Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • حافظ آباد: وانیکی تارڑ پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    حافظ آباد: وانیکی تارڑ پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی(خبرنگار) وانیکی تارڑ پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کریک ڈاؤن، مشکوک شخص سے بھاری مقدار میں چرس برآمد، مقدمہ درج۔

    تفصیلات کے مطابق چوک کولو تارڑ خان پور کے علاقے میں فیصل اعجاز ASI معہ ملازمان گشت پر موجود تھے کہ ایک مشکوک شخص، قاسم علی ولد محمد علی قوم مسلم شیخ سکنہ ٹھٹھہ گجو کسیسے پیدل آ رہا تھا۔ پولیس نے مشتبہ جان کر اسے روکا اور جامعہ تلاشی لینے پر 1140 گرام چرس برآمد کر لی۔

    پولیس نے چرس قبضے میں لے کر ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف مقدمہ نمبر 96/25 مورخہ 06 فروری 2025 بجرم 9C درج کر لیا گیا۔ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • حافظ آباد: مبارک کالونی ،سیوریج کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا، شہری پریشان

    حافظ آباد: مبارک کالونی ،سیوریج کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا، شہری پریشان

    حافظ آباد,باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ کی رپورٹ) شہر کی معروف رہائشی آبادی مبارک کالونی کے مکین گندے پانی کے دیرینہ مسئلے سے شدید پریشان، سیوریج کا ناقص نظام اور انتظامیہ کی بے حسی شہریوں کے لیے وبال جان بن گئی۔

    گزشتہ کئی ماہ سے گلیوں میں کھڑے سیوریج کے پانی نے جوہڑ کا منظر پیش کر دیا ہے، جس سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ بچے، بزرگ اور خواتین سبھی بدبو، مچھروں اور بیماریوں کے خوف میں مبتلا ہیں، جبکہ انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کے صفائی و ترقیاتی منصوبے بھی مبارک کالونی میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ شہریوں نے کئی بار میونسپل کمیٹی اور متعلقہ حکام سے شکایات کیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ متعدد وعدے کیے گئے مگر عملدرآمد صفر رہا، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    اہل علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیوریج نظام کو بہتر کیا جائے، کھڑے پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور مستقل بنیادوں پر صفائی کو یقینی بنایا جائے، ورنہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

  • اوچ شریف: بکھری چوک پر خوفناک حادثہ، خاتون جاں بحق، دو افراد زخمی

    اوچ شریف: بکھری چوک پر خوفناک حادثہ، خاتون جاں بحق، دو افراد زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )نواحی علاقے بکھری چوک پر موٹر سائیکل اور کار میں خوفناک تصادم، ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق رتہر نہڑانوالی بستی عبد اللہ خان کے رہائشی محمد یوسف اپنی اہلیہ اور ایک خاتون کے ہمراہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم وصول کر کے گھر واپس جا رہے تھے کہ بکھری چوک کے قریب ان کی موٹر سائیکل کو ایک نامعلوم کار نے ٹکر مار دی۔ حادثے میں محمد یوسف، ان کی اہلیہ اور دوسری خاتون شدید زخمی ہو گئے۔

    زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں محمد یوسف کی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ حادثے کے بعد کار ڈرائیور گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • انقلابی شاعر    فیض احمد فیض کی داستان حیات

    انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی داستان حیات

    اردوشاعری کو بین الاقوامی سطح دینے والے انقلابی شاعر
    فیض احمد فیض
    کے حالات زندگی اور قلم و کتاب سے ملواتی تحریر

    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    قوت شفا سے لبریز نرم دل آویزدھیمہ لہجہ جن کی آواز جیسے کوئی بہت پیار سے دل کے رخسار پر ہاتھ رکھ دے جنہوں نے اپنے اور اگلے دور کی عوام کے جذباتوں کی ترجمانی کی معاشرے کے مسائل سمیت سیاسی تقاضوں کو شاعری کا مرکز بنایا ان کا شعر درد محبت سے بھی چُورہے کلاسیقی سطح پر ایک نیا جہاں روشن کیا ان کی ہر نظم غزل شعر لفظ میں خیال کی پھل جڑی ہے اپنے معنی کے تخلیقی تجربے سے اردو کی کائنات کو روشن کیا ماضی کی تمام بڑی شخصیات کا شعری خون کلام فیض کی رگوں میں دوڑتا ہے انسانی دوستی عدل و انصاف کا مسیحا محبتوں کا سفیر جذبات و احساسات کا ترجمان اردو کا فخر و ناز جرت اظہار کا معتبر نام فیض احمد فیض جن کا اصلی نام فیض محمد خان تھا۔

