Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • منڈی بہاؤالدین: جیل خانہ جات کے انتظامات کا معائنہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

    منڈی بہاؤالدین: جیل خانہ جات کے انتظامات کا معائنہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

    منڈی بہاؤالدین،باغی ٹی وی(نامہ نگارافنان طالب) جیل خانہ جات کے انتظامات کا معائنہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

    منڈی بہاؤالدین میں چیئرپرسن وزیراعلیٰ ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات پنجاب رانا منان خان نے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا۔ اس دوران جیل کے تمام احاطہ جات، اسیران کی بیرکوں، میڈیسن اسٹور، کچن، اور جیل ہسپتال کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔

    چیئرپرسن نے اسیران سے ملاقات کرکے ان کے مسائل دریافت کیے اور جیل حکام کو اسیران کی جائز شکایات فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے جیل ہسپتال میں علاج معالجے اور جدید ٹیسٹنگ سہولیات کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

    سپرنٹنڈنٹ جیل نے چیئرپرسن کو جیل مینوئل کے مطابق دستیاب سہولیات اور انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرپرسن نے جیل کے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے مزید بہتری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ جیل ملازمین کی گذارشات سن کر ان کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن ٹاسک فورس رانا منان خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق جیلوں میں انتظامی امور اور سکیورٹی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب جیلوں میں اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور جیل مینوئل پر عمل درآمد کو سختی سے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جیل میں قیدیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

  • میہڑ: پلاٹ کے تنازع پر تصادم، ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی

    میہڑ: پلاٹ کے تنازع پر تصادم، ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگار منظور علی جوئیہ)پلاٹ کے تنازع پر تصادم، ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی

    تفصیل کے مطابق فریدآباد تھانے کی حدود گاؤں سوجھرو میروانی میں پلاٹ کے تنازع پر چانڈیہ برادری کے دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوا، جس میں ڈنڈوں اور کلہاڑیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ تصادم کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں مسمات سویرا، عامر چانڈیو، محمد عمر چانڈیو، ہمت علی چانڈیو اور الطاف چانڈیو شامل ہیں۔

    زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے دادو ہسپتال بھیج دیا گیا۔

    دوسری جانب فریدآباد تھانے میں دونوں گروپوں کے خلاف ابتدائی جھگڑے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • پنشن اصلاحات کے خلاف سرکاری ملازمین کا 22 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    پنشن اصلاحات کے خلاف سرکاری ملازمین کا 22 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد،پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) نے حکومت کی جانب سے پنشن اصلاحات کے خلاف 22 جنوری کو ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

    اگیگا کے چیف کوآرڈینیٹر رحمان علی باجوہ کے مطابق اسلام آباد میں کیو بلاک سے پارلیمنٹ ہاؤس تک ریلی نکالی جائے گی۔ لاہور میں ناصر باغ سے صوبائی اسمبلی یا وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاج کیا جائے گا، جبکہ پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے مظاہرہ ہوگا۔ احتجاج کے دوران حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا۔

    اگیگا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر سرکاری ملازمین کا معاشی قتل کسی صورت قبول نہیں۔ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ "پنشن بچاؤ اور حقوق بچاؤ” تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

    وفاقی حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے یکم جنوری 2025 کو پنشن اصلاحات کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ اس کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن آخری 24 ماہ کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر کیلکولیٹ کی جائے گی۔

    نوٹیفیکیشن میں ڈبل پنشن لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے، اور صرف ایک پنشن کی اجازت ہوگی۔ ریٹائرمنٹ کے وقت کی پنشن کو بیس لائن تصور کیا جائے گا، جس پر آئندہ اضافہ ہوگا۔ اگر حاضر سروس یا پنشنر کے خاوند یا بیوہ خود بھی تنخواہ دار یا پنشنر ہوں، تو وہ بھی صرف ایک پنشن کے اہل ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال ،کرپشن کیس تحقیقات کی فائلیں چمک کی وجہ سے گم  ہوگئیں

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال ،کرپشن کیس تحقیقات کی فائلیں چمک کی وجہ سے گم ہوگئیں

