Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ: انس محصی کا طلبا افطار ڈنر سے خطاب، تعلیمی مسائل کے حل پر زور

    ننکانہ: انس محصی کا طلبا افطار ڈنر سے خطاب، تعلیمی مسائل کے حل پر زور

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی،(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) مسلم سٹوڈنٹس لیگ پاکستان کے صدر انس محصی نے ننکانہ صاحب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے "عہدِ تکمیلِ پاکستان” طلبا افطار ڈنر میں خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔

    اپنے خطاب میں انس محصی نے ننکانہ کے طلبا کو درپیش تعلیمی اور معاشی مسائل پر روشنی ڈالی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے رمضان المبارک کی برکات اور اس مہینے میں خود احتسابی، کردار سازی، اور اجتماعی بھلائی کے جذبے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔

    مزید برآں، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور اس کی تکمیل کے لیے نوجوانوں کو متحرک ہونا ناگزیر ہے۔ انس محصی کے مطابق مسلم سٹوڈنٹس لیگ پاکستان طلبا کو متحد اور بامقصد پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ ملک و ملت کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    افطار ڈنر میں طلبا، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • سیالکوٹ: انجمن مغلیہ کا مغل اسکالرشپ فنڈ قائم، 5 کروڑ کے عطیات

    سیالکوٹ: انجمن مغلیہ کا مغل اسکالرشپ فنڈ قائم، 5 کروڑ کے عطیات

    سیالکوٹ، باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض)انجمن مغلیہ کا بڑا اقدام، ذہین اور مستحق طلبہ کے لیے مغل اسکالرشپ فنڈ قائم

    چیئرمین ایئر سیال فضل جیلانی نے اعلان کیا ہے کہ انجمن مغلیہ سیالکوٹ نے مغل جنرل اسپتال میں جدید طبی سہولیات کی کامیابی کے بعد، اب ذہین اور مستحق طلبہ و طالبات کے لیے "مغل اسکالرشپ فنڈ” قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار انجمن مغلیہ سیالکوٹ کے سالانہ عشائیہ میں بطور صدرِ تقریب کیا۔ اس موقع پر صدر سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت اکرام الحق، نائب صدر عمر خالد، سرپرستِ اعلیٰ انجمن مغلیہ مبشر واحد، سیٹھ محمد یونس اور گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز مرزا سمیت معززین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    فضل جیلانی نے کہا کہ انجمن مغلیہ سیالکوٹ بانی پاکستان قائداعظم کے ساتھی خان بہادر مرزا محمد دین کی تحریک سے وجود میں آئی اور آج بھی دُکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ مخیر حضرات کے تعاون سے نہ صرف طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ اب تعلیم کے میدان میں بھی مدد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اس موقع پر سرپرستِ اعلیٰ انجمن مغلیہ مبشر واحد نے 50 لاکھ، سیٹھ محمد یونس نے 20 لاکھ اور صدر سیالکوٹ چیمبر اکرام الحق نے 3 لاکھ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ دیگر عہدیداران شاہد افضل کھوکھر اور حسیب احمد بھٹی نے بھی فنڈ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

    تقریب میں انجمن مغلیہ کے فلاحی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے کے عطیات دینے کا اعلان کیا گیا، جس پر صدر فضل جیلانی اور دیگر عہدیداران نے مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا۔

  • لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟

    لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟

    لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    آج رمضان المبارک کا پہلا روزہ رکھنے اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد تلاوتِ قرآن میں مشغول تھا۔ رمضان کا مقدس مہینہ عبادت، توبہ و استغفار اور قرآن پاک کی تلاوت کا مہینہ ہے، اس لیے ارادہ کیا تھا کہ اللہ کے کلام کی تلاوت میں مکمل یکسوئی اختیار کروں۔ مگر جیسے ہی قرآن پاک کھولا اور تلاوت کا آغاز کیا، قریبی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے فل آواز میں رمضان المبارک کے حوالے سے مولود کی ریکارڈنگ نشر ہونے لگی۔ اس قدر بلند آواز تھی کہ قرآن کی آیات پر توجہ مرکوز رکھنا ممکن نہ رہا، جس کی وجہ سے تلاوت میں دشواری پیش آئی اور دل میں یہ سوال ابھرا کہ کیا عبادات کے وقت مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا اس انداز میں استعمال شرعی طور پر درست ہے؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا بہت سے لوگوں کو روزانہ ہوتا ہے۔ مساجد کے علاوہ گھروں میں بھی مرد و خواتین لاؤڈ اسپیکر کے شور کی وجہ سے یکسوئی کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور اپنی عبادات نہیں کر سکتے۔ جو خواتین سحری کی تیاری کے لیے سب سے پہلے جاگتی ہیں، سبھی کو وقت پر روزہ رکھواتی ہیں اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہیں، وہ بھی اس شور کی وجہ سے سکون سے نہیں سو پاتیں۔ روزہ ایک عبادت ہے جس میں جسمانی و روحانی طور پر صبر و سکون درکار ہوتا ہے، مگر جب عبادت کے بعد معمولی سی نیند بھی پوری نہ ہو سکے تو اس کا براہِ راست اثر صحت اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

