Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: پولیس اور سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، دو خوارجی دہشتگرد ہلاک

    ڈیرہ غازی خان: پولیس اور سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، دو خوارجی دہشتگرد ہلاک

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) پولیس اور سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، دو خوارجی دہشتگرد ہلاک

    ڈیرہ غازی خان میں پنجاب خیبرپختونخوا سرحد پر پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں دو خطرناک خوارجی دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی تھانہ وہوا کے علاقے کوتانی تل میں کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق دہشتگرد پولیس پر راکٹ، ہینڈ گرینیڈ اور بھاری اسلحے سے حملہ آور ہوئے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے جوانمردی سے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ دہشتگردوں کے قبضے سے راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینیڈ اور جدید اسلحہ برآمد ہوا۔

    اطلاعات کے مطابق دہشتگرد پنجاب کے تھانوں اور حساس مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس کی بروقت کارروائی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔

    آپریشن کی کمانڈ آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے کی، جبکہ ڈی پی او سید علی فوری طور پر موقع پر پہنچے اور کارروائی کی نگرانی کی۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے خوارجی دہشتگردوں کے خاتمے پر پولیس اور سی ٹی ڈی ٹیموں کو شاباش دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ اور سویپ آپریشن جاری ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: پولیس مقابلہ خطرناک ڈاکو ہلاک، ایس ایچ او زخمی

    ڈیرہ غازی خان: پولیس مقابلہ خطرناک ڈاکو ہلاک، ایس ایچ او زخمی

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) پولیس مقابلے میں خطرناک ڈاکو ہلاک، ایس ایچ او زخمی

    ڈیرہ غازی خان کے تھانہ کالا کی حدود میں پولیس مقابلے کے دوران مطلوب ڈاکو حق نواز ہلاک ہو گیا، جبکہ ایس ایچ او طاہر سلیم فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہو گئے۔

    ایس ایچ او طاہر سلیم اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ موضع بیٹ شادن میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے پہنچے، جہاں ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ایک گولی ایس ایچ او کے دائیں کندھے پر لگی تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    ہلاک ہونے والے ملزم حق نواز قتل، اقدامِ قتل، اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں مطلوب تھا۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی نگرانی کی اور زخمی ایس ایچ او کی عیادت کرتے ہوئے ان کی بہادری کو سراہا۔ پولیس حکام کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

  • قصور: پولیس کانسٹیبل محمد بوٹا رشوت کے الزام میں گرفتار

    قصور: پولیس کانسٹیبل محمد بوٹا رشوت کے الزام میں گرفتار

    قصور،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو) پولیس کانسٹیبل محمد بوٹا رشوت کے الزام میں گرفتار

    اینٹی کرپشن نے پولیس کانسٹیبل محمد بوٹا کو رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق، محمد بوٹا پر 436/C کے قتل کیس میں 15 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام تھا۔ ملزم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 08/22 مورخہ 16 مارچ 2022 کو درج کی گئی تھی۔

    تفتیش کے دوران ملزم قصور وار پایا گیا، اور مجاز اتھارٹی نے 15 فروری 2024 کو عدالتی کارروائی کی منظوری دے دی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہدایت پر ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔

    محمد بوٹا کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ملزم کے قبضے سے رشوت کی رقم برآمد کی جائے گی۔

  • سیالکوٹ: سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو سیالکوٹ پولیس کا سلام

    سیالکوٹ: سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو سیالکوٹ پولیس کا سلام

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض ) سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سیالکوٹ پولیس نے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق کی ہدایت پر سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی کے موقع پر سیالکوٹ کے شہید طلباء خوشنود زیب اور شاہ زیب کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے سیالکوٹ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے ان کی قبروں پر حاضری دی۔

    پولیس کے دستے نے شہداء کی قبروں کو سلامی دی، پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    یہ تقریب اس عزم کا اعادہ ہے کہ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

  • پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین

    پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین

    پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین
    تحریر:حبیب اللہ خان
    پنجاب کی سرزمین تاریخی، ثقافتی اور روحانی خزانہ ہے، جہاں مختلف زبانوں، رنگوں اور عقائد کے لوگ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ پنجاب سرائیکی، پنجابی اور اردو ادب سے تعلق رکھنے والے عظیم شعراء کی سرزمین ہے۔ اس خطے کی سرسبز وادیوں اور دریاؤں کے کنارے، جہاں قدرتی حسن کا جادو بکھرا ہوا ہے وہیں یہاں کے عظیم شعراء کی شاعری بھی عالمی ادب اور ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ان شاعروں کی تخلیقات نے محبت اور انسانیت کے پیغام کو دوام بخشا۔

    بابا فرید گنج شکر کی شاعری میں سادگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ روحانیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ حقیقی سکون اللہ کی رضا میں ہے اور انسانیت کی خدمت عبادت کا لازمی جزو ہے۔ ان کے اشعار میں دکھ اور درد کی سچائیاں جھلکتی ہیں جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتی ہیں اور روحانی سکون کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔

    شاہ حسین مادھولال نے عشق و محبت کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا کلام سادگی اور اثر انگیزی کا شاہکار تھا، جو آج بھی لاہور کی گلیوں میں گونجتا ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ محبت کا راستہ سکون اور نفس کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔

    سلطان باھو کی تصوف سے معمور شاعری نے پنجاب کی روحانی اقدار کو نئی جہت دی۔ ان کے کلام میں اللہ کی محبت کا جوش و جذبہ جھلکتا ہے جو انسان کو دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہوکر روحانی ترقی کی جانب گامزن کرتا ہے۔

    بابا بھلے شاہ اور سید وارث شاہ جیسے عظیم شعراء نے محبت اور انسانیت کے آفاقی پیغامات دیے۔ بابا بھلے شاہ کا کلام "منو میرا دل” آج بھی روح کو تازگی بخشتا ہے جبکہ سید وارث شاہ کی "ہیر رانجھا” نہ صرف محبت کی لازوال داستان ہے بلکہ سماجی و ثقافتی مسائل کی عکاس بھی ہے۔

    خواجہ غلام فرید اور میاں محمد بخش نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انسانیت اور روحانیت کے پیغام کو عام کیا۔ ان کا کلام دلوں میں روشنی اور اندرونی حقیقتوں کا شعور پیدا کرتا ہے۔ ان کی تخلیقات روحانی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

    خواجہ غلام فرید کی کافیاں محبت، فطرت اور حسن کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کے کلام میں خاص طور پر "پیلوں” جیسی کافیاں بہت مشہور ہیں، جن میں پنجاب کے دیہی کلچر اور محبت کا اظہار ہوتا ہے:

    آ چنوں رل یار ، پیلوں پکیاں نی وے

    کئی بگڑیاں کئی ساویاں پلیاں ،کئی بھوریاں کئی پھکڑیاں نیلیاں

    کئی اودیاں گل نار،کٹوئیاں رتیاں نی وے

    بار تھئی ہے رشک ارم دی،سک سڑ گئی جڑھ ڈکھ تے غم دی

    ہر جا باغ بہار،شاخاں چکھیاں نی وے

    حوراں پریاں ٹولے ٹولے،حسن دیاں ہیلاں برہوں دے جھولے

    یہ اشعار خواجہ غلام فرید کی شاعری کی گہرائی اور پنجاب اور خاص طورسرائیکی خطے کی خوبصورت منظرکشی کا عکاس ہیں جو آج بھی دلوں کو محبت اور سکون عطا کرتے ہیں۔

