Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سکھر: ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    سکھر: ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    سکھر(باغی ٹی وی ،مشتاق لغاری کی رپورٹ) ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سکھر رینج، کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے ڈسٹرکٹ بار کا دورہ کیا۔ سابق صدر اور ممبر سندھ بار کونسل ایڈووکیٹ شفقت رحیم، جنرل سیکرٹری سندر خان چاچڑ، اور دیگر عہدیداران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈی آئی جی سکھر نے بار کے اراکین سے ملاقات کے دوران متعدد اہم امور پر گفتگو کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وکلا کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور تمام متاثرین کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج کی جائے۔ انہوں نے تفتیشی عمل کو میرٹ کی بنیاد پر شفاف بنانے اور تھانوں و دفاتر میں وکلا کے ساتھ بہتر رویہ اپنانے کی بھی تاکید کی۔

    ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ وکلا کے خلاف جھوٹی یا بوگس ایف آئی آر درج کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے سکھر رینج میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں تیزی سے کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

    کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے ایڈووکیٹ شفقت رحیم، ایڈووکیٹ سندر خان چاچڑ، ایڈووکیٹ مختیار کٹپر، ایڈووکیٹ لالا آصف ذیشان، اور دیگر وکلا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے استقبال کے ساتھ بہترین ماحول میں وکلا کے مسائل سننے اور بار کی جدید لائبریری کا دورہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

    انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ڈسٹرکٹ بار اور پولیس مل کر مظلوم عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • میہڑ: باراتیوں کی بس حادثے کا شکار، ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی

    میہڑ: باراتیوں کی بس حادثے کا شکار، ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی

    میہڑ (نامہ نگارمنظور علی جوئیہ)باراتیوں کی بس حادثے کا شکار، ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی

    تفصیل کے مطابق نیرہ پل کے قریب ایک افسوسناک حادثے میں شادی کی بارات کی بس 11 ہزار وولٹیج کی بجلی کی تاروں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 12 سالہ نور سولنگی جاں بحق جبکہ 3 بچے، عتیق الرحمان، سہیل احمد، اور سالار محبوب علی شدید زخمی ہوگئے۔

    زخمی بچوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    حادثے کے بعد شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، اور علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  • منڈی بہاؤالدین: داخلی راستوں پر ناکہ بندی، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن

    منڈی بہاؤالدین: داخلی راستوں پر ناکہ بندی، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن

    منڈی بہاؤالدین (باغی ٹی وی، نامہ نگار افنان طالب) داخلی و خارجی راستوں پر سنیپ چیکنگ، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وسیم ریاض خان کی ہدایت پر ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ داخلی و خارجی راستوں سمیت اہم مقامات پر ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈی پی او نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت روکنے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے سرپرائز ناکہ بندی، گشت، اور الرٹ ڈیوٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    سرکل افسران اور ایس ایچ اوز ناکہ بندی اور چیکنگ کے عمل کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کا فوری سدباب کیا جا سکے۔

    پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ناکہ بندی اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ضلع میں امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔

    "آپ کی حفاظت، ہماری ذمہ داری” – پولیس ترجمان

  • مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس
    از قلم غنی محمود قصوری
    7 جنوری 2025 سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کا علاقہ لاس اینجلیس جنگلی آگ لگنے سے جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔جنگل میں لگی آگ آبادی تک پہنچی اور آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔لاس اینجلیس جو کہ ہالی وڈ کا مرکز ہے جہاں فلم انڈسٹری سمیت بہت سے وی آئی پی لوگ رہتے ہیں، اس وقت قابل رحم بنا ہوا ہے۔ اس وقت لاس اینجلیس اور اس کی ہمسایہ کاؤنٹیز میں 7 مختلف مقامات پر شدید آگ لگی ہوئی ہے جو تاحال بھڑک رہی ہے۔

    سب سے پہلے ایٹون لاس اینجلیس میں 7 جنوری کو شام 6:18 بجے آگ بھڑکی اور پھر لاس اینجلیس سٹی میں رات 10:15 بجے آگ لگنا شروع ہوئی۔ یہ آگ ہرٹس فائر میں 10:30 بجے پہنچی اور پیلیسیڈز کے علاقے میں رات 10:38 بجے تک پہنچ گئی۔