    اسلام میں عبادات کی روح سکون، یکسوئی، عاجزی اور خشوع و خضوع میں پنہاں ہے۔ ایک مسلمان جب اللہ کی عبادت کرتا ہے تو وہ دنیا کے دیگر معاملات سے الگ ہو کر اپنے رب سے تعلق قائم کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عبادات کے دوران سکون اور عاجزی اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے "وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ” (الاعراف: 205) یعنی "اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ، اور زیادہ بلند آواز کے بغیر یاد کرو۔” یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ عبادات کے دوران ذکر و اذکار یا تلاوت زیادہ بلند آواز میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ خشوع وخضوع کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ یکسوئی برقرار رہے۔

    نبی کریم ﷺ نے عبادت کے دوران سکون، نظم و ضبط اور عاجزی کو برقرار رکھنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "أَيُّهَا النَّاسُ، كُلُّكُمْ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ” (سنن ابی داؤد: 1332) یعنی "اے لوگو! تم سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، پس کوئی دوسرے پر (عبادت کے دوران) اپنی آواز بلند نہ کرے۔” یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ عبادات کے دوران دوسروں کو متاثر کرنے والی بلند آوازیں ناپسندیدہ ہیں۔ اگر کوئی اپنی عبادت کے دوران اس قدر بلند آواز میں قرآن پڑھنے لگے کہ دوسروں کی عبادت میں خلل پڑے، تو یہ درست نہیں۔

    نبی کریم ﷺ کی مسجد نبوی میں عبادات نہایت پرسکون اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جاتی تھیں۔ کہیں بھی ایسا ذکر موجود نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اذان یا خطبے کے علاوہ مسجد کے اندر یا باہر بلند آواز میں کوئی نعت، مولود یا ذکر و اذکار نشر کیا جاتا ہو جو دوسروں کے لیے عبادات میں رکاوٹ کا سبب بنے۔

    لاؤڈ اسپیکر ایک جدید ایجاد ہے اور اس کا استعمال بنیادی طور پر اذان، خطبہ اور دیگر شرعی ضروریات کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بعض مساجد میں بلا ضرورت نعتیں، حمد اور مولود بلند آواز میں نشر کی جاتی ہیں جو کہ عبادات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ فقہاء کے مطابق مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اذان، نماز کے اعلانات اور خطبوں تک محدود ہونا چاہیے۔ ایسی چیزوں کو نشر کرنا جو لوگوں کی نماز، تلاوت یا ذکر و اذکار میں رکاوٹ بنے، درست نہیں۔ اگر کوئی عمل عبادات میں خلل ڈالے تو اسے ترک کرنا واجب ہے۔

    شیخ ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں”مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف ان مقاصد کے لیے ہونا چاہیے جن کے بغیر دین کی تبلیغ یا عبادات کا اہتمام ممکن نہ ہو۔ غیر ضروری طور پر نعتیں، حمد یا دیگر چیزیں چلانا مناسب نہیں خاص طور پر اگر اس سے عبادات میں خلل پیدا ہو۔”

    بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ نعتیں اور مولود ایمان کو تازہ کرتے ہیں اور لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس دلیل میں کچھ وزن ضرور ہے، لیکن یہ اس وقت درست ہوگی جب یہ عمل عبادات کے وقت نہ ہو اور کسی کی نماز یا تلاوت میں رکاوٹ نہ بنے۔ اگر عبادت کرنے والے افراد کی توجہ ہٹ رہی ہو تو پھر یہ عمل دینی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنے گا۔

    یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص مسجد میں زور زور سے ذکر کرے اور دوسرے نمازیوں کی عبادت میں خلل ڈالے حالانکہ ذکر کرنا بذاتِ خود نیک عمل ہے۔ لیکن اگر یہ کسی دوسرے کی عبادت میں رکاوٹ بنتا ہے تو یہ عمل درست نہیں رہتا۔