    معاصر شاعر واصف علی واصف نے اپنی شاعری میں نفسیات، معاشرتی مسائل اور روحانی ترقی کو اجاگر کیا۔ ان کے اشعار انسان کو اپنی ذات کی گہرائیوں کو سمجھنے اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    پنجاب کے ان عظیم شعراء کی میراث محبت، انسانیت اور روحانیت کا درس دیتی ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف ادب کا سرمایہ ہے بلکہ زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے پیغامات آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں جو ہمیں اپنی اصل حقیقت سے جڑنے اور اعلیٰ مقاصد کی جانب بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    پنجاب کے یہ عظیم شعراء اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت، محبت اور روحانیت کے آفاقی پیغام کو پھیلاتے رہے ہیں۔ ان کے کلام میں زبانوں اور ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے، جو پنجابی، سرائیکی اور اردو ادب کو ایک ہی رنگ میں سمو دیتا ہے۔ ان کا کلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ادب اور شاعری کا مقصد انسان کو اس کی حقیقت، محبت اور اپنے رب کے قرب کی طرف لے جانا ہے۔ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ اور موثر ہے جتنا کہ صدیوں پہلےتھا .

  • اوچ شریف:تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت

    اوچ شریف:تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر سمیرا ربانی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیمی اداروں میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں چار دیواری کے ساتھ خاردار تار اور کلوز سرکٹ کیمرے نصب کرائے جائیں۔ اداروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر بیرئیرز رکھے جائیں اور انٹری پوائنٹس پر انٹری رجسٹر بھی ترتیب دیا جائے۔ سمیرا ربانی نے مزید کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں سکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں اور اداروں کے سربراہان اپنے اپنے اداروں کے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کریں۔

    اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہاول پور سٹی، اسسٹنٹ کمشنر بہاول پور صدر اور تعلیمی اداروں کے سربراہان شریک تھے جبکہ دیگر تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

  • تلہ گنگ: ڈی پی او چکوال کی "کھلی کچہری” کے اثرات سامنے آنے لگے

    تلہ گنگ: ڈی پی او چکوال کی "کھلی کچہری” کے اثرات سامنے آنے لگے

    تلہ گنگ،باغی ٹی وی(شوکت علی ملک سے)ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی تھانہ ٹمن میں "کھلی کچہری” کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے اہم کاروائیاں کی ہیں۔

    گزشتہ روز ڈی پی او چکوال کی ہدایت پر تھانہ ٹمن کی پولیس نے متحرک ہوکر ڈی ایس پی تلہ گنگ کی سربراہی میں پہلی کامیاب کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ایس ایچ او تھانہ ٹمن ضمیر حسین نے پولیس کی نفری کے ہمراہ ملتان خورد میں قبضہ مافیا سے اراضی واگزار کرائی۔

    اس کے علاوہ، درخواست گزار بیوہ کی شکایت پر اس کی بیٹی کے چوری شدہ جہیز کا سامان بھی برآمد کرلیا گیا۔ موٹر سائیکل چوری کی برآمدگی کے لیے بھی پولیس کی تفتیش جاری ہے اور جلد بڑی کامیابی کی توقع ہے۔

    اہلیانِ علاقہ نے ڈی پی او چکوال کی ہدایت پر تھانہ ٹمن پولیس کی کاروائیوں پر اظہارِ اطمینان کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔

  • اوچ شریف: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی پر اہم شخصیات کا اظہار خیال

    اوچ شریف: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی پر اہم شخصیات کا اظہار خیال

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) سانحہ اے پی ایس کی دلخراش یادیں آج بھی ہمارے ذہنوں پر نقش ہیں، اس سانحے میں معصوم طلبہ، اساتذہ اور عملے کو دہشت گردوں نے بربریت کا نشانہ بنایا۔ علم کے چراغ روشن کرتے ہوئے قربان ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    اوچ شریف میں تعلیم سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی کے موقع پر ایک سروے میں اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر محمد اجمل بھٹی نے کہا کہ ہم سانحہ اے پی ایس کے شہداء کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کی جدوجہد میں شہداء کا بلند مقام ہے۔

    محمد اکمل شیخ نے کہا کہ ہم اس دن کے موقع پر عہد کرتے ہیں کہ اے پی ایس کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ محمد اسحاق جوئیہ نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ ہم متحد ہو کر ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی اور جوانوں کی قربانیاں ہماری کامیابی کی ضمانت ہیں۔

