Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • تنگوانی: مغویوں کی بازیابی میں پولیس کی ناکامی پر ایس ٹی پی کا احتجاجی مظاہرہ

    تنگوانی: مغویوں کی بازیابی میں پولیس کی ناکامی پر ایس ٹی پی کا احتجاجی مظاہرہ

    تنگوانی ،باغی ٹی وی( نامہ نگار منصور بلوچ) مغویوں کی بازیابی میں ناکامی پر ایس ٹی پی کا احتجاجی مظاہرہ

    تنگوانی شہر میں سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے کارکنان نے مغویوں کی بازیابی میں پولیس کی ناکامی پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جمال پولیس کی حدود، گاؤں زنگی بہلکانی سے ایک ماہ قبل ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے نوجوانوں شکیل احمد اور لیاقت بہلکانی کی بازیابی میں کشمور پولیس کی ناکامی نے عوام میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

    احتجاج میں ایس ٹی پی کے کارکنان کے ساتھ مغویوں کے ورثاء نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مغویوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس مغویوں کی رہائی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس سے عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر مغویوں کو جلد بازیاب نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔

    مغویوں کے ورثہ نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے پیاروں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

  • یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی

    یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی

    یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    کہتے ہیں کہ دنیا ترقی کر رہی ہے۔ ہم خلا میں انسان بھیج رہے ہیں، مصنوعی ذہانت روبوٹ بن رہی ہے، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا کو چھوٹے گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ لیکن بھائی، ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی ایم آر آئی مشین کا غائب ہونا ثابت کرتا ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل دور بھی بعض اوقات دیہاتی کہانیوں جیسا ہو سکتا ہے۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایم آر آئی مشین چوری کیسے ہوئی؟ یہ سوال ہر وہ پاکستانی پوچھ رہا ہے جو کبھی اپنی گلی میں دوپہر کے وقت پڑوس کے بچوں سے کرکٹ کا بلا چوری ہوتے دیکھ چکا ہو۔ لیکن ایم آر آئی مشین چوری ہونا اتنا سیدھا معاملہ نہیں جتنا لگتا ہے۔ یہ تقریباً چار ٹن وزنی مشین ہے۔ اسے ایسے اٹھا کر لے جانا جیسے کسی نے ہسپتال کے لان سے گلدان چرا لیا ہو، یقیناً کسی ناقابل یقین کہانی کا حصہ ہے۔

    یہ واقعہ کسی مشہور کرائم فلم کے منظر کی طرح لگتا ہے۔ ایک گروپ آیا، اپنی کرائم پلاننگ کی اور مشین کو گاڑی پر لاد کر چلتا بنا۔ شاید کسی نے ان سے پوچھا ہو، "بھائی یہ کیا لے جا رہے ہو؟” اور جواب ملا ہو، "اوہ، یہ تو بچوں کا کھلونا ہے!” اور ہمارے محافظوں نے کہہ دیا ہو، "اچھا جی، لے جائیے!”

    ویسے، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس مشین کی قیمت تقریباً 38 کروڑ روپے ہے۔ اتنی قیمت تو کسی محلے کے پچاس پلاٹوں کی بھی نہیں ہوگی۔

    ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا کا ایک معروف ہسپتال ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے آلات کا اضافہ ہمیشہ سے عوامی صحت کے لیے خوش آئند رہا ہے۔ مگر اس بار وہاں کچھ ایسا ہوا کہ عوام کی صحت کے بجائے ان کی حسِ مزاح کو صحت مند کرنے کا موقع مل گیا۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں اس ایم آر آئی مشین کی جو توشیبا کمپنی سے 13 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی خطیر رقم سے خریدی گئی اور بڑی شان سے ہسپتال پہنچائی گئی۔ اس مشین کی قیمت پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 کروڑ بنتی ہے۔ مگر یہ کروڑوں کی مشین ہسپتال کے وارڈ میں "دو دن بھی ٹِک” نہ سکی اور چوری ہو گئی۔

