Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: اقلیتی کارڈ تقسیم،خواجہ آصف کا اقلیتوں کو مکمل حقوق دینے کا عزم

    سیالکوٹ: اقلیتی کارڈ تقسیم،خواجہ آصف کا اقلیتوں کو مکمل حقوق دینے کا عزم

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور صوبائی وزیر ہیومین رائٹس و منیارٹی افیئر رمیش سنگھ اروڑا نے سیالکوٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اقلیتی کارڈ کی تقسیم کی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر ضلع سیالکوٹ کے 1547 اقلیتی گھرانوں میں کارڈ تقسیم کیے گئے۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اقلیتی کارڈ کے اجراء پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو بلا تفریق یکساں حقوق حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ پاکستان کی تمام آبادی بغیر کسی تفریق کے اول و آخر پاکستانی ہو اور اس مٹی سے وفاداری کسی مذہبی وابستگی کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت مند معاشرے میں اقلیتیں محفوظ ہوتی ہیں اور انہیں وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو اکثریت کو ملتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ حقوق اور سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ خواجہ آصف نے سیالکوٹ کو خوش قسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مسیحیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی خاصی تعداد موجود ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے یہاں آباد ہیں اور انہیں اپنے کاروبار اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مکمل آزادی حاصل ہے۔

    خواجہ محمد آصف نے یہ بھی بتایا کہ 1947 کے بعد سیالکوٹ میں سکھوں کی تعداد صرف 10 رہ گئی تھی، لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات کی بدولت یہ تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں اقلیتوں کی موجودگی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرایا جائے گا تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ اس شہر میں تمام مذاہب کے لوگ مذہبی یگانگت اور ہم آہنگی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے گردوارہ بابے دی بیری کے مقدس مقام کے تالاب کو قبضہ مافیا سے واگذار کروانے کا بھی ذکر کیا اور باقی اراضی بھی واگذار کروانے کا عزم ظاہر کیا۔

    صوبائی وزیر ہیومین رائٹس و مذہبی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا نے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بطور وزیر اعلیٰ اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ جب اقلیتیں سوئیں تو انہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہ ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 22 جنوری کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مینارٹی کارڈ کا اجراء کیا جس کے تحت پنجاب میں بسنے والے 93 ہزار غیر مسلم گھرانوں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا۔ ان میں سے 50 ہزار گھرانوں کو مینارٹی کارڈ کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے، جبکہ اگلے سال 75 ہزار گھرانے اس سے مستفید ہوں گے۔

    رمیش سنگھ اروڑا نے گردوارہ بابے دی بیری کے تاریخی تالاب اور اراضی کو قبضہ مافیا سے واگذار کروانے پر سکھ کمیونٹی کی جانب سے خواجہ محمد آصف اور دیگر انتظامی افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں سکھ میرج ایکٹ کے تحت سکھ جوڑوں کی شادیوں کو رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں سکھ ہندو میرج ایکٹ کے تحت اپنی شادیاں رجسٹرڈ کروانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقلیتی عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت، قبرستانوں کی چار دیواری اور اقلیتی آبادیوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر خواجہ محمد آصف، رمیش سنگھ اروڑا اور دیگر افسران نے بابے دی بیری کے واگذار کروائے گئے تالاب کو گردوارہ کی انتظامیہ کے سپرد کیا اور تالاب کی بحالی کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

  • ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات کے اسکینڈل نے محکمہ صحت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس اسکینڈل میں روزانہ کی بنیاد پر ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پہلے چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا مگر اب بڑے افسران پر بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں اب تک چار اعلی عہدیداران کو معطل کیا جا چکا ہے، جن میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر ادریس لغاری، ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، سیکرٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی بورڈ آصف عباس اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر تحسین شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر معطلی کی اصل وجہ کرپشن یا میڈیسن چوری نہیں بلکہ حکومت کو غلط معلومات فراہم کرنا بتائی جا رہی ہے۔ یہ پہلو خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر افسران کرپشن میں ملوث نہیں تو انہیں کیوں ہٹایا گیا؟