    آپ 13 فروری 1911کو سیالکوٹ کے نواحی قصبے کالا قادرمیں پیدا ہوئے والد کا نام بیرسٹرچوہدری سلطان محمد خان تھا جن کی دوستی علامہ اقبال ،سر سلمان ندوی، سر عبدالقادر، ڈاکٹر ضیا الدین جیسی قدآور شخصیات سے تھی، والد فیض والی افغانستان کے چیف سیکرٹری اوربرطانیہ میں افغان سفیر رہ چکے تھے والدہ سلطان فاطمہ گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی مثالی تربیت کی، فیض صاحب اور ان کے دونوں بھائیوں کو ایک چوینی جو خرچ کے لیے ملتی تھی ان کے بھائی وہ لٹو اور پتنگ جیسے کھیلوں میں خرچ کر دیتے مگر فیض صاحب دو پیسے میں محلے کی لائبریری سے کتابیں کرائے پر لا کر پڑھا کرتے تھے ،فیض صاحب نے چھوٹی سی عمر میں کلاسیقی نظم اور نثر کی بیشتر کتابیں پڑھ لی تھیں۔طلسم ہوش رُبا۔فسانہ آزاد۔عبدالحلیم شرر کے ناول سمیت موجود ادب کی تمام مشہور کتابوں کا مطالعہ ان کا جنون بن گیا اردو کے تمام استادوں کے شعری نظری مجموعے ان کے زہن کی زمین پر نصب ہو چکے تھے سادگی زبان میں امیر مینائی اور داغ سے بے حد متاثر ہوئے زمانہ سکول میں خواہش والد پر انگلش فنکشن کا مطالعہ بھی کیا جس میں چازڈیکن۔رائٹ ہیگز۔آرتھر کونل ڈویل جیسے رائٹر ز کو پڑھ ڈالا تھا۔

    مادری زبان پنجابی تھی قرآن پاک کی تعلیم گھر میں حاصل کی تین سپارے حفظ کیے زندگی کے پچھتاوے میں ایک یہ بھی ہے کہ مرض چشم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مکمل قرآن پاک حفظ نہ کر سکے عربی اور فارسی کی تعلیم علامہ محمد اقبال ؒ کے استاد شمس العلما مولوی میر حسن سے حاصل کی مشن سکول سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جہاں سے پہلی پوزیشن میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔علامہ اقبال ؒ کی معرفت سے گورنمنٹ کالج لاہورمیں داخلہ ملا یہاں انگریزی ادب اور نیشنل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیافیض صاحب شاعر جرنلسٹ استادکے علاوہ ہر انسانی حال کی الگ الگ خوشبو تھے۔

    فیض صاحب کو بچپن میں مقابلہ کلام میں پہلا کلام لکھنے پرشمس العلما مولوی میر حسن صاحب سے ایک روپیہ بطورانعام ملا۔”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جیسے اُن کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا پیغام تھا کہ اُس کے شعرو خیالات عوام کی امانت ہیں فیض صاحب کا پہلا مجموعہ نقش فریادی کے نام سے چھپاجو 1940میں منظر عام پر آیا اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا ،فیض صاحب کہتے ہیں پیام ایک ہی ہے کہ پروش لوح و قلم کرتے رہیں گے صرف وہی لکھو جو دل پہ گزرتی ہے کیونکہ وہی دوسرے دل پر اثر کرتی ہے، فیشن و ثواب کے لیے مت لکھوکیونکہ آپ قلم کے جتنے بڑے بھی کاریگر ہوں آپ کا لکھا ہوا مصنوعی خیال کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور معلوم پڑ ہی جاتا ہے کہ اپنے دل سے بات کہی ہے یا یہ کسی لالچ خوشامد نقالی میں کہی ہے، بس بنیادی بات یہی ہے دل پہ گزری لکھو،انسان کی اپنی ذات بہت حقیر چیز ہے، اس کی اپنی ذات کا وقار توقدرت کے کاروبار زندگی میں اک زرہ ہے وہ قدرت کے دریا کی اک بوند ہے اگر قطرے میں دریا دیکھائی نہ دے تو واسطہ نقلی ہے لکھاری کو تو قطرے کو دجلہ دیکھنا ہوتا ہے یہی حقیقی لکھاری کا حسن قلم ہوتا ہے۔

    فیض صاحب کو پہلا عشق اٹھارہ برس کی عمر میں ہوا سوال ہوا کہ اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا فیض صاحب شرم و حیا کا پہرہ دینے والے خون و تربیت کے مالک تھے جس سے عشق ہوا اُس کے سامنے زبان اظہار کی ہمت ہی نہ کر سکے، یک طرفہ پیار کی آگ مین جلتے رہے اور اُس لڑکی کی شادی کسی جاگیردار سے ہو گئی اس لڑکی کا تعلق افغان گھرانے سے تھا، یہ نو عمر لڑکی ان کے ہمسائے میں رہتی تھی، فیض صاحب اپنے کمرے کی کھڑی سے اسے آتے جاتے دیکھا کرتے تھے، فیض صاحب نے اُس لڑکی سے منسلک اپنی خاموش محبت کی دیوانگی میں شعروں کے ڈھیر لگا دئیے ،اُن کا عشق اپنے شباب پر تھا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کو سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا،پھر فیض صاحب چھٹیوں میں لاہور سے سیالکوٹ آئے تو کھڑکی کی دوسری جانب انہیں وہ چہرہ نظر نہ آیا ،انہوں نے کسی سے دریافت کیا تو علم ہوا کہ اُس کی شادی ہو گئی ہے ،فیض صاحب اس خبر سے ٹوٹے دل کے ساتھ واپس لاہور آ گئے .

