سرگودھا ، باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک شاہنواز جالپ) یونیورسٹی آف سرگودھا کے گیارہویں سالانہ کانووکیشن کی تقریب آج 19 دسمبر کو منعقد ہورہی ہے، جس کے مہمان خصوصی برطانیہ کی تاریخ کے کم عمر ترین نو منتخب ڈپٹی میئر عاصم نوید رانجھا ہوں گے۔

گزشتہ روز پاکستان آمد پر کوٹ مومن انٹرچینج پر سرگودھا سے تعلق رکھنے والے اس عظیم اور قابل فخر بیٹے کا شاندار استقبال کیا گیا۔ علاقہ کی سیاسی و سماجی شخصیات نے ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گلاب کی پتیاں نچھاور کیں اور پنجاب کی روایتی شان – پگ – ڈپٹی میئر عاصم رانجھا کو باندھی۔

واضح رہے کہ ڈپٹی میئر عاصم رانجھا کا تعلق نصیر پور کلاں، کوٹ مومن ضلع سرگودھا سے ہے اور وہ اب مستقل طور پر برطانیہ میں مقیم ہیں۔ عاصم رانجھا چئیرمین چوہدری سرفراز خان رانجھا مرحوم کے صاحبزادے، چوہدری صفدر حسین رانجھا کے چھوٹے بھائی، اور پاکستان عوامی تحریک ضلع سرگودھا کے جنرل سیکرٹری محمد عمران ملک کے قریبی عزیز ہیں۔

کانووکیشن کی تقریب میں عاصم رانجھا کی شرکت نہ صرف یونیورسٹی بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک قابل فخر موقع ہے، جہاں وہ اپنے خیالات اور تجربات طلبہ کے ساتھ شیئر کریں گے۔ ان کی شخصیت نہ صرف نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے بلکہ ان کی کامیابی سرگودھا اور پاکستان کے لیے باعث افتخار ہے۔

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

سرگودھا یونیورسٹی کے گیارہویں سالانہ کانووکیشن کی شاندار تقریب آج منعقد ہوگی
-

پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ
پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ
پیرس سے عاکف غنی ملک کی رپورٹ
دسمبر کا مہینہ یوں تو اداسی کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر شعراء نے اس مہینے کو کچھ زیادہ ہی بدنام کر رکھا ہے۔ لیکن اگر اسی مہینے میں کسی ادبی نشست کا اہتمام ہو جائے تو یہ اداس مہینہ ادبی رونق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شاندار تقریب کا انعقاد پیرس کی معروف ناول نگار اور شاعرہ محترمہ شاز ملک نے اپنے دولت کدے پر کیا۔ اس یادگار شام کے انتظامات میں ان کے شوہر ملک سعید نے بھرپور تعاون کیا اور یوں دسمبر کی ایک سرد شام کو ادبی حوالے سے گرمجوش اور یادگار بنا دیا۔

پیرس کے نواحی علاقے ولی اے لو بیل میں محترمہ شاز ملک کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد راجہ زعفران کے پوٹھوہاری زبان میں شعری مجموعے "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور اس کے ساتھ ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد تھا۔ تقریب کی صدارت محترمہ شاز ملک نے کی، جبکہ مختلف شعرا اور ادیبوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

"ڈوھنگیاں چوٹاں” پر اظہار خیال کرنے والوں میں ایاز محمود ایاز، محترمہ شاز ملک، شمیم آپا، شبانہ چوہدری، اور طاہرہ سحر شامل تھے۔ مقررین نے راجہ زعفران کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے اس کی ادبی اہمیت کو اجاگر کیا اور پوٹھوہاری ادب میں اس کے اضافے کو سراہا۔

کتاب کی پذیرائی کے بعد محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں معروف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا میں مس سعدیہ، طاہرہ سحر، شمیم آپا، نبیلہ آرزو، محمود راہی، عاشق رندھاوی، آصف آسی، مقبول الٰہی شاکر، ایاز محمود ایاز، راجہ زعفران، اور عاکف غنی شامل تھے۔

