Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    سرینگر(باغی ٹی وی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں کر دیے۔

    کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق سری نگر سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں یہ پوسٹرز لگائے گئے ہیں، جن میں کشمیری عوام نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان پوسٹرز پر پاکستانی قیادت کی تصاویر کے ساتھ ساتھ مختلف نعرے بھی درج ہیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ دن پہلی مرتبہ 1990 میں منایا گیا تھا اور تب سے ہر سال پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جانب سے والہانہ پذیرائی کی جاتی ہے۔

    مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ایسے پوسٹرز لگانے پر بھارتی فورسز کی جانب سے سخت ردِ عمل متوقع ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کسی بھی اظہارِ یکجہتی پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں اور درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیری عوام طویل عرصے سے مزاحمت کر رہے ہیں، اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب
    تحریر:حسن معاویہ جٹ
    رجوعہ/بہادری والا کارپٹ روڈ جس کے دونوں طرف کچا راستہ ہے، ماضی میں اس کچے راستے کی حالت خراب تھی یعنی اس پر وقفے وقفے سے کھڈے پڑے ہوئے تھے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پھر کسی نے اس راستے کو بہتر بنانے کی کوشش کی، اور کچے راستے پر مٹی ڈالی گئی، یہ امید کرتے ہوئے کہ شاید اس سے راستہ بہتر ہو جائے۔ کھڈے تو ختم ہوگئے، مگر نتیجہ کچھ اور نکلا۔ روڈ ذرا وسیع ہوگیا مگر مٹی ڈالنے کے بعد یہ صورتحال بن گئی کہ بائیکرز، سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے مٹی کے طوفان میں سے گزرتے ہیں۔

    جی ہاں، جب گاڑیاں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں تو مٹی کا طوفان اڑتا ہوا ہر "بے کار” کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ پہلے لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں کپڑے گندے نہ ہو جائیں لیکن اب ہر کوئی اس دھول کے "خوبصورت تحفے” کا عادی ہو چکا ہے۔ ہر کوئی بے خوف ہو کر پھیپھڑوں کو تگڑا کرکے گھر سے نکلتا ہے۔ وہ لوگ جو ٹھٹھہ ٹھاکر، باغ، ابووالا، رتھانوالہ، رجوعہ اور دیگر علاقوں کے رہائشی ہیں، وہی جانتے ہیں کہ اس راستے سے گزرنا "بے کار” افراد کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں، بالخصوص جب لوگ نہا دھو کر کام کاج پر جا رہے ہوں یا عمدہ قسم کی تیاری کرکے کسی فنکشن میں جا رہے ہوں، تو غریب سواری یعنی بائیک یا سائیکل والوں کے لیے یہ سفر ایک نیا چیلنج بن جاتا ہے۔ یہاں دھول اور مٹی کے طوفان سے گزر کر اپنا حلیہ بگاڑنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

    شروع کے چند دنوں تک پانی ڈال کر اس صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام رہی۔ کئی مہینے گزر چکے ہیں اور اب گزرنے والے "بے کار” افراد اس کے عادی ہو چکے ہیں، پھیپھڑے فولادی ہو گئے ہیں اور ضمیر سو چکے ہیں۔ سب نے اس "دھول اور مٹی کے فوائد” کو خوشی خوشی قبول کیا ہے۔ یہاں سب اچھا ہے کیونکہ شاید اب دھول کا کوئی "مفید” پہلو سامنے آ چکا ہے۔ اس راستے کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، کھڈے اب بھی نظر آتے ہیں اور ساتھ دھول بونس کے طور پر موجود ہے۔ "سب کچھ ٹھیک ہے” کے نعرے کے ساتھ، لوگ اب ہر روز اپنے گندے کپڑے اور بگڑے حلیے لے کر کام پر روانہ ہوتے ہیں اور واپسی پر مزید دھول پھانک کر گھروں کو پہنچ کر حکام کو کوستے ہیں۔

    عوام کو یہ بات معلوم ہے کہ انتظامیہ کو دیگر بہت سے بڑے مسائل کا سامنا ہے جس پر وہ کام کر رہی ہے، لیکن ایسے مسائل کی جانب متوجہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ دھول مٹی ہر ایک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں، کیونکہ جہاں دو تندرست افراد دھول کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہیں دو چار دھول سے کسی مسئلے کا شکار ہونے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے اس راستے کو مستقل بنیادوں پر استعمال کرنے والے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

    رہے نام اللہ کا

  • ڈیرہ غازی خان: آر پی اوکا پنجاب، خیبر پختونخواہ بارڈر کا ہنگامی دورہ، سکیورٹی اقدامات کا جائزہ

