Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈسکہ پریس کلب میں قائداعظم کی سالگرہ اور کرسمس کا پروقار تقریب منعقد کی گئی

    ڈسکہ پریس کلب میں قائداعظم کی سالگرہ اور کرسمس کا پروقار تقریب منعقد کی گئی

    ڈسکہ، باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک عمران) ڈسکہ پریس کلب رجسٹرڈ میں قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ اور مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس کے حوالے سے ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    اس موقع پر قائداعظم کی سالگرہ کا کیک کاٹ کر ان کی بے مثال قیادت اور پاکستان کے قیام کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب کے دوران بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس کیک بھی کاٹا گیا اور خوشی کے اس موقع پر مسیحی کمیونٹی کو تحائف پیش کیے گئے۔

    سرپرست اعلیٰ محمد افضل منشاء نے اپنے خطاب میں قائداعظم کی قیادت، اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ قومی ہیروز کو یاد کرنا اور اقلیتوں کی خوشیوں میں شریک ہونا ڈسکہ پریس کلب کی دیرینہ روایت ہے۔

  • کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ڈیرہ غازیخان جو پنجاب کا ایک اہم ضلع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، کئی دہائیوں سے ترقی کے وعدوں کا شکار ہے۔ اس علاقے میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن عوام کو وہ سہولتیں اور ترقیاتی منصوبے نہیں مل سکے جو انہیں حاصل ہونا چاہیے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پسماندگی کے ذمہ دار وہ سردار ہیں جو اس خطے کی سیاسی قیادت کے دعوے دار ہیں؟ سرداروں کے اقتدار کے باوجود ڈیرہ غازیخان میں بنیادی سہولتوں کی کمی، صنعتی ترقی کا فقدان اور صحت کے بحران جیسے مسائل حل نہ ہو سکے۔ یہ صورتحال عوام کے لیے ایک تشویش کا باعث بن چکی ہے اور اب یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ آیا سردار اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ڈیرہ غازیخان جوڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، نہ ہی یہاں ریلوے سروس فعال ہے ، نہ ہی ایئرپورٹ کام کر رہا ہے،یہاں نہ موٹروے ہےاور نہ اچھی سڑکیں موجود ہیں، میٹرو بس،اورینج ٹرین ، فلائی اوور، انڈر پاس یا جدید بنیادی ڈھانچوں کا توکوئی تصورہی نہیں کیا جاسکتاہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں ڈی جی سیمنٹ اور الغازی ٹریکٹرز جیسی بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جو خطے کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ صنعتیں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کررہی ہیں اور نہ ان کے لیے صحت کی سہولت، نہ تعلیمی ادارے قائم کرتی ہیں اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کے منصوبے دئے ہیں۔ بلکہ ان فیکٹریوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی، دمہ، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ صنعتیں صرف دولت جمع کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔

    ڈیرہ غازیخان میں اٹامک انرجی موجود ہے ،پاکستان اٹامک انرجی کے زیرِ انتظام کئی اضلاع میں کینسر ہسپتال کام کر رہے ہیں لیکن ڈیرہ غازیخان کی عوام اس بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ اس علاقے میں کینسر کی بیماری عام ہے ،کینسرکے مریض بے یار و مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو عوام کے ساتھ سوکن جیسا سلوک ہے۔

    یہ حیرت کی بات ہے کہ یہاں کے عوام کو اس قدر سنگین مسائل کا سامنا ہے حالانکہ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والی کئی اہم سیاسی شخصیات نے ملک کے اعلی ترین عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ سردار میر بلخ شیر مزاری اور غلام مصطفی جتوئی وزرائے اعظم رہے، سردار فاروق احمد خان لغاری پاکستان کے صدر رہے اور دیگر سردار بھی اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ اس کے باوجود ضلع کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    سردار اویس احمد خان لغاری جو اس وقت وفاقی وزیر برائے توانائی ہیں اور ہردور میں حکومت کا حصہ رہے اور اہم وزارتوں پر فائز رہے ہیں، ریلوے اسٹیشن کی بحالی یا دیگر بنیادی منصوبوں میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ کر سکے۔ ان کی قیادت میں ریلوے اسٹیشن جو چاروں صوبوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا مگر کرپشن اور غفلت کے باعث ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس کی زمین اور دیگر اثاثے کرپٹ مافیا کے ہاتھوں میں جا چکے ہیں جو اسے اونے پونے بیچ رہے ہیں،سردار اویس احمد لغاری آج تک ڈیرہ غازیخان کیلئے کوئی میگاپروجیکٹ لانے میں عملاََ ناکام رہے ہیں