    اب آتے ہیں ان کیمروں کی طرف جنہیں بڑے فخر سے ہر جگہ لگایا جاتا ہے۔ اگر کوئی بندہ ہسپتال کے برآمدے میں سگریٹ پی رہا ہو تو کیمرہ فوراً الرٹ ہو جاتا ہے۔ لیکن جب چار ٹن وزنی ایم آر آئی مشین ہسپتال سے غائب ہو رہی تھی، تب کیمروں نے شاید کہا ہو، "بھائی، یہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں ہے!”

    تصور کریں کیمرہ چپکے سے دوسرا کیمرہ دیکھ کر کہہ رہا ہوگا، "یار، یہ کیا ہو رہا ہے؟” دوسرا کیمرہ جواب دیتا، "خاموش رہو، ہم ‘آف لائن’ ہیں!”

    حکومت نے فوراً نوٹس لیا، انکوائری کمیٹی بنا دی، اور ایک رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا۔ رپورٹ کیا ہوگی؟ شاید یہی کہ "چور بہت چالاک تھ اور ہم بے خبر!”

    چوری کے اس واقعے نے کچھ سازشی نظریات کو بھی جنم دیا، جیسے
    1.کیا یہ چوری واقعی ہوئی یا یہ ایک اندرونی معاملہ ہے؟
    2.کیا مشین خریداری میں پہلے سے ہی کوئی گھپلا تھا؟
    3.کیا چوروں کو کسی اندرونی شخص کی مدد حاصل تھی؟
    4.ہو سکتا ہے نئی خریدی گئی مشین ہسپتال آئی ہی نہ ہو، اور صرف کاغذوں میں ظاہر کی گئی ہو۔

    جب یہ خبر عام ہوئی کہ ایم آر آئی مشین چوری ہو گئی ہے تو پہلے پہل سب نے یہی سوچا کہ یہ کوئی مذاق ہے۔ آخر 38 کروڑ روپے کی مشین اتنی آسانی سے چوری ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہاتھی کو چھتری میں چھپا لے۔

    مگر جیسے ہی تحقیقات کا آغاز ہوا تو صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی واردات نہیں بلکہ ایک "ماسٹر پلان” کے تحت انجام دیا گیا کارنامہ ہے۔ کسی نے کہا کہ چور ہسپتال کے عملے کے بھیس میں آئے تھے تو کسی نے دعویٰ کیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں آئے اور مشین کو خاموشی سے نکال لے گئے۔

    ایبٹ آباد کے عوام کی ہنسی اور حیرت کا ملا جلا ردعمل دیکھنے لائق تھا۔ ایک صاحب بولے "یار مجھے تو لگتا ہے کہ یہ چور مشین کو استعمال کرکے اپنی چوری کا اسکین کروا رہے ہوں گے!” دوسرے صاحب بولے، "ہوسکتا ہے، انہوں نے سوچا ہو کہ مشین کو بیچ کر نئے سال کا جشن منائیں گے۔”

    یہ واقعہ پاکستان میں انتظامی ناکامی اور بدعنوانی کی ایک عجیب مثال ہے۔ جہاں عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات بھی میسر نہیں، وہاں اتنی قیمتی مشین کی چوری ایک ایسا لطیفہ بن گیا ہے جسے سن کر ہنسی اور غصہ دونوں آتے ہیں۔

    یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدید دور کی ٹیکنالوجی، چاہے جتنی بھی ترقی کر جائے، اگر انسان ذمہ داری نہ دکھائے تو کچھ کام نہیں آتی۔ کیمرے اپنی جگہ لیکن اگر انسان خود سوتا رہے تو چور جاگتے رہتے ہیں۔

  • کوٹ چھٹہ: تالپور اور لنڈ برادری کے تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا شدید زخمی

    کوٹ چھٹہ: تالپور اور لنڈ برادری کے تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا شدید زخمی