    ڈیرہ غازی خان: آر پی اوکا پنجاب، خیبر پختونخواہ بارڈر کا ہنگامی دورہ، سکیورٹی اقدامات کا جائزہ

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا پنجاب، خیبر پختونخواہ بارڈر کا ہنگامی دورہ، سکیورٹی اقدامات کا جائزہ

    تفصیلات کے مطابق آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سرحدی علاقے کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے خوارجی دہشتگردوں کے حملے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ حضرت عمر فاروق (جھنگی)، چیک پوسٹ لکھانی اور ترمن کا تفصیلی معائنہ کیا۔

    آر پی او نے چیک پوسٹ جھنگی پر تعینات جوانوں سے خصوصی ملاقات کی اور دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرنے اور چیک پوسٹ کا بہترین دفاع کرنے پر جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کے الرٹ ہونے کی وجہ سے خوارجی دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آر پی او نے سرحدی چوکیوں کے سیکورٹی اقدامات، تعینات نفری، گاڑیوں، اسلحہ، ایمنیشن، مورچوں اور تھرمل ڈوم کیمروں کے ذریعے چیکنگ کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔

    آر پی او نے سرحدی چیک پوسٹوں کی عمارتوں، باؤنڈری وال اور مورچوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جاری تعمیراتی کاموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس دوران، انہوں نے ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو ہمہ وقت الرٹ رکھنے، ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ماک ایکسرسائزز کی مشق کرنے اور کیو آر ایف ٹیموں کے ریسپانس ٹائم کو مزید بہتر کرنے کے بھی احکامات دیے۔

    آر پی او نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر سرحدی چوکیوں کی عمارت اور مورچوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ حکومت پنجاب نے سرحدی چوکیوں کو جدید ترین اسلحہ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سے لیس کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخواہ کی سرحدی چوکیوں پر دہشت گردوں کے 11 حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے، اور ان کا عزم ہے کہ دہشت گرد کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

  • حافظ آباد: شاہین مارکیٹ میں دوبارہ ناجائز تجاوزات، شہریوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ

    حافظ آباد: شاہین مارکیٹ میں دوبارہ ناجائز تجاوزات، شہریوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ

    حافظ آباد،باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ کی رپورٹ) شاہین مارکیٹ میں دوبارہ ناجائز تجاوزات، شہریوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق حافظ آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے باوجود شاہین مارکیٹ میں بعض دکانداروں کی جانب سے دوبارہ ناجائز تجاوزات قائم کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر شہریوں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف گزرگاہ مزید تنگ ہو گئی ہے بلکہ عوام، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، ضلعی انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے شاہین مارکیٹ کے دکانداروں کو پہلے بھی وارننگ دی تھی، مگر ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض دکانداروں نے دوبارہ سڑکوں پر سامان رکھ کر تجاوزات قائم کر لی ہیں۔ جس کی وجہ سے شہریوں کو پیدل چلنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

    مارکیٹ میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ تنگ راستوں کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کچھ دکانداروں نے بھی تجاوزات کے خاتمے کی حمایت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف عوام کی سہولت کے لیے ضروری ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر حافظ آباد اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر کارروائی کریں تاکہ بازار میں عوام کی نقل و حرکت آسان ہو سکے۔ ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تجاوزات کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بناتے ہوئے سخت اقدامات کرے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور شاہین مارکیٹ کو دوبارہ محفوظ اور صاف ستھرا بنایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: بٹ برادری فاؤنڈیشن کا الیکشن، مبشر بٹ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب

    سیالکوٹ: بٹ برادری فاؤنڈیشن کا الیکشن، مبشر بٹ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر مدثر رتو سے) بٹ برادری فاؤنڈیشن پاکستان و انٹرنیشنل کا الیکشن، مبشر بٹ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ کے حاجی پورہ بوگڑہ مین روڈ پر واقع مکہ رئیل اسٹیٹ اینڈ بلڈرز میں شاندار الیکشن 2025 کا انعقاد کیا گیا، جس میں الحاج ارشاد احمد بٹ، مرکزی صدر بٹ برادری فاؤنڈیشن پاکستان و انٹرنیشنل نے ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی۔

    اس موقع پر ووٹنگ کا عمل پورے دن جاری رہا اور بالآخر مبشر بٹ کو مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہونے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
    بٹ برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تمام افراد نے مبشر بٹ کی محنت اور لگن کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں مبشر بٹ ایک انمول ہیرا ہیں جو ہمیشہ ہر فرد کی مدد کے لیے 24 گھنٹے تیار رہتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی کام کی نوعیت ہو۔