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور ان کے بیٹے سردار دوست محمد کھوسہ جو وزیر اعلی پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں بھی علاقے کی ترقی میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکے۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں غازی میڈیکل کالج دیا لیکن اس کالج میں آج بھی مقامی طلباء کیلئے کوئی کوٹا مختص نہیں ہے ،عملاََ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے طلباء غازی میڈیکل کالج میں داخلوں سے محروم رہتے ہیں، سردار دوست محمد کھوسہ کے مختصر دورِ حکومت میں چند ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے لیکن ان کی پائیداری اور عوام تک رسائی محدود رہی۔

    سردار فاروق احمد خان لغاری نے ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایالیکن ائرپورٹ چالو ہونے کے بجائے بند پڑا ہے۔ سردار عثمان بزدار نے وزیر اعلی کے طور پر صرف ایک میگا پروجیکٹ سردار فتح محمد خان بزدار کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ دیا۔ دیگر وعدے محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں تونسہ میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی گئی جبکہ ڈیرہ غازیخان نظر انداز رہا۔ ان کے بھائیوں کی کرپشن کی کہانیاں بھی عوام میں گردش کرتی رہیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی عوام دہائیوں سے سرداروں کے وعدے سنتی آ رہی ہے۔ یہ ضلع ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے جس میں چھ اضلاع شامل ہیں، ترقی کے معاملے میں باقی پنجاب سے کہیں پیچھے اور پسماندہ ترین ضلع ہے۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کے مسائل حل ہوں گے اور کب وہ بنیادی سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، لیکن ایوان اقتدار میں بیٹھے سردار عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

    یہ ضلع جو قدرتی وسائل اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے صرف وعدوں پر گزارا کر رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید گم ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا نہ ہونا یہاں کے سرداروں اور حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے فوری اور مئوثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس علاقے کے مسائل حل ہوں اور یہاں کی عوام بھی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی اور عوامی مسائل کا حل اس بات پر منحصر ہے کہ علاقے کی سیاسی قیادت کتنی سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے۔ سرداروں کی قیادت میں اب تک جو ترقیاتی منصوبے نظرانداز ہوئے ہیں، اس بات کا غماز ہے کہ سرداروں کو عوامی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اگر فوری طور پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید غرق ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے حقوق اور سہولتیں جلد از جلد فراہم کی جائیں تاکہ یہ خطہ ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔

    اب سرداروں کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اب یہ 77سال پہلے بزرگوں والا ڈیرہ غازیخان نہیں ہے، جب آپ کے بڑوں کے ایک پیغام پر تمام برادریاں ووٹ دیا کرتی تھیں ،اب وقت تبدیل ہوچکا ہے ، یہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا ڈیرہ غازیخان ہے اگر اب بھی آپ نے ایوانوں بیٹھ کر اپنے علاقے ،اپنے شہراور ضلع کے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب آپ دوبارہ اسمبلیوں میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے اور بہت جلد آپ کی جگہ کوئی اور اسمبلی میں پہنچ جائے گا اور آپ ماضی کاحصہ بن جائیں۔