    کوٹ چھٹہ ،باغی ٹی وی(تحصیل رپورٹر) تالپور اور لنڈ برادری کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں تالپور برادری کے دو افراد، باپ اور بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر ریسکیو 1122 کی مدد سے ٹیچنگ ہسپتال ٹراما سینٹر ڈیرہ غازی خان منتقل کیا گیا۔

    تنازع کی جڑ گزشتہ سال ایک جوان کی لاش ملنے کا معاملہ تھا، جس پر لنڈ برادری نے تالپور برادری کے پانچ افراد پر ایف آئی آر درج کرائی۔ تاہم پولیس تحقیقات میں تمام ملزمان بے گناہ قرار پائے۔ علاقے کے معززین نے صفائی کے لیے روایتی طریقے "آگ پر چلنے” کا فیصلہ کیا، جس میں تیرہ افراد نے اپنی بے گناہی ثابت کی۔

    اس کے باوجود لنڈ برادری نے معاملہ ختم نہ کیا اور آج قران خوانی سے واپسی پر سانول عرف بھٹو اور اس کے بیٹے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب میر محمد مرزا خان تالپور فوری طور پر ہسپتال پہنچے، زخمیوں کی عیادت کی اور برادری کو صبر اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی تلقین کی۔

    تالپور برادری کے افراد بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچے، زخمیوں کی عیادت کی اور خون کا عطیہ دے کر ان کی جان بچانے میں کردار ادا کیا۔

  • اوچ شریف: مولانا محمد سلیمان کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہرہ

    اوچ شریف: مولانا محمد سلیمان کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہرہ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) جمیعت علماء اسلام کے رہنماؤں اور کارکنوں نے چوک منیر شہید احمدپور شرقیہ میں احتجاج کیا، جس کی قیادت قاری سیف الرحمن راشدی اور مولانا پیر حماد اللہ نے کی۔ مظاہرین نے رہنما شیخ الحدیث جامعہ دارالفتیحہ مولانا محمد سلیمان کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    احتجاجی مظاہرہ میں تحصیل بھر سے سینکڑوں علماء کرام اور کارکن شریک ہوئے، جنہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ علماء اسلام کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ قاری سیف الرحمن راشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا محمد سلیمان کو رہا نہ کیا گیا تو قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن کی مشاورت سے احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    مولانا محمد احمد جالندھری نے کہا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور ہمیں امن سے رہنے دیا جائے۔ مظاہرین نے صدر پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی پی او بہاولپور سے مولانا محمد سلیمان کی فوری رہائی کی اپیل کی۔

    احتجاج میں پروفیسر عامر حفیظ، مہر غلام ربانی کاٹھیہ، قاری عبدالمنان قریشی، مولانا غلام مرتضیٰ عثمانی، قاضی عمر فاروق، مولانا سمیع الرحمن، مامون اکمل کمالوی اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

  • گھوٹکی: اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    گھوٹکی: اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی( نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی،اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    تفصیل کے مطابق گھوٹکی کے اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل کے حل کے لیے شہریوں اور دکانداروں کی جانب سے قابل عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    ون وے روڈ کے نفاذ کے ذریعے ٹریفک کے بہتر بہاؤ کے لیے اسٹیشن روڈ اور مہر بازار کو ون وے روڈ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ واضح نشانات اور ہدایات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام آسانی سے اس نظام کی پابندی کر سکیں۔