    لاہور (باغی ٹی وی انویسٹی گیشن سیل)ڈیرہ غازی خان، ٹیچنگ ہسپتال ،کرپشن کیس تحقیقات کی فائلیں چمک کی وجہ سے گم ہوگئیں

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان کی جانب سے ٹیچنگ ہسپتال میں بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر کی گئی تحقیقات ایک بار پھر متعلقہ حکام کی غفلت اور کرپٹ مافیا کی چالاکیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔22 فروری 2024 کو نیب ملتان نے ایک لیٹرنمبر No NABM20211101256069) چیف سیکرٹری پنجاب کو ارسال کیا، جس میں ٹیچنگ ہسپتال و میڈیکل کالج ڈی جی خان میں الیکٹرو میڈیکل آلات کی خریداری کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ نیب نے اپنی رپورٹ مزید کارروائی کے لیے محکمہ صحت پنجاب کو بھیج دی۔

    نیب کی تحقیقات کے مطابق لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی)کی میچورٹی کے وقت ایکسچینج ریٹ کی تبدیلی کے باعث وینڈرز کو 30 کروڑ روپے زائد ادائیگی کی گئی۔ فرنیچر کی خریداری میں جی ایس ٹی کی کٹوتی نہیں کی گئی، حالانکہ یہ ٹیکس لازمی تھا۔ خریدے گئے آلات کی اصل ماخذ کی تصدیق بھی نہیں کی گئی، جس سے شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔

    نیب ملتان کی سفارشات پر پنجاب حکومت کے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 12 مارچ 2024 کو ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ یہ کمیٹی محکمے کے سینئر افسران پر مشتمل تھی اور اسے سات دن کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
    حیران کن طور پر سات دن میں مکمل ہونے والی تحقیقات آج تک منظرِ عام پر نہ آسکیں۔

    اطلاعات کے مطابق کرپٹ عناصر نے تحقیقات کو دبانے کی کوشش کی اور متعلقہ فائلیں ہی غائب کر دی گئیں۔ اس عمل نے نہ صرف انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی بلکہ حکومتی نظام کی شفافیت پر بھی سوال کھڑے کیے۔

    عوامی اور سماجی حلقے اس معاملے میں حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب کی کاوشوں کو نظرانداز کرنا عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

  • کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟

    کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟

    لاہور(باغی ٹی وی انویسٹی گیشن سیل)کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، عدلیہ سے نکالے گئے سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟، ڈیرہ نواب گریجویٹ کالج کی تباہی کی ہوشرباء داستان کی پہلی کڑی

    ڈیرہ نواب صاحب کا گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج، جو کبھی علاقے میں تعلیمی معیار کی بلندی کا نمونہ تھا، آج کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی کی مثال بن چکا ہے۔ اس تمام تر خرابی کا مرکزی کردار سابق سول جج محمد شاہد سراج ہیں، جنہیں عدلیہ سے نکالے جانے کے بعد بطور انچارج پرنسپل تعینات کیا گیا۔ اس تعیناتی نے نہ صرف ادارے کے تعلیمی ماحول کو برباد کیا بلکہ بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
    عدلیہ سے نکالے جانے کی وجوہات

    محمد شاہد سراج کو لاہور ہائی کورٹ نے ناقص کارکردگی اور مس کنڈکٹ کی بنیاد پر عدلیہ سے نکال دیا۔ عدالت کے حکم کے مطابق ان کی پروبیشن کی مدت پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کے تحت ختم کی گئی، اور انہیں عدالتی خدمات میں دوبارہ شامل ہونے سے ہمیشہ کے لیے روک دیا گیا۔

    پرنسپل بننے کے بعد بدعنوانی کے نئے ریکارڈکالج میں بطور انچارج پرنسپل تعینات ہونے کے بعد شاہد سراج نے اپنی پوزیشن کا ناجائز استعمال
    کرتے ہوئے کئی غیر قانونی اقدامات کیے:1۔فنڈز کی خورد برد:شاہد سراج نے امتحانی فیس اور رجسٹریشن فنڈز میں خرد برد کی۔ ایک مثال کے طور پر، انہوں نے 28 مارچ 2024 کو چیک نمبر 8806943924 کے ذریعے دو لاکھ چونسٹھ ہزار روپے نکلوائے، جس میں سابق وائس پرنسپل کے جعلی دستخط شامل تھے۔ یہ رقم نہ تو کالج ریکارڈ میں ظاہر کی گئی اور نہ ہی اس کا کوئی مستند ووچر موجود ہے۔

