Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گھوٹکی: لغاری اور بوذدار قبائل کی دیرینہ دشمنی کے خلاف پولیس کا بڑا آپریشن

    گھوٹکی: لغاری اور بوذدار قبائل کی دیرینہ دشمنی کے خلاف پولیس کا بڑا آپریشن

    میرپورماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں تھانہ داد لغاری کی حدود میں لغاری اور بوذدار قبائل کے درمیان جاری دیرینہ دشمنی کے خاتمے کے لیے پولیس کا بھرپور ایکشن۔

    ڈی ایس پی اباڑو عبدالقادر سومرو کی سربراہی میں 10 تھانوں کی بھاری نفری، 8 پولیس موبائلز، 4 اے پی سی چین اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شر پسند عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کیا گیا۔

    پولیس نے کنڈیر شاخ کے نزدیک آپریشن کے دوران کئی مشکوک افراد کو گرفتار کیا اور شرپسندوں کے ٹھکانوں کو نذر آتش کرتے ہوئے مسمار کر دیا۔

    یاد رہے کہ یہ دشمنی 3/4 سال قبل دونوں قبائل کے 2/2 افراد کے قتل کے بعد شروع ہوئی تھی، جو اب زمین کے نئے تنازعے کے باعث شدت اختیار کر گئی ہے۔

    ڈی ایس پی عبدالقادر سومرو نے کہا کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر شرپسند عناصر کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

  • منڈی بہاؤالدین: پیپلز پارٹی کی بحالی کا عمل جاری، کارکنان واپس آرہے ہیں – گورنر پنجاب

    منڈی بہاؤالدین: پیپلز پارٹی کی بحالی کا عمل جاری، کارکنان واپس آرہے ہیں – گورنر پنجاب

    منڈی بہاؤالدین،باغی ٹی وی(نامہ نگارافنان طالب) گورنر پنجاب نے اپنے دورہ منڈی بہاؤالدین کے دوران پیپلز پارٹی کے کردار اور مستقبل کے حوالے سے اہم بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت کمزور کیا گیا، لیکن اب پارٹی بحالی کے عمل میں ہے، اور کارکنان واپس آنے لگے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو پسے ہوئے اور کمزور طبقات کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام، کامرہ بیس، اور سی پیک جیسے اہم منصوبوں کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت نہ صرف عوامی بلکہ سیکیورٹی منصوبوں میں بھی پیش پیش رہی ہے۔

    گورنر پنجاب نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ دھاندلی کی گئی، لیکن اب صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جماعت نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

    انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا حقیقی لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مشن بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا ہے۔ گورنر پنجاب نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی تنظیم نو میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔

    پہلی قسط . قدیم وادی ہاکڑہ کی تمدنی اقدار،تاریخ کے گمشدہ راز
    چولستانی وادی ہاکڑہ کا تاریخی پس منظر ہزاروں سال پرانا ہے۔جہاں انسانی تخلیقیت نے مادری زبان،روحانیت،ادب، اور ثقافت کے ذریعے تمدنی و تہذیبی اقدار کو پروان چڑھایا۔روہی چولستان کے منفرد رسوم و رواج اور دستکاریوں نے عالمی سطح پر سرائیکی ثقافت کو الگ پہچان دی۔ قدیم آثار جیسے گنویری والا اور قلعہ ڈیراور آج بھی اس خطے کی تہذیبی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

    فلسفہ امن و بقائے انسانیت اور فکر معاش نے انسانی تخلیقی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔خلیفہ خداوندی حیوان ناطق انسان نے ہمیشہ مادری زبان کے در سے علم وادب کی روشن خوبصورت قلم مشعل اور شعور کی آگاہی سے منفرد انداز میں آرٹ،کلچر اور سوسائٹی کی بدولت عظیم سمندروں،دریاؤں،ندیوں،چشموں اور ٹوبھوں کے کناروں پر نئی تہذیبوں اور تمدنوں کو تخلیق کیا۔ہزاروں سال پرانی وادی ہاکڑہ سرسوتی کی سرائیکی خطے روہی چولستان کی ثقافت اپنے مخصوص رسم و رواج اور دستکاریوں کی بدولت پاکستان سمیت اقوام عالم میں الگ خاص حیثیت رکھتی ہے۔