    رکشہ، کار، یا موٹر سائیکل چلانے والے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں، ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جرمانے سے حاصل ہونے والی رقم کو عوامی آگاہی مہمات پر خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دکانداروں کو اپنی دکانوں کے سامنے پارکنگ یا غیر قانونی قبضے سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فٹ پاتھ کو عوام کے لیے خالی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ راہگیروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    اہم چوراہوں اور بازاروں میں ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    شہریوں کو ون وے نظام اور دیگر ٹریفک قوانین کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مہمات چلانے کی ضرورت ہے، تاکہ عوامی تعاون سے ٹریفک کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ گھوٹکی میں ٹریفک مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور شہریوں کو ایک محفوظ اور آرام دہ سفر فراہم کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ:ڈپٹی کمشنر  کا تحصیل پسرور کا دورہ، تعلیمی اور صحت سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ:ڈپٹی کمشنر کا تحصیل پسرور کا دورہ، تعلیمی اور صحت سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرمدثررتو)ڈپٹی کمشنر کا تحصیل پسرور کا دورہ، تعلیمی اور صحت سہولیات کا جائزہ

    تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے تحصیل پسرور کا دورہ کرتے ہوئے تعلیمی اور صحت کی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کیڈٹ کالج پسرور اور گورنمنٹ ہائی اسکول بن باجوہ کا دورہ کیا اور تعلیمی سہولیات کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بنیادی مرکز صحت بن باجوہ کی ری ویمپنگ کے جاری منصوبے کا معائنہ کیا اور او پی ڈی، فارمیسی، اور لیبارٹری کی 24/7 سہولیات کو چیک کیا۔ اس دوران انہوں نے گورنمنٹ سلولرنرز اسکول وزیر آباد روڈ سیالکوٹ کا بھی جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول روم اور سیالکوٹ شہر کی گرین بیلٹس کا معائنہ کرتے ہوئے موجودہ سہولیات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کیں۔

  • سیالکوٹ: جلدسپورٹس کمپلیکس کی بحالی اور کھیلوں کافروغ  ہوگا.منشاء بٹ

    سیالکوٹ: جلدسپورٹس کمپلیکس کی بحالی اور کھیلوں کافروغ ہوگا.منشاء بٹ

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض)سپورٹس کمپلیکس اور گراؤنڈز کی بحالی، نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع پیدا کرنے کا عزم

    تفصیل کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ اور چودھری فیصل اکرام نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے پسرور روڈ پر سپورٹس کمپلیکس سمیت دیگر گراؤنڈز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں اور اتھلیٹس کو اپنی صلاحیتوں کے نکھار کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    یہ بات انہوں نے سیالکوٹ پسرور روڈ پر واقع سپورٹس کمپلیکس، ہاکی اسٹیڈیم، اور فٹبال اسٹیڈیم کی بحالی اور تکمیل کا جائزہ لینے کے دوران کہی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر افتخار گوندل، سابق ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالحمید قاسم، نبیل لون، شاہد بٹ، اور عدنان اکبر چودھری بھی موجود تھے۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ کھیلوں کا فروغ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کلب لیول پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرے گا تاکہ مقامی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

    اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت کے لیے کھیلوں کی سہولیات انتہائی ضروری ہیں، اور یہ اقدامات نہ صرف ان کے مستقبل کو بہتر بنائیں گے بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی میں بھی کردار ادا کریں گے۔

  • فتح جنگ حادثہ، فیصل موورز کی غفلت سے قیمتی جانیں ضائع، متاثرین پر دباؤ اور دھمکیاں

    فتح جنگ حادثہ، فیصل موورز کی غفلت سے قیمتی جانیں ضائع، متاثرین پر دباؤ اور دھمکیاں

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان)فتح جنگ حادثہ، فیصل موورز کی غفلت سے قیمتی جانیں ضائع، متاثرین پر دباؤ اور دھمکیاں

    تفصیل کے مطابق گذشتہ ہفتے فیصل موورز کی ایک بس فتح جنگ کے قریب ڈرائیور کی غفلت کے باعث المناک حادثے کا شکار ہوئی، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ متاثرین میں شامل محمد عزیر، جن کی اہلیہ حادثے میں جاں بحق ہوئیں اور معصوم بیٹی زخمی ہوئی، نے اپنی داستان صحافیوں کے سامنے بیان کی۔