    تحقیقات کے آغاز میں ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود کو اطلاع ملی کہ جنرل بس اسٹینڈ ڈیرہ غازی خان سے سرکاری چوری شدہ ادویات مختلف شہروں میں بھیجی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بندوں کو نگرانی پر لگا دیا اور 29 جنوری کو ایک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، جس نے انکشاف کیا کہ یہ ادویات ڈی ایچ او آفس کے ملازم پرویز اختر نے فراہم کی ہیں۔ دونوں کو ادویات سمیت تھانہ گدائی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بھاری مقدار میں چوری شدہ ادویات برآمد ہوئیں۔ چوکی انچارج لاری اڈہ، تھانہ گدائی نے پریس کانفرنس کر کے معاملے کو ہائی لیول تک پہنچا دیا۔ اس انکشاف پر میڈیسن مافیا کے سرپرست متحرک ہو گئے۔ معاملہ دبانے کے لیے چوکی انچارج کو رشوت کی بھاری پیشکش کی گئی لیکن اس نے آفر مسترد کر دی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں ادویات کی بڑی مقدار کو نظر انداز کر کے محض چند سیرپ درج کیے گئے۔ اس طرح بااثر افراد نے چالاکی سے گرفتاریوں کو جوڈیشل کروا کر تفتیش رکوا دی۔

    یہ بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟
    ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے
    ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد
    جب معاملہ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے علم میں آیا تو فوری طور پر کیس اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ لیکن اس دوران سابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے فائل دبائے رکھی اور کوئی باضابطہ انکوائری نہ ہوئی۔ موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کے حکم پر کیس کی فائل دوبارہ کھلوائی اور ریگولر انکوائری سرکل آفیسر ملک عبدالمجید کے سپرد کی، جنہوں نے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔ پہلے ایک سابق اور ایک موجودہ اسٹور کیپر کو گرفتار کیا گیا، پھر معتبر ذرائع کی اطلاعات پر مزید افراد کو حراست میں لے کر دیہی مرکز صحت سرور والی کے میڈیسن گودام پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ ادویات انتہائی خفیہ طریقے سے چھپائی گئی تھیں۔

    اس انکشاف پر وزیر صحت پنجاب عمران نذیر کے دفتر سے بڑے نیوز چینلز پر خبر نشر کرائی گئی کہ ڈیرہ غازی خان میں 1 ارب 70 کروڑ روپے کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد ہوئیں۔ اس خبر کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی، لیکن چند ہی گھنٹوں میں محکمہ صحت پنجاب نے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی ہی خبر کو "فیک” قرار دے دیا اور چار افسران کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے۔ معطلی کا جواز کرپشن، ملی بھگت، نااہلی یا کریمنل ایکٹ کو نہیں بلکہ صرف "غلط معلومات دینے” کو بنایا گیا۔

    دوسری جانب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور پولیس اپنی سطح پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن محکمہ صحت معاملے کو دبانے کے لیے اسے محکمانہ انکوائری تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چند چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو محفوظ رکھا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل کے تانے بانے سابق ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اطہر سکھانی سے جا ملتے ہیں، جن کے کچھ قریبی لوگ ماضی قریب میں گرین میڈیسن کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہے ہیں جو سرکاری ادویات رکنی بلوچستان اور ڈیرہ غازیخان کے نواحی علاقوں قائم میڈیکل سٹوروں اور پریکٹیشنر کو بیچتے رہے ہیں۔