    معزز قارئین میں آپ کو بتاتا چلوں کہ دل کا ٹوٹنااور ناکامی کا حادثہ یہ قدرت کے وہ مراحل ہوتے ہیں جو انسان کو مضبوط و منفرد بناتے ہیں تاکہ وہ بڑے مقام پر بڑی عوامی تعداد کا ترجمان بننے کے لیے تیار ہو سکے کہتے ہیں، خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے یہ دلیل دل ٹوٹنے کو فائدے کا سودا بتاتی ہے کیونکہ جس دل میں خدا کا بسیرا ہو جائے وہی انسان مخلوق خدا کا محبوب بنتا ہے اور ناکامی ایک مقام سے گزر کر اُس سے بڑے مقام پر پہنچنے کا راستہ دیکھاتی ہے ایک بندی فیض صاحب کی نہ ہوئی مگر فیض صاحب زمانے کے ہو کر رہ گئے آئیے اب آگے بڑھتے ہیں اُس عورت کی جانب جس نے فیض صاحب کی زندگی کو مکمل و شاداب کر دیا۔

    1941میں الیس جوج سے فیض صاحب نے والدہ کی رضامندی سے شادی کر لی الیس جوج نے فیض دوستی میں دیس کے ساتھ بیس اور وطن کے ساتھ زبان بدل لی الیس جوج سے پہلی ملاقات ہندوستان میں ہوئی تب فیض صاحب امرتسر کے ایم او کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے پرنسپل ایس پی کالج تاثیر صاحب کے ہاں اکثر شاعر ادیب لکھاری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ہفتہ اتوار کو جمع ہوا کرتے تھے جن میں فیض صاحب بھی تشریف لاتے وہاں الیس جوج سے ملاقات دوستی میں بدلی، دوستی شادی میں بدل گئی، فیض صاحب کا خاندان پنجابی چوہدری جٹ جو فیملی سے باہر شادی نہیں کرتے تھے مگرفیض صاحب پابند و تنگ سوچ سے پاک تھے، الیس جوج نے اسلام قبول کیا اور الیس سے مسلمان ہو کر کلثوم بن گئیں ،کلثوم اور فیض صاحب کا نکاح شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کشمیر کے سری نگر میں پڑھوایا،جس میں ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا ،جس میں فیض صاحب نے دوسری شادی نہ کرنے اور طلاق کا حق الیس یعنی کلثوم کو سونپ دیا ،اُس وقت شادی کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں کیونکہ جنگ عظیم چھڑ چکی تھی، بحری راستے بند ہونے کی وجہ سے دلہن کو برطانیہ سے لانے کا خواب من چاہے ارادے کے مطابق پورا نہ ہو سکا، اس لیے بارات میں چندلوگ ہی تھے جن میں فیض صاحب کے چھوٹے بھائی اور ایک دوست تھے بعد میں اس موقع پر مشاعرہ ہوا تھا جس میں جوش ملیح آبادی بھی شریک تھے

    فیض صاحب کی زاتی پسند کے خلاف وقت و حالات نے پانچ برس تک برٹش آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ میں بطورکیپٹن رہنے پر مجبور کیا ،فیض صاحب بتاتے ہیں کہ فوج کی تربیت یہ تھی کہ یہ نمک جو تم کھاتے ہو یہ اس لیے ہے کہ تم اس کا تقاضہ پورا کرو یعنی نمک حرام نہ بنواور فرض پورا کرو اس کے برعکس فیض صاحب یہ اپنی بات منوائی کہ اس طریقے سے کام نہیں چلے گا اورسپاہوں سے یہ کہنا چاہیے کہ اپنے وطن کی خاطر حفاظت کے لیے تم لڑ رہے ہو ،تم نمک کے لیے نہیں لڑ رہے ہو اور فیض صاحب کی یہ بات نہ صرف مانی گئی بلکہ سپاہوں کو اس کے تابع بھی کیا گیا ،فیض صاحب اپنی قابلیت و عقل کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ میں میجر پھر کرنل بھی گئے ،پھر 1947میں پاکستان بنتے ہی انہوں نے فوج سے محکمے کو چھوڑ دیا اورفوج سے صحافت کی جانب اپنا رخ کر لیا اپنے دوست میاں افتخار الدین کے کہنے پر انگریزی اخبارپاکستان ٹائم کے ایڈیٹر بن گئے، ان کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ آزادی کے خواب کی تعبیر ابھی کوسوں دُور ہے تقسیم کے نام پر انسانیت کی تزلیل اور خون ریزی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی آزادی کا مرثیہ لکھ دیا تھا وہ پاکستان ٹائم اور اردو روزنامہ امروز کے اداروں میں ارباب اختیار کی توجہ مقصد کی جانب دلاتے رہے یو ں ان کا قلم آزادی کی حقیقی ترجمانی میں فکر اقبال کا فرض بھی نبھاتا رہا ،فیض صاحب مزدوروں کے درد کو بھی اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے وہ حقوق مزدور کی آواز بن کر پانچ سال لیبر ایڈویزری کمیٹی کے سرپرست رہے ٹریڈ یونین قائم کی انہیں منظم کیا اور فیڈریشن کے صدر بھی منتخب ہوئے۔

    جنوری 1959کی ایک دوپہر لاہور کی سڑک پر ایک عجیب منظر تھا ایک تانگہ دوڑے چلا جا رہا ہے ،پیچھے دو سپاہیوں کے درمیان ایک شخص ہاتھ کڑی پہنے بیٹھا ہے جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چہرے پر بلا کا اعتماد ہے جیسے غریب مزدورریڑھی والے سب اپنے محبوب کوپہچانتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اورتانگے کے ساتھ ساتھ ایک بڑھتا ہوا ہجوم دوڑ رہا ہے ،تانگے کی یہ سواری عاشقوں کے جھرمٹ میں سینٹرل جیل لاہور سے ڈینٹل کلینک کی جانب چلی جا رہی ہے ،تانگے میں سوار یہ وہ شخصیت ہے جیسے علامہ اقبال ؒ کے بعد ملک کاسب سے مشہور ترین شاعرفیض احمد فیض کہا جاتا ہے، نہ کوئی جرم نہ کوئی گناہ 1958میں جنرل ایوب کا مارشل لا لگایا گیا تو انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ یہ عوامی آواز ہی نہیں بلکہ طاقت بھی تھے، اسی لیے اس عوامی پکار کو دبانے کے لیے جمہوری ہیرو فیض احمد فیض صاحب کو جیل میں قید کر لیا گیااور کہا گیا ایک بار لکھ کر دے دیں کہ مارشل لا حکومت کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے مگر فیض صاحب نے صاف انکار کر دیا اور چار ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی ،فیض صاحب پر بغاوت اور حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا جاتا،9مارچ 1951 فیض صاحب راولپنڈی سازش میں گرفتار ہوئے، ان کی دونو ں صاحبزادیاں دس سالہ سلیمہ اور چھ سالہ منیزہ کبھی والد کوہاتھ کڑیوں میں تو کبھی جیل کی سلاخیوں کے پیچھے دیکھتی ہوئی کئی برس والد سے جدائی کی تکلیف برداشت کرتی رہیں بالآخرچار سال سے زائد مدت کے بعد 1955میں انہیں رہائی ملی۔

