Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • قصور: ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور: ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور،باغی ٹی وی(بیوروچیف غنی محمود) ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور شہر میں ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور سرکاری فیس کی جگہ پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکار چالان کی فیس وصول کرنے کے باوجود کوئی رسید فراہم نہیں کرتے اور ادائیگی کا تقاضا کرنے پر بدتمیزی کرتے ہیں۔

    ایک واقعے میں مقامی صحافی غنی محمود قصوری کے کزن حاجی قاسم نثار بھٹی نے بتایا کہ ان کی موٹر سائیکل میزان بینک بلھے شاہ روڈ قصور کے باہر پارک کی گئی تھی، جہاں سے ٹریفک پولیس کے لفٹر نے اسے اٹھا کر چوکی میں بند کر دیا۔ جب حاجی قاسم چوکی پہنچے تو انہیں 2000 روپے کا چالان تھما دیا گیا اور کہا گیا کہ رقم اہلکاروں کو ہی ادا کرنی ہوگی۔ شہری نے فیس بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی درخواست کی، لیکن اہلکاروں نے رقم جمیل نامی شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کی اور کسی قسم کی رسید فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

    شہریوں نے اس رویے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈی پی او قصور، ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عوامی اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

  • سیالکوٹ: قائداعظم کے 148 ویں یومِ ولادت پر مرے کالج میں سیمینار کا انعقاد

    سیالکوٹ: قائداعظم کے 148 ویں یومِ ولادت پر مرے کالج میں سیمینار کا انعقاد

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض)قائداعظم کے 148 ویں یومِ ولادت پر مرے کالج میں سیمینار کا انعقاد

    قائداعظم محمد علی جناح کے 148 ویں یومِ ولادت کے موقع پر مرے کالج سیالکوٹ میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس لیڈرشپ (IBL) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت IBL کے چیف ایگزیکٹو وحید شریف اور ایگزیکٹو ایڈمن معاذ اشرف نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی سابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب سڈل تھے۔

    پروگرام میں ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق، مرے کالج کے پرنسپل، دیگر تعلیمی و تجارتی شخصیات، مرد و خواتین، اور شہر کے معززین نے شرکت کی۔

    ڈاکٹر شعیب سڈل نے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے سیالکوٹ کے اپنے دورے کے دوران نوجوانوں کے جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ جب پنجاب جاگتا ہے، تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ انہوں نے پاکستان کی آزادی کے لیے کی جانے والی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل پر فرض ہے کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    پروگرام کا مقصد قائداعظم کے افکار و نظریات کو اجاگر کرنا اور عوام میں شعور بیدار کرنا تھا۔ شرکاء نے اس موقع پر قائداعظم کے خواب کی تعبیر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

  • ننکانہ : پیرا میڈکس اور ہیلتھ سپورٹ اسٹاف کی نئے ایم ایس سے ملاقات

    ننکانہ : پیرا میڈکس اور ہیلتھ سپورٹ اسٹاف کی نئے ایم ایس سے ملاقات

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی 9نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)پیرا میڈکس اور ہیلتھ سپورٹ اسٹاف کی نئے ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید سے ملاقات

    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب کے نئے تعینات ہونے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اطہر فرید سے پیرا میڈکس اور ہیلتھ سپورٹ اسٹاف ضلع ننکانہ کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے ڈاکٹر اطہر فرید کو تعیناتی پر مبارکباد پیش کی، پھولوں کے ہار پہنائے، گلدستے پیش کیے اور مٹھائی تقسیم کی۔

    وفد کی قیادت چیئرمین حاجی محمد لطیف اور صدر زاہد حسین جٹ نے کی۔ دیگر اراکین میں ضلعی صدر راؤ ظفر اقبال، چوہدری بشارت علی، نوید احمد، شفاقت علی، اور دیگر رہنما شامل تھے۔

    ڈاکٹر اطہر فرید نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال میں غفلت اور کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ محنتی اور ایماندار عملہ ادارے کی شان ہے۔