    2۔ اقربا پروری کی انتہا:کالج ٹیچنگ انٹرن (CTI) کے طور پر اپنی بیٹی عائشہ ارم کو میرٹ پالیسی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھرتی کیا۔ عائشہ ارم میرٹ لسٹ میں 51ویں نمبر پر تھیں، لیکن انہیں ایسے امیدواروں پر فوقیت دی گئی جو میرٹ لسٹ میں اوپر تھے۔ مزید برآں، انٹرویو کے دوران شاہد سراج نے خود اپنی بیٹی کا انٹرویو لیا، جو ایک واضح تضاد اور بدعنوانی کا ثبوت ہے۔

    3۔ امتحانات میں غیر قانونی مداخلت :شاہد سراج نے اپنی بیٹی فاطمہ شاہد، جو بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہیں، کے امتحانات کے دوران خود انویجیلیٹر (RI) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے کیونکہ قریبی عزیز کے امتحانات میں شامل ہونے پر کسی بھی سرکاری افسر کو نگرانی کی اجازت نہیں دی جاتی۔

    4۔سیکنڈ شفٹ میں غیر قانونی بھرتیاں:بارہ طلبہ و طالبات کو سیکنڈ شفٹ(ایوننگ کلاسز)میں داخلہ دیا گیا، جو کبھی کالج نہیں آئے۔ ان طلبہ سے فی کس 45 ہزار روپے وصول کیے گئے، جو سیدھے شاہد سراج کی جیب میں گئے۔ اس عمل نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی۔

    5۔طلبہ اور اساتذہ کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا:کالج میں پینے کے پانی کی سہولت ناپید ہے، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات اور اساتذہ موٹر کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ، دو سالوں سے کالج میگزین شائع نہیں کیا گیا اور سالانہ کھیلوں کا انعقاد بھی نہیں ہوا۔تحقیقات اور شکایات کا نتیجہ صفرشاہد سراج کے خلاف متعدد شکایات دی گئیں، لیکن ان پر کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

    شہریوں اور طلبہ کی جانب سے دی گئی درخواستوں کو یا تو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا یا پھر اعلی افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے دبایا گیا۔
    سابق ڈائریکٹر کالجز اور موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر بہاولپور تسلیم عالم نے شاہد سراج کے حق میں تعریفی خطوط جاری کیے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہیں۔

    حکومت اور متعلقہ اداروں کی بے بسی:
    شاہد سراج کی کرپشن اور بدعنوانی کے باوجود، نہ تو صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن اور نہ ہی انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شاہد سراج کو بااثر مافیاء کا تحفظ حاصل ہے۔

    دوسری طرف جب شاہد سراج سے ان کا مئوقف لینے کیلئے ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا تو موصوف نے اس سارے معاملے کو من گھڑت قرار دینے کی کوشش کی اور اپنی بے گناہی اور ہونے والی کارروائی کے ثبوت دینے کا وعدہ کیا لیکن شاہدسراج نے کچھ ڈاکومنٹس وٹس ایپ پر بھیج کر فوراََ ڈیلیٹ کر دئے ،کیونکہ انہیں خدشہ لاحق ہوگیا کہ اب واقعی کچھ ہونے والا ہے اور اس کے علاوہ شاہدسراج سے باغی ٹی وی کی ہونے والی موبائل فون پر بات چیت کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے

    کالج کا مستقبل دا ئوپرگورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج، جو ایک تاریخی ادارہ ہے، بدعنوانی کی اس کہانی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے اور والدین اور شہری اس صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن کرپٹ پریکٹس کے مرتکب سنیارٹی میں تیسری پوزیشن والے شخص کے خلاف باغی ٹی وی نے جہادکا علم بلند کردیا ہے اور ڈیرہ نواب صاحب کا گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج میں ہونے والی بے قاعدگیاں اورسابق سول جج اور موجودہ پرنسپل کی کرپشن کی ہوشرباء داستان مکمل تفصیل اور ثبوتوں کے ساتھ منظرعام پرہرخاص وعام کے سامنے لارہا ہے ۔

