Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • منڈی بہاؤالدین کے تین روشن چراغوں نے انسانیت کی مثال قائم کر دی

    منڈی بہاؤالدین کے تین روشن چراغوں نے انسانیت کی مثال قائم کر دی

    منڈی بہاؤالدین (باغی ٹی وی، نامہ نگار افنان طالب)منڈی بہاؤالدین کے تین روشن چراغوں نے انسانیت کی مثال قائم کر دی

    منڈی بہاؤالدین کے تین عظیم شخصیات نے اپنی سخاوت اور انسان دوستی سے ایسی مثال قائم کی جو پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ چراغ اپنی روشنی سے انسانیت کو روشناس کروا رہے ہیں۔

    ارشد مانگٹ:
    ارشد مانگٹ نے اپنی 230 مرلہ قیمتی زمین 46 مستحق خاندانوں میں تقسیم کر کے فلاحی خدمات کی شاندار مثال پیش کی۔ ان کا یہ اقدام بے سہارا خاندانوں کے لیے نئی امید کا سبب بنا۔

    شہزاد علی گوندل:
    رکن کے شہزاد علی گوندل ہر سال اجتماعی شادیاں کرواتے ہیں۔ اس سال انہوں نے 20 مستحق بچیوں کو جہیز دے کر ان کی رخصتی ممکن بنائی۔ ان کی خدمات کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی اور محبت کی عکاسی کرتا ہے۔

    عاطف نذیر کدھر (ایس ایس پی ایڈمنسٹریشن لاہور):
    عاطف نذیر کدھر نے اپنے گاؤں کی 7 مستحق بچیوں کی شادی کے لیے ضروری سامان فراہم کیا۔ ان کی سخاوت اور خلوص نے خاندانوں کے دل جیت لیے اور ان کی دعائیں سمیٹیں۔

    تقریبات اور خدمت کا جذبہ:
    شہزاد علی گوندل اور عاطف نذیر کدھر نے مہمانوں کے لیے شاندار کھانے کا اہتمام کیا، جس سے ان تقریبات کی شان اور بڑھ گئی۔

    یہ روشن چراغ ان لوگوں کے لیے سبق ہیں جو اپنی دولت کو محض دکھاوے میں ضائع کرتے ہیں۔ ان شخصیات نے ثابت کیا کہ دولت کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنا معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

  • تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اور اس عہد کے سلطان کی بھول
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    گزشتہ روز بلکسر سے مظفرگڑھ جانے والے سنگل روڈ پر بلکسر اور ترحدہ کے مقام پر دو عدد نئے ٹال ٹیکس لگا دیے گئے۔ تلہ گنگ و لاوہ سے کچھ دوستوں نے اس ٹال ٹیکس کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر مسلسل احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ ہم براہ راست اس احتجاج میں شامل تو نہ ہو سکے یعنی سوشل میڈیا پر اپنا حصہ نہ ڈال سکے، لیکن اس دوران بار بار خیالات میں کھوئے رہے اور ماضی کے وہ کالم، جو اس سڑک کے بننے سے پہلے لکھے تھے، سب یاد آنے لگے۔

    ہم نے بارہا اس روڈ پر آئے روز حادثات پر بہت لکھا، یوں بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ہم سب کی سنی گئی، روڈ بن گیا۔ بلکسر سے میانوالی تک اس سڑک کے ارد گرد دیہی آبادیاں ایک طویل عرصے تک ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہیں۔ سڑک پر چلتی ٹریفک سے اڑتے گرد و غبار سب برداشت کیے گئے۔ ان دنوں اس روڈ کو خونی اور قاتل روڈ کہا جاتا تھا۔ حادثات میں بے شمار لوگ جانوں سے گئے، زخمی اور معذور افراد کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    ابھی ہم نئے ضلع کے قیام کی خوشیاں منا ہی رہے تھے، جو ابھی مکمل بھی نہیں ہے، کہ ہمارے ان دیہی علاقوں میں پیلے رنگ کے وہ ٹال ٹیکس کے ڈبے پہنچا دیے گئے جنہیں ہم اپنی ترقی بھی سمجھتے ہیں۔ ہم ایک دم سے ترقی پذیر علاقوں سے نکل کر ترقی یافتہ دور میں داخل ہو گئے۔ ایم ٹو موٹروے بلکسر انٹرچینج سے باہر نکلتے ہی تلہ گنگ کی جانب ایک اور ٹال پلازہ دیکھ کر ہم تو خوشی سے نہال ہو گئے، بلکہ مارے خوشی کے نڈھال بھی ہوئے۔

