو قتل کر دیا تھا۔ مقتول نوجوان محلہ جیلانی پورہ مدھریانوالہ کا رہائشی تھا اور گزشتہ شام سے گھر سے لاپتہ تھا۔ کرائم سین کی ٹیم نے موقع پر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔

    ڈی پی او کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ثمر عباس کو ٹیکنیکل طریقہ سے ٹریس کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم سے ڈی ایس پی صدر سرکل کی نگرانی میں تفتیش جاری ہے۔ ترجمان پولیس نے بتایا کہ قتل کی حتمی وجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد بتائی جائے گی۔

    پولیس حکام نے اس کامیاب کارروائی پر تھانہ صدر حافظ آباد پولیس کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔

  • چنیوٹ: اتحاد علماء دیوبند کا اجلاس، دہشت گردی کی مذمت اور شہداء کو خراج تحسین

    چنیوٹ: اتحاد علماء دیوبند کا اجلاس، دہشت گردی کی مذمت اور شہداء کو خراج تحسین

    چنیوٹ ( باغی ٹی وی،نامہ نگار) اتحاد علماء دیوبند چنیوٹ کا ماہانہ اجلاس جامع مسجد آزاد محلہ ترکھاناں والا میں امیر اتحاد مولانا قاری عبد الحمید حامد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علماء اور کارکنوں کے مسائل کے حل کے لیے محنت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    اجلاس میں ملک بھر میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ریاستی اور ملی سلامتی پر حملہ قرار دیا گیا۔ مقررین نے معصوم شہریوں، علمائے کرام اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس میں حالیہ دنوں میں شہید ہونے والے جید علمائے کرام کی المناک شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ علماء نے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کی علمی و دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اجلاس میں غزوہ بدر، یوم وفات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر اجتماعی دعا کی گئی اور شرکاء نے افطاری بھی کی۔

  • جرگہ فیصلہ پرعمل نہ ہوا، طورخم گزرگاہ کھولنے میں افغان رکاوٹ

    جرگہ فیصلہ پرعمل نہ ہوا، طورخم گزرگاہ کھولنے میں افغان رکاوٹ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی) پاکستان اور افغان مشترکہ جرگہ کے طورخم تجارتی گزرگاہ کھلوانے کے فیصلے پر افغان حکام کی طرف سے عمل درآمد میں تاخیر کے باعث 18 مارچ بروز منگل کو بھی تجارتی گزرگاہ 25 ویں روز بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند رہی۔

    پاکستانی جرگہ کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان جرگہ کے درمیان فیصلہ کن نشست ہوئی، جس میں افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات بند کرنے اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم، طورخم سرحد کی بحالی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے افغان جرگہ نے افغان حکام سے حتمی رائے لینے کے لیے گزشتہ شام تک مہلت مانگی۔ جرگہ سربراہ کے مطابق، 20 گھنٹے گزرنے کے باوجود افغان جرگہ نے انہیں افغان حکام کے حتمی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جس سے طورخم سرحد کھلوانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ اب بھی افغان جرگہ کے رابطے کے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ 24 روز قبل افغان فورسز پاکستانی حدود میں تعمیرات کر رہی تھیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور پاک افغان سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی۔

    کسٹم ذرائع کے مطابق، تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے ملک کے خزانے کو ٹیکس کی صورت میں اوسطاً 3 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے، اور گزشتہ 24 دنوں میں 72 ملین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

    طورخم سرحدی گزرگاہ پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز پاک افغان مشترکہ جرگہ کے فیصلے پر افغان حکام کی طرف سے عمل درآمد میں ایک دن کی تاخیر ہوئی ہے۔ افغان حکام کے درمیان ہنگامی طور پر مشاورت جاری ہے۔ پاکستانی جرگہ نے جلد مثبت پیغام موصول ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ طورخم تجارتی گزرگاہ آج 25 ویں روز بھی بند ہے۔