    کرہ ارض پر مجبور انسان نے اپنے دکھ سکھ کے اظہار کے لیے ہی رسوم و رواج کی روایات کو فروغ دیا۔صحرائی علاقے بہاولپور کے گلزار صادق روہی چولستان کے کنارے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کی آغوش میں پلنے والی مضبوط رواج ریتیں اور رسوم نے روہیلوں کی زندگی میں نئی راہیں تلاش کیں۔قدیم آثارقدیمہ کا حامل شہر گنویری والا،موج گڑھ،قلعہ مروٹ،پتن منارہ،قلعہ ڈیراور جیپ ریلی مرکز چولستان کے ساتھ دیگرچولستانی پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کے کھنڈرات دراصل آج کے گوپوں میں زندہ جاوید روایات اور رسموں کی گواہی ہیں،روہی کی قابل استعمال اشیاء کا ذکر اور خوبصورت منظر نگاری اپنی نوعیت میں انوکھی ہیں۔

    چولستان اور روہی سرائیکی وسیب کی عالمگیر تہذیب وتمدن،تصوف اور ثقافت اپنی قدیم روایتوں اور منفرد انداز کے باعث بہت مشہور ہے ۔یہاں کی ثقافتی رسموں و رواج اور اشیاء کا نمایاں ذکر سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی سطح پر امن و محبت،تصوف،علم وادب،رواداری،خلوص،وفا،
    ،ہمدردی،صبروتحمل،برداشت،دیانت، شرافت،امانت،اتحاد،احترام آدمیت کے فلسفے کی علامات ہیں۔

    مشہور ثقافتی مقامی و انٹرنیشنل چولستانی میلہ، چنن پیر میلہ، جھوک فرید امن میلہ، قلعہ ڈیراور فرید امن میلہ،چولستان جیپ ریلی کے سالانہ تہواروں میں روایتی رقص جھمر،مخصوص چولستانی لباس،موسیقی اور علاقائی دستکاریوں کی نمائش ہر عام خاص سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    اونٹوں کی دوڑ کا ثقافتی تہوار چولستان روہی کے لوگوں بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس ریس میں نوجوان طاقتور صحرائی ہوائی جہاز خوبصورت نقش و نگار سے مزین اونٹ ہر ایک کو دوڑتے ہوئے بھاتے ہیں۔لوک موسیقی روہی چولستان کی روح ہے۔فنون لطیفہ میں شاعری کی تاثیر کو موسیقی کے سازوں سے مزین کیا جاتا ہے۔

    سرائیکی چولستانی لوک گلوکارجیسے مرحوم فقیرا بھگت کا بیٹا موہن بھگت،اوڈ بھگت، مجید مچلا،مٹھو چولستانی اپنی سریلی گائیکی کے ذریعے علاقائی رنگ پیش کرتے ہیں۔ڈھول ناچ کی رسم کو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص جھمر مخصوص دائرہ میں سرائیکی اجرک و چنئی کے رنگوں سے رسم ادا کی جاتی ہے۔

    چولستانی مہندی کی مخصوص رسم شادیوں میں خاص قسم کی مہندی سے ادا کی جاتی ہے۔رسم کی دلکشی صدیوں پرانی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔روہی چولستان میں روح کی روحانی تسکین کے لیے پیر سید کی درگاہ کی حاضری لازمی جز زندگی ہے۔