شاعری کے اس خوبصورت سلسلے کے بعد میزبانوں کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے میزبانوں کی گرمجوشی اور اہتمام کو سراہا۔ اس تقریب نے بھیگتے، ٹھٹھرتے اور اداس دسمبر کو زبان و ادب کی چاشنی سے بھرپور کر کے ایک خوشگوار اور یادگار شام میں بدل دیا۔تقریب کی تصویری جھلکیاں





-

کسان، ہماری معیشت کا ستون
کسان، ہماری معیشت کا ستون
تحریر:حبیب اللہ خان
کسان ہماری معیشت کا وہ ستون ہیں جس کے بغیر ہمارا معاشی ڈھانچہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ 18 دسمبر کو “کسان ڈے” مناتے ہوئے ہمیں ان کی محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ کسان ڈے ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ہماری معیشت کا حقیقی ہیرو کسان ہی ہے، یہ دن نہ صرف کسانوں کے لیے اہم ہے بلکہ ہم سب کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ کسانوں کی محنت اور قربانیوں کے بغیر نہ صرف ہمارے کھانے پینے کا نظام قائم رہ سکتا ہے بلکہ پوری معیشت کا پہیہ بھی نہیں چل سکتا۔کسان کی زندگی میں چیلنجز کا سامنا ہمیشہ رہتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں، خشک سالی اور پانی کی کمی جیسے مسائل کسان کی محنت کو بار بار آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ زمین کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مگر افسوس کہ آج تک کسانوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی محنت کا صحیح معنوں میں اعتراف نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر زرعی آلات اور مناسب تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین کی بہتر دیکھ بھال کے لیے جدید زرعی آلات کی کمی،مہنگائی کھادوں اور زرعی ادویات اور پانی کی کمی جیسے مسائل کسان کے لیے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
کسان کا سب سے بڑا مسئلہ قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ہے۔ فصلوں کی قیمتیں اتنی کم ہو چکی ہیں کہ کسان نہ صرف اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتا بلکہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جاتا ہے۔ قدرتی آفات کی صورت میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد بھی بہت کم اور غیر مؤثر ہوتی ہے۔
کسان کی زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے لڑتا رہتا ہے۔ اگر کبھی فصلوں کی قیمتوں میں کمی آ جائے یا کسی قدرتی آفت سے فصلوں کا نقصان ہو جائے تو وہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے کسانوں کے لیے کسی مؤثر امدادی پالیسی کا فقدان ہے اور اگر امداد مل بھی جائے تو وہ اتنی معمولی ہوتی ہے کہ کسان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسان نہ صرف زمین کا مالک ہوتا ہے بلکہ وہ پوری قوم کی خوشحالی کا ضامن بھی ہے۔ کسان کی محنت اور قربانیوں کے بغیر ہمارے کھانے پینے کا نظام اور ملکی معیشت بالکل معطل ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ ان کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر زرعی آلات، اور مناسب تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار کو بہتر بنا سکیں اور عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ حکومت کو کسانوں کے لیے ایک مضبوط امدادی نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ قدرتی آفات یا زرعی بحران کے دوران ان کی زندگی کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
کسانوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ قیمتوں کی مناسب نگرانی، زرعی اجناس کی منصفانہ قیمتوں کی ضمانت اور قرضوں کے بوجھ سے نجات کے لیے حکومت کو فوری طور پر مؤثر پالیسیوں کا اعلان کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کسانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بھی حکومت کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہمیں کسانوں کی محنت کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے۔ ہمیں یقیناً یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسان خوشحال ہے تو پورا ملک خوشحال ہے اور اگر کسان کی زندگی میں مشکلات ہیں تو وہ ہماری معیشت کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
کسان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!
-

ننکانہ: سرکاری دفاتر میں انقلاب، ڈپٹی کمشنر کا شہریوں کو عزت دینے کا حکم
ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز): ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے مختلف سرکاری دفاتر کا اچانک دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے افسران اور عملے کی حاضری چیک کی اور عوام کو دی جانے والی سروسز کا جائزہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں آنے والے شہریوں کو عزت و تکریم دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب عوامی ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں اور عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
ڈی سی نے ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگوائیں اور اوپن ڈور پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کی شکایت موصول ہوئی تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے ایکسین بلڈنگ کو ہدایت کی کہ لوکل گورنمنٹ اور سب رجسٹرار کے دفاتر کی فوری طور پر تزئین و آرائش کی جائے۔
-