  • میرپورخاص: پولیس کی بڑی کارروائی، 80 لاکھ روپے مالیت کی چھالیہ اسمگلنگ ناکام

    میرپورخاص: پولیس کی بڑی کارروائی، 80 لاکھ روپے مالیت کی چھالیہ اسمگلنگ ناکام

    میرپورخاص،باغی ٹی وی( نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میرپورخاص پولیس نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 80 لاکھ روپے مالیت کی چھالیہ اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی میرپورخاص شبیر احمد سیٹھار کے سخت احکامات پر منشیات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہی احکامات کی روشنی میں ایس ایچ او میرواہ پولیس اسٹیشن انسپکٹر جنید قمر میمن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ خفیہ اطلاعات پر ایک کامیاب کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران میرواہ روڈ پر سیم نالہ کے قریب ایک ڈمپر کو روکا گیا، جس میں چھالیہ کے 60 کٹے (وزن 720 کلوگرام) چھپائے گئے تھے۔

    گرفتار ملزمان میں غفران خان ولد نظر خان پٹھان، سکنہ حب چوکی اور سہیل خان ولد روزی خان، سکنہ کوئٹہ شامل ہیں

    پولیس کے مطابق ملزمان چھالیہ کو ڈمپر کے خفیہ خانوں میں چھپا کر اسمگل کر رہے تھے۔ میرواہ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 90/2024 زیر دفعہ 5/8 SPPMSSGM میرواہ پولیس اسٹیشن میں درج کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کے دیگر کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    میرپورخاص پولیس کی اس کارروائی کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور یہ پولیس کی انسدادِ منشیات مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

  • تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟

    تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟

    تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟
    تحریر:حبیب اللہ خان
    پاکستان کے شہر بہاولپور کی بہاری کالونی میں 23 سالہ طالبہ صفورہ بتول نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے، کیا ہمارا تعلیمی نظام طلباء کی ذہنی صحت کا خیال رکھتا ہے؟

    یہ سانحہ محض ایک فرد کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے رویے اور معاشرتی دباؤ کی ایک گہری جھلک ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں کامیابی کو صرف اچھے نمبر اور گریڈ تک محدود کر دیا گیا ہے، نوجوانوں کے ذہنی سکون اور جذباتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ صفورہ کی خودکشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طلباء امتحانی ناکامی کو ذاتی ناکامی سمجھ کر زندگی ختم کرنے جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ہمارے تعلیمی ادارے صرف عددی کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ طلباء کی ذہنی صحت، جذباتی بہبود اور شخصیت کی تعمیر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ طلباء کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ایک امتحان ان کی پوری زندگی کا پیمانہ نہیں ہو سکتا مگر موجودہ تعلیمی ماحول انہیں اس حد تک دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ اپنی ذات پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔

    والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر غیر ضروری کامیابی کا بوجھ نہ ڈالیں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ امتحانات میں ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے جس سے سیکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اعتماد دیں اور ان کی جذباتی سپورٹ بنیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے بچ سکیں۔

    تعلیمی اداروں میں مشاورت (کاؤنسلنگ) کے نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلباء کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں وہ اپنے مسائل کو بیان کر سکیں اور ان کا حل تلاش کر سکیں۔ تعلیمی کامیابی کے ساتھ ذہنی سکون اور جذباتی توازن پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف ڈگری، پیشہ ورانہ کامیابی اور مالی حیثیت تک محدود ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کا حقیقی مفہوم وہ خوشی، سکون اور ذہنی توازن ہے جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

    صفورہ بتول کی خودکشی ایک دردناک سوال چھوڑ گئی ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام صرف نمبروں اور نتائج کی دوڑ کے لیے بنا ہے یا طلباء کی شخصیت، جذبات اور ذہنی سکون کی پرورش کا بھی ذمہ دار ہے؟ اس سانحے نے یہ حقیقت عیاں کی ہے کہ جب تک ہم تعلیمی کامیابی کو وسیع تر انسانی اقدار سے نہیں جوڑیں گے، تب تک ہم اپنی نسلوں کو صرف کامیابی کے بوجھ تلے روندتے رہیں گے۔

    یہ وقت ہے کہ تعلیمی ادارے، والدین اور معاشرہ مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں امتحانی ناکامی کو ایک تعلیمی تجربہ سمجھا جائے نہ کہ زندگی کا خاتمہ۔ والدین کو اپنے بچوں کے لیے محبت اور حمایت کا ستون بننا ہوگا اور تعلیمی نظام کو طلباء کی ذہنی صحت اور جذباتی استحکام کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

