Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ: ڈپٹی کمشنر کا بنیادی مرکز صحت اور اسکول کا اچانک دورہ، غیر حاضر عملہ معطل

    ننکانہ: ڈپٹی کمشنر کا بنیادی مرکز صحت اور اسکول کا اچانک دورہ، غیر حاضر عملہ معطل

    ننکانہ صاحب، باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر کا بنیادی مرکز صحت اور اسکول کا اچانک دورہ، غیر حاضر عملہ معطل

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ محمد تسلیم اختر راؤ نے بنیادی مرکز صحت کھیاڑے کلاں کا اچانک دورہ کیا اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔

    دورے کے دوران، بنیادی مرکز صحت میں تعینات عملہ غیر حاضر پایا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے سی ای او ہیلتھ کو تمام غیر حاضر عملے کو معطل کرنے کی فوری ہدایت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں غفلت برتنے والے افسران اور ملازمین کے لیے ضلع ننکانہ میں کوئی جگہ نہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہسپتال میں جاری ری ویمپنگ کے کاموں کا جائزہ لیا اور میٹریل کی کوالٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ تمام ترقیاتی کاموں کو 31 دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایکسین بلڈنگ کو سرکاری ہسپتالوں کے راستوں کی فوری تعمیر و مرمت کی ہدایت دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ری ویمپنگ کا عمل رواں ماہ کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد دیہی مراکز صحت میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کھیاڑے کلاں کا بھی دورہ کیا اور اسکول کے گراؤنڈ سمیت دیگر سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

  • سیالکوٹ: آبادی میں بے تحاشا اضافہ ملک کی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے . ڈپٹی کمشنر

    سیالکوٹ: آبادی میں بے تحاشا اضافہ ملک کی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے . ڈپٹی کمشنر

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 2.9 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے 30 سالوں میں ملک کی آبادی 46 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

    ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے پاپولیشن ویلفیئر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی بے روزگاری، غذائی قلت، تعلیم، صحت اور رہائش کی شدید قلت کا شکار ہے۔ 45 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، جبکہ 60 فیصد آبادی ایک کمرے کے گھر میں رہنے پر مجبور ہے، اور 40 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس صورتحال میں پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو مختصر خاندانی نظام کی اہمیت اور فوائد سے آگاہ کرنا ہوگا اور یہ باور کروانا ہوگا کہ صحت مند اور خوشحال خاندان ہی ملک کی خوشحالی کی بنیاد ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن قائم کرنا ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کم پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    اجلاس میں ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آگاہی مہم کے لیے جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

  • کرم: جاری خانہ جنگی میں صحافی کے گھر اور دفتر کو نقصان

    کرم: جاری خانہ جنگی میں صحافی کے گھر اور دفتر کو نقصان

    کرم(باغی ٹی وی رپورٹ) جاری خانہ جنگی میں صحافی کے گھر اور دفتر کو نقصان

    تفصیل کے مطابق ضلع کرم کے علاقے لوئر کرم بگن میں جاری کشیدگی کے دوران 22 دسمبر کو ہونے والی لڑائی میں سینئر صحافی محمد بلوچ کے گھر اور میڈیا آفس کو شدید نقصان پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق جھڑپ کے دوران محمد بلوچ کے گھر کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ان کا لیپ ٹاپ، معیاری کیمرے اہم کاغذات اور دیگر قیمتی ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا۔ یہ واقعہ صحافیوں کی حفاظت اور آزادی صحافت پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

    صحافتی برادری نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ صحافی کے نقصان کا ازالہ کریں۔

    ملک بھر کے سینئر صحافیوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صحافیوں کی سلامتی یقینی بنائیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

  • جمرود: ٹیکسی ڈرائیور سے اسلحے کی نوک پر موٹر کار چھین لی

    جمرود: ٹیکسی ڈرائیور سے اسلحے کی نوک پر موٹر کار چھین لی

    جمرود(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹیکسی ڈرائیور سے اسلحے کی نوک پر موٹر کار چھین لی

    تفصیل کے مطابق جمرود میں چوری اور رہزنی کی واردات میں ٹیکسی ڈرائیور کو اسلحے کی نوک پر لوٹ لیا گیا، نامعلوم ملزمان گاڑی، نقدی اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے۔

    گذشتہ روزشام 7 بجے جمرود بازار کے ٹیکسی اسٹینڈ پر ایک نامعلوم شخص نے ٹیکسی ڈرائیور کو ورمنڈو میلہ تبی کے مقام پر سواری کے لیے بک کیا۔ واپسی پر مذکورہ مقام پر نامعلوم چوروں نے سڑک پر پتھر رکھ کر راستہ بلاک کر دیا۔ ڈرائیور کو روک کر اسلحہ تان لیا اورآلٹو گاڑی، نقد رقم اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔

    متاثرہ ٹیکسی ڈرائیورعزیز نے تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی چوری اور رہزنی کی وارداتوں پر عوام نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور مجرموں کو جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • لنڈی کوتل میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ، عوام سراپا احتجاج

    لنڈی کوتل میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ، عوام سراپا احتجاج

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) لنڈی کوتل پریس کلب (رجسٹرڈ) میں پروگرام "میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے قومی مسائل کمیٹی کے ممبران، کلیم اللہ شینواری، ملک زاہد، امیر نواز، امیر جے یو آئی مولانا عاقب درویش، پی پی پی کے گل بہادر آفریدی تحصیل کونسل کے ممبران حاجی شیر آفریدی، بازار کے قائم مقام صدر عطاء اللہ آفریدی، اختر علی شینواری، اقبال آفریدی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے لنڈی کوتل کے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔

    رہنماؤں نے کہا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاقے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ بیشتر ٹیوب ویل بجلی پر چلائے جاتے ہیں۔ 2023 میں ٹیسکو حکام کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت 4 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن عوام کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے عوام سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب عوام گریڈ اسٹیشن جاتے ہیں تو ٹیکنیکل فالٹ اور جھوٹ بولنے کے علاوہ، گریڈ اسٹیشن کے عملہ اور لائن مین آپس میں ملی بھگت کرتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام مقامی سٹاف کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور کٹوتی کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کیا جائے۔

    رہنماؤں نے مزید کہا کہ بجلی کا مسئلہ نہ کسی سیاسی جماعت کا ہے، نہ کسی خاص تحصیل کا، بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کے حل کے لیے جمرود اور باڑہ کے ساتھ مل کر اجتماعی سطح پر جدوجہد کی جائے گی۔

    انہوں نے گریڈ اسٹیشن عملہ کی جانب سے میٹرز پر غیر قانونی طریقے سے بل وصول کرنے اور لنڈی کوتل بازار میں کمرشل فیڈرز کے لیے نصب کیے گئے 24 ٹرانسفارمرز، سینکڑوں کھمبے اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان ہڑپ کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    رہنماؤں نے کہا کہ ٹرانسفارمر کی خراب حالت کی وجہ سے فاطمی خیل میں دو نوجوانوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے، ایک نوجوان جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ اسٹیشن عملہ اور لائن مینز بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار ہیں، اور اگر فیڈر کی منصفانہ تقسیم کی جائے تو لنڈی کوتل کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

    آخر میں، انہوں نے ایم این اے سے اپیل کی کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں، کیونکہ عوام نے ہزاروں کی تعداد میں ووٹ دیے تھے، مگر ان کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم این اے اور ایم پی اے نے بجلی کے مسئلے کو حل نہ کیا تو عوام کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  • لنڈی کوتل: کھیل امن کے لیے۔ تاتارا کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

    لنڈی کوتل: کھیل امن کے لیے۔ تاتارا کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) سالانہ تاتارا کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کا افتتاح آج ڈے نائٹ ریسٹورنٹ میں ٹرافی کی شاندار تقریب رونمائی کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی رہنما حاجی شاہ حسین شینواری، خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر یوسف آفریدی، تعمیر کریٹوں بلڈر کے سی ای او ضیاء الحق آفریدی، ملک دریا خان، ملک ماصل شینواری، سماجی کارکن حاجی شاکر آفریدی اور علاقے کے دیگر معززین نے شرکت کی۔

    مشران نے خطاب میں کہا کہ یہ ٹورنامنٹ کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک مثبت روایت ہے جو کئی سالوں سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لنڈی کوتل میں نوجوانوں کا ٹیلنٹ بے مثال ہے، لیکن انہیں بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

    تاتارا سپورٹس کمیٹی کے صدر عمران آفریدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 43واں سالانہ ٹورنامنٹ ہے، جس میں 47 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، اور ٹورنامنٹ دو ماہ تک جاری رہے گا۔

    تقریب سے ضیاء الحق آفریدی، شاہ حسین شینواری، اور یوسف آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیل نہ صرف نوجوانوں کی جسمانی نشوونما بلکہ انہیں منشیات اور منفی سرگرمیوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو ہسپتال ویران رہیں گے۔

    انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ علاقے میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے آگے آئیں اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ نیا ٹیلنٹ ابھر کر نہ صرف علاقے بلکہ ملک و قوم کا نام روشن کرے۔