    اس اسکینڈل میں ایک اور بڑا تنازعہ ضبط شدہ ادویات سے جڑا ہے۔دیہی مرکزصحت سرورکے تین کمروں سے بھاری مقدار میں ادویات برآمد ہوئیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے ابتدائی طور پر ان کی مالیت 1 ارب 70 کروڑ روپے بتائی مگر بعد میں موقف بدلا کہ یہ ادویات مختلف ڈونرز کمپنیوں اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کی ملکیت تھیں، جو 15 سال سے گودام میں رکھی جا رہی تھیں۔ مزید تحقیقات کے بعد ایک اعلی سطحی ٹیم نے جس میں ڈاکٹر اطہر سکھانی بھی شامل تھے نے ریکارڈ کی جانچ کے بعد ان ادویات کو ریلیز کر دیا۔ اس عمل نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

    انٹی کرپشن کے سرکل آفیسر ملک عبدالمجید اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اب تک متعدد گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ لاہور سے علی عثمان اور ظفر جبکہ ڈیرہ غازی خان سے پرویز، اکرام اللہ، اطہر شیرانی، بشیر احمد، عامر تیمور اور سراج کو ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔ حکام نے مزید گرفتاریوں کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سی ای او ڈاکٹر ادریس لغاری کو حکومتی ہدایت پر عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ راجن پور کے سی ای او ڈاکٹر عبدالکریم رمدانی کو چارج دیا گیا ہے۔

    اس پورے معاملے میں کئی بنیادی سوالات اٹھتے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:

    اگر یہ ادویات 15 سال سے موجود تھیں تو انہیں عوام کے علاج کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
    محکمہ صحت پنجاب نے ابتدا میں ایک موقف اختیار کیا، پھر اچانک اسے کیوں بدلا؟
    ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، جو خود مدعی تھے، انہیں کیوں معطل کیا گیا؟
    اگر یہ اسٹاک پرانا ہے تو 15 سال سے مسلسل اس میں اضافہ کیوں ہو رہا تھا؟
    اس اسٹاک کی لاگ بک اور اسٹاک رجسٹر میں بیچ نمبر اور دیگر تفصیلات کیوں چیک نہیں کی گئیں؟
    2010، 2012، 2020 اور 2022 میں یونیسیف اور دیگر انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے دی گئی اربوں روپے کی میڈیسن، اعلی معیار کی چاکلیٹ، بسکٹ اور فوڈ سپلیمنٹ کیوں خفیہ گوداموں میں رکھے؟
    یہ امدادی اشیا مستحق عوام میں تقسیم کیوں نہیں کی گئیں؟
    ان تمام ادوار میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی اور ڈی ایچ او کون تھے؟
    کیا ان افسران سے بازپرس نہیں ہونی چاہیے؟
    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ادویات اور فوڈ سپلیمنٹ فروخت کے لیے رکھے گئے تھے، لیکن انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے کا موقع نہ مل سکا؟

    یہ اسکینڈل محکمہ صحت پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ عوام کی نظر میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا صحت کے شعبے میں مزید ایسے گھوٹالے چھپائے جا رہے ہیں؟ اس واقعے کے بعد حکومت کو صحت کے نظام میں انتظامی اصلاحات پر غور کرنا ہوگا۔ ادویات کی خریداری، ذخیرہ اور ان کے ریکارڈ کی نگرانی کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

  • خیرپور: ٹائر پھٹنے  سے رکشہ درخت سے جا ٹکرایا، 35 سالہ شخص جاں بحق

    خیرپور: ٹائر پھٹنے سے رکشہ درخت سے جا ٹکرایا، 35 سالہ شخص جاں بحق

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) حاصل پور روڈ پر الریاض ہوٹل کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں 35 سالہ شخص جاں بحق ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق پٹھہ رکشے پر تقریباً 50 من سرسوں کی بوریاں لدی ہوئی تھیں کہ اچانک ٹائر برسٹ ہونے سے رکشہ بے قابو ہو کر درخت سے جا ٹکرایا۔ حادثے میں رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے محمد اظہر ولد غلام سرور شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والے کا تعلق بستی دائم احمدپور اڈا خیرپور سے تھا۔

    انتظامیہ نے ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔

  • اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں من مانی قیمتیں، عوام پریشان

    اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں من مانی قیمتیں، عوام پریشان

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) سبزی و فروٹ کے آڑھتیوں نے منڈی میں اپنی من مانی قیمتیں مقرر کرنا شروع کر دی ہیں، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شہریوں کے مطابق، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی غیر موجودگی اور انتظامیہ کی خاموشی کے سبب نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    اوچ شریف کی سبزی و فروٹ منڈی میں روزانہ بولیاں لگتی ہیں، مگر سرکاری افسران کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اشیاء کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافی وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ غیر معیاری اشیاء بھی مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔

    حکومت پنجاب کے سستے داموں سبزی اور پھل فراہم کرنے کے دعوے اوچ شریف میں حقیقت کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار میڈیا پر مہنگائی کی خبریں آنے کے بعد انتظامیہ چند دن کے لیے متحرک ہوتی ہے، مگر جلد ہی سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔

    عوامی و سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ سبزی و فروٹ منڈیوں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی نگرانی یقینی بنائی جائے، تاکہ نرخ قابو میں رہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ فوری ایکشن لے کر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جائے، تاکہ غریب عوام سستی سبزی اور پھل خرید سکیں۔

  • ریاست بہاولپور کی عظمت کا نشان،صادق گڑھ پیلس، زبوں حالی کا شکار

    ریاست بہاولپور کی عظمت کا نشان،صادق گڑھ پیلس، زبوں حالی کا شکار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) احمد پور شرقیہ کا تاریخی صادق گڑھ پیلس جو کبھی ریاست بہاولپور کی عظمت و جاہ و جلال کی علامت تھا، آج کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک صدی قبل تعمیر ہونے والا یہ شاندار محل، جو کبھی شاہی تقریبات اور درباری نشستوں کے لیے مشہور تھا، اب شکستہ در و دیوار اور سنسان راہداریوں کے باعث اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    ریاست بہاولپور کے عباسی حکمرانوں نے ابتدائی طور پر قلعہ دراوڑ کو مسکن بنایا، لیکن بڑھتے ہوئے ریاستی امور کے پیش نظر ڈیرہ نواب میں صادق گڑھ پیلس تعمیر کیا۔ ایک کلومیٹر طویل فصیل میں گھرا یہ محل اپنی مضبوط دیواروں، نادر تعمیرات اور قیمتی اشیاء کی موجودگی کے باعث جنوبی ایشیا کے منفرد محلات میں شمار ہوتا تھا۔

    صادق گڑھ پیلس میں دربار، زنانہ حرم، شاہی مسجد، ترکی ہال، استقبالیہ، بندوق ساز فیکٹری، پاکستان کا پہلا بجلی گھر، واٹر پلانٹ، موٹر ورکشاپ اور صراف خانہ سمیت بے شمار شاہی حصے موجود تھے۔ دربار ہال قیمتی فانوس، سونے سے مزین دیواروں اور بلوریں فرنیچر سے آراستہ تھا، جہاں شاہی مہمانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔

    یہ عظیم الشان محل آج ویران ہو چکا ہے۔ مسجد کی دیواریں گر چکی ہیں، باغات اجڑ چکے ہیں، قیمتی فانوس غائب ہو گئے ہیں اور در و دیوار بوسیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ محل کی حفاظت نہ ہونے کے باعث کئی قیمتی اشیاء لوٹ لی گئیں جبکہ تاریخی ورثہ مٹی میں دفن ہوتا جا رہا ہے۔

    نواب صادق خامس کی وفات کے بعد صادق گڑھ پیلس 23 حصوں میں تقسیم ہوا، جس کے باعث اس کی دیکھ بھال ممکن نہ رہی۔ اس تاریخی مقام کی حفاظت اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس انمول ورثہ کومزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؟؟؟