    محمد عزیر نے بتایا کہ بہاولپور سے اسلام آباد جانے والی بس ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوئی، جس نے کئی خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد بھی فیصل موورز کمپنی متاثرین پر دباؤ ڈال رہی ہے اور انشورنس کلیم کے حصول کے لیے زبردستی صلح نامے پر دستخط کرنے کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ صلح سے انکار کرنے والے متاثرین کو دھمکایا جا رہا ہے، جس سے ان کے دکھ اور پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    عزیر نے انکشاف کیا کہ فیصل موورز کمپنی اپنی لیبر سے غیر انسانی رویہ اختیار کرتے ہوئے سولہ گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی کرواتی ہے، جس کی وجہ سے ڈرائیور مناسب آرام سے محروم رہتے ہیں اور غفلت کے باعث ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بسوں میں حفاظتی تدابیر کی شدید کمی ہے، خاص طور پر سیٹ بیلٹس کی عدم موجودگی، جو حادثات کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ہے۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فیصل موورز کمپنی پر فوری پابندی عائد کی جائے اور جب تک کمپنی اپنی بسوں میں بنیادی حفاظتی اقدامات یقینی نہیں بناتی، ان کی سروس کو مکمل طور پر معطل کیا جائے۔ عزیر نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر ٹرانسپورٹ سے اپیل کی کہ کمپنی کے خلاف انسانی جانوں کے ضیاع کا مقدمہ درج کر کے سخت کارروائی کی جائے۔

    عزیر نے زور دیا کہ بسوں میں سیٹ بیلٹس کی تنصیب اور ڈرائیورز کے لیے مناسب آرام کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے حادثات کی روک تھام ہو سکے اور عوام کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • سیالکوٹ :سفید پوش طبقہ کیلئے گوشت خریدنا خواب بن گیا

    سیالکوٹ :سفید پوش طبقہ کیلئے گوشت خریدنا خواب بن گیا

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض)سفید پوش طبقہ کیلئے گوشت خریدنا خواب بن گیا

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سفید پوش طبقے کے لیے گوشت خریدنا خواب بنا دیا ہے۔ شہر سمیت چاروں تحصیلوں اور مضافات میں چکن، چھوٹے اور بڑے گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت جاری ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے دعوے محض کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔ شہری شکایت کرتے ہیں کہ چکن، چھوٹے اور بڑے گوشت سمیت دیگر اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں کے بجائے زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس پر وہ سراپا احتجاج ہیں۔

    پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی غیر فعالیت کے باعث مصنوعی مہنگائی نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ چکن فروش سرکاری ریٹ لسٹ میں دی گئی قیمتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے چکن گوشت 593 روپے کے بجائے 700 روپے فی کلو گرام، برائلر مرغی زندہ 409 روپے کے بجائے 500 روپے فی کلو گرام فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح چھوٹا گوشت 1800 روپے کے بجائے 2200 روپے فی کلو اور بڑا گوشت 1000 سے 1200 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    انڈوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں تھوک ریٹ 323 روپے اور پرچون میں 327 روپے فی درجن وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان غیر قانونی قیمتوں پر شہریوں کی شکایات کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی کی لہر نے ان کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان ) چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف کے علاقے ہیڈ پنجند روڈ پر واقع چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن چکی ہے۔ یہ عمارت جو ماضی میں امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی تھی اب غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق چوکی کی عمارت میں گذشتہ چند ہفتوں سے مشتبہ افراد کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث یہ عمارت جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے، جہاں مختلف غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس عمارت کی جلد بحالی نہ کی گئی تو جرائم کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے اور عوام کی حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مقامی افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ چوکی مقبول شہید کو دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن ہو اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    شہریوں نے کہا کہ اس عمارت کی بحالی سے نہ صرف علاقے میں امن و سکون کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کے لیے جرائم کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم عوام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