    چادر پوشی کی خاص مذہبی اور ثقافتی رسم عقیدت اوراحساسات کی عملی سکون واطمینان قلب کا خوبصورت جہاں سے جڑی ہوتی ہے۔چولستانی مسلم و ہندو کمیونٹی حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ،مہان سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ،قلعہ ڈیراور پر موجود اصحاب کی قبور حضرت چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت روحل فقیر (سکھر روہڑی) کو اپنا روحانی مرشد کامل حقیقی مانتے ہیں۔مسجد مندر میں اپنی روحانی تقریبات ادا کرتے ہیں۔چادر پوشی کی رسم روہی چولستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    مشہور ثقافتی اشیاء میں چولستانی کڑھائی کے کپڑے،ہاتھ سے کڑھی بنی ہوئی شال،دوپٹے،کنگن،چوڑیاں، شیشے اور دھات کے بنے خوبصورت زیورات،مٹی کے برتن،خاص طور پر مٹی کے گھڑے اور صراحی،اونٹ کے بالوں سے بنی اشیاء میں رسی،قالین اور دیگر دستکاریاں میں چولستانی لوئی اور کمبل، اون اور روئی سے بنی گرم اشیاء،چاکی ہنر میں لکڑی سے بنی روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں،سرائیکی بلوچی چپل جو منفرد ڈیزائن کی بدولت مخصوص علاقائی پہچان رکھتی ہے۔

    یہ رسمیں اور اشیاء چولستان اور روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسمیں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔

    سوئی کم کریجے
    جہیں وچ اللہ آپ بنڑیجے
    مار نغارا انا الحق دا
    سولی سر چڑھیجے
    وچ کفر اسلام کڈاہاں
    عاشق تاں نہ اڑیجے
    جاری ہے ۔

  • کوٹ چھٹہ:فاروق احمد خان تالپور کی قرآن خوانی جامع مسجد انوار مدینہ میں منعقدہوئی

    کوٹ چھٹہ:فاروق احمد خان تالپور کی قرآن خوانی جامع مسجد انوار مدینہ میں منعقدہوئی

    کوٹ چھٹہ،باغی ٹی وی(تحصیل رپورٹرمریدٹالپور) فاروق احمد خان تالپور کی قرآن خوانی بستی تالپور کی جامع مسجد انوار مدینہ میں منعقد کی گئی، جس میں علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، نعت رسول مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ محفل میں قاری عبدالرحمن صاحب نے موت کی حقیقت پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ پروفیسر عطاءالمصطفی مدنی نے خصوصی بیان دیا۔

    تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات، بشمول سردار انعام اللہ خان تالپور، سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب میر مرزا خان تالپور کے بڑے صاحبزادے میر شاہجہان خان تالپور، میر یاسر عرفات، شاہد رشید خان چانڈیہ، اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    قرآن خوانی کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی اور ان کے بیٹوں کی دستار بندی کی رسم پروفیسر عطاءالمصطفی مدنی اور دیگر معززین نے انجام دی۔

    اہلِ علاقہ نے مرحوم کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

  • کشمور: تعلیمی اداروں میں ووٹ کے اندراج کی اہمیت پر سیمینار کا انعقاد

    کشمور: تعلیمی اداروں میں ووٹ کے اندراج کی اہمیت پر سیمینار کا انعقاد

    کشمور (باغی ٹی وی،نامہ نگار مختیاراعوان) ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سردار گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول میں ووٹ کے اندراج، منتقلی، اور درستگی کی اہمیت پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔

    ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کشمور ستار نے سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے "ووٹ کی اہمیت” پر خصوصی لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر وہ شہری جس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو اور اس کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہو، ووٹ ڈالنے کا اہل ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز سے کم ہے اور تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے ووٹ کی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔ اگر کسی کا ووٹ رجسٹرڈ نہیں ہے، تو فوری طور پر اس کا اندراج کرائیں تاکہ شفاف انتخابات میں شرکت ممکن ہو۔

    سیمینار میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں، ووٹ کی اہمیت، اور سیاسی عمل میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلباء کو ووٹ کے اندراج اور منتقلی کے عمل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

    لیکچر کے اختتام پر طلباء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے، الیکشن کمشنر نے شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کا عزم کیا۔ پروگرام میں معزز شرکاء نے بھی ووٹ کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

  • خیبر: ڈپٹی کمشنر کا طورخم بارڈر اور پاک افغان دوستی ہسپتال کا دورہ، سہولیات کا جائزہ

    خیبر: ڈپٹی کمشنر کا طورخم بارڈر اور پاک افغان دوستی ہسپتال کا دورہ، سہولیات کا جائزہ