    مساجد میں لاؤڈ اسپیکر سے بلند آواز میں نعتیں، حمد اور مولود نشر کرنا اگر نمازیوں، تلاوت کرنے والوں یا ذکر و اذکار میں مشغول افراد کے لیے رکاوٹ بنتا ہے تو یہ عمل شرعاً درست نہیں۔ مساجد میں سکون اور خشوع کا ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف ضروری امور کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی عمل دوسروں کی عبادات میں خلل ڈال رہا ہے تو اسے ترک کرنا بہتر ہے۔

    مساجد کے آئمہ کرام اور علمائے دین کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں اور عوام کی دینی و سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس غیر ضروری شور و غل کے خلاف رہنمائی کریں۔ عبادات کے دوران پرسکون ماحول فراہم کرنا نہ صرف شرعی تقاضا ہے بلکہ معاشرتی ضرورت بھی ہے۔

    ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت کارروائیاں کریں تاکہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام ممکن ہو۔ اگر یہ قانون نافذ کیا جائے اور مساجد میں صرف ضروری اعلانات اور عبادات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال محدود کر دیا جائےتو بہت سے لوگ یکسوئی کے ساتھ عبادات کر سکیں گے اور خواتین کو بھی سحری اور نماز کے بعد آرام کا موقع مل سکے گا۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی مساجد کے ائمہ کرام اور انتظامیہ سے نرمی اور ادب کے ساتھ گزارش کریں کہ وہ عبادات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ سب کو یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع مل سکے۔
    اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

  • سیالکوٹ:رمضان المبارک، نیکیوں کی بہار، تاجر برادری روزہ داروں کو ریلیف دے، محسن سردار

    سیالکوٹ:رمضان المبارک، نیکیوں کی بہار، تاجر برادری روزہ داروں کو ریلیف دے، محسن سردار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرمدثررتو) ای ایل سی کڈز کلب حسنات کیمپس کے ڈائریکٹر محسن سردار نے رمضان المبارک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے، جس میں عبادات اور نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں اور اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں۔ ہمیں قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ پڑھنے اور سیکھنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

    محسن سردار نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ روزہ داروں کو ریلیف فراہم کریں تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔

    معروف قانون دان شاہد اقبال وریاہ ایڈووکیٹ نے بھی رمضان المبارک کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، جس میں رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس اسی مہینے میں نازل ہوا۔ مسلمانوں کو اس مبارک مہینے میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

  • عالمی طاقتوں کی کشمکش اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث کو غیر معمولی اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ عالمی رہنمائوں کے درمیان اس نوعیت کی سخت گفتگو عموماََ بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہے، لیکن اس بار یہ بحث دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے کھلے عام ہوئی۔ زیلنسکی نے ٹرمپ کے سامنے دبنے کے بجائے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ یوکرین اب کسی بھی قسم کے امریکی دبا ئوکو خاموشی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ یوکرین جنگ کے ممکنہ معاہدے پر اختلافات ہیں۔ امریکہ کی حمایت پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکی ہے اور امریکی قیادت کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے کیف کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی اختلافات اور ٹرمپ کی متنازعہ حکمت عملی یوکرین کے لیے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ ٹرمپ کا رویہ یوکرین جنگ کے حوالے سے نہایت سخت اور غیر متوقع رہا ہے۔ وہ یوکرین کو امریکی وسائل پر بوجھ سمجھتے ہیں اور اس تنازعے سے جلد از جلد نکلنے کے حق میں ہیں۔ ان کا یہ مئوقف کہ یوکرین جنگ میں امریکہ کا مزید کردار نہیں ہونا چاہیے، نہ صرف کیف بلکہ یورپ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    یورپی معیشت شدید زوال کا شکار ہے۔ 2008 کے معاشی بحران کے بعد سے یورپ امریکی سبسڈی پر انحصار کرتا رہا مگر اب امریکہ خود اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی اور کو معاشی سہارا دے سکے۔ اس کی معیشت بنیادی طور پر نوٹ چھاپنے کے مصنوعی عمل پر کھڑی ہے جو طویل المدتی بنیادوں پر غیر مستحکم ہے۔ 2008 کے بحران نے امریکی معیشت کی اصل کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے بعد سے امریکی معیشت مسلسل کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے۔

    سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اور صنعتی پیداوار کے خاتمے نے امریکہ کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔برکس اتحاد اسی پس منظر میں وجود میں آیا۔ اس اتحاد کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جو امریکی معاشی اجارہ داری کو ختم کر سکیں۔ برکس ممالک چاہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام میں توازن قائم ہو تاکہ امریکہ اپنی مرضی سے ریزرو کرنسی چھاپ کر باقی دنیا سے معاشی فائدہ نہ اٹھا سکے۔

    امریکی معیشت کو کھوکھلا قرار دینے کی بنیادی وجوہات میں اس کی صنعتی زوال پذیری، مصنوعی مالیاتی پالیسی اور حد سے زیادہ فوجی اخراجات شامل ہیں۔ امریکہ کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری تقریبا ختم ہو چکی ہے اور اس کی معیشت اب فنانس، ٹیکنالوجی اور سروس سیکٹر پر مبنی ہےجو اسے چین اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتوں کے مقابلے میں کمزور بنا رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان مینوفیکچرنگ سیکٹر کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے۔ چین نے اپنی صنعتی صلاحیت کو مسلسل بڑھایا ہے جبکہ امریکہ نے اپنی فیکٹریاں بند کر کے پیداوار دوسرے ممالک میں منتقل کر دی۔ اس پالیسی نے چین کو عالمی مینوفیکچرنگ حب میں تبدیل کر دیاہے جبکہ امریکہ صنعتی پیداوار کے معاملے میں پیچھے رہ گیا۔

    ایشیا کی جغرافیائی برتری کئی عوامل پر مشتمل ہے جن میں یورپ اور افریقہ کے ساتھ براہ راست زمینی روابط، متحرک اور نوجوان افرادی قوت اور ترقی پذیر معیشتوں کی موجودگی شامل ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ جغرافیائی طور پر الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے اور وہ عالمی معیشت کے بڑھتے ہوئے مراکز سے کٹ رہا ہے، امریکہ اور یورپ اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر سکتے ہیں جن میں صنعتی پیداوار کی بحالی، نئی معاشی حکمت عملیوں کا نفاذ اور چین و بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی عالمی طاقت زوال پذیر ہوتی ہے تو وہ جنگ کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات نہ صرف اس کے معاشی استحکام میں مدد دے رہے ہیں بلکہ اسے ایک اسٹریٹجک حیثیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن، اقتصادی راہداری منصوبوں اور ترقی پذیر معیشت کے باعث خطے میں مرکزی حیثیت حاصل کر رہا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے شعبے میں ایک کلیدی کھلاڑی بنا رہے ہیں۔

    تاہم پاکستان کو درپیش چیلنجز میں مغربی طاقتوں کی ممکنہ مداخلت بھی شامل ہے جو خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حربے استعمال کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور اندرونی عدم استحکام کے پس پردہ یہی عوامل ہو سکتے ہیں جو پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔

    پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق ترتیب دے اور چین، روس، برکس ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی استحکام، سیکیورٹی اقدامات اور معیشت کو مزید مضبوط کرنے پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    نتیجے کے طورپر عالمی نظام کی نئی تشکیل ناگزیر نظر آتی ہے۔ مغرب چاہے اسے تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہی حقیقت ہے کہ اب دنیا یکطرفہ امریکی غلبے کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

  • حافظ آباد: خستہ حال سڑکوں سے عوام پریشان، سفری مشکلات سنگین

    حافظ آباد: خستہ حال سڑکوں سے عوام پریشان، سفری مشکلات سنگین

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبرنگارشمائلہ) ضلع حافظ آباد کے شمال مشرقی علاقے ذرائع آمد و رفت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    سکھیکی منڈی تا حافظ آباد براستہ پنج پلہ، ساون پورہ تا جلال آنہ اور جلال آنہ تا چونترہ براستہ ڈیرہ محمد صادق تک تقریباً 22 سے 23 کلومیٹر طویل سڑکیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ شہریوں، طلبہ، مریضوں اور روزگار کے لیے آنے جانے والوں کو معمولی سفر بھی گھنٹوں میں طے کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ آٹو رکشوں کی کمی اور دگنے کرایوں نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

    اگر ان سڑکوں کو بحال کیا جائے تو بھاکا بھٹیاں، کوٹ سرور، خانقاہ ڈوگراں، حافظ آباد اور سکھیکی منڈی کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے جبکہ 500 سے 700 گھروں پر مشتمل دیہاتوں کے رہائشی بھی اس بنیادی سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور سڑکوں کی مرمت کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ: آسٹریلین ہائی کمشنر کا چیمبر آف کامرس کا دورہ، تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال

    سیالکوٹ: آسٹریلین ہائی کمشنر کا چیمبر آف کامرس کا دورہ، تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)پاکستان میں تعینات آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے وفد کے ہمراہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر چیمبر اکرام الحق، نائب صدر عمر خالد اور دیگر ممبران سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سیالکوٹ کی برآمدی صنعت کو آسٹریلوی مارکیٹ میں فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ معروف صنعتکار خواجہ عابد اور سابق صدر سیالکوٹ چیمبر ماجد رضا بھٹہ نے اس موقع پر کہا کہ آسٹریلیا میں پاکستانی سپورٹس گڈز، کرکٹ گیئر، ساکر بال، ہارڈبال اور بیس بال کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے ملکی برآمدات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

    صدر چیمبر اکرام الحق اور نائب صدر عمر خالد نے آسٹریلین ہائی کمشنر کو سیالکوٹ میں تیار کردہ مصنوعات کا تحفہ پیش کیا۔

  • سیالکوٹ: اراکین اسمبلی کا علامہ اقبال میموریل ہسپتال کا دورہ، مریضوں کی عیادت اور سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ: اراکین اسمبلی کا علامہ اقبال میموریل ہسپتال کا دورہ، مریضوں کی عیادت اور سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ اور چوہدری فیصل اکرام نے گورنمنٹ علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار کا جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران اراکین اسمبلی نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سہیل انجم بٹ نے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ایمرجنسی سروسز، او پی ڈی، ادویات کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔

    اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق مریضوں کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اپنی استعداد سے زیادہ مریضوں کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، تاہم آئندہ چند روز میں گورنمنٹ سردار بیگم ٹیچنگ ہسپتال کی ری ویمپنگ مکمل ہونے کے بعد مریضوں کا دباؤ کم ہو جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سیالکوٹ میں آبادی کے تناسب سے ایک بڑے جدید ہسپتال کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست کی جائے گی اور موزوں جگہ پر پراجیکٹ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ری ویمپنگ کے بعد اسے کسی جدید ہسپتال سے کم نہیں سمجھا جا سکتا، جہاں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    دورے کے موقع پر خواجہ سلطان ٹیپو، رفیق مغل اور مہر حسنین بھی موجود تھے، جنہوں نے ہسپتال میں جاری ترقیاتی کاموں اور سہولیات کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

  • اوچ شریف: مولانا فضل الرحمان کی قاری سیف الرحمان راشدی سے تعزیت

    اوچ شریف: مولانا فضل الرحمان کی قاری سیف الرحمان راشدی سے تعزیت

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )مولانا فضل الرحمان کا قاری سیف الرحمان راشدی سے ٹیلیفونک رابطہ، جواں سال بیٹے کے انتقال پر اظہار افسوس

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی بہاولپور کے امیر قاری سیف الرحمان راشدی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان کے جواں سال بیٹے کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے۔ انہوں نے قاری سیف الرحمان اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جواں اولاد کی موت بڑا صدمہ ہے، اللہ کریم آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

  • اوچ شریف: موضع بیٹ احمد میں چوری کی واردات، محنت کش کی قیمتی گائے چوری

    اوچ شریف: موضع بیٹ احمد میں چوری کی واردات، محنت کش کی قیمتی گائے چوری

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے موضع بیٹ احمد بستی کالڑہ میں چوری کی سنگین واردات پیش آئی، جس میں نامعلوم چور ایک محنت کش مجید کالڑہ کی قیمتی گائے چرا کر فرار ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق مجید کالڑہ جو کہ ایک محنت کش ہیں، اپنی گائے پال کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ انہوں نے رات کے وقت اپنی گائے کو گھر کے قریب باڑے میں باندھ کر سو گئے۔ تاہم علی الصبح جب وہ باڑے میں گئے تو گائے غائب تھی۔

    گائے کی چوری کی اس واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ دیہاتیوں نے پولیس سے اپیل کی ہے کہ چوروں کا جلد از جلد سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور محنت کش کسان کی قیمتی گائے واپس دلائی جائے۔

    متاثرہ شخص نے کہا کہ وہ پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار تھے اور اب ان کی واحد قیمتی ملکیت بھی چوری ہو گئی ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