    صفورہ کی المناک موت صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اور معاشرتی رویوں کو نہ بدلا تو ہم مزید صفوراؤں کو کھو دیں گے۔ کامیابی کی تعریف کو دوبارہ متعین کرنا اور ایک جامع، متوازن اور انسانیت پر مبنی تعلیمی نظام کی تشکیل ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

  • بینظیر بھٹو کی برسی، خیرپور سے ہزاروں کارکنوں کا قافلہ روانگی کے لیے تیار

    بینظیر بھٹو کی برسی، خیرپور سے ہزاروں کارکنوں کا قافلہ روانگی کے لیے تیار

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق علی لغاری)سابق وزیراعظم اور شہید رہنما بینظیر بھٹو کی برسی کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس وسان ہاؤس خیرپور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سابق رکن قومی اسمبلی اور ضلعی صدر نواب علی وسان نے کی۔

    اجلاس میں ضلعی جنرل سیکریٹری اعجاز کھوڑو، انفارمیشن سیکریٹری علی شیر مکول، ڈاکٹر غلام مصطفی سہاگ، پیر عبدالحق فاروقی، ضلعی چیئرمین نادر علی راجپر اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ خواتین ونگ، یوتھ ونگ، اور ذیلی تنظیموں کے نمائندگان بھی اجلاس کا حصہ تھے۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 27 دسمبر کو شہید بینظیر بھٹو کی برسی کے لیے خیرپور سے ہزاروں کارکنوں پر مشتمل قافلہ ضلعی صدر نواب علی وسان کی قیادت میں روانہ ہوگا۔ یہ قافلہ صبح 11 بجے ٹنڈو مستی بائی پاس سے گڑھی خدا بخش بھٹو کے لیے روانہ ہوگا۔

    نواب علی وسان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد برسی کے موقع پر شہید بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اور دیگر مرکزی رہنما خطاب کریں گے۔

    اجلاس میں برسی کے انتظامات اور کارکنوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ رہنماؤں نے کارکنوں کو برسی میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی۔

  • گوجرہ:عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے زائرین کا شاندار استقبال

    گوجرہ:عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے زائرین کا شاندار استقبال

    گوجرہ، باغی ٹی وی (نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے زائرین کا شاندار استقبال

    مولانا علامہ عبدالعلی غزالی اور مولانا قاری عباس قادری جو عمرہ زائرین کے گروپ انچارج تھے، عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس پہنچے۔ ملتان ایئرپورٹ پر مینجنگ ڈائریکٹر عامر بٹ (مکہ مدینہ ٹریولز اینڈ ٹولز) نے ان کے عزیز و اقارب اور دوستوں کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور زائرین کو دعاؤں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ جب یہ قافلہ گوجرہ دفتر مکہ مدینہ ٹریولز اینڈ ٹولز (جھنگ روڈ، نزد رحمٰن رینٹ اے کار) پہنچا تو وہاں بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔ گلدستے پیش کیے گئے اور نیک تمناؤں کے ساتھ زائرین کو ان کے گھروں کے لیے رخصت کیا گیا۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    میرپور ماتھیلو، باغی ٹی وی (نامہ نگار: مشتاق علی لغاری)بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت کے لیے یونیورسٹی پہنچ گئے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے استقبال کے لیے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ جیلانی، رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، سید اسد علی شاہ جیلانی، سید امجد علی شاہ اور دیگر معززین موجود تھے۔

    تقریب میں بلاول بھٹو زرداری نے طلباء و طالبات کی کامیابیوں پر مبارکباد دی اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ کانووکیشن میں مختلف معزز شخصیات، والدین اور یونیورسٹی انتظامیہ نے شرکت کی۔

  • ڈیرہ غازی خان: کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان جاری

    ڈیرہ غازی خان: کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان جاری

    ڈیرہ غازی خان، باغی ٹی وی (نیوز رپورٹر شاہد خان)کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے ڈیرہ غازی خان ریجن میں فول پروف سکیورٹی انتظامات مکمل

    ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کے احکامات پر ریجن کے تمام اضلاع میں کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ریجن کے 41 گرجا گھروں میں کرسمس تقریبات اور 17 مقامات پر قائداعظم ڈے کی تقریبات کی سکیورٹی کے لیے 864 پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی میں 7 ڈی ایس پی، 56 انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز شامل ہیں، جبکہ ایلیٹ فورس اور موٹر سائیکل اسکواڈ مسلسل گشت پر رہیں گے۔

    گرجا گھروں میں داخلے کے لیے 81 میٹل ڈیٹیکٹرز کا استعمال اور 167 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے آن لائن نگرانی کی جائے گی۔ آر پی او نے تمام ضلعی پولیس سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ وہ خود سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں اور چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ یقینی بنائیں۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہم اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے تاکہ وہ اپنے مذہبی تہوار پُرامن طریقے سے منا سکیں۔

  • تنگوانی :ڈیرہ سر میں مسلح افراد کا نوجوان پر تشدد، بائیک اور سامان لوٹ کر فرار

    تنگوانی :ڈیرہ سر میں مسلح افراد کا نوجوان پر تشدد، بائیک اور سامان لوٹ کر فرار

    تنگوانی، باغی ٹی وی (نامہ نگار: منصور بلوچ)ڈیرہ سر کے قریب مسلح افراد کا نوجوان پر تشدد، موبائل، پیسے اور بائیک چھین کر فرار

    تنگوانی کے قریب ڈیرہ سر تھانے کی حدود میں جی جی ایل نوناری کے اسٹاپ پر نامعلوم مسلح افراد نے امام بخش بجارانی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے موبائل فون، نقدی، دیگر سامان اور بائیک چھین کر فرار ہو گئے۔

    زخمی امام بخش بجارانی کو فوری طور پر علاج کے لیے تنگوانی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق پولیس واقعے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اب تک کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔

    عوام نے پولیس کی نااہلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • تنگوانی: چوری شدہ موٹر سائیکل کی برآمدگی میں تاخیر، متاثرہ شہری کا احتجاج

    تنگوانی: چوری شدہ موٹر سائیکل کی برآمدگی میں تاخیر، متاثرہ شہری کا احتجاج

    تنگوانی، باغی ٹی وی (نامہ نگار: منصور بلوچ)تنگوانی بازار میں ایک ماہ قبل چوری ہونے والا موٹر سائیکل واپس نہ ملا، متاثرہ شہری کا احتجاج

    تنگوانی کے مین بازار میں ایک ماہ قبل شاہین بیکری کے سامنے سے عابد علی گجرانی کی موٹر سائیکل نامعلوم چور لے کر فرار ہو گئے تھے۔ تنگوانی پولیس کی مبینہ غفلت اور ٹال مٹول کے باعث ایک ماہ گزرنے کے باوجود متاثرہ شہری کو موٹر سائیکل واپس نہیں ملا، جس پر عابد علی نے احتجاج کیا۔

    عابد علی گجرانی نے صحافیوں کو بتایا کہ میری موٹر سائیکل شاہین بیکری کے سامنے سے، جو تنگوانی کے بیچ بازار میں واقع ہے، نامعلوم چور چابی لگا کر لے گئے تھے۔ اس واقعے کی رپورٹ فوری طور پر تھانہ تنگوانی میں درج کروائی گئی تھی مگر پولیس نے صرف تسلیاں دے کر ایک ماہ گزار دیا اور کوئی کارروائی نہیں کی۔

    متاثرہ شہری نے پولیس پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ تنگوانی پولیس جان بوجھ کر معاملے کو لٹکا رہی ہے اور اب تک میری موٹر سائیکل برآمد نہیں کی گئی۔ عابد علی گجرانی نے خبردار کیا کہ اگر موٹر سائیکل واپس نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کو مزید وسیع کرتے ہوئے تھانے کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے۔

    عوامی حلقوں نے پولیس کی نااہلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کارروائی کر کے متاثرہ شہری کی موٹر سائیکل برآمد کی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