    اوچ شریف: چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؟؟؟

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) شہر میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا، جبکہ پولیس کی خاموشی پر عوام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ اوچ شریف کی حدود میں گزشتہ دو ہفتوں سے چوری اور ڈکیتی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں مسلح ڈاکو اور چور دکانوں اور گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ شب بھی معروف تاجر آصف خان کی کنفیکشنری شاپ پر پانچ مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر دکاندار اور عملے کو یرغمال بنا لیا اور 1 لاکھ 10 ہزار روپے نقدی اور 1 لاکھ روپے مالیت کے قیمتی موبائل لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    اس کے علاوہ محلہ امیر آباد اور ٹینکی چوک میں بھی چور متعدد دکانوں کی چھتیں کاٹ کر قیمتی سامان لے اڑے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور مجرمانہ خاموشی نے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس محض روایتی ایف آئی آر درج کر کے خانہ پری کر رہی ہے، جبکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر صورتحال برقرار رہی تو شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے مکمل اعتماد ختم ہو جائے گا۔

  • اوچ شریف: رمضان المبارک کا تقدس پامال، کھلے عام ہوٹلوں اور ڈھابوں پر کھانے پینے کی فروخت جاری

    اوچ شریف: رمضان المبارک کا تقدس پامال، کھلے عام ہوٹلوں اور ڈھابوں پر کھانے پینے کی فروخت جاری

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اوچ شریف میں کھلے عام ہوٹلوں اور ڈھابوں پر کھانے پینے کی اشیا فروخت کی جا رہی ہیں، جس پر شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، تحصیل احمد پور شرقیہ میں احترام رمضان کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے، جہاں شہر میں جگہ جگہ ہوٹل، جوس کارنر اور کھانے پینے کے ٹھیلے کھلے نظر آ رہے ہیں۔ شہریوں نے اس صورتحال پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو نااہلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود کئی ہوٹل اور کیفے کھلے ہیں، جبکہ بس اڈوں اور اسپتالوں کی رعایت کی آڑ میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت اور رشوت کے باعث ہوٹل مالکان کھلے عام قانون شکنی کر رہے ہیں، لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔

    شہریوں نے ڈی سی بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ سے فوری نوٹس لینے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کو بحال رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

  • یزمان:چک 108 ڈی این بی میں جاز ٹاور کی بیٹریوں میں آگ لگ گئی

    یزمان:چک 108 ڈی این بی میں جاز ٹاور کی بیٹریوں میں آگ لگ گئی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) تحصیل یزمان کے علاقے چک 108 ڈی این بی، ہیڈ راجکان میں جاز کے موبائل ٹاور کی بیٹریوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث شدید دھواں اٹھنے لگا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور فائر فائٹنگ آپریشن شروع کر دیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کا خدشہ نہ رہے۔

    حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم علاقے میں عارضی طور پر موبائل سگنلز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ علاقہ مکینوں نے ریسکیو ٹیم کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے جاتے تو نقصان زیادہ ہو سکتا تھا۔

  • ننکانہ: بچیکی خواتین کالج میں حراسانی انکوائری، انصاف جیتے گا یا اثر و رسوخ؟

    ننکانہ: بچیکی خواتین کالج میں حراسانی انکوائری، انصاف جیتے گا یا اثر و رسوخ؟

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین بچیکی کی پرنسپل ڈاکٹر طاہرہ بتول کے خلاف حراسانی کے الزامات پر محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاہم، ان کی ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کے اضافی چارج کے باعث شفاف انکوائری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    لیکچرار سمرن جیت کور، ماہین عبدالسلام اور یسرا محمود کی جانب سے حراسانی کی شکایات موصول ہونے پر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (کالجز) لاہور ڈویژن نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ضیاء الرحمان (گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے سائنس، وحدت روڈ لاہور) اور رکن نازیہ اکرم (پرنسپل، گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین، واپڈا ٹاؤن لاہور) کو سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہوگیا جب یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر طاہرہ بتول جو خود انکوائری کے دائرے میں ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی تفتیش کے غیر جانبدارانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ملزم فرد اثر و رسوخ سے دور ہو، ورنہ انکوائری محض رسمی کارروائی بن سکتی ہے۔