    اتنی تیز ترین ترقی! قارئین کرام، اتفاق سے اس نئی پیش رفت کے دوران ہمارا یہاں سے گزر ہو چکا ہے۔ بلکسر انٹرچینج سے بلکسر ٹال پلازہ اور پھر اپنے ترحدہ کو تصور میں لے کر آگے بڑھتے رہے کہ اب تو ماشاءاللہ ترحدہ بھی بارونق ہو گیا ہوگا۔ چشم تصور میں ہم کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گئے جبکہ ٹال پلازہ ترحدہ چوک پر نہیں بلکہ تلہ گنگ کی جانب اتنی دور ہے کہ چوک سے نظر ہی نہیں آتا۔

    یہاں پہنچ کر ہمیں کچھ رنج ضرور ہوا اور ایک خواہش پیدا ہوئی کہ وہ پیلے ڈبے عین ترحدہ چوک میں ہوتے تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔ لیکن چلیں خیر ہے، وہ ڈبے اتنے دور بھی نہیں ہیں۔ اپنی اس خواہش کو ہم یوں ہی راضی کر لیتے ہیں۔ ان ٹال ٹیکس سے ہم غریب لوگ تو براہ راست متاثر ہی نہیں ہیں۔ ہم نے کون سا پیدل گزر کر ٹیکس ادا کرنا ہے۔ پیدلوں کا ٹال ٹیکس کہاں ہوتا ہے؟ باقی فراٹے بھرتی گاڑیوں والے بھلا ساٹھ روپے کو کیا مشکل سمجھتے ہیں۔ وہ تو ساٹھ روپے کی قدر و قیمت ان دیہی علاقوں کے غریبوں سے جا کر پوچھیں، جو ان ٹال ٹیکس پلازوں کے قیام کے بعد دال، آٹا، چینی میں ٹال ٹیکس دیں گے۔

    ان پسماندہ علاقوں کو شروع سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور مزید پستیاں ہمارے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہکلہ راولپنڈی سے ڈی آئی خان تک بننے والے سی پیک M14 نے اس روڈ کی حالت ویسے بھی پتلی کر دی ہے۔ پہلے اس بین الصوبائی روڈ پر بے تحاشا رش تھا، اب وہ بھی نہیں رہا۔ یہاں صرف مقامی، علاقائی لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ایک بڑی تعداد اب ہماری شمالی پٹی، جو سی پیک M14 کا مغربی روٹ کہلاتا ہے، وہاں سے گزر جاتی ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے عقب میں ہے، سامنے نہیں۔ ہم اس شمالی بین الاقوامی سڑک سے مکمل استفادہ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔

    ہیوی ٹرانسپورٹ، جس سے بہت سے لوگوں کا روزگار منسلک ہوتا ہے، وہ دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک حصہ سی پیک اور دوسرا حصہ ایم ٹو موٹروے سے فیصل آباد M4 سے ملتان اور آگے کراچی کی طرف۔ اب میانوالی سے تلہ گنگ، چکوال اور چکوال سے تلہ گنگ، میانوالی بس یہاں یہی کچھ رہ گیا ہے۔

    اس علاقے کی بدقسمتی دیکھیں کہ یہاں کوئی مضبوط اور توانا آواز بھی نہیں ہے، جو بول سکے، جو اپنے لوگوں کی مشکلات کا ذکر کر سکے۔ اور اس سے آگے والوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یہاں کے کسی مقامی رہنما نے شاید اپنی نسل کا تو ضرور سوچا ہوگا، لیکن ان غریبوں کی نسل کا کون سوچے گا؟ ان علاقوں کی خاطر خواہ ترقی کے لیے آج تک کچھ کیا گیا؟ کچھ بھی نہیں۔