    فیض صاحب خود کو اپنے بھائی طفیل کی موت کا ذمہ دار سمجھتے رہے، 1952میں طفیل فیض صاحب سے ملنے حیدرآبادجیل میں آنے والے تھے کہ فجر کی نماز کے وقت دل کا دورہ پڑا جس نے بھائی طفیل کی جان لے لی، فیض صاحب کو حادثے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی الیس کلثوم کوجیل سے خط لکھاکہ آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی تھی یہ لوگ میری زندگی کے عزیز ترین متاع مجھے دیکھانے لے گئے ،وہ متاع جو اب خاک ہو چکی ہے اور پھر وہ اسے ساتھ لے گئے ،میں نے اپنے غم کے غرورمیں سر اونچا رکھا اور کسی کے سامنے نظر نہیں جھکائی یہ کتنا مشکل اور کتنا اذیت ناک کام تھا ،یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔اگلے خط میں انہوں نے لکھا کہ میں اُن کے بیوی بچوں اور ماں کے خیال کو دل سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں میں نے اپنی ماں کی پہلی اولاد چھین لی ہے ،ہاں میں نے ہی سب کو اُن کی زندگی سے محروم کر دیا ہے حواس اس قدر پراگندہ ہیں کہ زیادہ لکھ نہیں سکتا ،یہ غم بہت اچانک اور بے سبب لگا ہے لیکن اسے سہنے کا حوصلہ مجھ میں ہے میرا سر نہیں جھکے گا۔اس صدمے کا اثر فیض صاحب پر کافی عرصہ طاری رہا انہوں نے کچھ دن بعد اپنے بھائی کا نوحہ ایک نظم کی صورت میں لکھ کر اپنی زوجہ کو روانہ کیا۔

    فیض صاحب کو ملکی و عالمی حالات کی خبریں جیل میں بھی ملا کرتی تھیں وہ ان پر غزلیں اور نظمیں لکھا کرتے تھے فیض صاحب کی شاعری ہنگامی یا وقتی نہیں بلکہ آفاقی اور دائمی ہوتی فیض صاحب کے شہرہ آفاق شعری مجموعے،دست صبا،اور،زندہ نامہ، قیام اسیری کی ہی لازوال تخلیقات ہیں، قید خانے سے بیوی اور بچیوں کے نام لکھے خطوط کا مجموعہ صلیبیں میرے دریچے میں کے نام سے لکھا قیدو بند کی جن جن آزمائشوں سے فیض صاحب گزرے ہیں ان میں آپ کی زوجہ الیس جوج کی غمخواری حوصلہ مندی کے بغیر ان جان لیوا مراحل سے یوں اعتماد اور یقین محکم سے گزرنا ناممکن تھا ،ساری زندگی اپنے محبوب شاعر شوہر کی ہمت بننے والی الیس جوج نے وفا کی مثال تو رقم کی ہی تھی مگر سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کی صورت میں جو دوکلیاں فیض صاحب کے دامن میں ڈالیں جن کی مہک سے فیض صاحب کی زندگی معطر ہو گئی الیس جوج کی دل کشی اور حسن سیرت نے فیض صاحب کو ہمیشہ نہال رکھا دونوں ہونہار بیٹیوں نے والد کی میراث میں ملنے والے تحفے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے شاندار تابناک ورثے کی دل و جان سے ناصرف حفاظت کی بلکہ اس سے اپنے ملک و قوم کو مستفید بھی کیاپاکستان ٹیلی وژن کو منزہ فیض نے اپنے پانچ سالہ دور میں جس طرح چلایا اور دیکھایا وہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

    وہ عبداللہ ہارون تعلیمی ادارہ لیاری کراچی کے پرنسپل ہوئے توعلم کی روشنی سے اس علاقے کو روشن کر ڈالا کھڈا مارکیٹ میں جہاں غربت جہالت اور منشیات کا راج تھا وہاں ٹیکنیکل سکول اور آڈٹیوریم قائم کیا اپنی جمع پونجی اسی کام پر لگا دی فیشرمین کارپوریٹو سوسائٹی قائم کی تو ادارے کی آمدن سے سو بچے مفت تعلیم حاصل کرتے فیض صاحب پاکستان ٹائم،امروز، لیل ونہار جیسے اُس دور کے نامور اخبارات و میگزین کے مدیر اعلیٰ بھی رہے 1959سے1962تک فیض صاحب نیشنل کونسل آف آرٹ کے سیکرٹری اور بعد میں نائب صدر بھی رہے ،انہوں نے 1959میں جاگو ہوا سویرا کے نام سے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی جو مشرقی پاکستان میں بننے والی پہلی اردو فلم تھی، جنرل ایوب حکومت نے اس فلم کو کیمونسٹ پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس فلم پر پابندی لگا دی تھی ،مگر ان کی شاعری و افکار کی روشنی مشرق و مغرب تک پھیل چکی تھی ،وطن پاکستان کی حاطر1965کی جنگ میں فوج سے وابستہ ہوئے اور سپاہوں کے لیے نظمیں اور گیت لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے ان کی کتاب دست تہ سنگ بھی انہی دنوں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔

    وہ دامن وطن کے تار تار کی خیر مانگتے رہے اور طاقت کے نشے میں ڈوبے لوگوں نے ان کی آواز حق کو نظر انداز کر دیا اور اقتدار کی چھینا جھپٹی میں پاکستان ایک بازو سے محروم ہو گیا اور عوام دیکھی کی دیکھتی رہ گئی، فیض صاحب کی واقفیت ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان دونوں سے تھی اس کے باوجود وہ اس واقعے پر دونو ں کو ذمہ دار سمجھتے رہے ،مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر فیض صاحب کی روح زخمی ہو گئی اور وہ اس موضوع پر اپنے احساسات و جذبات سپرد قلم کرتے رہے، ان کی وہ درد ناک نظمیں آج بھی ان کے درد کو پڑھنے والے سینے میں محسوس ہوتی ہیں۔

    بھٹو دور میں مشیرثقافت بنے پاکستان کے ٹوٹے اور روٹھے حصے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو معافی تلافی صلح صفائی کی گراہوں سے دو حصوں کو جوڑنے کا وفد لے کر وہاں پہنچے، اُس وقت یہ افواہ تھی کہ بھٹو فیض صاحب کو بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفیر مقرر کرنا چاہتے تھے ،مگر بنگلہ دیشی قیادت نے پاکستان سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی گرمجوشی نہ دیکھائی، جس کا فیض صاحب کو تاحیات دکھ رہا آپ نے اس موقع پر کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر گئے تھے کہ احباب سے ملیں گے، اپنی سنائیں گے ،اُن کی سنیں گئے ،گلہ گزاریاں ہوں، گئی دوستی و محبت کے رشتے استوار کریں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ،جیسے گئے ویسے ہی لوٹ آئے ،5جولائی 1977کو جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور فیض صاحب کی جلا وطنی کا نیا دور شروع ہو گیا

    معززقارئین آپ نے کبھی بھی ماضی کا کوئی بھی دور حکومت جاننا ہو تو آپ کو چاہیے کہ اُس دور کا ادب پڑھیں فقط ادب ہی ایک ایک سچی و مضبوط روشنی ہوتی ہے تو آپ کو اندھیروں میں حقائق تک آشنائی دیتی ہے ،سچے لکھاری محب انسانیت ہوتے ہیں، انہیں سچ کا قلم تھام کر عوام کے درد کو لکھنا ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ شاعروں کی نئی و پرانی نسل ان سے اس قدر متاثر تھی کہ فیض صاحب ان کے اندر درجہ محبوبیت پر فائز تھے ،فیض صاحب کی بے پناہ مقبولیت کا ایک اور انداز ان کی لازوال بے مثال نظموں وغزلوں کی گلوکاری ہے، فیض صاحب بلاشبہ ایک عظیم لجینڈباکمال شاعر ،عظیم انسان جو اپنی زندگی سے منسلک ہر کردار کو اس خوبصورتی سے نبھاتے کہ وفا ان پر ناز کرتی ،پہلی محبت میں ناکامی کے باوجود فیض صاحب کا کہنا کہ محبت ہوتی ہی پہلی ہے، اس کے بعد ہیرا پھیری ہوتی ہے وہ ہر کسی سے احساس اپنائیت میں ملتے اور ملنے والے کو لگتا کہ جانے کب کا رشتہ ہے ،رائٹر لوگ کائنات کے ہر ذرے کو اہمیت وعزت دیتے ہیں ،حیات کے ہر تلخ و شیریں منظر کو قبول کر کے زندگی کو شکریہ کا موقع دیتے ہیں ،یہ ممکن نہیں کہ آپ اردو جانتے ہوں اور فیض احمد فیض کو نا جانتے ہوں ،مجھے پڑھنے کے دنوں میں ہی ان کا تعارف حاصل تھا میں ترقی پسندتحریک کا ممبر تھا جو پی ڈبلیو اے رائٹر ایسوسی ایشن تھی ،یہاں سیکھنے والوں کا ایک حصہ میں بھی تھا، اس وقت اردو ادب کے ستارے ستار جعفری، ساحر لدھیانوی، کرشن چندربیدی جیسے دیگر احباب تھے جو گھر والے تھے اورگھر والوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے یہ ادب کے ستارے جس کا نام عبادت کی طرح لیا کرتے تھے وہ فیض احمد فیض صاحب تھے جن کی شاعری پر مبنی کتاب یہاں سب پڑھتے تھے ،اس لیے ان کا مقام ذہن نشین ہو چکا تھا، وہ فقط استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایسے لیڈر و راہنما تھے جوتحریک کومحبوبہ کی طرح مخاطب کرتے تھے، وقت کی نبض رکتی ہے توملکہ ترنم نورجہاں اُن کی نظم گاتی ہیں اور وقت کی نبض چلنے لگتی ہے۔