    سیالکوٹ کی تمام بٹ برادری مبشر بٹ کے لیے دعا گو ہے اور انہیں مزید کامیابیاں ملنے کی دعا کرتی ہے۔

  • لاڑکانہ: وزیر داخلہ سندھ کا ہندو برادری کو اقلیت نہیں، بلکہ بھائی سمجھنے کا اعلان

    لاڑکانہ: وزیر داخلہ سندھ کا ہندو برادری کو اقلیت نہیں، بلکہ بھائی سمجھنے کا اعلان

    لاڑکانہ (باغی ٹی وی) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو برادری کو اقلیت نہیں بلکہ ہمارے بھائی سمجھا جاتا ہے اور وہ برابری کے حقدار ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وہ یہاں آئے ہیں۔

    ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پیز کو ہدایت دی کہ ان کے معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی اور جن افراد کے پاس غیر ضروری پولیس اہلکار ہیں، انہیں واپس لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاڑکانہ میں ون فائیو کے بجائے ذوالفقار فورس بنائی جارہی ہے اور اس فورس کو 50 موٹر سائیکلیں فراہم کی جائیں گی۔

    انہوں نے کچے کے اضلاع کو مزید فنڈز فراہم کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو سندھ میں امن و امان کے لیے ہمیشہ سرگرم رہنے پر سراہا۔ انہوں نے ڈی آئی جی ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکارپور اور کندھ کوٹ کشمور کے لیے پولیس میڈلز کا اعلان بھی کیا۔

    ضیاء الحسن لنجار نے کرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں اور جب ڈاکوؤں کو مارا جائے گا یا گرفتار کیا جائے گا تو وہ بھی اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ شکارپور سے کندھکوٹ اور سی پیک گھوٹکی تک ٹریفک کی روانی جاری ہے، جو پولیس کی کامیابی ہے۔

    وزیر داخلہ سندھ نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں واضح کمی کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ سندھ پولیس ہندو برادری کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ جرم کے بعد ایف آئی آر درج ضرور کروائیں اور کہا کہ پولیس مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔

    مزید برآں، وزیر داخلہ نے اپر سندھ میں تبدیلی کی توقعات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہائی وے پیٹرول پولیس کے آغاز کے لیے ایک ماہ کے اندر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ہائی وے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ پولیس میں 50 ہزار نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے تاکہ پولیس کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

  • سکھر پولیس کی کامیاب کارروائیاں، 50 قیمتی موبائل فونز برآمد، اصل مالکان کے حوالے

    سکھر پولیس کی کامیاب کارروائیاں، 50 قیمتی موبائل فونز برآمد، اصل مالکان کے حوالے

    سکھر، باغی ٹی وی (نامہ نگار) سکھر پولیس نے ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کے گمشدہ اور چوری شدہ 50 قیمتی موبائل فونز کو ٹریس کر کے اصل مالکان کے حوالے کر دیے۔

    ایس ایس پی سکھر، اظہر خان کے احکامات پر انچارج ڈیجیٹل انویسٹیگیشن سیل سکھر اور سکھر پولیس کے مختلف تھانہ جات نے مختلف اوقات میں چوری اور گمشدہ موبائل فونز کو ٹریس کر کے ان کی برآمدگی کی کارروائیاں کیں۔ ایس ایس پی سکھر نے تمام برآمد موبائل فونز مالکان کے حوالے کردیے اور اس عمل کو سراہا۔

    اس موقع پر ایس ایس پی سکھر نے ڈیجیٹل انویسٹیگیشن سیل کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ چوری اور گمشدہ موبائل فونز کی روزانہ کی بنیاد پر ٹریسنگ کی جائے اور زیادہ سے زیادہ موبائل فونز برآمد کرکے اصل مالکان تک پہنچائے جائیں۔

    موبائل فونز کے مالکان نے ان کی قیمتی چیزیں واپس ملنے پر ایس ایس پی سکھر اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور پولیس کی کامیاب کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا۔

  • ٹھٹھہ: پولیس کی بروقت کارروائی، لاکھوں روپے مالیت کے چھینے گئے مویشی اور مزدا ٹرک برآمد

    ٹھٹھہ: پولیس کی بروقت کارروائی، لاکھوں روپے مالیت کے چھینے گئے مویشی اور مزدا ٹرک برآمد