    یہ ٹال ٹیکس کا تحفہ بھی ہمارے نصیب کے کھاتے میں ڈلوا کر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ مقامی دیہی آبادی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ ساغر صدیقی کا ایک شعر یاد آ گیا:
    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

    یہاں سلطان کی کچھ بھول نہیں ہے، بلکہ سلطان سب بھول گیا ہے۔ وسائل سے محروم ان علاقوں کی صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا بحران ایک طرف اور ٹال ٹیکس کے اضافی بوجھ کے یہ "خوبصورت ترقی کے ضامن” (میرے نزدیک) پیلے ڈبوں کا تکلیف دہ تحفہ یہاں کے باسیوں کے لیے ایک نئی مشکل کا سبب بنے گا۔

    بنیادی طور پر یہاں ایک مشکل زندگی پائی جاتی ہے۔ لوگ حلال روزی کے لیے دن بھر محنت مزدوری اور مشقت کرتے ہیں۔ اس سے اپنے بچوں کا پیٹ پالا جاتا ہے۔ ایسی غریب بستی والوں کے دکھوں میں اضافہ ایک رہزن کی سوچ تو ہو سکتی ہے، کسی مسیحا کی نہیں۔

    اس عہد کے سلطان سے گزارش ہے کہ رعایا پر رحم کیا جائے اور مزید پسماندگی میں دھکیلنے کا پروگرام منسوخ کیا جائے۔ یہ ٹال ٹیکس وسائل سے محروم ان پسماندہ ترین علاقوں سے ختم کیے جائیں۔

  • سیالکوٹ: تھانہ کوتوالی کی بڑی کارروائی، 3 کلو سے زائد چرس برآمد، منشیات فروش گرفتار

    سیالکوٹ: تھانہ کوتوالی کی بڑی کارروائی، 3 کلو سے زائد چرس برآمد، منشیات فروش گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض)ڈی پی او سیالکوٹ کی خصوصی ہدایت پر تھانہ کوتوالی کے دبنگ ایس ایچ او کاشف بٹ نے منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملزم شاہد بٹ ولد محمد سلیم کو گرفتار کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملزم کے قبضے سے 3 کلو 200 گرام چرس اور 2300 روپے نقدی برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔ شاہد بٹ عرصہ دراز سے اس مکروہ دھندے میں ملوث تھا، جس پر اہل علاقہ نے ایس ایچ او کاشف بٹ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

    باغی ٹی وی کے بیوروچیف شاہد ریاض سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایس ایچ او کاشف بٹ نے کہاکہ”منشیات فروش معاشرے کے ناسور ہیں، جنہوں نے کئی خاندانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ہم کسی کو منشیات فروخت کرنے یا استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ علاقہ کوتوالی کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے۔”

    ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس مکروہ دھندے کی جڑوں تک پہنچا جا سکے۔

  • سرگودھا:  ڈپٹی کمشنر کا پریس کلب تنازع پر لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم

    سرگودھا: ڈپٹی کمشنر کا پریس کلب تنازع پر لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم

    سرگودھا،باغی ٹی وی (ملک شاہنواز جالپ ) ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد وسیم نے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے سرگودھا پریس کلب کے تنازع پر اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے پریس کلب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کریں اور ورکنگ صحافیوں کی جانب سے دی گئی رکنیت کی درخواستوں پر 15 دن کے اندر فیصلہ کریں۔ ساتھ ہی ڈائریکٹر انفارمیشن سرگودھا کو اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    فیصلے کی کاپیاں اسسٹنٹ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ، ڈائریکٹر انفارمیشن سرگودھا، اور صدر پریس کلب کو بھی بھجوا دی گئی ہیں۔

    یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے معزز ججز، جسٹس عابد حسین چھٹہ اور جسٹس علی باقر نجفی، کی جانب سے 11 ورکنگ صحافیوں کی رٹ پٹیشن کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا تھا کہ وہ درخواستوں پر فوری عملدرآمد کریں۔

    ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں دونوں فریقین (پریس کلب انتظامیہ اور 11 ورکنگ صحافیوں) کو تفصیلاً سنا گیا، جس کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا گیا۔