    تعلیمی حلقوں اور فیکلٹی ممبران کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر طاہرہ بتول کو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے فوری طور پر الگ کیا جائے تاکہ گواہوں کو بغیر کسی خوف و دباؤ کے بیان دینے کا موقع مل سکے۔

    متعلقہ حکام کی خاموشی اس معاملے کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔ کیا یہ انکوائری آزادانہ ہوگی یا اثر و رسوخ کے باعث انصاف کا خون ہوگا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ورنہ یہ معاملہ تعلیمی نظام پر ایک بدنما داغ بن سکتا ہے۔

  • عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    8 مارچ خواتین کے حقوق کا عالمی دن ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ اس دن خواتین کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے پر زور دیا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں مزدور تحریکوں سے شروع ہونے والا یہ دن 1975 میں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم کیا گیا اور اب دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جہاں خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں اور صنفی مساوات کے حصول کے لیے جدوجہد کا عزم کرتی ہیں۔

    خواتین کے حقوق ہر مذہب اور معاشرت میں ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ ہر مذہب نے خواتین کی حیثیت، ان کے حقوق اور فرائض کے متعلق مخصوص نظریات اور قوانین پیش کیے ہیں۔ بعض معاشروں میں خواتین کو مکمل برابری حاصل رہی، جبکہ کئی مذاہب میں انہیں مرد کے تابع رکھا گیا۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے، وہ نہ صرف اپنے وقت کے لحاظ سے انقلابی تھے بلکہ آج بھی خواتین کے تحفظ اور مساوات کے لیے ایک جامع ضابطہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مضمون میں اسلام اور دیگر مذاہب میں خواتین کے حقوق کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ واضح ہو سکے کہ خواتین کو کہاں زیادہ تحفظ، عزت اور برابری حاصل ہوئی۔

    اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میں خواتین کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے قبل کسی بھی سماج یا تہذیب میں نہیں دیے گئے تھے۔ اسلام سے پہلے خواتین کو نہ تو وراثت میں حصہ ملتا تھا اور نہ ہی انہیں سماجی برابری حاصل تھی۔ لیکن اسلام نے انہیں ایک مکمل انسان اور مرد کے برابر قرار دیا۔ تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا اور خواتین کو اس حق سے محروم نہیں رکھا گیا۔ حدیث مبارکہ میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” یہ تعلیم صرف دینی علم تک محدود نہیں بلکہ دنیاوی تعلیم بھی شامل ہے تاکہ خواتین اپنی ذاتی، سماجی اور معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔

    قبل از اسلام خواتین کو جائیداد رکھنے اور وراثت میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا لیکن اسلام نے اس غیر منصفانہ روایت کو ختم کر دیا۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ "مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔” (النساء:7)۔ یہ اصول دنیا کے کسی اور مذہب میں اس طرح نہیں پایا جاتا جہاں خواتین کو وراثت میں اتنا واضح اور یقینی حق دیا گیا ہو۔

    اسلام میں نکاح عورت کی مرضی کے بغیر جائز نہیں اور اسے خلع لینے کا بھی مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے مطمئن نہیں ہے تو اسے شرعی بنیادوں پر طلاق لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق عیسائیت اور ہندو مت میں بہت محدود رہا ہے، جہاں خواتین کو شوہر کی مرضی کے بغیر نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

    عیسائیت میں خواتین کو مذہبی قیادت کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا۔ آج بھی کیتھولک چرچ میں خواتین کو پوپ یا کارڈینل بننے کی اجازت نہیں ہے، جبکہ اسلام میں حضرت عائشہؓ سمیت کئی خواتین نے مذہبی فتوے جاری کیے اور علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا.اسلام نے خواتین کی عزت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات دیے ہیں۔ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا کریں، یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں(سورہ الاحزاب: 59) یہ حکم خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دیا گیا تاکہ وہ کسی بھی طرح کے استحصال اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔

    عیسائیت میں ابتدا میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ انہیں مرد کی خدمت گزار اور تابع تصور کیا جاتا تھا۔ بائبل میں بعض مقامات پر خواتین کو مرد سے کم درجے کا قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عیسائی تعلیمات میں خواتین کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسلام میں دیا گیا۔ قرونِ وسطیٰ میں کیتھولک چرچ نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور انہیں جائیداد رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ صرف نوبل خاندانوں کی خواتین کو بعض حقوق دیے گئے، لیکن عام عورت کے لیے تعلیم اور جائیداد کی ملکیت ایک خواب تھا جبکہ اسلام نے ان دونوں چیزوں کو لازمی قرار دیا۔

    عیسائیت میں عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی عورت ناپسندیدہ شادی میں پھنسی ہوئی ہو، تب بھی وہ اس رشتے کو ختم نہیں کر سکتی، جب تک کہ چرچ کی خصوصی اجازت حاصل نہ ہو، جو کہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں عورت کو خلع کا اختیار دیا گیا جو کہ اس کا بنیادی حق ہے۔

    ہندو مت میں خواتین کے حقوق صدیوں سے ایک پیچیدہ اور متنازعہ موضوع رہے ہیں۔ ہندو مت میں ایک طویل عرصے تک "ستی” کی رسم موجود رہی، جس میں بیوہ عورت کو شوہر کے مرنے کے بعد زبردستی اس کی چتا کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔ یہ رسم برطانوی دور میں ختم کی گئی، لیکن اسلام نے ابتدا ہی سے ایسی کسی بھی غیر انسانی رسم کی اجازت نہیں دی۔

    ہندو معاشرے میں خواتین کو وراثت کا مکمل حق حاصل نہیں تھا خاص طور پر بیٹیوں کو اکثر جائیداد سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام نے خواتین کو وراثت میں مقررہ حصہ دیا، چاہے وہ بیٹی ہو، ماں ہو، بہن ہو یا بیوی۔ ہندو مت میں خواتین کے دوبارہ شادی کرنے پر سخت پابندیاں رہی ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ یا مطلقہ عورت کو دوبارہ شادی کرنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے۔

    یہودیت میں بھی خواتین کو محدود حقوق دیے گئے ہیں۔ انہیں مذہبی عبادات میں مردوں کے برابر شرکت کی اجازت نہیں ہے اور وراثت میں ان کا حق بہت محدود ہے۔ اسی طرح بدھ مت میں خواتین کو نجات (نروان) حاصل کرنے کے لیے مردوں کے تابع رہنا پڑتا ہے جبکہ اسلام میں خواتین کو مساوی روحانی حقوق حاصل ہیں۔

    اسلام نے خواتین کو دنیا کے کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ حقوق عطا کیے ہیں، جو کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہیں۔ اسلام سے پہلے، خواتین کو معاشرے میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں تھالیکن اسلام نے انہیں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت اور احترام کا مقام دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، وراثت، اور جائیداد میں حق دیا، اور انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق بھی دیا۔

    اس سب کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں غلط فہمی، ثقافتی اختلافات، سیاسی مقاصد اور میڈیا کا کردار شامل ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں وہ کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان حقوق کو نافذ کرنے اور خواتین کو معاشرے میں برابر کا مقام دلانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    مندرجہ بالا تقابلی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو سب سے زیادہ عزت، حقوق اور تحفظ دیا۔ جہاں دیگر مذاہب میں خواتین کو محدود مواقع اور حقوق دیے گئے وہیں اسلام نے انہیں مکمل سماجی، معاشی، ازدواجی، تعلیمی اور قانونی حقوق عطا کیے۔ اسلام نے خواتین کی عزت کو لازم قرار دیا اور انہیں مساوی حقوق دیے جو آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