    ٹھٹھہ، باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) پولیس کی بروقت اور کامیاب کارروائی کے نتیجے میں لاکھوں روپے مالیت کے چھینے گئے 14 بھینسیں اور مزدا ٹرک برآمد کر لیے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق، آج صبح 5:30 بجے پولیس کو اطلاع ملی کہ تھانہ کینجھر کی حدود میں علی بحر کے قریب موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم ملزمان نے مدعی ارشد میمن کا مزدا ٹرک چھین لیا تھا، جس میں 14 بھینسیں لوڈ کرکے کراچی جا رہا تھا۔ پولیس فوراً متحرک ہوئی اور ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے سخت احکامات پر ایس ڈی پی جھرک جاوید ٹالپر کی قیادت میں ایس ایچ او تھانہ کینجھر انسپیکٹر قادر بخش شورو اور ان کی ٹیم نے ملزمان کا تعاقب کیا اور چھینے گئے مویشیوں اور ٹرک کو برآمد کر لیا۔

    پولیس نے کیس کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان نے پولیس کی ٹیم کی بروقت کارروائی کی تعریف کی اور انہیں شاباش، نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    ترجمان ٹھٹھہ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے پولیس کے عزم کا ثبوت ہے اور ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • احمدپورشرقیہ میں برن یونٹ نہ ہونے سے اموات میں اضافہ

    احمدپورشرقیہ میں برن یونٹ نہ ہونے سے اموات میں اضافہ

    اوچ شریف، باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ میں برن یونٹ کی کمی نے شہریوں کی زندگیوں کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے جھلسنے والے مریضوں کی شرح اموات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شہریوں محمد عامر، محمد آصف، مشتاق احمد، محمد یوسف اور دیگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس سنگین مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے فوری اقدام کی درخواست کی۔

    تفصیلات کے مطابق، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں جدید برن یونٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے، جھلسنے والے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس صورت حال میں متاثرہ مریضوں کو اکثر بہاولپور یا ملتان کے ہسپتالوں میں ریفر کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران سفر کے دوران ان مریضوں کو طبی امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ تحصیل بھر کے ہسپتالوں میں برن یونٹ کی کمی مریضوں کی زندگیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا، "اربوں روپے کے فنڈز کے باوجود تحصیل احمد پور شرقیہ کے ہسپتال میں برن یونٹ کی عدم موجودگی افسوسناک ہے اور یہ حکومتی انتظامات کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔” شہریوں کا کہنا ہے کہ آگ سے جھلسنے والے مریضوں کو فوری اور مؤثر علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے، مگر اس سہولت کی کمی کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ فوراً تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ میں برن یونٹ قائم کیا جائے تاکہ آگ سے متاثرہ مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے اس مسئلے پر فوری طور پر توجہ نہ دی تو ان کی زندگیوں کو مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ: چیف منسٹر فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار کا دورہ، انسداد پولیو مہم کا جائزہ

    سیالکوٹ: چیف منسٹر فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار کا دورہ، انسداد پولیو مہم کا جائزہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) چیف منسٹر فوکل پرسن برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے سیالکوٹ کا دورہ کرتے ہوئے پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موبائل اور فکسڈ پولیو ٹیموں کی فیلڈ میں جاکر انسپکشن کی، بچوں کی فنگر مارکنگ اور گھروں کی ڈور ٹو ڈور مارکنگ کی فزیکل ویری فیکیشن کی، اور خود بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔

    عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ میں 73 نئے پولیو کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے پنجاب میں صرف ایک کیس سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انہیں فوکل پرسن کی ذمہ داری سونپی، اور وہ اب تک 32 اضلاع کا دورہ کر چکی ہیں۔

    پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اور حفاظتی اقدامات
    عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پنجاب، پولیو سے متاثرہ صوبوں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے درمیان گھرا ہوا ہے، جہاں سے وائرس کی منتقلی کا خدشہ موجود ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر پنجاب کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جہاں داخل ہونے والے ہر بچے کو پولیو ویکسین دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لیے افغانستان کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

    سیالکوٹ میں پولیو مہم کی پیش رفت
    انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں 2022 کے بعد سے کسی بھی انوائرمنٹل سیمپل میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا، جو ایک خوش آئند بات ہے، تاہم احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ وائرس بچوں اور بڑوں کے ذریعے سفر کر سکتا ہے، اس لیے ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانے کو یقینی بنانا ہوگا۔

    7 لاکھ 95 ہزار بچوں کو پولیو سے بچانے کا ہدف
    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کے دوران 7 لاکھ 95 ہزار 877 بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 2 ہزار 879 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

    عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہیں۔