    کیلیفورنیا، لاس اینجلیس میں 1 اکتوبر سے جنوری تک اوسطاً 10 فیصد سے بھی کم بارش ہوئی، جس کے باعث خشک سالی پیدا ہوئی۔ اسی دوران 7 جنوری 2025 بروز منگل کو سمندری ہوائیں چلیں جو جنگلات میں پہنچ کر آگ لگنے کا سبب بنیں۔

    سب سے زیادہ پیلیسیڈز میں آگ لگی جس نے تقریباً 23,000 ایکڑ رقبہ جلا کر راکھ کر دیا ہے۔پیلیسیڈز اور ایٹون میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم 60 سے 100 میل فی گھنٹہ چلنے والی تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جس پر ان علاقوں میں آگ اور زیادہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔آگ مشرق میں واقع برینٹ ووڈ میں گیٹی سینٹر آرٹ میوزیم کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے قوی امکان ہے کہ وہ بھی جل کر راکھ ہو جائے گا۔شدید آگ کے باعث محض ایٹون میں 12,000 گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں اور 14,000 ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔

    لاس اینجلیس میں آگ سے اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد تب سامنے آئے گی جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے گی۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔اب تک اس آگ کے باعث 2 لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 15,000 مکانات جل کر خاکستر ہوئے ہیں اور 275 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔اس آگ میں امریکی صدر جو بائیڈن سمیت کئی نامور لوگوں کے گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

    یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ لاس اینجلیس میں بہت زیادہ لوگ ہائی ایلیٹ کلاس ہیں، اور ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو امریکی فوج کو باقاعدہ طور پر فنڈنگ کرتے ہیں تاکہ امریکی سامراج کو برقرار رکھا جا سکے اور امریکہ سپر پاور بن کر دنیا پر راج کرے۔مگر یہ لوگ شاید بھول گئے کہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے خلاف قنوت نازلہ کرتے ہیں۔

    غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز قضا ہوئی تو آپ نے کفار پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا:
    مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
    اللہ تعالیٰ ان کافروں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔(صحیح البخاری: 6033)

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار پر آفات کا ٹوٹنا مقام شکر ہے، چاہیے کہ ان کے خاتمے کے لیے دعا کی جائے۔
    (الشرح الصوتي لزاد المستقنع: 1660/1)

    قنوت نازلہ نبی رحمت سے ثابت اور سنت ہے۔ آج اس سنت پر دنیا بھر کے مظلوم مسلمان عمل کرتے ہیں، خاص کر مسجد اقصیٰ میں جب بھی فلسطینی نماز پڑھتے ہیں، قنوت نازلہ لازم پڑھتے ہیں۔
    اللہ نے ان معصوم نہتے مظلوم و مجبور مسلمانوں کی دعا قبول کی اور امریکہ پر آگ کا عذاب مسلط کیا ہے۔یہاں قنوت نازلہ کی دعا معہ ترجمہ رقم کر رہا ہوںامیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین جناب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ میں یہ کلمات کہتے تھے:

    "اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنِ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ.”

    اے اللہ، کافروں کو عذاب دے، ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دے، ان کی صفوں میں پھوٹ ڈال دے، اور ان پر اپنا قہر اور عذاب نازل فرما۔ اے اللہ، اہلِ کتاب کافروں کو عذاب دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔

    اللہ دعائیں سنتا ہے اور مظلوموں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ ظالموں کو بھی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ ظلم سے باز آ جائیں اور اگر حد سے بڑھ جائیں تو پھر رب کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

    امریکہ کو معصوم و مظلوم مسلمانوں کی بددعائیں لے بیٹھی ہیں اور امید ہے امریکہ کے نقصان میں مزید اضافہ ہوگا، ان شاءاللہ۔

  • اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا
    تحریر:حبیب اللہ قمر
    پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پراسلام اور پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے دل غمگین اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر اداسی کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔بلاشبہ وہ ایسے خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جو دنیا میں اس طریقے سے زندگی گزارتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ آج ہر کسی کی زبان پر ان کی دینی خدمات اور جرأت مندانہ کردار کے تذکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موت ایسی قابل رشک دی کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وہ جب تک زندہ تھے ہر مجلس کی جان ہوا کرتے تھے۔ لوگ انھیں سننا چاہتے تھے۔ وہ تنظیمی و تحریکی سرگرمیوں میں سستی و غفلت پر سرزنش بھی کرتے تو زبان سے نکلے لفظوں کے موتی اتنے خوب صورت ہوتے کہ سننے والوں کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا تھا۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت، مظلوم مسلمانوں کی عزتوں و حقوق کے تحفظ اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ دلوں کو جوڑنے اور باہم اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے والے عظیم رہنما تھے۔ ان کی وفات سے علم کا ایک دروازہ بند ہوا ۔ ان کی باتیں علم و حکمت سے آراستہ ہوتیں تو کردار میں عاجزی و انکساری کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ وہ تحریک پاکستان کے سرکردہ لیڈراور معروف عالم دین پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ اس خاندان کے چشم و چراغ تھے جو قیام پاکستان کے وقت اپنے گھر بار، زمینیں اور جائیدادیں وغیرہ سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور اسلام کی محبت میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا۔حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ نے اولاد کی تربیت کرتے وقت بچپن سے ہی ان کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کی تھی کہ دین کی خاطر ہر قربانی دے دینا لیکن اس پر عمل میں کوئی کمزوری نہیں آنی چاہیے۔ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے اپنے والد کے اس سبق کو خوب اچھی طرح یاد کیا اور آخر دم تک نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی کی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی توفیق سے نواز دیا۔ پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ جو کہ ایس ای کالج بہاول پور میں پروفیسر تھے، نے ایک استاد کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ ان کے صاحبزادے کو پڑھا دیا کریں۔ یعنی سکول کی تعلیم وہ اس استاد سے حاصل کرتے اور گھر میں دینی تربیت ان کے والد خود کیا کرتے تھے۔ پروفیسر حافظ محمد سعید جنہوں نے خود اپنے ماموں حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ میں دوسرے بچوں کی طرح سکول میں جا کر پڑھا لیکن عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے گھر میں پڑھ کر ہی میرے ساتھ میٹرک کا امتحان دیا اور اچھے نمبروں میں پاس ہو گئے۔ اس کے بعد پھر کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے تک پروفیسر حافظ محمد سعید اور حافظ عبدالرحمن مکی ساتھ ساتھ رہے۔

    عبدالرحمن مکی اسلامی جمعیت طلباء کے بہت فعال اور متحرک رکن تھے۔ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی رحمہ اللہ ان کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اوروہ بھی ملاقات کے لیے اکثر ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلی تو پروفیسر حافظ محمد سعید کے ہمراہ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے بھی اس میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اسی طرح بھٹو دور میں تحریک نظام مصطفی شروع ہوئی تو اس میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ وہ اپنے جرأتمندانہ کردار کی بدولت وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کرکے بدنام زمانہ شاہی قلعہ کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا۔ اس دوران ان پر انتہائی بہیمانہ تشدد کیا گیا، رولر پھیرے گئے اورپلاس سے ناخن کھینچے جاتے لیکن ظلم کرنے والے ایک پل کے لیے بھی انھیں جھکا نہیں سکے اور ان کے پایہ استقامت میں لمحہ بھر کے لیے بھی لغزش نہیں آئی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اپنی زندگی کے چھپے گوشوں سے پردہ اٹھاتے تو ان کی باتیں سن کر بندہ ششدر رہ جاتا کہ انھیں اپنی زندگی میں کس قدر آزمائشوں کا سامنا رہا ہے ۔ قیدوبند کی صعوبتوں کے دوران جب ان کا کیس زیر سماعت تھا تو ایک مرتبہ سرکار کاایک وکیل عدالت میں بڑے تکبر سے کہنے لگا کہ میرے ہوتے ہوئے تم جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ اس پر مکی صاحب نے بھری عدالت میں اس کی خوب خبر لی اور کہا کہ ابھی جب کیس زیر سماعت ہے تو تم میرا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہو۔ بہت جلد میرا اللہ مجھے چھڑائے گا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے،کچھ عرصہ بعد پھر یہی ہوا بھٹو کا تختہ الٹ گیا اور عدالت نے بھی کیس کو جھوٹا قرار دے کر انھیں رہاکر دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی رہائی میں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بھی کوششیں کیں اور اس حوالے سے ان کا بھی کردار رہا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں بطور لیکچرر بھرتی ہو گئے۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا اور وہ ملک میں مختلف حوالے سے اصلاحات کی کوششیں کر رہے تھے۔ اس دوران جنرل ضیاء نے علماء کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں قانون اور شریعہ کے ماہر ایسے علماء اور محقق تیار ہونے چاہئیں جو ملک میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کواعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب بھجوانے کا بھی فیصلہ ہوا جن میں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کا نام بھی شامل تھا۔ حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو پتا چلا تو پہلے تو انہوں نے انکارکیا کہ وہ بیٹے کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل ضیاء الحق جنھیں وہ دعوتی و اصلاحی خطوط لکھتے رہتے تھے، انھوں نے علماء کے ذریعے پیغام بھیجا اور بعض دوسرے احباب نے بھی اصرار کیا تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ اس کے لیے آمادہ ہو گئے۔ یوں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں پڑھنے لگے اور علم الحدیث میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔

    وہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور ان کا بیشتر وقت ان کے دارالافتاء میں گزرتا تھا۔ اسی عرصہ میں پھر جنرل ضیاء الحق وفات پا گئے اور عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی سعودی عرب میں دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نجی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اردو کی طرح عربی اور انگریزی بھی بہت روانی کے ساتھ بول لیتے تھے۔ عربی زبان میں ان کی گفتگو اتنی شان دار ہوتی کہ عرب لوگ بھی سن کر رشک کرتے تھے۔ جب تک وہاں پابندیوں کے حالات نہیں تھے ان کے پروگرام مختلف عرب ملکوں میں ہوتے اور وہ ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا کرتے تھے۔ میں نے اکثر اہل علم کی زبان سے یہ بات سنی ہے کہ شورش کاشمیری اور علامہ احسان الہٰی ظہیر کے بعد آج کے دور میں سحر انگیز خطابت کسی میں دیکھنے کو ملی ہے تو وہ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ ہیں۔ تاریخ کے موضوع پر یوں بات کرتے کہ جیسے صدیوں کی باتیں پوری طرح حفظ کر رکھی ہوں۔ وہ جس موضوع پر گفتگو کرتے علم کے موتی بکھیر دیتے اور سامعین میں سے ہر کوئی ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کتاب و سنت اور عصر حاضر کے علوم و فنون پر اتنی گہری نظر رکھنے والا اس وقت کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اسلام کے فریضہ جہاد سے بہت محبت رکھتے تھے۔ نوے کی دہائی میں جب کشمیر کی تحریک نے عروج پکڑا اور حافظ محمد سعید نے سعودی عرب جا کر انھیں دعوت و جہاد کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے کا کہا تو انھوں نے فورا حامی بھر لی۔ اگرچہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے انھیں ہر قسم کی آسائشیں اور سہولیات میسر تھیں لیکن دین اور جہاد کی خاطر محض دو سے تین دن میں اپنے سارے معاملات سمیٹے اور اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لیے بھی آرام اور سکون سے نہیں بیٹھے اور اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی اور تحریک دعوت و جہاد کے لیے کھپا دی۔ جہاد کے موضوع پر ان کے خطابات خاص طور پر دلوں کو گرما دینے والے ہوتے۔ ہزاروں نوجوان ان کی تقریریں سن کر عملی میدان میں اترے اور پھر ایسی لازوال قربانیاں پیش کیں کہ جنھیں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

    عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ جوانی کے ایام میں تھے تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ ان کا بیٹا جلسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب میں دلچسپی کم لیتا ہے۔ وہ بہت دعائیں کرتے کہ میرے بیٹے سے دین کا کام لے، اس کا سینہ فراخ کر دے اور زبان و بیان میں قوت پیدا کر دے۔پھر آسمان والے رب نے ان کی یہ دعا اس انداز میں قبول کی کہ اسی بیٹے کو خطابت کا ایسا شہسوار بنایا کہ دنیا ان کی گفتگو سننے کو ترستی تھی۔ یہی عبدالرحمن مکی جب تقریر کرتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے اور لمحہ بھر کے لیے بھی چہرے پر تھکاوٹ کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ان کے دل میں جہاد کی تڑپ اتنی تھی کہ کہا کرتے تھے کاش میرے ہاتھ سے میدان جہاد میں ایک ہندو فوجی مارا جائے اور میں اپنے رب سے کہہ سکوں کہ میں نے فلاں غاصب ہندوستانی فوجی کو قتل کیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دل میں نرمی بھی انتہا درجے کی تھی۔کشمیری شہداء کے جنازے پڑھاتے توآبدیدہ ہو جاتے۔ کشمیریوں سے یہی والہانہ محبت اور لگاؤ تھا کہ ان کی وفات پر پورے مقبوضہ کشمیر میں غم کی کیفیت رہی اور حریت قیادت سمیت سبھی کشمیری قائدین نے تعزیتی پیغامات میں کہا کہ آج ہم کشمیریوں کے حق میں بات کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔

    امریکی جیل گوانتا ناموبے میں قرآن مجید کی بے حرمتی ہوئی تو عبدالرحمن مکی تڑپ اٹھے اور پروفیسر حافظ محمد سعید کی ہدایات پر مولانا امیر حمزہ اور محمد یعقوب شیخ کے ہمراہ فوری ملک گیر تحریک منظم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکے شائع ہوئے تو تحریک حرمت قرآن کی طرح تحریک حرمت رسولؐ میں بھی پیش پیش رہے۔ اسی طرح تحریک تحفظ قبلہ اول ، دفاع پاکستان کونسل اور سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے چلائی گئی تحریکوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کیا اور فتنہ تکفیر اور خارجیت کے رد کے لیے ملک کے کونے کونے میں جا کر لوگوں کی تربیت کی کہ مسلمانوں سے لڑائی تو دور کی بات ان کی طرف ہتھیار کا رخ کرنا بھی اسلام میں حرام ہے۔ ان کی تحریکی سرگرمیوں پر مبنی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اس کے لیے الگ سے مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے، یہاں میں صرف اتناکہوں گا کہ صحت کو درپیش مسائل کے باوجود انھوں نے ملک کا کوئی کونہ نہیں چھوڑا جہاں وہ دعوت دین کی آواز بلند کرنے کے لیے نہ پہنچے ہوں۔

    ایک ایسا شخص جسے ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا ہو کہ آپ کے دل کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ہم بائی پاس نہیں کر سکتے، یونہی دوائیوں کے ذریعے ہی علاج جاری رکھنا پڑے گا، اس نے اپنی زندگی میں کئی برسوں تک کبھی اپنی بیماری کو محسوس تک نہیں ہونے دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ صبرواستقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی جوانی کے ایام میں کینسر کی وجہ سے فوت ہوئے ۔ دوسرا بیٹا کینسر کے سبب شوکت خانم ہسپتال میں داخل ہوا تومیں اور برادرم یحییٰ مجاہدجن کے ساتھ مکی صاحب کا بہت پرانا اور گہرا تعلق تھا، ایک جگہ پر ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہاں ایک بھائی نے ان سے کہہ دیا کہ آج کل تو آپ بیٹے کی بیماری کی وجہ سے بہت مصروف ہوں گے۔ وہ کہنے لگے میں نے ساتھیوں سے سختی سے کہا ہے کہ ملک میں کسی جگہ بھی طے کردہ میرا کوئی پروگرام کینسل نہیں کرنا، میں ہر جگہ جاؤں گا اور خطاب کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پروگراموں پر جانے سے جتنی زیادہ کتاب و سنت اور جہاد کی آواز بلند ہو گی میرا اللہ ہم پر رحم کرے گا اور میرے بیٹے کے لیے بھی آسانی پیدا کرے گا۔

    زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کی حالت یہ تھی کہ شوگر کی وجہ سے پاؤں پر زخم آ گئے تھے اور ان سے چلا نہیں جاتا تھا لیکن وہ پاؤں پر پٹیاں باندھ کر پورے ملک میں پروگرام کر رہے تھے۔ انھی دنوں میں جب تکلیف زیادہ بڑھی تو انھیں قائل کر کے ہسپتال داخل کروایا گیا، اسی دوران ان کے پاؤں کا ایک انگوٹھا کاٹنا پڑا۔ ابھی علاج جاری تھا کہ جمعہ کے دن فجر کے بعد اچانک دل کی تکلیف ہوئی اور وہ قریب موجود ساتھیوں کو گواہ بنا کر کلمہ پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ کسی ایک جماعت یا کسی مسلک کے نہیں بلکہ پوری امت کے نمائندے تھے۔ وہ تحریک دعوت و جہاد کے عظیم انقلابی رہنما تھے۔ ان کی وفات یقینا موت العالم موت العالم کے مصداق ہے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے بھانجے پروفیسر حافظ طلحہ سعید نے پڑھائی۔ گورنمنٹ ایجوکیشنل کمپلیکس ننگل ساہداں مریدکے کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں جید علماء کرام، شیوخ الحدیث اور دینی مدارس کے اساتذہ و مہتتم حضرات سمیت مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ان کی شخصیت، علم و تقویٰ اور دین کے لیے قربانیوں نے ان کے جنازے کو ایک عظیم الشان منظر بنا دیا۔ لوگ ان کے علم، اسلام و پاکستان کے لیے قربانیوں اور ان کی ثابت قدمی کو یاد کر کے زاروقطار روتے رہے۔ شدید سردی اور بارش کے موسم کے باوجود جس طرح لوگ دور دراز کے علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے جنازے میں پہنچے یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے لیے کی جانے والی ان کی کاوشوں اور ان کے صبر کا بہترین صلہ عطا فرمایا ہے۔ حقیقت ہے کہ جو شخص اپنے رب کی رضا کے لیے زندگی گزارتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے اور اس کے دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت عطا فرماتا ہے۔ اپنے بہترین دیرینہ ساتھی کی وفات پر پروفیسر حافظ محمد سعید نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