گوجرہ:سابق ایم این اےخالد جاوید وڑائچ اور اسد الرحمن کی کمشنر فیصل آباد سے ملاقات
گوجرہ، باغی ٹی وی(نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) سابق ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ چوہدری خالد جاوید وڑائچ اور سابق وفاقی وزیر میاں اسد الرحمن آف کمالیہ نے کمشنر فیصل آباد محترمہ سلوت سعید سے اہم ملاقات کی۔
ملاقات میں حلقے کے عوام کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ محترمہ سلوت سعید نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا، "عوامی مسائل حل کرنا میری اولین ترجیح ہے۔ میرے دفتر کے دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے ہیں اور کسی قسم کی دشواری برداشت نہیں کی جائے گی۔”
اس ملاقات کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے حلقے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود میں بہتری کی توقع ہے۔
-

گوجرہ : مسائل کے حل کے لیے میٹنگ، شہر کو ماڈل سٹی بنانے کا عزم
گوجرہ، باغی ٹی وی(نامہ نگار عبد الرحمن جٹ)سابق ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ چوہدری خالد جاوید وڑائچ اور ممکنہ ایم پی اے چوہدری عقبہ علی وڑائچ نے میونسپل کمیٹی گوجرہ کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر گوجرہ کامران اشرف اور سی او بلدیہ سمیت دیگر افسران کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔
میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر نے شہر کو درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ گوجرہ کے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت اور مقامی انتظامیہ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے چوہدری خالد جاوید وڑائچ سے ان مسائل کے حل کے لیے مدد کی درخواست کی۔
چوہدری خالد جاوید وڑائچ نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ گوجرہ کو ایک خوبصورت اور ماڈل شہر بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، "جہاں بھی میری ضرورت پڑی، میں حاضر ہوں۔ ہم سب مل کر اس شہر کو ایک مثالی مقام بنائیں گے، اور جلد ہی اس کام میں کامیابی حاصل کریں گے۔”
یہ میٹنگ گوجرہ کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
-

لنڈی کوتل :کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان
لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان
تفصیل کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لنڈی کوتل کے طلباء نے فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کو مسترد کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی سے الحاق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کالج کے سٹوڈنٹس یونین کے صدر داؤد شینواری، نائب صدر محمد آصف ریان، جنرل سیکرٹری قاسم اور سابق صدر عبید خان نے لنڈی کوتل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی وجہ سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی صوبے کی نمبر ون یونیورسٹی ہے اور کالج کی دو ڈیپارٹمنٹس زوالوجی اور اردو پہلے ہی پشاور یونیورسٹی سے ملحق ہیں۔
طلباء کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو لے کر صوبائی وزیر تعلیم مینا خان اور عدنان قادری سمیت دیگر متعلقہ حکام سے متعدد بار مل چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کا مطالبہ جلد منظور نہ کیا گیا تو وہ کل بروز جمعرات صبح 8 بجے کالج کے مین گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انہوں نے سیاسی قائدین، بلدیاتی نمائندگان، قومی مشران اور صحافیوں کو اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
-

ڈی جی خان: ستھرا پنجاب پروگرام پر عملدرآمد کے لیے اہم اجلاس
ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر جواد اکبر) ستھرا پنجاب پروگرام پر عملدرآمد کے لیے اہم اجلاس
کمشنر ڈی جی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر کی زیر صدارت ستھرا پنجاب پروگرام کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر حافظ عبد الکریم نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے ہدایت دی کہ ستھرا پنجاب پروگرام کو "آؤٹ سورس” کرنے تک صفائی مہم کو جاری رکھا جائے۔ ڈی جی خان سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور تمام میونسپل کمیٹیوں کو 30 دسمبر تک مشینری اور افرادی قوت متعلقہ کمپنی کے حوالے کرنے کے احکامات دیے گئے۔
انہوں نے زور دیا کہ شہروں اور دیہاتوں میں صفائی کے لیے ون ٹائم جامع مہم اور دیگر مراحل کو مقررہ ٹائم لائنز کے تحت مکمل کیا جائے۔ کمشنر نے کہا کہ ہر گاؤں کو شہروں کے مساوی صاف کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "زیرو ویسٹ” وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹیم ورک کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایت دی گئی۔
-