    خیبر (باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال شاہد راؤ نے طورخم بارڈر زیرو پوائنٹ اور پاک افغان دوستی ہسپتال کا دورہ کیا۔ دورے میں اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل عدنان ممتاز خٹک، رمیز علی شاہ، تحصیلدار زیب اللہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اور چترال سکاوٹس 142 ونگ کے افسران بھی شریک تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے پاک افغان دوستی ہسپتال میں حکومتی سہولیات اور دستیاب خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا اور عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات میں مزید بہتری لانے پر زور دیا۔

    اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی زیرنگرانی جاری طورخم (ITTMS) پراجیکٹ کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں ایف بی آر حکام نے پراجیکٹ کے تعمیراتی کام اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے طورخم بارڈر پر سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

  • ننکانہ: زرعی زمینیں غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیوں کے نشانے پر،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    ننکانہ: زرعی زمینیں غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیوں کے نشانے پر،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ کونسل ننکانہ صاحب کی حدود میں زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے قیام نے معیشت اور غذائی تحفظ پر سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ متعلقہ افسران کی خاموشی اور لینڈ مافیا کی ملی بھگت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    یہ ہاؤسنگ اسکیمیں بغیر قانونی منظوری اور بنیادی سہولیات فراہم کیے بغیر زرعی زمینوں کو تیزی سے رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیر قانونی عمل کے نتیجے میں علاقے کی زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، اور ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ کونسل کی شعبہ پلاننگ برانچ کی خاموشی اور کارروائی نہ ہونے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی افسران کی ملی بھگت سے لینڈ مافیا عوام کو "خوابوں کے شہر” کا جھانسہ دے کر ان کی محنت کی کمائی لوٹ رہی ہے۔

    عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، اور چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل عامر اختر بٹ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس میں ملوث افراد اور افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔

    باشعور حلقوں نے اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومتی ایوانوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ اس کا فوری حل نکالا جا سکے۔

  • اوچ شریف: ہائی ایس حادثے میں ایک جاں بحق، تین زخمی

    اوچ شریف: ہائی ایس حادثے میں ایک جاں بحق، تین زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف سے بہاولپور جانے والی ہائی ایس گاڑی خان پور مرچاں کے قریب اوور اسپیڈنگ کے باعث حادثے کا شکار ہو گئی۔ گاڑی بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت سید شہزاد حیدر کے نام سے ہوئی ہے، جو کراچی کے رہائشی تھے۔ زخمیوں میں محمد قاسم، شاذیہ، اور رخسانہ شامل ہیں۔ محمد قاسم اور شاذیہ کا تعلق اوچ شریف سے جبکہ رخسانہ بی بی بہاولپور کی رہائشی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    حادثے کی وجہ اوور اسپیڈنگ قرار دی جا رہی ہے۔ شہری حلقوں نے ڈرائیورز سے محتاط ڈرائیونگ کی اپیل کی ہے تاکہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • سرگودھا:گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت,کڈنی مافیا کا کارندہ گرفتار

    سرگودھا:گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت,کڈنی مافیا کا کارندہ گرفتار

    سرگودھا (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک شاہنواز جالپ) سرگودھا کے نواحی علاقے 36 شمالی میں غربت کے ہاتھوں مجبور افراد اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ پولیس نے گردوں کی خرید و فروخت میں ملوث قیصر نامی شخص کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم قیصر سادہ لوح افراد کو رقم کا جھانسہ دے کر گردے فروخت کرنے کے لیے لاہور لے جاتا تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ دو افراد، محمد الیاس اور محمد اسلم، پہلے ہی اپنے گردے فروخت کر کے رقم حاصل کر چکے ہیں۔