    اس سے قبل ڈائریکٹر انفارمیشن سرگودھا نے عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اپنی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی، جسے عدالت نے سراہا۔

    یہ فیصلہ ورکنگ صحافیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے صحافتی برادری کے حقوق کے تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔

  • سیالکوٹ: پنجاب میں 65 فیصد نمبرز پر لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپ 50 ہزار تک بڑھانے کا اعلان

    سیالکوٹ: پنجاب میں 65 فیصد نمبرز پر لیپ ٹاپ اور ہونہار اسکالرشپ 50 ہزار تک بڑھانے کا اعلان

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض)پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے 65 فیصد سے زائد نمبر لینے والے سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ 50ہزار تک بڑھانے کا اعلان اب سیکنڈ اور تھرڈ ایئر سٹوڈنٹس کو بھی ہونہار سکالر شپ ملے گا۔

    سیالکوٹ:وزیر اعلیٰ مریم نواز نے گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں ہونہار سکالر شپ کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ 30ہزار سکالر شپ کم ہیں زیادہ ہوناچاہیے، حکومت میرا ذاتی کاروبار نہیں عوام کو جواب دہ ہوں ، برے وقت میں ساتھ دینے ارکان اسمبلی کو بھی ناراض کرکے میرٹ کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں طلبہ کو ایک لاکھ ای بائیکس بلکل مفت دیں گے۔ نوجوانوں کے لئے ترقی کے راستے بنانا ماں کا فرض ہے، سکالر شپ کی پہلی کھیپ آ گئی ہے، سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر سب کو سکالر شپ دے رہے ہیں۔
    مریم نوازشریف نے کہا کہ ماں باپ کی دعائیں کے طفیل آج وزیر اعلیٰ بنی ہوں، نعرے لگاتے تھے لیکن آج تک ایک پائی کی بھی چوری ثابت نہیں کرسکے، یہ آخری چانس ہے آگے جائیں گے یا پھر ہمیشہ پیچھے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیاست کو بھی میرٹ کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے، جو دوسروں کو چور چور کہتے رہے خود پر 190 ملین پونڈ کا کیس ہے، بچے آنکھیں کھلی رکھیں کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں یاد رکھیں ہماری ریڈ لائن پاکستان ہے۔

    انہوں نے کہاکہ مجھے اپنے بچوں پر بے حد فخر ہے، سب کو مبارک ہو، آج بہت خوشی ہو رہی ہے، ہونہارسکالر شپ پاکستان کی تاریخ کا پہلا سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام ہے، ہونہار بیٹے اور بیٹیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوں، گارڈ آف آنر طلبہ کی قابلیت اور محنت کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہاکہ رانا سکندر حیات، صوبائی،سیکرٹری ہائی ایجوکیشن ڈاکٹر فخر نوید اور انکی پوری ٹیم کو دل کی گہرائی سے شاباش دیتی ہوں۔

    مریم نواز نے کہا کہ یہ تمام بیٹیاں ہمارا فخر ہیں،یہاں تمام ٹاپر لڑکیاں ہیں، لڑکیاں کسی میدان میں پیچھے نہیں، مفکر پاکستان علامہ اقبال کے شہر میں طلبہ نے بہت عمدگی سے کلام اقبال پیش کیا، اقبال نے اپنے کلام میں خصوصیت سے نوجوانوں کاذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکالر شپ کے لئے آنے پر جو پیار ملا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، 30 ہزار بچوں کو سکالرشپ دی جا رہی ہیں، ایک سکالرشپ بھی سفارش پر نہیں دی گئی، 100 فیصد میرٹ کو یقینی بنایا گیا، حلفاً کہہ سکتی ہوں کہ بطور وزیر اعلیٰ ایک بھی تقرری سفارش پر نہیں کی۔
    انہوں نے کہا کہ ہونہار سکالرشپ بہت جلد سیکنڈ اور تھرڈ ائیر کے بچوں کو بھی ملے گا، مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب آپ مجھے ماں کہہ کر پکارتے ہو، وسائل کی کمی کے باوجود محنت جاری رکھنے والے طلبہ کوسلام پیش کرتی ہوں۔ مریم نواز نے کہا کہ بچوں کو پڑھانے والے والدین کی معاشی مشکلات کا اندازہ ہے، سکالر شپ ملنے پر شکریہ ادا نہ کرے، یہ آپ کا حق اور محنت کا ثمر ہے ، پنجاب بھر میں بلاتفریق سب بچوں کو سکالر شپ مل رہے ہیں۔
    مریم نواز نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ کو30 ہزار سے 50 ہزارتک بڑھائیں، عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے عوام پر ہی لگنا چاہیے، اللہ تعالی اور عوام کے سامنے سرخرو ہوں کوئی سکالر شپ سفارش پر نہیں دیا گیا۔ پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوان ہیں،میری سب سے بڑی بھی ترجیح میرے نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہیں، مہنگائی نیچے آرہی ہے، سٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، میری خواہش ہے اب اس سب کا ثمر آپ تک پہنچے، آپ کے لیے راستے نکالنا آپ کی ماں مریم نواز شریف کی ذمہ داری ہے۔
    کے باوجو د کسی کو حملے کرنے جلاؤ گھیراؤ کے لئے نہیں کہا، ہم نے تو کسی کو ملک میں آگ لگانے کے لیے نہیں کہا، مجھے ڈیتھ سیل میں 5 مہینے رکھا گیا ۔
    انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کی بھی یہ وطن تو ہمارا ہے، نوجوانوں کو جلاؤ، گھیراؤ اور حملوں پر اکسایا گیا، پانامہ کے جعلی کیس میں ہماری حکومت ختم کی گئی، میں کہتی ہوں مکافات عمل ہے جو آپ بھگت رہے ہیں، ایک روپے کی چوری ہم پر ثابت نہیں کی جا سکی، آنکھ بند کرکے ہر بات پر یقین نہ کریں، ہر امر کے بارے میں تحقیق کریں، اپنے بچے باہر ہیں اور دوسروں کے بچوں کو استعمال کرتے ہو ، کون آپ کے لئے کام کررہا ہے،یہ سوچنا آپ کا کام ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ اگر عوام کی بھلائی کیلئے سیاست کی جائے تو یہ عبادت کے مترادف ہے، آپ اپنے فیصلے اپنے ملک کو سامنے رکھ کر کرو ۔

    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت 2017 میں ختم کی گئی اور ترقی کرتا ملک پیچھے چلا گیا، 22,22 گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ نواز شریف نے ختم کی، دہشت گردی کو شکست دی گئی، لیکن وہ دہشت گردی دوبارہ واپس آگئی، سمجھ نہیں آتی بچوں کا مستقبل خراب کرنے والوں کو نیند کیسے آتی ہوگی ، نوجوانوں کو کہتی ہوں کہ جب ملک کو مسئلہ درپیش ہو تو ملک اور والدین کی عزت و تکریم کو سامنے رکھیں، آپ کو کسی کے بہکاوے میں نہیں آنا، اپنے ملک کا سوچنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب سے کوڑے کے ڈھیر ختم کروائیں ہیں ، ایسا لگتا ہے پچھلی حکومت نے کوئی کام ہی نہیں کیا، مجھے ہر کام شروع سے کرنا پڑ رہا ہے، آپ لوگوں نے ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے، آپ کی ریڈ لائن صرف پاکستان ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ سارے پیسے بچوں پر لگا دیں، اب وقت آگیا ہے ہر بچہ،بچی سر اٹھا کر چلے گا،خوب پڑھے گا، ترقی کرے گا۔

  • پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن اور انٹر ٹیک پاکستان کے مابین معاہدہ، انٹر ٹیک ڈیسک کا افتتاح

    پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن اور انٹر ٹیک پاکستان کے مابین معاہدہ، انٹر ٹیک ڈیسک کا افتتاح

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض): پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن (SIMAP) اور انٹر ٹیک پاکستان (INTERTEK) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں انٹر ٹیک پاکستان ڈیسک کا افتتاح بھی کیا گیا۔

    تقریب کا انعقاد پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن کے علامہ اقبال ہال میں ہوا، جہاں چیئرمین پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن ذیشان طارق شیخ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ انٹر ٹیک پاکستان کے عمر خیام اور ان کی ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا۔

    تقریب میں سینیئر وائس چیئرمین سلیمان علی مغل، وائس چیئرمین عبدالمومن، چیئرمین MDR کمیٹی جمیل خان، سلیمان راشد اقبال، عثمان علوی، عمر شہباز اور ندیم انور نے خطاب کیا۔ معاہدے کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ معاہدہ سرجیکل انڈسٹری کے لیے انقلابی اقدام ہے، جس کے تحت آلاتِ جراحی کی ٹیسٹنگ اور ویریفکیشن میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس سے پاکستان میں بننے والے سرجیکل آلات کی عالمی منڈی میں مانگ اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

    افتتاحی تقریب کے بعد پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذیشان طارق شیخ، انٹر ٹیک کے عمر خیام اور دیگر عہدیداران نے سیالکوٹ میں ٹیسٹنگ سہولیات کے لیے انٹر ٹیک پاکستان ڈیسک کا باضابطہ افتتاح کیا۔

    تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔ شرکاء نے اس اقدام کو پاکستان کی سرجیکل انڈسٹری کی ترقی اور جدت کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

  • لاہور:وزیراعلیٰ مریم نواز نےگوجرانوالہ ڈویژن میں 8.98 کروڑ کے اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے

    لاہور:وزیراعلیٰ مریم نواز نےگوجرانوالہ ڈویژن میں 8.98 کروڑ کے اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ):علم و یقین کا قافلہ شہرِ اقبال میں: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہونہار طلبہ میں اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ ڈویژن کے ہونہار طلبہ کے لیے "ہونہار اسکالرشپ پروگرام” کا آغاز کرتے ہوئے اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور میڈیکل کالجوں کے نمایاں طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔

    اس پروگرام کے تحت 8 کروڑ 98 لاکھ روپے کے اسکالرشپ گوجرانوالہ ڈویژن کے طلبہ میں تقسیم کیے گئے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے 1276 طلبہ کو 5 کروڑ 85 لاکھ، کالجوں کے 481 طلبہ کو 1 کروڑ 32 لاکھ، معیاری نجی اداروں کے 112 طلبہ کو اسکالرشپ، اور میڈیکل کالج کے 78 طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کیے گئے۔

    تقریب کے دوران، وزیر اعلیٰ نے طالبات علینہ سعید اور نایاب فاطمہ کی تعلیمی جدوجہد کی کہانیاں سن کر جذباتی ردعمل دیا۔ نایاب فاطمہ نے اپنی کینسر کی مریضہ والدہ کا ذکر کیا، جس پر وزیر اعلیٰ نے انہیں گلے لگایا اور والدہ کے مکمل علاج کی ذمہ داری کا اعلان کیا۔ علینہ نے وزیر اعلیٰ کو طلبہ کا حقیقی محسن قرار دیا۔

    وزیر اعلیٰ کی آمد پر طلبہ نے جوش و جذبے سے ان کا استقبال کیا۔ طلبہ نے کلام اقبال پیش کیا اور قومی ترانہ و نعت پڑھنے پر وزیر اعلیٰ سے داد وصول کی۔ وزیر اعلیٰ نے طلبہ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائیں۔ فائن آرٹس کے طلبہ نے وزیر اعلیٰ کا پورٹریٹ پیش کیا، جس پر "صنفِ آہن” کا کیپشن دیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر طلبہ کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے جنرل سلامی دی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور یہ اسکالرشپ طلبہ کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا سنگ میل ثابت ہوں گے۔

    تقریب میں شریک طلبہ اور والدین نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی اس تعلیمی اقدام کو بھرپور سراہا اور اسے طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔

  • اوکاڑہ: شہر بھر میں صفائی اور بیوٹیفیکیشن کا عمل جاری

    اوکاڑہ: شہر بھر میں صفائی اور بیوٹیفیکیشن کا عمل جاری

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) شہر بھر میں صفائی ستھرائی اور بیوٹیفیکیشن کے عمل کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر میونسپل کمیٹی اور ضلع کونسل کے اہلکار شہر کے مختلف مقامات پر صفائی اور بیوٹیفیکیشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو صاف ستھرا اور خوبصورت ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے لیے زندگی آسان بنائی جا سکے۔