سیالکوٹ: محمد اجمل نے ضلعی سنوکر چیمپئن شپ جیت لی
سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر مدثر رتو)محمد اجمل نے ضلعی سنوکر چیمپئن شپ جیت لی
تفصیل کے مطابق ایبٹ روڈ بورڈ والا چوک میں منعقد ہونے والے ضلعی سنوکر چیمپئن شپ میں سیالکوٹ کے نوجوان کھلاڑی محمد اجمل نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح حاصل کی اور ضلعی سنوکر چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

ٹورنامنٹ میں ضلع بھر کے نوجوانوں نے حصہ لیا اور دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن محمد اجمل نے اپنی مہارت اور اعتماد سے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

محمد اجمل مغل جو اس سے قبل بھی کئی مقابلے جیت چکے ہیں، تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کی عوام نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہے اور اس کی مزید تربیت اور سپورٹ سے یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محمد اجمل کی جیت پر اہل علاقہ اور کھیل کے شائقین نے خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹیں گے۔


-

اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں
اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
آج کا دور سیاست کے رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ ہر طرف سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ جھوٹے وعدے، نفرت انگیز بیانات اور ذاتی حملے سیاست کا ایک عام منظر بن چکے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاستدان ہر حد پار کر لیتے ہیں لیکن اس سب کے پیچھے چھپے حقیقی نقصانات پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔سب سے بڑا نقصان عوام کے قیمتی رشتوں کا ہوتا ہے۔ سیاست کے نام پر ہم اپنے قریبی رشتہ داروں، محلے داروں اور حتیٰ کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر ہم ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات نفرت میں بدل جاتے ہیں اور ہم اپنے ہی لوگوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف وہی سیاستدان، جن کے لیے ہم لڑ رہے ہوتے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنی کرسیوں کی فکر کر رہے ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیک نیوز اور نفرت انگیز بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ بیانات لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان بیانات کے ذریعے سیاسی لیڈران اپنی چالاکیوں کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور عوام کو تقسیم در تقسیم کر دیتے ہیں۔
اس سیاسی کھیل کا سب سے زیادہ اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑرہاہے۔ معاشرہ نفرتوں کا شکار ہوتاجارہا ہے، امن و سکون ختم ہو چکاہے اور لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔ جب کوئی قومی بحران یا عوامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہی سیاستدان کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا واحد مقصد اپنے اقتدار کو بچانا ہوتا ہے اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدانوں کے یہ کھیل وقتی ہیں لیکن ان کے اثرات دیرپا ہیں۔ ہمیں اپنی دانشمندی اور شعور سے ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذاتی تعلقات کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ ہمیں اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنی چاہئیں اور ایسی سیاست کا حصہ نہیں ببنا چاہئے جو ہمارےسماج اور خوبصورت رشتوں کو تباہ کرے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ ہمیں سیاسی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز سے بچنا چاہیے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے معاشرے کو ایک مثبت اور تعمیری سمت میں لے جانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
نوجوانوں کا کردار اس میں بہت اہم ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم یافتہ، باخبر اور سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھنے والا بنانا ہوگا۔ اگر ہماری نسل سیاسی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی تو ہماری معاشرتی اقدار ختم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین دونوں اس بات پر زور دیں کہ نوجوان سیاست کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سمجھیں۔
اگر ہم نے اپنی توانائیاں صحیح سمت میں لگائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی کرے گا۔ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ ہونا چاہیے جہاں اختلافات احترام کے ساتھ حل کیے جائیں، مسائل پر توجہ دی جائے، اور نفرتوں کے بجائے محبت اور اتحاد کا پرچار کیا جائے تاکہ ہم اپنے قیمتی رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچاسکیں.