  • ڈیرہ غازی خان: معروف ہومیو ڈاکٹر راؤ محمد سلیم اصغر وفات پا گئے

    ڈیرہ غازی خان: معروف ہومیو ڈاکٹر راؤ محمد سلیم اصغر وفات پا گئے

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) معروف ہومیو ڈاکٹر ذیشان ہومیوپیتھک سٹور کے بانی ڈاکٹر راؤ محمد سلیم اصغر وفات پا گئے

    تفصیلات کے ڈیرہ غازی خان کی مشہور و معروف کاروباری شخصیت و بانی ذیشان ہومیو سٹور ڈاکٹر راؤ محمد سلیم اصغر بقضائے الہیٰ وفات پا گئے۔ مرحوم راؤ محمد فیاض، جو ایک سینئر صحافی ہیں کے سسر و کزن اور راؤ محمد نعمان سلیم، ڈاکٹر راؤ محمد عمران سلیم کے والد تھے۔ ان کی نماز جنازہ اللہ آباد کالونی، پرانا نادرا آفس، 3 مرلہ اسکیم میں ادا کی گئی۔

    نماز جنازہ میں ڈیرہ غازی خان کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈی جی خان بار کے معروف قانون دان و سابق صدر بار راؤ محمد اعجاز ایڈووکیٹ، مہر فدا حسین ایڈووکیٹ، کفائیت عباس ایڈووکیٹ، امتیاز کریم درانی ایڈووکیٹ، اور کثیر تعداد میں صحافی و وکلاء برادری شامل تھی۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی کاروباری، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مرحوم کے بھائیوں راؤ محمد شمیم اصغر، راؤ محمد وسیم اصغر، راؤ محمد ندیم اصغر، سماجی و کاروباری شخصیت ساجد خان، عمر خان ککے زئی، جرنلسٹ جواد بھٹی، ماڈل ٹاؤن اور شہر بھر کے دیگر معززین اور مرحوم کے قریبی عزیز و اقارب بھی جنازے میں شریک ہوئے۔

    ڈاکٹرراؤ محمد سلیم اصغر کی وفات سے ڈیرہ غازی خان ایک ہمدرد اور ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے محروم ہو گیا ہے۔ مرحوم نے اپنے کیریئر کے دوران نہ صرف طب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں بلکہ معاشرتی مسائل کے حل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

    شہر کے عوام کا کہنا ہے کہ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا شاید کبھی پُر نہ ہو سکے گا۔ مرحوم کی انسان دوستی اور طبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے۔

  • ننکانہ : ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ کی انسولین چوری، کرپٹ سی ای او کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج

    ننکانہ : ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ کی انسولین چوری، کرپٹ سی ای او کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 70 لاکھ روپے مالیت کی انسولین چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کرپٹ سی ای او طلحہ شیروانی پر شدید الزامات عائد کیے ہیں، جنہیں بدعنوانی کے سابقہ ریکارڈ کے باوجود اہم عہدہ دیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سی ای او نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس روکے رکھے ہیں اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت فوری کارروائی کرے، ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ روپے مالیت کی انسولین کی چوری کا انکشاف ہوا ہے، جس نے محکمہ صحت کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پنجاب اور محکمہ صحت پر کڑی تنقید کی ہے۔

    سی ای او پر کرپشن کے الزامات
    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر سلمان حسیب، ڈاکٹر شعیب نیازی اور دیگر عہدیداران نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ سی ای او طلحہ شیروانی، جو ماضی میں بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں، انسولین چوری اور دیگر کرپشن کے اسکینڈلز میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلحہ شیروانی جو پہلے میو ہسپتال میں تعینات تھے، وہاں بھی کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔

    ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ سی ای او نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کئی ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس کی تجدید روک رکھی ہے۔ بی ایچ یو اور آر ایچ سی میں تعینات ڈاکٹرز شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں بلاجواز انتظار کروایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سی ای او دفتر میں لیڈی ڈاکٹروں کو بھی گھنٹوں انتظار کرواتا ہے اور منتھلی رشوت کے بغیر کام نہیں کرتا۔

    پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 70 لاکھ روپے کی انسولین چوری ہو چکی ہے، جو غریب مریضوں کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ سی ای او اور دیگر افسران نے اس چوری پر پردہ ڈال رکھا ہے اور کسی قسم کی تفتیش یا کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس چوری کے باعث غریب مریض انسولین کی فراہمی سے محروم ہو چکے ہیں، جو ان کی زندگیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹروں نے پنجاب حکومت اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ سی ای او طلحہ شیروانی کے خلاف فوری انکوائری کی جائے۔میو ہسپتال سے ان کا سابقہ ریکارڈ طلب کیا جائے۔ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس فوری طور پر تجدید کیے جائیں۔انسولین چوری کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلحہ شیروانی، جو سنٹرل پارک ہسپتال میں بھی ملازمت کر رہے ہیں، کے خلاف وہاں جا کر بھی احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سی ای او کو دوہری ملازمت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    پریس کانفرنس کے آخر میں صوبائی قیادت نے ڈاکٹر عدنان اقبال گجر کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب کا نیا صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈاکٹروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے۔

    ڈاکٹروں نے صحافی برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے مطالبات کی حمایت کریں کیونکہ ہسپتال عوام کی ملکیت ہے اور اس میں کرپشن اور بدعنوانی سے عوام ہی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کے حق کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

  • تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت
    تحریر: شوکت علی ملک
    ویسے تو راقم افسران کی قصیدہ گوئی کا سخت ترین ناقد ہے مگر کچھ فرض شناس عوام کے حقیقی خادم اور اپنی ڈیوٹی کو جہاد سمجھ کر بخوبی سرانجام دینے والے افسران جوکہ اپنے کام کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتے ہوں انکی قصیدہ گوئی بھی عین فرض ہوجاتی ہے کہ ان پہ قلم کشائی کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

    آج ایسے ہی ایک قابلِ فخر سپوت کا آپ سے تعارف کروانا عین فرض سمجھتا ہوں جن کا تعلق شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تلہ گنگ کے نواحی گاؤں متھرالہ سے ہے میری مراد "ملک حاکم خان” ہیں جوکہ اس وقت اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی تعینات ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی ملک حاکم خان نے مختصر وقت میں قبضہ مافیا اور تجاوزات مافیا کو جو نتھ ڈالی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی کا ہر شہری ملک حاکم خان کے نام سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان کے کام کی کھل کر تعریف کرتا ہے، تاجر برادری ہو یا عام شہری وہ ملک حاکم خان کو راولپنڈی شہر کےلیے فرشتہ تصور کرتے ہیں۔

    ٹائم کی پابندی، وقت پر آفس آنا اور شہریوں کے مسائل کو بذات خود سننا اور موقع پر احکامات جاری کرنا ان کے معمول کا حصہ ہے، آفس ورک کے بعد روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات کیخلاف آپریشن ہو، صفائی ستھرائی کے معاملات ہوں یا پھر سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے حوالے سے 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کیخلاف کریک ڈاؤن ملک حاکم خان رات گئے تک عملے کے ہمراہ خود فیلڈ میں موجود رہتے ہیں۔

    ویسے تو راقم کی ملک حاکم خان سے کوئی اتنی پرانی شناسائی نہیں مگر پہلی ملاقات میں ہی ان کی عاجزی انکساری اور انسانیت دوست رویے نے اپنا گرویدہ بنا لیا، ملک حاکم خان ینگ ہیں انرجیٹنگ ہیں ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ان کی ایمانداری اور فرض شناسی کے باعث راولپنڈی کا ہر شہری ان کو اپنا محسن اور حقیقی خدمتگار سمجھتا ہے۔