    ڈاکٹر اطہر فرید نے مزید کہا کہ عوام کو مفت اور معیاری علاج فراہم کرنے کے لیے تمام اسٹاف کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرائض میں کوتاہی برتنے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • تنگوانی:قبائلی تنازع پر جکرانی برادری کا نوجوان کا قتل

    تنگوانی:قبائلی تنازع پر جکرانی برادری کا نوجوان کا قتل

    تنگوانی،باغی ٹی وی(نامہ نگارمنصوربلوچ)قبائلی تنازع پر جکرانی برادری کا نوجوان کا قتل

    کشمور میں قبائلی تنازع کے دوران جکرانی برادری کے نوجوان نور حسن جکرانی کو قتل کر دیا گیا۔ مقتول نور حسن جکرانی ولد حاجی دوستن جکرانی گاؤں عبدالستار جکرانی لائن پرانی کے رہائشی تھے۔

    جکرانی برادری کے مطابق ان کے نوجوان کو بے گناہ قتل کیا گیا اور یہ واقعہ قومیت کے نام پر پیش آیا ہے۔ برادری نے اس قتل کو ظلم قرار دیتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

  • سیالکوٹ: چیمبر کمیٹی کے سابق چیئرمین رانا ندیم انتقال کر گئے، جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    سیالکوٹ: چیمبر کمیٹی کے سابق چیئرمین رانا ندیم انتقال کر گئے، جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) چیمبر کمیٹی کے سابق چیئرمین رانا ندیم انتقال کر گئے، جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کے سابق ڈپارٹمنٹل کمیٹی چیئرمین رانا ندیم احمد گزشتہ رات حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی اچانک وفات پر ایکسپورٹ سٹی سیالکوٹ سمیت پنجاب کی بزنس کمیونٹی غم میں مبتلا ہو گئی۔

    رانا ندیم احمد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان بابل شہید کمیلہ روڈ میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ جنازے میں سیالکوٹ چیمبر کے صدر اکرام الحق، موجودہ و سابق عہدیداران، مجلس عاملہ کے اراکین، اور ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔

    سیالکوٹ چیمبر کے صدر اکرام الحق اور دیگر عہدیداران نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ رانا ندیم ایک انتہائی ملنسار اور بہترین شخصیت تھے، ان کی وفات بزنس کمیونٹی کے لیے بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لیے بلندی درجات کی دعا کی۔

  • گوجرہ: ڈی پی او کی کھلی کچہری فوٹو سیشن تک محدود، شہری انصاف سے محروم

    گوجرہ: ڈی پی او کی کھلی کچہری فوٹو سیشن تک محدود، شہری انصاف سے محروم

    گوجرہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) ڈی پی او کی کھلی کچہری فوٹو سیشن تک محدود، شہری انصاف سے محروم

    گوجرہ میں کینال ریسٹ ہاؤس دھماں بنگلہ میں منعقدہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کی کھلی کچہری کو شہریوں نے فوٹو سیشن قرار دے دیا۔

    چک نمبر 301 ج ب کے رہائشی غلام حیدر کا کہنا ہے کہ ڈکیتی میں چھینی گئی موٹر سائیکل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود گیارہ کھلی کچہریوں میں پیش ہو کر بھی انصاف نہ ملا۔ ان کا مقدمہ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے ڈاکو کے کھاتے میں ڈال دیا گیا، حالانکہ انہوں نے کسی کو نامزد ہی نہیں کیا۔

    شہریوں کا الزام ہے کہ کھلی کچہریوں میں حقیقی مسائل کے حل کے بجائے طفل تسلیاں دی جاتی ہیں، جبکہ زیادہ تعداد ٹاؤٹس اور فرضی سائلین کی ہوتی ہے، جنہیں زبردستی لا کر بٹھایا جاتا ہے۔

    شہریوں نے کھلی کچہریوں کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو سائلین کی موقع پر داد رسی ہوتی ہے اور نہ ہی ناقص کارکردگی والے اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔

  • کراچی میں تنگوانی کا رہائشی قتل، گاؤں میں سوگ کی فضا

    کراچی میں تنگوانی کا رہائشی قتل، گاؤں میں سوگ کی فضا

    تنگوانی،باغی ٹی وی (نامہ نگارمنصور بلوچ) کراچی میں فائرنگ سے کیچی گاؤں کا رہائشی قتل، گاؤں میں سوگ

    تنگوانی کے قریب گاؤں کیچی کا رہائشی 45 سالہ سرفراز احمد باجکانی کراچی کے علاقے ملیر، تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کی حدود سیکٹر 16B میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل ہوگیا۔

    مقتول نماز پڑھ کر گھر کی دہلیز پر پہنچا تو موٹر سائیکل سوار ملزم نے فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی خبر گاؤں پہنچنے پر ماتم کا ماحول چھا گیا۔

    مقتول کے بیٹے شعیب کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے اور ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

  • نوری آباد: پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی گروہ کے 8 ملزمان گرفتار

    نوری آباد: پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی گروہ کے 8 ملزمان گرفتار

    نوری آباد،باغی ٹی وی (نامہ نگاراللہ وسایاپالاری) پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی گروہ کے 8 ملزمان گرفتار

    نوری آباد پولیس نے ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق چھانگا کی ہدایات پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں لوٹ مار کرنے والے بین الصوبائی گروہ کے 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    ایس ایچ او نوری آباد سب انسپکٹر ندیم سولنگی اور افسر لاشاری کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان سے لاکھوں روپے مالیت کے لوٹے ہوئے زیورات، قیمتی سوٹ اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ گرفتار ملزمان میں اسلم پالاری، اصغر پالاری، نظام پالاری، یعقوب پالاری، رانجھو پالاری، نورو پالاری سمیت مزید دو روپوش ملزمان رزاق عرف پیار علی پالاری اور دلاور پالاری شامل ہیں۔

    پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چار پستول اور ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کی ہے۔ ملزمان کے خلاف مختلف اضلاع میں متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں کئی وارداتیں شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف نوری آباد تھانے میں مزید مقدمات درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

  • ٹھٹھہ:پولیس مقابلے میں زخمی حالت میں ملزم گرفتار،مسروقہ رقم اور اسلحہ برآمد

    ٹھٹھہ:پولیس مقابلے میں زخمی حالت میں ملزم گرفتار،مسروقہ رقم اور اسلحہ برآمد

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں)پولیس مقابلے میں زخمی حالت میں ملزم گرفتار،مسروقہ رقم اور اسلحہ برآمد

    تفصیل کے مطابق فقیر گوٹھ لنک روڈ پر تھانہ ٹھٹھہ کی حدود میں پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک خطرناک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

    گرفتار ملزم کی شناخت شبیر ولد جمن سروان رہائشی مکلی کے طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم نے گزشتہ رات گھوڑاباڑی اسٹاپ پر مدعی کیمچند سونار سے کیش رقم چھیننے کی واردات کا اعتراف کیا۔

    پولیس کے مطابق شبیر ضلع ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں میں چوری، ڈکیتی اور موٹرسائیکل چھیننے جیسے متعدد جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم کے قبضے سے ایک پسٹل، موٹرسائیکل اور مدعی کی چھینی گئی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔

    ٹھٹھہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا مکمل کریمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن میں یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ پولیس نے جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی
    تحریر: ملک امان شجاع
    درخت کائنات کا حسن اور زندگی کی ضرورت ہیں۔ باشعور اقوام جنگلات کی افادیت و اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں درخت اور جنگلات اگانے کے لیے خصوصی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ عوامی سطح پر آگاہی کے لیے شعور بیدار کیا جاتا ہے اور بیج سے پودے اور پودوں سے درختوں کو بچوں کی طرح نگہداشت کر کے کامیاب بنایا جاتا ہے۔

    عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے رقبے کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے کیونکہ یہی جنگلات ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ یہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے جانداروں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں، زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں، درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور حرارت و دیگر ضروریات کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جنگلات جنگلی حیات کی حفاظت کے ضامن ہیں، پرندوں کی آماجگاہ اور جانوروں کی پناہ گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک کا ذریعہ بھی ہیں۔ پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی یہ مددگار ہیں۔

    تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے صرف 5 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جبکہ عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے ہمیں اربوں درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ گو کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک بھر میں شجرکاری کے لیے شعور اجاگر کرنے اور بڑی تعداد میں درخت لگانے کی کوشش کی، لیکن مطلوبہ ہدف سے ہم اب بھی کوسوں دور ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی اور مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ قوم کے ہر فرد کو آئندہ نسلوں کی بقا اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے کے لیے درخت اگانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

    پاکستان کی زرعی زمینوں کو سیم و تھور سے بچانے کے لیے بھی درختوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ خداوندی نعمت ہے کہ درختوں کے بیج سے تھوڑی محنت اور توجہ کے ذریعے نئے درخت اگائے جا سکتے ہیں۔ یہی عمل تھل کے صحراؤں میں اپنایا جا رہا ہے، جس کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ تھل کے صحراؤں میں سرسبز و شاداب جنگلات زندگی کی علامت بن کر خوبصورت نظارے پیش کر رہے ہیں۔

    عام طور پر صحرا کا تصور آتے ہی ذہن میں ویران، ریتلے میدان اور نہ ختم ہونے والی وسعتوں کا نقشہ ابھرتا ہے۔ انہی صحراؤں کے بارے میں یہ کہانیاں بھی مشہور ہیں کہ یہاں بھٹکنے والے مسافر بھوک اور پیاس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ ایسے افراد کی باقیات کبھی کبھار قافلوں اور شتر بانوں کو ملتی تھیں۔

    صحرائے تھل میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی آمد کا قصہ کچھ یوں ہے کہ حکومت پاکستان نے یہاں سڑکیں اور نہریں نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر زمین بحق سرکار ضبط کی اور صوبائی محکمہ مال پنجاب کے حوالے کر دی۔ 1951-52 میں محکمہ جنگلات نے حکومت پنجاب سے 24,773 ایکڑ رقبہ حاصل کیا اور اس چیلنج کا سامنا کیا کہ اس ویران صحرا میں درخت اگائے جائیں۔

    محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے خیمہ بستیاں بسا کر، شدید گرمی اور جھلساتی دھوپ کا سامنا کرتے ہوئے درخت لگانے کا کام شروع کیا۔ دور دراز کے کنوؤں سے پانی لا کر درختوں کو سیراب کیا گیا اور مقامی لوگوں کو جنگلات کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ جلد ہی محکمہ جنگلات اور مقامی آبادی کی محنت کے نتیجے میں، صحرائے تھل بیری، کیکر، جنڈی اور سرس کے درختوں سے سرسبز نظر آنے لگا۔

    ان درختوں کی بدولت آج صحرائے تھل میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور سریلی آوازیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ صحرا کی گود میں زندگی کا ظہور ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم محنت اور منصوبہ بندی سے کام کریں تو ویران علاقوں کو بھی سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ تم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔ یہ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں، جیسے درخت، پانی اور فطرت کی حفاظت کریں اور ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جو ماحول کو نقصان پہنچائیں یا اللہ کی مخلوق کے لیے مشکلات پیدا کریں۔

    نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو وہ ضرور لگائے۔ یہ حدیث اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ درخت لگانا اور فطرت کی حفاظت کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

    قرآن و حدیث ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زمین کی حفاظت اور اسے سرسبز و شاداب بنانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا عمل، اگر نیت خالص ہو، فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی مسائل کا حل نکالنا اور زمین کی بہتری کے لیے کام کرنا نہ صرف ہماری دنیوی بلکہ اخروی کامیابی کے لیے بھی اہم ہے۔