    ڈاکٹر فرحت عباس محسن نے کہا کہ 16 دسمبر 2014ء کا سانحہ آج بھی ترو تازہ ہے اور سید احمر رضا گیلانی نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گردوں کے حملے میں تقریباً 149 افراد شہید ہوئے۔

    زوار حسین بھٹہ نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کی سب سے بربریت بھری دہشت گردی کی کارروائیوں میں سے تھا۔ محمد اعجاز خان پٹھان، ملک ذوالفقار علی مکول، پروین عطا ملک (ایڈووکیٹ)، خواجہ نثار علی صدیقی، ارشاد احمد شاد، محمد عدنان تاتاری، جنید سیال، عمر خورشید سہمن، حبیب اللہ خان، ساجد بنوں اور دیگر شخصیات نے کہا کہ اے پی ایس پر حملہ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کا ردعمل تھا، جو دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔

    یہ سانحہ نہ صرف قوم کو سوگوار کرتا ہے بلکہ ایک نیا عزم بھی دیتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید استحکام اور عزم کے ساتھ لڑنا ہوگا۔ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی قوم کو دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔

  • اوچ شریف: ڈاک خانہ میں عملے کی کمی ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف: ڈاک خانہ میں عملے کی کمی ، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) سب تحصیل اوچ شریف کا اکلوتا ڈاک خانہ عملے کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ڈاک کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ پوسٹ ماسٹر شہریوں کو فون کر کے انہیں ڈاک وصول کرنے کی اطلاع دیتے ہیں، کیونکہ پوسٹ مین نہ ہونے کی وجہ سے ڈاک کی تقسیم میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، 45 سے زائد مواضعات پر مشتمل سب تحصیل اوچ شریف میں محکمہ ڈاک کی جانب سے عملے کی کمی کے باعث ڈاک خانہ کا دفتری نظام متاثر ہو رہا ہے۔ 25 برس قبل جب شہر کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل تھی، یہاں پر چار ڈاکیے تعینات تھے، لیکن اب شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ جانے کے باوجود محکمہ ڈاک نے عملے میں اضافہ کرنے کی بجائے کمی کر دی ہے۔

    پوسٹ آفس اوچ شریف کا پوسٹ ماسٹر شہریوں کو خود فون کر کے انہیں ڈاک خانہ آ کر ڈاک وصول کرنے کی اطلاع دیتا ہے، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک اہم ڈاک کی ترسیل متاثر ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں شہریوں نے نجی کوریئر کمپنیوں کا رخ کر لیا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی کے حساب سے پوسٹ آفس اوچ شریف میں عملے کی تعداد بڑھائی جائے اور پوسٹ مین کو بروقت ڈاک کی تقسیم کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ شہری ایک مرتبہ پھر سرکاری ادارے پر اعتماد کر سکیں۔

  • اوچ شریف: گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج کے وفد کی ڈائریکٹر کالجز بہاولپور سے ملاقات

    اوچ شریف: گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج کے وفد کی ڈائریکٹر کالجز بہاولپور سے ملاقات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) گورنمنٹ سید شمس الدین گیلانی ایسوسی ایٹ کالج اوچ شریف کے سٹاف نے پروفیسر حافظ محمد خالد محمود کی قیادت میں ڈائریکٹر کالجز بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر شرافت علی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد نے ڈاکٹر شرافت علی کو بطور ڈائریکٹر تعیناتی پر مبارکباد پیش کی اور کالج کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔

    ملاقات میں اوچ شریف کالج میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ اور طلبہ کو درپیش مشکلات اور تعلیمی معیار میں بہتری جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر شرافت علی نے وفد کو یقین دلایا کہ اوچ شریف کالج کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر کالج کے وفد نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر شرافت علی کی قیادت میں بہاولپور ڈویژن کے کالجز میں تعلیمی سرگرمیاں مزید ترقی کریں گی اور میرٹ کو فروغ ملے گا۔ وفد میں پروفیسر عمران سعید، پروفیسر چوہدری طارق اقبال، پروفیسر رانا فیصل اور پروفیسر شالیم ڈیوس شامل تھے۔