    فیض صاحب کی شاعری بڑے بلند قد کی ہے جسے سمجھنے کے لیے علم و شعور کا وسیع ہونا لطف اندوز کرتا ہے جن کی سمجھ میں کچھ آئی اور کچھ نہ آئی اُن میں سے ایک میں بھی ہوں فیض صاحب استاد ہیں جن کے ہر پہلو تک ہماری رسائی نہیں پہنچ سکتی جبکہ ان کے کلام میں وسیع معانہ افرنی دل سوزی ترجمانی محبت شامل ہیں، میرا مطالعہ کم ہے اور مشاہدہ اس سے بھی کم ہے مگر پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے زبان کا حسن طرز بیاں کسی اور قلم میں نہیں دیکھا،انجمن ترقی پسند مصنفین چاہتے تھے کہ ادیب خیالی محل کی بجائے زمینی حقائق پر نظم اور نثر کی بنیاد رکھیں، فیض صاحب نے تن من دھن لگا کر ایک شعوری گروپ تشکیل دیا جن کے زیرسایہ گاؤں گاؤں جا کر مزدوروں کسانوں کو حالات وجغرافیہ کا علم دینے لگے ،شام تک کالج میں فروغ تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے، اس کے بعد رات گئے تک خدمت خلق میں مصروف رہتے، فیض صاحب دیہاتی زندگی کے مسائل سے واقفیت رکھتے تھے، معاشرے کا سب سے نچلاطبقہ ان کی خدمت کا مرکز رہا ،غریبوں مزدوروں کے دکھ کو ذاتی غم بنا کر دور کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے، فیض صاحب ایشاءکے پہلے شاعر ہیں جنہیں روس نے” لیلن امن ایوارڈ”سے نوازاجو نوبل انعام کا ہم پلا مانا جاتا ہے ،73سالہ زندگی کے ہمیشہ رہنے والے نشان چھوڑنے والے فیض صاحب 20نومبر 1984میں انتقال کر گئے ،ان کو ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں دفن کیا گیا، ان کی رحلت کے ساتھ ہی روایات غم جاناں، غم دوراں اور رومان کا منفرو دل کش عہد تمام ہو گیا ،مگر فیض صاحب کی شخصیت و کلام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ان کے انتقال کے بعد حکومت پاکستان کی فیض صاحب کی اردو ادب کی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز سے نوازاجسے ان کی زوجہ کلثوم نے قبول کیاتھا۔

  • ڈیرہ غازی خان: تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مزاحمت پر مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان: تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مزاحمت پر مقدمہ درج

    ڈیرہ غازیخان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں بلا امتیاز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کے مطابق شہر سمیت بڑے ٹاؤنز اور قصبات کو تجاوزات سے پاک کر کے کشادہ اور خوبصورت بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تاجر برادری اور شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے تجاوزات از خود ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔

    ادھر کالا میں تجاوزات آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کے گن مین سے سرکاری اسلحہ چھیننے اور سنگین دھمکیاں دینے پر سات افراد کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان کی مدعیت میں تھانہ کالا میں درج کیا گیا۔

    چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل کا کہنا ہے کہ 30 سال بعد ضلع کونسل کی حدود میں تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ کالا، شاہ صدر دین، کوٹ چھٹہ سمیت دیگر ٹاؤنز اور قصبات میں بھاری مشینری کی مدد سے غیر قانونی شیڈ، تھڑے اور تعمیرات گرائی جا رہی ہیں۔ آپریشن میں پولیس، ریونیو، میونسپل کارپوریشن اور دیگر محکموں کے 30 سے زائد اہلکار اسسٹنٹ کمشنرز اور چیف آفیسرز کی سربراہی میں حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ روز کالا، درے ڈھولے والی، پیر عادل سمیت مختلف علاقوں میں آپریشن کیا گیا۔

  • تنگوانی: مویشیوں کے کاروبار پر تصادم، فائرنگ سے نوجوان اور گائے جاں بحق

    تنگوانی: مویشیوں کے کاروبار پر تصادم، فائرنگ سے نوجوان اور گائے جاں بحق

    تنگوانی ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمنصوربلوچ) مویشیوں کے کاروبار پر تصادم، فائرنگ سے نوجوان اور گائے جاں بحق

    تنگوانی کے قریب جمال تھانے کی حدود میں گاؤں عبدالصمد بجارانی میں مویشیوں کے کاروبار پر بهیو اور شیخ برادری کے درمیان تصادم، فائرنگ سے نوجوان اور گائے جاں بحق۔

    تفصیلات کے مطابق بهیو برادری کے مسلح افراد نے جدید اسلحے سے شیخ برادری کے گھر پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں شیخ برادری کا نوجوان گورو شیخ اور ایک گائے گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر دم توڑ گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی جمال پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ پولیس مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی.

  • سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائیاں، دو مسافر زیرِ تفتیش

    سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائیاں، دو مسافر زیرِ تفتیش

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) ایف آئی اے امیگریشن کی سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائیاں، سینیگال اور سعودی عرب سے آنے والے دو مسافروں سے تحقیقات جاری۔

    تفصیلات کے مطابق مسافروں عظیم شفیق اور خلیل احمد، جو فلائٹ نمبر FZ337 کے ذریعے سیالکوٹ پہنچے، سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ دونوں افراد اسپین جانے کے لیے مختلف ایجنٹوں سے رابطے میں تھے، جنہوں نے انہیں عمرہ اور وزٹ ویزے پر سعودی عرب اور سینیگال بھیجا۔ بعد ازاں، انہیں سمندری راستے سے اسپین بھجوانے کی کوشش کی گئی، تاہم دونوں نے انکار کرتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔

    ایف آئی اے کے مطابق، ایجنٹوں کا تعلق سیالکوٹ اور پشاور سے ہے، اور مسافروں سے ان کی نشاندہی کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ مسافروں کی نشاندہی پر ملوث ایجنٹوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کا کہنا ہے کہ جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ایئرپورٹ پر مسافروں کی سخت اسکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی سفری دستاویزات اور دھوکہ دہی سے بیرون ملک جانے والے افراد اور ان کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    ترجمان ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سفری دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں اور ویزا کے حصول کے لیے صرف متعلقہ ملک کی ایمبیسی یا نامزد کردہ ویزا ایپلیکیشن سینٹر سے رجوع کریں۔

  • فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    دنیا میں فساد اور بدامنی کا مسئلہ ایک عالمی حقیقت ہے، جس کے بارے میں مختلف نظریات اور خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔ مغربی میڈیا اور کچھ مخصوص حلقے بار بار یہ بیانیہ دہراتے ہیں کہ دہشت گردی اور جرائم کے زیادہ تر واقعات میں مسلمان ملوث ہوتے ہیں، لیکن جب ہم اعداد و شمار اور حقائق کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ دعوی بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں فساد اور دہشت گردی کے اصل عوامل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف جرائم کے حوالے سے مستند اعداد و شمار کا تجزیہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دنیا میں بدامنی اور جرائم میں زیادہ تر کون لوگ ملوث ہیں۔

    اگر ہم دنیا میں جسم فروشی، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، قتل، منشیات اسمگلنگ اور منظم جرائم کی فہرستوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کی اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جہاں جسم فروشی سب سے زیادہ عام ہے، وہ زیادہ تر عیسائی یا دیگر غیر مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ اسی طرح، وہ ممالک جہاں چوری، ڈکیتی اور قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں بھی زیادہ تر غیر مسلم آبادی والے ممالک شامل ہیں۔ اگر ہم دنیا میں سرگرم خطرناک غنڈہ گرد گروہوں اور منشیات اسمگلنگ مافیاز کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان گروہوں کے زیادہ تر سرغنہ غیر مسلم ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود مغربی میڈیا مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مغربی میڈیا جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور انہیں بنیاد پرست اور شدت پسند قرار دیتا ہے۔ جب کوئی غیر مسلم کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پایا جائے تو اسے ذہنی مریض، نفسیاتی طور پر غیر مستحکم یا کسی ذاتی محرومی کا شکار فرد قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اگر کوئی مسلمان کسی جرم میں ملوث ہو جائے تو فورا پوری مسلم کمیونٹی کو اس سے جوڑ دیا جاتا ہے اور اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پالیسیوں میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مسلمانوں کو بلاوجہ مشتبہ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ غیر مسلم مجرموں کے جرائم کو زیادہ تر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مکمل طور پر امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ افراد جو مسلمان کہلاتے ہیں، جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں کچھ افراد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو قانون شکنی کرتے ہیں، لیکن کسی مخصوص قوم یا مذہب کو جرائم سے جوڑنا سراسر تعصب اور غیر منطقی رویہ ہے۔

    ہمیں اپنی شناخت اور اسلامی اقدار پر فخر کرنا چاہیے اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اسلام واقعی امن و سلامتی کا دین ہے۔اسلام امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اگر کچھ مسلمان جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں اور دنیا کے سامنے اسلام کا اصل پیغام پیش کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق اور مستند معلومات کو فروغ دیں اور اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور شعور سے آراستہ کریں۔ دنیا میں فساد پھیلانے والے کسی ایک مذہب یا قوم سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ جرائم میں ملوث افراد ہر مذہب اور قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر حقائق کا جائزہ لیں اور دنیا کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • ڈیرہ نواب صاحب:عدلیہ سے نکالے گئے سابق جج کی بطور انچارج پرنسپل کرپشن کی ہوشربا داستان

    ڈیرہ نواب صاحب:عدلیہ سے نکالے گئے سابق جج کی بطور انچارج پرنسپل کرپشن کی ہوشربا داستان

    لاہور(باغی ٹی وی انویسٹی گیشن سیل)عدلیہ سے نکالے گئے سابق جج کی بطور انچارج پرنسپل کرپشن کی ہوشربا داستان

    تفصیلات کے مطابق ضلع بہاولپور کی تحصیل احمدپورشرقیہ میں گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج، ڈیرہ نواب صاحب میں کرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں عدلیہ سے نکالے گئے سابق سول جج محمد شاہد سراج کو انچارج پرنسپل اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او) تعینات کیا گیا۔ ان کی تعیناتی محکمہ ہائر ایجوکیشن جنوبی پنجاب کے نوٹیفکیشن کے تحت کی گئی، جس کے مطابق وہ 8 نومبر 2024 سے 7 فروری 2025 تک مالیاتی امور کے نگران ہوں گے۔یادرہے کہ سابق سول جج محمد شاہد سراج کو بطورانچارج پرنسپل 5ویں بار ایکسٹینشن دی گئی ہے ،

    یہ خبر بھی پڑھیں
    کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟

    اب ذرائع کا بتانا ہے کہ 8 فروری کو بھی ان بطورانچارج پرنسپل کے نئے آرڈر آجائیں گے کیونکہ محکمہ ہائرایجوکیشن ساؤتھ پنجاب ملتان میں انہوں نے سب کو راضی کیا ہوا ہے،اس لئے چھٹی بار بھی ہائیکورٹ سے کرپشن کی بنیاد پر نکالے گئے سابق سول جج محمد شاہد سراج کو انچارج پرنسپل بنادیاجائے گا،