    انھوں نے کارکنان کو خاص طور پر نصیحت کی ہے کہ یہ وقت غم کا ضرور ہے لیکن ہمیں صبر کرنا ہے اور اپنی زبان سے وہی الفاظ ادا کرنے ہیں جن سے اللہ راضی ہو۔ ہمیں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ہم ان کی پیش کردہ دعوت کو ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے اور امت کی بھلائی کے لیے اسی اخلاص اور محنت کے ساتھ کام کریں گے جس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی دین اسلام کے لیے قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ان کی قبر کو منور فرمائے۔ آمین۔

  • دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد ریجن کی جانب سے 25 جنوری 2025 کو شاندار فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ فیسٹیول بچوں، والدین، اور دیگر فیملی ممبرز کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ اس تقریب کی قیادت فیصل آباد ریجن کے ایڈمنسٹریٹر عدنان احمد خان شیروانی کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے معاونین بشارت، فراز، اور مس ماہم کے ساتھ مل کر بہترین انتظامات کیے ہیں۔

    فیسٹیول میں رنگا رنگ سرگرمیاں شامل ہیں جن میں بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح اور تعلیم کا امتزاج ہوگا۔ جناح باغ میں ہونے والے اس ایونٹ میں فوڈ کورٹ، اسپانسرڈ اسٹالز، جادوئی میجک شو، اور دلچسپ کھیلوں کے مقابلے شامل ہوں گے۔ بچوں کے لیے پلے ایریا، جھولے، اور باؤنس سینڈ جمپنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    تقریب میں تمام کیمپسز کے طلبا رنگارنگ ٹیبلو اور ڈرامے پیش کریں گے، جو پاکستان کی ثقافت، حب الوطنی، اور دیگر اہم موضوعات پر مبنی ہوں گے۔ فیسٹیول کے اختتام پر ایک میوزیکل کنسرٹ بھی ہوگا، جس میں مقامی گلوکار اور طلبا اپنی گائیکی کے جوہر دکھائیں گے۔

    تعلیمی سرگرمیوں کے تحت جدید ٹیکنالوجی، ورکشاپس، اور عملی مظاہروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشیں گے۔

    عدنان احمد خان شیروانی نے اپنے پیغام میں تمام طلبا اور ان کے اہل خانہ کو اس تقریب میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیسٹیول نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرے گا بلکہ طلبا میں معاشرتی ہم آہنگی، ٹیم ورک، اور قیادت کی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے گا۔

    آئیے، مل کر اس دن کو یادگار بنائیں اور تعلیم و تفریح کے اس حسین امتزاج سے لطف اندوز ہوں۔

  • میرپورخاص: دیسی شراب کی بھٹی پر چھاپہ، 7,960 لیٹر شراب برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    میرپورخاص: دیسی شراب کی بھٹی پر چھاپہ، 7,960 لیٹر شراب برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) دیسی شراب کی بھٹی پر چھاپہ، 7,960 لیٹر شراب برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    ایس ایس پی میرپورخاص شبیر احمد سیٹھار کے احکامات پر انچارج ڈی آئی بی جواد دل اور ایس ایچ او ڈگری پولیس اسٹیشن انسپکٹر سلیم سراج سموں کی قیادت میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے دیسی شراب کی بھٹی پر چھاپہ مارا گیا۔