  • ڈیرہ غازیخان:تمباکو نوشی کل نہیں ،آج ترک کریں۔جنید خان

    ڈیرہ غازیخان:تمباکو نوشی کل نہیں ،آج ترک کریں۔جنید خان

    ڈیرہ غازی خان ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر) تمباکو نوشی، خاص طور پر سگریٹ نوشی، کو کل نہیں بلکہ آج سے ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو اس مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس عادت کو ختم کیا جا سکے۔ سگریٹ نوش افراد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بات چیت کرنا اور انہیں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے۔ یہ بات ادارہ الا ایمان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کمیونٹی میٹنگ میں آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹو کے محمد جنید خان، جعفر مہدی اور سی ای او الایمان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سید محمد آصف نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    محمد جنید خان نے کہا کہ پاکستان تمباکو کی پیداوار میں دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے اور یہاں کی 20 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کی لت کا شکار ہے جو کہ تقریباً 44 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ تمباکو نوشی نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی کے نتیجے میں تپِ دق، پھیپھڑوں کا سرطان، سانس کی بیماریاں، دائمی کھانسی، دل کی بیماریاں، بلند فشار خون، فالج، گردوں کی بیماری، ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر امراض بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ، گلے، زبان، نرخرے، غذا کی نالی، معدے اور لبلبے کے کینسرز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جنید خان نے مزید کہا کہ تمباکو نوشی مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے جس سے آٹوامیون بیماریوں جیسے کہ کرونز ڈیزیز اور ریمیٹائڈ آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھتا ہے۔ تمباکو نوشی لبلبے پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض عام ہو رہا ہے اور 30 فیصد سگریٹ نوش افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    جعفر مہدی نے کہا کہ خواتین میں بھی تمباکو نوشی عام ہو رہی ہے، جس کے مضر اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں، جیسے حمل میں دشواری، اسقاط حمل، پری میچور بچّوں کی پیدائش اور پیدائشی نقائص۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو مسلسل استعمال کرنے والے کو بے بس کردیتا ہے اور نکوٹین دماغ تک پہنچتے ہی اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    سید محمد آصف نقوی نے کہا کہ سگریٹ نوشی کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے ہر ممکنہ تدابیر اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے قوت ارادی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ سگریٹ کی مقدار کم کرنا اور آہستہ آہستہ اسے ترک کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جو افراد طویل عرصے سے سگریٹ نوشی کے عادی ہیں، انہیں ترک کرنے میں مشکلات آتی ہیں۔ نوجوانوں کو سگریٹ پینے کی خواہش ہو تو انہیں مثبت سرگرمیوں جیسے کھیل، ورزش یا یوگا میں مشغول ہونے کی ترغیب دینی چاہیے۔ اگر مشکلات پیش آئیں تو معالج سے مشورہ لے کر مختلف طریقے اپنائے جا سکتے ہیں.

    یہ مہم ہر فرد کی ذمہ داری ہے تاکہ تمباکو نوشی کی لت سے بچا جا سکے اور صحت مند معاشرت کی جانب قدم بڑھایا جا سکے۔

  • سکھر: اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں حادثات کا سبب، روڈ سیفٹی سیمینار منعقد

    سکھر: اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں حادثات کا سبب، روڈ سیفٹی سیمینار منعقد

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)سکھرمیں قومی شاہراہ پر گنے سے بھری اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں اکثر خطرناک حادثات اور عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ ایس پی موٹروے پولیس سکھر عبدالرزاق نے ڈہرکی شوگر مل میں منعقدہ روڈ سیفٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حد سے زیادہ لوڈنگ اور غیر محفوظ سفر کی روک تھام ضروری ہے۔

    سیمینار ایڈیشنل آئی جی موٹروے پولیس منیر احمد شیخ اور ڈی آئی جی موٹروے پولیس سندھ اصغر علی یوسف زئی کی ہدایات پر منعقد کیا گیا، جس میں کاشتکاروں، مل انتظامیہ اور ڈرائیوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈی ایس پی محمد ہمایوں برکی نے شرکاء کو روڈ سیفٹی کے اصولوں سے آگاہ کیا۔

    ایس پی عبدالرزاق نے زور دیا کہ ٹریکٹر ٹرالیاں بائیں جانب سفر کریں، لائٹس اور فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں اور ڈرائیوروں کے پاس لائسنس ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ موٹروے پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

    سیمینار کے دوران شرکاء میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے اور درست جوابات دینے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ جی ایم ڈہرکی شوگر مل جاوید انور نے سیمینار کے انعقاد پر موٹروے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور مزید پروگرامز کی خواہش ظاہر کی۔ تقریب کے اختتام پر روڈ سیفٹی اسٹال کا دورہ کرایا گیا، جس میں شرکاء کو خصوصی دلچسپی لیتے دیکھا گیا۔

  • ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    یونان کشتی حادثے میں 40 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت نے نہ صرف ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا بلکہ اس نے ایک اور گہرا سوال بھی اٹھایا ہے: کیا ہم نے اپنے نظام انصاف میں اتنی خامیاں پال رکھی ہیں کہ اس قسم کے سانحات روز مرہ کا حصہ بن گئے ہیں؟ یہ واقعہ صرف ایک دردناک سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، سیاسی اور قانونی ڈھانچے میں موجود گہری خرابیوں کا عکس ہے۔ اس حادثے کی اصل حقیقت کا پتا لگانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران سامنے آنے والے انکشافات نے حکومت اور اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے والے ایف آئی اے کے 31 اہلکاروں نے ثابت کر دیا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اب خود جرم کی معاونت کرنے والے بن چکے ہیں۔ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں، لیکن وہ خود اسمگلرز کی مدد کر کے معصوم افراد کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ جیسے اہم ایئرپورٹس سے یہ مجرمانہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جب قانون کے رکھوالے ہی اپنے فرض میں ناکام ہوں تو عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کو سنجیدہ لے رہی ہے۔

    ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم کی برہمی اور ایک ہفتے کی ڈیڈلائن قابل تعریف ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس برہمی کے بعد کوئی ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے؟ کیا ان انسانیت کے دشمن اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی؟ یا یہ معاملہ بھی دیگر سانحات کی طرح فائلوں کی گرد میں دب جائے گا؟ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ رشوت، سیاسی سرپرستی اور عدالتی کمزوریوں کی وجہ سے مجرم نہ صرف آزاد ہو جاتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ اپنے دھندے کو نیا روپ دے کر چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یونان کشتی حادثے کے ذمہ داروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانا اور بے رحم انصاف ہماری عدلیہ اور انتظامیہ کی ساکھ کے لیے اہم ہے۔

    اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا اورحادثہ کے شکارنوجوانوں کو انصاف نہ دلایا تو ہماری انصاف کی فراہمی کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوجائے گا، جسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔یہ مسئلہ صرف چند کرپٹ اہلکاروں تک محدود نہیں۔ یہ ایک منظم اور وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو یہ غیر قانونی دھندہ اپنے سیاسی سرپرستوں کے زیرسایہ انجام دیتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے اس دھندے میں ملوث افراد اپنے سیاسی اثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر مقدمات کو کمزورکراتے ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ان افراد کے نیٹ ورک کی گرفتاری اور ان کی مالی تحقیقات کا عمل اس بات کا ثبوت ہو گا کہ حکومت اس مسئلے کو نہ صرف سنجیدہ لے رہی ہے بلکہ اس کا حقیقی حل بھی چاہتی ہے۔

    اگرچہ وزیراعظم نے اس معاملے میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور برہمی کا جواظہار کیاہے، وقت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے پر عملی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسی بھی قسم کی بے حسی یا تاخیر عوام کا اعتماد مزید متزلزل کرے گی۔ اس سانحہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی نگرانی کے لیے آزاد کمیشن قائم کرنا اور سیاسی سرپرستی کو ختم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    یونان کشتی حادثہ ہمارے اداروں اور حکومتی عملداروں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ نظام میں موجود گہری خامیوں کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ان کی اصلاح کے لیے فوری اور مئوثرقدامات کریں۔ یہ سانحہ ایک تلخ حقیقت کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ اگر ہم نے اس گھناؤنے جرم کے خاتمے کے لیے اس وقت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مسائل نہ صرف جوں کے توں رہیں گے بلکہ وہ مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں، عوامی شعور بیدار کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام کو شفاف اور مئوثربنائیں تاکہ مستقبل میں نہ تو کوئی معصوم شہری اس کرپٹ نیٹ ورک کا شکار ہو اور نہ ہی ہمارے اداروں کی ناکامی کی وجہ سے مزید زندگیاں تباہ ہوں۔ یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ اس سانحہ کے بعد انصاف کی آواز بلند کریں تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

  • تنگوانی: چوری کی واردات کے دوران فائرنگ، نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    تنگوانی: چوری کی واردات کے دوران فائرنگ، نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    تنگوانی،باغی ٹی وی (نامہ نگار منصور بلوچ)چوری کی واردات کے دوران فائرنگ، نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    تنگوانی کے قریب چوری کی واردات کے دوران ایک نوجوان جان سے گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ یہ واقعہ انڑ اسٹاپ نصیر بنگلہ کے قریب باغ علی بهلکانی کے علاقے میں پیش آیا۔

    چوروں نے ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہو کر بھینس چوری کرنے کی کوشش کی۔ گھر کے افراد کے جاگنے پر چوروں نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس افسوسناک واقعے میں نوجوان عبدالصمد ڈاھانی موقع پر شہید ہو گیا جبکہ اس کا بھائی عبدالقادر بهلکانی شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق، چور اندھیری رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سانحے کے بعد متاثرہ خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور گھر میں کہرام مچ گیا۔

    اہلِ علاقہ نے پولیس کی کارکردگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تاحال چوروں کو گرفتار کرنے یا ان کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کرے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    یہ واقعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتوں اور پولیس کی ناکامی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