    ضلعی انتظامیہ کے افسران صفائی اور بیوٹیفیکیشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور شہر کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ، روڈز کے فٹ پاتھ اور مختلف پوائنٹس پر زیبرا کراسنگ بھی بنائی جا رہی ہے تاکہ پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرنے میں آسانی ہو۔ عوام نے شہر کی صفائی اور خوبصورتی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی کوششوں کو سراہا ہے اور انہیں شہر کے بہتر مستقبل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

  • سرگودھا: وزیر اعلیٰ پنجاب کے دھی رانی پروگرام کے تحت اجتماعی شادیوں کا شیڈول جاری

    سرگودھا: وزیر اعلیٰ پنجاب کے دھی رانی پروگرام کے تحت اجتماعی شادیوں کا شیڈول جاری

    سرگودھا (باغی ٹی وی، ملک شاہ نواز جالپ)سرگودھا ڈویژن کے چاروں اضلاع میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دھی رانی پروگرام کے تحت مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے پروگرام کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر سرگودھا ڈویژن جہانزیب اعوان کی زیر صدارت ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شاکرہ نورین نے تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سرگودھا، خوشاب، بھکر اور میانوالی میں اجتماعی شادیوں کے پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ سرگودھا میں 31 جنوری، خوشاب میں اگلے ہفتے، بھکر میں 13 فروری اور میانوالی میں 27 فروری کو اجتماعی شادیوں کی تقاریب منعقد ہوں گی۔ اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 273 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا انتظام کیا جائے گا۔ ان میں سے سرگودھا میں 93، خوشاب میں 59، بھکر میں 93 اور میانوالی میں 32 جوڑے شامل ہیں۔

    ہر جوڑے کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک لاکھ روپے کا جہیز اور دلہن کو اے ٹی ایم کے ذریعے سلامی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ہر جوڑا تقریب میں 20 مہمانوں کے ساتھ شرکت کرے گا۔ کمشنر جہانزیب اعوان نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ سوشل ویلفیئر افسران کے ساتھ مل کر اجتماعی شادیوں کے انتظامات بروقت مکمل کریں تاکہ اس پروگرام کو کامیاب بنایا جا سکے۔ یہ پروگرام مستحق جوڑوں کے لیے خوشیوں کا ذریعہ ثابت ہوگا اور ان کی زندگی میں خوشحال تبدیلیاں لے کر آئے گا۔

  • راولپنڈی: 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن، 4 دکانیں سیل

    راولپنڈی: 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن، 4 دکانیں سیل

    راولپنڈی (باغی ٹی وی، شوکت علی ملک)75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن، 4 دکانیں سیل

    پنجاب حکومت کی جانب سے سنگل یوز پلاسٹک بیگز پر پابندی کے حوالے سے ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس مہم کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملک حاکم خان کر رہے ہیں، جنہوں نے شہر کی مختلف مارکیٹس میں بھرپور کارروائیاں کیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ملک حاکم خان نے نسواری بازار اور دلگراں بازار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مارکیٹ کی 11 دکانوں کی چیکنگ کی۔ کارروائی کے دوران 75 مائیکرون سے کم 1424 کلو گرام پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر مجموعی طور پر 55 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ 4 دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ملک حاکم خان نے کہا کہ”پلاسٹک بیگز کا بے دریغ استعمال ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب بن رہا ہے۔ 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کی پروڈکشن اور استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، اور خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس پابندی کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے، اور آئندہ بھی ایسے چھاپے جاری رہیں گے تاکہ ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔

    پلاسٹک بیگز، خاص طور پر 75 مائیکرون سے کم موٹائی کے، ماحولیاتی آلودگی کا بڑا ذریعہ ہیں، جو زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان پر پابندی ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    انتظامیہ نے شہریوں اور تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور ماحول دوست بیگز کے استعمال کو فروغ دیں۔

    مزید کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