    کارروائی کے دوران 7,960 لیٹر دیسی شراب اور چار لاوارث موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔ موقع پر موجود تین ملزمان، نور محمد عرف نورو کمبھار، منور علی کمبھار، اور سکندر علی کمبھار کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 06/2025 زیر دفعہ 3/4 PEHO ڈگری پولیس اسٹیشن پر درج کر لیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کی طرف ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • تلہ گنگ:باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر شاندار تقریب کا انعقاد

    تلہ گنگ:باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر شاندار تقریب کا انعقاد

    تلہ گنگ (باغی ٹی وی نامہ نگار) باغی ٹی وی کی کامیاب 13 سالہ خدمات کے مکمل ہونے پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں باغی ٹی وی کی ٹیم کی محنت اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    تقریب کے دوران باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر صدر ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری، سینئر نائب صدر ملک فضل الرحمان، باغی ٹی وی کے نامہ نگار شوکت علی ملک، محمد عمران چوہدری، اور خرم شہزاد مغل نے خصوصی شرکت کی اور کیک کٹنگ سرمنی میں حصہ لیا۔

    تقریب کے دوران محمد فاروق چوہدری اور ملک فضل الرحمان نے باغی ٹی وی کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مختصر وقت میں باغی ٹی وی نے ڈیجیٹل دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان، ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی سمیت پوری ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ باغی ٹی وی مستقبل میں بھی حق و سچ کی آواز بلند کرتے ہوئے مزید کامیابیاں حاصل کرے گا۔ تقریب کا اختتام دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ ہوا۔

  • رائیونڈ: ایس ڈی او محمد وقاص کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف لائن مینوں کا احتجاج

    رائیونڈ: ایس ڈی او محمد وقاص کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف لائن مینوں کا احتجاج

    رائیونڈ(باغی ٹی وی رپورٹ) ایس ڈی او محمد وقاص کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف لائن مینوں کا احتجاج

    تفصیل کے مطابق رائیونڈ میں ایس ڈی او سب ڈویژن جیابگا محمد وقاص نے اپنے ہی لائن مینوں کے لیے خطرہ بن کر ادارے کے حفاظتی احکامات کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ انہوں نے بغیر پرمٹ کے لائن مینوں کو فیڈر جمال پورہ میں کام کرنے پر مجبور کیا، جس کے خلاف ملازمین نے احتجاج کیا۔

    ایس ڈی او نے فیڈر جمال پورہ کو بند کروا کر فالٹ پاجیاں کو ٹھیک کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جب لائن مین موقع پر پہنچے تو قریبی مقام پر لائٹ آ رہی تھی، جس سے تصدیق ہوئی کہ فیڈر بند کیا گیا ہے۔ ملازمین نے حفاظتی اقدامات کی نشاندہی کی اور ایس ڈی او سے درخواست کی کہ وہ واپڈہ کے بنائے گئے طریقہ کار پر عمل کریں تاکہ ان کی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

    اس پر ایس ڈی او نے ملازمین سے بداخلاقی سے بات کرتے ہوئے انکار کرنے پر ان کے خلاف سزائیں دیں اور کئی ملازمین کو سسپینڈ کر دیا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کارروائیاں بھی شروع کر دیں۔ ایس ڈی او کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویے کے خلاف ملازمین نے دھرنا دیا اور اعلیٰ حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    ملازمین نے وزیر اعلیٰ مریم نواز، چیئرمین واپڈہ شاہد حیدر اور وزیر بجلی و پانی سے اپیل کی کہ ایس ڈی او محمد وقاص کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ محکمے کی بدنامی اور عوامی خدمت میں رکاوٹ کو روکا جا سکے۔ ملازمین نے اپنے حقوق کے لیے احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا عہد کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں عوامی خدمت پر بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔

  • سیالکوٹ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع

    سیالکوٹ: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع

    سیالکوٹ (بیوروچیف شاہد ریاض) سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الااخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں ضلع بھر کے سالکین کی بھرپور شرکت ہوئی، جن میں خواتین کی بھی کثیر تعداد شامل تھی۔

    شیخ سلسلہ اور سربراہ تنظیم الااخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے سالکین سے خطاب کیا۔ اس موقع پر صاحب مجاز عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے نئے آنے والے ساتھیوں کو طریقہ ذکر سکھایا۔

    جنرل سیکرٹری ضلع سیالکوٹ عارف رفیق نے بھی ذمہ داران سے مختصر خطاب کیا۔ آخر میں ملکی ترقی اور سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں اور سالکین کو لنگر سے تواضع کی گئی۔