    پاکستان اور افغان مشترکہ جرگہ کے درمیان گزشتہ روز کامیاب مذاکرات ہوئے۔ جرگہ نے فائر بندی اور طورخم تجارتی گزرگاہ فوری کھولنے پر اتفاق کیا۔ تاہم، افغان جرگہ نے متنازعہ تعمیرات پر پابندی کے فیصلے پر اعلیٰ حکام سے حتمی رائے لینے کے لیے گزشتہ شام تک مہلت مانگی۔ افغان حکام کی مشاورت سے حتمی فیصلہ ایک دن کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی جرگہ کے سربراہ اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے مشیر سید جواد حسین کاظمی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 21 فروری سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد کشیدگی کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز افغانستان میں ہونے والی مذاکرات کامیاب ہوئیں۔ دونوں ممالک کے جرگہ ممبران نے فائر بندی اور طورخم سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھولنے پر اتفاق کیا۔

    جواد حسین کے مطابق متنازعہ تعمیرات کا مسئلہ آئندہ JCC یعنی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس میں حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جے سی سی اجلاس تک متنازعہ تعمیرات بند ہوں گی اور فائر بندی معاہدے پر بھی عمل درآمد جاری رہے گا۔ جے سی سی اجلاس کے لیے تاریخ باہمی مشاورت سے مقرر کی جائے گی۔ جرگہ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ JCC کو ماضی کی طرح فعال کیا جائے گا۔ پاکستانی جرگہ خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد یوسف سمیت 36 ارکان پر مشتمل تھی، جس کی قیادت سید جواد حسین کاظمی کر رہے تھے۔ جبکہ افغان جرگہ 25 ارکان پر مشتمل تھی۔

    سید جواد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ پاکستانی جرگہ ایف سی حکام اور افغان جرگہ افغان بارڈر حکام کو مشترکہ فیصلے سے شام تک آگاہ کریں گے۔ دوپہر 4 بجے جرگہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے نشست کو برخاست کیا۔ تاہم، افغان حکام کی حتمی رائے اس لیے اگلے روز کے لیے موخر کر دی گئی کہ افغان حکام نے حتمی رائے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ افغان جرگہ کے مطابق، حتمی رائے لینے کے لیے جرگہ جلال آباد اور کابل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

    سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ افغان حکام کی طرف سے مثبت پیغام ملے گا، جس کا پاکستانی عوام بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں اور پاک افغان تجارتی گزرگاہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

    سید جواد حسین کاظمی کے مطابق 21 فروری کو افغان فورسز طورخم سرحد کے قریب فوجی چیک پوسٹ تعمیر کر رہے تھے، جنہیں ایف سی حکام نے منع کیا کہ یہ پاکستانی حدود ہے اور پاکستانی حدود میں تعمیرات کی اجازت نہیں دے سکتے۔ جس پر دونوں ممالک کے فورسز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور کئی بار مسلح جھڑپ ہوئی۔ اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔

    سید جواد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ روز اول سے ان کی کوشش رہی کہ کشیدگی کا خاتمہ اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ لہذا، 6 مارچ کو افغان چیمبر آف کامرس کے قائدین سے رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کے لیے 9 مارچ کو طورخم مدعو کیا۔ پہلی کامیاب نشست میں مشترکہ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر فائر بندی ہو۔ دوسری نشست 17 مارچ کو ہوئی۔

    گزشتہ روز مشترکہ جرگہ کے کامیاب مذاکرات ہوئے کہ عید الفطر کے 15 ویں روز تک فائر بندی ہوگی۔ افغان فورسز سمیت دونوں ممالک متنازعہ حدود میں تعمیراتی کام نہیں کریں گے اور افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات کا مسئلہ آئندہ جے سی سی اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ اور طورخم تجارتی گزرگاہ کو ہر قسم آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے۔ پاکستانی حکام نے جرگہ فیصلے کا خیر مقدم کیا، تاہم افغان حکام نے متنازعہ تعمیرات بند کرنے کے جرگہ فیصلے پر اپنی حتمی رائے تاحال نہیں دی۔

    سید جواد حسین کاظمی نے پاک افغان دو طرفہ تجارت کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ طورخم سرحدی گزرگاہ گزشتہ 24 دنوں سے ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ جس کے باعث افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ معطل رہی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت سے ملکی خزانے کو یومیہ اوسطاً 3 ملین ڈالرز محصولات ملتے ہیں۔ اور یوں گزشتہ 24 دنوں میں ملک کو ٹیکس کی مد میں 72 ملین ڈالرز کی ڈیوٹی ٹیکسز کا نقصان ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یومیہ اوسطاً 10 ہزار افراد طورخم سرحدی گزرگاہ آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