    گزشتہ دنوں راقم بن بتائے ملاقات کےلیے ان کے آفس پہنچا تو حسب معمول باہر بیھٹے عملے سے جب دریافت کیا کہ اے سی صاحب تشریف فرما ہیں تو انہوں نے تعارف پوچھا جس پر راقم نے کہا اور تو میرا کوئی تعارف نہیں، ہاں البتہ تلہ گنگ سے ہوں جس پر عملے نے بلاحیل و حجت دروازہ کھول کر کہا تلہ گنگ والوں کو تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے آپ اندر چلے جائیے۔

    راقم جب اندر پہنچا تو ملک حاکم خان صاحب حسب معمول عوامی مسائل سننے میں مشغول تھے، تلہ گنگ والوں کےلیے خصوصی آفر پر راقم نے کہا "واؤ بھائی ماشاءاللّٰہ تلہ گنگ والوں کیساتھ اتنی محبت کہ ان کےلیے بغیر رکاوٹ ہمہ وقت دروازے کھلے ہیں” کہنے لگے بھائی میرا اصل مقصد ہی عوامی خدمت ہے پھر راولپنڈی والے ہوں یا تلہ گنگ والے ہر خاص و عام کےلیے میرے دفتر اور دل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں پر تلہ گنگ والوں سے تو خصوصی محبت ہے۔

    دھرتی تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے قابلِ فخر سپوت ملک حاکم خان اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی کی اپنی دھرتی تلہ گنگ اور اہلیانِ تلہ گنگ سے محبت نے گویا دل موہ لیا ہے، دعا ہے رب تعالیٰ ہمارے قابلِ فخر بھائی، فرزند تلہ گنگ، فخر تلہ گنگ، دھرتی تلہ گنگ کے قابلِ فخر سپوت "ملک حاکم خان” کو مزید عزم و ہمت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور یونہی ایمانداری اور لگن کیساتھ انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • منڈی بہاؤالدین: ڈی پی او وسیم ریاض خان کی تھانہ گوجرہ میں کھلی کچہری

    منڈی بہاؤالدین: ڈی پی او وسیم ریاض خان کی تھانہ گوجرہ میں کھلی کچہری

    منڈی بہاؤالدین،باغی ٹی وی (نامہ نگارافنان طالب) ڈی پی او وسیم ریاض خان کی تھانہ گوجرہ میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل پر فوری کارروائی

    تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منڈی بہاؤالدین وسیم ریاض خان نے تھانہ گوجرہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں شہریوں نے اپنے مسائل براہ راست پیش کیے۔ ڈی پی او نے تمام شکایات کا بغور جائزہ لیا اور فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔

    ڈی پی او وسیم ریاض خان نے اس موقع پر کہا کہ "شہریوں کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ضلعی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ عوام کے تحفظ اور خدمت کے لیے پولیس فورس ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہری کے سیشنز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔

  • سرگودھا: کمشنر جہانزیب اعوان کا دہی رانی اور ستھراء پنجاب پروگرامز کی پیشرفت کا جائزہ

    سرگودھا: کمشنر جہانزیب اعوان کا دہی رانی اور ستھراء پنجاب پروگرامز کی پیشرفت کا جائزہ

    سرگودھا ،باغی ٹی وی(ملک شاہنواز جالپ)کمشنر جہانزیب اعوان کی زیر صدارت اجلاس، دھی رانی اور ستھراء پنجاب پروگرام کی پیشرفت کا جائزہ

    کمشنر سرگودھا جہانزیب اعوان کی زیر صدارت ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں حکومت پنجاب کے دہی رانی اور ستھراء پنجاب پروگرامز کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر فروہ عامر، ڈی پی او توقیر محمد نعیم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) عبدالستار خان، اسسٹنٹ کمشنر عثمان غنی، بیت المال کی آفیسر شعبانہ افضل، میونسپل کمیٹی اور میرج ہالز کی انتظامیہ نے شرکت کی۔

    کمشنر سرگودھا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں صفائی ستھرائی کے انتظامات پر کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں عوام الناس کو بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں اور ڈاکٹرز کی حاضری اور صفائی کے نظام کو بھی یقینی بنایا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر فروہ عامر نے کمشنر جہانزیب اعوان کو دہی رانی پروگرام کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور پروگرام کی کامیابی اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