    تھانہ صدر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث پورے گینگ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل تحصیل کوٹ مومن کے علاقے بچہ کلاں کے مکین بھی مہنگائی اور غربت کے باعث اپنے گردے فروخت کر چکے ہیں، جس نے معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی:دین،معاشرے اور اخلاقیات کا زوال
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شورکوٹ روڈ پر واقع دی پیراڈائز ہوٹل میں ایک انوکھی شادی سرانجام پائی ۔۔۔جو ،معاشرے اور اخلاقیات کی پستی کا واضح ثبوت ہے،ارباز نامی لڑکے کی خواجہ سرا میڈم دعا سے سرعام شادی نے پورے علاقے میں ایک ہلچل مچا دی۔ اس شادی کی تقریب میں نہ صرف روایتی رسومات جیسے دودھ پلائی اور رخصتی ادا کی گئیں، نکاح نہیں کرایا گیا۔ رقص و سرود کی محفل بھی سجائی گئی جس میں نوٹ نچھاور کیے گئے اور علاقے بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرتی، دینی اور اخلاقی رویوں کا آئینہ ہے جو ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی :دین اسلام نکاح کو پاکیزگی اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے مقرر کرتا ہے، اور اس کے اصول واضح ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے اور مرد کا خواجہ سرا سے شادی کرنا جائز نہیں۔یہ اصول اس لیے ہیں کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد خاندانی نظام پر ہے جو نکاح کے دائرے میں رہ کر نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواجہ سرا کی جنس ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس شادی نے نہ صرف ان دینی اصولوں کو پامال کیا بلکہ اسلامی اقدار کو بھی مجروح کیا۔شادی کی تقریب میں نکاح کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شادی ایک غیر سنجیدہ اور شرعی اصولوں کے برعکس عمل تھا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تو یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

    معاشرتی پہلو: تضاد اور زوال ،یہ واقعہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی بھی ایک بڑی علامت ہے۔شادی کی تقریب کے دوران رقص و سرود اور نوٹ نچھاور کرنا خواجہ سراؤں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کا مظہر ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ ان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تماشہ بنا رہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رقص کو سرعام دیکھنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا اخلاقیات کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔اور پھر اس سے شادی کے نام پر ساتھ لے جانا سر عام زناکاری کے زمرے میں آتاہے، یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو نظرانداز کر چکے ہیں۔

    معاشرتی طور پر خواجہ سراؤں کو اب تک نہ تو برابری کا درجہ ملا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود ایسے تماشوں میں انہیں مرکز بنا کر پیش کرنا ہمارے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔شریعت اور خواجہ سرا بارے اگر غور کیا جائے تواسلامی تعلیمات خواجہ سراؤں کے ساتھ انصاف اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن و سنت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی اصولوں کو توڑ کر اپنی عیش و عشرت کیلئے ان کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں۔خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

    ارباز اور دعا کی شادی نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتی ہے جو معاشرتی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔اس جیسے اعمال دین اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔اس تقریب میں یہ عمل سرعام کیا گیا، جو کھلم کھلا گناہ ہے۔نکاح، شادی کی بنیاد اور ایک مقدس معاہدہ ہے، لیکن یہاں نکاح کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ عمل معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔

    خواجہ سراؤں کو ایسے مقاصد کیلئے تقریبات میں استعمال کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے،یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔معاشرے میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خواجہ سراؤں کے حقوق:خواجہ سراؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔معاشرے کو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا سیکھنا ہوگا۔ارباز اور دعا کی شادی نے دینی اور معاشرتی اصولوں کو توڑ کر ہمیں ہمارے زوال کا آئینہ دکھایا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان سے انحراف کرنا صرف دنیاوی نقصان ہی نہیں بلکہ اخروی عذاب کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق دیں، اور دینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی طرف بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو زندہ کریں اور ایسے اعمال سے باز رہیں جو اللہ کے قہر کو دعوت دیں۔

    نوٹ : دی پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ذمہ دار عاصم سے اس شادی بارے معلومات لینے کیلئے فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بات بالکل ٹھیک ہے،یہ واقعہ ایسے ہی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تقریب کس نے،کس تاریخ کو،کتنے لوگوں کے لئے بکنگ کروائی اور بل کتنا بنا۔۔تو انہوں نے فون بند کردیا اور بارہا رابطہ کرنے پر بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔۔،