Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈسکہ: خودکشی کا بڑھتا رجحان دین سے دوری کا نتیجہ ہے، عبدالقدیر اعوان

    ڈسکہ: خودکشی کا بڑھتا رجحان دین سے دوری کا نتیجہ ہے، عبدالقدیر اعوان

    ڈسکہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک عمران) خودکشی کا بڑھتا رجحان دین سے دوری کا نتیجہ ہے، عبدالقدیر اعوان

    تفصیل کے مطابق معاشرتی ترقی، جدید آسائشوں اور خوبصورت گھروں کے باوجود انسانوں میں خوشی اور سکون کی شدید کمی نے خودکشی کے رجحان میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ بات امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے خطاب میں کہی۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں دین اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کیا جا رہا ہوتا ہے، وہاں زندگی سکون اور اطمینان کے ساتھ گزر رہی ہوتی ہے، خواہ دنیاوی وسائل محدود ہی کیوں نہ ہوں۔ دین سے جڑنے اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سکون کی کمی اس بات کا مظہر ہے کہ ہم دین کو مان تو رہے ہیں لیکن حقیقی یقین سے عاری ہیں۔

    انہوں نے کہا، "ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو کو دین اسلام کے مطابق ڈھالیں۔ دین اسلام وہ نظام حیات ہے جو ہماری ذاتی، معاشرتی، اور اجتماعی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ جہاں اللہ کے احکامات کو ترک کر کے ذاتی پسند کو ترجیح دی جائے گی، وہاں نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔”

    آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

  • میہڑ: بی سیکشن تھانے کی حدود میں نامعلوم شخص کی جلی ہوئی لاش برآمد

    میہڑ: بی سیکشن تھانے کی حدود میں نامعلوم شخص کی جلی ہوئی لاش برآمد

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ) بی سیکشن تھانے کی حدود میں نامعلوم شخص کی جلی ہوئی لاش برآمد

    میہڑ کے نواحی علاقے بی سیکشن تھانے کی حدود میں گاؤں گھاڑی سے ایک نامعلوم شخص کی آگ میں جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور ابتدائی معلومات حاصل کیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق رات گئے نامعلوم کار سوار افراد لاش کو سوکھے گھاس میں رکھ کر آگ لگا کر فرار ہو گئے، جس سے لاش مکمل طور پر جل گئی۔ پولیس نے لاش کو تحصیل ہسپتال منتقل کر دیا اور واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    آخری اطلاعات تک لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔ پولیس واقعے کی نوعیت اور ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔

  • لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    تفصیل کے مطابق لنڈی کوتل پریس کلب (رجسٹرڈ) میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کی صدارت سابق صدر شاہ رحمان اور کابینہ نے کی، جہاں تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔

    ایجنڈے میں 2024 کے کابینہ کا احتساب، الیکشن کمیٹی کی تشکیل، اور نئے ممبران کو رکنیت دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تینوں نکات کو منظور کیا گیا۔

    نئی رکنیت حاصل کرنے والوں میں صائم افریدی، خان زیب، عمر خٹک، اجمیر خان، منصور، اور رحیم افریدی شامل ہیں، جبکہ جواد شینواری کی رکنیت بحال کر دی گئی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ مقرر ہوئے، جبکہ ممبران میں اکمل قادری، ابو زر افریدی، اور شاہد افریدی شامل ہیں۔

    الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ نے شفاف انتخابات کے انعقاد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کے وسیع تر مفاد کے لیے اجتماعی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا۔

  • ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب
    رپورٹ: ملک امان شجاع
    کیمبل پور (اٹک) میں واقع برصغیر پاک و ہند کی معروف علمی درسگاہ، گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی اسکول (سابق ایم سی مڈل اسکول کیمبل پور) نے 1924 سے 2024 تک ایک صدی مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس یادگار تقریب میں اسکول کے سابق طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ملائیشیا میں پاکستان کے سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی، سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم، ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر راجہ زاہد، اور دیگر شامل تھے۔ ان معزز شخصیات کو اس عظیم درسگاہ میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

    سابق طلباء نے اپنے خطاب میں ماضی کی یادیں تازہ کیں۔ ان مقررین میں سابق ڈائریکٹر محکمہ صحت راولپنڈی ڈاکٹر خالد محمود خان، پروفیسر سید عاطف بخاری، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) محمد سلیم شہزاد، سابق وائس چیئرمین بلدیہ ملک طاہر اعوان، رہنما مسلم لیگ (ن) حاجی محمد اکرم خان، اور دیگر شامل تھے۔

    اسکول کے طلباء نے مختلف ٹیبلو اور پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ خاتون ٹیچر میڈم سعدیہ کی زیر نگرانی طلباء نے برصغیر میں تعلیم کے عروج و زوال پر مبنی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ اور اسکول کی صد سالہ تاریخ پر خاکہ پیش کیا، جس نے حاضرین کو متاثر کیا۔ محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان، اور طلباء کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اس تقریب میں اسکول کے سابق طلباء کی خدمات کو سراہا گیا، جنہوں نے ملک اور بیرون ملک مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ان میں شامل ہیں: احمد ندیم قاسمی (شاعر و ادیب)، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سابق وزیر و رکن قومی اسمبلی ملک محمد اسلم خان، سابق ایئر مارشل شفیق حیدر، معروف نعت گو شاعر انوار فیروز مرحوم، اور کئی دیگر نمایاں شخصیات۔

    پرنسپل محمد عارف نے صد سالہ تقریب کے انعقاد پر سابق طلباء کا شکریہ ادا کیا اور اسکول کی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گورنمنٹ اسکولز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے انعام دیں گے۔

    اسکول میں جدید آئی ٹی لیب اور جمناسٹک کی سہولت موجود ہے۔ پنجاب کے واحد باسکٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کی گئی ہے۔ اسکول کے طلباء نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

    برطانوی دور میں 1924 میں یہ ادارہ قائم ہوا اور وقت کے ساتھ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا ایک معیاری درسگاہ بن گیا۔ اس کی پرانی عمارت ایک نایاب تاریخی ورثہ تھی، جو نئی عمارت کی تعمیر کے دوران منہدم کر دی گئی۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کو انعامات دیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی نے اعلان کیا کہ وہ ہر سال اعلیٰ کارکردگی کے حامل طلباء کو ٹرافی دیں گے۔

  • سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    16 دسمبر 2014 کی صبح، پشاور کی سرزمین نے ایک ایسا دردناک سانحہ دیکھا، جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں محسوس کی گئی۔ آرمی پبلک سکول جو بچوں کے خوابوں اور مستقبل کی تعمیر کا مرکز تھا، اس دن دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ اس اندوہناک واقعے نے پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا جو ہمیشہ دلوں کو دہلا دینے اور آنکھوں کو نم کرنے والا رہے گا۔

    پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کا شکار رہا ہے۔ 2000 کی دہائی سے دہشتگردوں نے نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عوام خصوصاً معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول دہشتگردوں کی ایک بزدلانہ کارروائی تھی، جس کا مقصد ملک کے مستقبل کو تاریک کرنا تھا۔

    اس دن سات دہشتگردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔ تقریباً نو گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس قیامت خیز واقعے میں 132 معصوم طلباء اور 17 اساتذہ و عملے کے ارکان شہید ہوئے۔ سانحہ کی سب سے المناک بات یہ تھی کہ معصوم بچے جو صرف علم حاصل کرنے کے لیے سکول آئے تھے، بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ ان کا خون پورے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ گیا۔

    سانحہ کے بعد شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے صبر، حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ ان والدین نے اپنے غم کو طاقت میں بدل کر قوم کو یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ بہت سے والدین نے اپنی زندگی اس مشن کے لیے وقف کر دی کہ معصوم جانیں دوبارہ ضائع نہ ہوں۔

    اس سانحے نے واضح کر دیا کہ دہشتگردوں کا اصل ہدف تعلیم ہے۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم یافتہ نسل ہی وہ ہتھیار ہے جو انہیں شکست دے سکتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے علم حاصل کرنے کی قیمت اپنی جانوں سے چکائی لیکن ان کی قربانی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تعلیم کے چراغ کبھی بجھنے نہ پائیں گے۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پوری قوم نے ایک عزم کیا کہ دہشتگردی کے خلاف یکجہتی سے لڑا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جس کے تحت فوجی آپریشنز، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔

    تعلیم کے تحفظ، قومی ہم آہنگی اور دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کے لیے اس واقعے سے کئی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سانحہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکے گا لیکن یہ زخم ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ہمیں اپنے بچوں کے خون کا قرض چکانا ہے۔ یہ قرض اس وقت چکایا جا سکتا ہے جب ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں جہاں نہ صرف تعلیم کا حصول ممکن ہو بلکہ ہر بچے کی زندگی اور خواب محفوظ ہوں۔

    ان معصوم شہداء کے لیے ہمارا سب سے بڑا خراج تحسین یہ ہوگا کہ ہم اپنے وطن کو دہشتگردی سے پاک کر کے ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔ ان بچوں کی قربانی ہمیں تعلیم، امن اور تحفظ کے قیام کا پابند کرتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیشہ قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد رہنے کی یاد دلاتا رہے گا۔

  • سیالکوٹ: 12 سالہ بچے سے2 اوباشوں کی بدفعلی،مقدمہ درج، ملزم گرفتار نہ ہوسکے

    سیالکوٹ: 12 سالہ بچے سے2 اوباشوں کی بدفعلی،مقدمہ درج، ملزم گرفتار نہ ہوسکے

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) 12 سالہ بچے سے2 اوباشوں کی بدفعلی،مقدمہ درج، ملزم گرفتار نہ ہوسکے

    تفصیلات کے مطابق تھانہ کوٹلی سید امیر کے علاقہ جھن میں دو اوباش نوجوانوں نے 12 سالہ بےگناہ بچے کو زبردستی بدفعلی کا نشانہ بنا ڈالا۔ محمد عارف نامی شخص کا بیٹا محمد فیضان دوکان پر چیز لینے گیا تو ملزمان محمد عمران اور محمد نعمان نے بچے کو زبردستی اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر ویرانے میں لے گئے اور وہاں جا کر بچے سے زیادتی کی۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں بچے کو چھوڑ کر ملزمان فرار ہو گئے۔

    متاثرہ بچے کے والد نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی جس پر پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اپنی ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان:بارالیکشن،بھٹی لائرز گروپ کی عبدالغنی کھوسہ کی حمایت کا اعلان

    ڈیرہ غازیخان:بارالیکشن،بھٹی لائرز گروپ کی عبدالغنی کھوسہ کی حمایت کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 11 جنوری 2025 کو منعقد ہوں گے۔ جیسے جیسے یہ دن قریب آ رہا ہے وکلاء برادری میں انتخابی جوش و خروش اور گہما گہمی بڑھتی جا رہی ہے۔ مختلف گروپس اپنے امیدواروں کی حمایت میں متحرک ہیں اور سیاسی فضا گرم ہو چکی ہے۔

    ڈسٹرکٹ بار ڈیرہ غازی خان کے ایک مضبوط اور منظم گروپ "بھٹی لائرز” اور ان کے ہم خیال دوستوں نے اکثریت رائے سے امیدوار برائے صدارت عبدالغنی کھوسہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کا اعلان وکلاء کے ایک اجلاس میں کیا گیا، جہاں معزز وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    اس موقع پر جن وکلاء نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور عبدالغنی کھوسہ کی حمایت کی، ان میں ملک رشید احمد بھٹی ایڈووکیٹ، خالد اقبال بھٹی ایڈووکیٹ، میاں نصراللہ بھٹی ایڈووکیٹ، شکیل الحسنین بھٹی ایڈووکیٹ، محمد نعمان بھٹی ایڈووکیٹ، فیاض احمد بھٹی ایڈووکیٹ، اشفاق حسین بھٹی ایڈووکیٹ، محمد حنیف بھٹی ایڈووکیٹ، مظہر حسین بھٹی ایڈووکیٹ، میاں عامر محمود بھٹی ایڈووکیٹ، محمد ریاض بھٹی ایڈووکیٹ، روبینہ ارشاد بھٹی ایڈووکیٹ، سجاد طاہر بھٹی ایڈووکیٹ، ریاض حسین بھٹی ایڈووکیٹ، میاں محمد اکمل بھٹی ایڈووکیٹ، عبدالغنی بھٹی ایڈووکیٹ، جاوید اقبال بھٹی ایڈووکیٹ، خان سرور خان اخونزادہ ایڈووکیٹ، شیج محمد سلیم ایڈووکیٹ اور شرافت حسین ایڈووکیٹ شامل تھے

    اجلاس میں موجود وکلاء نے عبدالغنی کھوسہ کی قیادت اور ان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بار کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔ وکلاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی کامیابی سے ڈسٹرکٹ بار کے معاملات میں مثبت تبدیلی آئے گی اور بار کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جائے گا۔

    تمام وکلاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بھرپور اتحاد کے ساتھ عبدالغنی کھوسہ کی انتخابی مہم میں ان کا ساتھ دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ انشاءاللہ جیت ان کے قدم چومے گی اور یہ کامیابی بار کے تمام اراکین کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ثابت ہوگی۔

    انتخابات سے قبل ڈسٹرکٹ بار میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف گروپس اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ بار کے اراکین کے مطابق اس سال کا انتخابی معرکہ انتہائی دلچسپ اور سخت مقابلے کی توقع رکھتا ہے۔

    عبدالغنی کھوسہ کی حمایت کا اعلان ان کی مہم کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے اور بھٹی لائرز گروپ کی شمولیت سے ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

  • اوچ شریف: آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے مہم جاری

    اوچ شریف: آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے مہم جاری

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) شہر میں آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے میونسپل کمیٹی کی مہم جاری ہے۔ چیف آفیسر قاضی محمد نعیم کی ہدایات پر نگران صفائی بابر لال کی زیر نگرانی ٹیم نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں محلہ بخاری، محلہ گیلانی، شمس کالونی، مین بازار، اور احمد پور شرقیہ روڈ شامل ہیں۔

    آپریشن کے دوران گلی کوچوں میں آوارہ کتوں کو زہریلی دوا کے ذریعے تلف کیا گیا۔ مہم کا مقصد عوام کو آوارہ کتوں کے خطرات سے بچانا اور شہر کو محفوظ بنانا ہے۔ شہریوں نے مہم کو سراہتے ہوئے اس کے تسلسل کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان:پی ٹی آئی دور کے لوکل گورنمنٹ کے سڑکوں کے منصوبے کرپشن کی نذر ہوگئے

    ڈیرہ غازیخان:پی ٹی آئی دور کے لوکل گورنمنٹ کے سڑکوں کے منصوبے کرپشن کی نذر ہوگئے

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (نامہ نگارشہزادخان) تحریک انصاف دور کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ کے زیر اہتمام عوامی مفاد کے لیے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نظر ہو گئے ہیں۔ بستی یارو کھوسہ میں مشہور چور پل سے ریلوے اسٹیشن تک بننے والی سڑک تین سال سے نامکمل ہے، جبکہ ٹھیکیدار اور مشینری غائب ہیں۔

    اس دو کلومیٹر طویل سڑک پر 2021 میں کام شروع کیا گیا تھا۔ تاہم ٹھیکیدار نے چند ابتدائی مراحل کے بعد کام ادھورا چھوڑ دیا اور محکمے کی ملی بھگت سے رقم نکال کر فرار ہو گیا۔ سڑک پر صرف پتھر ڈالے گئے ہیں، جن سے گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے اور موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔

    ناقص صورتحال کے باعث مقامی آبادی کو گرد و غبار اور دھول کے باعث سانس کی بیماریوں کا سامنا ہے۔ راہگیر اور رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور اس ادھورے منصوبے کو کرپشن کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں۔

    اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر ڈیرہ غازی خان، اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیدار اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور سڑک کا یہ منصوبہ فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو سفری سہولیات اور صحت کے مسائل سے نجات مل سکے۔

  • بہاولپور: زیادتی کے بعد تیزاب گردی،لڑکی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مرکزی ملزم گرفتار

    بہاولپور: زیادتی کے بعد تیزاب گردی،لڑکی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مرکزی ملزم گرفتار

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )بہاولپور میں لڑکی سے زیادتی اور تیزاب گردی کا واقعہ، مرکزی ملزم گرفتار

    تفصیل کے مطابق بہاولپور میں اجتماعی زیادتی اور تیزاب پھینکنے کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم غفران عرف ہارون کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ 24 سالہ متاثرہ لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں مقدمے میں مزید دفعات شامل کی جائیں گی۔

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے، اور دونوں گردے فیل ہونے کی وجہ سے وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ زیادتی کے بعد ملزم نے لڑکی کے چہرے، جسم اور ٹانگوں پر تیزاب پھینک دیا۔

    تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم غفران عرف ہارون مختلف ناموں سے تعارف کروا کر لڑکیوں کو آن لائن بزنس اور بیرونِ ملک نوکریوں کے جھانسے میں پھنساتا تھا۔