Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    تفصیل کے مطابق ممتاز عالم دین، نظریہ پاکستان کے داعی اور مظلوم کشمیریوں و فلسطینیوں کی مضبوط آواز ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے کہا کہ ان کی علمی، دینی اور اصلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کا تعلق ایک علمی اور سیاسی گھرانے سے تھا۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری کے فرزند اور حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی تھے۔ مکہ مکرمہ کی ام القری یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ مکی صاحب عربی اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے تھے اور پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، فتنہ خوارج اور مظلوم کشمیری و فلسطینی مسلمانوں کے حق میں مضبوط آواز تھے۔

    مظلوم کشمیریوں کی حمایت کے باعث انہیں ہمیشہ ہندوستان کے جھوٹے پروپیگنڈا کا سامنا رہا۔ وہ مختلف تحریکوں جیسے تحریک ختم نبوت، دفاع پاکستان کونسل، تحریک حرمت رسول ﷺ اور تحریک آزادی کشمیر کے سرگرم رہنما تھے۔

    ثاقب مجید نے مزید کہا کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی امت مسلمہ کے لیے روشنی کا مینار تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب کے کارکنان ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    ڈیرہ غازی خان: فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر) فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پل غازی گھاٹ پر فیصل موورز کی وین نے راہ چلتے دو افراد کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر جاں بحق جبکہ خاتون زخمی ہوگئی۔ حادثے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو دی گئی، جس پر فوری طور پر قریبی ایمبولینس اور پولیس کو روانہ کیا گیا۔

    ریسکیو ٹیم کے مطابق 80 سالہ محبوب ولد دریا خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کے جسم پر سر کی شدید چوٹیں اور متعدد فریکچر تھے۔ دوسری جانب 60 سالہ مریم بی بی زوجہ فیاض شدید زخمی ہوگئی، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب وین ڈیرہ غازی خان سے ملتان جا رہی تھی۔ جاں بحق محبوب کی میت کو پولیس کی نگرانی میں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ایمبولینس سات منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔ حادثے کی مزید تحقیقات پولیس کر رہی ہے تاکہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: تین تھانوں میں نئے ایس ایچ اوز تعینات

    سیالکوٹ: تین تھانوں میں نئے ایس ایچ اوز تعینات

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض) تین تھانوں میں نئے ایس ایچ اوز تعینات

    تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ رانا عمر فاروق نے تین تھانوں میں نئے ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دیے۔

    سب انسپکٹر صاحبزادہ ادریس قریشی کو تھانہ بمبانوالہ، سب انسپکٹر عادل مصطفی باجوہ کو تھانہ ستراہ، اور انسپکٹر فیاض چیمہ کو تھانہ پھلورہ کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔

    یہ تعیناتیاں پولیس نظام میں بہتری اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کی گئی ہیں۔

  • سیالکوٹ: ٹینری زون منتقل نہ ہونے والی فیکٹریوں کے خلاف گرینڈ کریک ڈاؤن کا اعلان

    سیالکوٹ: ٹینری زون منتقل نہ ہونے والی فیکٹریوں کے خلاف گرینڈ کریک ڈاؤن کا اعلان

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا نے واضح کیا ہے کہ سیالکوٹ ٹینری زون میں منتقل نہ ہونے والی تمام ٹینریوں کو یکم جنوری سے سیل کردیا جائے گا۔ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی فیکٹریوں کے خلاف گرینڈ کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔

    یہ اعلان انہوں نے ٹینری زون پراجیکٹ کی عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں کیا، جس میں محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شریک تھے۔ محمد اقبال سنگھیڑا نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور انتظامیہ اس معاملے میں متفق ہیں، اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    انہوں نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ وہ فعال اور غیر فعال ٹینریوں کا مکمل ڈیٹا تیار کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سیالکوٹ ٹینری زون میں 107 ٹینریوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ 433 پلاٹ مالکان نے کام شروع کر دیا ہے۔

    مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضلعی افسران کے اجلاس کی بھی صدارت کی۔ پرائس مجسٹریٹس کو ہدایت دی گئی کہ مہنگے داموں اشیاء فروخت کرنے والوں پر جرمانے اور مقدمات درج کیے جائیں۔

  • خیبر: جیلوں کے مسائل پر اجلاس، سہولیات کی فراہمی کے احکامات

    خیبر: جیلوں کے مسائل پر اجلاس، سہولیات کی فراہمی کے احکامات

    خیبر(باغی ٹی وی رپورٹ) ضلعی اوورسائٹ کمیٹی برائے جیل خانہ جات کا اجلاس، بنیادی مسائل کے حل کے لیے اہم فیصلے

    خیبر: ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال شاہد راو کی زیر صدارت ضلعی اوورسائٹ کمیٹی برائے جیل خانہ جات کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر احسان اللہ، اسسٹنٹ کمشنر باڑہ نوید احمد، اسسٹنٹ کمشنر لنڈیکوتل عدنان ممتاز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سب جیلوں کے مسائل، پانی اور بجلی کی فراہمی، علاج معالجہ، سیکورٹی اور صفائی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے سب جیل لنڈیکوتل، جمرود اور باڑہ میں سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیا اور متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔

    کمیٹی ممبران کو آئندہ ہفتے جیلوں کے دورے کرنے، تعمیراتی کام مکمل کرنے اور محکمہ صحت کو میڈیکل ٹیمیں بھجوانے کے احکامات جاری کیے گئے۔ صفائی کے حوالے سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو بھی ضروری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔

  • ننکانہ صاحب: پولیو مہم میں شاندار کامیابی، ضلع گرین لسٹ میں شامل

    ننکانہ صاحب: پولیو مہم میں شاندار کامیابی، ضلع گرین لسٹ میں شامل

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی(نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے پولیو گرین لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ 16 سے 20 دسمبر کی پولیو مہم کے دوران ضلع کی 6 یونین کونسلز میں 100 فیصد نتائج حاصل کیے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی کی قیادت میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی محکمہ صحت، تعلیم، اور پولیس نے بھرپور تعاون کیا۔ تھرڈ پارٹی چیکنگ کے مطابق یونین کونسلز ننکانہ صاحب سٹی اے ون، چک نمبر 12، مچھرالہ، شاہ بلاول، بلیر 119، اور نتھووالہ میں تمام کوائف مکمل اور درست پائے گئے۔

    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی نے اس کامیابی کا سہرا پولیو ٹیمز، ایریا انچارجز، یو سی ایم اوز، اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پولیو مہم جنوری 2025 میں بھی بہترین نتائج کے لیے پوری ٹیم مزید محنت کرے گی۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس اور سی ای او ایجوکیشن ڈاکٹر عبد القیوم خان کے کردار کو بھی سراہا گیا۔ ڈاکٹر طلحہ نے پولیو ورکرز کے عزم اور محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ضلعی ٹیم کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

  • گھوٹکی: اشتہاری ملزم گرفتار، پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

    گھوٹکی: اشتہاری ملزم گرفتار، پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی( نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر گھوٹکی پولیس کی جرائم پیشہ اور اشتہاری افراد کے خلاف کارروائیاں تیز۔

    تھانہ بی سیکشن گھوٹکی پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کشمور روڈ سے ملزم راشد علی ولد قربان علی بلو کو گرفتار کر لیا۔ ملزم دو سنگین مقدمات میں مطلوب تھا:

    کرائم نمبر 93/2024 (دفعہ 388، 402، 324، 353 ت.پ، تھانہ بی سیکشن گھوٹکی)کرائم نمبر 438/2024 (دفعہ 302 ت.پ، تھانہ اے سیکشن گھوٹکی)
    یاد رہے کہ ملزم نے 15 اکتوبر 2024 کو اپنے 10 ساتھیوں کے ساتھ نزد ڈسٹرکٹ جیل گھوٹکی پرانی دشمنی کے باعث موچارو ولد شہبان علی بلو کو قتل کیا اور فرار ہو گیا تھا۔

    گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ترجمان گھوٹکی پولیس نے کہا کہ مجرموں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

  • گھوٹکی: تھانہ خانپور مہر پولیس کی کارروائی، چوری شدہ سامان مالک کے حوالے

    گھوٹکی: تھانہ خانپور مہر پولیس کی کارروائی، چوری شدہ سامان مالک کے حوالے

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر تھانہ خانپور مھر پولیس نے شاندار کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ 15 ہزار روپے نقدی، سگریٹ، چائے اور ٹافیوں کے پیکٹ برآمد کر کے قانونی کارروائی کے بعد اصل مالک ونود کمار کے حوالے کر دیے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل نامعلوم چور ونود کمار کی دکان سے مذکورہ سامان چوری کر کے فرار ہو گئے تھے، جس کی اطلاع مالک نے تھانہ خانپور مھر میں درج کرائی تھی۔

    پولیس کی بروقت کارروائی سے نہ صرف چوری شدہ سامان برآمد ہوا بلکہ مالک نے ایس ایس پی گھوٹکی اور پولیس ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے پولیس پارٹی کے لیے تعریفی پیغام جاری کرتے ہوئے ان کی محنت کو سراہا۔

  • پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ:26 دسمبر، پروین شاکر کی 30ویں برسی
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی ،اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

    پروین شاکر جس کے شعر رنگ و خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا۔ اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اور پھر لسانیات (Linguistics) میں حاصل کی، جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی، پھر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے ایم اے کی ایک ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی۔

    نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اس کے بعد شعبہ کسٹم، گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986 میں وہ سیکنڈ سیکریٹری، سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقرر کی گئیں۔ راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر سے منسلک ہے۔ اکثر اوقات ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اُن کے مشاعروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ شاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

    پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب "خوشبو” پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔ موسم آتے جاتے رہے، ماہ و سال گزرتے رہے، مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے، مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے، آئینہ در آئینہ خود کو ڈھونڈتی، شہرِ ذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی، شاعرہ کی منزل تک پہنچیں۔

    بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی، کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جا سکتا ہے، مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محو ہو، وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔ انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیتی ہے، اس کا نام ہے "کتاب”۔

    چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہیں ان میں "خوشبو” (1976)، "صد برگ” (1980)، "خود کلامی” (1990)، "انکار” (1990)، "ماہ تمام” (1994) اور "کف آئینہ” سرِ فہرست ہیں۔ جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں، لیکن ان کی شاعری خوشبو کی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

    وہ خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
    مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا

    وہ خوش فکر شاعرہ تو تھیں، لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔ پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں۔ پی ٹی وی کے پروگراموں، مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔ شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی، ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا، سید مراد علی بھی ہے، لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظار کی کیفیت بھی ملتی ہے۔

    وفات کے بعد ان کی دوست پروین قادر آغا نے "پروین شاکر ٹرسٹ” قائم کیا۔ پروین شاکر اپنی ہم عصر شاعرات کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ میں بھی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پروین شاکر نے انسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کر دیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی، ہجر و وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔

    شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن، محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھیں، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔ وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں، اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔ جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو ان گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو "خوشبو” میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں تو قریب ہی ایک موڑ پر بس کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھار گئیں۔ اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے۔ جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

  • سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فیصل آباد جو ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک اور شاندار ادبی تقریب کا میزبان بنا۔ سردار پبلی کیشن کے اشتراک سے فیصل آباد پریس کلب میں تیسری ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف ادب کے فروغ کا سبب بنی بلکہ پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم قدم بھی ثابت ہوئی۔ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ "ویر وے” کے موضوع پر مبنی تھا جس کی صدارت معروف ادبی شخصیت چوہدری الیاس گھمن نے کی، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی صدارت ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے کی، جو ادب کے میدان میں اپنی گہری بصیرت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    مشاعرے کا انعقاد اس کانفرنس کا ایک خاص پہلو تھا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے نامور شعرا نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پنجابی زبان کو مرکزیت دیتے ہوئے منعقد کیا گیا، جس میں ہر شاعر نے اپنے انداز میں پنجابی زبان و ثقافت کے رنگ بکھیرے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے بطور میزبان تقریب کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

    مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک، جو کہ ایک نامور شاعر اور محقق ہیں، نے پنجابی زبان کی تاریخ، اس کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کے فروغ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور پنجابی ہماری ثقافتی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

    کانفرنس کے دوران جن مشہور شعرا نے شرکت کی، ان میں شہزاد بیگ، کامران رشید، آزاد نقیبی، بشری ناز، نرگس رحمت، آصف سردار آرائیں، الیاس گھمن، امجد جاوید، انور انیق، ارشد بیلی، جاوید پنجابی، ڈاکٹر اظہر، سعید حسین ساجد، حامد رفیق، زبیر الجواد، سرور قمر قادری، شہباز علی شہباز، شمائلہ تبسم، عمران ساون، عبدالحمید، فوزیہ جاوید، کامران رشید اور لبنیٰ آرائیں شامل ہیں۔ ان تمام شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان کے اشعار میں پنجابی ثقافت، انسانی جذبات، اور موجودہ سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی نظر آئی۔

    تقریب کے دوران مقررین نے پنجابی زبان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے جدید وسائل، جیسے کہ سوشل میڈیا، ایپلیکیشنز، اور پنجابی ادب کے جدید تراجم، کو اپنانا ہوگا۔

    اس تقریب کی کامیابی میں آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی محنت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں شخصیات، جو میاں بیوی ہیں، نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ ان کی ٹیم ورک اور پنجابی ادب سے محبت کی بدولت یہ کانفرنس ایک یادگار ایونٹ بن گئی۔

    اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ پنجابی زبان ہماری شناخت کا حصہ ہے، اور اس کی بقا و ترویج کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر شریک نے اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے یہ باور کرایا کہ پنجابی زبان صرف ایک بولی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کا عکس ہے۔

    تیسری ادبی کانفرنس نے ادب کے فروغ اور پنجابی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف زبان کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں، اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    سردار پبلی کیشن کی جانب سے تیسری پنجابی کانفرنس کا انعقاد ادب اور ثقافت کے فروغ کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے محبت کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس کی روح رواں لبنیٰ آرائیں، جو سردار پبلی کیشن کی ڈائریکٹر ہیں، کی محنت اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ لبنیٰ آرائیں نے اپنے ویژن اور عزم کے ساتھ ادب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ان کی انتھک محنت اور تنظیمی صلاحیتوں نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جہاں شاعر، ادیب، اور دانشور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

    کانفرنس کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور پنجابی ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات پیش کیے، جنہوں نے زبان و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

    یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی ادب بلکہ زبان و ثقافت کے تحفظ اور ترویج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ لبنیٰ آرائیں کی کاوشوں نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ اور عزم ہو تو کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