    محمد شاہد سراج پر کالج کے جناح کیمپس میں قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور فروخت کے ذریعے سرکاری فنڈز میں خرد برد کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق، درختوں کی نیلامی کا عمل محکمہ جنگلات کے قوانین کے برخلاف انجام دیا گیا، جس میں نہ تو سرکاری پیمائش ہوئی اور نہ ہی کوئی اشتہار دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاہد سراج نے یہ عمل اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیے بغیر مکمل کیا اور مبینہ طور پر متعلقہ افراد کو ان کا حصہ فراہم کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

    مالی بدعنوانی کے الزامات میں امتحانی فیس اور رجسٹریشن فنڈز کی خرد برد بھی شامل ہے۔ ایک مثال 28 مارچ 2024 کو چیک نمبر 8806943924 کے ذریعے دو لاکھ چونسٹھ ہزار روپے کی غیر قانونی نکاسی ہے، جو کالج کے ریکارڈ میں ظاہر نہیں کی گئی۔ اس معاملے میں سابق انگلش شعبہ پروفیسر محمد ایوب عالم کو بھی تفتیش میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    اقربا پروری کے تحت سی ٹی آئی بھرتی میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، جہاں شاہد سراج کی بیٹی عائشہ ارم کو میرٹ لسٹ میں 51ویں نمبر پر ہونے کے باوجود کالج ٹیچنگ انٹرن (CTI) کے طور پر بھرتی کر لیا گیا۔ اسی طرح، امتحانات کے دوران اپنی دوسری بیٹی فاطمہ شاہد کے لیے خود انویجیلیٹر کے فرائض انجام دیے، جو کہ واضح طور پر غیر قانونی ہے۔ مزید یہ کہ، بارہ طلبہ و طالبات کو جعلی داخلہ دے کر فی کس 45 ہزار روپے وصول کیے گئے، جو سیدھے شاہد سراج کی جیب میں گئے۔

    کالج کے مالیاتی ریکارڈ میں رد و بدل اور غیر قانونی سرگرمیوں میں محمد فیصل، عمیر الرحمن چوہان کلرکس، اور دیگر عملہ بھی ملوث بتایا جا رہا ہے۔ جناح کیمپس کی 400 کنال زمین پر ناجائز قبضے کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    طلبہ اور اساتذہ کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ پینے کے پانی کی سہولت موجود نہیں، دو سال سے کالج میگزین شائع نہیں ہوا، اور سالانہ کھیلوں کا انعقاد بھی نہیں کیا گیا۔ کالج میں اشیاء کی چوری معمول بن چکی ہے، جس میں ٹیوب، فریج سٹیپلائزر، اوون، اور درختوں سے پھل تک غائب ہو چکے ہیں۔

    متعدد شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔ شہریوں اور طلبہ کی درخواستیں نظر انداز کی جا رہی ہیں، جبکہ اعلیٰ افسران شاہد سراج کی سرپرستی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ جب ان سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تو انہوں نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر کچھ ثبوت بھیجے، جو بعد میں فوراً ڈیلیٹ کر دیے گئے۔

    یہ بدعنوانی صرف مالی خرد برد تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیمی ماحول بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ شاہد سراج نے پرنسپل اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے کالج کو تفریحی مقام بنا دیا، جہاں پارٹیوں، انڈین گانوں پر رقص اور مشکوک محفلوں کا انعقاد معمول بن چکا ہے۔

    گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج، جو کہ ایک تاریخی تعلیمی ادارہ ہے، کرپشن اور اقربا پروری کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، جبکہ والدین اور شہری شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی نظام کو بچایا جا سکے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • گھوٹکی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا دورہ، امن و امان کے سخت احکامات

    گھوٹکی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا دورہ، امن و امان کے سخت احکامات

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ضلع گھوٹکی کا دورہ کیا، جہاں ایس ایس پی آفس آمد پر انہیں پولیس کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    آئی جی سندھ نے کندھ کوٹ-گھوٹکی پل کے تعمیراتی کام اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی کو مزید اقدامات کی ہدایات دیں۔ انہیں گھوٹکی کے کچے اور دیگر علاقوں میں امن و امان کے حوالے سے پولیس حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں ڈی آئی جی سکھر، اے ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پیز گھوٹکی، ڈہرکی، اباوڑو، رونتی اور دیگر پولیس افسران شریک ہوئے۔ آئی جی سندھ نے فرائض کی عمدہ ادائیگی پر 14 پولیس اہلکاروں، 7 آئی ٹی ڈرون ٹیم ممبران، ایس ایچ اوز ڈہرکی، اباوڑو، کھمبڑا اور ہیڈ محرران کو سی سی ون سرٹیفکیٹ اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔

    آئی جی سندھ کے احکامات:
    ڈکیتوں اور اغوا میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
    کچے اور پکے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے
    پولیس کو جدید ہتھیاروں اور گاڑیاں جلد فراہم کی جائیں گی۔
    ہائی ویز پر ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں
    کچے میں رہنے والے عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے
    سی ٹی ڈی کو اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے ٹاسک دے دیا گیا ہے
    ملزمان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ڈاکوؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال کر قانون کے دائرے میں آجائیں، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دورے کے اختتام پر ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی نے آئی جی سندھ کو تحائف پیش کیے۔